LESSONS NO. 29
1
فصلٌ. المتکثر المعنیٰ لہُ اقسامٌ عدیدۃٌ۔ ووجہ الحصر ان اللفظ الذي کثر معناہُ ان وُضع ذلک اللفظُ لکلِ معنیً ابتداءً باوضاعٍ متعددۃٍ علیٰ حدۃٍ یسمّٰی مشترکاً کالعین وُضع تارۃً للذہب وتارۃً للباصرۃ وتارۃً للرکبۃ۔
اچھا بھئی گزشتہ اسباق کا خلاصہ ہم کر رہے تھے۔ کل باقی اسباق کا خلاصہ ہو گیا۔ آخر میں آپ پڑھ رہے تھے کہ منطقی جو ہے وہ اس کا کام جو ہے معانی سے بحث کرنا ہے، الفاظ سے بحث کرنا اس کا کام نہیں۔ لیکن چونکہ ایک دوسرے کو سمجھنا اور سمجھانا یہ الفاظ پر موقوف ہوتا ہے، اس سے مجبورا منطقہ کو شروع میں کچھ الفاظ کی بحث ذکر کرنا پڑتی ہے اپنی کتابوں میں۔
چنانچہ پھر انہوں نے دلالت کی اقسام، دلالت کا معنیٰ اور دلالت کی اقسام ذکر کیں بھئی۔ دلالت کی اقسام۔ کہ دلالت کسے کہتے ہیں؟ رہنمائی کرنے کو، اور اصطلاح میں دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کا اس طرح ہونا کہ اس سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ اور پھر اس کی تقسیم کی تھی دال کے اعتبار سے، یعنی وہ چیز جو دلالت کرنے والی ہے، اور جس چیز پر دلالت ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ مدلول۔
تو دال کے اعتبار سے دلالت دو قسم پر ہے کہ دال یا لفظ ہوگا یا غیر لفظ۔ اگر لفظ ہو تو وہ دلالتِ لفظیہ، اور اگر دال لفظ نہ ہو تو وہ دلالتِ غیر لفظیہ ہے۔ پھر اگر وہ دال جو ہے باعتبارِ وضع کے ہو، یعنی اس کو مقرر کیا ہے ایک دوسری چیز کے لیے، تو یہ دلالتِ وضعیہ ہے۔ اور اگر وہ دال جو ہے طبیعت کے اقتضا کی وجہ سے پیدا ہو تو اسے دلالتِ طبعیہ کہتے ہیں۔ اور اگر ان دونوں کے علاوہ ہو تو اسے دلالتِ عقلیہ کہتے ہیں۔
اور دلالتِ لفظیہ کے اندر بھی یہ تینوں قسمیں آئیں گی: وضعیہ، طبعیہ اور عقلیہ۔ اور غیر لفظیہ کے اندر بھی یہ تینوں قسمیں آئیں گی، تو وہ دلالتِ غیر لفظیہ بھی کبھی وضعیہ ہوگی، کبھی طبعیہ ہوگی اور کبھی عقلیہ ہوگی۔ اور ان سب کی مثالیں اور تفصیلات بھی بیان ہوئیں بھئی۔
پھر بتلایا تھا کہ ان میں سے جو ہے دلالتِ لفظیہ وضعیہ، اس میں سب سے زیادہ فائدہ ہے، لہذا اس کے بارے میں بحث ہوگی۔ پھر اس کے بعد اس میں بتایا تھا کہ دلالت جو ہے یہ تین قسم پر ہے کہ وہ لفظ، لفظ کی دلالت اپنے معنیٰ پر یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ لفظیہ۔ تو اس کی تقسیم آگے پھر کی تھی کہ یہ لفظ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہُ پر دلالت کرے گا، یا اپنے معنیٰ موضوع لہُ کے جز پر دلالت کرے گا، یا اس کے لازم پر بھئی۔
اگر کل پر دلالت کرے تو یہ دلالتِ مطابقی۔ اگر جز پر دلالت کرے تو دلالتِ تضمنی۔ اور اگر موضوع لہُ کے لازم پر، یعنی جس کے موضوع لہُ کے لازم پر دلالت کرے تو یہ دلالتِ التزامی ہے۔
پھر اس کے بعد آپ کو بتلایا تھا کہ وہ لفظ جو دلالت کرنے والا ہے، وہ یا تو مفرد ہوگا یا مرکب ہوگا۔ اور مفرد وہ کہ لفظ کے جز سے معنیٰ کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو۔ اور مرکب وہ کہ لفظ کے جز سے معنیٰ کے جز پر دلالت کا ارادہ ہو بھئی، ارادہ ہو۔
پھر اس کی مفرد کی تقسیم کی تھی تین اقسام کی طرف۔ کہ مفرد کا معنیٰ مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا۔ اگر مستقل نہیں، تو اسے منطقہ کے ہاں کیا کہتے ہیں؟ ادات کہتے ہیں۔ اور اگر معنیٰ مستقل ہے، پھر تین زمانوں میں سے ایک زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوگا یا نہیں ملا ہوگا۔ اگر ملا ہو تو یہ کلمہ ہے، اور اگر نہ ملا ہو تو یہ اسم ہے۔
آگے پھر تقسیم کرنے لگے مفرد کی ایک اور، اور وہ یہ کہ مفرد کا یا تو ایک معنیٰ ہوگا یا کئی معانی ہوں گے۔ وہ لفظ جو مفرد ہے اس کا ایک معنیٰ ہوگا یا کئی معانی ہوں گے۔ اگر معنیٰ ایک ہو تو اسے کہتے ہیں متحد المعنیٰ۔ اور اگر معنیٰ کئی ہوں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ متکثر المعنیٰ۔ جس کی آگے بحث ابھی آپ نے نہیں پڑھی بھئی۔
تو جس مفرد کا ایک معنیٰ ہو اسے کہتے ہیں متحد المعنیٰ، جس کے کئی معانی ہوں اسے متکثر المعنیٰ۔ پھر متحد المعنیٰ جو ہے مفرد، بتلایا کہ وہ تین قسم پر ہے، تین قسم پر۔ کہ وہ معنیٰ جس پر یہ مفرد دلالت کر رہا ہے، وہ متعین و مشخص ہوگا۔ میں نے بتلایا تھا مشخص اور متعین ایک ہی معنیٰ ہے بھئی۔ مشخص کا معنیٰ بھی متعین ہے بھئی۔
