LESSONS NO. 55
1
اما البسائط فإحداها الضرورية المطلقة وهي التي حكم فيها بضرورة ثبوت المحمول للموضوع أو سلبه عنه ما دامت ذات الموضوع موجودة كقولك الإنسان حيوان بالضرورة والإنسان ليس بحجر بالضرورة۔
موجهات کی بحث شروع کی تھی ہم نے گزشتہ سبق میں بھئی۔
گزشتہ سبق میں 8، 10 چیزیں میں نے ذکر کی تھیں جو موجهات سمجھنے کے لیے ضروری ہیں بھئی:
ذاتِ موضوع
وصفِ عنوانی
مادۂ قضیہ
جہتِ قضیہ
قضیہ موجہہ
قضیہ مطلقہ
بالضرورة
بالدوام
بالفعل
اور بالامکان وغیرہ بھئی۔
یہ سب چیزیں بالتفصیل ذکر ہوئی تھیں گزشتہ سبق میں۔ آج پھر ان کو مختصراً سن لیجیے۔
سب سے پہلے ذاتِ موضوع بھئی۔ ذاتِ موضوع وہ ہے جس پر موضوع صادق آتا ہے، موضوع کا جو مصداق ہے بھئی مصداق اسے کیا کہتے ہیں؟ ذاتِ موضوع بھئی ذاتِ موضوع۔ مثلاً میں کہتا ہوں "الإنسان حيوان"۔ تو یہ جو "الإنسان" ہے یہ ہے موضوع اور "حيوان" ہے محمول اور ذاتِ موضوع کیا ہے؟ جو انسان کے مصداق ہیں بھئی، یہ جو خارج میں انسان کے افراد پائے جاتے ہیں بھئی زید، عمر، بکر وغیرہ یہ سارے کیا ہیں؟ ذاتِ موضوع ہیں یعنی موضوع کا مصداق ہیں، موضوع ان پر صادق آتا ہے۔ اسے کہتے ہیں ذاتِ موضوع بھئی جس پر موضوع صادق آئے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو ذاتِ موضوع کسے کہتے ہیں؟ جو موضوع کا مصداق ہیں، جن پر موضوع صادق آتا ہے۔
اس کے بعد وصفِ عنوانی کے بارے میں بتلایا تھا بھئی۔ موضوع کو جس لفظ سے تعبیر کیا جائے وہ ہے وصفِ عنوانی۔ یہاں کس چیز کے ساتھ تعبیر کیا گیا موضوع کو، کس لفظ کے ساتھ؟ "الإنسان" کے ساتھ۔ تو یہ انسان کیا ہے؟ وصفِ عنوانی ہے بھئی وصفِ عنوانی۔ بھئی عنوان جس طرح ہوتا ہے، ایک مضمون ہوتا ہے اس کے اوپر ایک عنوان ہوتا ہے اس عنوان سے موضوع کا پتہ چل جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی یہ وصفِ عنوانی کے ذریعے موضوع کا پتہ چلتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وصفِ عنوانی۔ تو دیکھو وہ ذاتِ موضوع کا پتہ موضوع سے چلتا ہے بھئی۔ میں نے جب "الإنسان" کہا تو فوراً آپ کے ذہن میں اس کے افراد آ گئے بھئی کہ یہ ہے انسان بھئی۔ تو وصفِ عنوانی جس کے ذریعے موضوع کو کیا کیا جائے؟ تعبیر کیا جائے بھئی تعبیر کیا جائے۔
اس کے بعد مادۂ قضیہ بتلایا تھا آپ کو بھئی، مادۂ قضیہ بھئی۔ مادۂ قضیہ کہ یہ جو موضوع کے لیے محمول کا نفس الأمر میں اور واقع میں ثبوت ہے، جیسے میں نے کہا "الإنسان حيوان"، یہ تو لفظوں میں میں ذکر کر رہا ہوں۔ واقع میں اور نفس الأمر میں جو انسان کے لیے موضوع کا ثبوت ہے، وہ کسی نہ کسی کیفیت کے ساتھ متکیف ہوگا۔ کسی کیفیت کے ساتھ اس کے لیے یہ محمول ثابت ہو رہا ہوگا۔ خارج میں واقع میں واقع میں، واقع میں اور نفس الأمر میں یہ جو انسان کے لیے حیوان ہونے کا ثبوت ہے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ہوگی۔ یا تو انسان کے لیے حیوان ہونا مثلاً ضروری ہوگا یا ممکن ہوگا یا دائماً ہوگا یا بالفعل ہوگا۔ کوئی نہ کوئی کیفیت ہوگی جس قسم کا بھی قضیہ ہے اور تو نفس الأمر میں اور واقع کے اندر بھی اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ہوگی، آپ لفظوں کی ابھی بات نہیں کر رہے، آپ لفظوں میں بیان کریں یا نہ کریں لیکن واقع میں اس کے لیے یہ محمول کا ثبوت ہے موضوع کے لیے، یہ کسی نہ کسی کیفیت کے ساتھ متکیف ہوگا، کوئی نہ کوئی کیفیت اس کی ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو یہ جس کیفیت کے ساتھ محمول موضوع کے لیے نفس الأمر میں ثابت ہے، اس کیفیت کو کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قضیہ۔ کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قضیہ۔ دہرائیں بھئی زبان سے بھئی۔ یعنی دوبارہ کیا کہ مادۂ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کیفیت کے ساتھ محمول موضوع کے لیے ثابت ہے نفس الأمر میں۔ جس کیفیت کے ساتھ محمول ثابت ہے موضوع کے لیے نفس الأمر میں، یہ ہے مادۂ قضیہ بھئی۔ نفس الأمر یعنی واقع کے اندر۔
