LESSONS NO. 57
1
والسابعة المطلقة العامة وهي التي حكم فيها بوجود المحمول للموضوع أو سلبه عنه أي في أحد الأزمنة الثلاثة، كقولك: "كل إنسان ضاحك بالفعل"، و"لا شيء من الإنسان بضاحك بالفعل".
والثامنة الممكنة العامة وهي التي حكم فيها بسلب ضرورة الجانب المخالف.
موجهات کی بحث ہم نے شروع کی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ موجهات جو ہیں وہ 15 ہیں جن سے بحث کی جاتی ہے بھئی۔ ویسے تو تعداد زیادہ لیکن جن سے بحث کی جاتی ہے وہ 15 ہیں اور ان 15 میں سے 8 بسيطہ ہیں اور 7 مرکبہ بھئی۔ اور جو بسيطہ ہیں ان میں سے ہم نے 6 پڑھ لیے تھے، 2 باقی بھئی۔
تو آج ساتواں پڑھیں گے ہم، ساتواں بھئی۔ تو مصنف فرماتے ہیں: "والسابعة المطلقة العامة" اور ساتواں جو ہے بسائط میں سے وہ مطلقہ عامہ ہے۔ "وهي التي" اور یہ وہ قضیہ ہے "حكم فيها" جس میں حکم لگایا جائے "بوجود المحمول للموضوع" موضوع کے لیے محمول کے وجود کا، موضوع کے لیے محمول کے پائے جانے کا، "أو سلبه عنه" یا موضوع سے محمول کے سلب کا، "أي في أحد الأزمنة الثلاثة" یعنی تین زمانوں میں سے کسی ایک کے اندر بھئی۔
تین زمانوں میں سے کسی ایک کے اندر محمول کا ثبوت ہے موضوع کے لیے یا محمول کی نفی ہے موضوع سے۔ "كقولك" جیسے کہ آپ کا یہ قول: "كل إنسان ضاحك بالفعل" ہر انسان ضاحک بالفعل ہے بھئی۔ ہر انسان ضاحک بالفعل ہے بھئی۔ یہ بات میں پہلے بتلا چکا ہوں کہ بالفعل کا کیا معنی ہے؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔
تو انسان کے لیے ضحک ثابت ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ بھئی انسان بالفعل جو ہنستا ہے، ہنستا، کیا ہر وقت ہنستا ہے یا کبھی ہنستا ہے بھئی؟ کبھی ہنستا ہے، تو دیکھو کسی زمانے میں اس کے لیے ہنسنا ثابت ہے۔
"ولا شيء من الإنسان بضاحك بالفعل" اور کوئی بھی انسان ضاحک نہیں ہے بالفعل یعنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے اندر بھئی۔ تو کبھی انسان ہنستا ہے اور کبھی نہیں ہنستا۔ تو ہنستا جب، وہ بھی تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ، اور جب نہیں ہنستا، وہ بھی تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ۔
تو اس کو مطلقہ عامہ کہتے ہیں بھئی، مطلقہ عامہ۔ مطلقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ضرورت اور دوام کی قید نہیں ہے بھئی۔ مطلقہ کیوں کہتے ہیں؟ ضرورت اور دوام کی قید نہیں ہے۔ اس سے پہلے جتنے گزرے ان سب میں کسی میں ضرورت کی قید، کسی میں دوام کی قید، لیکن اس میں نہ ضرورت کی قید نہ دوام کی قید، اس لیے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ مطلقہ۔
اور عامہ، عامہ کیوں کہتے ہیں؟ بھئی دیکھیے آگے دو اور قضئے آ رہے ہیں مرکبات کے اندر۔ دو اور قضئے۔ یہ ان دونوں سے عام ہے اس لیے اس کو عامہ کہتے ہیں بھئی۔
کس طرح؟ دیکھیے یہی سمجھ لیجئے۔ کبھی اسی مطلقہ عامہ کے ساتھ لا ضرورت کی قید لگا دی جاتی ہے۔ اور کبھی اسی مطلقہ عامہ کے ساتھ لا دوام کی قید لگا دی جاتی ہے۔ کون کون سی؟ لا ضرورت اور لا دوام۔ اگر بالکل یہی قضیہ ہو اور اس کے ساتھ لا ضرورت کی قید لگ جائے تو اسے کہتے ہیں وجودیہ لا ضروريه۔ نام سے اندازہ لگا لیں بھئی۔ یہی قضیہ ہوتا ہے اور اس کے اندر لا ضرورت یا لا دوام کی قید ہوتی ہے۔ اگر لا ضرورت کی قید ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ وجودیہ لا ضروريه۔ اور اگر لا دوام کی قید ہو تو وجودیہ لا دائما بھئی۔