کہ وہ معنیٰ یا تو متعین و مشخص ہوگا، یعنی جس میں شرکت نہیں ہو سکتی، ایک معین چیز پر صادق آتا ہے، تو اسے علم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ علم کہتے ہیں۔ اور مصنف نے بتلایا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ اس قسم کا نام جزئی حقیقی رکھا جائے۔ کیا رکھا جائے؟ جزئی حقیقی۔
تو جزئی حقیقی کی وہی تعریف ہے جو علم کی ہے، کیونکہ اسی کے بارے میں بتلا رہے ہیں نا کہ علم کو کیا کہنا چاہیے؟ جزئی حقیقی۔ جزئی حقیقی اسے کہتے ہیں جس میں شرکت نہ ہو سکے اور کسی متعین ذات پر وہ دلالت کرے بھئی، اس پر صادق آئے۔ مثلاً زید ہے، عمر ہے، بکر ہے، ھٰذا، ھو وغیرہ بھئی۔ یہ کیا ہیں؟ کسی متعین ذات پر صادق آتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک جزئی اضافی ہے۔ اضافی کا کیا معنیٰ؟ نسبت والی۔ جزئی اضافی، یعنی نسبت والی جزئی۔ تو یہ تو جو ابھی آپ نے پڑھی، یہ جزئی حقیقی ہے، یعنی یہ حقیقۃً کیا ہے؟ ایک ہی فرد پر صادق آتی ہے، زیادہ پر صادق نہیں آتی۔ جس میں شرکت نہیں ہو سکتی۔
جبکہ جزئی اضافی، یعنی نسبت والی جزئی، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ کسی کی نسبت، کسی دوسری چیز کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ جزئی ہے۔ ویسے حقیقۃً اس کا جزئی ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً انسان یہ حیوان کے تحت ہے بھئی۔ حیوان دیکھو عام ہے، اس میں انسان بھی داخل اور جانور بھی داخل۔ اور انسان خاص حیوان ہے بھئی۔
حیوان دیکھو زید، عمر، بکر پر بھی صادق آتا ہے، اور بکری، بیل، گائے، گھوڑے، گدھے وغیرہ ان سب پر بھی صادق آتا ہے۔ تو حیوان کا دائرہ ہوا وسیع، اور انسان کا دائرہ ہوا تنگ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جس کا دائرہ وسیع ہے وہ ہے عام، اس میں عموم ہے۔ اور جس کا دائرہ تنگ ہے وہ ہے خاص، اس کے اندر خصوص ہے۔
تو ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو، اسے جزئی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ کون سی جزئی ہے؟ جزئی اضافی۔ ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو۔ تو انسان کس کے تحت ہے؟ حیوان کے تحت ہے۔ اس کے افراد میں سے ہے ایک فرد۔ تو انسان ہوا حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی ہوا۔ لیکن یہ جزئی حقیقی نہیں ہے، جزئی اضافی ہے۔ کیونکہ جزئی حقیقی تو کسی معین فرد پر جو صادق آئے اسے کہا جاتا تھا۔ جبکہ انسان وہ تو ہر ہر اس کا جو فرد ہے، ان سب پر صادق آ رہا ہے: زید پر بھی، عمر پر بھی، بکر پر بھی، خالد پر بھی، لاکھوں کروڑوں افراد ہیں اس کے اربوں، ان سب پر صادق آتا ہے۔
تو معلوم ہوا اس میں شرکت ہو سکتی ہے، تو معلوم ہوا یہ جزئی حقیقی اور علم تو نہیں۔ لیکن بہرحال حیوان کے تو تحت ہے، تو حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ جزئی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ اور کون سی جزئی؟ جزئی اضافی۔ اسی طرح حیوان جو ہے وہ جسمِ نامی کے تحت ہے بھئی۔ کیونکہ جسمِ نامی کا کیا معنیٰ میں نے بتلایا تھا؟ بڑھنے والا جسم۔ نامی، جس میں نما ہو، بڑھوتری ہو بھئی۔
تو جسمِ نامی، بڑھنے والا جسم۔ اب بڑھنے والا جسم انسان کا بھی ہے، وہ بھی پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تمام جانوروں کا بھی ہے۔ اور اسی طرح تمام پودے بھی ہیں بھئی، پودے اور درخت وغیرہ، وہ بھی شروع میں چھوٹے ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تو اب جسمِ نامی کا دائرہ اور بھی وسیع ہو گیا۔ اس میں سارے حیوانات بھی آ گئے اور ساتھ ساتھ درخت اور پودے وغیرہ بھی آ گئے۔
تو حیوان کا دائرہ اس کے مقابلے میں تنگ ہے۔ اس میں صرف جانور وغیرہ داخل ہوئے، انسان اور جاندار داخل ہو گئے۔ تو لہذا حیوان جسمِ نامی کے تحت ہوا۔ جسمِ نامی ہوا عام اور حیوان ہوا اس کے مقابلے میں خاص۔ تو حیوان جسمِ نامی کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی کہلائے گا بھئی۔ کیا کہلائے گا؟ جزئی۔ لیکن کون سی جزئی؟ یہ جزئی اضافی۔ یہ جزئی حقیقی نہیں بھئی۔
