Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 54 1 وَقَدْ يُذْكَرُ الْجِهَةُ فِي الْقَضِيَّةِ فَيُسَمَّى مُوَجَّهَةً وَرُبَاعِيَّةً أَيْضًا، وَالْمُوَجَّهَاتُ خَمْسَةَ عَشَرَ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهَا بَسِيطَةٌ وَسَبْعَةٌ مِنْهَا مُرَكَّبَةٌ. فَأَمَّا الْبَسَائِطُ فَإِحْدَاهَا الضَّرُورِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ وَهِيَ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِبِضَرُورَةِ ثُبُوتِ الْمَحْمُولِ لِلْمَوْضُوعِ أَوْ سَلْبِهِ عَنْهُ مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوعِ مَوْجُودَةً. آج ہم موجہات کی بحث شروع کریں گے۔ اور بڑی مشکل بحث ہے، توجہ سے سننا بھئی۔ یاد رکھیے کہ نفس الامر میں، یعنی واقع میں، کس میں؟ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔ نفس الامر میں، یعنی واقع میں ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے یہ کبھی وجوبی ہوگی، کبھی امتناعی ہوگی اور کبھی امکانی ہوگی۔ نفس الامر میں، واقع کے اندر، ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے۔ بھئی دیکھیے قضیے میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہوتا ہے یا نفی ہوتی ہے: "الانسان حیوان"، انسان کے لیے حیوان ہونے کا ثبوت ہے۔ "الانسان ليس بحجر"، انسان سے حجر کی نفی ہے۔ تو نفس الامر میں، یعنی واقع کے اندر ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے، یہ کبھی وجوبی ہوگی، کبھی امتناعی ہوگی اور کبھی امکانی ہوگی۔ کبھی امکانی ہوگی۔ وجوبی ہونے کا معنی یہ ہے کہ ایک شے کا دوسری شے کے لیے ہونا واجب ہے، ضروری ہے بھئی۔ ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت کیا ہو؟ واجب ہو، ضروری ہو۔ یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی ضروری ہو، واجب ہو بھئی۔ یہ ہے وجوبی بھئی۔ ایک شے کا سلب دوسری شے کے لیے... ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے کبھی وجوبی ہوگا اور یا کبھی ایک شے کا دوسری شے سے سلب کیا ہوگا؟ وجوبی ہوگا۔ جیسے آپ مثلاً کہتے ہیں: "الانسان حیوان"۔ "الانسان حیوان"۔ اب دیکھیے، انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ واجب ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا انسان ہو اور حیوان نہ ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یا جیسے آپ کہتے ہیں: "الانسان ليس بحجر"، تو انسان سے حجر کی نفی یہ ضروری ہے۔ وجوبی ہے۔ یعنی ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا کہ انسان ہو اور حجر ہو، انسان کیا ہو؟ حجر، بلکہ انسان سے حجر کی نفی ضروری ہے بھئی۔ کس میں؟ نفس الامر میں، واقع کے اندر۔ تو یہ تھے وجوبی۔ وجوبی کا کیا معنی؟ کہ ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی ضروری ہو، واجب ہو بھئی۔ واجب ہو۔ اور کبھی ایک شے کا ثبوت یا ایک شے کی نفی دوسری سے ممتنع ہوگی۔ ممتنع ہوگی۔ جیسے آپ مثلاً کہیں: "الكافر يدخل الجنة"۔ "الكافر يدخل الجنة"۔ اب دیکھیے، کافر کے لیے دخولِ جنت یہ ممتنع ہے، ممکن ہی نہیں ہے کہ کافر کہاں چلا جائے؟ جنت میں چلا جائے بھئی۔ نفس الامر میں اور واقع کے اعتبار سے۔ اور کبھی ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے یہ امکانی ہوگی، یعنی ممکن ہوگی۔ کیا ہوگی؟ ممکن ہوگی۔ یعنی اس کے لیے ثبوت بھی ممکن ہے، اس کے لیے نفی بھی ممکن ہے، واجب نہیں ہے، ضروری نہیں ہے۔ ثبوت بھی ہو سکتا ہے اور نفی بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے "المسلم العاصي لا يدخل النار"۔ "المسلم العاصي"، گناہ گار مسلمان جو ہے، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ آپ یہ جو حکم لگایا گیا گناہ گار مسلمان پر جہنم میں داخل نہ ہونے کا، یہ ممکن ہے۔ ضروری نہیں ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے جہنم میں جائے، ہو سکتا ہے نہ جائے بھئی، اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ تو یہ کیا ہے؟ امکانی، ضروری نہیں۔ پہلی میں کیا تھا؟ پہلی "الانسان حیوان"، انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، واجب ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی چیز انسان ہو اور حیوان نہ ہو، جو بھی انسان ہوگا وہ حیوان ضرور ہوگا۔ یا نفی کے اندر "الانسان ليس بحجر"، انسان حجر نہیں ہے۔ جو بھی انسان ہوگا اس سے حجر کی نفی ضرور ہوگی، یہ محال ہے، ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان ہو اور اسے حجر کی نفی نہ ہو، جو بھی انسان ہوگا لازمی بات ہے وہ پتھر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو نفس الامر میں، واقع کے اندر ایک شے کا ثبوت دوسری کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے، ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے، یہ ایجاب میں ہے اور ایک شے کی نفی دوسری شے سے، یہ کس میں ہے؟ سلب کے اندر ہے۔ تو لہٰذا، ایجاب و سلب دونوں صورتوں کے اندر، یعنی ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے نفس الامر میں، واقع میں کبھی وجوبی ہوگی، کبھی امتناعی ہوگی اور کبھی امکانی ہوگی بھئی، امکانی، یعنی ممکن ہوگا۔ ثبوت بھی ممکن ہوگا اور نفی بھی ممکن ہوگی۔ اسی طرح کبھی ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے دائماً ہوگا، یعنی ہمیشہ ہوگا، اور کبھی تین زمانوں میں سے ایک زمانے کے اندر ہوگا۔ ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے دائماً نہیں، بلکہ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ثبوت ہوگا یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوگی۔ کسی زمانے میں۔ تو یاد رکھیے، مثلاً اس کی مثال تو دیکھ لیں پہلے، مثلاً بھئی مناطقہ کا، قدیم مناطقہ کا عقیدہ بھئی، وہ کہتے تھے کہ یہ آسمان جو ہیں وہ ہر وقت حرکت میں ہیں۔ نو آسمان وہ مانتے، کہتے آسمان نو ہیں۔ ہمارے نزدیک تو کیا ہے؟ آسمان سات ہیں، وہ کہتے ہیں آسمان نو ہیں۔ اور آسمان یہ جو سورج، چاند، ستارے وغیرہ ہیں، یہ آسمانوں کے اندر جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے چھت میں یہ پنکھا جڑا ہوا ہے بھئی یا چھت میں بلب جڑا ہوا ہو۔ اب لازمی بات ہے جب چھت گھومے گی تو بلب بھی ساتھ ساتھ گھومے گا۔ تو یہ سورج اس لیے گھومتا ہے وہ آسمان گھوم رہا ہے، تو سورج بھی ہمیں گھومتا ہوا نظر آتا ہے، یہ دراصل سورج نہیں چل رہا بلکہ آسمان گھوم رہا ہے، جب آسمان گھوم رہا ہے تو ساتھ ساتھ سورج بھی اس کے میں جڑا ہوا ہے وہ گھومتا چلا جاتا ہے۔ ستارے آسمان کے اندر لگے ہوئے ہیں۔ اور آسمان گھومتا ہے تو یہ ستارے بھی ساتھ ساتھ ہمیں مشرق سے طلوع ہوتے اور مغرب میں غروب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ مناطقہ، قدیم مناطقہ کا عقیدہ تھا۔ تو ان کے نزدیک ہر آسمان جو ہے متحرک ہے، ہر آسمان متحرک ہے۔ ہمیشہ سے متحرک ہے، دائماً دائماً بھئی۔ اب مثلاً وہ ہم کہتے ہیں مناطقہ کے عقیدے کے مطابق کہا جائے: "كل فلك متحرک"، ہر آسمان متحرک ہے۔ اب یہ حرکت آسمان کے لیے دائماً ثابت ہے۔ دائماً ثابت ہے۔ اور کوئی بھی آسمان ساکن نہیں ہے، "لا شيء من الفلك بساكن"۔ کوئی بھی آسمان ساکن نہیں ہے، دیکھو پہلے میں حرکت کا ثبوت تھا، دوسرے میں سکون کی نفی ہے۔ تو حرکت کا ثبوت بھی دوام کے طریقے پر، کیونکہ وہ کیا کہتے ہیں؟ ہر وقت حرکت میں ہیں، اور سکون کی نفی بھی دائماً ہے، یعنی وہ کہتے ہیں کسی بھی وقت ساکن نہیں ہوتا، ہر وقت کیا کرتا رہتا ہے؟ حرکت کرتا رہتا ہے۔ تو یہ دیکھیے، ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے دوام کے طریقے پر ہے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے دوام کے طریقے پر ہے۔ نفس الامر میں، واقع کے اندر ان کے نزدیک۔ اور کبھی ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے یہ تین زمانوں کے اندر ہوگی بھئی۔ مثلاً آپ قلم اٹھاتے ہیں اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں، تو آپ کیا بن گئے؟ کاتب۔ جب لکھ رہے ہیں تو کیا ہیں؟ کاتب ہیں۔ لیکن کیا آپ ہر وقت لکھتے رہتے ہیں یا کسی وقت لکھتے ہیں کسی وقت نہیں لکھتے؟ کسی وقت لکھتے ہیں کسی وقت نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ آپ کے لیے لکھنا ثابت ہے، تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوگا، یا ماضی میں یا حال میں یا استقبال میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مثلاً آپ کہتے ہیں: "الانسان كاتب"، انسان کیا ہے؟ کاتب۔ اچھا کیا انسان کے لیے کاتب ہونا دائماً ہے یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہے؟ کاتب بالفعل، یعنی بالفعل لکھ رہا ہو، صلاحیت ایک تو کتابت کی صلاحیت ہے اس کے اندر، وہ تو ہر وقت ہے وہ الگ چیز ہے بھئی، بالفعل لکھنا باقاعدہ قلم سے لکھنا، یہ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا نفس الامر میں، واقع کے اندر ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے وہ یا تو وجوباً ہوگی یا امتناعاً ہوگی، امتناع کا کیا معنی؟ ممکن ہی نہ ہو، جو ممتنع ہو۔ تو ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے یا وجوباً ہوگی یا امتناعاً ہوگی یا امکانی طور پر ہوگی یا دائماً ہوگی یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوگی۔ کتنی صورتیں بن گئیں؟ پانچ صورتیں، پانچ صورتیں۔ ان پانچ میں سے جو ایک صورت ہے امتناعی، کہ ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے ممتنع ہو یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے ممتنع ہو، یہ محض ایک عقلی احتمال ہے، اس سے بحث نہیں کی جاتی، باقی چار صورتیں رہ گئیں۔ چار صورتیں رہ گئیں۔ اور ان میں سے وجوبی جو ہے اس کو "بالضرورة" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی واجب ہو، تو اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ "بالضرورة" سے، "بالضرورة" کا لفظ آئے تو سمجھ جائیں، ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ضروری ہے یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی ضروری ہے۔ اور جو جہاں امکانی تھا اس کو "بالامكان" سے تعبیر کرتے ہیں، "بالامكان" کا لفظ آئے تو آپ سمجھ جائیں، ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت نفس الامر میں اور واقع میں ممکن ہے یا ہاں ممکن ہے اور نفی بھی، اثبات بھی ممکن ہے اور نفی بھی ممکن ہے، تو اس کو "بالامكان" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی دوام کے طریقے پر ہو، اس کو "بالدوام" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور جہاں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے اندر ہو، اسے "بالفعل" کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں، کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ "بالفعل" کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ تو پہلے کو کس سے تعبیر کرتے ہیں جس میں واجب ہو؟ "بالضرورة" کے ساتھ، اور جہاں ممکن ہو اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ "بالامكان" کے ساتھ، اور جہاں پر ثبوت یا نفی دائمی ہو اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ "بالدوام" کے ساتھ، اور جہاں تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو اس کو "بالفعل" کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں بھئی۔ "بالفعل" کے ساتھ۔ تو نفس الامر میں، واقع کے اندر، واقع کے اندر ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے یا تو "بالضرورة" ہوگی یا "بالامكان" ہوگی یا "بالدوام" ہوگی یا "بالفعل" ہوگی۔ اور اس کو نفس الامر میں یہ جو ان چار طریقوں میں سے کسی ایک طریقے میں ہوگی، اس کو "مادۂ قضیہ" کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قضیہ۔ مادۂ قضیہ۔ یہ جو نفس الامر کے اعتبار سے ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی... بھئی یاد رکھیے یہ چار کیفیتوں کا نام ہے، ایک شے کا جب دوسری شے کے لیے آپ ثبوت ثابت کر رہے ہیں ایک شے کو دوسری شے کے لیے، یعنی یوں کہیں، ایک شے کا دوسری شے کے لیے جو ثبوت ہے یا ایک شے کی دوسری شے سے جو نفی ہے چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت سے ضرور متکیف ہوگی، چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت اس میں ضرور پائی جائے گی۔ کون سی چار کیفیتیں ہیں؟ وجوب کی کیفیت ہوگی یا امکان والی کیفیت ہوگی یا دوام والی یا بالفعل والی۔ تو نفس الامر میں، واقع کے اندر واقع کے اندر جو ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہوتا ہے یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی ہوتی ہے، یہ یہ جو ثبوت یا جو نفی ہے، یہ چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت کے ساتھ ضرور متصف ہوگی، ایک کیفیت اس میں پائی جائے گی۔ آپ لفظوں میں ذکر کریں یا نہ کریں اس کی بات نہیں کر رہا، نفس الامر میں ایسا ضرور ہوگا۔ آپ کوئی بھی جملہ کہیں مثلاً، مثلاً آپ کہتے ہیں: اور کیا کر لیں؟ مثلاً آپ کہتے ہیں: "پتھر بے جان ہے"۔ پتھر کیا ہے؟ بے جان ہے۔ بے جان ہے۔ آپ واقع کے اندر یہ بے جان ہونا جو پتھر کے لیے ثابت ہو رہا ہے، یہ چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت سے ضرور متصف ہوگا۔ یا تو یہ کیا ہوگا؟ ضروری ہوگا، یا امکانی ہوگا، یا "بالدوام" ہوگا، دائمی ہوگا، یا یا "بالفعل" ہوگا۔ آپ بتائیے، یہ پتھر کے لیے پر پتھر کے لیے بے جان ہونا یہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہے؟ جی؟ اچھا۔ یا امکان کے طریقے پر ہے؟ 2 تو نفس الامر میں واقع کے اندر جو ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہوتا ہے، یا ایک شے کی دوسری شے سے جو نفی ہوتی ہے، وہ اس میں چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت ضرور پائی جائے گی بھئی۔ اور وہ چار کیفیتیں کون سی؟ بالضرورت، اور بالامکان، یا بالدوام، یا بالفعل۔ یہ ہے نفس الامر میں۔ یہ تو نفس الامر میں تھا۔ پھر قضئے کے اندر بھئی۔ قضیہ، اب دیکھیے ایک قضیہ ملفوظہ ہے، ایک قضیہ معقولہ ہے۔ وہی بات جب ایک بات جملہ آپ کے ذہن میں آیا، ایک شے کے لیے دوسری شے کا آپ نے ثبوت کیا یا نفی کی۔ یہ کیا ہے؟ جب کہ عقل میں ہو۔ یہ قضیہ معقولہ ہے۔ اور اسی کو جب آپ لفظوں سے تعبیر کر دیں تو یہ کیا کہلائے گا؟ یہ قضیہ ملفوظہ ہے بھئی۔ تو یہ جو قضیہ معقولہ یا قضیہ ملفوظہ کے اندر اگر اس کیفیت کو یہ جو کیفیت ہے اس کو ذکر کر دیا جائے، یہ موجود ہو، تو اس کو جہت کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ بھئی دیکھیے، یہ جو ایک شے کا دوسری شے کے لیے، تو توجہ سے سنو بھئی توجہ سے، ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی نفس الامر میں ہو، ان چار کیفیتوں میں سے کسی کیفیت سے ضرور ہوگی۔ تو یہ ہے مادہ قضیہ۔ یہ کیا کہلاتا ہے؟ نفس الامر کے اعتبار سے۔ آپ ذکر کریں یا نہ کریں نفس الامر میں ان چار میں سے کوئی ایک کیفیت وہاں ضرور پائی جائے گی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ۔ اور اگر آپ اپنے قضیہ معقولہ یا قضیہ ملفوظہ کے اندر اس کیفیت کو بیان بھی کر دیں، کیا کر دیں؟ بیان بھی کر دیں، تو جن لفظوں سے اس کو بیان کیا ہے، یعنی بالضرورت کا لفظ لائے یا بالدوام کا لفظ لائے یا بالامکان کا لفظ لائے یا بالفعل کا، تو یہ جو لفظ ہیں یہ ہیں جہت قضیہ۔ یہ کیا ہیں؟ نفس الامر کے اعتبار سے کیا کہلائے گا یہ؟ مادہ قضیہ۔ اور قول معقول کے اندر یہ جہت ملحوظ ہو یا قول ملفوظ کے اندر یہ مذکور ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ جہت قضیہ۔ مثلاً بھئی میں کہتا ہوں، پہلے میں نے کیا کہا تھا؟ الانسان حیوان۔ نفس الامر میں تو حیوان کا جو ثبوت ہے انسان کے لیے، وہ کس طریقے پر ہے؟ چار کیفیتوں میں سے کون سی کیفیت ہے؟ ضروری ہے۔ لیکن میں نے لفظوں میں نہیں ذکر کیا۔ اب میں باقاعدہ کیا کرتا ہوں؟ لفظوں میں بھی ذکر کرتا ہوں۔ الانسان حیوان بالضرورت۔ میں نے وہ جو کیفیت تھی اس کو کس میں ذکر کر دیا؟ لفظوں میں بھی ذکر کر دیا۔ تو لفظوں میں کریں یا نہ کریں، چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت تو ضرور ہے۔ لیکن کبھی پھر اس کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ لفظوں میں ذکر کر دیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے، اگر تو لفظوں میں ذکر نہیں کیا تو اس کو قضیہ مطلقہ کہیں گے۔ میں نے کہا الانسان حیوان، جہت ذکر ہی نہیں کی۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ مطلقہ۔ یہ مطلق ہے قضیہ، اس میں جہت کی قید نہیں ہے۔ لیکن اگر لفظوں میں ذکر کرتا ہوں، قول معقول کے اندر چاہے اس کو ملحوظ رکھتا ہوں یا چاہے قول ملفوظ میں اس کو لفظوں میں ذکر کرتا ہوں، تو یہ جو لفظ اس کے لیے لے کر آیا میں، اس کو کیا کہیں گے؟ جہت کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ جہت کہیں گے۔ جیسے میں کہتا ہوں الانسان حیوان بالضرورت۔ انسان کیا ہے؟ حیوان ہے بالضرورت، یعنی انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ میں نے جہت ذکر کر دی۔ جہت ذکر کر دی۔ اور یہ جہت اگر نفس الامر کے مطابق ہوئی یعنی مادہ قضیہ کے مطابق ہوئی تو قضیہ صادقہ ہے، ورنہ قضیہ کاذبہ ہے۔ ایک تو نفس الامر میں ہے، واقع کے اندر کیفیت ہے۔ ایک یہ قضئے کے اندر کیفیت جو میں ذکر کر رہا ہوں۔ اگر یہ جہت قضیہ جو میں نے لفظوں میں ذکر کی، یہ کس کے مطابق ہوئی؟ واقع، یا یوں کہیں مادہ قضیہ کے مطابق ہوئی۔ وہ چار کیفیتوں میں سے ایک کیفیت۔ تو یہ اگر جہت قضیہ وہ مادہ قضیہ کے مطابق ہوئی تو قضیہ صادقہ ہے، ورنہ قضیہ کاذبہ ہے۔ یعنی یہ سچ ہے یا پھر جھوٹ ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مادہ قضیہ کیا؟ یعنی نفس الامر میں جو ایک شے کا ثبوت دوسری شے کے لیے یا ایک شے کی نفی دوسری شے سے جس کیفیت کے ساتھ ہے، وہ کیا ہے؟ مادہ قضیہ۔ اور جو لفظوں میں میں لے کر آیا، یہ کیا ہے؟ جہت قضیہ۔ تو جہت قضیہ اگر مادہ قضیہ کے مطابق ہوئی تو قضیہ کیا ہے؟ صادقہ ہے۔ اور اگر جہت قضیہ مادہ قضیہ کے مطابق نہ ہوئی تو یہ قضیہ کیا ہے؟ کاذبہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً زيد ماش، زید چلنے والا ہے پیدل پاؤں پر اپنے پاؤں پر چلتا ہے۔ اور آپ بتائیے، یہ زید کا اپنے پاؤں پر چلنا یہ کیا واجب ہے، وجوبی ہے؟ پھر کون سا ہے یہ؟ بالفعل ہے، کبھی وہ چلے گا کبھی نہیں چلے گا تین زمانوں میں سے ایک زمانے کے اندر۔ تو معلوم ہوا میں کہتا ہوں زید ماش، زید کیا ہے؟ چلنے والا ہے۔ اب یہ زید پر میں نے ماش کا حکم لگایا۔ اب یہ نفس الامر میں ایک کیفیت کے ساتھ یہ ثابت ہے۔ یہ ہے مادہ قضیہ۔ تو معلوم ہوا نفس الامر میں یہ کس کیفیت کے ساتھ ہے؟ بالفعل۔ اور میں قضئے میں لفظ کیا لاتا ہوں؟ زید ماش بالضرورت۔ جہت قضیہ کیا لایا؟ بالضرورت۔ اور نفس الامر میں کیا ہے؟ بالفعل۔ تو مادہ قضیہ ہوا بالفعل بھئی زید کے لیے مشی کا ثبوت ہے، اور جہت قضیہ میں لے کر آیا بالضرورت کو۔ یہاں جہت قضیہ مادہ قضیہ کے مطابق نہیں ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ کاذبہ کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہت قضیہ اور چیز ہے، مادہ قضیہ اور چیز ہے۔ مادہ قضیہ کس اعتبار سے ہے؟ نفس الامر اور واقع کے اعتبار سے، اور جہت؟ یہ جو قضئے کے اندر جو ذہن کے اندر یا لفظوں کے اندر جو ملحوظ ہے وہ ہے بھئی جہت قضیہ بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جہت اگر قضئے میں مذکور نہ ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ مطلقہ، شاباش۔ اگر یہ جہت لفظوں میں مذکور، قضئے میں مذکور نہ ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ مطلقہ کہیں گے۔ اور اگر لفظوں میں مذکور ہو یہ جہت، یا قضئے میں یہ ملحوظ ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ موجہہ۔ کیا کہیں گے؟ قضیہ موجہہ بھی کہتے ہیں اور نیز اس کو رباعیہ بھی کہتے ہیں، قضیہ رباعیہ۔ قضیہ موجہہ بھی کہتے ہیں۔ موجہہ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ معلوم ہوا اس قضئے کے اندر کیا مذکور ہے؟ جہت مذکور ہے۔ اور رباعیہ بھی کہتے ہیں۔ رباعیہ کیونکہ اس کے قضئے کے چار اجزاء ہو گئے۔ تین اجزاء آپ نے پہلے پڑھے تھے: موضوع، محمول اور رابطہ۔ موضوع، محمول اور رابطہ، اور اب چوتھی چیز جہت بھی آ گئی۔ تو چار اجزاء ہو گئے قضئے کے، لہٰذا یہ کیا کہلائے گا؟ قضیہ رباعیہ بھی کہلاتا ہے۔ قضیہ موجہہ بھی اور قضیہ رباعیہ بھی کہلاتا ہے۔ رباعیہ کیوں کہلاتا ہے؟ چار اجزاء ہو گئے، کون کون سے؟ اول: موضوع، دوسرا: محمول، تیسرا: رابطہ، چوتھا: جہت، شاباش بھئی، جہت۔ اب ایک اور چیز سمجھ لیجیے بھئی، وصف عنوانی۔ وصف عنوانی۔ بھئی دیکھیے، قضئے میں کتنی چیزیں آ گئیں قضیہ موجہہ میں؟ چار۔ اول کیا ہے؟ موضوع۔ یاد رکھیے، جس لفظ سے موضوع کو تعبیر کیا جاتا ہے، وہ ہے وصف عنوانی۔ جس لفظ کے ساتھ موضوع کو، بھئی دیکھیے قضئے میں جو حکم لگایا جاتا ہے یہ لفظوں پر حکم لگایا جاتا ہے یا اس چیز کی ذات پر حکم لگایا جاتا ہے؟ اس چیز کی ذات پر۔ میں نے کہا زید ماش، کیا معنی ہے؟ ہاں، یہ زید کی جو لفظ ہے، یہ لفظ چلنے والا ہے یا وہ زید کی ذات چلنے والی ہے؟ ہاں، تو یہ جو حکم لگایا جاتا ہے وہ ذات پر لگایا جاتا ہے۔ تو اسے ذات موضوع کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جس پر یہ موضوع صادق آئے، وہ جو اس کا مصداق ہو، وہ ہے ذات موضوع۔ مثلاً میں نے کہا الانسان حیوان، انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو میں نے حیوان ہونے کا حکم کس پر لگایا؟ یہ لفظ انسان پہ لگایا یا ذات انسان پہ لگایا؟ ذات انسان، اور ذات انسان کیا ہے؟ وہ جو خارج میں اس کے افراد ہیں: زید، عمرو، بکر وغیرہ، ان پر میں نے کیا کیا ہے؟ حکم لگایا۔ تو یہ جو موضوع جن پر صادق آتا ہے، وہ ہے ذات موضوع۔ وہ کیا ہے؟ ذات موضوع۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جن پر یہ لفظ موضوع، یہ موضوع کیا ہے؟ صادق آتا ہے۔ وہ جو اس کے مصداق ہیں، وہ کیا ہے؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذات موضوع کہتے ہیں بھئی، ذات موضوع۔ اور اس ذات موضوع کو یہ جس لفظ سے ہم نے تعبیر کیا، یہ ہے وصف عنوانی۔ ذات موضوع کو جن لفظوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، جن لفظوں سے ذکر کیا جاتا ہے، وہ ہے وصف عنوانی۔ یا میں نے وہ جو انسان کے افراد ہیں زید، عمرو، بکر وغیرہ، ان کو میں نے کس لفظ سے تعبیر کیا؟ انسان کے لفظ سے تعبیر کیا۔ تو یہ انسان کیا ہے ان کے لیے؟ وصف عنوانی ہے۔ کیا ہے؟ وصف عنوانی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ذات موضوع کسے کہتے ہیں؟ موضوع کا جو مصداق ہے، جن پر وہ موضوع صادق آتا ہے۔ جیسے میں بولتا ہوں لفظ کتاب، لفظ کتاب کہتے ہی آپ کے ذہن میں کیا چیز آئی؟ یہ جو آپ کے سامنے موجود ہیں بھئی، یہ۔ تو یہ کتاب آپ کے ذہن میں آئی۔ تو لفظ کتاب، یہ ہے وصف مثلاً میں کہتا ہوں: کتاب اچھی چیز ہے۔ اب دیکھیے، کتاب کیا ہے؟ یہ ہے موضوع۔ اور اچھی چیز، یہ کیا ہے؟ محمول۔ تو کتاب ہوا موضوع۔ اب اس کے لیے ذات موضوع کیا ہے؟ جن پر یہ لفظ صادق آتا ہے۔ یہ جو آپ کے سامنے کتابیں پڑی ہیں، ہر ایک پر یہ صادق آ رہا ہے۔ تو یہ کیا ہوئیں؟ ذات موضوع۔ اور یہ جو ذات ہیں، یہ جو آپ کے سامنے موجود ہیں، ان کو میں نے کس لفظ سے تعبیر کیا؟ کتاب کے لفظ سے، تو یہ کتاب ان کے لیے وصف عنوانی ہوا المعنى۔ ذات موضوع: جس پر وہ موضوع صادق آتا ہے، جو اس کا مصداق ہیں۔ اور وصف عنوانی: جس لفظ کے ذریعے موضوع کو کیا کیا جاتا ہے؟ تعبیر کیا جاتا ہے، وہ ہے وصف عنوانی بھئی۔ وہ وصف عنوانی ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ذات موضوع کسے کہتے ہیں؟ جو موضوع کا مصداق ہے، جن پر موضوع صادق، توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ ذات موضوع کسے کہتے ہیں؟ وہ جو موضوع کا مصداق ہے، جن پر موضوع صادق آ رہا ہے۔ میں نے کہا زید ماش، تو یہاں موضوع کیا؟ زید۔ تو ذات موضوع کیا ہوئی؟ ذات زید۔ زید کہتے ہی آپ کے ذہن میں زید کا تصور آیا، وہ جو زید کی ذات ہے تو وہ کیا ہے؟ ذات موضوع۔ اور ذات موضوع کو میں نے کس لفظ سے تعبیر کیا؟ زید کے لفظ سے تعبیر کیا، تو زید کا لفظ کیا ہوا؟ وصف عنوانی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ جی، اب دیکھیے بھئی کتاب پر آئیے۔ وَقَدْ يُذْكَرُ الْجِهَةُ فِي الْقَضِيَّةِ فَيُسَمَّى مُوَجَّهَةً وَرُبَاعِيَّةً أَيْضًا اور کبھی کبھار ذکر کی جاتی ہے جہت قضیہ کے اندر، تو اس قضیہ کو کیا کہتے ہیں؟ موجہہ کہتے ہیں، وَرُبَاعِيَّةً أَيْضًا اور رباعیہ بھی اسے کہتے ہیں۔ وَالْمُوَجَّهَاتُ خَمْسَةَ عَشَرَ اور موجہات کتنے ہیں؟ 15 ہیں بھئی۔ موجہات ویسے تو بہت ہیں بھئی موجہات، لیکن جن سے بحث کی جاتی ہے وہ 15 ہیں بھئی۔ کتنے ہیں؟ 15 ہیں بھئی، 15۔ ثَمَانِيَةٌ مِنْهَا بَسِيطَةٌ وَسَبْعَةٌ مِنْهَا مُرَكَّبَةٌ آٹھ ان میں سے کیا ہیں؟ بسیطہ ہیں، وَسَبْعَةٌ مِنْهَا مُرَكَّبَةٌ اور سات کتنے ہیں؟ مرکبہ ہیں۔ آٹھ ہوئے بسیط، اور سات ہوئے مرکب۔ آٹھ اور سات کتنے ہو گئے؟ 15 ہو گئے۔ بھئی جو بسیط ہیں، بسیط وہ قضیہ جس میں صرف ثبوت ہو یا جس میں صرف نفی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ بسیطہ۔ اور قضیہ مرکبہ آگے آئیں گے، وہ ایک ہی قضیہ کے اندر ایجاب بھی ہوگا، سلب بھی ہوگا بھئی، دونوں چیزیں اکٹھی آئیں گی اس کے اندر۔ اس کو کیا کہیں گے؟ مرکبہ۔ قضیہ بسیطہ کس قضیہ کو کہیں گے؟ جس میں صرف ایجاب ہو۔ الانسان حیوان، یہ کیا ہے؟ بسیطہ، صرف ایجاب ہے۔ الانسان ليس بحجر، اس میں کیا ہے؟ صرف نفی، یہ بھی کیا ہے؟ قضیہ بسیطہ۔ جس میں صرف ایجاب ہو یا صرف کیا ہو؟ ایجاب اور نفی میں سے ایک چیز ہو، یا صرف کیا ہو اس میں ایجاب، یا صرف اس میں کیا ہو نفی، تو یہ کیا کہلائے گا؟ قضیہ بسیطہ۔ اور اگر دونوں چیزیں ایک ہی قضیہ کے اندر ہوں، ایجاب بھی ہے اور نفی، دونوں چیزیں اکٹھی آئیں گی ایک ہی قضیہ کے اندر، وہ آگے مرکبات میں اس کی مثالیں آ جائیں گی بھئی۔ تو اگر دونوں چیزیں ہیں، ایجاب بھی ہے اور سلبی ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ مرکبہ۔ اگر صرف ایجاب ہے یا صرف سلب ہے تو کیا کہیں گے؟ بسیطہ کہیں گے، اور اگر دونوں ہیں تو؟ قضیہ مرکبہ کہیں گے۔ تو کہتے ہیں ثَمَانِيَةٌ مِنْهَا بَسِيطَةٌ وَسَبْعَةٌ مِنْهَا مُرَكَّبَةٌ، آٹھ ان میں سے بسیطہ ہیں اور سات ان میں سے مرکبہ ہیں۔ أَمَّا الْبَسَائِطُ باقی بسائط جو ہیں، فَإِحْدَاهَا إحداها ہونا چاہیے بھئی إحدا لفظ، کیونکہ قضیہ کی بات ہو رہی ہے نا، وہ مونث ہے۔ فَإِحْدَاهَا الضَّرُورِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ ایک ان میں سے ضروریہ مطلقہ ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، باقی بحث پھر کل کر لیں گے۔ باقی یہ باتیں اچھی طرح سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ مادہ قضیہ، اور جہت قضیہ، اور موجہہ کسے کہتے ہیں، وصف عنوانی کسے کہتے ہیں، ذات موضوع کسے کہتے ہیں، اور قضیہ بسیطہ کسے کہتے ہیں، قضیہ مرکبہ کسے کہتے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 54 of 108