تو یہ ان دونوں سے عام ہے، ان میں قید ہوتی ہے اس میں قید نہیں ہے بھئی، تو یہ ان سے کیا ہوا؟ عام۔ اس لیے اس کو مطلقہ عامہ کہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مطلقہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں ضرورت اور دوام کی قید نہیں ہے۔ اور عامہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ وجودیہ لا ضروريه اور وجودیہ لا دائما سے عام ہے۔
"والثامنة الممكنة العامة" اور آٹھواں جو ہے وہ ممکنہ عامہ ہے بھئی، آٹھواں بسائط میں سے وہ ممکنہ عامہ ہے۔ "وهي التي" اور یہ وہ قضیہ ہے "حكم فيها" جس میں حکم لگایا جائے "بسلب ضرورة الجانب المخالف" جانب مخالف کے ضرورت کے سلب کا۔ یہ مشکل ہے بھئی غور سے سمجھ لینا۔ جانب مخالف کے ضرورت کے سلب کا۔ کیا حکم لگایا جائے؟ جانب مخالف کی ضرورت کے سلب کا۔
جی، "كقولك" جیسے کہ آپ کا یہ قول: "كل نار حارة بالإمكان العام" "كل نار حارة بالإمكان العام" ترجمہ غور سے سننا۔ ہر آگ گرم ہو یہ ممکن ہے۔ یعنی ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ یا یوں کر لیں ترجمہ، ممکن کو شروع میں لے آئیں، ممکن ہے کہ ہر آگ گرم ہو۔ ممکن ہے کہ ہر آگ گرم ہو۔
دیکھیے "كل نار حارة بالإمكان العام" ممکن ہے کہ ہر آگ گرم ہو۔ دیکھو ممکن ہونے کا حکم لگایا گیا ہے بھئی، کہ گرم ہونا کیا ہے آگ کا؟ ممکن ہے۔ اور انہوں نے تعریف کیا کی؟ ممکنہ عامہ وہ ہے جس میں جانب مخالف کی ضرورت کا سلب ہو۔ توجہ ہے بھئی؟ بہت مشکل بات ہے، سمجھ لیں انشاء اللہ پھر کوئی مشکل نہیں ہو گی۔
دیکھیے یہ قضیہ اس میں ایجاب ہے یا سلب ہے؟ "كل نار حارة بالإمكان العام" کیا ہے اس میں؟ ایجاب۔ تو جانب مخالف ہوئی سلب۔ جانب مخالف کیا ہوئی؟ سلب۔ اسی حرارت کا سلب، وہ کیا ہو گئی؟ میں کہتا ہوں زید کھڑا ہے، میں کہتا ہوں زید کھڑا نہیں، تو یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں یا نہیں بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی اسی طرح، اگر ایجاب ہے ایک چیز کا تو جانب مخالف میں کیا ہو گا؟ اسی کا سلب ہو گا، یعنی موجبه کا مخالف کون؟ سالبه، اور سالبه کا مخالف کون؟ موجبه۔ تو یہاں پر کیا ہے؟ ایجاب۔ تو ایجاب آگ کے لیے کیا ممکن ہے؟ گرم ہونا، تو اس کی جانب مخالف کیا ہے؟ سلب۔ یہ ہے ایجاب، تو جانب مخالف کیا ہے؟ یہاں ہے ایجاب حرارت، تو جانب مخالف میں کیا ہو گا؟ سلب حرارت۔
تو سلب حرارت کی ضرورت، دیکھیے وہ عبارت پہ نظر رکھیں "بسلب ضرورة الجانب المخالف"۔ جانب مخالف کی جگہ لے آئیں، کیا لائیں گے یہاں پر؟ سلب، کیا لائیں گے؟ سلب کہہ لیں یا سلب حرارت کہہ لیں۔ اچھا، سلب حرارت کی ضرورت کی نفی، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ عبارت پہ نظر رکھیں نا "بسلب ضرورة الجانب المخالف" صرف جانب مخالف کو میں بدلوں گا۔ ایجاب کو کس سے بدل دیا؟ سلب سے۔ جانب مخالف یہاں قضیے میں ہے ایجاب، تو اس کی جانب مخالف کیا ہوئی؟ سلب۔ تو سلب جانب مخالف کو اٹھائیں یہاں پر سلب رکھیں۔ اور باقی اسی طرح "بسلب ضرورة السلب" کیا عبارت بن گئی؟ سلب کے ضروری ہونے کی نفی۔ ترجمہ آخر سے ہو رہا ہے، سلب کے ضروری ہونے کی نفی۔ یعنی وہ قضیہ جس میں جانب مخالف کے ضروری ہونے کی نفی ہو، یعنی موجبه ہے، ایجاب ہے تو سلب کی ضروری ہونے کی نفی ہو۔ نفی ہو۔