اور یہ کیفیت اگر قضیہ، بھئی قضیہ پھر دو قسم پر آ گیا ایک معقولہ ہے ایک ملفوظہ ہے۔ یہی قضیہ جب ذہن میں ہے تو اس کا کیا نام؟ قضیہ معقولہ۔ اور یہی قضیہ جب زبان سے آپ ادا کریں لفظوں میں تو یہی کیا کہلائے گا؟ قضیہ ملفوظہ۔ اور مناطقہ تو اصل میں بحث کس سے کرتے ہیں؟ معقولہ سے، قضیہ معقولہ سے بحث کریں گے۔ لیکن چونکہ قضیہ معقولہ دوسرے کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے، اس الفاظ کے بغیر دوسرے کو بات نہیں سمجھائی جا سکتی تو اس لیے قضیہ ملفوظہ کے ذکر پر بھی وہ مجبور ہوتے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا اس کا بھی ساتھ ساتھ ذکر چلتا ہے۔
تو یہ جو کیفیت تھی جس کیفیت کے ساتھ محمول موضوع کے لیے نفس الأمر اور واقع میں ثابت تھا، یہ کیفیت اگر قضیہ ملفوظہ اور معقولہ میں بھی ہے، قضیہ معقولہ میں بھی یہی کیفیت ملحوظ رکھی آپ نے یا قضیہ ملفوظہ میں بھی یہ کیفیت آپ نے لفظوں میں باقاعدہ ذکر کی بھئی، تو یہ لفظ وہ لفظ جو اس کیفیت کو بیان کرتا ہے اس کو جہتِ قضیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مثلاً "الإنسان حيوان"، یہ حیوان ہونے کا حکم انسان پر واقع میں کس اعتبار سے لگایا گیا؟ ضروری ہونے کے اعتبار سے کہ جو بھی انسان ہوگا وہ حیوان ضرور ہوگا، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان ہو اور حیوان نہ ہو بھئی۔ معلوم ہوا انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ آپ نے لفظوں میں بے شک نہ ذکر کیا ہو لیکن واقع میں اسی طرح ہے۔ انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ بھئی یہ ہے مادۂ قضیہ۔ اور جب اس کو لفظوں میں ذکر کریں گے قضیہ ملفوظہ میں یا قضیہ معقولہ کے اندر اس کو ملحوظ رکھیں گے تو یہ ہے جہتِ قضیہ بھئی۔ تو مثلاً یہاں کیا کہیں گے؟ "الإنسان حيوان بالضرورة"۔ تو یہ "بالضرورة" کیا ہے؟ جہتِ قضیہ ہے، کیا ہے؟ وہ لفظ جو اس کیفیت پر دلالت کرتا ہے، اس لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ جہتِ قضیہ، جہتِ قضیہ۔ جو لفظ اس کیفیت پر دلالت کرتا ہے۔ تو یہ ہے جہتِ قضیہ۔
اور جس قضیے میں یہ جہت مذکور ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجہہ۔ اور اسی طرح قضیہ رباعیہ بھی کہتے ہیں، رباعیہ، کیونکہ اس کے چار اجزا ہوتے ہیں بھئی چار اجزا: ایک موضوع، ایک محمول، ایک رابطہ اور ایک جہت بھئی، چار اجزا ہو گئے۔ چار اجزا، تو یہ قضیہ موجہہ ہے۔ تو یہ جہت اگر قضیے کے اندر ذکر ہے تو یہ قضیہ موجہہ، اور اگر ذکر نہیں تو یہ قضیہ مطلقہ ہے۔ نفس الأمر میں تو یہ کیفیت ہے ہی، لیکن قضیے میں آپ کبھی ذکر کرتے ہیں اور کبھی ذکر نہیں کرتے۔ اگر ذکر نہ کریں تو یہ قضیہ مطلقہ، اور اگر ذکر کریں تو یہ قضیہ موجہہ۔ "الإنسان حيوان" یہ ہے قضیہ مطلقہ۔ "الإنسان حيوان بالضرورة" یہ ہے قضیہ موجہہ ہے بھئی، قضیہ موجہہ۔
اور بتلایا تھا کیفیتیں، پانچ کیفیتیں بیان ہوئی تھیں بھئی پانچ کہ نفس الأمر میں اور واقع کے اندر محمول کا جو ثبوت ہے کس کے لیے؟ موضوع کے لیے، یا تو یہ واجب ہوگا یا ممتنع ہوگا یعنی ممکن ہی نہیں ہوگا، یا ممکن ہوگا۔ ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو بھئی، ممکن ہوگا واجب نہیں ہوگا۔ اور پھر کبھی دوام کے طریقے پر ہوگا یعنی ہر زمانے میں، اور کبھی تین زمانوں میں سے کسی صرف ایک زمانے کے اندر ہوگا۔ ایک زمانے کے اندر۔ تو اگر یہ ہمیشہ کے طور پر محمول کا موضوع کے لیے ثبوت ہے تو اس کو بالدوام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور اگر تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے اندر ہے محمول کا ثبوت موضوع کے لیے، تو اس کو بالفعل سے تعبیر کرتے ہیں۔ بالفعل کا کیا معنیٰ؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے اندر۔ اور اگر محمول کا ثبوت موضوع کے لیے نفس الأمر میں واجب ہے، ضروری ہے، اس سے جدا ہونا اس کا محال ہے، تو اس کو کس سے تعبیر کریں گے؟ بالضرورة سے۔ اور اگر ممکن ہے، واجب نہیں ہے بلکہ محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ممکن ہے، ہو سکتا ہے ثبوت ہو، ہو سکتا ہے ثبوت نہ ہو، تو اس کو کس کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں؟ بالامکان کے ساتھ۔ اور ایک پانچویں جہت تھی امتناع والی، لیکن وہ محض ایک عقلی احتمال ہے چونکہ اس میں امتناع کا حکم ہے لہٰذا اس سے بحث نہیں کی جاتی بھئی۔ چار قسموں سے بحث کی جاتی ہے، چار قسم کی جہات سے: ایک بالضرورة، ایک بالامکان، ایک بالفعل اور ایک بالدوام بھئی۔ یہ چار۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر آپ نے یہ بھی مصنف نے آپ کو بتلایا کہ موجهات جو ہیں وہ 15 ہیں بھئی 15۔ موجهات تو ویسے بہت سے ہیں، لیکن بحث جن سے کی جاتی ہے وہ ہیں 15۔ 15 میں سے 8 جو ہیں وہ بسیطہ ہیں اور 7 مرکبہ ہیں۔ بس بسائط وہ ہیں جن میں صرف ثبوت ہو یا صرف سلب ہو، موضوع کا محمول کے لیے ثبوت ہو محمول کا، محمول کا موضوع کے لیے ثبوت ہو یا محمول کی موضوع سے سلب ہو، نفی ہو، تو یہ ہے بسیطہ۔ اور اگر دونوں ہیں ایک ہی قضیے کے اندر، ایجاب بھی ہے اور سلب بھی ہے، تو یہ ہے قضیہ مرکبہ، اس کی بحث آگے آ جائے گی بھئی، جہاں آپ دیکھیں گے کہ ایجاب بھی ہے اور ساتھ ساتھ سلب بھی ہے بھئی۔
تو سب سے پہلے اب بسائط ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں "فإحداها" "أحدها" ہے آپ کی کتابوں میں بھئی، "أحدها" نہیں ہونا چاہیے "فإحداها" بھئی "فإحداها"۔ دال کے بعد الف ہونا چاہیے بھئی۔ "فإحداها الضرورية المطلقة" پس ان میں سے ایک بھئی بسائط میں سے ایک جو ہے "الضرورية المطلقة" ضروریہ مطلقہ ہے۔ اور توجہ سے سننا بھئی دیکھئیے جو ساری چیزیں میں نے ذکر کر دیں وہ اب آئیں گی آگے: "وهي التي" اور یہ وہ قضیہ ہے "حكم فيها" کہ جس میں حکم لگایا جائے "بضرورة ثبوت المحمول للموضوع" ترجمہ آخر سے کروں گا "بضرورة ثبوت المحمول للموضوع" ترجمہ آخر سے، جس میں کیا حکم لگایا جائے؟ موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا "أو سلبه عنه" یا موضوع سے محمول کے ثبوت کے نہیں، موضوع کے لیے محمول کے سلب کے ضروری ہونے کا، ثبوت کی جگہ سلب لے آئیں نا وہی، ہاں سلب کے ضروری ہونے، موضوع کے لیے محمول کے سلب کے ضروری ہونے کے لیے "ما دامت ذات الموضوع موجودة" جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے۔ دیکھو دیکھو ذاتِ موضوع آ گئی بھئی۔ ذاتِ موضوع کسے کہتے ہیں؟ جس پر موضوع صادق آتا ہے، جو موضوع کا مصداق ہے۔ جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے، موجبہ دو صورتیں بنیں گی نا: ایک موجبہ اور ایک سالبہ۔ موجبہ کے اندر جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے، اس کے لیے اس محمول کا ثبوت ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ موجبہ میں ایجاب ہوگا، جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے اس کے لیے اس محمول کا ثابت ہونا ضروری ہے بھئی۔ جیسے "الإنسان حيوان بالضرورة"۔ جب تک انسان کی ذات یعنی انسان کے افراد موجود ہیں، ایک بھی فرد جب تک موجود ہے، یہ جو محمول ہے یعنی حیوان، اس کا ثبوت اس ذاتِ موضوع کے لیے ضروری ہے۔ اس محمول کا ثبوت ذاتِ موضوع کے لیے ضروری ہے بھئی ضروری ہے۔ ضروری ہونے کا کیا معنیٰ؟ واجب ہے، محال ہے کہ اس سے جدا ہو جائے، اس کا ثبوت ضروری ہے بھئی، جدا ہونا محال ہے بھئی۔ جب تک انسان کا ایک ذات یعنی ایک بھی فرد موجود ہے اس پر حیوان ہونے کا حکم لگتا رہے گا بھئی، وہ حیوان ہے، اس سے حیوان ہونے کا حکم الگ نہیں ہو سکتا بھئی۔ "كقولك" جیسے کہ آپ کا قول "الإنسان حيوان بالضرورة" انسان جو ہے حیوان ہے بالضرورة۔