اسی طرح جسمِ نامی پھر جسم کے تحت داخل ہے بھئی۔ کیونکہ جسمِ نامی میں تو نامی کی قید تھی، وہ جسم جو بڑھنے والا ہو۔ اور اس کے مقابلے میں ایک جو اس سے اوپر ہے وہ صرف جسم ہے۔ چاہے تو جب جسم کہا، بڑھنے کی قید نہیں، تو پھر تو یہ دو قسم پر ہو گیا: کوئی جسم بڑھنے والا ہوگا، کوئی بڑھنے والا نہیں۔ جیسے پتھر وغیرہ یہ بڑھتے نہیں، یہ جتنے ہیں اتنے کے اتنے ہی ہیں۔
یہ تمام جمادات یا اور چیزیں جو ہیں، جو بڑھنے والی نہیں، وہ بھی جسم کے اندر داخل ہو گئیں جو جسم رکھتی ہیں۔ تو اس جسم کا دائرہ جسمِ نامی سے وسیع ہو گیا۔ اس میں بڑھنے والے جسم بھی داخل اور نہ بڑھنے والے جسم بھی داخل۔ سب جو جو چیزیں جسم رکھتی ہیں وہ سب اس میں آ گئیں۔
تو لہذا جسم اس میں اس کا دائرہ وسیع ہے، یہ ہے عام۔ اور جسمِ نامی جب کہا تو غیرِ نامی نکل گئے، تو اس کا دائرہ ہوا تنگ بھئی۔ تو یہ جسمِ نامی کس کے تحت ہے؟ جسم کے تحت۔ تو جسم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جسمِ نامی کیا ہے؟ خاص۔ اور جسم کیا ہے؟ عام۔ تو اس اعتبار سے جب جسمِ نامی جسم کے تحت داخل ہے تو یہ جزئی ہوا۔ کیا ہوا؟ جزئی ہوا۔ اور کون سی جزئی؟ جزئی اضافی۔ تو یہ جزئی اضافی ہے، جزئی حقیقی نہیں۔ جزئی حقیقی نہیں ہے۔
جی، یہ تو ہم اوپر کی طرف جا رہے تھے۔ انسان کس کے تحت تھا؟ حیوان کے۔ حیوان کس کے تحت ہے؟ جسمِ نامی کے۔ جسمِ نامی کس کے تحت ہے؟ جسم کے، جسمِ مطلق کے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ جسم کہہ لیں یا جسمِ مطلق کہہ لیں۔ مطلق کا معنیٰ؟ جس میں قید کوئی نہ ہو۔ مطلق، آزاد کیا ہوا، آزاد بھئی۔ یعنی جس میں کوئی قید نہیں ہے۔ جسمِ نامی میں تو قید ہے نا نامی کی، جسم کے ساتھ کون سی قید ہے؟ نامی کی، بڑھنے والا۔ اور جسمِ مطلق جس میں کوئی قید نہیں، چاہے بڑھنے والا ہو چاہے نہ بڑھنے والا ہو بھئی۔
اب نیچے کی طرف ذرا آئیں بھئی۔ ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ جزئی اضافی کی بات چل رہی ہے۔ ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ جزئی اضافی۔ اسی طرح زید، عمر، بکر وغیرہ یہ انسان کے تحت ہیں بھئی۔ انسان کے تحت ہیں۔ زید، عمر، بکر، یہ سب کیا ہیں؟ انسان ہیں بھئی۔ لیکن ہر انسان زید اور عمر ہی ہے یا اور بھی ہیں بھئی؟ لاکھوں، کروڑوں، اربوں افراد ہیں بھئی۔ تو زید، عمر، بکر، یہ تو ایک ایک فرد ہوا ان کا بھئی۔
تو زید، عمر، بکر وغیرہ یہ خاص ہوئے اور انسان عام ہوا۔ تو یہ دیکھو یہ بھی یہ زید، عمر، بکر وغیرہ یہ بھی کیا کہلائیں گے؟ جزئی اضافی۔ کیونکہ یہ کس کے تحت ہیں؟ انسان کے تحت ہیں۔ تو یہ جزئی اضافی ہیں انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ اور یہی جزئی حقیقی بھی ہیں۔ کیا ہیں؟ جزئی حقیقی کسے کہتے تھے؟ جو کسی متعین ذات پر دلالت کرے۔ تو زید بھی ایک متعین ذات پر دلالت کرتا ہے، عمر بھی ایک متعین ذات پر دلالت کرتا ہے، ان میں شرکت نہیں ہو سکتی۔
تو جزئی اضافی وہ عام ہے۔ جزئی حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ بھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ جزئی حقیقی وہ خاص ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ تھے جزئی اضافی اور جزئی حقیقی بھئی۔
تو بات چل رہی تھی کہ وہ مفرد جو متحد المعنیٰ ہو، جس کا ایک ہی معنیٰ ہو، وہ تین قسم پر ہے۔ یا تو وہ کسی متعین ذات پر صادق آئے گا، یعنی اس میں شرکت نہیں ہو سکتی۔ یا وہ عام ہوگا بھئی، اس میں شرکت ہو سکے گی بھئی، اسے کلی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ کلی کہتے ہیں۔
اور پھر یہ کلی اس کی تقسیم کی تھی: یا تو یہ متواطی ہوگی یا یہ کلی مشکک ہوگی۔ کلی متواطی وہ ہے جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے۔ جیسے انسان اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آتا ہے۔ چھوٹا ہو، بڑا ہو، مرد ہو، عورت ہو، جوان ہو، بوڑھا ہو، سب کو کیا کہتے ہیں؟ انسان۔ کیا کسی میں انسان ہونے کا معنیٰ زیادہ ہوتا ہے یا کسی میں کم، یا سب میں برابر ہے؟ سب میں برابر۔ چاہے کوئی اپاہج ہے، چاہے کوئی معذور ہے، چاہے نابینا ہے، جو کچھ بھی ہے، لیکن ہر ایک کو کیا کہتے ہیں؟ انسان کہتے ہیں۔