دوبارہ دیکھ لیں بھئی۔ آپ نے کہا: "كل نار حارة بالإمكان العام" کیا ترجمہ کریں گے؟ ممکن ہے کہ ہر آگ گرم ہو۔ معلوم ہوا آگ کا گرم ہونا محال نہیں۔ آپ نے کہا نا ممکن ہے، معلوم ہوا آگ کا گرم ہونا محال نہیں۔ جب محال نہیں تو معلوم ہوا اس کا سلب ضروری نہیں۔ توجہ ہے ادھر، ادھر دیکھیے بھئی۔ میں نے کہا جب ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے، جب گرم ہونا ممکن ہے معلوم ہوا گرم ہونا محال نہیں ہے، گرم ہونا ممکن ہے معلوم ہوا گرم ہونا محال نہیں، معلوم ہوا آگ کا سے حرارت کا سلب ضروری نہیں۔ گرم ہونا ممکن ہے، گرم نہ ہونا ضروری نہیں۔
توجہ سے، توجہ سے، بس تھوڑا سا فرق آسان، بات آسان سی ہے لیکن لفظوں کی وجہ سے انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ معلوم ہوا گرم ہونا محال نہیں۔ جب گرم ہونا ممکن ہے تو گرم نہ ہونا ضروری نہیں۔ گرم نہ ہونا تب ضروری ہوتا نا جب گرم ہونا محال ہوتا، اور ہم نے تو کیا کہا؟ گرم ہونا ممکن ہے، یعنی محال نہیں۔ جب گرم ہونا ممکن ہے تو گرم نہ ہونا ضروری نہیں۔ گرم نہ ہونا ضروری نہیں۔ سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ نہیں آیا سمجھ میں؟
طالب علم: سائیں محال کا لفظی ترجمہ کیا ہوگا؟
محال جو ممکن نہ ہو، اس کو محال کہتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں یہ محال ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے۔ گزر سکتا ہے کبھی؟ یعنی ممکن ہی نہیں ہے۔ تو اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا ممکن ہی نہیں ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ محال کہتے ہیں، محال۔
ضروری ہونے کا کیا معنی تھا؟ یقینی ہو، بدیہی۔ اچھا، دوبارہ کریں بھئی، میں نے کیا کہا؟ آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ جب ایک چیز ممکن ہے تو اس کا نہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر ممکن نہ ہوتا پھر تو نہ ہونا ضروری تھا۔ نہ ہونا اگر آگ کا گرم ہونا ممکن ہی نہ ہوتا تو پھر آگ کا ٹھنڈا ہونا ضروری تھا۔ جانب مخالف یہی ہے نا؟ یعنی حرارت کا سلب پھر ضروری تھا۔ جب آگ کا گرم ہونا اگر آگ کا گرم ہونا ممکن ہی نہ ہوتا، کیا معنی تھا؟ پھر کیا ضروری ہے؟ ٹھنڈا ہونا پھر ضروری ہے، یعنی حرارت کا نہ ہونا، اسی کے ساتھ حرارت نہیں ہے تو اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ ٹھنڈا ہونا، ٹھنڈے سے تعبیر کر لیں آپ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب آپ کہہ دیتے ہیں یہ کام ممکن ہے تو اس کا مطلب ہے اس کی جانب مخالف کا ہونا ضروری نہیں۔ اب صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب آپ نے کہا آگ کا گرم ہونا ممکن ہے تو اس کے معلوم ہوا آگ کا گرم ہونا محال نہیں، جب آگ کا گرم ہونا محال نہیں تو معلوم ہوا جانب مخالف ضروری نہیں، یعنی اس سے حرارت کا سلب ضروری نہیں۔ اگر یوں ہوتا آگ کا گرم ہونا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر اس کا کیا معنی ہوتا؟ جب گرم ہونا نہیں ممکن تو کیا ہونا ضروری؟ ٹھنڈا ہونا ضروری، لیکن ہم نے تو یہ نہیں کہا کہ گرم ہونا ممکن نہیں، ہم تو کہہ رہے ہیں گرم ہونا ممکن ہے۔ جب گرم ہونا ممکن ہے معلوم ہوا ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں اور یہ ٹھنڈا ہونا اس کی کیا ہے؟ جانب مخالف ہے یعنی حرارت کا ٹھنڈے ہونے کے بجائے اب کیا لفظ لے آؤ جو کتاب میں ذکر ہے، حرارت کا سلب ضروری نہیں۔ جانب مخالف کیا ہے؟ یہاں پر حرارت کا ایجاب ہے، وہاں کیا لے آؤ حرارت کا سلب اور اس کی ضرورت کی نفی کر دو، حرارت کا سلب ضروری نہیں ہے۔ اب معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے، معلوم ہوا ہر آگ کا ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایجاب کی جگہ سلب لے آتے ہیں اور سلب کی جگہ ایجاب۔
اب دوسرا دیکھیے: "ولا شيء من النار ببارد بالإمكان العام" اور "لا شيء من النار ببارد" ترجمہ یوں کر لیں۔ پہلے ترجمہ ظاہری کیا بن رہا ہے؟ "لا شيء من النار ببارد" کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہیں ہے بالإمكان العام۔ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہیں ہے بالإمكان العام۔ اردو میں کیا ترجمہ کریں گے؟ کسی بھی آگ کا ٹھنڈا ہونا کے ذکر کر رہے ہیں یا نہ ہونا؟ نہ ہونا، نفی ہے نا، سالبه ہے، کسی بھی آگ کا ٹھنڈا نہ ہونا ممکن ہے۔ پچھلے میں کیا تھا؟ ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ اب کسی بھی آگ کا ٹھنڈا نہ ہونا ممکن ہے، یا دوسرا ترجمہ کر لیں، ممکن کو شروع میں لے آئیں، ممکن ہے کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ "لا شيء من النار ببارد" کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ ممکن ہے، ترجمے پہ توجہ ہے؟ "لا شيء من النار ببارد" ممکن ہے کہ "لا شيء من النار ببارد" کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ ممکن ہے کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ اچھا! ایجاب ہے سلب ہے؟ سلب ہے، اور سلب کے جانب مخالف کیا؟ ایجاب، ایجاب۔ تو ٹھنڈا نہ ہونا، اس کی جانب مخالف کیا ہے؟ ٹھنڈا ہونا، ٹھنڈا ہونا۔ تو معلوم ہوا کہ آ کسی بھی آگ کے لیے انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ کوئی بھی آگ ممکن ہے کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو، ٹھنڈی نہ ہو۔ اس کی جانب مخالف نکالیں ذرا، ٹھنڈا نہ ہونا ذکر ہے تو جانب مخالف کیا ہوگی؟ اور ٹھنڈا ہونا اس کی ضرورت کا سلب، یعنی ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں، ٹھنڈا ہونا جانب وہ اسی عبارت پہ نظر رکھو "بسلب ضرورة الجانب المخالف"۔ یہاں قضیے میں کیا ہے؟ سلب ہے یا ایجاب ہے؟ "لا شيء من النار ببارد" سلب ہے۔ سلب کی جانب مخالف کیا ہے؟ ایجاب، تو جانب مخالف کو اٹھائیں اس کی جگہ ایجاب رکھیں اور تو کیا بن گیا عبارت؟ "بسلب ضرورة الإيجاب" ایجاب کا سلب ضروری نہیں، ایجاب کیا ہے؟ ٹھنڈا ہونا، ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں ہے، ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ کہ ہر
2
ممکن ہے کہ کسی بھی آگ کا ٹھنڈا نہ ہونا ممکن ہے، معلوم ہوا جانبِ مخالف ٹھنڈا ہونا وہ ضروری نہیں۔ بھئی جب ٹھنڈا نہ ہونا ممکن ہے معلوم ہوا ٹھنڈا نہ ہونا محال نہیں، ممکن ہے، جب یہ ممکن ہے تو جانبِ مخالف ضروری نہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو جانبِ مخالف ضروری تھی، لیکن یہاں تو اس کا یہ ہونا ممکن ہے تو جانبِ مخالف ضروری نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ نہیں آئی سمجھ میں بھئی؟ جی؟
بھئی دیکھئے، پہلے میں ذکر ہے کتاب کے لفظوں پہ بھی نظر رکھنا جنہوں نے تعریف کی: "حکم فیھا بالسلب ضرورت الجانب المخالف" جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب ہوگا۔ جانبِ مخالف موجبة میں کیا بنے گی؟ ایجاب کی صورت میں جانبِ مخالف کیا بنے گی؟ سلب۔ اور سلب کی جانبِ مخالف کیا بنے گا؟ ایجاب بنے گا، بس اب آپ نے اس طرح کرنا ہے۔ اب دیکھئے پہلا قضیہ ہے: "کل نار حارة بالامکان العام" ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے، ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ تو اس میں ایجابِ حرارت ہے یا سلبِ حرارت ہے؟ ایجابِ حرارت، تو اس کا سلب بنائیں ذرا۔ ایجابِ حرارت ہے، سلب میں کیا آئے گا؟ سلبِ حرارت، تو سلبِ حرارت ضروری نہیں۔ ایجابِ حرارت جب ممکن ہے تو سلبِ حرارت ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب ایجابِ حرارت ممکن ہے تو سلبِ حرارت ضروری نہیں۔ اسی طرح اگلا ہے کون سا؟ "لا شيء من النار ببارد بالامکان العام" کوئی کسی بھی ممکن ہے، یا یوں کہیں "لا شيء من النار ببارد" کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو یہ ممکن ہے، کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو یہ ممکن ہے۔ ٹھنڈی نہ ہو، ایجاب ہے سلب ہے؟ سلب ہے۔ معلوم ہوا سلبِ برودت آگ سے ممکن ہے۔ توجہ ہے؟ سلبِ برودت آگ سے ممکن ہے، تو سلبِ برودت جب ممکن ہے تو سلبِ برودت کی جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ ایجابِ برودت۔ جب سلبِ برودت ممکن ہے تو جانبِ مخالف نکالو، تو ایجابِ برودت ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب سلبِ ضرورت ممکن ہے تو ایجابِ ضرورت ضروری نہیں، ایجابِ ضرورت۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
"فکقولک کل نار حارة بالامکان العام" ممکن ہے کہ ہر آگ گرم ہو، "ولا شيء من النار ببارد بالامکان العام" اور کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہیں ہے بالامکان العام، یہ ممکن ہے بھئی۔ یعنی کسی بھی آگ کا ٹھنڈا نہ ہونا ممکن ہے یا یوں کہیں ممکن ہے کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ معلوم ہوا آگ ٹھنڈی نہ ہو، تو اس کے مخالف سمت کیا ہے؟ ٹھنڈی ہو۔ تو ٹھنڈا ہونا آگ کے لیے ضروری نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تکرار کر لیجئے گا، اگر مشکل پیش آئے پھر انشاء اللہ کل بھی اس کو دہرا لیں گے بھئی، دہرا لیں گے۔ خوب اچھی طرح تکرار کرنا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کل انشاء اللہ پھر بھی اس کو ذرا کر لیں گے۔
اچھا اس کو ممکنہ عامہ کیوں کہتے ہیں بھئی؟ بھئی اس لیے کیونکہ اس میں ممکن ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔ جیسے پہلے میں کیا تھا: "کل نار حارة بالامکان العام" ہر آگ کا گرم ہونا ممکن ہے۔ دوسرے میں کہا تھا: "ولا شيء من النار ببارد بالامکان العام" کہ کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو یہ ممکن ہے۔ تو اس میں ممکن ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے اس لیے اس کو ممکنہ کہتے ہیں۔ اور عامہ؟ عامہ اس لیے کہ آگے ایک ممکنہ خاصہ آئے گا، وہ اس سے خاص ہے اور یہ اس کے مقابلے میں عام ہے، اس لیے اس کو ممکنہ عامہ کہتے ہیں اور اس کو ممکنہ خاصہ کہتے ہیں بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا بھئی، آپ نے آٹھ قسمیں پڑھ لیں بھئی، آٹھ قسمیں۔ بھئی یہ جو قضیوں کے نام ہیں نا، ان پر ذرا لکیر لگا لیں یہ واضح ہو کر آپ کے سامنے آ جائیں گے۔ ہر ایک کے اوپر لکیر لگائیں، ویسے تو کتاب میں پتہ نہیں چلتا ڈھونڈنا پڑتا ہے کون سا کہاں پر ہے۔
ضروریہ مطلقہ پر لکیر لگائیں، سب سے پہلے جو آیا تھا۔ جلدی جلدی لگائیے بھئی! ضروریہ مطلقہ پر لگا لیں، اس سے نچلی سطر کے درمیان میں ہے دائمه مطلقہ۔ دائمه مطلقہ اس پہ لکیر لگائیں اور نمبر بھی لکھتے جائیں بھئی، ضروریہ مطلقہ پر ایک نمبر لگا لیں، دائمه مطلقہ پر دو نمبر۔ دائمه مطلقہ کے بالکل نیچے تھوڑا سا آگے ہے مشروطه عامه۔ مشروطه عامه، اس کے اوپر لکیر لگائیں اور تین نمبر لکھیں۔ جلدی جلدی بھئی!