یاد رکھیے! بالضرورة کا لفظ جب کتابوں میں آئے تو اس کا معنیٰ بدیہی اور بالبداہت اور بالیقین کے کرتے ہیں بھئی۔ کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ لفظ آیا بالضرورة کا، ترجمہ کیا کریں گے؟ بالبداہت اور بالیقین۔ بالبداہت، بدیہی تو جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر کی ضرورت نہ ہو، جو بغیر غور و فکر کے ہی سمجھ میں آ جائے، جس میں غور و فکر کی ضرورت نہ ہو۔ آپ بھی استعمال کرتے ہیں بھئی ایک آگے تقاریر میں بھی استعمال ہوتا ہے، آپ کہتے ہیں بھئی یہ بات تو بدیہی ہے۔ کیا معنیٰ ہوتا ہے اس کا؟ یعنی یہ بات تو بالکل ظاہر سی بات ہے، غور و فکر کی ضرورت ہی نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ استعمال ہوتا ہے اس طرح کہہ دیتے ہیں یہ بات بدیہی ہے یا کہہ دیتے ہیں یہ بات یقینی ہے یعنی اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے۔
تو دیکھیے "الإنسان حيوان بالضرورة" ان سب ترجمہ کریں بھئی
2
یہ تو تھا ایجاب میں۔ سلب والا، باگیم مثال سلب کی ذکر کر رہے ہیں۔ والانسان ليس بحجر بالضرورة اور انسان حجر نہیں ہے بالضرورة بدیہی طور پر۔ یہ بات بدیہی ہے بھئی کہ انسان حجر نہیں ہے بھئی۔ انسان پتھر نہیں ہے بھئی۔ یہ بدیہی بات ہے، کوئی غور کرنے کی ضرورت ہے اس میں؟ یا دوسرا ترجمہ کر لیں انسان پتھر نہیں ہے یقینی طور پر۔ یہ بات یقینی ہے اس میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں ہے کہ انسان پتھر نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟
والثانية الدائمة المطلقة اور دوسرا کونسا ہے وسائط میں سے؟ دائمہ مطلقہ۔ اچھا ہاں، بھئی ضروریہ مطلقہ اس کو کیوں کہتے ہیں پہلے کی وجہ تسمیہ؟ اس کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ وجہ جو ذکر کی جائے نام رکھنے کی اس کو وجہ تسمیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وجہ تسمیہ۔ اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ اس کو ضروریہ مطلقہ کیوں کہتے ہیں؟ بھئی یہ ظاہر سی بات ہے۔ ضروریہ تو اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ضرورت کی قید موجود ہے۔ کونسی قید موجود ہے؟ دیکھو دونوں میں بالضرورة کی قید موجود ہے۔ اس وجہ سے اس کو ضروریہ کہتے ہیں۔ اور مطلقہ؟ مطلق اس کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی قید نہ ہو۔ مطلق کسے کہتے ہیں؟ بھئی یہ لفظ آئے گا جگہ، ابھی سے اچھی طرح سمجھ لیں۔ ایک لفظ ہوتا ہے مطلق، ایک ہوتا ہے مقید۔ مقید نام سے ہی پتہ چل گیا جس میں کوئی قید ہو، اور مطلق جس میں کوئی قید نہ ہو۔ تو ضروریہ تو اس لیے اس کو کہتے ہیں اس میں ضرورت کی قید ہے، اور مطلقہ اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں کسی وقت یا وصف کی قید نہیں ہے۔ ایک اور قید آئے گی آگے بھئی اور قضیوں میں۔ بعضوں میں کس کی قید آئے گی؟ وقت کی۔ بعضوں میں کسی وصف کی قید آئے گی بھئی۔ تو اس کے اندر نہ وقت کی قید ہے کہ فلاں وقت انسان حیوان ہے یا فلاں وقت انسان پتھر نہیں ہے، کوئی قید ہے؟ نہیں، وقت... کسی وصف کی بھی قید نہیں ہے بھئی۔ تو مطلقہ اس کو کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے اندر کسی وقت اور وصف کی قید نہیں ہے۔ ضروریہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں ضرورت کی قید ہے۔ ضرورت اس کے اندر ذکر ہوتی ہے، اور مطلقہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں کسی وصف اور وقت کی قید نہیں ہے بھئی۔
