Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 59
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 53 1 فصلٌ تقسیمٌ آخرُ للحملیۃ۔ موضوعُ الحملیۃِ إن کان موجودًا فی الخارجِ وكان الحكمُ فیها باعتبارِ تحققِ الموضوعِ ووجودِہ فی الخارجِ كانت القضۃُ خارجیۃً، نحوُ: الإنسانُ كاتبٌ۔ وإن كان موجودًا فی الذهنِ وكان الحكمُ باعتبارِ خصوصِ وجودِہ فی الذهنِ كانت ذهنیۃً، نحوُ: الإنسانُ كلیٌ۔ اچھا بھئی! یہاں سے قضیہ حملیہ کی ایک اور تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ قضیہ حملیہ کی ایک اور تقسیم کر رہے ہیں۔ قضیہ حملیہ جس میں ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے ثبوت ہوتا ہے یا ایک شئے کی دوسری شئے سے نفی ہوتی ہے، تو یہ موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو آج اسی کی ایک تقسیم آپ کو بتلا رہے ہیں۔ بھئی یاد رکھیے! یہ وجود جو ہے، وجود یہ دو قسم پر ہے۔ ایک وجودِ خارجی ہے، ایک وجودِ ذہنی ہے بھئی۔ بھئی جیسے مثلاً زید، زید مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے تو اس کا ایک خارج میں وجود ہے بھئی۔ خارج میں کیا ہے اس کا؟ وجود۔ اسی طرح زید کا جب ہم تصور کرتے ہیں تو ذہن میں اس کا وجود آتا ہے بھئی۔ ذہن میں زید کا تصور آتا ہے، یہ ہے زید کا وجودِ ذہنی بھئی۔ یہ کیا ہے اس کا؟ وجودِ ذہنی۔ تو وجود جو ہے دو قسم پر ہے، ایک وجودِ خارجی ہے وہ خارج کے اعتبار سے ہے، ایک وجودِ ذہنی ہے ذہن کے اعتبار سے۔ اب قضیہ حملیہ میں ایک شئے کا ثبوت ہوتا ہے دوسری شئے کے لیے یا ایک شئے کی نفی ہوتی ہے دوسری شئے سے۔ اگر یہ ثبوت یا نفی خارج کے اعتبار سے ہو تو اسے قضیہ خارجیہ کہیں گے اور اگر یہ ثبوت یا نفی ذہن کے اعتبار سے ہو تو اسے قضیہ ذہنیہ کہیں گے بھئی، کیا کہیں گے؟ قضیہ ذہنیہ کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ وجود کتنی قسم پر ہے؟ ایک وجودِ خارجی ہے اور ایک وجودِ ذہنی ہے۔ وجودِ خارجی جو خارج میں ایک چیز کا وجود پایا جا رہا ہے وہ چیز موجود ہے۔ اور ایک وجودِ ذہنی ہے کہ ہم اس کا تصور کرتے ہیں تو اس کی صورت ہمارے ذہن میں آتی ہے، یہ کیا ہے؟ وجودِ ذہنی ہے بھئی۔ تو کسی شئے پر جب کوئی حکم لگایا جائے یا نفی کی جائے، تو یہ حکم یا نفی اگر یہ ثبوتِ شئے یا سلبِ شئے (یعنی کسی چیز کی نفی) یا تو خارج کے اعتبار سے ہوگی یا ذہن کے اعتبار سے۔ اگر خارج کے اعتبار سے ہو تو یہ قضیہ خارجیہ کہلائے گا اور اگر ذہن کے اعتبار سے ہو تو یہ قضیہ ذہنیہ کہلائے گا بھئی۔ مثلاً دیکھیے بھئی! زید کا وجود خارج میں موجود ہے اور میں خارج کے اعتبار سے زید پر ایک حکم لگاتا ہوں۔ مثلاً کہتا ہوں: "زیدٌ کاتبٌ"، زیدٌ کاتبٌ، زید لکھنے والا ہے۔ اب دیکھیے میں زید پر کاتب ہونے کا حکم لگا رہا ہوں، زید کو کاتب کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ وہ خارج میں لکھنے والا ہے۔ تو یہ جو میں نے حکم زید پر کاتب ہونے کا لگایا، خارج کے اعتبار سے لگایا بھئی، کس اعتبار سے؟ خارج کے اعتبار سے۔ یا مثلاً زید کاتب نہیں ہے، خارج میں لکھنے والا نہیں ہے، اسے فرض کرو لکھنا آتا ہی نہیں ہے، تو میں کہوں گا: "زیدٌ ليس بكاتبٍ"، زید کاتب نہیں ہے۔ اب میں زید سے کاتب ہونے کی نفی کر رہا ہوں، لیکن کس اعتبار سے کر رہا ہوں؟ خارج کے اعتبار سے میں کر رہا ہوں، تو اسے کیا کہیں گے؟ یہ قضیہ قضیہ خارجیہ کہیں گے بھئی، چاہے موجبہ ہو چاہے سالبہ ہو۔ اگر موضوع کا وجود خارج میں ہو اور اس پر خارج کے اعتبار سے کوئی حکم لگایا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ قضیہ خارجیہ۔ اور اگر موضوع کا وجود ذہن میں ہے اور ذہن کے اعتبار سے اس پر کوئی حکم لگایا جائے تو اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ ذہنیہ کہیں گے، قضیہ ذہنیہ کہیں گے بھئی۔ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی بھئی کہ "زیدٌ کاتبٌ" یا "زیدٌ ليس بكاتبٍ" بھئی، یا جیسے آپ کہتے ہیں: "الإنسانُ كاتبٌ"، "الإنسانُ ليس بكاتبٍ"، تو انسان پر حکم لگا رہے ہیں کاتب ہونے کا یا انسان سے نفی کر رہے ہیں کاتب ہونے کی، تو یہ خارج کے اعتبار سے ہے۔ خارج کے اعتبار سے کوئی کاتب ہے تو ہم کہتے ہیں وہ کاتب ہے، خارج کے اعتبار سے کوئی کاتب نہ ہو تو ہم کہتے ہیں وہ کاتب نہیں ہے بھئی۔ یا اس کی اور واضح مثال بھئی دیکھ لیں: "النارُ حارۃٌ"، النارُ حارۃٌ، آگ گرم ہے۔ اب یہ جو ہم کہتے ہیں آگ گرم ہے، یہ کس اعتبار سے؟ خارج کے اعتبار سے کہتے ہیں، خارج میں آگ گرم ہوتی ہے یا ذہن میں گرم ہے بھئی؟ آگ گرم کس اعتبار سے ہے؟ خارج کے اعتبار سے آگ گرم ہے، ذہن میں بھئی ذہن میں آپ کے آگ کا تصور آتا ہے تو ذہن گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے؟ جی؟ نہیں، یہ جو حکم ہم لگا رہے ہیں یہ تو خارج کے اعتبار سے لگا رہے ہیں، خارج کے اعتبار سے آگ گرم ہے، آگ جلانے والی ہے۔ ذہن کے اعتبار سے آگ پر جو یہ حکم لگایا گیا یہ ذہن کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ کس اعتبار سے ہے؟ خارج کے اعتبار سے، النارُ حارۃٌ، آگ کیا ہے؟ گرم ہے۔ یا یہ تو موجبہ کی مثال ہو گئی، یا سالبہ کی مثال: "النارُ ليست بباردۃٍ"، آگ ٹھنڈی نہیں ہے۔ تو یہ ٹھنڈا ہونے کی جو نفی کر رہے ہیں ہم آگ سے، یہ کس اعتبار سے ہے؟ خارج کے اعتبار سے ہے بھئی، ذہن کے اعتبار سے نہیں ہے بھئی، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ خارجیہ ہوا، چاہے ایجاب ہو چاہے سلب ہو۔ چاہے کسی چیز کا ثبوت ہو چاہے کسی چیز کی نفی ہو، لیکن یہ وجود یہ ثبوت یا نفی کس اعتبار سے ہونی چاہیے؟ خارج کے اعتبار سے ہونی چاہیے، ذہن کے اعتبار سے نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی اچھی طرح؟ یہ ہے قضیہ خارجیہ بھئی، جہاں خارج کے اعتبار سے حکم لگایا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یا جیسے میں کہتا ہوں: زید بیمار ہے بھئی، یہ میں کس اعتبار سے حکم لگا رہا ہوں زید پر؟ خارج کے اعتبار سے، وہ واقعی خارج میں بیمار ہے بھئی تو میں نے کہا وہ بیمار ہے۔ یا میں کہتا ہوں زید بیمار نہیں ہے، یہ میں کس اعتبار سے حکم لگا رہا ہوں؟ خارج کے اعتبار سے اس پر حکم لگا رہا ہوں۔ یا مثلاً آپ کہتے ہیں: یہ کتاب مہنگی ہے، بھئی یہ میں کس اعتبار سے مہنگی ہونے کا حکم لگا رہا ہوں کتاب پر؟ خارج کے اعتبار سے، معلوم ہوا یہ بازار میں زیادہ قیمت پر ملتی ہے، کم قیمت پر نہیں ملتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ جو ہم یہ جو جہان ہے ہمارے ارد گرد، یہ ہے خارج بھئی۔ آپ کے ارد گرد یہ جو کچھ آپ دیکھتے ہیں، جو کچھ دکھائی دیتا ہے، یہ سارا خارج ہے بھئی۔ یہ آپ کے ساتھی، یہ کتابیں، یہ سورج، یہ چاند، یہ ستارے، یہ آسمان وغیرہ یہ سب خارج ہے مولانا، یہ سب خارج۔ ان پر خارج کے اعتبار سے کوئی حکم لگایا جائے ان میں سے کسی بھی چیز پر یا خارج کے اعتبار سے ان میں سے کسی چیز کی ان سے کسی چیز کی نفی کی جائے تو یہ کیا ہے؟ قضیہ خارجیہ ہے بھئی، قضیہ خارجیہ ہے۔ یا مثلاً اور مثال بنا لیں، کوئی بھی مثال آپ بنا لیں، عموماً اکثر مثالیں بھئی، مثلاً میں کہتا ہوں عمرو محنتی ہے، یہ عمرو پر میں نے محنتی ہونے کا حکم کس اعتبار سے لگایا؟ خارج کے اعتبار سے، معلوم ہوا وہ خارج میں محنت کرنے والا ہے بھئی، محنت سے پڑھتا ہے۔ یا وہ اگر محنت سے نہیں پڑھتا تو میں کہوں گا کہ عمرو محنتی نہیں ہے، تو یہ اس سے جو میں نے محنتی ہونے کی نفی کی کس اعتبار سے کی؟ خارج کے اعتبار سے، تو یہ قضیہ خارجیہ ہے بھئی۔ تو خارج میں جو اس موضوع کا وجود ہے اور اس وجود سے میں نے خارج کے اعتبار سے اس کے لیے کسی چیز کو ثابت کیا یا خارج کے اعتبار سے اس سے کسی چیز کی نفی کی بھئی۔ اور اس کے مقابلے میں ایک وجودِ ذہنی ہے۔ اگر قضیہ کا موضوع ذہن میں موجود ہو اور ذہن کے اعتبار سے اس کے لیے کسی چیز کا ثبوت کیا جائے، کسی چیز کو اس کے لیے ثابت کیا جائے یا کسی چیز کی اس سے نفی کی جائے تو یہ قضیہ ذہنیہ کہلائے گا بھئی، کیا کہلائے گا؟ قضیہ ذہنیہ کہلائے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "الإنسانُ كليٌ"، انسان کیا ہے؟ کلی ہے، انسان کلی ہے۔ تو یہ جو انسان پر میں کلی ہونے کا حکم لگا رہا ہوں یہ خارج کے اعتبار سے نہیں لگا رہا بھئی، بلکہ ذہن کے اعتبار سے لگا رہا ہوں۔ یعنی انسان جو ہے جو اس کا مفہوم جو ہے حیوانِ ناطق، اس پر میں حکم لگا رہا ہوں کہ یہ کیا ہے؟ انسان کے مفہوم کے اعتبار سے اس پر حکم لگا رہا ہوں کہ یہ کلی ہے، کیونکہ انسان کا مفہوم ایسا ہے جو کثیرین پر صادق آتا ہے بھئی، تو یہ مفہوم کے اعتبار سے میں نے انسان پر حکم لگایا، خارج کے اعتبار سے حکم نہیں لگایا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ کلی خارج میں کلی کا وجود نہیں ہوتا بھئی، یاد رکھیے ہمیشہ۔ خارج میں کلی کے افراد کا وجود تو ہوتا ہے، لیکن کلی کا اپنا الگ وجود خارج میں ہو، ایسا نہیں۔ خارج میں کس کا وجود ہوتا ہے؟ کلی کے افراد کا وجود ہوتا ہے، کلی کا اپنا وجود خارج میں نہیں، کیوں؟ بھئی کیونکہ کلی مفہوم کا نام ہے بھئی، آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ کلی اور جزئی ہونا کیا چیز ہے؟ مفہوم کا نام ہے بھئی، تو یہ مفہوم تو ذہن میں ہی ہو سکتا ہے نا، خارج میں تو نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ تو لہذا جو کسی اور اگر موضوع کا وجود ذہن میں ہو اور ذہن کے اعتبار سے اس پر کوئی حکم لگایا جائے یا کسی حکم کی نفی کی جائے تو یہ کیا ہے؟ قضیہ ذہنیہ ہے۔ یہ تو موجبہ کی مثال تھی، میں نے کہا: "الإنسانُ كليٌ"، انسان کیا ہے؟ کلی ہے۔ اسی کے یہ سالبہ کی بنا لیں: "الإنسانُ ليس بجزئيٍ"، انسان جزئی نہیں۔ اب دیکھیے انسان سے میں نے جزئی ہونے کی نفی کر دی بھئی، اب یہ کس اعتبار سے اس کی نفی کی میں نے؟ ذہن کے اعتبار سے، کیونکہ کلی اور جزئی ہونا مفہوم ہے، کلی اور جزئی یہ تو مفہوم کا نام ہے، تو میں ایک مفہوم کی دوسرے مفہوم سے نفی کر رہا ہوں بھئی۔ انسان جزئی نہیں، کیوں؟ کیونکہ اس کا یہ تو مفہوم اس کا جزئی تو اسے کہتے ہیں جو کثیرین پر صادق نہ آئے اور اس کی انسان کا مفہوم تو کیا ہوتا ہے؟ کثیرین پر صادق آتا ہے، تو اس اعتبار سے میں نے اس کے لیے اس سے جزئی ہونے کی نفی کر دی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہ کسی چیز کے اگر خارج میں وجود موضوع کا خارج میں وجود ہے اور اس پر خارج کے اعتبار سے کوئی حکم لگایا جائے یا کسی حکم کی نفی کی جائے تو یہ ہے قضیہ خارجیہ، اور اگر موضوع کا وجود ذہن میں ہے اور ذہن کے اعتبار سے اس کے لیے کسی چیز کو ثابت کیا جائے یا کسی چیز کی نفی کی جائے تو یہ کیا ہے؟ یہ قضیہ ذہنیہ ہے بھئی، ذہنیہ ہے بھئی۔ یا اور مثال بنا لیں بھئی قضیہ ذہنیہ کی، مثلاً میں کہتا ہوں: "الحيوانُ جنسٌ"، حیوان کیا ہے؟ جنس ہے۔ حیوان جنس۔ تو بھئی دیکھیے، حیوان پر میں نے جنس ہونے کا حکم لگایا، جنس ہونے کا۔ اور جنس، یہ بھی تو کلی ہے۔ جنس کیا ہے؟ "كليٌ مقولٌ على كثيرين مختلفين بالحقائق"، تعریف پڑھی ہے یا نہیں جنس کی؟ تو یہ جو میں نے کلی ہونے کا حکم لگایا حیوان پر، یہ خارج کے اعتبار سے نہیں ہے، کیونکہ خارج میں تو کلی کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ کس اعتبار سے میں حکم لگا رہا ہوں؟ حیوان پر اس کے مفہوم کے اعتبار سے حکم لگا رہا ہوں کہ حیوان بھی دراصل ایک ایسی کلی ہے جو کثیرین پر صادق ایسے کثیرین پر صادق آتی ہے جن کی حقیقتیں مختلف ہوتی ہیں بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو ایک ہے وجودِ خارجی، ایک ہے وجودِ ذہنی۔ اگر وجودِ خارجی کے اعتبار سے موضوع کا جو وجودِ خارجی ہے اس کے اعتبار سے اس پر کوئی حکم لگایا جائے یا کسی حکم کی نفی کی جائے تو یہ ہے قضیہ خارجیہ، اور اگر اس موضوع کا وجود ذہن میں ہے اور ذہن کے اعتبار سے اس کے لیے کسی چیز کو ثابت کیا جائے یا کسی چیز کی نفی کی جائے تو یہ کیا ہے؟ قضیہ ذہنیہ ہے بھئی، ذہنیہ ہے بھئی۔ اور یہ بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ کلی کا وجود خارج میں نہیں ہوتا، کلی کے افراد تو خارج میں پائے جاتے ہیں، لیکن کلی کا اپنا وجود خارج میں نہیں، کیونکہ کلی نام ہے مفہوم کا اور مفہوم تو ذہن میں ہوا کرتا ہے بھئی۔ تو ہاں، یہ یوں کہتے ہیں کہ کلی خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے۔ کس کے ضمن میں؟ اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے بھئی۔ جیسے آپ کہتے ہیں زید انسان ہے۔ زید پر کس چیز کا حمل کر رہے ہیں؟ انسان کا۔ یعنی یہ انسان کے افراد میں سے ایک فرد ہے، تو یہ انسان ہونا خارج میں اپنے افراد کے اعتبار سے انسان موجود ہے، اپنے کلی ہونے کے اعتبار سے موجود نہیں ہے بھئی۔ اور ایک ہے قضیہ حقیقیہ بھئی، قضیہ حقیقیہ۔ قضیہ حقیقیہ وہ ہے جس میں موضوع پر جو حکم لگایا جاتا ہے، وہ خارج یا ذہن سے قطع نظر کرتے ہوئے حکم لگایا جاتا ہے، واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے۔ توجہ سے سنیں بھئی نفس الامر کو۔ قضیہ آگے آرہا ہے قضیہ حقیقیہ بھئی، تیسری قسم ہے، قضیہ حقیقیہ وہ ہے جس میں موضوع پر کوئی حکم لگایا جاتا ہے یا موضوع سے کسی چیز کی نفی کی جاتی ہے، لیکن خارج خاص طور پر خارج کے اعتبار سے یا خاص طور پر ذہن کے اعتبار سے نہیں بھئی، واقعے کے اور حقیقت کے اعتبار سے حکم لگایا جاتا ہے۔ واقعے اور حقیقت یعنی نفس الامر کے اعتبار سے، نفس الامر کا کیا معنیٰ؟ واقعہ اور حقیقت۔ تو واقعہ اور حقیقت کے اعتبار سے موضوع پر کوئی حکم لگایا جائے یا کسی حکم کی نفی کی جائے تو یہ قضیہ حقیقیہ کہلائے گا بھئی۔ یعنی یوں کہو جو کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف نہیں ہوتا۔ قضیہ حقیقیہ وہ ہے بھئی جس میں حکم واقعہ اور حقیقت کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے جو کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف نہیں ہوتا۔ معتبر یعنی اعتبار کرنے والا، کسی اعتبار کرنے والے کے اعتبار پر وہ موقوف نہیں ہوتا۔ کوئی با کوئی اعتبار کرے یا نہ کرے وہ چیز اسی طرح ہے۔ مثلاً دیکھیے اس وقت دن ہے۔ اس وقت کیا ہے؟ اب کوئی اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے، واقعے میں تو دن ہے۔ واقعے میں کیا ہے؟ دن ہے، تو یہ کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف نہیں کہ اس کو اگر آپ اعتبار کریں تو اس کا وجود ہے، اعتبار نہ کریں تو وجود نہ ہو، ایسا نہیں ہے یہاں پر بھئی، واقعہ اور حقیقت میں اس وقت دن ہے بھئی۔ یہ کسی کے اعتبار کرنے پر موقوف نہیں، اگر کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف ہو پھر وہ قضیہ حقیقیہ نہیں ہے بھئی۔ قضیہ حقیقیہ نہیں ہے، مثلاً دیکھیے بھئی! نحو میں آپ پڑھتے ہیں: "زيدٌ في الدارِ"، پڑھا ہے یا نہیں آپ نے؟ اس کی مثال اس کی ترکیب کرتے ہیں، "زيدٌ" ہے مبتدا، "في" ہے جارہ، "الدارِ" مجرور، جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہیں؟ "ثابتٌ" سے، بھئی یہاں کوئی "ثابتٌ" ہے؟ نہیں، آپ نے اعتبار کیا ہے اس کا بھئی، آپ اعتبار کرتے ہیں تو "ثابتٌ" ہے، آپ اعتبار نہیں کرتے تو "ثابتٌ" نہیں ہے۔ یہ آپ کے اعتبار پر موقوف ہے۔ دن جو ہے وہ آپ کے اعتبار پر نہیں موقوف، آپ اعتبار کریں یا نہ کریں دن ہے، آپ سو دفعہ کہیں دن نہیں ہے لیکن دن تو موجود ہے، اس کا وجود تو آپ کے اعتبار پر موقوف ہی نہیں ہے، اور بعض چیزوں کا وجود کیا ہوتا ہے؟ معتبر کے اعتبار پر موقوف ہوتا ہے، وہ اعتبار کرتا ہے تو ہے، اعتبار نہیں کرتا تو نہیں، یعنی ذہنی طور پر اس کو مانتا ہے تو ہے، ذہنی طور پر نہیں مانتا تو نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جیسے "ثابتٌ"، کسی عرب سے پوچھ لیں جس نے نحو نہیں پڑھی، وہ کبھی بھی یہاں "ثابتٌ" نہیں مانے گا۔ کہ بھئی یہ "ثابتٌ" کیا ہوتا ہے؟ یہاں کیا معنیٰ "ثابتٌ" کا؟ تو یہ آپ نے نحو میں پڑھتے ہیں اور اس کا آپ اعتبار کرتے ہیں، یہ آپ کے اعتبار پر موقوف ہے، آپ اعتبار کریں گے یعنی ذہنی طور پر مان لیتے ہیں 2 صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نفس الامر کے اندر ہو یعنی واقع اور حقیقت کے اعتبار سے، وہ معتبر کے اعتبار پر موقوف نہیں ہوتا۔ جب حقیقت اور واقع کے اعتبار سے موضوع پر کوئی حکم لگایا جائے یعنی وہ کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف نہ ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ حقیقیہ کہیں گے کہ واقع اور حقیقت کے اعتبار سے ایسا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، کوئی اعتبار کرے یا نہ کرے، حقیقت میں ایسا ہے۔ جیسے خارج میں زید موجود ہے بھئی۔ خارج میں کیا ہے؟ زید موجود ہے۔ اب میں کہتا ہوں، زید کا وجود ہے۔ زید کا وجود ہے۔ اب دیکھیے، میں زید پر ایک حکم لگا رہا ہوں۔ یہ کس اعتبار سے ہے؟ دیکھا جائے تو خارج کے اعتبار سے بھی ہے۔ اور دیکھا جائے تو حقیقت کے اعتبار سے بھی ہے، قطع نظر صرف خارج کے اعتبار سے تو نہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے، زید کا وجود ہے یا نہیں بھئی؟ مثلاً آپ کے ساتھی کا نام ہے، تو کوئی مانے یا نہ مانے، کوئی اعتبار کرے یا نہ کرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کے سامنے کتاب موجود ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، کتاب آپ کے سامنے موجود ہے۔ کسی معتبر کے اعتبار پر یہ موقوف نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نفس الامر اور حقیقت کے اعتبار سے اگر کوئی حکم لگایا جائے، قطع نظر صرف خارج، یا قطع نظر صرف ذہن۔ یعنی صرف ذہن کا بھی، صرف ذہن کے اعتبار سے نہ ہو، یا صرف خارج کے اعتبار سے نہ ہو، بلکہ واقع اور حقیقت کے اعتبار سے ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ حقیقیہ۔ اور مثال دیکھو بھئی، دیکھو۔ بھئی فرض کریں، فرض کریں، یہ سامنے میرے میز پر، میرے سامنے یہ 500 اشرفیاں پڑی ہوئی ہیں، ان کا ڈھیر لگا ہوا ہے بھئی۔ نظر آ رہی ہیں یا نہیں سب کو؟ جی؟ فرض کر لیں، فرض کر لیا یا نہیں کر لیا؟ یہ میرے سامنے 500 اشرفیوں کا ڈھیر پڑا ہوا ہے۔ لیکن کیا واقع میں ہیں اشرفیاں؟ واقع میں تو نہیں ہیں۔ آپ اعتبار کرتے ہیں تو ہیں، ٹھیک ہے بھئی۔ فرض کر لیا، ذہنی طور پر۔ ذہنی طور پر آپ نے تسلیم کر لیا، تو آپ نے اس کا اعتبار کر لیا تو یہ موجود ہیں۔ آپ اعتبار نہیں کرتے تو نہیں ہیں بھئی، کیونکہ واقع اور حقیقت میں نہیں ہے ایسا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ... صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے ایک آدمی کہتا ہے جی، میں نے مان لیا اس وقت رات ہے، ہے تو دن، وہ کیا کہتا ہے؟ میں نے کیا مان لیا؟ رات ہے۔ بھئی رات تو واقع میں تو نہیں ہے۔ ہاں اس نے اس کو ذہن میں مان لیا ہے، اس کا اعتبار کر لیا ہے۔ وہ اعتبار کرے گا تو ٹھیک ہے، ہے، وہ نہیں اعتبار کرتا تو نہیں ہے بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے قضیہ حقیقیہ، جو کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف نہیں ہوتا، جو واقع اور حقیقت کے مطابق ہوتا ہے بھئی، کہ مانے نہ مانے، کوئی اعتبار کرے یا نہ کرے، حقیقت اور واقع کے اعتبار سے ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کے اندر جو اس چیز پر حکم لگایا جاتا ہے، وہ خاص طور پر خارج کے اعتبار سے ہو، ایسا بھی نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ذہن کے اعتبار سے وہ حکم ہو، ایسا بھی نہیں ہوتا بھئی۔ وہ عام ہیں ان سے بھئی، وہ کیا ہیں؟ عام ہیں ان سے حکم جو لگایا جا رہا ہے، قطع نظر خارج اور قطع نظر ذہن سے، وہ صرف خارج کی طرف نظر کرتے ہوئے بھی اس بات یا نفی نہیں کی جا رہی، صرف ذہن کی طرف نظر کرتے ہوئے بھی اس بات یا نفی نہیں کی جاتی بھئی، وہ حقیقت اور واقع کے اعتبار سے اس بات ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔ فَصْلٌ أَیْ هٰذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ تَقْسِیْمٌ آخَرُ لِلْحَمْلِیَّۃِ أَیْ هٰذَا تَقْسِیْمٌ آخَرُ لِلْحَمْلِیَّۃِ، یہ ایک دوسری تقسیم ہے قضیہ حملیہ کی۔ مَوْضُوْعُ الْحَمْلِیَّۃِ إِنْ کَانَ مَوْجُوْدًا فِی الْخَارِجِ، اگر قضیہ حملیہ کا موضوع جو ہے، اگر وہ موجود... قضیہ حملیہ کا موضوع اگر وہ موجود ہو خارج میں۔ وَکَانَ الْحُکْمُ فِیْهََا بِاعْتِبَارِ تَحَقُّقِ الْمَوْضُوْعِ وَوُجُوْدِهِ فِی الْخَارِجِ کَانَتِ الْقَضِیَّۃُ خَارِجِیَّۃً، بھئی قضیہ حملیہ کا موضوع اگر خارج میں موجود ہے، وَکَانَ الْحُکْمُ فِیْهََا اور حکم اس قضیے کے اندر بِاعْتِبَارِ تَحَقُّقِ الْمَوْضُوْعِ وَوُجُوْدِهِ فِی الْخَارِجِ اور اس قضیے کے اندر جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ موضوع کے پائے جانے اور اس کے وجود کے اعتبار سے ہے خارج میں، یعنی خارج میں موضوع کے وجود اور خارج میں موضوع کے پائے جانے کے اعتبار سے حکم لگایا جا رہا ہو، کَانَتِ الْقَضِیَّۃُ خَارِجِیَّۃً تو قضیہ خارجیہ ہوگا، نَحْوُ الْإِنْسَانُ کَاتِبٌ جیسے انسان کاتب ہے۔ انسان پر کاتب ہونے کا حکم لگایا گیا کہ اور یہ... انسان کا وجود، موضوع یعنی یہ موضوع انسان ہے اور یہ خارج میں موجود ہے اور یہ جو کاتب ہونے کا حکم ہے یہ خارج کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے بھئی۔ خارج کے اعتبار سے کوئی شخص لکھنے والا ہوگا یا لکھنے والا نہیں، لکھنے والا ہو تو ہم کہیں گے کاتب ہے، لکھنے والا نہ ہو تو ہم کہیں گے کاتب نہیں ہے۔ جی۔ وَإِنْ کَانَ مَوْجُوْدًا فِی الذِّهْنِ اور قضیہ حملیہ کا موضوع اگر وہ ذہن میں موجود ہو، وَکَانَ الْحُکْمُ بِاعْتِبَارِ خُصُوْصِ وُجُوْدِهِ فِی الذِّهْنِ اور وہ جو حکم ہے، وہ ذہن میں اس کے وجود، خاص طور پر اس کے وجود کے اعتبار سے ہو بھئی۔ وہ ذہن میں اس کے وجود... وجود کے... کے خاص ہونے کے اعتبار سے ہو بھئی، کہ خاص طور پر جو ذہن میں اس کا وجود ہے اس کے اعتبار سے اگر حکم ہو، کَانَتْ ذِهْنِیَّۃً تو یہ قضیہ کون سا ہوگا؟ ذہنِیَّہ ہوگا، نَحْوُ الْإِنْسَانُ کُلِّیٌّ جیسے الْإِنْسَانُ کُلِّیٌّ، انسان پر کلی ہونے کا حکم لگایا گیا، وہ اور یہ کلی ہونے کا حکم انسان کے مفہوم پر لگ رہا ہے، تو یہ ذہن کے اعتبار سے ہے بھئی۔ تو انسان... معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَإِنْ کَانَ الْحُکْمُ بِاعْتِبَارِ تَقَرُّرِهِ فِی الْوَاقِعِ اور اگر قضیہ... حملیہ کے موضوع پر جو حکم لگایا گیا وہ بِاعْتِبَارِ تَقَرُّرِهِ فِی الْوَاقِعِ، اعتبار اس کے واقع اور واقع میں پائے جانے کے اعتبار سے ہے، حقیقت میں پائے جانے کے اعتبار سے ہے، مَعَ عَزْلِ النَّظَرِ عَنْ خُصُوْصِیَّۃِ الظَّرْفِ الْخَارِجِیِّ أَوِ الذِّهْنِیِّ ساتھ قطع نظر، عزلِ نظر کیا معنی؟ قطع۔ قطع نظر کرتے ہوئے عَنْ خُصُوْصِیَّۃِ الظَّرْفِ الْخَارِجِیِّ أَوِ الذِّهْنِیِّ، ذہن یا خارج کے ظرف سے خاص طور پر۔ یعنی صرف ظرفِ خارج... بھئی یہ جو جہان ہے خارج کا، یہ ہے ظرفِ خارجی۔ یہ جو آپ کو ارد گرد کی دنیا نظر آ رہی ہے، یہ خارج ہے، ظرف یا یوں کہیں ظرفِ خارج ہے اور جو چیزیں ذہن میں ہیں تو وہ ذہن ان کے لیے ظرف ہے، تو وہ ظرفِ ذہنی ہے بھئی۔ بھئی ظرف کہتے ہیں برتن کو اور مظروف جو اس کے اندر چیز ہوتی ہے۔ تو جیسے برتن میں جب کوئی چیز ہو تو برتن نے اس کا احاطہ کیا ہوتا ہے ہر طرف سے، اس کو گھیرا ہوتا ہے۔ اسی طرح خارج کے اندر جو بھی چیزیں ہیں، یہ خارج نے ان کا احاطہ کیا ہوا ہے بھئی۔ زید ہے تو زید کے... کہ یہ جو خارج ہے یہ اس کے لیے کس کی طرح ہے؟ ظرف کی طرح ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں زَیْدٌ فِی الدَّارِ، زید کس میں ہے؟ گھر میں ہے، تو یہ گھر میں زید کا کیا کیا ہوا ہے؟ احاطہ کیا ہوا ہے، یہ گھر زید کے لیے ظرف ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی جو قضیہ نفس ال... قضیہ حقیقیہ میں حکم لگایا جاتا ہے وہ ظرفِ خارج کے اعتبار سے نہیں ہوتا، یہ جو خارج کا ظرف ہے اس کے اعتبار سے نہیں ہوتا اور اسی طرح ایک ظرفِ ذہنی ہے بھئی۔ یہ جو ہم چیزوں کا مفہوم ہمارے ذہن میں آتا ہے، تو ہمارا ذہن ان کے لیے ظرف ہے، ذہن کے اندر آتے ہیں نا یہ مفہوم، تو ذہن ان کے لیے کس کی طرح ہوا؟ ظرف کی طرح ہوا بھئی۔ تو یہاں پر بھی قضیہ حقیقیہ میں جو حکم لگایا جاتا ہے، وہ بالخصوص ظرفِ خارج یا بالخصوص ظرفِ ذہنی سے قطع نظر کرتے ہوئے ہوتا ہے، واقع اور حقیقت کے اعتبار سے حکم لگایا جاتا ہے، صرف ظرفِ خارج کی طرف کے اعتبار سے نہیں لگایا جاتا یا صرف ظرفِ ذہنی کے اعتبار سے نہیں لگایا جاتا بھئی۔ بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ جی؟ تو ایک ظرفِ خارج ہے بھئی، جو خارج میں چیزوں کا وجود ہے، یہ خارج میں ہے نا، تو خارج ان کے لیے ظرف ہے۔ اور ایک ذہن میں چیزوں کا وجود ہے، تو ذہن کے اندر ہے نا وہ وجود، تو ذہن ان کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے بھئی۔ تو قضیہ حقیقیہ کے اندر ظرفِ خارج کے اعتبار سے حکم نہیں لگایا جاتا یا صرف ظرفِ ذہنی کے اعتبار سے حکم نہیں، بلکہ واقع اور حقیقت کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے، جو کسی معتبر کے اعتبار پر موقوف نہیں ہوتا بھئی، کہ وہ اعتبار کرے تو ہے، اعتبار نہ کرے تو نہیں ہے، ایسا نہیں ہوتا اس کے اندر بھئی۔ صورت بھی سمجھ میں آ گئی کہ مشکل ہو گئی بھئی؟ جی؟ ہم نے... میں نے کہا زَیْدٌ کَاتِبٌ، یہ زید پر میں نے حکم لگایا کس اعتبار سے؟ خارج... تو یہ ظرفِ خارج کے اعتبار سے میں نے لگایا، کس اعتبار سے؟ کہ زید خارج میں موجود ہے، تو خارج اس کے لیے کیا ہوا؟ ظرف، تو اس ظرفِ خارج کے اعتبار سے میں نے اس پر کاتب ہونے کا حکم لگایا ہے بھئی۔ اور میں کہتا ہوں الْإِنْسَانُ کُلِّیٌّ، میں نے انسان پر کیا حکم لگایا؟ کلی ہونے کا، یہ کس اعتبار سے ہے؟ ذہن کے، یعنی وہ جو ذہن میں انسان کا مفہوم ہے، تو ذہن اس کے لیے کیا ہوا؟ ظرف، تو یہ ظرفِ ذہنی کے اعتبار سے میں نے اس پر حکم لگایا ہے، خارج کے اعتبار سے نہیں۔ تو کبھی حکم صرف خارج کے اعتبار سے، کبھی حکم صرف ذہن کے اعتبار سے، اور کبھی قطع نظر بھئی ذہنِ... ذہنِ... ذہنِ... ظرفِ ذہنی اور ظرفِ خارجی، تو یہ وہ قضیہ حقیقیہ ہے۔ یہ معنی ہے وَإِنْ کَانَ الْحُکْمُ بِاعْتِبَارِ تَقَرُّرِهِ فِی الْوَاقِعِ اور قضیہ حملیہ کے موضوع پر اگر وہ جو حکم لگایا گیا ہے وہ بِاعْتِبَارِ تَقَرُّرِهِ فِی الْوَاقِعِ، واقع میں اس کے پائے جانے کے اعتبار سے ہو، کس اعتبار سے ہو؟ واقع اور حقیقت میں اس کے پائے جانے کے اعتبار سے ہو، مَعَ عَزْلِ النَّظَرِ عَنْ خُصُوْصِیَّۃِ الظَّرْفِ الْخَارِجِیِّ أَوِ الذِّهْنِیِّ، ذہن یا خارج کے ظرف کے خاص ہونے سے قطع نظر کرتے ہوئے بھئی۔ ترجمہ آخیر سے کر رہا ہوں، ذہن یا خارج کے ظرف کے خاص ہونے سے قطع نظر، یعنی خاص ظرفِ خارج کے اعتبار سے بھی نہیں ہے اور خاص ظرفِ ذہنی کے اعتبار سے بھی نہیں ہے، فُسُمِّیَتِ الْقَضِیَّۃُ حَقِیْقِیَّۃً، حقیقیۃً بھئی یہاں 'یا' ہونی چاہیے بھئی، گول 'تا' سے پہلے بھئی، حقیقت نہیں ہے لفظ، حقیقیۃً ہے۔ فُسُمِّیَتِ الْقَضِیَّۃُ حَقِیْقِیَّۃً، تو اس قضیے کو حقیقیہ کہتے ہیں، نَحْوُ جیسے کہ اَلْأَرْبَعَۃُ زَوْجٌ، چار جفت ہے۔ زوج کسے کہتے ہیں؟ جفت۔ چار جفت ہے بھئی، یعنی جفت کسے کہتے ہیں؟ جو دو برابر حصوں میں پورا پورا تقسیم ہو جائے بھئی، دو حصے، دو۔ وَالسِّتَّۃُ ضِعْفُ الثَّلَاثَۃِ، اور چھ جو ہے وہ تین کا دگنا ہے۔ چھ تین کا دگنا ہے۔ تو یہاں دیکھیے، اربعہ پر زوج ہونے کا حکم لگایا گیا۔ خارج یا ذہن کے اعتبار سے نہیں، قطع نظر خارج اور ذہن سے، واقع کے اعتبار سے حکم لگایا گیا کہ اربعہ کیا ہوتا ہے؟ جفت ہوا کرتا ہے بھئی، اربعہ کا عدد، یا اسی طرح چھ کا عدد ہے، وہ بھی کیا ہے؟ جفت ہے۔ اسی طرح آٹھ کا عدد ہے، وہ بھی کیا ہے؟ تو یہ جو حکم لگایا جا رہا ہے واقع کے اعتبار سے ہے، قطع نظر خارج اور قطع نظر ذہن کے۔ یا اسی طرح آپ کہتے ہیں چھ جو ہے وہ تین کا دگنا ہے، تو یہاں چھ پر حکم لگایا گیا کس چیز کا؟ تین سے دگنا ہونے کا، تو یہ اس واقع اور حقیقت کے اعتبار سے حکم لگایا گیا ہے، قطع نظر کرتے ہوئے خارج... صرف خارج کی، یا صرف خارج کا بھی ہم نے لحاظ نہیں کیا، صرف ذہن کا بھی اعتبار نہیں کیا، قطع نظر ان سے کرتے ہوئے بھئی، تو یہ عام ہوتا ہے خارج اور ذہن، یہ دونوں اعتبار سے ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو واقع اور حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم لگایا گیا بھئی۔ فَصْلٌ أَیْ هٰذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ اَلْقَضِیَّۃُ الْمُوْجِبَۃُ وَکَذَا السَّالِبَۃُ تَنْقَسِمَانِ إِلٰی مَعْدُوْلَۃٍ وَغَیْرِ مَعْدُوْلَۃٍ، قضیہ موجبہ ہو، قضیہ موجبہ وَکَذَا السَّالِبَۃُ اور اسی طرح قضیہ سالبہ جو ہے، تَنْقَسِمَانِ إِلٰی مَعْدُوْلَۃٍ وَغَیْرِ مَعْدُوْلَۃٍ، یہ تقسیم ہوتے ہیں معدولہ اور غیر معدولہ کی طرف۔ بھئی قضیہ معدولہ وہ ہے جس میں حرفِ سلب یعنی حرفِ نفی موضوع یا محمول یا دونوں کا جز ہو۔ حرفِ سلب کیا ہو؟ حرفِ سلب یا موضوع کا جز ہو، یا محمول کا جز ہو، یا دونوں کا جز ہو بھئی۔ اگر محمول کا جز ہو تو اس کو کہتے ہیں معدولۃ الموضوع۔ اور اگر محمول کا جز ہو حرفِ سلب، حرفِ نفی، تو اس کو کہتے ہیں معدولۃ المحمول۔ اور اگر دونوں کا جز ہو، تو اس کو کہتے ہیں معدولۃ الطرفین، معدولۃ الطرفین۔ اور پھر یہ ایجاب کی صورت میں ہو تو موجبہ ہوگا، اور نفی کی صورت میں ہو تو سالبہ ہوگا، دیکھیے مثالیں آگے آ رہی ہیں۔ فَصْلٌ، اَلْقَضِیَّۃُ الْمُوْجِبَۃُ وَکَذَا السَّالِبَۃُ تَنْقَسِمَانِ إِلٰی مَعْدُوْلَۃٍ وَغَیْرِ مَعْدُوْلَۃٍ، قضیہ موجبہ اور اسی طرح قضیہ سالبہ، یہ دونوں تقسیم ہوتے ہیں معدولہ کی طرف اور غیر معدولہ کی طرف۔ فَالْمَعْدُوْلَۃُ مَا یَکُوْنُ فِیْهِ حَرْفُ السَّلْبِ جُزْءًا مِنَ الْمَوْضُوْعِ أَوْ مِنَ الْمَحْمُوْلِ أَوْ کِلَیْهِمَا، پس معدولہ وہ قضیہ ہے کہ یَکُوْنُ فِیْهِ کہ اس کے اندر حَرْفُ السَّلْبِ جُزْءًا مِنَ الْمَوْضُوْعِ، حرفِ سلب جز ہو کس کا؟ موضوع کا، أَوْ مِنَ الْمَحْمُوْلِ یا کس کا جز ہو؟ محمول کا، أَوْ کِلَیْهِمَا یا دونوں کا ہو۔ مِثَالُ الْأَوَّلِ، پہلے کی مثال، پہلا کون سا بھئی؟ جس میں حرفِ سلب جز ہوگا موضوع کا۔ کَقَوْلِنَا، جیسے ہمارا یہ قول، اَللَّاحَیُّ جَمَادٌ، اَللَّاحَیُّ جَمَادٌ۔ حیٌّ کا معنی ہے زندہ، زندہ۔ یعنی جاندار بھئی، کیا معنی کر لیں؟ زندہ، یعنی جاندار۔ آپ نے کہا اَللَّاحَیُّ، لا حیّ جو ہے، جَمَادٌ، وہ کیا ہے؟ جماد ہے، وہ بے جان ہے بھئی۔ لا حیّ... دیکھیے لا کس کا جز ہے بھئی؟ موضوع کا۔ لا کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ موضوع کا۔ تو اس لا حیّ پر جماد ہونے کا حکم لگایا گیا، جماد جانتے ہو یا نہیں، پہلے بھی بات ہو چکی ہے، کس کو کہتے ہیں؟ بے جان بھئی۔ اچھا، تو لا حیّ پر جماد ہونے کا حکم لگایا گیا۔ یعنی حیٌّ کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ زندہ، یعنی جاندار، یعنی جاندار۔ تو لا حیّ اردو میں کیا کر لیں گے ترجمہ؟ بے جان، یہ 'بے' دیکھو حرفِ نفی ہے، بے جان۔ بے جان... جماد... بے جان جماد ہے بھئی، ہر لفظ کا بھی یہاں اردو میں برابر ترجمہ بھی نہیں ہو سکتا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو... تو یہ اگرچہ یہ انہوں نے یہ جو مثالیں بنائیں، یہ بھی عربی کے خلاف ہیں بھئی، عربی کلامِ عرب میں اس طرح نہیں ہے استعمال ہوتا، لیکن بہرحال مناطقہ نے خود پھر مثالیں بنا لیں بھئی مختلف قسم کی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہر زبان میں بھی اس طرح نہیں ہوتا، بعض بعض لفظ آئیں گے اردو میں بھی، جیسے میں نے ابھی مثال ذکر کر دی، بے جان، دیکھو یہ 'بے' حرفِ نفی ہے اور یہ کس کے ساتھ مل گیا؟ وہی جاندار کے ساتھ 'بے' کا لفظ ملایا بھئی، بے جاندار، پھر اس کو مختصر کر کے کیا بنا دیا گیا؟ بے جان، تو یہ 'بے' نفی کے لیے ہے، نفی کے لیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اور اس کی کیا مثال کر لیں؟ آپ کہتے ہیں اردو میں، نا کافی، نا کافی۔ تو اسی کافی کے ساتھ کون سا لفظ ملا دیا؟ نا کا لفظ ملا دیا بھئی، نا کا لفظ، تو نا کافی۔ اور مثلاً... غیر ضروری، دیکھو ضروری کے ساتھ کیا لفظ ملا دیا؟ غیر، یہ حرفِ نفی ہے بھئی۔ نا بینا، دیکھو بینا کے ساتھ کیا لفظ ملا دیا؟ نا، تو یہ حرفِ نفی کو دوسرے لفظ کا جز بنا دیا جاتا ہے بعض اوقات، ہر چیز میں ہر جگہ نہیں ہوتا، بعض جگہ اس طرح ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جیسے آپ نے کہا اَللَّاحَیُّ جَمَادٌ، لا حیّ جو ہے، وہ جماد ہے، بے جان جماد ہے۔ اچھا بھئی، اب آپ مجھے بتائیے، یہ موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ جی؟ شاباش، یہ موجبہ ہے، کیونکہ لا حیّ... وہی اس حرفِ نفی... یہ حرفِ نفی 3 اس نسبت کی نفی کے لیے نہیں آ رہا، یہ تو ایک چیز کا جز بن گیا بھئی۔ تو لا حی ایک چیز ہے، اور اس لا حی پر ہاں یہ موضوع ہے، اس پر ہم نے کیا حکم لگایا؟ جماد ہونے کا حکم لگایا۔ تو لا حی کے لیے جماد ہونا ثابت کیا ہم نے، اس کی نفی نہیں کی، تو یہ موجبہ ہوا بھئی۔ تو دیکھیے اس میں حرفِ نفی جز تھا، کس کا؟ موضوع کا۔ مثال الثاني، دوسرے کی مثال، دوسرا جس میں حرفِ سلب جز ہوگا کس کا؟ محمول کا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: زیدٌ لا عالمٌ۔ زید عالم نہیں، زید لا عالم ہے۔ زید غیرِ عالم ہے۔ زید کیا ہے؟ دیکھو زید سے عالم ہونے کی نفی نہیں کی جا رہی، بلکہ زید کے لیے غیرِ عالم ہونے کا اثبات کیا جا رہا ہے بھئی، تو یہ موجبہ ہی ہے۔ زید پر کیا حکم لگایا گیا؟ لا عالم ہونے کا حکم لگایا گیا بھئی۔ ہاں اگر یوں ہوتا: زیدٌ ليس بعالمٍ، اب کیا کیا جاتا؟ زید سے عالم ہونے کی نفی ہوتی، لیکن یہاں نفی نہیں ہے ثبوت ہے، لا عالم کا ثبوت ہے کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ اگرچہ معنیٰ وہی اسی طرح کا ہو گیا، لیکن بہرحال لفظوں سے فرق آ گیا بھئی۔ تو یہاں زید پر لا عالم ہونے کا حکم لگایا گیا کہ زید غیرِ عالم ہے۔ مثال الثالث، تیسرے کی مثال، تیسرا کون سا بھئی؟ جہاں حرفِ سلب دونوں کا جز ہوگا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: اللا حیُ لا عالمٌ۔ لا حی لا عالم ہے، یعنی بے جان غیرِ عالم ہے۔ بے جان پر کیا حکم لگا دیا؟ غیرِ عالم ہونے کا حکم، تو یہ سارے موجبہ کی مثال ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: هذا فی الإيجابِ، دیکھیے خود بتا رہے ہیں، یہ کس کے اندر ہے؟ ایجاب میں، یہ ساری صورتیں ہیں ایجاب کے اندر۔ وأما فی السلبِ، باقی سلب کے اندر، فمثال الأولِ، پس پہلے کی مثال، کون سا پہلا کون مراد ہے بھئی؟ جس میں حرفِ سلب کس کا جز ہوگا؟ موضوع کا۔ اور سالبہ ہوگا نفی کی جائے گی، جیسے: اللا حیُ، دیکھو حرفِ سلب کس کا جز؟ موضوع کا۔ اور اس پر کیا حکم؟ اس سے نفی کی جا رہی ہے، ليس بعالمٍ۔ اللا حیُ ليس بعالمٍ، لا حی عالم نہیں ہے۔ تو دیکھو عالم نہیں ہے، دیکھو عالم ہونے کی نفی کی جا رہی ہے عالم ہونے کی، تو یہ مثال ہے بھئی کس کی؟ سالبہ معدولة الموضوع، سالبہ معدولة الموضوع۔ ومثال الثاني، اور دوسرے کی مثال جیسے، دوسرا کون سا آئے گا؟ جس میں حرفِ سلب کس کا جز ہوگا؟ محمول کا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: العالمُ ليس بلا حیٍ، عالم لا حی نہیں ہے۔ عالم عالم غیرِ عالم بے جان نہیں ہے، بھئی جو عالم ہے جانے والا ہے وہ یقیناً کیا ہوگا؟ جاندار ہوگا۔ تو آپ نے کہا: عالم بے جان نہیں ہے، دیکھو نفی کر رہے ہیں بے جان ہونے کی نفی کر رہے ہیں، تو یہ سالبہ ہوا، اور حرفِ سلب کس کا جز ہے؟ محمول کا، تو سالبہ معدولة المحمول ہو جائے گا یہ۔ ومثال الثالثِ، اور تیسرے کی مثال، تیسرا کون سا تھا بھئی؟ جس میں حرفِ سلب دونوں کا جز ہوگا، جیسے: اللا حیُ ليس بلا جمادٍ۔ لا حی جو ہے، یعنی بے جان جو ہے ليس بلا جمادٍ وہ لا جماد نہیں ہے۔ لا حی لا حی بے جان وہ لا جماد نہیں ہے، یعنی کیا ہے؟ جماد ہے۔ جو بے جان ہے وہ کیا ہے؟ جماد ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو دیکھیے لا حی سے لا جماد کی نفی کی گئی بھئی، تو یہ کیا ہوا؟ سالبہ، اور کون سا سالبہ؟ معدولة الطرفين بھئی معدولة الطرفين۔ تو یہ قضیہ معدولہ تھا بھئی مولانا، قضیہ معدولہ کے اندر جس میں حرفِ سلب جز ہوتا ہے موضوع کا یا محمول کا یا دونوں کا، پھر اس میں ایجاب بھی ہو سکتا ہے اور نفی بھی ہو سکتی ہے بھئی۔ تو اس اعتبار سے گویا اس کی چھ قسمیں ہو گئیں بھئی: موجبہ معدولة الموضوع، موجبہ معدولة المحمول، موجبہ معدولة الطرفين۔ سالبہ میں بھی اسی طرح: سالبہ معدولة الموضوع، سالبہ معدولة المحمول، سالبہ معدولة الطرفين بھئی۔ وغير المعدولةِ بخلافِها، اور غیرِ معدولہ وہ ہے جو اس کے خلاف ہو بھئی، یعنی جس میں حرفِ سلب نہ موضوع کا جز ہو اور نہ محمول کا جز ہو، کسی کا جز نہ ہو تو وہ قضیہ غیرِ معدولہ ہے بھئی، غیرِ معدولہ۔ بھئی اس کو معدولہ اور غیرِ معدولہ کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ بھئی معدولہ عدول سے ہے عدول سے، عدول کا معنیٰ ہٹنا۔ عدول کا معنیٰ ہٹنا، اعراض کرنا، پھر جانا، پلٹ جانا۔ تو یہاں بھی بھئی یہ جو حرفِ سلب تھا، یہ تو اس لیے وضع ہے، اس کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ یہ اس لیے وضع ہے کہ وہ جو ایک چیز کا اثبات ہے دوسری کے لیے اس کی یہ نفی کر دے، کیا کر دے؟ ایک چیز کا جو اثبات ہے اس اثبات ہے اس کو کس سے بدل دے یہ؟ نفی سے بدل دے، نفی سے بدل دے۔ بھئی میں کہتا ہوں: زیدٌ کاتبٌ، زید کیا ہے؟ کاتب ہے۔ تو یہ دیکھو نسبتِ ایجابیہ کی میں نے زید کی طرف، ایجاب کر رہا ہوں یا نفی کر رہا ہوں؟ ایجاب، تو یہ ہے نسبتِ ایجابیہ، یہ کیا ہے؟ نسبتِ ایجابیہ۔ تو حرفِ سلب اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ یہ اس نسبتِ ایجابیہ کی نفی کر دے، کیا کر دے؟ یہ نسبتِ ایجابیہ کی نفی کر دیتا ہے بھئی۔ چنانچہ آپ کہتے ہیں: زیدٌ ليس بکاتبٍ، تو ليس نے کیا فائدہ دیا؟ وہ جو نسبتِ ایجابیہ تھی کاتب ہونے کا اثبات تھا زید کے لیے اس کی یہ کیا کر دیتا ہے؟ نفی کر رہا ہے کہ اس کے لیے نسبتِ ایجابیہ نہیں ہے بلکہ نسبتِ سلبیہ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو حرفِ سلب وضع ہے اس لیے کہ یہ نسبتِ ایجابیہ کی نفی کرے، کیا کرے؟ جی، تو یہ نسبتِ ایجابیہ کی نفی کے لیے وضع ہے، یہ اس لیے تو نہیں وضع کہ اس کو موضوع یا محمول کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ تو جب آپ نے اس کو جوڑ دیا تو اس نے گویا کہ اپنی اصل جگہ سے عدول کر گیا، کیا کر گیا؟ اپنی اصل جگہ سے پھر گیا، پلٹ گیا، اعراض کیا اس نے اپنی اصل جگہ سے بھئی۔ یہ تو وضع تھا نسبتِ ایجابیہ کے سلب کے لیے، اس لیے تو نہیں وضع تھا کہ اس کو موضوع کے ساتھ جوڑ کر اس کا جز بنا دیں یا محمول کے ساتھ جوڑ کر اس کا جز بنا دیں۔ اور آپ نے تو ایسا کیا، لہذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ معدولہ کہتے ہیں کہ حرفِ سلب جو ہے وہ اپنی وضع سے کیا کر رہا ہے؟ عدول کر رہا ہے بھئی، عدول کر رہا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس لیے اس کو قضیہ معدولہ کہتے ہیں۔ آگے بتلا رہے ہیں: ويسمى غیرُ المعدولةِ فی الموجبةِ بالمحصلةِ، بھئی غیرِ معدولہ، بات بیان ہو چکی، غیرِ معدولہ کس کو کہیں گے؟ جس میں حرفِ سلب موضوع یا محمول کا جز نہ ہو۔ جیسے: زیدٌ کاتبٌ یا زیدٌ ليس بکاتبٍ، یہاں دیکھو زید کے ساتھ بھی کوئی لا نہیں جڑا ہوا، کاتب کے ساتھ بھی کوئی لا نہیں جڑا ہوا، کسی کا نہ موضوع کا جز ہے نہ محمول کا، تو یہ غیرِ معدولہ ہوا۔ یہ غیرِ معدولہ بھی تو منفی بھی تو ہو سکتا ہے، مثبت بھی ہو سکتا ہے، ایجاب بھی ہو سکتا ہے اس میں، سلب بھی ہو سکتا ہے: زیدٌ کاتبٌ، زیدٌ ليس بکاتبٍ۔ اگر یہ غیرِ معدولہ موجبہ ہو تو اس کو محصلہ بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ محصلہ۔ اور یہی غیرِ معدولہ جس میں حرفِ سلب کسی کا جز نہیں ہے، یہ اگر سالبہ ہو تو اس کو بسیطہ بھی کہتے ہیں، قضیہ بسیطہ۔ یہی غیرِ معدولہ اگر موجبہ ہو تو اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ محصلہ، اور یہی غیرِ معدولہ اگر یہ سالبہ ہو تو اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ بسیطہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ زیدٌ کاتبٌ، یہ محصلہ ہے یا بسیطہ ہے؟ محصلہ۔ زیدٌ ليس بکاتبٍ، یہ محصلہ ہے یا بسیطہ؟ بسیطہ۔ اچھا اب ان کے نام کیوں ہیں محصلہ اور بسیطہ؟ وہ بھی سمجھ لیں، بھئی دیکھیے میں نے کہا: زیدٌ کاتبٌ، یہ کون سا ہے؟ محصلہ ہے، محصلہ اس کو اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں نفی ہے ہی نہیں، موضوع اور محمول دونوں وجودی ہیں بھئی، دونوں کیا ہیں؟ وجودی ہیں۔ تو گویا دونوں حاصل ہیں، دونوں کیا ہیں؟ حاصل ہیں، یعنی ثابت ہیں، دونوں کیا ہیں؟ ثابت ہیں، اس لیے اس کو کہتے ہیں محصلہ، حاصل اور ثابت کا ایک معنیٰ بھئی۔ یعنی دونوں کا وجود ہے، دونوں کا وجود ہے، تو اس کو محصلہ کہتے ہیں، وجود اور حصول کا ایک معنیٰ ہے بھئی۔ اور جب سالبہ ہو تو اس کو بسیطہ کہتے ہیں، زیدٌ ليس بکاتبٍ، کیوں اس کو بسیطہ کیوں کہتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ یہاں پر زیدٌ ليس بکاتبٍ، حرفِ نفی کیا موضوع کا جز ہے؟ نہیں، محمول کا جز ہے؟ نہیں، موضوع کا بھی جز نہیں محمول کا بھی جز نہیں۔ موضوع کا جز ہوتا، بھئی یاد رکھیے بسیط اس کو کہتے ہیں جس کا کوئی جز نہ ہو۔ بسیط کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی جز نہ ہو۔ تو جب حرفِ نفی کسی کے ساتھ نہیں جڑا تو یہ بسیط رہا، اس کا کوئی جز نہیں۔ اس کا... ہاں اگر یہ محمول کے ساتھ جڑ جاتا تو دو جز ہو جاتے، ایک حرفِ نفی ایک محمول خود بھئی، اگر یہ کس کے ساتھ جڑ جاتا؟ موضوع کے ساتھ، تو دو جز ہو جاتے، لیکن یہ تو کسی سے بھی نہیں جڑا تو یہ اسی طرح بسیط ہے بھئی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ بسیطہ۔ تو زیدٌ کاتبٌ یہ ہے غیرِ معدولہ اور اس کے اندر اگر ایجاب ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ محصلہ، کیونکہ دونوں موضوع اور محمول دونوں وجودی ہیں، اور اگر اس میں سلب ہو، زیدٌ ليس بکاتبٍ، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ بسیطہ، کیونکہ اس میں حرفِ نفی کیا ہے؟ بسیط ہے بھئی، حرفِ نفی بسیط، تو ایک جز اس کا کیا ہے؟ بسیط ہے اور اسی کے اعتبار سے سارے کا نام ہی بسیطہ رکھ دیا گیا بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تسمية الكل باسم الجزء، جز کی وجہ سے سارے کا نام رکھ دیا جاتا ہے بعض اوقات۔ سب کو بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی بات کر رہے ہیں: ويسمى غیرُ المعدولةِ فی الموجبةِ بالمحصلةِ، اور کہا جاتا ہے غیرِ معدولہ کو موجبہ کے اندر محصلہ، وفي السالبةِ بالبسیطةِ، اور سالبہ میں اس غیرِ معدولہ کو کیا کہتے ہیں؟ بسیطہ کہتے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 53 of 108