اگلے صفحے پر پہلی سطر میں ہے العرفیة العامة۔ اس پر لکیر لگائیں اور چار نمبر لکھیں۔ لکھ لیا بھئی؟ اس سے ایک سطر چھوڑ کر نچلی سطر میں ہے، بالکل اسی کے نیچے الوقتية المطلقة۔ الوقتية المطلقة، اس پر لکیر لگائیں پانچ نمبر۔ اچھا، اس کے نیچے دو سطریں، ایک سطر چھوڑ کر اسی کے نیچے ہے، سطر کے شروع میں المنتشرة المطلقة۔ اس پر لکیر لگائیں اور چھ نمبر لکھیں، چھ نمبر۔ اس سے نچلی سطر کے درمیان میں آ رہا ہے المطلقة العامة۔ المطلقة العامة، اس پر سات نمبر لگائیں۔ اور اس سے نیچے ایک سطر چھوڑ کر اگلی سطر میں بالکل شروع میں ہے الممكنة العامة۔ اس پر لکیر لگائیں اور آٹھ نمبر لکھیں بھئی۔
سارے نمبر لگا لیے بھئی؟ تو کون کون سے ہوئے دیکھئے: ضروریہ مطلقہ، دائمه مطلقہ، مشروطه عامه، عرفیہ عامہ، وقتیہ مطلقہ، منتشرہ مطلقہ، مطلقہ عامہ اور ممکنہ عامہ۔ یہ آٹھ موجہات آپ نے پڑھ لیے بھئی، آٹھ موجہات۔
اچھا دیکھئے، ضروریہ مطلقہ میں کون سی قید ذکر ہوتی ہے؟ ضرورت کی۔ دائمه مطلقہ میں کون سی قید ذکر ہوتی ہے؟ دوام کی۔ مشروطه عامه میں ان دو میں سے کون سی قید ہے؟ ضرورت اور دوام کی بات کر رہا ہوں صرف۔ مشروطه عامه میں بھی ضرورت کی قید ہے۔ اچھا، عرفیہ عامہ کے اندر دیکھیں کون سی قید ہے، ضرورت یا دوام؟ دوام کی، شاباش! وقتیہ مطلقہ میں کون سی قید ہے؟ ضرورت کی ہے، اچھا۔ منتشرہ مطلقہ میں بھی کون سی قید ہے؟ ضرورت کی ہے۔ مطلقہ عامہ میں کون سی قید ہے؟ اس میں نہ ضرورت کی ہے اور نہ دوام کی۔ اسی طرح ممکنہ عامہ کے اندر بھی نہ ضرورت کی ہے اور نہ دوام کی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا پہلے چھ قضیوں کے اندر، پہلے چھ کے اندر یا ضرورت کی قید ہے اور یا دوام کی قید ہے۔
اب فرق سمجھ لیں بھئی، بنیادی فرق آپ سمجھ گئے پھر انشاء اللہ کوئی مشکل آپ کے لیے نہیں رہے گی۔ بھئی دیکھئے، دوام کی قید کس کس میں ہے؟ ایک دائمه مطلقہ میں ہے، ایک عرفیہ عامہ میں ہے۔ توجہ ہے اچھی طرح بھئی؟ دوام کی قید صرف ان دو کے اندر ہے: دائمه مطلقہ اور ایک عرفیہ عامہ۔ دیکھئے۔
یاد رکھئے یہ جو دوام ہے نا دوام، یہ دو قسم پر ہے۔ ایک دوامِ ذاتی ہے، ایک دوامِ وصفی ہے۔ تو دوامِ ذاتی کے اعتبار سے ایک قسم ہوئی اور دوامِ وصفی کے اعتبار سے دوسری قسم ہوئی۔ دوام کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ دوامِ ذاتی کا مطلب یہ ہے، ادھر توجہ رکھنا، دوامِ ذاتی کا مطلب یہ ہے جب تک موضوع کی ذات موجود ہے اس کے لیے اس محمول کا ثبوت دائماً ہوگا۔ جب تک کیا موجود ہے؟ موضوع کی ذات جب تک موجود ہے، اس کے لیے یہ محمول، اس محمول کا ثبوت دائماً ہوگا موجبہ میں، اور یا سالبہ میں اس محمول کی نفی ہوگی دائماً۔
بھئی دو دو قسمیں آ رہی ہیں نا، ایک کے اندر محمول کا کیا ہوتا ہے؟ ثبوت ہوتا ہے اور سالبہ میں کیا ہوتا ہے؟ محمول کی نفی ہوتی ہے۔ تو دیکھئے، دائمه مطلقہ کے اندر محمول کا ثبوت بھی ہوگا اور بعض اوقات محمول کی نفی، عرفیہ عامہ میں بھی اسی طرح ایک موجبہ ہوگا ایک سالبہ، موجبہ کے اندر محمول کا ثبوت ہوگا کس کے لیے؟ موضوع کے لیے، اور سالبہ کے اندر محمول کی نفی ہوگی موضوع سے۔