جی، اب دوسرا دیکھیے۔ والثانية الدائمة المطلقة دوسرا جو ہے وہ دائمہ مطلقہ ہے۔ وهي التي حكم فيها اور یہ وہ قضیہ ہے کہ جس میں حکم لگایا جائے دوام ثبوت المحمول للموضوع دیکھو اب ضرورت کی جگہ کیا لفظ آگیا؟ دوام آگیا۔ ترجمہ اسی طرح آخر سے بھئی، جس میں کیا حکم لگایا جائے؟ موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے دوام... دوام بھئی۔ دوام۔ سنیں ذرا! موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے دوام کا، جس میں کیا حکم لگایا جائے؟ موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے دوام کا حکم لگایا جائے او سلبه عنه یا سلب جاتا ہے نہ اس کا عطف یہ ثبوت پر ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بدوام سلبه عنه، یوں عبارت بن گئی۔ بدوام سلبه عنه، اور سلبه، ثبوت کے بعد کیا لفظ تھا؟ محمول کا، تو سلبه کی ه ضمیر کس کو راجع؟ محمول کو، اور عنه کی ه ضمیر؟ موضوع کو۔ کیا معنی؟ کیسے عبارت بن گئی؟ بدوام سلب المحمول عن الموضوع، موضوع سے محمول کے سلب کے دوام کا حکم، کہ دائماً ایجاب کے اندر، ایجاب میں پہلے، دائماً یعنی ہمیشہ، یہ محمول موضوع کے لیے ثابت ہے۔ دائماً، یہ محمول موضوع کے لیے ثابت ہے، یا یہ ہے ایجاب میں، نفی کے اندر، یہ محمول کہ اس کی اس موضوع سے دائماً نفی ہے۔ اس محمول کی اس موضوع سے دائماً نفی ہے، آسان سی بات ہے۔
پہلے میں کیا تھا؟ ضرورت کی قید تھی۔ اس محمول کا ثبوت اس موضوع کے لیے ضروری ہے، اور اب... اور اب دوام... اب دوام کا... اس محمول کا اس موضوع کے لیے دوام ضروری ہے۔ اور سلب... سلب کی صورت میں پہلے میں کیا تھا؟ اس محمول کا اس موضوع سے سلب ضروری ہے، اور دوسرے میں کیا آیا؟ اس محمول کا اس موضوع سے سلب دائمی ہے۔ سلب کیا ہے؟ دائمی ہے بھئی۔ كقولك جیسے کہ آپ کا قول: كل فلک متحرک بالدوام بھئی منطقہ کا کیا نظریہ، قدیم منطقہ کا؟ کہ آسمان، یہ سورج، چاند، ستارے وغیرہ، یہ مختلف آسمانوں میں لگے ہوئے ہیں بھئی۔ جس طرح چھت میں یہ پنکھا لگا ہوا ہے بھئی آپ کے سامنے، یا چھت میں کوئی کیل لگا دیا جائے۔ اب جب چھت حرکت کرے گی، لازمی بات ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ کیل بھی حرکت کرے گا یا یہ پنکھا بھی۔ تو اسی طرح یہ سورج، چاند وغیرہ یہ مختلف آسمانوں میں لگے ہوئے ہیں اور آسمان یہ جو حرکت کرتے ہیں، دراصل یہ خود نہیں حرکت کر رہے، وہ آسمان گھوم رہا ہے اپنی جگہ پر، تو یہ بھی ہمیں یوں لگتا ہے یہ گھوم رہے ہیں اپنی جگہ پر بھئی۔ یہ قدیم منطقہ کا نظریہ تھا بھئی۔ تو چنانچہ وہ کہتے ہیں: كل فلک متحرک بالدوام ہر آسمان متحرک ہے بالدوام، دائمی طور پر، دائمی طور پر۔ ہمیشہ، ہر آسمان ہمیشہ سے متحرک ہے۔
یہ کس میں تھا؟ دوام میں۔ موضوع کیا ہے؟ كل فلک محمول کیا ہے؟ متحرک جہت کیا ہے؟ بالدوام تو کیا حکم لگایا گیا؟ یہ جو کل... ہر فلک جو ہے، ہر فلک، اس کے لیے متحرک ہونا... متحرک ہونے کا ثبوت ہے کس طریقے پر؟ دائمی طور پر۔ اس موضوع کے لیے اس محمول کا ثبوت ہے دائمی طور پر۔ ولا شيء من الفلک بساکن بالدوام ولا شيء من الفلک اور کوئی بھی چیز فلک میں سے، یعنی کوئی بھی آسمان، وہ ساکن نہیں ہے بالدوام کس طریقے پر؟ دوام کے طریقے پر۔ کوئی بھی آسمان ساکن نہیں ہے، تو آسمان سے کس چیز کی نفی کی؟ سکون کی، ساکن نہیں ہے بلکہ وہ تو متحرک ہے۔ تو نفی کس چیز کی کی؟ سکون کی۔ اور یہ سکون کی نفی تین زمانوں میں سے ایک زمانے میں کی ہے یا ہمیشہ کے لیے کی ہے؟ ہمیشہ کے لیے، تو یہ آسمانوں سے سکون کی نفی کی، سلب کیا، اور کس طریقے پر کیا؟ دوام کے، دائمی طور پر، ہر زمانے کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تھا سالبہ کے اندر بھئی۔
