Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-051

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 54
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 51 1 فصلٌ، المحصوراتُ أربعٌ: إحداها الموجبةُ الكليةُ كقولِكَ: "كلُّ إنسانٍ حيوانٌ"، والثانيةُ الموجبةُ الجزئيةُ نحو: "بعضُ الحيوانِ أسودُ"، والثالثةُ السالبةُ الكليةُ نحو: "لا شيءَ من الزنجيِّ بأبيضَ"، والرابعةُ السالبةُ الجزئيةُ نحو: "بعضُ الإنسانِ ليسَ بأسودَ". بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ حملیہ جو ہے، اپنے موضوع کے اعتبار سے چار قسم پر ہے۔ اگر اس کا موضوع شخصِ معین ہو—چاہے ایک ہوں یا زیادہ، لیکن جب وہ معین ہوں—تو اس کو قضیہ شخصیہ اور اسی طرح قضیہ مخصوصہ کہتے ہیں۔ اور اگر اس کا موضوع جو ہے، وہ جزئی نہیں ہے بلکہ کلی ہے، تو پھر وہ حکم کلی کی حقیقت پر لگایا گیا ہوگا یا اس کے افراد پر۔ اگر اس کی حقیقت پر حکم لگایا گیا ہے، تو یہ قضیہ طبعیہ کہلاتا ہے؛ جیسے "الإنسان نوعٌ" بھئی۔ تو یہ نوع ہونے کا حکم انسان کی حقیقت پر لگایا گیا، حقیقت کے اعتبار سے انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ افراد پر نہیں یہ حکم لگا؛ کیونکہ انسان کے افراد وہ نوع نہیں ہیں، وہ تو جزئی ہیں بھئی۔ یا اسی طرح "الحيوان جنسٌ" بھئی، حیوان کیا ہے؟ جنس ہے بھئی۔ یا جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی: "الرجل خير من المرأة"۔ تو یہ الرجل جو ہے عورت سے بہتر ہے۔ اب یہ حکم افراد پر نہیں لگایا گیا بلکہ کس پر لگایا گیا ہے؟ رجل کی حقیقت پر، اس کی جنس پر حکم لگایا گیا بھئی۔ اور اگر حکم افراد پر لگایا گیا ہو، تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: یا تو اس میں افراد کی مقدار بیان ہوگی کلیت اور بعضیت کے اعتبار سے، یا بیان نہیں ہوگی۔ اگر کلیت اور بعضیت کے افراد کے اعتبار سے افراد کی مقدار بیان ہو کہ کل پر یہ حکم ہے یا بعض پر یہ حکم ہے، تو اس کو قضیہ محصورة کہتے ہیں بھئی، قضیہ محصورة۔ جیسے "كل إنسان حيوان" بھئی، ہر انسان حیوان ہے۔ یا جیسے "بعض الحيوان إنسان"، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ تو یہ قضیہ محصورة کہلاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حصر کا معنی ہوتا ہے بند کرنا، تو یہاں بھی حکم کو کل یا بعض افراد پر بند کر دیا گیا ہے۔ اور اگر کلیت اور بعضیت کو بیان نہ کیا گیا ہو، ویسے ہی افراد پر حکم لگا دیا گیا، تو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں؛ جیسے "الإنسان في خسر"، انسان کیا ہے؟ خسارے میں ہے۔ انسان کے افراد خسارے میں ہیں، یہ بیان نہیں کہ کل افراد خسارے میں ہیں یا بعض افراد خسارے میں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب آپ بتائیے مثلاً: "میں لکھ رہا ہوں"، یہ کون سا قضیہ ہوگا؟ شاباش! کیونکہ میں اپنی ذات پر لکھنے کا حکم لگا رہا ہوں، تو معین اور مخصوص فرد پر یا مخصوص افراد پر، تو یہ قضیہ شخصیہ ہوا بھئی۔ اور اسی طرح اگر میں کہتا ہوں مثلاً: "بعض انسان جنتی ہیں"، یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ محصورة، شاباش بھئی شاباش! اور اگر بعض کے بجائے صرف میں یہ کہوں: "انسان جنتی ہیں"، تو یہ کون سا ہو جائے گا؟ قضیہ مہملہ ہو جائے گا کہ یہ نہیں بیان کیا گیا کہ بعض ہیں یا کل ہیں بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب یاد رکھیے، ان کے اندر مناطقہ جو ہیں، وہ قضیہ محصورة سے بحث کرتے ہیں۔ مناطقہ کس سے بحث کرتے ہیں؟ قضیہ محصورة سے بحث کرتے ہیں۔ تو لہٰذا آگے اس قضیہ محصورة کی تقسیم کرنے لگے ہیں، اور یہ آپ کو بتلائیں گے کہ قضیہ محصورة جو ہے وہ چار قسم پر ہے، چار قسم پر۔ آسان سی بحث ہے بھئی۔ کہ قضیہ محصورة کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر ہے کہ اس قضیہ محصورة کے اندر جس میں کلیت اور بعضیت بیان کی گئی ہے، اس میں یا تو حکم کا ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے حکم کا ثبوت ہوگا یا اس کی نفی ہوگی۔ اگر ثبوت ہے، تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: یا کل پر حکم لگایا گیا ہوگا یا بعض پر حکم لگایا گیا ہوگا۔ اور اگر نفی کی گئی ہے تو بھی، یا تو کل سے نفی کی گئی ہوگی یا بعض سے، تو چار قسمیں ہو جائیں گی بھئی۔ اگر کل کے لیے اثبات ہے، تو اس کو کہتے ہیں موجبة کلیة۔ بھئی اثبات ہو تو اس کو کیا کہتے تھے قضیہ کو؟ موجبة کہتے تھے، اور اگر نفی ہو تو اس کو کیا کہتے تھے؟ سالبة۔ تو بس موجبة اور سالبة پھر دو دو قسم پر اس کے اندر ہو گئے۔ اگر کل پر اس ثبوتِ شئے کا حکم لگایا گیا، تو یہ کیا ہے؟ موجبة کلیة۔ اور اگر بعض پر کے لیے ثبوتِ شئے کا حکم ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبة جزئیة۔ بعض پر، موجبة جزئیة۔ اگر کل پر ہو، کل کے لیے اثباتِ شئے ہو تو موجبة کلیة، اگر بعض کے لیے اثباتِ شئے ہو تو موجبة جزئیة۔ اسی طرح سالبة کے اندر بھی، اگر کل سے نفی کی گئی ہو تو سالبة کلیة، اور اگر بعض سے نفی کی گئی ہو تو سالبة جزئیة بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسان سی بحث ہے بھئی۔ دیکھیے: فصلٌ، أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ المحصورات أربعٌ، محصورات چار ہیں، یعنی قضیہ محصورة کتنے ہیں؟ چار ہیں۔ إحداها الموجبة الكلية، ان میں سے ایک جو ہے وہ موجبة کلیة ہے۔ موجبة کلیة کا کیا معنی؟ موجبة سے کیا پتہ چلا؟ ثابت ہے، یعنی ایک شئے کا ثبوت ہوگا دوسری شئے کے لیے، اور کلیة سے کیا پتہ چلا؟ تمام افراد پر یہ حکم ہوگا۔ كقولك: "كل إنسان حيوان" بھئی، ہر انسان حیوان ہے۔ تو یہاں حیوان ہونے کا حکم لگایا گیا انسان پر، یعنی حیوان ہونے کا اثبات ہے انسان کے لیے تو موجبة ہوا، اور پھر "كل إنسان"، ہر انسان پر یہ حکم لگایا گیا تو یہ کلیة ہوا، کون سا؟ کلیة۔ تو یہ ہوا موجبة کلیة۔ والثانية الموجبة الجزئية، اور دوسری قسم کیا ہے؟ موجبة جزئیة ہے، نحو: "بعض الحيوان أسود"، بعض حیوان کیا ہیں؟ اسود ہیں، سیاہ ہیں۔ بعض حیوان کالے ہیں بھئی۔ دیکھیے: ہاتھی کالا ہے، بھینس کالی ہے، سانپ کالا ہے، اور اسی طرح بعض حیوانات، کوا کالا ہے، لیکن تمام تو نہیں ہیں۔ تو بعض پر یہ حکم لگایا گیا، تو یہ کون سا قضیہ ہوگا؟ موجبة جزئیة بھئی۔ والثالثة السالبة الكلية، اور تیسرا جو ہے وہ سالبة کلیة ہے، نحو: "لا شيء من الزنجي بأبيض"۔ زنجی کہتے ہیں حبشی کو بھئی، حبشی کو۔ "لا شيء من الزنجي"، کوئی بھی چیز حبشی میں سے، یعنی کوئی بھی حبشی، کوئی بھی حبشی وہ سفید نہیں ہے بھئی۔ بھئی حبشی کہتے ہی اس کو ہیں جس کا رنگ کالا ہو، رنگ کالا نہیں تو اس کو تو حبشی کہتے ہی نہیں ہیں۔ تو کوئی بھی حبشی کالا نہیں ہے—کوئی بھی حبشی سفید نہیں ہے۔ تو یہاں سفید ہونے کا ثبوت ہے یا نفی ہے؟ نفی ہے۔ اور بعض سے ہے یا سب حبشیوں سے؟ سب سے۔ تو یہ کلیة ہوا، اور سالبة یا موجبة؟ سالبة۔ تو سالبة کلیة ہوا، یہ کیا ہوا؟ سالبة کلیة۔ تو کہتے ہیں جیسے "لا شيء من الزنجي بأبيض"، کوئی حبشی سفید نہیں ہے۔ والرابعة السالبة الجزئية، اور چوتھی قسم جو ہے وہ سالبة جزئیة ہے، نحو جیسے کہ: "بعض الإنسان ليس بأسود"، بعض انسان جو ہیں وہ کالے نہیں ہیں۔ بعض انسان کالے نہیں ہیں۔ اب دیکھیے: کالے ہونے کا اثبات کیا گیا یا نفی کی گئی؟ نفی، تو یہ ہے سالبة۔ اور تمام انسانوں سے یا بعض انسانوں سے؟ بعض سے، تو ہوا جزئیة۔ تو یہ کیا کہلائے گا؟ سالبة جزئیة بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا قضیہ محصورة کے اندر کسی شئے کا اثبات ہوگا یا کسی شئے کی نفی۔ اگر اثبات ہو تو موجبة، اگر نفی ہو تو سالبة۔ پھر اثبات یا تو تمام افراد کے لیے ہوگا یا بعض افراد کے لیے۔ اگر تمام افراد کے لیے اثبات ہو تو موجبة کلیة، اور اگر بعض افراد کے لیے اثبات ہو تو موجبة جزئیة۔ اور اگر نفی ہو تو وہ بھی اسی طرح، یا تو نفی ہوگی تمام افراد سے یا بعض افراد سے۔ اگر تمام افراد سے نفی ہو تو سالبة کلیة، اور اگر بعض افراد سے نفی ہو تو سالبة جزئیة بھئی۔ فصلٌ، الذي يبين به كمية الأفراد من الكلية والبعضية يسمى سوراً. اب یاد رکھیے، یہ جو "كل" اور "بعض"، جس کے ذریعے افراد کی مقدار بیان کی گئی کہ حکم سب پر ہے یا بعض پر، یہ جو لفظ ہیں جن کے ذریعے کل یا کلیت یا بعضیت کا پتہ چلتا ہے—مثلاً ابھی مثالیں گزریں، یہاں کلیت کا پتہ کس لفظ سے چل رہا تھا؟ "كل" سے، اور بعضیت کا پتہ کس لفظ سے چل رہا تھا؟ "بعض" کے لفظ سے—یہ جو لفظ ہیں، یہ جو کلیت اور بعضیت کو بیان کرتے ہیں، اس کو سور کہا جاتا ہے۔ کیا کہتا ہے—کیا کہتے ہیں؟ سور۔ یہ ماخوذ ہے اصل میں "سور البلد" سے، سور البلد۔ بلد یعنی شہر، اور سور البلد یعنی یہ جو شہر کے گرد قدیم زمانے کے اندر دیوار بنائی جاتی تھی حفاظت کے لیے بھئی۔ تو یہ جو شہر کے گرد یہ دیوار، چار دیواری ہوتی، اس کو سور البلد کہا جاتا تھا۔ کیا کہتے تھے؟ سور البلد۔ تو جسے شہر پناہ بھی کہتے ہیں بھئی، اردو میں کیا کہتے ہیں؟ شہر پناہ بھئی۔ تو یہ جو دیوار بنائی جاتی تھی شہر کے گرد، اس کو سور البلد کہا جاتا، اور جس طرح یہ دیوار شہر کی حد بندی کر دیتی تھی، کیا کرتی تھی؟ شہر کی حد بندی کر دیتی تھی بھئی، اسی طرح یہ "كل" اور "بعض" کے لفظ بھی یہ اس موضوع کی حد بندی کر دیتے ہیں کہ حکم تمام افراد پر ہے یا بعض پر، یہ بیان کر دیتے ہیں، ان کی حد بندی کر دیتے ہیں۔ تو اس لیے ان کو بھی کیا کہا جاتا ہے؟ سور کہا جاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو اب اس فصل کے اندر بھئی، بتلائیں گے کہ چار قسمیں ہم نے آپ کو بتا دیں: موجبة کلیة، موجبة جزئیة، سالبة کلیة، سالبة جزئیة۔ ان میں سے ہر ایک کا سور بیان کریں گے بھئی، کہ کون کون سے لفظ ہیں جو موجبة کلیة کے لیے آئیں گے جن سے کلیت کا فائدہ ہوگا، کون سے لفظ ہیں جو موجبة جزئیة کے لیے آئیں گے جن سے جزئیات کا فائدہ ہوگا، کون سے لفظ ہیں جو سالبة کلیة کے لیے آئیں گے جن سے کل افراد کی سے حکم کی نفی ہوگی، اور کون سے سور جو ہیں وہ سالبة جزئیة کے لیے آئیں گے، استعمال ہوتے ہیں، وہ بیان ہوں گے بھئی۔ آسان سی بات ہے، دیکھیے بھئی: فصلٌ، أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ الذي يبين به كمية الأفراد من الكلية والبعضية يسمى سوراً، وہ چیز، وہ لفظ يبين به کہ جس کے ذریعے بیان کیا جاتا ہو كمية الأفراد افراد کی مقدار کو، الذي وہ لفظ بھئی مراد ہے۔ وہ لفظ جس کے ذریعے افراد کی مقدار کو بیان کیا جاتا ہے من الكلية والبعضية یعنی کہ کلیت اور بعضیت۔ یہ وہ کمیت کا معنی بتلا رہے ہیں بھئی، کمیتِ افراد سے کیا مراد ہے؟ یعنی کہ کلیت اور بعضیت، یعنی کل ہونا یا بعض ہونے کو بیان کیا جاتا ہے، يسمى سوراً اسے سور کہتے ہیں۔ امیر اسے سور کہتے ہیں۔ الذي يبين به كمية الأفراد من الكلية والبعضية يسمى سوراً، وہ لفظ جس کے ذریعے افراد کی مقدار کو بیان کیا جاتا ہے یعنی کلیت اور بعضیت کو، يسمى سوراً اسے سور کہتے ہیں۔ وهو مأخوذ من سور البلد، اور یہ ماخوذ ہے سور البلد سے، یہ سور کا لفظ سور البلد سے اخذ کیا گیا ہے، اس سے لیا گیا ہے۔ وسور، اب بتلانے لگے ہیں بھئی: وسور الموجبة الكلية "كل" ولام الاستغراق. موجبة کلیة کا سور ایک تو "كل" کا لفظ ہے بھئی، ولام الاستغراق، اور دوسرا کیا ہے؟ لامِ استغراق۔ بھئی یہ جو الف لام ہے، یاد رکھیے الف لام، یہ اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو اس کے ذریعے بعض اوقات حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور بعض اوقات اس کے ذریعے افراد کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ حقیقت کی طرف اشارہ؛ جیسے ابھی کل بلکہ آج میں نے مثالیں ذکر کیں: "الإنسان نوعٌ" بھئی، تو یہ الف لام جو آیا، اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ؟ حقیقت کی طرف بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ اور بعض اوقات اس کے ذریعے افراد، تمام افراد کی طرف اشارہ ہوگا، تو اس صورت میں اس کو لامِ استغراق کہتے ہیں۔ جیسے وہی مثال: "الإنسان في الخسر"، جیسے آیت میں آتا ہے بھئی: "إن الإنسان لفي خسر"، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ یہ تمام کا معنی کہاں سے آیا بھئی؟ یہ الف لام سے آیا۔ "إن الإنسان لفي خسر"، یقیناً تمام انسان کس میں ہیں؟ خسارے میں۔ کیونکہ الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اشارہ یا تو حقیقت اور ماہیت کی طرف ہوگا يا کس کی طرف ہوگا؟ افراد کی طرف۔ پھر اگر تمام افراد کی طرف اشارہ ہو تو اس کو الف لام استغراقی کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ کس کی طرف اشارہ ہو؟ تمام افراد کی طرف، تو دیکھیے ابھی تمام کے ساتھ میں ترجمہ کر رہا ہوں بھئی: "إن الإنسان لفي خسر"، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ تو یہ تمام میں نے کس کا معنی کیا؟ یہ الف لام کا معنی کیا بھئی، اس نے تمام کا فائدہ دیا بھئی، تمام افراد کی طرف اشارہ۔ اس کو الف لام استغراقی کہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ الف لام استغراقی۔ تو ایک تو "كل" کا لفظ ہے بھئی، وہ اوپر پڑھ چکے۔ کس کی بات—کس کے سور کی بات چل رہی ہے؟ موجبة کلیة، موجبة کلیة۔ اس کا سور جو ہے، "كل" ہوگا، ولام الاستغراق، اور لامِ استغراق ہوگا۔ وسور الموجبة الجزئية، اور موجبة جزئیة کا سور جو ہے، "بعض" و"واحد من الجسم جماد". یہ عبارت بھئی، وہ معلوم ہوتا ہے کسی کاتب سے یہاں کتابت میں غلطی ہوئی بھئی۔ "بعض" اور "واحد" کو الگ ذکر کرتے، اور پھر کہتے: "نحو"، جیسے کہ 2 کہتے ہیں موجبہ کس کی بات چل رہی ہے؟ موجبہ جزئیہ۔ موجبہ یعنی ثبوت شے ہو موضوع کے لیے اور جزئیہ یعنی بعض افراد کے لیے شے کا ثبوت ہو، کل افراد کے لیے نہ ہو۔ اس کے لیے بعض اور واحد کے لفظ ہیں بھئی، بعض اور واحد۔ جیسے دیکھیے، یہ ایک دو مثالیں انہوں نے اکٹھی کر دیں بھئی۔ جیسے اب صرف بعض کے ساتھ بنائیں: بعض من الجسم جماد۔ بعض من الجسم جماد۔ بعض جسم جو ہیں وہ بے جان ہیں۔ جماد کا کیا معنی؟ بے جان بھئی، بے حس بھئی۔ یہ تیسری نوع بھئی، ایک تو ہیں حیوانات، دوسرے ہیں نباتات یعنی یہ پودے وغیرہ، اور تیسری یہ جمادات بھئی یعنی پتھر وغیرہ، یہ جو بے جان چیزیں ہیں یہ سب کس میں داخل ہیں؟ جمادات میں بھئی۔ تو جماد بے جان کو کہتے ہیں۔ مثلاً تو کس کی بات چل رہی ہے؟ موجبہ جزئیہ کا سور وہ بعض اور واحد ہو گا بھئی، بعض اور واحد۔ جیسے آپ کہیں: بعض من الجسم جماد۔ بعض جسم کیا ہیں؟ جماد۔ بھئی تمام جسم تو بے جان نہیں۔ حیوان بھی تو جسم رکھتا ہے، وہ جسم کیا ہیں؟ جاندار ہیں بھئی۔ البتہ بعض جسم کیا ہیں؟ بے جان ہیں، پتھر ہے۔ اور پتھر ہے، پانی ہے اور یہ تمام چیزیں بھئی جتنی بے جان یہ آپ کی گاڑی ہے، موٹر سائیکل ہے، سائیکل ہے وغیرہ، یہ سب چیزیں کس میں داخل ہیں؟ جمادات کے اندر داخل ہیں، سب بے جان چیزیں ہیں۔ جی، یہ پہلی مثال کیا ذکر کی؟ بعض من الجسم جماد۔ بعض جسم کیا ہیں؟ جماد۔ یا واحد من الجسم جماد۔ اس کا بھی وہی معنی ہے۔ واحد من الجسم جماد۔ ایک جسم میں سے جماد ہے یعنی بعض، مراد وہی ہے بھئی بعض جسم کیا ہیں؟ جماد ہیں، بے جان ہیں بھئی۔ مثالیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ کیا ہے؟ بعض من الجسم جماد، دوسرا واحد من الجسم جماد۔ انہوں نے ملا دیا ہے دونوں کو بھئی۔ تو عبارت اصل میں تو یوں ہونی چاہیے تھی: والسور الموجبة الجزئية بعض وواحد، نحو بعض وواحد من الجسم جماد۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو نحو کے ساتھ پھر الگ جملے میں ذکر ہوتے یہ۔ جماد بے جان کو کہتے ہیں بھئی۔ اسی طرح بھئی، یہ عربی مہینوں، اسلامی مہینوں کے نام جو ہیں، اس میں پانچواں اور چھٹا مہینہ کیا ہے؟ پہلا ہے محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، آگے؟ ہاں، یہ عام شائع غلطی ہے مولانا، عام شائع غلطی آپ کو ملے گی بھئی۔ یہ جمادی الاول کہتے ہیں، جمادی الثانی، یہ غلط ہے بھئی۔ یہ لفظ ہے جمادیٰ، جمادیٰ۔ دال پر کھڑی زبر ہے۔ یہ لکھتے یا ہیں ساتھ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جمادیٰ لفظ ہے اور پھر یہ لفظ مؤنث ہے، جمادیٰ۔ معرفہ ہے اور معرفہ ہے اور مؤنث ہے۔ تو پھر آگے اس کی صفت لائی جاتی ہے۔ صفت بھی معرفہ اور مؤنث ہونی چاہیے۔ لہذا جمادیٰ الأولى، جمادیٰ الأولى۔ جمادیٰ الثانية۔ یہ ہے صحیح لفظ بھئی، یا جمادیٰ الثانية کو جمادیٰ الآخرة بھی کہہ دیا کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ عام شائع غلطی ہے۔ آپ ہمیشہ یاد رکھنا بھئی، جمادی الاول، جمادی الثانی نہیں بھئی، اس طرح نہیں ہے۔ جمادیٰ الأولى، جمادیٰ موصوف الأولى اس کی صفت۔ اور جمادیٰ الثانية، جمادیٰ موصوف الثانية اس کی صفت بھئی۔ تو جمادیٰ کے معنی جمی ہوا، جما ہوا بھئی، منجمد، منجمد۔ تو یہ قدیم نام ہیں مہینوں کے، کہیں ان مہینوں کے اندر پانچواں اور چھٹا مہینہ، ان میں سردی پڑی ہو گی اور اس کی وجہ سے پانی وغیرہ جمع ہو، جم گیا ہو گا تو اس کے نام ہی کیا رکھ دیے ان مہینوں کے؟ جمادیٰ بھئی، جمادیٰ الأولى اور جمادیٰ الثانية بھئی۔ والسور السالبة الكلية لا شيء ولا واحد۔ اور سالبہ کلیہ، بھئی جس میں نفی ہو اور تمام افراد سے نفی ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سالبہ کلیہ۔ اور سالبہ کلیہ کا سور جو ہے لا شيء اور لا واحد، لا شيء اور لا واحد ہیں۔ جیسے نحو لا شيء من الغراب بأبيض۔ غراب کہتے ہیں کوے کو۔ کوئی کوا سفید نہیں ہے۔ لا شيء من الغراب، کوئی بھی کوا سفید نہیں ہے۔ ولا واحد من النار ببارد، اور کوئی ایک آگ بھی ٹھنڈی نہیں ہے۔ کوئی آگ بھی ٹھنڈی، بارد یعنی ٹھنڈی بھئی، کوئی آگ بھی ٹھنڈی نہیں ہے۔ تو دیکھیے، یہ سالبہ کلیہ ہوا بھئی۔ تو اس کا سور کیا ہوا؟ لا شيء اور لا واحد۔ اور اسی طرح، تیسرا سور اسی سالبہ کلیہ کا، ووقوع النكرة تحت النفي، نکرہ کا تحت النفی واقع ہونا بھئی۔ نکرہ جب تحت النفی آئے، آپ نحو میں پڑھ چکے ہوں گے، وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ نکرہ سیاقِ اثبات میں آئے تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے اور نکرہ تحت النفی آئے یعنی سیاقِ نفی میں آئے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني رجل۔ نفی ہے یا اثبات ہے؟ اثبات ہے۔ میرے پاس، ترجمہ کیا کریں گے؟ میرے پاس ایک آدمی آیا۔ ایک آدمی آیا۔ دیکھو، ایک آدمی کے ساتھ میں ترجمہ کر رہا ہوں۔ جاءني رجل، میرے پاس ایک آدمی آیا۔ اسی پر میں ذرا دیکھیے نفی داخل کرتا ہوں: ما جاءني رجل۔ اب یہ نفی آ گئی۔ اور اب ترجمہ یہ نہیں کریں گے کہ میرے پاس ایک آدمی نہیں آیا، بلکہ میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا۔ ما جاءني رجل، میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا بھئی، کوئی آدمی نہیں آیا۔ تو دیکھیے، نکرہ، رجل نکرہ ہے اور تحت النفی آیا، اس سے پہلے نفی آ گئی، تو یہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ عموم کا۔ اب صرف ایک رجل کے آنے کی نفی نہیں، بلکہ تمام رجل کے آنے کی نفی ہو گئی بھئی۔ تو یہ ہے نکرہ تحت النفی۔ جب نکرہ تحت النفی آئے تو وہ عموم کا فائدہ دے گا، تمام افراد کا احاطہ کر لے گا اور سب کی نفی کر دے گا، یعنی تمام افرادِ رجل کے آنے کی، تمام افرادِ رجل سے آنے کی نفی ہو گئی۔ کوئی بھی نہیں آیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو نکرہ تحت النفی، یہ بھی کیا ہے؟ سور ہے، کس کا؟ سالبہ کلیہ کا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ووقوع النكرة تحت النفي، اور نکرہ کا واقع ہونا نفی کے تحت، نحو ما من ماء إلا وهو رطب۔ ما پہلا نفی کے لیے ہے۔ نہیں ہے کوئی پانی إلا وهو رطب مگر وہ تر ہے، تر۔ تر یعنی گیلا۔ کوئی پانی نہیں ہے مگر وہ تر ہے، گیلا ہے۔ یعنی ہر پانی کا ہر فرد تر ہے۔ پانی کا ہر فرد تر ہے، گیلا ہے۔ رطب بھئی، رطب۔ اب دیکھیے، معنیٰ کے اعتبار سے یہاں اثبات ہے۔ کیا معنیٰ کیا میں نے؟ پانی کا ہر فرد تر ہے۔ نفی ہے؟ نہیں۔ ہاں، لیکن لفظوں میں نفی تھی تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں لفظوں کے اعتبار سے؟ سالبہ کلیہ کہیں گے بھئی اس کو۔ ما من ماء إلا وهو رطب، نہیں ہے کوئی پانی مگر یہ کہ وہ تر ہے۔ تو معنیٰ کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ اثبات ہے اس کے اندر، تمام افرادِ، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو، معنیٰ میں بھی نفی ہے۔ کس طرح نفی ہے؟ پانی کے ہر فرد سے غیرِ رطب ہونے کی نفی ہے۔ جب پانی کا ہر فرد رطب ہوا، تو معلوم ہوا کوئی بھی فرد غیرِ رطب نہیں، تو پانی کے تمام افراد سے کیا ہو گئی؟ غیرِ تر ہونے کی نفی ہو گئی کہ پانی کا کوئی فرد غیرِ رطب نہیں ہے، سب کے سب کیا ہیں؟ رطب ہیں۔ جی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنیٰ ہے ما من ماء إلا وهو رطب، نہیں ہے کوئی پانی مگر وہ تر ہے۔ وسور السالبة الجزئية، اور سالبہ جزئیہ کا سور ليس بعض۔ یا تو کیا ہو گا؟ ليس بعض۔ كقولك، جیسے آپ کہتے ہیں: ليس بعض الحيوان بحمار۔ نہیں ہیں بعض حیوان گدھے۔ بعض حیوانات گدھے نہیں ہیں۔ بعض حیوانات گدھے نہیں ہیں۔ تو یہ اب تمام حیوانات سے گدھے ہونے کی نفی کی یا بعض حیوانات سے؟ بعض سے، تو یہ کیا ہوا؟ سالبہ جزئیہ۔ سالبہ جزئیہ، تو اس کا پہلا سور کیا ذکر کیا؟ ليس بعض۔ اور دوسرا سور وبعض ليس، اور بعض ليس۔ یہاں بعض کے لفظ کو مقدم کیا اور ليس کو مؤخر کیا۔ بھئی پیچھے جو تھا نا ليس بعض، یہ تو اسی طرح اکٹھے رہتے ہیں، ليس کے ساتھ ہی بعض آتا ہے، جیسے جملہ بنایا: ليس بعض الحيوان بحمار۔ دیکھا ليس کے فوراً بعد کیا آیا جملے میں؟ بعض، دونوں اکٹھے ہیں۔ لیکن اگر بعض پہلے ہو اور ليس بعد میں ہو تو پھر الگ الگ ہو جائیں گے۔ بعض داخل ہو جائے گا موضوع پر اور ليس داخل ہو جائے گا محمول پر بھئی، جیسے دیکھیے: كما تقول، جیسے آپ کہتے ہیں: بعض الفواكه ليس بحلو۔ آپ کی کتابوں میں حلوٌّ ہے، واؤ مشدد ہے؟ واؤ مشدد نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ بحلوٍ، بحلوٍ۔ حلوٌ کہتے ہیں میٹھے کو بھئی، حلوٌ۔ بعض فواکہ، پھل بھئی، پھل۔ یہ فاکہہ کی جمع ہے فواکہ بھئی۔ بعض الفواكه ليس بحلو، بعض پھل میٹھے نہیں ہوتے، بعض پھل میٹھے نہیں ہیں۔ بعض پھل میٹھے نہیں ہیں۔ تو دیکھیے، بعض الفواكه، بعض داخل ہوا موضوع پر اور ليس بحلو، ليس کس پر داخل ہوا؟ محمول پر بھئی، یہ الگ ہو گئے۔ تو بہرحال، چاہے اکٹھے آئیں یا الگ آئیں، یہ سور ہے سالبہ جزئیہ کا۔ اعلم، جان لے، جی، آگے اب آپ کو یہ بتائیں گے کہ یہ تو ہم نے عربی کے زبان کے اعتبار سے کچھ سور ذکر کر دیے، جن کے ذریعے کلیت اور جزئیت کو بیان کیا جاتا ہے، لیکن ہر زبان میں اپنے اپنے سور ہوتے ہیں جن کے ذریعے کلیت اور جزئیت کو بیان کیا جاتا ہے بھئی۔ ہر زبان کے اپنے اپنے سور ہوں گے، جس میں بعض کے ذریعے کلیت بیان ہو گی اور بعض کے ذریعے جزئیت بیان ہو گی بھئی، جیسے ایک فارسی کی مثال ایک ذکر کر دیں گے بس، صرف یہ بتلانے کے لیے کہ دیکھیے، ہر زبان میں اپنے اپنے سور ہیں بھئی۔ اعلم، جان لے تو أن في كل لسان سورا، کہ ہر زبان کے اندر سور ہوتا ہے، سورا۔ دیکھیے، إن، أن وغیرہ کے بعد جار مجرور آ رہے ہیں، اور إن اور أن ایک اسم چاہتے ہیں، ایک خبر۔ اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ ان کے بعد اگر جار مجرور آئے تو ان کو یاد رکھیے، ہمیشہ ان کی خبر بناتے ہیں اور اسم پھر اس کا مؤخر ہوتا ہے۔ اسی لیے آگے سورا، في كل لسان سورا، یہ أن کا اسمِ مؤخر ہے اور یہ اسی وجہ سے منصوب ہے کہ أن کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔ اور پھر سور نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد يخصها فعل آ رہا ہے، اور یاد رکھیے نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کی صفت بنتا ہے۔ کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور پھر ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ ایک ہے موصوف، ایک صفت۔ موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لے آتے ہیں اردو میں بھئی۔ ایسا یا ایسی۔ تو دیکھیے، یہ سور موصوف ہے، يخصها فعل اس کی صفت ہے، تو سور سے پہلے میں ایسا کا لفظ لاؤں گا بھئی، دیکھیے۔ اعلم، تو جان لے أن في كل لسان سورا يخصها، کہ بے شک، کہ جان لے تو کہ ہر زبان میں ایسا سور ہوتا ہے يخصها کہ وہ خاص ہوتا ہے اس زبان کے ساتھ، کہ وہ خاص ہوتا ہے اس زبان۔ يخص کے اندر ہو ضمير ہے، وہ راجع ہے سور کو کہ وہ سور خاص ہوتا ہے، ہا زبان، ہا جو ہے یہ لسان کو راجع بھئی۔ ہر زبان میں کیا ہوتا ہے؟ سور، کہ جان لے تو کہ ہر زبان میں ایسا سور ہوتا ہے يخصها جو خاص ہوتا ہے اس زبان کے ساتھ۔ ففي الفارسية لفظ "ہر" سور الموجبة الكلية، پس فارسی زبان کے اندر لفظِ "ہر" جو ہے، ہر کا لفظ، یہ موجبہ کلیہ کا سور ہے۔ کس کا سور ہے؟ موجبہ کلیہ کا سور ہے۔ جیسے۔۔۔ بھئی، جیسے کوئی مثال بنا لیں بھئی۔ شعر آ رہا ہے، اس کے اندر بھی "ہر" کا لفظ ہے۔ ہر انسان حیوان است۔ ہر انسان حیوان است، ہر انسان حیوان ہے۔ تو دیکھو، انسان کے بعض افراد پر حکم لگایا یا تمام افراد پر؟ تمام افراد پر، تو دیکھو یہ تمام افراد کے لیے اثبات ہوا اور تو یہ موجبہ کلیہ ہوا اور اس میں کون سا سور استعمال ہوا موجبہ کلیہ کے لیے؟ "ہر" کا لفظ استعمال ہوا بھئی۔ كقول الشاعر، جیسے کہ شاعر کا قول ہے، بیت، بیت شعر کو کہتے ہیں، شعر بھئی: ہر آنکس کہ در بندِ حرص افتاد دہد خرمنِ زندگانی بہ باد ہر آنکس کہ در بندِ حرص افتاد، آن کا معنیٰ ہے "وہ"، کس کا معنیٰ ہے "شخص"۔ ہر وہ شخص کہ در بندِ حرص، بند کہتے ہیں جال کو، قید کو۔ بند کسے کہتے ہیں؟ قید کو اور جال کو۔ حرص، لالچ کو بھئی، لالچ۔ افتاد، واقع ہونا، واقع ہونا۔ ہر وہ شخص کہ جو لالچ کے جال، در کا معنیٰ ہے "میں"، میں، ہر وہ شخص جو لالچ کے جال میں افتاد واقع ہو جائے۔ لالچ کے جال میں پڑ جائے۔ یا یوں کہیں: ہر وہ شخص جو لالچ کے جال میں پھنس جائے۔ اس میں واقع ہو جائے یعنی اس میں پھنس جائے۔ دہد، دیتا ہے وہ۔ خرمن، خرمن کہتے ہیں ڈھیر کو، انبار کو بھئی۔ کسی چیز کا ڈھیر ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ خرمن۔ اسی طرح خرمن فصل کو بھی کہتے ہیں۔ زندگانی، یہ زندگی بھئی۔ بہ باد، یہ ایک "بہ" الگ ہے اور "باد" لفظ یہ ہوا کو کہتے ہیں، ہوا کو۔ دہد خرمنِ زندگانی بہ باد، دے دیتا ہے وہ زندگی کی فصل ہوا کو۔ زندگی کی فصل کس کو دے دیتا ہے؟ ہوا، یعنی زندگی کی فصل ہوا کے حوالے کر دیتا ہے، یعنی ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ ہر وہ شخص جو حرص کے اندر پڑ جاتا ہے، حرص کے جال میں پھنس جاتا ہے، وہ دے دیتا ہے زندگی کے فصل کو یا زندگی کے ڈھیر کو ہوا کے، ہوا کو۔ زندگی کے ڈھیر کو ہوا کے حوالے کر دیتا ہے بھئی۔ کہ ہر وہ شخص جو حرص کے جال میں پڑ گیا، حرص کے جال میں پھنس گیا، دہد خرمنِ زندگانی بہ باد، دے دیتا ہے وہ زندگی کا ڈھیر ہوا کو، یعنی وہ زندگی کے ڈھیر کو ہوا کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ زندگی کے ڈھیر کو ہوا کے حوالے کر دیتا ہے۔ بھئی دیکھیے، فصل جب پک کر تیار ہو جائے تو پھر اس کو کاٹ کاٹ کر ایک جگہ پر کھیت کے اندر ڈھیر کر دیا جاتا ہے، جمع کر دیا جاتا ہے بھئی۔ اور پھر اس کو ویسے ہی نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ فوراً ہی اس سے اگلا عمل یعنی اس سے۔۔۔ 3 دانوں کو الگ کرنے کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر اس کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے گا تو ہوائیں اورالگ اندھیاں اس کو اڑا کر لے جائیں گی، ختم کر دیں گی، ضائع کر دیں گی بھئی۔ تو یہ جو فصل کاٹ کر ڈھیر لگا دیا گیا، یہ ہے خرمن بھئی۔ کیا ہے؟ خرمن ہے۔ خرمن ہے، ڈھیر ہے بھئی۔ تو شاعر اس شعر کے اندر حرص یعنی لالچ کے ہولناک نتائج سے آگاہ کر رہا ہے جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں لالچ بری بلا ہے۔ تو شاعر اس شعر میں یہی بتلا رہا ہے کہ لالچ بڑی بری چیز ہے جو لالچ کے اندر پھنس جاتا ہے، جو لالچ میں واقع ہو جاتا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی فصل کا وہ ڈھیر ہوا کے اندر چھوڑ دے تو ہوائیں کیا کر دیں گی؟ ہوائیں اور اندھیاں اس کی ساری فصل کو ضائع کر دیں گی، وہ ساری فصل ختم ہو جائے گی۔ تو لالچ بھی اسی طرح جب انسان کوئی اس میں پڑتا ہے تو یہ لالچ اس کی زندگی کی تباہی و بربادی کا باعث بن جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا شعر کا بھئی؟ جی تو یہ معنی ہے: ہر آنکس کہ در بندِ حرص افتاد دہد خرمنِ زندگانی بباد ہر وہ شخص جو حرص کے جال میں پھنس جاتا ہے، وہ زندگی کے ڈھیر کو ہوا کے حوالے کر دیتا ہے۔ کہ حرص اس کی زندگی کی بربادی کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ تو شعر کا مفہوم تھا بہرحال۔ مصنف نے اس کو صرف وہ لفظِ "ہر" کی مثال کے طور پر ذکر کیا کہ یہ سور ہے موجبة کلیة کا فارسی کے اندر۔ جیسے عربی میں "کل" کا لفظ تھا "کلٌ"، اسی طرح فارسی میں کیا لفظ ہے؟ "ہر" لفظ ہے بھئی۔ تو اس کی مثال کے طور پر مصنف نے اس شعر کو ذکر کیا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 51 of 108