تو یہ انسان، اب اس کے اربوں افراد ہیں، تو یہ کثیرین پر صادق آتا ہے۔ اور تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کلی متواطی۔
اور اس کے مقابلے میں کلی مشکک ہے۔ کلی مشکک جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے بھئی۔ جیسے سفیدی۔ سفیدی ہر چیز، بہت سی چیزوں میں سفیدی ہوتی ہے، لیکن کسی میں کم ہوتی ہے، کسی میں زیادہ ہوتی ہے۔ تو بعض پر یہ زیادہ صادق آتا ہے اور بعض پر کم صادق آتا ہے، تو یہ کلی مشکک ہے۔
تو کلی متواطی اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آتا ہے، جبکہ کلی مشکک برابری کے ساتھ صادق نہیں آتا بھئی۔ وہ کبھی اولویت کے طریقے پر صادق آئے گا بعض پر، بعض پر اولویت کے اعتبار سے، اور بعض پر اشدیت کے اعتبار سے وغیرہ بھئی۔
جی، اب آئیے آگے سبق پڑھتے ہیں بھئی۔
فصلٌ. المتکثر المعنیٰ لہُ اقسامٌ عدیدۃٌ۔ ووجہ الحصر ان اللفظ الذي کثر معناہُ ان وُضع ذلک اللفظُ لکلِ معنیً ابتداءً باوضاعٍ متعددۃٍ علیٰ حدۃٍ یسمّٰی مشترکاً کالعین وُضع تارۃً للذہب وتارۃً للباصرۃ وتارۃً للرکبۃ۔
فصلٌ. المتکثر المعنیٰ لہُ اقسامٌ عدیدۃٌ۔ بھئی ابھی تک بات چل رہی تھی اس مفرد کی جو متحد المعنیٰ ہو، معنیٰ ایک ہی ہو بھئی۔ ہاں پھر اس کے افراد کبھی کثیر ہوں گے، کبھی کثیر نہیں ہوں گے۔ اب اس مفرد کی بات کرنے لگے ہیں جو متکثر المعنیٰ ہے، جس کے ایک سے زیادہ معانی آتے ہیں، دو یا تین یا چار۔ کہتے ہیں یہ کئی قسم پر ہے بھئی۔ کئی قسم پر ہے۔
2
ادھر دیکھیے، توجہ کیجیے سبق کی طرف۔ پہلے سمجھ لیں اس بات کو اچھی طرح۔ دیکھیے، یہ دو معنی ہیں بھئی۔
یہ دو معنی ہیں، ان کے لیے ایک ہی لفظ وضع کیا گیا۔ ایک لفظ ان دونوں کے لیے، وضع کی بات ابھی نہ کریں۔ یہ دو معنی ہیں مثلاً، میں نے بتایا متکثر المعنی کسے کہتے ہیں؟ وہ مفرد جس کے ایک سے زائد معنی ہوں۔ کبھی ایک سے زائد ہوں، دو ہوں، یا تین ہوں، یا چار ہوں، جتنے بھی ہوں، بہرحال ایک سے زائد ہوں۔
اب مثلاً دیکھو، دو معنی دیکھو، فرض کر لیں۔ ایک مفرد ہے، اس کے دو معنی ہیں۔ کتنے معنی ہیں؟ دو معنی ہیں۔ تو اگر اس مفرد کو الگ الگ دونوں معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو، پہلے معنی کے لیے اس کو الگ وضع کیا گیا ہو، دوسرے معنی کے لیے الگ وضع کیا گیا ہو، تو اس کو کہتے ہیں مشترک۔ کیا کہتے ہیں؟ مشترک کہتے ہیں۔
جیسے اس کی مثال آگے ذکر کریں گے، جیسے عین کا لفظ بھئی، عین۔ عین کے بہت سے معانی آتے ہیں، یہاں تک کہ علماء اس کے ستر یا ستر سے بھی زائد معانی بیان کرتے ہیں بھئی۔ عین کا لفظ، عین کا لفظ یہ سونا جو ہے، جو دھات ہے، سونا اور چاندی، تو یہ عین کا لفظ سونے کے لیے بھی وضع ہے۔ عین کا لفظ آنکھ جو ہے، جس سے ہم دیکھتے ہیں، اس کو بھی عین کہتے ہیں۔ عین چشمے کو بھی کہتے ہیں، عین سورج کو بھی کہتے ہیں، عین گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عین جاسوس کو بھی کہتے ہیں، عین اشرفی کو بھی کہتے ہیں، عین مال کو بھی کہتے ہیں، تو اس طرح اس کے بہت سے معانی آتے ہیں بھئی۔
اور ہر معنی کے لیے یہ الگ الگ وضع ہے۔ سونے کے لیے عین کا لفظ مقرر کر دیا گیا۔ وضع کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مقرر کرنا۔ تو سونے کے لیے بھی کہ اس کا نام عین ہے، لفظ مقرر کر دیا گیا۔ پھر اسی طرح گھٹنے کے لیے بھی عین کا لفظ مقرر کر دیا گیا۔ اسی طرح اور کیا معانی، جاسوس، جاسوس کے معنی کے لیے بھی کیا لفظ متعین کر دیا گیا؟ عین کا لفظ۔ اسی طرح سورج کے لیے بھی عین کا لفظ۔ تو ہر معنی کے لیے الگ الگ مقرر کیا گیا، یعنی ہر لفظ کے لیے، ہر معنی کے لیے الگ الگ وضع کیا گیا۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ مشترک۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ بات چل رہی ہے اس مفرد کی جو متکثر المعنی ہے، جس کے ایک سے زیادہ معانی ہیں۔ تو اگر ہر ہر معنی کے لیے الگ وضع کیا گیا ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مشترک۔