اچھا بھئی، بالضرورة اور بالدوام میں فرق سمجھ لیں۔ بالضرورة میں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے یا محمول کی نفی موضوع سے سالبہ کے اندر... موجبہ میں کیا ہوگا؟ محمول کا ثبوت ہوگا موضوع کے لیے، اور سالبہ میں محمول کی نفی ہوگی موضوع سے۔ تو یہ جو محمول کا ثبوت ہے موضوع کے لیے، یا محمول کی نفی ہے موضوع سے، یہ ضروری ہوگی، یعنی جدا ہونا کیا ہوگا؟ محال ہوگا۔ کیا ہوگا؟ محال ہوگا۔ مثلاً آپ نے کہا: الإنسان حیوان بالضرورة کیا معنی؟ انسان حیوان ہے یقینی طور پر، بدیہی طور پر۔ یعنی انسان سے حیوان ہونا یہ کبھی جدا نہیں ہو سکتا، ہمیشہ انسان کے لیے کس چیز کا ثبوت ہوگا؟ حیوان ہونے کا۔ تو وہاں محمول کا موضوع کے لیے ثبوت ضروری ہوتا ہے، اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں ہے اس سے جدا ہونا۔ جبکہ دوام کے اندر جدا ہونا ممکن تو ہوتا ہے۔ آسمانوں سے حرکت جدا ہونا ممکن تو ہے، لیکن ہوئی نہیں کبھی۔ انسان سے تو حیوان کبھی جدا ہو ہی نہیں سکتا، انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، لیکن بالدوام میں جدا ہونا ممکن ہوتا ہے۔ اس میں ضروریہ میں جدا ہونا ممکن ہی نہیں، اور دائمہ کے اندر جدا ہونا ممکن ہوتا ہے، لیکن جدا ہوتا نہیں ہے۔ فرق سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو انسان... پہلے میں، انسان کے لیے حیوان کا ثبوت تھا، اور یہ حیوان ہونا انسان سے کبھی بھی جدا نہیں... یہ دوسرے کے اندر بھئی، ہر آسمان کے لیے کیا؟ حرکت ثابت ہے۔ اور ہمیشہ ثابت ہے، لیکن جدا ہونا ممکن ہے، جدا ہونا ممکن ہے، ہو جائے جدا۔ اس سے ان کی ذات پہ کوئی اثر نہیں پڑتا، ان کی ذات اپنی ہے، حرکت الگ چیز ہے۔ لیکن انسان سے تو حیوان کی نفی کر دی جائے تو انسان انسان ہی نہیں رہتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ آسمانوں سے حرکت کو... کا جدا ہونا ممکن ہے، لیکن بالضرورة کی قید کے اندر بتلا دیا جاتا ہے کہ اس کا جدا ہونا ممکن نہیں ہے۔ فرق سمجھ میں آگیا؟
والثالث... اچھا، اس کی وجہ بھئی، دائمہ مطلقہ کی وجہ سمجھ لیں۔ بھئی دائمہ تو اس لیے کہتے ہیں، ظاہر سی بات ہے، کہ اس کے اندر کونسی قید ذکر ہے؟ بالدوام کی قید ذکر ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دائمہ۔ اور مطلقہ؟ وہی وجہ جو پہلے ذکر ہوئی۔ کہ اس میں کسی وصف یا وقت کی قید نہیں ہے۔ پہلے کو بھی مطلقہ کیوں کہتے تھے؟ کیونکہ اس میں اس میں کسی وصف اور وقت کی قید نہیں تھی۔ اس میں بھی کسی وصف اور وقت کی قید نہیں ہے بھئی، اس لیے اس کو مطلقہ کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ دائمہ مطلقہ تھا۔
والثالثة المشروطة العامة اور تیسرا مشروطہ عامہ ہے بھئی۔ وهي التي حكم فيها اور یہ وہ قضیہ ہے جس کے اندر حکم لگایا جائے بضرورة ثبوت المحمول للموضوع کیا حکم لگایا جائے؟ موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا أو نفيه عنه یا موضوع سے محمول کے کی نفی کے ضروری ہونے کا۔ یہ بعینہ وہی پہلے قضیے کی تعریف ہوگئی، پہلے کی بھی یہی تعریف تھی۔ لیکن اس میں اب آگے قید آرہی ہے، کہ یہ وہ قضیہ ہے جس میں حکم لگایا جائے موضوع سے... موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا، یا موضوع سے محمول کے کی نفی کے ضروری ہونے کا ما دامت ذات الموضوع موصوفاً بالوصف العنواني جب تک ذاتِ موضوع موصوف ہے وصفِ عنوانی کے ساتھ، یہ قید ہوگی اس میں۔ جب تک ذاتِ موضوع موصوف ہے کس کے ساتھ؟ وصفِ عنوانی کے ساتھ۔ بھئی توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہاں پر بھی دیکھو، یہ ہے ایک موضوع، یہ ہے محمول۔ محمول کا ثبوت موضوع کے لیے، یا محمول کی نفی موضوع سے، یہ ضروری ہوگی، لیکن کب تک؟ اس میں شرط قید ہوگی، شرط۔ جب تک موضوع موصوف ہو رہا ہے وصفِ عنوانی کے ساتھ، یعنی جب تک اس میں یہ وصفِ عنوانی والی صفت ہے، تب تک یہ محمول اس کے لیے ثابت ہے، یا تب تک اس محمول کی اس سے نفی ہے۔
