Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-058

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 50
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 58 1 فصل في المركبات، المركبة قضية ركبت حقيقتها من إيجاب وسلب، والاعتبار في تسميتها موجبة أو سالبة للجزء الأول. فإن كان الجزء الأول موجبا كقولك بالضرورة كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا لا دائما سميت موجبة. وإن كان الجزء الأول سالبا كقولنا بالضرورة لا شيء من الكاتب بساكن الأصابع ما دام كاتبا لا دائما سميت سالبة. بَئی! آج ہم مرکبات کی بحث شروع کریں گے موجہات میں سے جو مرکبات ہیں۔ تو پہلے ذرا بسائط پر ایک مرتبہ پھر نظر ڈال لیں۔ بسائط آپ نے پڑھے آٹھ ہیں بَئی آٹھ، اور کل آپ نے دو نئے پڑھے تھے: ایک مطلقہ عامہ اور ایک ممکنہ عامہ۔ مطلقہ عامہ جس میں موضوع کے لیے محمول کا ثبوت ہو تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، یا موضوع سے محمول کی نفی ہو تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، اور اس کو بالفعل کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے؛ جیسے آپ کہیں: کل انسان ضاحك بالفعل، یا آپ کہیں: کل انسان کاتب بالفعل بَئی۔ تو یہ تو تھا ایجاب میں، اور نفی کے اندر کیسے کہیں گے؟ لا شيء من الإنسان بضاحك بالفعل، یا لا شيء من الإنسان بكاتب بالفعل بَئی۔ یہ ہے مطلقہ عامہ، اس میں بالفعل آتا ہے بَئی، بالفعل کا لفظ۔ اور دوسرا آپ نے پڑھا تھا ممکنہ عامہ۔ ممکنہ عامہ مصنف نے آپ کو بتلایا تھا وہ قضّیہ ہے جس میں جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب ہو۔ جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب ہو، یعنی آپ اس میں ایک چیز کے ممکن ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔ جب ایک چیز ممکن ہے تو اس کی جانبِ مخالف کیا ہے؟ معلوم ہوا ضروری نہیں! مثلاً مثال ذکر کی تھی انہوں نے: كل نار حارة بالإمكان العام، ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ كل نار حارة بالإمكان العام، ہر آگ کا گرم ہونا ممکن، ہر آگ گرم ہو ممکن ہے۔ جب آگ کا گرم ہونا ممکن ہے یعنی جب ایجابِ حرارت ممکن، ایجاب ہے نا؟ ایجابِ حرارت ممکن ہے تو معلوم ہوا سلبِ حرارت ضروری نہیں۔ جب ایک چیز ممکن ہے تو دوسری جانب معلوم ہوا ضروری نہیں ہے بَئی۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتا پھر تو دوسری جانب ضروری ہو جانی تھی بَئی۔ اگر حرارت ممکن نہ ہوتی تو پھر سلبِ حرارت ضروری تھا پھر تو، لیکن جب کہہ دیا حرارت ممکن ہے معلوم ہوا دوسری جانب ضروری نہیں ہے بَئی۔ تو بس جانبِ مخالف کی جگہ اگر ایجاب ہو تو سلب لے آیا کریں، اور سلب ہو تو ایجاب لے آیا کریں بَئی۔ دوسری مثال کیا ذکر کی تھی؟ کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو یہ ممکن ہے، یعنی سلبِ برودت ممکن ہے۔ کیا بنا تھا؟ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو، ٹھنڈے ہونے کا ثبوت ہے یا نفی ہے بَئی؟ نفی، تو یہ ہے سلبِ برودت۔ تو سلبِ برودت جب ممکن ہے تو معلوم ہوا ایجابِ برودت ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بَئی؟ یہ ہے ممکنہ عامہ بَئی، ممکنہ عامہ۔ اور اس کے علاوہ، یہ دو تو تھے جن میں قضیہ، ایک مطلقہ عامہ اس میں بالفعل کی قید ہے، ایک یہ ممکنہ عامہ اس میں بالإمكان العام کی قید ہے بَئی۔ اس کے علاوہ جو باقی چھ بسیطہ تھے، ان چھ میں سے دو کے اندر دوام کی قید تھی اور چار کے اندر ضرورت کی قید تھی۔ اور پھر میں نے فرق سمجھایا تھا اگر وہ فرق ذہن میں رکھیں تو بڑے ہی آسان ہو جائیں گے بَئی۔ کہ یہ دوام دو قسم پر ہے: کبھی دوام ذات کے اعتبار سے ہو گا، کبھی دوام وصف کے اعتبار سے۔ یعنی جب تک وہ وصف ہے تو دوام ہے، جب تک وصف نہیں تو دوام بھی نہیں۔ اور کبھی وصف کی قید نہیں ہو گی، جب وصف کی قید نہیں ہے تو معلوم ہوا دوام کس کے اعتبار سے ہے؟ ذات کے اعتبار سے۔ لہٰذا آپ نے کہا: كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا، ہر کاتب کیا ہے؟ متحرك الأصابع ہے بالضرورة، یقینی طور پر، لیکن کب تک؟ ما دام... ہاں! دائمًا دائمًا والی قید لائیں نا، ہم دوام کی بات ابھی کر رہے ہیں۔ پھر یہ ضرورت پر بھی آتے ہیں۔ كل كاتب متحرك الأصابع دائما ما دام كاتبا، ہر کاتب متحرك الأصابع ہے ہمیشہ جب تک وہ... تو دیکھو آپ نے کاتب پر متحرك الأصابع ہونے کا حکم لگایا کہ اس کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہوں گی، اور ہمیشہ حرکت کرنے والی ہوں گی، لیکن یہ حکم کس اعتبار سے ہے؟ وصف کے... ما دام كاتبا کی قید ہے یا نہیں؟ ذات کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ وصف کے اعتبار سے ہے، تو بس اگر وصف کے اعتبار سے، یعنی ساتھ شرط ذکر ہے، ما دام كاتبا کی قید موجود ہے تو پھر اس صورت میں یہی عرفیہ عامہ ہو گا، اور اگر ما دام کی قید موجود نہیں تو یہی کیا بن جائے گا؟ دائما مطلقہ بن جائے گا بَئی۔ كل فلک متحرک، اب یہاں ما دام فلکا جیسی کوئی قید موجود ہے؟ نہیں، کوئی قید نہیں ہے۔ جب کوئی قید نہیں ہے معلوم ہوا دوام تو یہاں پر بھی ہے كل فلک متحرک دائما، دائما یا بالدوام کہہ لیں ایک ہی بات ہے بَئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ قید ہے، شروع میں ذکر کر دیتے ہیں، کبھی آخر میں ذکر کر دیتے ہیں، جہاں بھی آپ چاہیں ذکر کر سکتے ہیں اس کو، شروع میں کیا ہے آپ اس کو آخر میں بھی کر سکتے ہیں، لیکن وہ جو شرط ہے اس سے پہلے ذکر کریں، ما دام كاتبا سے پہلے ذکر کیا کریں بَئی۔ سب میں اسی طرح ہے جہاں بالضرورة کی قید آئی ہے آپ اس کو آخر میں لے جا سکتے ہیں، لیکن اگلی قید سے پہلے ذکر کر دیں، اگلی قید سے پہلے ذکر کر دیں۔ جیسے کہا تھا: دیکھو كل قمر منخسف، کب ہے ہر قمر منخسف؟ وقت حيلولة الأرض بينه وبين الشمس، اس قید سے پہلے بالضرورة کو ذکر کریں یا بالکل شروع میں ذکر کر دیں۔ اچھا! تو بات چل رہی تھی بَئی دیکھیے، دوام اگر دوام جو ہے کسی وصف کے اعتبار سے ہے تو وہ ہے عرفیہ عامہ، اور اگر دوام ذات کے اعتبار سے ہے تو یہی دائما مطلقہ ہے بَئی۔ اور ضرورت، ضرورت بھی کبھی ذات کے اعتبار سے ہو گی، کبھی وصف کے اعتبار سے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے۔ اگر ذات کے اعتبار سے ہے کہ جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے اس وقت تک اس کے لیے یہ محمول ثابت ہے تو ضرورتِ ذاتیہ ہوئی تو یہ ضروریہ مطلقہ ہوا، اور اگر ضرورت کسی وصف کے اعتبار سے ہے، جب تک كل كاتب متحرك الأصابع بالضرورة، دیکھو ضرورت کی قید آ گئی، لیکن ساتھ کیا آیا؟ ما دام كاتبا، جب تک وہ... تو یہ ضرورت مقید ہے کس کے ساتھ؟ وصف کے ساتھ، تو معلوم ہوا یہ کون سی ضرورت ہے؟ ضرورتِ وصفیہ ہوئی تو یہ مشروطه عامہ ہوا، اور پھر کبھی ضرورت مقید ہو گی وقت کے ساتھ، پھر اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو وقتِ معین کے ساتھ یا وقتِ غیر معین کے ساتھ۔ اگر وقتِ معین کے ساتھ ہے تو یہ وقتیہ مطلقہ ہے، اگر غیر معین کے ساتھ ہے تو یہ منتشرہ مطلقہ ہے بَئی۔ اب مرکبات میں آئیے بَئی! دیکھیے بعض اوقات، یہ تو تھے قضایا بسیطہ بَئی، یہ بسائط تھے بسائط، جن میں صرف ایجاب ہے یا صرف سلب ہے۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک قضیہ ذکر کرنے کے بعد دوسرے کے ذہن میں وہم رہ سکتا ہے، ایک قضیہ ذکر کر دیا لیکن اس سے کیا ہے؟ دوسرے کے ذہن میں کوئی وہم رہ سکتا ہے اس پر ہو سکتا ہے بات پوری واضح نہ ہو، تو پھر ایک دوسرا قضیہ بھی ذکر کرتے ہیں، یعنی دو قضیوں کو اکٹھا ذکر کرتے ہیں۔ ایک قضیے کے اندر ہی کیا کر دیتے ہیں؟ دو قضیوں کو ذکر کر دیتے ہیں۔ کیوں ذکر کرتے ہیں؟ کیونکہ ایک قضیے سے بات میں کچھ مخاطب سننے والے کے لیے کچھ وہم رہ سکتا ہے، ہو سکتا ہے بات اس کو پوری سمجھ میں نہ آئے، اس کے اوپر پوری واضح نہ ہو، تو پھر کیا کرتے ہیں؟ دوسرے قضیے کو بھی ساتھ ذکر کر دیتے ہیں بَئی۔ اس کو کہتے ہیں مرکبہ بَئی، کیا کہتے ہیں؟ مرکبہ کہتے ہیں۔ تو ایک قضیے سے کبھی وہم ہوتا ہے کہ شاید مخاطب کو بات پوری سمجھ میں نہ آئے، تو پھر ایک کے بجائے کتنے قضیے ذکر کر دیتے ہیں؟ دو قضیے ذکر کر دیتے ہیں۔ تو اور ان دو میں سے ایک قضیہ صراحتاً ہوتا ہے، دوسرے کی طرف صرف اشارہ کیا جاتا ہے، دوسرا قضیہ صراحتاً نہیں ذکر ہوتا بَئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوسرا صراحتاً ذکر ہو پھر تو باقاعدہ دو قضیے بن گئے، یہ ایک ہی قضیہ ہوتا ہے لیکن اس میں ایک قضیہ پورا ہوتا ہے اور دوسرے کی طرف صرف اشارہ کیا جاتا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکبہ کہتے ہیں۔ اور اشارہ یہ بتلائیں گے آپ کو کہ لا دائما، لا دائما کے ذریعے اشارہ ہو گا، یعنی یوں کہو: لا دوام کے ذریعے اشارہ ہو گا یا لا ضرورت کے ذریعے اشارہ ہو گا۔ کس کے ذریعے؟ لا دوام کے ذریعے یا لا ضرورت کے ذریعے۔ بَئی! یہی بسائط آگے بھی آ رہے ہیں جو آپ نے پڑھ لیے، صرف اب اتنا کریں گے: کسی میں لا دوام کی قید آئے گی، کسی میں لا ضرورت کی قید آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی قضیے ہوں گے، انہی کے ساتھ صرف اب کیا لگ جائے گا؟ لا دوام یا لا ضرورت، اور یہ لا دوام اور لا ضرورت کے ذریعے دوسرے قضیے کی طرف اشارہ ہو گا، دوسرے قضیے کی طرف اشارہ ہو گا۔ اور کس کی طرف اشارہ ہو گا؟ یاد رکھیے: لا دوام کے ذریعے اشارہ ہو گا مطلقہ عامہ کی طرف۔ لا دوام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہو گا؟ یہ ذہن میں ہونا چاہیے اب آپ کو جگہ جگہ آپ نے ہی مجھے بتانا ہے، لا دوام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہو گا؟ مطلقہ عامہ! کون سا ہوتا ہے مطلقہ عامہ؟ مثال ابھی کیا پڑھی آپ نے؟ كل انسان ضاحک بالفعل، یہ جس میں بالفعل تھا یہ ہے مطلقہ عامہ بَئی۔ تو لا دائما کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہو گا؟ مطلقہ عامہ کی طرف، اور لا ضرورت کے ذریعے اشارہ ہو گا ممکنہ عامہ کی طرف، کس کی طرف؟ ممکنہ عامہ۔ دہرائیں بَئی! لا ضرورت کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہو گا؟ ممکنہ عامہ، اور لا دائما کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہو گا؟ مطلقہ عامہ۔ ممکنہ عامہ کی کیا مثال پڑھی؟ كل نار حارة بالإمكان العام، یہ ہے ممکنہ عامہ۔ تو اس کی طرف اشارہ ہو گا کس لفظ کے ذریعے؟ لا ضرورت، اور كل انسان ضاحک بالفعل اس کی طرف اشارہ ہو گا کس کے ذریعے؟ لا دائما کے ذریعے بس! اتنی بات خوب یاد رکھیں کہ لا دوام کے ذریعے اشارہ ہو گا مطلقہ عامہ کی طرف، اور لا ضرورت کے ذریعے اشارہ ہو گا ممکنہ عامہ کی طرف بَئی، اور پھر ان کو یہ یہ کون کون سے ہوتے ہیں وہ ذہن میں ہونا چاہیے، مطلقہ عامہ وہ تھا جس میں بالفعل کی قید تھی، آسان سا تھا بَئی، اور دوسرا کیا تھا؟ ممکنہ عامہ، وہ بھی بالکل اسی طرح تھا بس اس کے اندر بالإمكان العام کی قید ہوا کرتی تھی کہ یہ ممکن ہے بَئی، یہ ممکن ہے بَئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بَئی؟ تو اب دیکھیے یہی وہی بسیطہ آئیں گے اور ان کے ساتھ لا دوام یا لا ضرورت کی قید ہو گی، لا دوام کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہو گا؟ مطلقہ عامہ، اور لا ضرورت کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہو گا؟ ممکنہ عامہ کی طرف اشارہ ہو گا بَئی، ممکنہ عامہ کی طرف۔ اور پھر یاد رکھیے کہ ان کے ذریعے اشارہ تو ہے، مثلاً لا دوام کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ مطلقہ عامہ کی طرف۔ اب یہ آئیں گے دو قضیے۔ وہی کوئی ایک بسیطہ ہو گا جو پیچھے پڑھ چکے اور آخر میں کیا قید ذکر ہو گی؟ لا... لا... آخر میں قید ہو گی لا دائما مثلاً ذکر ہو جائے گا، یعنی وہی لا دوام، لا دائما ذکر ہو جائے گا۔ لا دائما کے ذریعے معلوم ہوا دوسرے قضیے کی طرف اشارہ ہے، اور اگر لا ضرورت آئے گا تو آپ وہاں بھی سمجھ جائیں گے کہ اس کے لیے فلاں قضیے کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ جو پہلے والا قضیہ اور یہ جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، یہ دوسرا قضیہ جو ساتھ ذکر ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے۔ کیا بات میں نے کی؟ بَئی! وہی ایک بسیطہ ذکر ہو گا اور اس کے آخر میں کیا ہو گا؟ لا دائما یا لا بالضرورة۔ اب یہ پورا قضیہ ذکر، آخر میں لا دائما یا لا ضرورت کی قید موجود ہے، تو یہ جو لا ضرورت یا لا دائما ہے اس کے ذریعے کیا کیا جا رہا ہے؟ کسی دوسرے قضیے کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، تو یہ جو جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے یہ والا اور وہ جو ماقبل میں پورا قضیہ ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے، یعنی ایک میں اگر ایجاب ہے تو دوسرے میں کیا نکالنا؟ سلب، اور اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں کیا نکالنا؟ ایجاب نکالنا ہے، یہ آپ نے یاد رکھنا ہے۔ ایک میں ایجاب ہے تو دوسرے میں سلب آئے گا، اور اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں ایجاب آئے گا، دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے، تو دیکھو ایک ہی قضیے کے اندر ایجاب بھی آ گیا اور سلب بھی آ گیا، اس لیے اس کو مرکبہ کہتے ہیں۔ بسائط میں صرف ایجاب تھا یا صرف سلب تھا، اس میں ایجاب تو مثلاً صراحتاً ہے تو سلب کی طرف اشارہ ہو جائے گا، یا سلب صراحتاً ہے تو ایجاب کی طرف اشارہ ہو جائے گا۔ تو جو آپ نے قضیہ نکالنا ہے وہ پہلا موجبہ ہے تو اس کو آپ نے کیا نکالنا ہے؟ سالبه، اور اگر پہلا سالبہ ہے تو دوسرا کیا نکالنا ہے؟ موجبه نکالنا ہے بَئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اور ہاں! یہ تو تھا ایجاب و سلب میں، یعنی کیفیت کو آپ نے بدلنا ہے۔ جو دوسرا قضیہ نکالیں گے اس میں کیا کریں گے؟ کیفیت کو بدل دیں گے، پہلے میں ایجاب تھا تو اس میں کیا نکالنا؟ سلب، پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں... تو کیفیت کو بدلنا ہے لیکن مقدار کو برقرار رکھنا ہے۔ کس کو؟ مقدار کو برقرار... بَئی دیکھیے، ابھی تک جو مثالیں انہوں نے ذکر کیں نا سارے کلیہ ذکر کے... کلی ذکر کیے بَئی، كل انسان، كل كاتب، لیکن یہ یہ تو کلی ہیں جزئی بھی ہو سکتے ہیں، بعض کی قید کے ساتھ بھی یہ آ سکتے ہیں۔ قیدیں آپ نے قیدوں کے اعتبار سے دیکھنا ہے، کل یا جزو کے اعتبار سے فیصلہ نہیں کرنا، قید دیکھنی ہے کہ بالضرورة کی قید ہے تو یہ ضروریہ مطلقہ ہے، اگر ضرورت کی قید کے ساتھ ما دام کی قید بھی ہے تو معلوم ہوا یہ کون سا ہے؟ مشروطہ عامہ ہے وغیرہ بَئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کل اور بعض وہ آپ نے برقرار رکھنا ہے، دیکھو ایک قضیہ صراحتاً ذکر ہے دوسرے کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، پہلا اگر موجبہ ہے تو دوسرا کیا نکالنا ہے؟ سالبہ، یہ دیکھو کیفیت بدل دینی ہے، لیکن مقدار برقرار رکھنی ہے، اگر پہلا کلی ہے تو دوسرا بھی کیا نکالنا؟ کلی، اگر پہلا جزئی ہے تو دوسرا بھی کیا نکالنا؟ جزئی نکالنا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بَئی! 2 فصلٌ في المركبات۔ یہ فصل ہے مرکبات کے بیان میں، یعنی وہ موجہات جو مرکبات ہیں۔ المركبة قضيةٌ مرکبہ وہ ایسا قضیہ ہے رکبت حقیقۃً، دیکھو "قضيةٌ" نکرہ ہے اور "رکبت" اس کے بعد فعل آیا۔ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے عموماً صفت بنتا ہے۔ اور موصوف، صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لے آتے ہیں۔ موصوف کون؟ یہاں پر قضیہ۔ اس سے پہلے میں دیکھنا "ایسا" کا لفظ لاؤں گا اور "رکبت" کو اس کی صفت بناؤں گا۔ تو "المركبة" ہے مبتدا، اور "قضيةٌ رکبت حقیقتها من ایجابٍ وسلبٍ" یہ سارے کیا ہے اس کی خبر، یہ موصوف صفت مل کر خبر بن رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں المركبة، قضیہ مرکبہ جو ہے، قضيةٌ وہ ایسا قضیہ ہے رکبت حقیقتها کہ مرکب ہو اس کی حقیقت من ایجابٍ وسلبٍ ایجاب اور سلب سے۔ یعنی دیکھو دونوں چیزوں سے مرکب ہے۔ بسیط میں یا صرف ایجاب ہوتا تھا، یا صرف سلب ہوتا تھا۔ یہ مرکب ہوگا، ایجاب اور سلب دونوں ہوں گے۔ البتہ ایک ہوگا صراحتًا اور دوسرا ہوگا اشارۃً۔ تو کہتے ہیں: اور اچھا بھئی، جب ایجاب اور سلب دونوں اس کے اندر آ رہے ہیں تو اس کا نام، اس کو موجبہ کہیں گے یا سالبہ کہیں گے؟ اس میں تو ایجاب بھی ہے، اس میں تو سلب بھی ہے۔ ایجاب ہوتا تھا تو ہم موجبہ کہتے تھے، سلب ہوتا تھا تو ہم سالبہ کہتے تھے۔ اس میں تو دونوں آ رہے ہیں، اب اس کو موجبہ کہیں گے یا سالبہ، کس طرح نام رکھیں گے؟ کہتے ہیں نام رکھتے وقت پہلے جز کو دیکھنا ہے۔ نام رکھتے وقت پہلا پورا جو، ایک کی طرف تو آخر میں اشارہ ہوگا، لیکن یہ جو پہلا حصہ پورا ہے، اس پہ نظر کرنا۔ اگر اس میں ایجاب ہے تو اس کو موجبہ کہیں گے، اگر اس میں سلب ہے تو اس کو سالبہ کہیں گے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: والاعتبار في تسميتها موجبةً أو سالبةً للجزء الأول۔ اور اعتبار اس کا نام رکھنے میں موجبہ یا سالبہ، کس کا اعتبار ہے وہ؟ للجزء الأول، پہلے جز کا۔ اس کا نام موجبہ یا سالبہ رکھنے میں اعتبار پہلے جز کا ہے۔ فإن كان الجزء الأول موجباً، پس اگر پہلا جز جو تھا وہ موجبہ تھا، كقولك جیسے کہ اپ کا قول: بالضرورة كل كاتبٍ متحرك الأصابع ما دام كاتباً۔ بھئی دیکھیے، مجھے پہلے بتائیے یہ کون سا قضیہ ہے؟ دیکھیے، "کل کاتبٍ متحرک الأصابع"، ہر کاتب متحرک الأصابع ہے بالضرورۃ، کون سی قید آ گئی؟ بالضرورۃ کی قید آ گئی۔ اور ضرورت عام ہے یا کسی وصف کے ساتھ ہے؟ وصف، کون سا وصف؟ قضیے پہ نظر رکھیں۔ "ما دام کاتباً"، معلوم ہوا یہ کون سی ضرورت ہے؟ ضرورتِ وصفی ہے، شاباش بھئی! اور ضرورتِ وصفی کس کے اندر آتی تھی؟ مشروطہ عامہ کے اندر۔ عرفیہ میں دوام وصفی تھا، اس میں کیا ہے؟ عرفیہ عامہ میں دائمًا کی قید تھی، ضرورت کی تو قید بھی نہیں تھی۔ مشروطہ عامہ میں ضرورت کی قید ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دیکھیے: بالضرورة كل كاتبٍ متحرك الأصابع ما دام كاتباً۔ یہ دیکھو "ما دام کاتباً"، یہ ہے آخر میں شرط ذکر ہو رہی ہے۔ کیا ذکر ہو رہی ہے؟ شرط۔ اور بالضرورۃ کو کہاں لے کر آئے؟ قضیے کے بالکل شروع میں۔ تو یہ جو بالضرورۃ اور بالدوام کی قید ہے، اس کو بالکل شروع میں بھی لا سکتے ہیں، اور اس قید سے پہلے بھی لا سکتے ہیں۔ بالضرورۃ کو ذرا آگے لے جاؤ، پھر بھی بات ایک ہی ہے: كل كاتبٍ متحرك الأصابع بالضرورة ما دام كاتباً۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ قیدیں آگے پیچھے ہوں اس سے آپ نے پریشان نہیں ہونا بھئی۔ آگے دیکھیے: لا دائماً، یہ بھی اسی قضیے کا جز ہے۔ تو پورا قضیہ کیا ہوا؟ بالضرورة كل كاتبٍ متحرك الأصابع ما دام كاتباً لا دائماً۔ اب بتائیے بھئی، پہلے جز میں "کل کاتبٍ متحرک الأصابع"، ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب۔ جب اس میں ایجاب ہے تو "لا دائماً" میں کیا ہوگا؟ سلب ہوگا۔ لیکن نام ہم نے کس جز کو دیکھ کر رکھنا ہے؟ پہلے جز، اور پہلے میں کیا ہے؟ ایجاب، تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبہ، شاباش! تو کہتے ہیں: سميت موجبةً، تو اس کو موجبہ کہیں گے۔ وإن كانت الجزء الأول سالباً، اور اگر پہلا جز سالبہ ہوا، كقولنا جیسے ہمارا یہ قول ہے: بالضرورة لا شيء من الكاتب بساکن الأصابع ما دام كاتباً لا دائماً۔ اب بتائیے پہلا جز؟ سالبہ، سميت سالبةً، تو اس کو سالبہ کہیں گے۔ اچھا بھئی، ذرا پھر آؤ یہ دو مثالوں پر، انہی پر۔ دیکھیے: بالضرورة كل كاتبٍ متحرك الأصابع ما دام كاتباً، یہ ایک قضیہ موجبہ ہے۔ اور "لا دائماً" کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ دوسرے قضیے کی طرف، اور وہ کیا ہے؟ سالبہ۔ تو اب سالبہ بنانا ہے۔ ہاں، ذرا نکالیں۔ "لا دائماً"، میں نے بتایا تھا لا دوام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ مطلقہ عامہ کی طرف۔ اور لا ضرورت کے ذریعے؟ ممکنہ۔ اب یہاں پر "لا دائماً" آیا، اور "لا دائماً" کے ذریعے اشارہ کس کی طرف؟ مطلقہ عامہ کی طرف، تو یہاں ہم اب آپ نے مطلقہ عامہ بنانا ہے۔ اور مطلقہ عامہ کس طرح کا بنانا ہے، ماقبل میں کیا ہے؟ ایجاب۔ تو یہاں وہ مطلقہ عامہ بھی، مطلقہ عامہ کس طرح کا نکالنا ہے؟ سالبہ نکالنا ہے، سالبہ نکالنا ہے۔ اچھا، اور یہ تو تھا کیفیت بدل دی، پہلا موجبہ ہے آپ نے کیا نکالنا ہے؟ سالبہ۔ اور لیکن مقدار وہی رکھنی ہے۔ پہلا کلی ہے تو دوسرا بھی کیا نکالنا؟ کلی۔ اگر پہلا جزئی ہوتا تو ہم بھی کیا نکالتے؟ جزئی۔ اب نکالیں گے بھئی، دیکھیے بھئی! ہم سالبہ بنا رہے ہیں نا؟ اور کلی بنانا ہے؟ تو سلبِ کلی کے لیے سور کیا استعمال کرتے تھے؟ "لا شيء"، شاباش! تو دیکھیے، یہاں ہے "کل کاتبٍ متحرک الأصابع"، ہم کیا کہیں گے؟ "لا شيء من الكاتب" آگے؟ او ہو! بالکل یہی نکالنا ہے جو ہے اس وقت، کسی چیز کو نہیں چھیڑنا آپ نے، جو لفظ ہیں سارے وہی رکھنے ہیں، صرف سلب کرو۔ "لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع"، وہی یہاں بھی متحرک الأصابع ہے نا؟ ساکن الأصابع کی طرف نہیں جانا، یہ آپ بدل کیوں رہے ہیں؟ میں نے بتلایا صرف ایجاب و سلب کو بدلنا ہے، مقدار وہی رکھنی ہے۔ چیز بھی وہی رکھنی ہے، محمول اسی کو رکھنا ہے آپ نے، محمول کیوں بدل رہے ہیں آپ؟ کل کاتب... تو "لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع" اور مطلقہ عامہ پورا کرو؟ بالفعل، صرف بالفعل کی قید رہ گئی، باقی پورا ہو گیا۔ تو کیا بن گیا؟ "لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع بالفعل"۔ کیا معنی ہوا؟ انہوں نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: دیکھو، تم اب غور کرو ترجمے پہ۔ "بالضرورة كل كاتبٍ متحرك الأصابع"، یقینی طور پر ہر کاتب اس کی انگلیاں کیا ہیں؟ ہلتی ہیں، حرکت کرتی ہیں۔ ہر کاتب کی انگلیاں یقینی طور پر حرکت کرتی ہیں، لیکن کیا ہر وقت؟ یا جب وہ لکھتا ہے؟ جب تک، "ما دام کاتباً"، وہ اس وقت اس کی انگلیاں ضرور ہلتی ہیں۔ یہاں یہ تھا؟ اچھا! معلوم ہوا یہاں ضرورت کون سی ہے؟ ذاتی ہے، وصفی ہے، یا وقتی ہے؟ ضرورت وصفی ہے، یہ ضروری ہے اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا، لیکن جب یہ وصفِ کتابت ہوگا اس وقت ضروری ہے۔ اچھا، صرف اس وقت جب ضروری ہے تو معلوم ہوا ہر وقت تو ضروری نہیں۔ معلوم ہوا تین زمانوں میں کسی زمانے میں تو انگلیاں غیر متحرک بھی ہوں گی؟ جب وہ کتابت نہیں کر رہا تو اس وقت ساکن ہو سکتی ہیں یا نہیں انگلیاں؟ تو یہی ہم ذکر کر رہے ہیں: "لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع"، کوئی بھی کاتب کہ اس کی انگلیاں متحرک نہیں ہیں بالفعل، تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ ہاں، تو کسی زمانے کے اندر لازمی بات ہے اس کی انگلیاں کیا ہوں گی؟ غیر متحرک بھی ہوں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ نہیں آئی؟ بھئی، انگلیوں... پہلے ہم نے کہا تھا ہر کاتب کی انگلیاں حرکت ضرور کریں گی، لیکن حرکت ضرور کس وقت کریں گی؟ جب وہ کاتب ہوگا، وہاں شرط موجود تھی۔ اور ہم نے جو نکالا آگے قضیہ، اس میں تو کوئی شرط نہیں، اس میں تو جب کوئی شرط نہیں ہے تو کاتب کی انگلیاں کتابت کے علاوہ اوقات میں ساکن ہو سکتی ہیں یا نہیں ہو سکتیں؟ ہو سکتی ہیں، دوسرے وقت میں جب وہ نہیں لکھ رہا تو اس وقت ہو سکتا ہے وہ کچھ اور بھی نہ کر رہا ہو، انگلیاں ساکن ہوں۔ تو ہم نے بھی یہی کہا: "لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع"، کسی کاتب کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں بالفعل، تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں۔ یعنی اس وقت وہ ساکن ہوتی ہیں اس کی انگلیاں، کسی نہ کسی وقت ضرور اس کی انگلیاں کیا ہوتی ہیں؟ ساکن ہوتی ہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھی طرح؟ چلیے، بس فهذا هو المراد والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 58 of 108