جی، تو دیکھا، میں نے مثال جیسے ذکر کی کہ یہ دو معانی ہیں اور ان دونوں کے لیے یہ لفظ پہلے ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا اور پھر دوسرے، دونوں معنی کے لیے الگ الگ وضع کیا گیا، تو اس کو کہیں گے مشترک۔ اور اگر دونوں معانی کے لیے الگ الگ وضع نہیں کیا گیا، وضع تو کیا گیا تھا ایک معنی کے لیے، توجہ ہے؟ وضع تو کیا گیا تھا ایک معنی کے لیے، لیکن پھر اس معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا اور اس میں مشہور ہو گیا، اور پہلے معنی کو بالکل لوگوں نے چھوڑ دیا، اس کے لیے اس کو استعمال کرتے ہی نہیں ہیں، تو اس کو کہتے ہیں منقول بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ منقول، نقل سے ہے۔ دیکھو اس کو نقل کر لیا گیا، ایک معنی سے کس کی طرف؟ دوسرے معنی کی طرف۔
تو مشترک تو وہ تھا جس کو ہر ہر معنی کے لیے الگ وضع کیا گیا تھا۔ منقول جس کو تمام معانی کے لیے الگ الگ وضع نہیں کیا گیا، وضع تو کس کے لیے کیا گیا تھا؟ ایک معنی کے لیے، لیکن پھر بعد میں اس کو نقل کر کے دوسرے معنی میں استعمال کرنے لگے لوگ بھئی، اور یہ مشہور ہو گیا، اور پہلے معنی میں لوگوں نے استعمال کرنا چھوڑ دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ منقول کہیں گے، منقول۔
مثلاً جیسے صلاۃ کا لفظ ہے، صلاۃ۔ صلاۃ عربی زبان میں دعا کے لیے وضع تھا بھئی۔ صلاۃ کا لفظ کس کے لیے مقرر تھا؟ دعا کے معنی کے لیے اس کو مقرر کیا گیا تھا۔ صلاۃ بول کر اس کا معنی دعا کے ہوتا تھا بھئی۔ لیکن پھر اہل شریعت نے بھئی، سمجھ میں آیا؟ پھر اس کو مقرر کر لیا گیا کس کے لیے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عبادت کا ایک خاص طریقہ بتلایا، قیام، قراءت، رکوع، سجدے وغیرہ کے ساتھ جو ہم عبادت کرتے ہیں، اس کا کیا نام رکھ دیا گیا؟ صلاۃ، یعنی نماز۔ تو نماز کا نام صلاۃ رکھ دیا گیا۔
اور اس معنی میں اس طرح استعمال ہونے لگا کہ فقہ کے اندر جب بھی صلاۃ کا لفظ آتا ہے، تو اس کا معنی ہم کون سا کرتے ہیں؟ نماز ہی کا کرتے ہیں، تو وہ دعا کا معنی چھوڑ ہی دیا گیا بالکل، تو یہ ہے منقول بھئی۔ یہ کیا ہوا؟ تو وضع تھا ایک معنی یعنی دعا کے لیے، اور پھر اس کو چھوڑ کر نماز کے معنی میں استعمال ہونے لگا، تو اسے کیا کہیں گے؟ منقول کہیں گے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ منقول کہیں گے۔
یہ تو دوسری قسم تھی۔ بھئی پہلی قسم کیا تھی کہ مفرد کو، وہ مفرد جو متکثر المعنی ہے، اس کو ہر ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع کیا گیا ہو، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مشترک۔ اور اگر وضع تو ایک ہی معنی کے لیے تھا، لیکن پھر اس معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا اور اس میں مشہور ہو گیا، اور پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ منقول۔
اور تیسری صورت یہ ہے کہ وضع تو تھا ایک معنی کے لیے، لیکن پھر دوسرے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا، اور پہلے کو بھی نہیں چھوڑا، پہلے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں اب، اور دوسرے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
تو اگر، تو یہ لفظ اب منقول نہیں، کیونکہ منقول میں تو پہلے معنی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تو یہ جو ہے، پہلے معنی میں بھی جس کے لیے وضع تھا اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس دوسرے معنی میں بھی۔ تو اگر پہلے معنی میں استعمال ہو تو اس کو کہتے ہیں حقیقت، یعنی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اور اگر دوسرے معنی میں استعمال ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ مجاز تجاوز سے ہے۔ تجاوز کا معنی بڑھ جانا بھئی، بڑھ جانا۔ یہ بھی اپنے اصل معنی، جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا، اس سے بڑھ کر دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔
تو معلوم ہوا کہ چار قسمیں ہو گئیں بھئی مفرد کی۔ وہ مفرد جو متکثر المعنی ہے، کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار قسمیں ہو گئیں بھئی۔ پہلی قسم کون سی؟ مشترک، اور اس کے بعد منقول، اور پھر حقیقت اور مجاز۔