دیکھیے مثال سے بات واضح ہوگی۔ جیسے آپ کہتے ہیں: كل کاتب متحرک الأصابع كل کاتب متحرک الأصابع ہر لکھنے والا متحرک الأصابع ہے۔ اصابع کن کو کہتے ہیں؟ انگلیوں کو، انگلیوں کو بھئی۔ تو ہر لکھنے والا متحرک الأصابع ہے، یعنی اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں بھئی۔ جو بھی لکھنے والا ہے اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ بھئی آپ بھی لکھیں، تو آپ کی انگلیاں ہر قلم کو آپ نے پکڑا ہوا ہے اور لکھ رہے ہیں تو انگلیاں حرکت میں ہوں گی یا نہیں لکھتے وقت؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے آپ کی انگلی حرکت میں... انگلیاں حرکت میں نہ ہوں اور آپ لکھیں؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک دوسرے کے اعتبار سے اگر نہیں بھی حرکت کر رہیں بھئی، ویسے جب لکھ رہے ہیں تو پورا ہاتھ حرکت کر رہا ہے یا نہیں؟ جب پورا ہاتھ حرکت کر رہا ہے تو انگلی بھی لازمی بات ہے اس کے ساتھ حرکت کر رہی ہے، چاہے ایک دوسرے کے اعتبار سے آپ نے ان کو مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ دبایا ہوا ہے کہ حرکت کوئی نہ کرے۔ لیکن بہرحال وہ حرکت تو کر رہی ہے، جب بھی آپ ایک لفظ بھی لکھیں گے وہ فضا کے اندر انگلیاں چلتی جائیں گی ایک طرف کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا جب بھی آپ لکھیں گے آپ کی انگلیاں ضرور حرکت کریں گی۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا آپ لکھ رہے ہوں اور آپ کی انگلیاں ساکن ہوں، حرکت میں نہ ہوں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
اچھا، تو دیکھیے یہ کہہ رہے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ كل کاتب متحرک الأصابع ہر کاتب، وہ کیا ہے؟ اس کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہیں۔ اچھا، اب آپ بتائیے، وصفِ عنوانی کیا ہے؟ کاتب، لازمی بات ہے، جس سے ذاتِ موضوع کو تعبیر کر رہے ہیں، کس لفظ سے تعبیر کر رہے ہیں؟ کاتب کے لفظ سے، تو کاتب ہوا وصفِ عنوانی۔ اور اس کاتب کے لیے آپ نے کیا ثابت کیا؟ متحرک الأصابع، اور یہ محمول، موضوع کے لیے ثابت ہے، کاتب کے لیے متحرک الأصابع ہونا ثابت ہے، کب تک؟ جب تک وہ لکھے گا، تب تک اس کی انگلیاں حرکت میں رہیں گی، جب لکھنا چھوڑ دے گا حرکت ختم، رک جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھو: ما دام کاتباً، جب تک وہ کاتب ہے۔
اب آپ بتائیے، کیا کاتب کے سے متحرک الأصابع ہونا کاتب کے لیے، کاتب کے لیے متحرک الأصابع ہونا ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ ضروری ہے۔ جو بھی کاتب ہوگا وہ لازمی بات ہے کیا ہوگا؟ متحرک الأصابع ہوگا، تو کاتب کے لیے متحرک الأصابع ہونا ضروری ہے، یہ اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتا، محال ہے بھئی یہ اس سے جدا ہو جائے۔ تو کاتب کے لیے کیا ہونا ضروری؟ متحرک الأصابع ہونا، لیکن یہ متحرک الأصابع ہونا کب تک ہے اس کے لیے؟ جب تک وہ کاتب ہے، یہ جب تک یہ وصفِ عنوانی اس کے لیے ثابت ہے، جب تک اس ذاتِ موضوع کے لیے یہ وصفِ عنوانی... جب تک یہ کاتب ہونا، یہ کتابت اس کے لیے ثابت ہے، اس وقت تک انگلیاں بھی حرکت میں ہیں۔ اور جب یہ کاتب ہونا ختم ہوگا، وہ لکھے گا نہیں، لکھنا چھوڑ دے گا، تو پھر اس کے بعد یہ... یہ محمول کا ثبوت بھی اس کے لیے پھر ختم ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یعنی جب تک وہ کاتب ہے، اس وقت تک یہ انگلیوں کی حرکت اس سے جدا نہیں ہو سکتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
