Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-056

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 56 1 والرابعة العرفية العامة وهي التي حكم فيها بدوام ثبوت المحمول للموضوع أو سلبه عنه ما دام ذات الموضوع متصفا بالوصف العنواني كقولنا بالدوام كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا وبالدوام لا شيء من النائم بمستيقظ ما دام نائما بھئی گزشتہ سبق میں موجہات میں سے جو بسائط ہیں، ان کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا اور تین بسائط گزرے تھے۔ پہلا ضروريہ مطلقہ، دوسرا دائما مطلقہ اور تیسرا مشروطہ عامہ۔ ضروریہ مطلقہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں موضوع کے لیے محمول کا ثبوت ضروری ہو بھئی۔ جس محمول کا حکم وہ جو موضوع پر لگایا گیا ہے، اس کا ہونا ضروری ہو۔ جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے۔ یا محمول کا سلب موضوع سے ضروری ہو جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے۔ جبکہ دائما جو ہے، اس میں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے دائماً ہوگا یا محمول کا سلب موضوع سے دائماً ہوگا۔ اور مشروطہ عامہ بھئی، جس میں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہوگا جب تک ذاتِ موضوع موصوف ہو وصفِ عنوان کے ساتھ بھئی۔ اس میں ایک شرط کی ہوتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ "ما دام كاتباً" جیسے کچھ قید آئی تھی اس کے اندر۔ آج ہم چوتھا پڑھیں گے، کہتے ہیں: "والرابعة العرفية العامة"۔ اور چوتھا جو ہے بسائط میں سے العرفیۃ العامة، وہ عرفیہ عامہ ہے۔ "وهي التي" اور یہ وہ قضیہ ہے "حكم فيها بدوام ثبوت المحمول للموضوع" کہ جس کے اندر حکم لگایا جائے موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے دوام کا حکم لگایا جائے "أو سلبه عنه" یا اس سے سلب کیا جائے "ما دام ذات الموضوع متصفاً بالوصف العنواني" جب تک ذاتِ موضوع متصف ہے اس کے ساتھ وصفِ عنوان کے ساتھ۔ بھئی، مشروطہ عامہ اور عرفیہ عامہ بالکل ایک جیسے ہیں، صرف فرق اتنا ہے کہ مشروطہ عامہ جو کل آپ نے پڑھا تھا، اس میں ضرورت کی قید تھی جبکہ عرفیہ عامہ میں دوام کی قید ہے بھئی۔ اس میں کون سی قید تھی مشروطہ عامہ میں؟ ضرورت کی۔ کیا، جیسے کیا تھا وہ؟ "كل كاتب متحرك الأصابع بالضرورة ما دام كاتباً"، یہ بالضرورة کی قید تھی "ما دام كاتباً"۔ اب جو آئے گا عرفیہ عامہ، اس میں ضرورت کی جگہ دوام کی قید ہوگی بھئی دوام کی۔ جیسے "كقولنا" جیسے کہ ہمارا قول ہے: "بالدوام كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتباً" کہ ہر کاتب جو ہے وہ متحرك الأصابع ہے، انگلیوں کو ہلانے والا ہے بالدوام، کس طریقے پر؟ دوام کے طریقے پر، "ما دام كاتباً" جب تک وہ کاتب ہے، یعنی جب تک اس کے لیے وصفِ عنوان ثابت ہے۔ بس بھئی یہاں موضوع کو ہم نے کس کے ساتھ تعبیر کیا؟ "كل كاتب"، دیکھا یہ ہے وصفِ موضوع کو جن لفظوں سے تعبیر کیا جائے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ وصفِ عنوان۔ میں کہتا ہوں: "الإنسان حيوان"، تو میں نے یہ موضوع کو انسان کے لفظ سے تعبیر کیا، یہ ہے وصفِ عنوان۔ اور یہاں پر میں نے تعبیر کیا "كل كاتب" سے، تو کاتب کے لفظ کے ساتھ موضوع کو تعبیر کیا، تو یہ کیا ہے؟ وصفِ عنوان۔ تو جب تک وصفِ عنوان ثابت ہے کس کے لیے؟ ذاتِ موضوع کے لیے، اس وقت تک دائماً یہ محمول بھی ثابت ہے کس کے لیے؟ موضوع کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ذاتِ موضوع جب تک متصف ہے کس کے ساتھ؟ وصفِ عنوان کے ساتھ، اس وقت تک محمول ثابت ہے کس کے لیے؟ موضوع کے لیے، اور کس طریقے پر؟ دوام کے طریقے پر بھئی۔ تو مشروطہ عامہ میں کس طریقے پر تھا؟ ضرورت کے طریقے پر ضروری تھا، جبکہ یہاں دوام کی قید ہے بھئی۔ یہ تو تھی ایجاب کی مثال بھئی، قضیہ موجبہ۔ اب اگلی مثال دے رہے ہیں سالبہ کی: "وبالدوام لا شيء من النائم بمستيقظ ما دام نائماً"۔ اور دوام کے ساتھ کوئی بھی سونے والا—نائم یعنی سونے والا، مستیقظ بیدار کو کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ بیدار۔ کہتے ہیں: "وبالدوام لا شيء من النائم بمستيقظ ما دام نائماً" کہ کوئی بھی سونے والا بیدار نہیں ہے دوام کے طریقے پر، "ما دام نائماً" جب تک وہ سویا ہوا ہے۔ جب تک وہ سویا ہوا ہے، وہ بیدار نہیں ہے بھئی۔ یہ تو آپ بھی جانتے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ دونوں ضد ہیں ایک دوسرے کی، بیدار ہونا اور سونا۔ سویا ہوا ہے تو بیدار نہیں ہے، بیدار ہے تو سویا ہوا نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: لا شيء کوئی بھی سونے والا وہ بیدار نہیں ہے دوام کے طریقے پر جب تک وہ سویا ہوا ہے، جب تک وہ سویا ہوا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب اس کو عرفیہ عامہ کیوں کہتے ہیں بھئی؟ عرفیہ عامہ اس کو اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ جو قضیہ سالبہ ہے: "وبالدوام لا شيء من النائم بمستيقظ ما دام نائماً"، اس کو اگر جہت کے بغیر بھی ذکر کیا جائے، دوام کی قید نہ لگائیں: "لا شيء من النائم بمستيقظ"، تو اگر اس میں جہت کو ذکر نہ کیا جائے، پھر بھی عرف میں یعنی عادت میں عام لوگ اس کا یہی دوام والا معنی سمجھتے ہیں۔ عام لوگ کیا ہیں؟ عرف میں، عادت میں عام لوگ بھی اس کا یہی دوام والا معنی سمجھتے ہیں بھئی، بے شک آپ ذکر نہ کریں۔ آپ کہتے ہیں بھئی: "لا شيء من النائم بمستيقظ"، کیا معنی؟ کوئی بھی سونے والا بیدار نہیں ہے۔ عام لوگ بھی یہی معنی سمجھتے ہیں کہ سونے والا بیدار نہیں، جب تک دوام کے ساتھ جب تک وہ سویا ہے تب تک بیدار نہیں ہے بھئی، ظاہر سی بات ہے ایک بھئی۔ تو عام لوگ بھی چونکہ یہ سالبہ سے اس کا یہی معنی سمجھتے ہیں، اس لیے اس کا نام کیا رکھا گیا؟ عرفیہ عامہ۔ تو اس وجہ سے اس کو عرفیہ کہتے ہیں بھئی عرفیہ۔ اور عامہ؟ عامہ اس کو کیوں کہتے ہیں؟ وجہ اس کی یہ کہ آگے ایک اور موجہہ آ رہا ہے: عرفیہ خاصہ۔ یہ اس سے عام ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرفیہ عامہ کہتے ہیں بھئی، عرفیہ عامہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے مشروطہ عامہ تھا، اس کو عامہ کیوں کہتے تھے؟ کیونکہ آگے مشروطہ خاصہ آ رہا ہے، یہ اس کے مقابلے میں عام ہے، اس لیے اس کو مشروطہ عامہ۔ وہ بھی مشروطہ، یہ بھی مشروطہ، لیکن یہ عام ہے، وہ خاص، تو اس کو مشروطہ عامہ کہتے ہیں۔ وہ آئے گا، وہ ہے مشروطہ خاصہ۔ یہاں بھی آیا عرفیہ عامہ، ایک اور آگے عرفیہ خاصہ آ رہا ہے، تو یہ بھی عرفیہ، وہ بھی عرفیہ، لیکن اس میں یہ عام ہے، اس میں عموم ہے اور وہ خاص ہے، تو اس کا نام عرفیہ عامہ رکھا اور اس کا نام عرفیہ خاصہ رکھا بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ وجہ تسمیہ پتہ چل گئی بھئی؟ "والخامسة" اور پانچواں جو ہے بسائط میں سے، "الوقتية المطلقة" وقتیہ مطلقہ ہے بھئی۔ وقتیہ مطلقہ۔ "وهي التي" اور یہ وہ قضیہ ہے "حكم فيها بضرورة ثبوت المحمول للموضوع" جس میں حکم لگایا جائے موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا۔ وہی بات بار بار بیان ہو رہی ہے بھئی۔ موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا حکم لگایا جائے "أو نفيه عنه" یا اس سے نفی کا حکم لگایا جائے "في وقت معين من أوقات الذات" کسی وقتِ معین کے اندر من اوقات الذات، اس ذات کے اوقات میں سے۔ اس ذات کے اوقات میں سے کسی معین وقت کے اندر محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہے اور کسی معین وقت کے اندر محمول کا سلب موضوع سے ضروری ہے۔ تو اس میں بھی ثبوت بھی ضروری اور سلب بھی ضروری، لیکن ثبوت ضروری ہے کسی معین وقت میں، اسی طرح ہر وقت نہیں، کسی معین وقت میں، اور سلب بھی ضروری ہے لیکن ہر وقت نہیں بلکہ کسی معین وقت میں بھئی۔ "كما تقول" جیسے آپ کہتے ہیں: "كل قمر منخسف بالضرورة وقت حيلولة الأرض بينه وبين الشمس"۔ بھئی دیکھیے، زمین کے گرد چاند گھومتا ہے اور پھر یہ زمین بھی تقریباً گیند کی مانند، چاند بھی گیند کی مانند گول ہیں، تو زمین کے گرد چاند گھومتا ہے۔ اور پھر یہ زمین اپنے چاند سمیت سورج کے گرد گھوم رہی ہے بھئی۔ چاند زمین کے گرد گھومتا جا رہا ہے اور زمین کس کے گرد گھوم رہی ہے؟ سورج کے گرد گھومتی جا رہی ہے۔ قدیم مناطقہ، یہ تو جدید بات بتلا رہا ہوں آپ کو، قدیم تو یہ کہتے تھے کہ سورج اور چاند زمین کے گرد گھومتے ہیں، حالانکہ چاند تو ٹھیک ہے گھومتا ہے زمین کے گرد، لیکن سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین کیا ہے؟ سورج کے گرد گھومتی ہے بھئی۔ یہ اب جدید سائنس بتلاتی ہے بھئی۔ اور تو یہ چاند جب زمین کے گرد گھوم رہا ہے، تو گھومتے گھومتے کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ چاند زمین کے دوسری طرف پہنچا اور زمین سورج اور چاند کے درمیان آ گئی۔ زمین کہاں آ گئی؟ چاند جب گھوم رہا ہے زمین کے گرد، تو کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ چاند دوسری جانب پہنچا، تو سورج ایک طرف ہے، چاند زمین کے دوسری طرف ہے۔ اور جیسے زمین کی اپنی روشنی نہیں ہے، زمین روشنی سورج سے حاصل کرتی ہے۔ سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، سورج ڈوبتا ہے تو رات ہو جاتی ہے۔ اسی طرح چاند کی بھی اپنی روشنی نہیں ہے، وہ بھی روشنی سورج سے حاصل کرتا ہے۔ تو یہ جو چاند ہمیں چمکتا ہوا نظر آتا ہے، یہ دراصل اس کے اس حصے پر دن ہوتا ہے۔ اس حصے پر روشنی سورج کی پڑ رہی ہے اور جو حصہ تاریک ہے، مثلاً آدھا روشن ہے اس وقت، تو آدھے پر روشنی پڑ رہی ہے اور آدھا کیا ہے؟ دوسری طرف ہے، اس پہ سورج کی روشنی نہیں پڑ رہی۔ آپ بھی اس کا تجربہ مثلاً کر سکتے ہیں، اندھیرے کمرے میں ایک طرف سے ٹارچ کی روشنی ڈالیں، ٹارچ جلا کر ایک طرف رکھ دیں، اس کے سامنے ایک دو گیند رکھ دیں بھئی، ایک ذرا بڑا ہو، ایک چھوٹا ہو۔ یہ بڑا گیند مثلاً زمین ہے، یہ چھوٹا گیند جو ہے، یہ چاند ہے اور یہ جو ٹارچ ہے، یہ فرض کریں سورج ہے۔ تو اب دیکھیں، ٹارچ کی روشنی زمین کے ایک حصے پر پڑ رہی ہے، وہ ہے دن اور جس طرف دوسری طرف کیا ہوگا؟ اندھیرا، تو یہ ہے رات بھئی۔ تو چاند اسی طرح گھوم رہا ہے، گھومتے گھومتے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ چاند دوسری طرف آیا زمین کے، اور زمین درمیان میں آ گئی۔ تو اس وقت پھر چاند اب دیکھیے، ٹارچ اس طرف ہے، درمیان میں زمین ہے اور چاند اس طرف ہے، تو اب کیا ہوگا؟ چاند پر زمین کا سایہ پڑے گا۔ زمین بیچ میں نہ ہو پھر تو چاند کے کسی نہ کسی حصے پر ٹارچ کی روشنی پڑ رہی ہے۔ لیکن جب زمین درمیان میں آ گئی، اب کیا ہوگا؟ زمین، سورج کی روشنی پڑ رہی ہے زمین پر اور پیچھے کو زمین کا سایہ جا رہا ہے اور اس طرف آ گیا چاند، تو چاند کے اوپر زمین کا سایہ پڑے گا۔ اس وقت اس حالت کو کہتے ہیں چاند گرہن، چاند کو کیا لگ گیا؟ چاند کو گرہن لگ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ چاند گرہن کی حقیقت ہے بھئی، اس طرح چاند پر زمین کا جب سایہ پڑتا ہے، تو اس وقت چاند کی روشنی کم ہو جاتی ہے۔ یا بعض اوقات پھر یہ سایہ بھی دو طرح کا ہوتا ہے بھئی۔ ایک تو بالکل وہ مرکزی سایہ، وہ بالکل سیاه ہوگا۔ وہ چاند پر پڑتا ہے تو پورا واضح پتہ لگتا ہے کہ چاند سیاه ہوتا جا رہا ہے، جتنے جتنے حصے پر جوں جوں سایہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور ایک سایہ جو مرکزی سائے سے ہٹ کر بھی کچھ سائے کا ہوتا ہے بھئی۔ وہ سایہ پڑے تو پھر اس میں صرف چاند کی روشنی کم ہوتی ہے، کالا نہیں ہوتا۔ جبکہ گہرا سایہ پڑے تو چاند کا جتنے حصے پر وہ گہرا سایہ پڑے گا، اتنا چاند بھی کیا ہو جائے گا؟ کالا ہو جائے گا۔ سمجھ میں آئی بات؟ گہرا ہو جائے گا۔ جیسے دیکھیے، اس وقت آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، کمرے میں بیٹھے ہیں اور سورج کی روشنی اس وقت براہِ راست کمرے میں نہیں آ رہی، دھوپ وہ دور صحن میں ہے۔ لیکن لائٹ نہ جلائیں آپ، پھر بھی کمرے میں روشنی ہوگی یا نہیں؟ ہوگی۔ ہوگی، یہ روشنی پھیل جاتی ہے کچھ، سمجھ میں آئی بات؟ تو اسی طرح جو جب یہ روشنی، یہ جو پھیلنے کی وجہ سے وہ جو سایہ ہے، سایہ اس کی بھی دو قسمیں کچھ بن جاتی ہیں۔ یہ تو خیر بہرحال گہری بات آ گئی سائنس کی۔ تو ایک سایہ جو ہوتا ہے، بالکل گہرا ہوتا ہے بھئی۔ آپ اپنے سائے پہ بھی کبھی غور کریں سائے پر، تو سورج کی روشنی میں بھی آپ کھڑے ہوں، تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کا سایہ تو خوب سیاه ہوگا، خوب گہرا سایہ ہوگا آپ کا بھئی، گہرا سایہ ہوگا نا؟ لیکن یہ جو سائے کے بالکل کنارے کنارے ہوں گے، یہ بھی تو اسی طرح تیز ہونے چاہئیں، ایک طرف روشنی تیز ہو تو دوسری طرف سایہ تیز ہونا چاہیے، لیکن آپ دیکھیں گے ایسا نہیں ہے۔ جو کنارے ہیں، وہاں سایہ مدہم ہوتے ہوتے پھر ختم ہوتا ہے، تھوڑا سا وہ بہت معمولی سی چیز ہے۔ چلیے یہ خیر گہری بات آ گئی، اس کو چھوڑیں۔ بس اتنا سمجھیں، سایہ بھی کس قسم کا ہوتا ہے؟ جو ایک عین مرکزی سایہ ہے، وہ تو گہرا ہوگا، اس کے ساتھ بھی کچھ سائے کا حصہ ہوتا ہے، لیکن وہاں کچھ روشنی بھی آ جاتی ہے اور کچھ سایہ بھی آ جاتا ہے، ملی جلی ایک کیفیت سی بن جاتی ہے۔ تو چاند بھی اگر یہ والا سایہ پڑے، تو صرف چاند کی روشنی کم ہوگی۔ لیکن اگر درمیان والا سایہ چاند پر پڑے گا، تو چاند کا وہ حصہ جتنے جتنے حصے پر سایہ پڑتا چلا جائے گا، وہ بالکل تاریک ہوتا چلا جائے گا، بالکل واضح نظر آئے گا آپ کو کہ بھئی چاند کے اوپر ایک سایہ حرکت کرتا ہوا جا رہا ہے۔ اور اتنا ہی چاند پھر دکھائی بھی نہیں دیتا جتنے پر سایہ پڑ جائے بھئی۔ تو یہ ہے چاند گرہن کی حقیقت بھئی۔ تو چاند گرہن کے وقت کیا ہوتا ہے؟ زمین سورج اور چاند کے درمیان میں آ جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ 2 تو یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ کما تقول جیسے آپ کہتے ہیں، کل قمر منخسف، ہر چاند جو ہے منخسف ہے۔ یعنی اس کو گرہن لگنے والا ہے۔ ہر چاند کو گرہن لگنے والا ہے بالضرورۃ۔ یقینی طور پر، بدیہی طور پر۔ قد! بھئی بتلایا تھا نا ضرور، وقتیا مطلقا؟ کسی متعین وقت کے اندر یہ حکم ہو گا۔ تو ہر چاند کو یقینی طور پر گرہن لگنے والا ہے۔ بھئی کس وقت؟ وقت حیلولۃ الارض بينه وبين الشمس، جس وقت بیچ میں آ جائے زمین اس چاند کے درمیان اور سورج کے۔ حیلولت کا معنی کیا؟ بیچ میں آنا، حائل ہونا۔ جس وقت زمین کیا ہو؟ حائل ہو جائے چاند اور سورج کے درمیان بھئی۔ تو اس وقت یقینی طور پر چاند کو گرہن لگنے والا ہے بھئی، چاند کو گرہن ہو گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے، یہاں چاند پر گرہن کا حکم لگایا گیا اور کس کیفیت کے ساتھ لگایا گیا؟ ضرورت کے قید کے ساتھ کہ چاند کو گرہن ضرور لگے گا، یقینا لگے گا۔ لیکن ہر وقت یا کسی متعین وقت میں؟ متعین۔ اور وہ کون سا وقت ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے درمیان حائل ہو جائے گی، اس کے درمیان میں آ جائے گی۔ یہ تو تھا موجبہ میں کہ چاند کو گرہن ضرور لگے گا بھئی، ثبوت تھا۔ اور سالبہ میں، ولا شيء من القمر بمنخسف وقت منخسف بالضرورۃ وقت التربيع۔ اور کوئی بھی چاند بھئی، وہ اسے وہ اس کو گرہن نہیں لگے گا بالضرورۃ، یقینی طور پر، بدیہی طور پر، وقت التربيع، کس وقت؟ تربيع کے وقت میں بھئی۔ تربيع کے وقت میں۔ بھئی تربيع، تربيع کی دو حالتیں ہیں۔ ایک تربيع اول کہلاتا ہے، ایک تربيع ثانی کہلاتا ہے۔ دیکھیے، مہینے میں آپ چاند کی مختلف کیفیتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ایک حالت ہوتی ہے بالکل مہینے کے ابتدا میں چاند بڑا باریک نظر آتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں ہلال بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ ہلال۔ یہ جو باریک سا چاند ہوتا ہے۔ تو یہ پہلے، دوسرے اور تیسرے دن تک یہ چاند ہلال کہلاتا ہے۔ پھر یہ بڑھتا چلا جاتا ہے، بڑھتے بڑھتے آدھا ہوتا ہے۔ اچھا، جب یہ تین دن کے بعد بڑھنا اور بڑھ گیا تو اب اس کو پہلے تو کہتے تھے ہلال، اب اس کو کہتے ہیں قمر۔ اب کیا کہتے ہیں؟ قمر۔ پھر یہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور یہاں تک کہ چودھویں رات کو پورا چاند آپ دیکھتے ہیں، اس کو کہتے ہیں بدر بھئی۔ پھر اس کے بعد چاند پھر چھوٹا ہونا شروع ہوتا ہے اور ہوتے ہوتے تقریباً 27 کو یہ چھپ جاتا ہے 28 کو بھئی۔ سمجھ میں، مہینے کے آخر میں یہ کیا ہو جاتا ہے پھر؟ بالکل چھپ جاتا ہے۔ ایک دو دن یہ چھپا رہتا ہے، پھر اسی طرح ہلال کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ تو جس وقت ہو چاند پورا، توجہ سے سننا، جس وقت ہے چاند پورا، یاد رکھو اس وقت زمین درمیان میں ہے۔ چاند دوسری طرف، سورج دوسری طرف۔ زمین کہاں ہے؟ درمیان میں۔ اور چاند دوسری طرف ہے۔ اور انہی دنوں میں پھر چاند کو گرہن بھی لگتا ہے۔ یہی جن دنوں میں یہ چاند 13، 14، 15 جو ہیں، یہ انہی ایام میں کیا ہے چاند کو گرہن لگتا ہے کیونکہ اس وقت دیکھیے سورج ہے ایک طرف، زمین ہے درمیان میں، چاند ہے دوسری طرف۔ جب دوسری طرف ہے، اسی وجہ سے سورج کی روشنی پورے پر پڑ رہی ہے اور آپ کو وہ پورا نظر آ رہا ہے۔ جس پورے حصے پر روشنی پڑ رہی ہے، وہ سارا آپ کو نظر آ رہا ہے بھئی۔ اسی وجہ سے یہ اس وقت پورا دکھائی دیتا ہے۔ اور انہی دنوں میں چاند گرہن بھی ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں اس وقت۔ زمین عین بیچ میں آئے گی، پھر تو سایا پڑے گا۔ لیکن عین بیچ میں نہ ہو، تھوڑی سی بھی ادھر ادھر ہو تو اب چاند تو آپ کو پورا نظر آ رہا ہے، لیکن سایا نہیں اس پہ پڑا تو گرہن بھی نہیں ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ چاند جب ہلال کی حالت میں ہوتا ہے، اس وقت چاند بیچ میں ہے، زمین اور سورج کے۔ بھئی آپ کس وقت چاند، نیا چاند کس وقت دیکھتے ہیں؟ عین سورج غروب ہونے کے بعد دیکھتے ہیں آپ۔ رمضان میں یا عید پہ چاند دیکھتے ہیں یا نہیں دیکھتے؟ کس وقت تلاش کرتے ہیں؟ مغرب کے بعد آپ دیکھتے ہیں۔ دیکھو، سورج بھی اسی جانب ہے، چاند بھی اسی جانب ہے۔ اس وقت چاند زمین اور سورج کے درمیان ہے بھئی۔ اور جب سورج اس طرف ہے چاند کے تو چاند کے اس طرف روشن ہے اور زمین کی طرف اس پہ روشنی نہیں پڑ رہی، اس لیے وہ نظر ہی نہیں آتا وہ حصہ۔ تھوڑا سا سائیڈ پہ ہوتا ہے، عین درمیان میں نہیں، تھوڑا سا ایک طرف معمولی سا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا ایک کنارہ وہ جو روشن والا، تھوڑا سا ہمیں نظر آنے لگتا ہے، وہی ہلال کی صورت ہوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی؟ اور ان دنوں میں پھر اگر عین درمیان میں آ جائے تو پھر سورج گرہن ہوتا ہے۔ اب چاند کس کے درمیان آ گیا؟ زمین اور سورج کے۔ زمین اور سورج کے درمیان آ گیا۔ تو اگر عین درمیان میں آ گیا، سورج کے سامنے آ جائے تو پھر سورج کے کس کچھ حصے کو اپنے پیچھے چھپا لے گا۔ اور کیا ہو گا؟ سورج گرہن ہو گا۔ پھر اس میں بھی وہی دو کیفیتیں ہیں۔ کبھی تو بالکل وہ چاند، اب اب دیکھو اب چاند کا سایا زمین پہ پڑ رہا ہے۔ پہلے زمین کا سایا چاند پہ تھا، اب کیا ہے؟ چاند کا سایا زمین پر پڑ رہا ہے۔ اور سائے کی میں نے بتایا دو کیفیتیں ہیں۔ ایک بالکل عین مرکزی سایا ہے، وہ تو بڑا تاریک ہوتا ہے۔ اگر وہ مرکزی سایا آپ کے ملک پر آیا تو جتنے حصے سورج کے جتنے حصے پر وہ چاند وہ ہو چاند، سورج کا کچھ حصہ بالکل آپ سے چھپ جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بالکل چھپ جائے گا۔ وہ مرکزی سایا آپ پر آ گیا، سورج اتنا ہی جتنا حصہ چاند کے پیچھے ہے اس وقت اتنا چھپ جائے گا۔ اور کبھی وہ سائے کا باہر والا کنارہ صرف آپ کے علاقے پر آئے گا۔ اس وقت سورج چھپے گا نہیں، ہاں اس کی روشنی مدہم ہو جائے گی۔ اس کی روشنی کیا ہو جائے گی؟ مدہم آپ کو دکھائی دے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھا، تو معلوم ہوا زمین اس یہ سورج گرہن، یہ مہینے کی پہلی تاریخوں میں ہو سکتا ہے۔ اور چاند گرہن مہینے کے وسط میں ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر یہ چاند ہلال سے بڑھتا بڑھتا بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب آدھا ہو جائے چاند، یہ ہے تربيع کا وقت۔ یہ کون سا وقت ہے؟ تربيع کا وقت ہے۔ اسی طرح پھر چاند پورا ہو جائے گا اور پھر دوبارہ کم ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر آدھا رہ جائے گا۔ جب آدھا رہ جائے، یہ تربيع ثانی ہے بھئی۔ وہ تربيع اول تھا جب پہلی مرتبہ بڑھتے بڑھتے آدھا ہوا اور پھر جب کم ہوتے ہوتے پھر آدھا رہ جائے گا تو یہ کیا ہے؟ تربيع ثانی۔ اور اس وقت چاند، یہ وہ سورج ہے، چاند اس زمین ادھر سامنے ہے تو چاند دراصل یہاں پر ہے بھئی۔ زمین اور چاند دونوں سورج کے سامنے سامنے ہیں۔ کوئی درمیان میں نہیں ہے۔ نہ زمین دونوں کے درمیان ہے، نہ چاند دونوں کے درمیان ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بھئی، چاند بھی ایک گیند کی شکل میں ہے، زمین بھی ایک گیند کی شکل میں ہے۔ ادھر سے ٹارچ کی روشنی پڑ رہی ہے۔ تو دیکھو، چاند کا یہ والا آدھا حصہ کیا ہو گا؟ روشن۔ لیکن اس روشن میں سے آدھا تو پیچھے کی جانب ہے، وہ تو آپ کو نظر نہیں آئے گا۔ ادھر سے کتنا نظر آئے گا؟ آدھا، یعنی آدھے کا بھی آدھا نظر آ رہا ہے گویا آپ کو۔ آدھا چھپا ہوا ہے، وہ بھی روشن ہے۔ چاند اس وقت بھی پورا روشن، ایک جانب اس کی پوری روشن ہے۔ لیکن آپ کو آدھی دکھائی دے رہی ہے اور آدھی روشن دوسری طرف ہے، وہ آپ کو دکھائی ہی نہیں دے رہی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ وقت تربيع۔ گویا چاند کا چوتھا حصہ آپ کو نظر آ رہا ہے اس وقت۔ صورت سمجھ، جسے ہم آدھا کہتے ہیں، یہ دراصل کتنا ہے؟ چوتھا حصہ۔ اور جسے ہم پورا کہتے ہیں، وہ دراصل آدھا چاند ہے، آدھی ایک جانب اس کی روشن ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا تربيع کے وقت کبھی بھی چاند گرہن نہیں ہو گا۔ کیونکہ زمین اس وقت ان دونوں کے درمیان میں نہیں ہے، بلکہ دونوں سورج کے سامنے سامنے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کہ نہیں آئی سمجھ میں؟ آ گئی ہے؟ چلیے، یہ تو خیر سائنس کی باتیں تھیں۔ کہتے ہیں، ولا شيء من القمر بمنخسف بالضرورة، اور چاند کوئی بھی چاند جو ہے اس کو گرہن لگنے والا نہیں ہے بالضرورۃ، یقینی طور پر، بدیہی طور پر۔ بھئی کس وقت چاند کو گرہن نہیں لگنے والا؟ کہتے ہیں، وقت التربيع، تربيع کے وقت میں۔ دیکھو، ایک متعین وقت میں نفی کر دی چاند سے گرہن کی بھئی۔ کہ تربيع کے وقت میں کبھی بھی چاند کو گرہن نہیں لگے گا، قطعی طور پر، یقینی اور بدیہی طور پر۔ اور جس وقت زمین حائل ہو ان دونوں کے درمیان، چاند اور سورج کے درمیان، اس وقت چاند کو قطعی طور پر کیا لگے گا؟ گرہن اسی وقت لگے گا بھئی، اسی وقت لگے گا۔ اچھا بھئی، یہ تھا وقتیا مطلقا۔ بھئی اس کو وقتیا مطلقا کیوں کہتے ہیں؟ وجہ تسمیہ کیا ہے؟ بھئی وقتیا، وہ تو نام سے ہی پتہ چل گیا کہ اس میں ایک وقت متعین کی قید ہوتی ہے۔ کس کی قید ہوتی ہے؟ وقت متعین کی قید ہے۔ یہ ہے اس لیے وقتیا۔ اور مطلقا اس کو کیوں کہتے ہیں؟ مطلقا اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں لا دوام کی قید نہیں ہے بھئی۔ اس میں لا دوام کی لا دوام کی قید نہیں ہے۔ آگے آئیں گے بعض قضیے، ان میں لا دوام کی قید ہو گی کہ دائماً نہیں۔ کون سی قید ہو گی؟ لا دوام کی۔ اس میں لا دوام کی قید نہیں ہے اور ان میں قید ہو گی بھئی۔ تو اس لیے اس کو مطلقا کہا۔ تو یہ ہے وقتیا مطلقا۔ وقتیا اس لیے کیونکہ اس میں وقت متعین کی قید ہے اور مطلقا اس لیے کیونکہ اس میں لا دوام کی قید نہیں ہے۔ یہ مطلق ہے بھئی۔ والسادسة المنتشرة المطلقة، اور چھٹا جو ہے بسائط میں سے وہ منتشرہ مطلقا ہے۔ وهي التي حكم فيها، اور یہ وہ قضیہ ہے جس میں حکم لگایا جائے بضرورة ثبوت المحمول للموضوع، محمول موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا أو نفيه عنه، یا اس سے نفی کا في وقت غير معين من اوقات الذات، کسی غیر متعین وقت کے اندر من اوقات الذات اس ذات کے اوقات میں سے۔ اس ذات کے اوقات میں سے کسی غیر متعین وقت میں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہو گا۔ اسی طرح کسی غیر متعین وقت کے اندر محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہو گی بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ موضوع کا محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہو گا کسی غیر متعین وقت میں۔ اور اسی طرح محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہو گی کسی غیر متعین وقت کے اندر بھئی۔ نحو: كل حيوان متنفس بالضرورة وقتا ما۔ جیسے آپ کہتے ہیں، کل متنفس کا معنی ہے سانس لینے والا۔ نفس کس کو کہتے ہیں؟ سانس۔ ایک ہے نفس، جس میں فا ساکن ہے۔ وہ ذات کو کہتے ہیں۔ اور ایک ہے نفس، فا پر فتحہ ہو۔ تو یہ کس کو کہتے ہیں؟ سانس کو۔ تو متنفس کا کیا معنی؟ سانس لینے والا۔ کہتے ہیں بھئی، كل حيوان متنفس بالضرورة، ہر حیوان سانس لینے والا ہے بالضرورۃ، قطعی طور پر، یقینی طور پر وقتا ما، کسی نہ کسی وقت میں۔ کسی نہ کسی وقت میں، کسی نہ کسی وقت میں وہ سانس لینے والا ہے یقینی طور پر۔ بھئی دیکھیے، ہم سانس لیتے ہیں۔ یہ جو آپ سانس لیتے ہیں، سانس ہوا آپ اندر کو کھینچتے ہیں بھئی۔ یہ ہے سانس لینا۔ یہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ سانس لے رہے ہیں۔ پھر دوبارہ کیا کریں گے؟ ہم اس یہ جو ہوا سینے میں لے گئے، اسی ہوا کو باہر نکالیں گے۔ یہ ہم اس وقت اب سانس نہیں لے رہے، یہ تو ہم وہ ہوا اسی کو خارج کر رہے ہیں۔ تو یہ جو ہم ہوا اندر کھینچ رہے ہیں، یہ سانس لے رہے ہیں۔ اور جس وقت باہر نکال رہے ہیں، اس وقت سانس اس وقت سانس لے رہے ہیں یا اسی کو باہر نکال رہے ہیں؟ باہر نکال رہے ہیں۔ تو سانس جس وقت ہم ہوا کو کھینچ رہے ہیں، پھیپھڑوں میں لے کر جا رہے ہیں، یہ ہے سانس لینا۔ اور پھر اس کو نکال رہے ہیں تو اس وقت سانس نہیں لے رہے۔ پھر جب اس کو نکال دیں گے، پھر سانس کھینچیں گے اندر، پھر اس کو نکال دیں گے، پھر سانس کھینچیں گے، پھر اس کو نکال دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جس وقت ہم سانس لے رہے ہیں، کیا معنی؟ جب ہوا کو کھینچ کر پھیپھڑوں میں لے جا رہے ہیں، یہ ہے سانس لینا۔ اس وقت ہم سانس لے رہے ہیں۔ اور جس وقت اس کو خارج کر رہے ہیں، اس وقت سانس نہیں لے رہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہم سانس لیتے ہیں کسی وقت میں، اور کسی وقت میں ہم سانس نہیں لیتے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کسی وقت سانس لے رہے ہیں، کسی وقت نہیں لے رہے بھئی۔ کچھ لمحوں کے لیے سانس کھینچا، سانس لیا، پھر رکے، سانس کو نکالا، سانس پھر نہیں لے رہے۔ پھر وہ سانس لیا۔ تو یہ اسی طرح چلتا ہے سلسلہ بھئی۔ سانس لے رہے ہیں، پھر نہیں لے رہے، پھر لے رہے ہیں سانس، پھر نہیں لے رہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے، كل حيوان متنفس بالضرورة وقتا ما، ہر حیوان سانس لینے والا ہے قطعی طور پر، یقینی طور پر، بدیہی طور پر، جو بھی ترجمہ آپ کر لیں، بدیہی طور پر وقتا ما، کسی وقت کسی نہ کسی وقت میں، یا کسی غیر متعین وقت میں۔ اسی کو آپ آگے کیا ہے؟ ولا شيء من الحجر بمتنفس بالضرورة وقتا ما۔ اور حجر میں سے کوئی بھی، وہ سانس لینے والا نہیں ہے بالضرورۃ، یقینی طور پر، بدیہی طور پر، وقتا ما، کسی نہ کسی وقت میں۔ تو حجر سے سانس لینے کی نفی کی قطعی طور پر، لیکن کسی متعین وقت میں یا غیر متعین وقت میں؟ غیر متعین وقت میں، وقتا ما، کسی بھی کسی وقت بھئی، کسی نہ کسی وقت۔ تو یہ ہے منتشرہ مطلقا۔ منتشرہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں متعین وقت کی قید نہیں ہے، بلکہ کس کی قید ہے؟ غیر متعین وقت کی۔ تو غیر متعین وقت میں۔ تو محمول کا جو ثبوت تھا موضوع کے لیے، کس کا؟ محمول کا جو ثبوت ہے موضوع کے لیے، وہ ضروری تھا۔ لیکن جب وقتا ما کہا، تو وہ جو محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری تھا، وہ منتشر ہو گیا اوقات غیر معینہ میں۔ کس میں منتشر ہو گیا، پھیل گیا بھئی؟ کیا ہو گیا؟ پھیل گیا اوقات غیر معینہ کے اندر بھئی۔ اگر وقت متعین ہوتا تو اسی وقت ثبوت ضروری ہوتا، اسی وقت نفی بھی ضروری ہوتی، لیکن یہ تو کس چیز کی قید لگا دی انہوں نے؟ غیر متعین وقت کی۔ تو غیر متعین وقتوں کے اندر وہ ثبوت محمول کا موضوع کے لیے ضروری ہوا۔ تو یہ ثبوت محمول جو ہے موضوع کے لیے، یہ منتشر ہو گیا۔ 3 که محمول کا جو ثبوت ہے موضوع کے لئے، اس کا ضروری ہونا، وہ منتشر ہوگیا اوقات غیرمعینہ میں۔ اور مطلقہ اس کو کیوں کہتے ہیں؟ مطلقہ اس لیے، جیسے اوپر والے میں وجہ ذکر ہوئی تھی کہ اس میں لادوام کی قید نہیں۔ اسی طرح اس کے اندر بھی لادوام کی قید نہیں ہے۔ آگے آئے گی قسم جس میں لادوام کی قید ہوگی بھئی، لیکن اس کے اندر لادوام کی قید نہیں، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ منتشرہ مطلقہ کہتے ہیں۔ صورت سب کو سمجھ میں آگئی بھئی اچھی طرح؟ تو آج ہم نے یہ تین مزید، بسیط بسائط پڑھ لیے، ایک عرفیہ عامہ، ایک وقتیہ مطلقہ، اور ایک منتشرہ مطلقہ بھئی۔ عرفیہ عامہ بھئی، جس کے اندر محمول کا ثبوت موضوع کے لئے دائما ہو، جب تک وہ موصوف ہے کس کے ساتھ؟ وصف عنوانی کے ساتھ اور اسی طرح نفی بھی ضروری ہے جب تک وہ موصوف ہے کس کے ساتھ وصف عنوانی کے ساتھ۔ اور وقتیہ مطلقہ، جس میں محمول کا ثبوت موضوع کے لئے ضروری ہو کسی معین وقت کے اندر، اور اسی طرح محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہو کسی معین وقت کے اندر بھئی وہی موجبہ اور سالبہ دونوں کو میں الگ الگ ذکر کر رہا ہوں۔ محمول کا ثبوت موضوع کے لئے ضروری ہو کسی معین وقت میں اور اسی طرح محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہو کسی معین وقت میں، یہ ہے وقتیہ مطلقہ، اور ایک ہے منتشرہ مطلقہ، کہ موضوع، کہ محمول کا ثبوت موضوع کے لئے ضروری ہو کسی غیر معین وقت میں، اسی طرح محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہو کسی غیر معین وقت میں بھئی۔ چلیے بس! حاضر اول ہمارا، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔ جی بات سمجھ میں آگئی؟ کوئی مشکل تو نہیں۔ بس جب قید بدلیں گے، اس کے مطابق قضیہ بدل جائے گا۔ بالدوام کی قید لگا دو، تو وہ کوئی اور صورت بن جائے گی، آپ پھر دیکھیں کون سا والا یہ بن گیا ہے۔ بضرورت کو ہٹا دیں، بالدوام لگا دیں۔ وقت اما، بھئی وقتاً نکرہ آیا، اور کبھی، تو اور نکرہ غیر معین ذات کے لیے آتا ہے۔ نکرہ کس پہ دلالت کرتا ہے؟ غیرمعین ذات۔ بھئی میں کہتا ہوں رجلٌ، معلوم ہوا کوئی غیرمعین آدمی ہے، اور جب میں کہوں گا الرجل، تو معلوم ہوا کوئی متعین آدمی ہے۔ تو یہاں وقتاً نکرہ آیا، اور اس نکرہ کی صفت کبھی ما لائی جاتی ہے۔ ما، اور یہ بھی نکرہ ہے، تو اس کے، اس نکرہ میں جو ابہام تھا، اس کی تاکید کے طور پر لایا جاتا ہے بھئی، وقتاً کسی وقت، وقتاً ما کسی بھی وقت، تو اس کے ابہام کو، میں یہ تاکید پیدا کر دیتا ہے، یا یوں کہیں اس میں اور ابہام پیدا کر دیتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ وقتاً موصوف ہے، نکرہ ہے، اور ما اس کی صفت ہے بھئی۔
108 approved lectures · 56 of 108