دوبارہ سن لیں بھئی۔ اگر متکثر المعنی کو، جو کئی معانی کے لیے آتا ہے، جس کے کئی معانی ہیں، اگر ہر ہر معنی کے لیے اس کی وضع الگ ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ مشترک۔ اور اگر وہ وضع تو ایک ہی معنی کے لیے تھا، لیکن پھر اس معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا، اور پہلے اس میں مشہور ہو گیا، اور پہلے معنی کو بالکل لوگوں نے چھوڑ دیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ منقول، منقول۔ اور اگر پہلے معنی کو نہیں چھوڑا، اس میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس نئے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، تو اگر پہلے معنی میں استعمال ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ حقیقت۔ اور اگر دوسرے معنی میں استعمال ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔
مثلاً اسد کا لفظ ہے، شیر بھئی، شیر۔ شیر دیکھو، ایک جنگلی درندہ ہے، چیرنے پھاڑنے والا، شکار کرنے والا ایک درندہ ہے بھئی۔ تو شیر کا لفظ، اسد کا لفظ اس کے لیے وضع ہے۔ شیر کا لفظ اس کے لیے وضع ہے۔ لیکن بہادر آدمی کے لیے بھی ہم یہی لفظ استعمال کر لیتے ہیں۔ بہادر آدمی کو بھی کیا کہتے ہیں؟ یہ شیر ہے۔
تو دیکھو، یہ شیر کا لفظ وضع تو اس خونخوار درندے کے لیے تھا، لیکن پھر کس معنی میں استعمال ہونے لگا؟ بہادر آدمی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اور پہلے معنی کو کیا ہم نے چھوڑ دیا ہے؟ شیر سے کبھی جنگلی درندہ مراد نہیں لیتے، یا لیتے ہیں؟ لیتے ہیں، وہ آپ استعمال کرتے ہیں بھئی۔ تو اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس بہادر آدمی کے معنی میں بھی استعمال۔ تو اس معنی کے لیے تو چونکہ وضع تھا، تو اس میں استعمال ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ حقیقت۔ اور اگر اس نئے معنی میں استعمال ہو جس کے لیے وضع نہیں ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ مجاز کہیں گے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور یاد رکھو، یہ جو ایک معنی سے نقل کر کے دوسرے معنی میں استعمال کرتے ہیں، کوئی مناسبت ہوتی ہے، بغیر مناسبت کے نہیں بھئی۔ ان دونوں معانی میں کیا ہوتی ہے؟ بھئی منقول اسے کہتے تھے نا جس میں پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیا اور دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا، تو یہ پہلے اور دوسرے معانی میں کوئی نہ کوئی مناسبت ہوتی ہے، بغیر مناسبت کے نہیں۔ اسی طرح حقیقت اور مجاز جو ہے، لفظ وضع ایک معنی کے لیے ہے اور استعمال دوسرے میں بھی ہوتا ہے، دونوں معانی میں استعمال ہونے لگا، تو پہلے کے اعتبار سے حقیقت اور دوسرے معنی کے اعتبار سے مجاز، اور دونوں معانی میں مناسبت ہوتی ہے، بغیر مناسبت کے نہیں۔
جیسے صلاۃ کا لفظ استعمال وضع تو تھا دعا کے لیے، اور پھر استعمال کس میں ہونے لگا؟ نماز کے لیے، اور دونوں میں مناسبت ہے بھئی۔ نماز میں بھی دعا ہوتی ہے اللہ تعالی سے بھئی، اللہ کی عبادت ہے اور اللہ سے دعا ہوتی ہے۔ اور اسی طرح شیر کا لفظ وضع تو تھا خونخوار درندے کے لیے، اور استعمال ہونے لگا بہادر آدمی کے لیے بھی۔ تو اور ان دونوں میں بھی مناسبت ہے بھئی، کہ جس طرح شیر بہادر ہوتا ہے، یہ انسان بھی کیا، جس کے لیے استعمال ہو وہ بھی اس کی طرح بہادر ہوتا ہے بھئی۔ تو مناسبت ہو گی دونوں میں۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا متکثر المعنی، اگر ہر معنی کے لیے الگ الگ وضع ہے، تو اس کو کہیں گے مشترک۔ اور اگر ہر معنی کے لیے الگ وضع نہیں، بلکہ وضع تو ایک معنی کے لیے ہے، پھر اس کو چھوڑ کر دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا، تو اسے کیا کہیں گے؟ منقول۔ اور اگر پہلے میں بھی استعمال ہوتا ہے اور دوسرے میں بھی، تو پہلے معنی میں استعمال ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ حقیقت۔ اور دوسرے معنی میں استعمال ہو تو اسے مجاز کہیں گے۔
پھر منقول کی تقسیم کریں گے، اور بتائیں گے کہ منقول تین قسم پر ہے۔ منقول کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر ہے۔