3
یہ معنی ہے، کہتے ہیں: دوبارہ دیکھیے المشروطة العامة مشروطة عامة وهي التي قضية حکم فيها جس میں حکم لگایا جائے بضرورة ثبوت المحمول للموضوع موضوع کے لیے محمول کے ثبوت کے ضروری ہونے کا أو نفيه عنه یا اس سے نفی کا ما دامت ذات الموضوع موصوفاً بالوصف العنواني جب تک ذاتِ موضوع موصوف ہے بالوصف العنواني۔ جب تک ذاتِ موضوع جو ہے وہ موصوف ہے کس کے ساتھ؟ وصفِ عنوانی، یعنی جب تک اس کے لیے یہ وصفِ عنوانی ثابت ہے اس وقت تک اس کے لیے یہ محمول بھی ثابت ہے۔
والوصف العنواني عندهم اور وصفِ عنوانی مناطقہ کے نزدیک ما وہ چیز ہے وہ لفظ ہے عبر به عن الموضوع کہ تعبیر کیا جائے اس کے ذریعے موضوع کو۔ وہ لفظ جس کے ذریعے موضوع کو تعبیر کیا جائے وہ کیا ہے؟ وصفِ عنوانی۔ كقولنا جیسے کہ ہمارا کہنا كل كاتب متحرك الأصابع کہ ہر کاتب جو ہے وہ اس کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہیں بالضرورة یقینی طور پر بديہی طور پر ما دام كاتباً جب تک وہ کاتب ہے۔
اب یہ تھا ایجاب کے اندر، اب سالبہ میں دیکھیے۔ ولا شيء من الكاتب بساكن الأصابع بالضرورة ما دام كاتباً ولا شيء من الكاتب بساكن الأصابع کوئی بھی کاتب وہ ساکن الأصابع نہیں ہے۔ اس کی انگلیاں ساکن نہیں ہیں بالضرورة یقینی طور پر بديہی طور پر ما دام كاتباً جب تک وہ کاتب۔ جب تک وہ کاتب ہے اس کی انگلیاں ساکن نہیں ہیں بلکہ اس کی انگلیاں حرکت میں ہیں بھئی۔ یہ سالبہ کی مثال آگے بھئی، سالبہ کی۔
اچھا بھئی، اس کو مشروطہ عامہ کیوں کہتے ہیں؟ بھئی مشروطہ تو نام سے ہی پتہ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہاں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے یا محمول کی نفی موضوع سے وہ شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ۔ کیا؟ وہ آگے شرط ذکر ہوتی ہے ساتھ ما دام كاتباً جیسے تھا، جب تک وہ کاتب ہے، یہ شرط ساتھ ذکر تھی بھئی۔ تو اس میں چونکہ وہ شرط ذکر ہوتی ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشروطہ۔ اور عامہ، عامہ اس کو کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی وجہ اس کی یہ کہ آگے ایک آئے گا مشروطہ خاصہ۔
ایک کیا آئے گا؟ مشروطہ خاصہ۔ یہ چونکہ اس سے عام ہے، وہ خاص ہے اور یہ عام ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشروطہ عامہ کہتے ہیں بھئی، مشروطہ عامہ کہتے ہیں۔ وجہ تسمیہ پتہ چل گئی بھئی؟
تو ضروری، خلاصہٴ کلام کیا ہوا؟ ضروریہ مطلقہ کے اندر محمول کا ثبوت موضوع کے لیے یا محمول کی نفی موضوع سے، وہ کیا ہوگی؟ ضروری ہوگی بھئی۔ اور دائمہ مطلقہ کے اندر محمول کا ثبوت موضوع کے لیے یا محمول کی نفی موضوع سے، یہ کیا ہوگی؟ دائمی ہوگی بھئی، ضروری نہیں بلکہ دائمی ہوگی۔ اور مشروطہ عامہ کے اندر محمول کا ثبوت کس کے لیے؟ موضوع کے لیے یا محمول کی نفی موضوع سے، یہ مشروط ہوگی، شرط کے ساتھ مقید ہوگی بھئی۔
اور ضرورت کی قید اس میں ہوگی بھئی، یعنی یوں کہو دوسرے لفظوں میں: محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہوگا جب تک وہ شرط موجود ہے۔ اور محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہوگی جب تک وہ شرط موجود ہے بھئی، شرط موجود ہے۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ اچھی طرح سبق سمجھ میں آگیا؟ کوئی ایسی بات جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟
سر، یہ ما دام میں جو یہ ما موصولہ ہے یا ما مصدرية؟
یہ ما مصدرية ظرفية ہے بھئی۔ اس میں وقت کے معنی ہیں۔
سر، یہ ما دام جو ہے جی۔ کاتباً اس سے حال بنے گا؟
نہیں۔ یہ اس میں سے نہیں ہے، افعالِ ناقصہ میں سے اسی طرح استعمال ہوتا ہے ما دام۔ ٹھیک ہے؟ اس کے اندر ہوا ضمیر اس کا اسم ہوگا اور کاتباً اس کی خبر ہو جائے گی۔