اب، اب اگر یہ محمول کا ثبوت موضوع کے لیے دائماً ہے اس کی ذات کے اعتبار سے، یا محمول کی نفی ہے موضوع سے اس کی ذات کے اعتبار سے دائماً بھئی، تو اس کو کہیں گے دائمه مطلقہ۔ جیسے اس کی مثال تھی: "کل فلک متحرک بالدوام"۔ "کل فلک متحرک بالدوام"، دیکھئے کہاں ہر آسمان متحرک ہے دوام کے ساتھ، دائماً متحرک ہے۔ تو یہاں دیکھو دوام کا حکم لگایا گیا، لیکن کس پر لگایا گیا؟ موضوع کی ذات پر، جب تک موضوع کی ذات ہے اس کے ساتھ حرکت کیا ہے؟
اچھا دوام اور ضرورت میں فرق آیا تھا یا نہیں؟ کیا تھا؟ ضرورت میں جدا ہونا ممکن ہی نہیں، جبکہ دائماً میں جدا تو نہیں ہوتا لیکن جدا ہونا ممکن ہوتا ہے۔ تو دیکھئے جب تک فلک کی ذات، توجہ سے سننا بھئی، یہ سمجھ میں آ گئی آپ کو بات تو سارے قضیے آسان ہو جائیں گے۔
دیکھئے کہ دوام جو ہے، یہ دوام اگر موضوع کی ذات کے اعتبار سے ہے تو اس کو کہیں گے دائمه مطلقہ۔ اور اگر یہ دوام موضوع کے وصف کے اعتبار سے ہے تو اس کو کہیں گے عرفیہ عامہ۔
بھئی ہم نے کہا "کل فلک متحرک بالدوام"، کسی وصف کی قید لگائی؟ کسی وصف کی قید نہیں لگائی۔ اسی میں وصف کی قید لگا دیں گے تو یہی عرفیہ عامہ بن جائے گا۔ کیسے مثال دی عرفیہ عامہ کی؟ "کل کاتب متحرک الاصابع" بعینہٖ اسی طرح ہے، وہاں کیا تھا "کل فلک متحرک"، یہاں بھی کیا ہے "کل کاتب متحرک الاصابع"۔ اور وہاں بھی تھا دائماً اور یہاں بھی ہے دائماً۔ تو "کل کاتب متحرک الاصابع دائماً"، تو ہر کاتب متحرک الاصابع ہے ہمیشہ۔ لیکن کب تک؟ جب تک کاتب کی ذات موجود ہے یا جب تک اس میں وصفِ کتابت موجود ہے؟ جب تک اس میں وصفِ کتابت موجود ہے، تو یہاں پر وصفی قید شرط ذکر ہوگی "ما دام کاتباً" کی۔ اور اس میں ما دام کی کوئی قید، کوئی وصف کی قید نہیں۔ تو دوام اس میں بھی ہے، دوام اس میں بھی ہے، لیکن اس میں دوام ہے ذات کے اعتبار سے، اور یہاں پر دوام ہے وصف کے اعتبار سے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ دیکھو انشاء اللہ کوئی بھی مشکل نہیں رہے گا اگر صرف توجہ اس بات کو آپ نے سمجھ لیا، کہ وہاں پر بھی لگایا "کل فلک متحرک بالدوام"، یہاں پر بھی ہے "کل کاتب متحرک الاصابع"، بالکل ایک جیسے ہیں۔ وہاں بھی دوام کی قید، یہاں بھی دوام کی قید، لیکن فرق اتنا صرف اتنا کہ یہاں یہ دوام کس اعتبار سے ہے عرفیہ عامہ میں؟ وصف، جب تک وصفِ کتابت ہے اس وقت تک دائماً متحرک الاصابع ہے۔ وہاں کسی وصف کی قید نہیں ہے کہ آسمان کب تک متحرک ہے، جب تک فلاں وصف ہو، نہیں بھئی وہاں کوئی قید نہیں۔ جب تک اس کی ذات ہے اس کے لیے متحرک ہونا دائماً ہے۔ اور کاتب کے لیے بھی متحرک الاصابع ہونا دائماً ہے لیکن کب تک؟ جب تک وصفِ کتابت اس کے لیے ثابت ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو وہ ہے دوامِ ذاتی۔
دائمه مطلقہ میں کون سا دوام ہوگا؟ اس کی ذات کے اعتبار سے دوام ہوگا، اور عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی ہے، وصف کے اعتبار سے دوام ہوگا بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟
اچھا، یہ دو تو آپ سمجھ گئے۔ اب دیکھئے باقی جتنے چھ چھ تھے نا چھ جن کے اندر ضرورت یا دوام کی قید تھی، باقی چار میں ضرورت کی قید ہے۔ ضرورت، اب اس کو بھی سمجھ لو۔ یاد رکھو ضرورت تین قسم پر ہے۔ کبھی ضرورت ہوگی ذات کے اعتبار سے، کبھی ضرورت ہوگی وصف کے اعتبار سے، کبھی ضرورت ہوگی وقت کے اعتبار سے۔ وقت کے اعتبار سے چیز ضروری ہوگی۔
مثلاً، پہلا کیا تھا؟ ضروریہ مطلقہ، وہاں ذات کے اعتبار سے ضروری تھا۔ کیا تھا؟ "الانسان حیوان بالضرورة"، یہاں بھی قید موجود، انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ لیکن کب تک؟ جب تک انسان کی ذات ہے، کوئی وصف کی قید ہے؟ ما دام وغیرہ کی کوئی قید ہے؟ نہیں، تو یہاں ضروری ہے ضرورت کون سی ہے؟ ذات کے اعتبار سے۔ اور اگر یہی پر کسی وصف کی قید آ جائے تو یہ ضرورتِ وصفی بن جائے گا، جیسے تھا: یہاں آپ نے کہا کیا؟ یہاں بھی اسی طرح کر لیں "کل انسان حیوان"، "کل انسان حیوان بالضرورة"، تاکہ اگلے سے اگلے جیسی شکل ہو جائے۔ تو "کل انسان حیوان بالضرورة"، ہر انسان پر کیا حکم لگایا؟ حیوان ہونے کا، انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، لیکن کس اعتبار سے؟ ذات، جب تک انسان کی ذات ہے وہ حیوان ضرور ہے۔
اگلا آیا تھا: "کل کاتب متحرک الاصابع"، ہر کاتب کے لیے ضروری ہے کہ وہ کیا ہو؟ متحرک الاصابع ہو، لیکن کب تک؟ "ما دام کاتباً"، جب تک وہ کیا ہو؟ کاتب ہو، اس وقت تک ضروری ہے۔ اوپر والے میں تھا؟ ضروریہ مطلقہ میں کسی وصف کی قید تھی کہ اس وقت تک انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے اس وصف کے بغیر ضروری نہیں؟ وہاں ذات کے اعتبار سے ضروری تھا۔ اور یہاں پر دیکھئے کس کے اندر؟ مشروطه عامه کے اندر، اس کے اندر بھی بعینہٖ یہی حکم ہے کہ "کل کاتب متحرک الاصابع بالضرورة"، ہر کاتب متحرک الاصابع ہے اور یہ متحرک الاصابع ہونا ضروری ہے اس کے لیے، لیکن کب تک؟ جب تک ذات موجود ہے یا جب تک وہ ما دام کاتباً؟ جب تک وہ کاتب ہے اس وقت تک اس کے لیے متحرک الاصابع ہونا ضروری ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں پہلے میں ضروریہ مطلقہ میں کون سی ضرورت ہے؟ ذات کے اعتبار سے ضروری ہے۔ اور مشروطه عامه میں کون...
3
کل حیوان متنفّس بضرورۃ ہر حیوان کیا ہے سانس لینے والا ہے بضرورۃ ہر حیوان سانس لینے والا ہے بضرور لیکن یہاں غیر معین وقت کے اندر بھئی کس کے اندر؟ غیر معین تو سمجھ میں آگئی بات بھئی؟
دائمہ مطلقہ میں دوام ضروری، عرفیہ عامہ میں بھی دوام ضروری لیکن پہلے میں دوام ذاتی، دوسرے میں دوام وصفی۔ اسی طرح ضرور یہ مطلقہ، مشروطہ عامہ، وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ سب کے اندر ضروری ہے لیکن ضرور یہ مطلقہ میں ضرورت کون سی؟ ذاتی اعتبار سے، مشروطہ عامہ میں ضرورت کون سی؟ وصف کے اعتبار سے اور وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ میں ضرورت کس کے اعتبار سے؟ وقت کے اعتبار سے پھر یہ وقت کے اعتبار سے دو قسم پر ہے کسی کبھی کسی معین وقت میں ہونا ضروری ہوگا کبھی غیر معین وقت میں اگر معین وقت میں ہو تو وقتیہ مطلقہ اگر غیر معین وقت میں ہو تو منتشرہ مطلقہ بھئی چلیے بس! ہذا اول المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