منقول کا کیا معنی؟ نقل کیا گیا۔ وہ لفظ جس کو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف نقل کیا گیا۔ تو یہ جو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف لفظ کو نقل کیا گیا، تو یہ نقل کرنے والوں کے اعتبار سے یہ تین قسم پر ہے۔ کس نے نقل کیا ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف؟ اس کے اعتبار سے منقول کی تین قسمیں ہیں۔
اگر نقل کرنے والے عام لوگ ہیں، کون ہیں؟ عام لوگ۔ سمجھ میں آیا؟ نقل کرنے کا یہ معنی نہیں کہ باقاعدہ اعلان ہوتا ہے کہ اس معنی میں لفظ استعمال اب ہو گا، اس میں نہیں ہو گا۔ بس لوگوں میں عادت ہی اسی طرح شروع ہو جاتی ہے کہ اس معنی میں اس لفظ کو استعمال ہی نہیں کرتے اور کیا کرنے لگتے ہیں؟ دوسرے معنی میں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ تو یہ جو نقل کرنے والے کے اعتبار سے یہ منقول تین قسم پر ہوتا ہے بھئی، تین قسم پر۔
کہ نقل کرنے والے اگر عام لوگ ہیں، یعنی عام لوگوں میں پہلے یہ ایک معنی میں استعمال ہوتا تھا، پھر رفتہ رفتہ لوگوں نے اس پہلے معنی کو چھوڑ کر کس میں استعمال کرنا شروع کر دیا؟ دوسرے معنی کے اندر، پہلے میں استعمال کرتے ہی نہیں۔ تو نقل کرنے والے کون ہوئے؟ عام لوگ۔ تو اس کو کہیں گے منقول عرفی۔ کیا کہیں گے؟ منقول عرفی۔
اور اگر نقل کرنے والے اہل شریعت ہوں، کون ہوں؟ اگر نقل کرنے والے اہل شریعت ہوں، تو اسے کہتے ہیں منقول شرعی۔ جیسے صلاۃ کا لفظ اہل شریعت نے کیا کیا؟ دعا سے نقل کیا کس کے لیے؟ نماز کے لیے، نماز کی طرف۔ تو یہ کیا ہے؟ منقول شرعی ہے۔
اور اگر نقل کرنے والی کوئی خاص جماعت ہو، تو اسے کہتے ہیں منقول اصطلاحی بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ منقول اصطلاحی کہتے ہیں، اگر نقل کرنے والی خاص جماعت ہو۔
مثلاً اسم کا لفظ، اسم۔ آپ نے نحو میں پڑھا ہے: اسم، وفعل، وحرف۔ تو یہ جو اسم ہے، یہ اصل میں وضع ہے بلندی کے لیے۔ اسم کا کیا معنی ہے؟ بلندی، بلندی۔ لیکن پھر نحویوں نے اسم کو نقل کیا، اور کس کے لیے نقل کیا؟ وہ اس معنی کے لیے جو مستقل ہوتا ہے، اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا، اس معنی کے لیے نقل، کی طرف نقل کر دیا۔ اور کس نے نقل کیا؟ نحویوں نے۔ تو نحویوں کے ہاں جب بھی اسم کا لفظ بولا جاتا ہے، آپ اس کا معنی بلندی کے سمجھتے ہیں یا وہ معنی مستقل جو تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو؟ جو معنی مستقل ہوتا ہے وہ آپ سمجھتے ہیں، جو فعل اور حرف کے مقابلے میں آتا ہے بھئی۔
تو دیکھو، اب یہاں یہ ہر تمام لوگوں نے نہیں نقل کیا اس کو، اس اسم کو بلندی سے اس نئے معنی کی طرف، بلکہ کس نے نقل کیا؟ نحویوں نے، تو خاص جماعت نے۔ تو اس لیے اس کو کیا کہیں گے؟ منقول اصطلاحی۔ کیا کہیں گے؟ اسی طرح ہر علم کی اپنی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں۔ جیسے یہ منطق آپ پڑھ رہے ہیں، اس کی اپنی اصطلاحات ہیں بھئی۔
تو یہ جہاں بھی اس طرح ہو گا، جو لفظ وہ خاص معنی کے لیے استعمال کریں گے، تو وہ کیا کہلائے گا؟ منقول اصطلاحی کہلائے گا بھئی، منقول اصطلاحی۔
تو منقول کتنی قسم پر ہوا؟ تین قسم پر۔ اگر نقل کرنے والے عام لوگ ہوں تو کیا کہیں گے؟ منقول عرفی، منقول عرفی۔ اور اگر نقل کرنے والے اہل شریعت ہوں تو منقول شرعی۔ اور اگر نقل کرنے والی کوئی خاص جماعت ہو تو منقول اصطلاحی۔ یہ تین قسمیں ہیں۔
پھر دیکھیے، یہ جو منقول شرعی اور منقول اصطلاحی، یہ دراصل ایک ہی قسم ہے۔ بھئی منقول عرفی تو جس میں نقل کرنے والے عام لوگ ہوں۔ اور منقول اصطلاحی، خاص جماعت ہو نقل کرنے والی۔ تو منقول شرعی بھی اسی کے اندر داخل ہے۔ کیونکہ اس میں بھی نقل کرنے والے کون ہیں؟ اہل شریعت ہیں، خاص جماعت ہے یا نہیں بھئی؟ ہر ایک نے نقل نہیں کیا، بلکہ صلاۃ کو دعا سے نماز کی طرف کس نے نقل کیا؟ اہل شریعت نے، معلوم ہوا ایک خاص جماعت نے۔
تو یہ بھی کس میں داخل ہے؟ منقول اصطلاحی ہی میں داخل ہے۔ منقول اصطلاحی کسے کہتے ہیں؟ خاص جماعت ہو نقل کرنے والی۔ اور اہل شریعت، یہ بھی تو خاص جماعت ہیں بھئی۔ تو یہ بھی کس میں داخل ہے؟ منقول اصطلاحی ہی میں داخل ہے۔ اس کو الگ ذکر نہیں کرنا چاہیے، لیکن ذکر کرتے ہیں۔ کیوں کرتے ہیں؟ اہمیت کی وجہ سے بھئی۔ کس وجہ سے؟ اہمیت کی وجہ سے چونکہ اس کو نقل کرنے والے اہل شریعت ہیں، عام لوگ نہیں ہیں بھئی، تو ان کی فضیلت اور شرف کی وجہ سے اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ علیحدہ ذکر کیا جاتا ہے، اگرچہ یہ اسی میں داخل تھا۔ تو چنانچہ تین قسمیں یہ بن گئیں: ایک منقول عرفی، ایک منقول شرعی، اور ایک منقول اصطلاحی۔
3
یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی، اب کتاب پر ترجمہ دیکھتے ہیں جلدی جلدی۔
فصل: ایھا فصل یہ فصل ہے۔
المتکثر المعنی لہ اقسام عدیدۃ۔
عدیدہ کے معنی ہیں چند بھئی، چند۔
المتکثر المعنی، متکثر المعنی جو ہے، مفرد لہ اقسام عدیدۃ اس کی چند اقسام ہیں، یا یوں کہیں اس کی کئی اقسام ہیں۔
وجہ الحصر اور وجہ حصر یہ ہے۔
بھئی وجہ حصر، حصر کا معنی ہوتا ہے بند کرنا۔
کیا معنی؟ بند کرنا۔
تو یہ آگے یہی دیکھو کل کتنی قسمیں بن گئیں؟
ایک تھا مشترک، ایک منقول، ایک حقیقت، ایک مجاز۔
جی تو کئی قسمیں بن گئیں۔
پھر منقول کی بھی تقسیم کی کہ منقول یا تو عرفی ہوگا یا شرعی ہوگا یا اصطلاحی ہوگا تو کئی قسمیں بن گئیں۔
تو یہ ان قسموں میں متکثر المعنی کو بند کر دیا کہ یہی قسمیں ہیں اور قسمیں نہیں۔
جو یہ قسمیں بیان کر دیں، پانچ چھ قسمیں بیان ہو گئیں، انہی میں کیا کر دیا متکثر المعنی کو بند کر دیا۔ انہوں نے کہا نا کہ اس کی کئی قسمیں ہیں، پھر آگے بیان کریں گے، یہ جو میں نے ساری قسمیں آپ کو گنوا دیں، یہ ساری آگے بیان کریں گے۔
جب یہی قسمیں بیان کیں، تو معلوم ہوا یہی قسمیں ہیں اور قسمیں نہیں، تو گویا کہ متکثر المعنی ان قسموں میں بند ہو گیا۔
یہی ہیں اور اس کے علاوہ نہیں۔
جیسے آپ کے نحم میں آپ پڑھتے ہیں کہ الکلمۃ الکلمۃ کلمہ جو ہے، وہ اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف ہوگا۔ تین قسمیں بناتے ہیں، تو کلمہ کو بند کر دیا کتنی قسموں میں؟ تین قسموں میں بند کر دیا۔
تو اس کو کہتے ہیں حصر، کیا کہتے ہیں حصر۔
بھئی یہ اتنی تین قسموں میں کیوں بند کیا؟ اس کو ذکر کیا جاتا ہے اور اسے کہتے ہیں وجہ حصر، یہ بند کرنے کی وجہ۔
کیا کہتے ہیں بند کرنے کی وجہ؟ تو یہاں بھی یہ جو قسمیں انہوں نے بنائیں، متکثر المعنی کی، ان کو ان قسموں میں کیوں بند کیا، اس کی وجہ کیا ہے، اس کو بیان کرنے لگے ہیں اور اس کو کیا کہتے ہیں وجہ حصر۔
تو کہتے ہیں وجہ الحصر اور وجہ حصر (یعنی ان قسموں میں بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان اللفظ الذی کثر معناہ کہ وہ لفظ کہ جس کے معنی کثیر ہوں، ان وضع ذالک اللفظ لکل معنا، اگر وضع کیا گیا ہو اس لفظ کو ہر معنی کے لیے ابتداءً شروع ہی سے، شروع ہی سے ہر معنی کے لیے وہ الگ الگ وضع تھا، بأوضاع متعددۃ علیحدۃ۔)
متعدد، کئی بھئی، کئی، علیحدہ، یہ تو آپ اردو میں بھی اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔
بأوضاع متعددۃ علیحدۃ، علیحدہ کئی وضعوں کے ساتھ۔
علیحدہ کئی وضعوں کے ساتھ بھئی، مشترک کے کئی معنی آتے تھے نا، ہر معنی کے لیے وہ الگ الگ وضع تھا، تو دیکھو کئی وضعیں آ گئیں۔
ایک معنی کے لیے بھی وضع ہے، دوسرے معنی کے لیے بھی وضع ہے، تیسرے معنی کے لیے بھی وضع ہے۔
تو یہ متعدد وضعیں آ گئیں۔
تو کہتے ہیں وہ لفظ جس کا معنی کثیر ہو، اگر وضع کیا گیا ہو اس لفظ کو ہر معنی کے لیے ابتداءً شروع ہی سے بأوضاع متعددۃ علیحدۃ۔
علیحدہ کئی وضعوں کے ساتھ، علیحدہ کئی وضعوں کے ساتھ، الگ الگ اس لفظ کو کیا کیا گیا ہے؟ وضع کیا گیا ہے، تو یسمی مشترکا مشترکاً۔
تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشترک کہتے ہیں، را پر فتحہ پڑھنا، مشترکاً۔
كالعی جیسے کہ عین کا لفظ وضع تارۃ للذہب، اس کو وضع کیا گیا ہے کبھی تو تارۃ کا معنی کبھی۔
وضع تارۃ للذہب، اس کو وضع کیا گیا ہے کبھی سونے کے لیے، ذہب سونے کو کہتے ہیں، فضۃ چاندی کو تو اس کو کبھی وضع کیا گیا ہے سونے کے لیے و تارۃ للباصرۃ، اور کبھی آنکھ کے لیے، باصرہ دیکھنے والی، یعنی آنکھ بھئی بصر سے ہے۔
اور کبھی آنکھ کے لیے و تارۃ للرکب، اور کبھی گھٹنے کے لیے بھئی، رکبہ کسے کہتے ہیں گھٹنے کو۔
تو دیکھو ایک ہی لفظ کو متعدد معانی کے لیے علیحدہ علیحدہ وضع کیا گیا، شروع ہی سے الگ الگ وضع ہے ہر معنی کے لیے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مشترک کہیں گے۔
چلیے بس کریں بس، ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام۔