Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-028

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 53
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 28 1 اچھا بھئی، آپ لوگ چھٹیاں گزار کر آئے ہیں، آج پھر سارا سبق جتنا ہم نے پڑھا، اس کا خلاصہ خلاصہ ذرا کر لیتے ہیں جلدی جلدی۔ جی، یہ کتاب جو ہم پڑھ رہے ہیں مرقاة، علمِ منطق کے اندر، اس میں انہوں نے سب سے پہلے مصنف نے آپ کو علمِ منطق علم کی تعریف بتلائی اور پانچ تعریفات کی تھیں۔ پہلا معنیٰ کیا بیان کیا تھا؟ حصول صورة الشيء في العقل۔ یعنی علم اس معنیٰ مصدری کا نام ہے، شے کی صورت کا عقل میں حاصل ہونا۔ یہ کون سا معنیٰ ہے؟ مصدری معنیٰ۔ تو علم اس مصدری معنیٰ کا نام ہے پہلی تعریف کے مطابق۔ دوسری تعریف کی تھی: الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل۔ کسی شے کی وہ صورت جو عقل میں حاصل ہو، تو اس صورت کا کیا نام ہے؟ علم ہے بھئی، علم۔ تیسری تعریف کی تھی: الحاضر عند المدرك۔ کہ وہ چیز جو مدرِک یعنی عقل کے پاس حاضر ہے۔ عقل کے پاس حاضر ہے۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ یہ تعریف جو ہے یہ جامع ہے، یہ علمِ حضوری کو بھی شامل ہے۔ ایک علمِ حصولی ہوتا ہے، ایک علمِ حضوری۔ علمِ حصولی وہ ہے جو تحصیلِ صورت کا محتاج ہے، جس میں تحصیلِ صورت ہو گی۔ اور علمِ حضوری وہ ہے جس میں حصولِ صورت کی احتیاج نہیں ہوتی، کیونکہ وہ شے خود مدرِک کے پاس موجود ہوتی ہے۔ اور یہ جو تقسیم آگے آئے گی، علم کی تعریف اس لیے کی کیونکہ آگے اس کی تقسیم ہونے والی تھی تصور اور تصدیق کی طرف، اور یہ تقسیم علمِ حصولی کی ہوتی ہے، علمِ حضوری کی تقسیم تصور اور تصدیق کی طرف نہیں۔ اور بتلایا تھا کہ اللہ کا علم جو ہے وہ علمِ حضوری ہے، تمام چیزیں اللہ کے سامنے، اللہ کے پاس ہیں، اللہ کو ان کا پورا پورا علم ہے ہر اعتبار سے۔ تو اللہ حصولِ صورت کے محتاج نہیں، جبکہ انسان کیا ہے؟ حصولِ صورت کا محتاج ہے۔ اور پھر انسان کا جو علم ہے وہ دو قسم پر ہے: کچھ علمِ حضوری ہے، کچھ علمِ حصولی ہے۔ علمِ حضوری تو وہ چیز جو انسان کے پاس خود موجود ہو، تو اس میں انسان کی اپنی ذات اور اس کی صفات آ گئیں، اپنی ذات اور اپنی صفات پر یہ جو علم ہوتا ہے، یہ کیا ہے؟ علمِ حضوری ہے۔ پھر اس کے بعد چوتھی تعریف کی تھی کہ نفس کا اس صورت کو قبول کر لینا یہ علم ہے، یعنی حصولِ صورت کے بعد ایک کیفیت آتی ہے جس میں کیا ہے؟ نفس اس صورت کو قبول کر لیتا ہے کہ یہ اسی طرح ہے، اس کا نام انہوں نے کہا علم ہے۔ اور بعضوں نے تعریف یہ کی کہ وہ نسبت جو حاصل ہوتی ہے عالم اور معلوم کے درمیان، اس نسبت کا کیا نام ہے؟ اسے علم کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ جو نسبت حاصل ہو، کیونکہ جب علم ہو گا تو کوئی چیز معلوم کہلائے گی، جس کا علم حاصل ہوا وہ کہلائے گی معلوم، اور جس کو حاصل ہوا علم وہ کہلائے گا عالم۔ تو عالم اور معلوم کے درمیان یہ جو نسبت ہے، تعلق آ گیا، اس کا کیا نام ہے؟ علم ہے بھئی۔ کوئی عالم تبھی کہلائے گا جب اس کے لیے کوئی چیز معلوم ہو، اور کوئی چیز معلوم تبھی کہلائے گی جب اس کے لیے کوئی عالم ہو۔ پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ یہ علم تقسیم ہوتا ہے، یعنی علمِ حصولی دو قسم پر ہے: ایک تصور اور ایک تصدیق۔ تصور کسے کہتے تھے؟ تعریف کی تھی: فهو الإدراك الخالي عن الحكم۔ وہ ادراک ہے جو حکم سے خالی ہو، جس میں حکم نہ ہو، مثلاً صرف زید، صرف بکر، صرف عمرو، وغیرہ۔ یہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ اور اگر اس کے ساتھ حکم بھی ہو تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ تصدیق کہیں گے۔ پھر تصور کی کیا تعریف کی؟ هو الإدراك الخالي عن الحكم، وہ ادراک جو حکم سے خالی ہو۔ اور پھر حکم سے کیا مراد ہے؟ بتلایا تھا: نسبة أمر إلى أمر آخر إيجاباً أو سلباً۔ نسبت کرنا ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف ایجاب یعنی اثبات کے طریقے پر یا سلب یعنی نفی کے طریقے پر بھئی۔ یعنی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اسے حکم کہتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں "زید عالم ہے"، تو میں نے زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات کیا، تو یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ اسی طرح یا میں کہتا ہوں "زید عالم نہیں ہے"، تو زید سے میں نے عالم ہونے کی نفی کی، تو یہ کیا ہے؟ یہ تصدیق ہے بھئی، تو اس میں یہ حکم آ گیا بھئی۔ یہ کیا ہے؟ یہ حکم ہے۔ تو ایجاب کے طریقے پر بھی حکم ہو سکتا ہے، نفی کے طریقے پر بھی ہو سکتا ہے۔ تو اکیلے زید کا تصور کا کے بارے میں صورت جو آئے، وہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ اور اس کے ساتھ اگر کوئی حکم بھی آ جائے تو اسے کیا کہیں گے؟ تصدیق کہیں گے بھئی۔ پھر اس کے بعد بھئی تصدیق کی تعریف آئی تھی، تو اس میں ایک حکماء یعنی فلاسفۂ یونان کا مذہب بتلایا اور ایک امامِ رازی رحمہ اللہ کا۔ فلاسفۂ یونان کے نزدیک تصدیق اس حکم کا نام ہے جو تصوراتِ ثلاثہ کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ کس کے ساتھ؟ تصوراتِ ثلاثہ کے، کیا کیا ہیں تصوراتِ ثلاثہ؟ موضوع کا تصور، محمول کا تصور، نسبتِ تامہ خبریہ کا تصور۔ تو موضوع کا تصور، محمول کا تصور اور نسبتِ تامہ خبریہ کا تصور، یہ تین شرط ہیں تصدیق کے لیے، جبکہ تصدیق خود کس کا نام ہے؟ اس حکم کا نام ہے۔ اور اس میں بتلایا تھا یقین کا ہونا ضروری ہے بھئی، یقین۔ اگر یقین نہیں تو پھر اسے تصدیق نہیں کہیں گے، یا اسی طرح اگر ظنِ غالب ہو، غالب گمان ہو۔ مثلاً آپ نے کہا، ایک مثلاً آپ کہتے ہیں "زید عالم ہے"، زید عالم ہے، تو اگر آپ کو اس کا یقین ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیق۔ یا آپ کا غالب گمان ہے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ تصدیق۔ اور اگر غالب گمان نہیں بلکہ شک ہے، دونوں جانبیں برابر ہیں، کے بارے میں شک ہے آپ کو تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ تصور کہیں گے۔ تو شک کس قبیل سے ہے؟ تصور کے قبیل سے۔ اور ظن جو ہوتا ہے اس میں ایک جانب راجح ہوتی ہے یعنی زیادہ خیال ہوتا ہے، مثلاً زید کے عالم ہونے کا زیادہ خیال ہے، تو "زید عالم ہے" پھر اسے کیا کہیں گے؟ تصدیق۔ اور جس جانب کم خیال ہو اسے وہم کہتے ہیں، اور وہ بھی تصور کے قبیل سے ہے بھئی۔ تو لہٰذا حکماء یعنی فلاسفۂ یونان کے نزدیک تصدیق جو ہے وہ اس حکم کا نام ہے، جبکہ تصوراتِ ثلاثہ اس کے لیے شرط ہیں۔ جبکہ امامِ رازی رحمہ اللہ کے نزدیک ان سب کا، تصوراتِ ثلاثہ اور حکم، ان چاروں کا جو مجموعہ ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ تصدیق۔ تو فرق کیا ہوا کہ فلاسفۂ یونان کے نزدیک تصدیق بسیط ہے کیونکہ صرف کس کا نام ہے؟ حکم کا نام ہے، اس کے اجزاء نہیں۔ جبکہ امامِ رازی رحمہ اللہ کے نزدیک چار چیزیں ملیں گی تو تصدیق کہلائے گا، لہٰذا ان کے نزدیک تصدیق کیا ہے؟ مرکب ہے بھئی، مرکب۔ پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ تصور اور تصدیق پھر دو قسم پر ہیں: یا بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے۔ بدیہی وہ جس میں غور و فکر کی حاجت نہ پڑے، اور نظری وہ جس کے اندر غور و فکر کی حاجت پڑے۔ مثلاً فرشتہ، جن، وغیرہ، ان کا تصور جو ہے وہ غور و فکر کا محتاج ہے، بغیر غور و فکر کے علم نہیں ہو گا، بتلانا پڑے گا کسی کو، تو ان کو کیا کہیں گے؟ تصورِ نظری۔ اور نظری کو کسبی بھی کہتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم تھی تصورِ بدیہی۔ تصورِ بدیہی عام چیزوں کا تصور جن میں آپ کو غور و فکر کی ضرورت نہیں پڑتی بھئی: قلم، کاغذ، کتاب، وغیرہ، یہ سب چیزیں یہ تصورِ بدیہی ہیں اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ دوسرا نام اس کا؟ ضروری۔ تو ضروری، تصورِ ضروری بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہے: بعض اوقات غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض اوقات غور و فکر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مثلاً "جز چھوٹا ہوتا ہے کل سے"، جز چھوٹا ہوتا ہے کل سے، دیکھو یہ تصدیق ہے، جز چھوٹا ہوتا ہے کل سے۔ لیکن اور اس میں غور و فکر کی ضرورت نہیں، تو یہ کیا کہلائے گی؟ تصدیقِ بدیہی۔ اور بعض اوقات غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً ہم کہتے ہیں: العالم حادث، یہ جہان کیا ہے؟ حادث ہے۔ ایک لفظ آیا ہے حادث، ایک ہے قدیم۔ میں نے آپ کو فرق بتلایا تھا کہ یہ اصطلاحی الفاظ ہیں بھئی، قدیم کا معنیٰ پرانا نہیں بھئی جو آپ اردو میں استعمال کرتے ہیں، بلکہ اصطلاحی لفظ ہے۔ قدیم کسے کہتے ہیں؟ جس پر پہلے کبھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کبھی کوئی ایسا زمانہ نہیں تھا کہ اس کا وجود نہ ہو۔ تو اسے کیا کہتے ہیں؟ قدیم۔ اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں۔ سمجھ میں آئی بات؟ یہ مسلمانوں کے نزدیک، جبکہ منطقہ کے نزدیک یہ اللہ اور کائنات، یہ سب قدیم ہیں۔ ایک واجب کا لفظ آگے جا کر آپ نے پڑھا تھا اور ایک ممکن۔ واجب کسے کہتے تھے بھئی؟ جس کا، جو اپنے وجود میں واجب الوجود، جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہ ہو اور جس کا ہونا ضروری ہو۔ جس کا ہونا ضروری ہو۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ممکن الوجود ہے، ممکن الوجود جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو، غیر ہے تو اس کی وجہ سے اس کا وجود بھی ہے، غیر نہیں تو اس کے بغیر اس کا وجود بھی نہیں۔ تو واجب الوجود جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہ ہو، اور ممکن الوجود جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو۔ جی، تو منطقہ ان سب کو قدیم کہتے ہیں، لیکن ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ صرف اللہ کی ذات اور صفات قدیم ہیں، باقی سب چیزیں حادث ہیں۔ حادث کا کیا معنیٰ؟ جس پر پہلے عدم آیا ہو، ایک زمانہ تھا کہ ان کا وجود نہیں تھا۔ تو مثلاً تصدیق کی مثال چل رہی تھی تصدیقِ نظری کی، کہ العالم حادث، اس میں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور باتوں کو ملانا پڑتا ہے، پھر یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً اور کیا باتیں ملاتے ہیں؟ کہ العالم متغیر، یہ عالم کیا ہے؟ یہ تغیر والا ہے، اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ وكل متغیر حادث، اور ہر وہ چیز جس میں تبدیلیاں آئیں وہ کیا ہوتی ہے؟ وہ حادث ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ عالم بھی حادث ہے۔ تو معلوم ہوا تصور اور تصدیق کبھی بدیہی ہوتے ہیں اور کبھی نظری ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد جب نظری کی بات آئی تو انہوں نے نظر کی تعریف کی اور بتلایا تھا کہ نظر کسے کہتے ہیں؟ هو ترتيب امور معلومة ليتأدى ذلك الترتيب إلى تحصيل المجهول۔ وہ معلوم چیزوں کو ترتیب دینا تاکہ یہ پہنچا دے یہ ترتیب کس تک؟ کسی نا معلوم چیز کے حصول تک، یعنی کسی مجهول کے حصول تک۔ مجهول کا کیا معنیٰ ہے؟ نا معلوم بھئی۔ پھر انہوں نے آپ کو یہ بتلایا تھا کہ نظر، نظر کی کیا تعریف کر دی؟ کچھ چیزوں کو ترتیب دے کر مجهول چیز کو حاصل کرنا۔ تو معلوم، تو معلوم تصورات کو ترتیب دے کر مجهول تصور حاصل ہوتا ہے، اور اسی طرح معلوم تصدیقات کو ترتیب دے کر مجهول تصدیق حاصل ہوتی ہے۔ تو یہ ہے نظر اور فکر، دونوں کا ایک ہی معنیٰ ہے، نظر اور فکر دونوں کا ایک ہی معنیٰ ہے۔ پھر بتلایا کہ یہ نظر اور فکر یہ ہمیشہ درست نہیں ہوتی، اس میں غلطی بھی واقع ہوتی ہے۔ غلطی بھی واقع ہوتی ہے، جیسے ہم نے بیان کیا کہ ہمارا کیا مذہب ہے؟ کہ العالم حادث، کہ یہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ جبکہ منطقہ، وہ جو فلاسفۂ یونان تھے، ان کا کیا مذہب تھا؟ کہ یہ عالم کیا ہے؟ قدیم ہے۔ اور اس پر پھر وہ اپنی نظر پیش کرتے تھے، کیا؟ کہ العالم مستغن عن المؤثر، کہ یہ عالم کسی اثر ڈالنے والے سے مستغنی ہے، بے نیاز ہے، کسی کی اس کو ضرورت نہیں، اور وكل ما هذا شأنه فهو قدیم، اور ہر وہ چیز جس کی یہ حال جس کا یہ حال ہو وہ قدیم ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا کہ العالم قدیم۔ تو انہوں نے یہ نتیجہ نکالا بھئی، اور ہم نے نتیجہ کیا نکالا تھا؟ العالم حادث۔ اب دو میں سے ایک ہی چیز ہو سکتی ہے: یا عالم حادث ہو گا یا قدیم ہو گا، دونوں نہیں ہو سکتے ظاہر سی بات ہے، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا ان دو، ان دو نظروں میں سے ایک نظر درست ہے اور ایک غلط ہے۔ اب کون سی درست ہے اور کون سی غلط ہے؟ اس کے لیے ایک ایسے قانون کی ضرورت پڑی جو ہمیں غلطی سے، غلطی، ہمیں بتلائے، غلطی سے ہمیں بچائے بھئی، اس قانون کو کیا کہتے ہیں؟ منطق کہتے ہیں۔ تو منطق کے علم کے ذریعے، منطق کے علم کے ذریعے نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہوتی ہے۔ نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہوتی ہے۔ جی، اور پھر بتلایا تھا اس علمِ منطق اور کو علمِ میزان بھی کہتے ہیں، اسی طرح اس کو علمِ آلی بھی کہتے ہیں۔ علمِ منطق بھئی، علمِ منطق کیوں کہتے ہیں؟ بتلایا تھا منطق کے معنیٰ ہیں بولنا، بات کرنا، تو چونکہ اس علم کے ذریعے بھی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے جو نطق ہیں، ان میں کیا ہوتا ہے؟ قوت حاصل ہوتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اثر پڑتا ہے، اور نطقِ ظاہری میں بھی اور نطقِ باطن، نطقِ ظاہری تو یہ بات کرنا ہے، منطقی جو بات کرے گا اس اس طرح کی بات کرنے پر، اس طریقے پر قادر ہو گا کہ غیر منطقی اس انداز میں کلام نہیں کر سکتا، تو دیکھو اس سے فائدہ ہوا کس کے اندر؟ نطقِ ظاہری میں۔ اسی طرح نطقِ باطنی کے اندر بھی اس میں فائدہ ہے، یعنی نطقِ باطنی یعنی ادراک، کہ منطقی کو جو ہے چیزوں کی— 2 نظر و فکر کو تول کر دیکھا جاتا ہے کہ کون سی صحیح ہے اور کون سی فاسد ہے، غلط ہے، اس کا اس سے پتہ چلتا ہے۔ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ میزان بھی کہتے ہیں۔ نیز اس کو علمِ عالی بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ تمام علوم کے لیے آلہ ہے۔ کیا ہے؟ تمام علوم کے لیے آلہ ہے۔ جس طرح کسی آلے کے ذریعے کام کرنے میں سہولت اور آسانی ہو جاتی ہے، اس علم کے ذریعے بھی دوسرے علوم میں کیا ہو؟ دوسرے علوم میں آسانی ہوتی ہے، بھئی، فائدہ ہوتا ہے، خاص طور پر فلسفی علوم کے اندر، بھئی۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ارسطاطالیس جو ہے، جسے ارسطو بھی کہتے ہیں، اس نے اس وہ جو ارسطو فلسفی تھا، اس نے سکندرِ رومی جو ہے، سکندرِ اعظم کے نام سے جو مشہور ہے، بہت بڑا فاتح گزرا ہے۔ اس کے حکم سے ارسطو نے اس علم کو مدون کیا۔ وہ سکندرِ رومی کا استاد تھا، تو سکندرِ رومی چونکہ بادشاہ تھا، اس کے حکم پر اس علم کو اس نے باقاعدہ مدون کیا اور لکھا۔ اس ارسطو کو معلمِ اول کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تو جہاں کہیں معلمِ اول کی بات آ جائے، کا لفظ آ جائے، تو آپ سمجھ جائیں معلمِ اول سے کون مراد ہیں؟ ارسطو مراد ہیں۔ اور پھر فارابی، فارابی جس نے اس علم کو منتقل کیا مسلمانوں کی طرف، بھئی۔ تو عربی میں ترجمہ کیا اس علم کا اور منتقل کیا مسلمانوں کی طرف، تو فارابی کو کیا کہتے ہیں؟ معلمِ ثانی کہتے ہیں۔ پھر فارابی کی جب کتابیں ضائع ہو گئیں، جل گئیں، تو پھر ابو علی ابنِ سینا جو ہے، اس نے پھر اس علم کی تفصیل بیان کی، دوبارہ اس کو لکھا، انہوں نے اس کی تفصیل بیان کی، بھئی، شیخ ابو علی ابنِ سینا نے۔ کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے بتلایا آپ کو کہ یہاں تک جو ہم نے باتیں کیں، اس سے آپ کو علمِ منطق کی تعریف پتہ چل گئی ہوگی۔ کہ کیا؟ کہ علمِ منطق ان قوانین کے جاننے کا نام ہے جن کی رعایت رکھنا ذہن کو فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ نظر و فکر میں غلطی سے ذہن کو جو بچاتے ہیں، وہ علم کیا ہے؟ علمِ منطق ہے۔ اور پھر بتلایا تھا اس کا موضوع کیا ہے؟ بتلایا، بھئی، علمِ منطق کا موضوع تصورات اور تصدیقات ہیں، معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات۔ لیکن مطلقاً نہیں، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک پہنچا دیں، اس حیثیت سے، بھئی۔ اور پھر اس علم کی غرض و غایت بیان کی تھی۔ غرض و غایت تو اس کی تعریف سے ہی واضح ہو گئی تھی، اس علم کی ضرورت سے ہی بات واضح ہو گئی تھی، کہ علمِ منطق کی غرض و غایت کیا ہے؟ کہ نظر و فکر میں غلطی سے بچانا، بھئی۔ یہ علم کیا کرتا ہے؟ نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ تو یہ اس کی غرض ہے کہ نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہو۔ اس کے بعد پھر دلالت کی بات آئی تھی، بھئی۔ دلالت۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا، ایک ہے قولِ ملفوظ جو ہم زبان سے کہتے ہیں، اور ایک ہے قولِ معقول جو بات ذہن میں آتی ہے۔ اور منطقی کا کام کیا ہے؟ کس سے بحث کرتا ہے؟ قولِ معقول سے، یعنی معانی سے بحث کرتا ہے، الفاظ سے بحث کرنا اس کا کام نہیں، الفاظ سے بحث کرنا اس کا کام نہیں، لیکن چونکہ آگے الفاظ کی ضرورت ایک دوسرے کو بات سمجھانے کے لیے الفاظ ہی کا سہارا لیا جاتا ہے، الفاظ ہی کے ذریعے ایک دوسرے کو بات سمجھائی جاتی ہے، تو لہٰذا مجبوراً مناطقہ کو شروع میں کیا کرنی پڑتی ہے؟ الفاظ کی بحث کرنا پڑتی ہے اپنے کتابوں میں۔ پھر چنانچہ الفاظ کی بحث شروع کرتے ہوئے پہلے دلالت کا معنی بتلایا تھا۔ دلالت کسے کہتے ہیں، بھئی؟ دلالت بتلایا تھا عربی زبان میں دلالت کے معنی رہنمائی کرنے کے ہیں، اور اصطلاح کے اندر ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ دلالت۔ جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی، آپ کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں، باہر دھوپ پر آپ کی نظر پڑی، اس سے آپ کو پتہ چل گیا کہ سورج نکلا ہوا ہے، تو بس یہ کیا ہوئی؟ دلالت ہوئی۔ بس جہاں بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگے، اسے دلالت کہتے ہیں، بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں، باہر زید کے باتیں کرنے کی آواز آئی، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ باہر زید کھڑا ہے، تو یہ کیا ہے؟ دلالت ہے، بھئی۔ آپ نے زید کو ابھی دیکھا تو نہیں ہے، آپ نے صرف اس کی آواز سنی ہے، تو یہ جو آواز سے اس کے وجود کا پتہ چل گیا، یہ کیا ہے؟ دلالت۔ پھر اس کے بعد بتلایا تھا یہ دلالت دو قسم پر ہے، کبھی لفظی ہوگی اور کبھی غیرِ لفظی۔ اور یہ تقسیم دال کے اعتبار سے ہے، یہ وہ چیز جو دلالت کرنے والی ہے اسے کہتے ہیں دال، اور جس چیز پر دلالت کرے اسے کہتے ہیں مدلول، بھئی۔ تو دال اور مدلول، بھئی۔ تو دال کے اعتبار سے یہ دلالت کی تقسیم کرتے ہیں کہ وہ دال جو ہے لفظ ہوگا یا کبھی غیرِ لفظ۔ دال اگر لفظ ہو تو یہ دلالتِ لفظیہ ہے، جیسے کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے زید کی آواز سن کر آپ نے آپ کو اس کے وجود کا پتہ چلا کہ وہ باہر کھڑا ہے، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ لفظی۔ اور اگر دال لفظ نہ ہو تو اس صورت میں یہ دلالتِ غیرِ لفظیہ ہے، جیسے کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے آپ نے دھوپ سے کس کا پتہ لگا لیا؟ سورج کا۔ یا اسی طرح جیسے ایک جگہ سے بہت سا دھواں اٹھ رہا ہے، آپ نے دور سے دیکھا، آپ کو پتہ لگ گیا کہ معلوم ہوا یہاں آگ لگی ہے نیچے، تو یہ جو دھوئیں سے آگ کا پتہ چلا، یہ کیا ہے؟ دلالت۔ تو دھواں ہوا دال، اور آگ ہوئی مدلول، اور دال لفظ ہے یا غیرِ لفظ، بھئی؟ غیرِ لفظ، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ غیرِ لفظیہ۔ پھر ان دونوں کی تین تین قسمیں تھیں، تو اس اعتبار سے پھر چھ قسمیں بن جاتی تھیں، چھ قسمیں، بھئی۔ پہلی قسم کیا تھی؟ یا تو دلالت وضع کے اعتبار سے ہوگی یا طبعیت کے اعتبار سے یا عقل، یعنی یعنی دال جو ہے، دال جو ہے باعتہارِ وضع کے دلالت کرے گا یا باعتہارِ مثلاً مثلاً، بھئی، یہ جو الفاظ ہیں، وضع کسے کہتے تھے؟ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کر لینا۔ مثلاً یہ اشارے ہیں ٹریفک کے، ان کو مختلف چیزوں کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ سرخ اشارہ کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ گاڑی کے روکنے کے لیے۔ اور سبز رنگ کا اشارہ گاڑی کے چلانے کے لیے مقرر کر دیا ہے، چنانچہ اب آپ دیکھتے ہیں کہ وہاں پر سرخ اشارہ جلتا ہے، گاڑیاں رک جاتی ہیں، اگرچہ کسی نے کہا نہیں روکو گاڑی، لیکن یہ وضع ہی اس کے لیے ہے، اس سے پتہ چل جاتا ہے۔ تو اس سے گاڑی کے روکنے پر دلالت ہوئی۔ اور سبز اشارہ اس کو مقرر ہی کس لیے کیا گیا ہے؟ گاڑی کے چلانے کے لیے، تو لہٰذا اس سے گاڑی کے چلانے پر دلالت ہوئی۔ تو یہ جو مقرر، اسی طرح ہم نے الفاظ مقرر کر رکھے ہیں ہر چیز کے لیے، آپس میں بات چیت کرتے ہیں، چیزوں کے نام وغیرہ لیتے ہیں، تو جو نام مقرر کیا ہوتا ہے وہی ہمارے ذہن میں آتی ہے، کوئی اور چیز نہیں آتی۔ مثلاً میں نے موبائل کہا تو آپ کے ذہن میں موبائل ہی کا تصور آیا، گاڑی کا نہیں، یا میں نے گاڑی کہی تو آپ کے ذہن میں گاڑی کا تصور آیا، قلم کا تصور نہیں، تو یہ ہر ہر چیز کے ہم نے نام مقرر کر رکھے ہیں، اسے کیا کہتے ہیں؟ وضع۔ تو اگر یہ دلالت جو دال جو ہے اگر وہ اس میں وضع کا دخل ہو، اس یہ جو دلالت ہے اس میں اگر وضع کا دخل ہو، یعنی ہمارے مقرر کرنے کی وجہ سے ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ دلالتِ وضعیہ۔ اور اگر دال جو ہے وہ طبعیت کے اقتضا کی وجہ سے پیدا ہو، تو اسے کیا کہیں گے؟ دلالتِ طبعیہ۔ مثلاً ایک شخص جو ہے سینے میں تکلیف ہو، کھانستا ہے تو اح اح کرتا ہے، تو اب یہ اح اح کو ہم نے نہیں مقرر کیا کہ سینے میں درد ہو تو اح اح کرنا چاہیے، بلکہ یہ جو اح اح کی آواز ہے یہ طبعیت کے اقتضا سے خود بخود پیدا ہوا، لیکن اس سے ہمیں اتنا پتہ چل گیا کہ یہ تکلیف ہے، بھئی، سورۃ سینے میں تکلیف ہے۔ سورۃ سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اگر دلالت باعتہارِ وضع کے بھی نہ ہو اور باعتہارِ طبعیت کے بھی نہ ہو، تو پھر یہ دلالتِ عقلیہ ہے، بھئی، دلالتِ عقلیہ۔ یعنی ان دو کے علاوہ باقی سب دلالتِ عقلیہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جیسے کسی شخص نے دیوار کے پیچھے سے دیز کہا، بھئی۔ دیز میں نے بتایا تھا، اسی لفظِ زید کا عکس ہے، اسی کو الٹا دیا تا کہ یعنی کوئی ایسا لفظ بنا لیا جس کا کوئی معنی نہیں۔ اگر چلو فرض کرو آپ زید ہے، کوئی دیوار کے پیچھے سے زید کہتا ہے، تو اس زید کہنے سے آپ کے ذہن میں زید کی تصویر آ گئی، بھئی، یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ لفظیہ ہے، اور کون سی ہے؟ زید ہم نے رکھا ہے کسی کا نام، خود بخود تو نہیں ہو گیا زید اس کا نام، تو اس کا نام زید اس کے والدین نے باقاعدہ رکھا، مقرر کیا، تو زید کی جو صورت آئی یہ دلالتِ لفظیہ کیوں ہے؟ کیونکہ زید لفظ تھا جو اس نے بولا، جس سے اس کی صورت ذہن میں آئی۔ نیز، یہ تو دلالتِ لفظیہ وضعیہ ہوئی۔ اس دیوار کے پیچھے سے زید سننے سے ایک اور چیز کا بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ دیوار کے پیچھے کوئی موجود ہے، یہ کون سی ہوئی دلالتِ لفظیہ ہی ہوئی کیونکہ لفظ زید سے آپ کو پتہ چلا، لیکن کون سی؟ عقلیہ، کیونکہ زید کا لفظ اس لیے تو نہیں ہم نے مقرر کیا کہ یہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے دیوار کے پیچھے کوئی ہے، تو یہ خود بخود ہمیں بات سمجھ میں آ گئی، بھئی، تو یہ کون سی ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ نیز اگر وہ کوئی جاننے والا ہوا آپ کا، تو آپ آواز سنتے ہی آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ دیوار کے پیچھے فلاں ہے، تو یہ بھی کون سی ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ عقلیہ ہوئی، بھئی، کیونکہ اس نے تو لفظِ زید کہا، کیا زید کا لفظ اس لیے وضع ہے کہ ہمیں یہ بتائے کہ دیوار کے پیچھے فلاں آدمی ہے؟ یہ تو اس کے لیے وضع نہیں۔ تو یہ چھ قسم کی دلالتیں ہوئیں، بھئی۔ پھر بتلایا تھا کہ منطقی جو ہے وہ صرف دلالتِ لفظیہ وضعیہ ہی سے بحث کرتا ہے، باقی پانچ اقسام سے بحث نہیں کرتا، اس لیے کیونکہ اس قسم میں فائدہ بہت زیادہ ہے، الفاظ کے ذریعے ہر بات دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہے، جبکہ اور چیزوں میں اس طرح نہیں ہے، تو چونکہ اس قسم میں سب سے فائدہ، زیادہ فائدہ ہے، اس لیے منطقی اسی سے بحث کرتا ہے۔ اس کے بعد بتلایا تھا کہ یہ دلالت جو ہے، یہ تین قسم پر ہے، ایک دلالتِ مطابقی، ایک دلالتِ تضمنی، اور ایک دلالتِ التزامی۔ دلالتِ مطابقی کسے کہتے تھے؟ کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہُ پر دلالت کرے، بھئی، یہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی۔ اور موضوع لہُ کے جز پر دلالت کرے، یہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اگر موضوع لہُ کے لازم پر دلالت کرے، یہ کیا ہے؟ دلالتِ التزامی۔ مثلاً میں نے آپ کے سامنے انسان کہا، انسان۔ انسان سے آپ کو کیا معنی سمجھ میں آیا ذہن میں؟ حیوانِ ناطق۔ تو یہ لفظ کی دلالت اپنے پورے معنی پر ہوئی، یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ مطابقی۔ اور جب حیوانِ ناطق پورا آپ کے ذہن میں آ گیا، تو حیوان بھی آیا یا نہیں اس میں؟ ناطق بھی آیا، حیوان اور ناطق آئے تو حیوانِ ناطق بنا، اکیلا تو نہیں بن سکتا وہ، تو یہ ایک ایک جز بھی، کیونکہ جب کل ذہن میں آئے گا تو ایک ایک جز بھی ذہن میں آ جائے گا، اگر ایک جز بھی نہ رہ گیا تو پھر تو کل آپ کے ذہن میں نہ آیا، بھائی। تو جب کل آیا تو ایک ایک جز آ گیا، تو ایک ایک جز پر بھی خود بخود دلالت ہو گئی، یہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ تو دلالتِ تضمنی کو تضمنی کہتے ہی اس لیے ہیں کہ یہ کل کے ضمن میں ہوتی ہے، کل کے بیچ میں ہوتی ہے۔ تو اس لیے اس کو دلالتِ تضمنی کہتے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہیں دلالتِ تضمنی ہو اور وہاں مطابقی نہ ہو، جب بھی ہوگی پہلے کیا ہوگی؟ مطابقی، اور اس کے بعد تضمنی۔ اور دلالتِ التزامی جس میں موضوع لہُ کے لازم پر دلالت ہوتی ہے، جیسے انسان کی دلالت کس پر؟ قابلیتِ علم پر اور صنعتِ کتابت پر، بھئی۔ کہ یہ انسان کے ساتھ لازم ہیں، ہر انسان میں علم کی بھی قابلیتِ علم بھی ہے اور صنعتِ کتابت کی بھی صلاحیت ہے اس میں۔ چنانچہ پھر آپ کو بتلایا تھا کہ دلالتِ تضمنی اور التزامی بغیر مطابقی کے نہیں ہو سکتیں، جہاں بھی دلالتِ تضمنی ہوگی وہاں پر دلالتِ مطابقی بھی ہوگی، جہاں بھی دلالتِ التزامی ہوگی وہاں دلالتِ مطابقی بھی ہوگی۔ ہاں جہاں دلالتِ مطابقی ہو وہاں پر تضمنی اور التزامی کا ہونا ضروری نہیں، کیونکہ دلالتِ تضمنی وہ جز پر دلالت کو کہتے تھے، اور ایک چیز کا جز ہی نہ ہو تو جز پر دلالت کیسے ہوگی؟ تو دلالتِ مطابقی وہاں آ جائے گی اور تضمنی نہیں آئے گی۔ اور دلالتِ التزامی کہتے تھے موضوع لہُ کے لازم پر دلالت کرنا، ایک چیز کا کوئی لازم ہی نہیں ہے، تو وہاں دلالتِ مطابقی تو ہوگی اور دلالتِ التزامی نہیں ہوگی۔ اس پر پھر اشکال ہوا تھا کہ، بھئی، یہ کہ ٹھیک ہے، ایک چیز کا جز ہی نہ ہو، تو دلالتِ مطابقی تو ہوگی لیکن دلالتِ تضمنی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ بات ہمیں تسلیم نہیں کہ دلالتِ مطابقی کے ساتھ التزامی نہ ہو۔ ہر مطابقی کے ساتھ التزامی ضرور ہوگی، کیونکہ ہر چیز کا کوئی نہ کچھ نہ کچھ اس کے ساتھ لازم ضرور ہوگا، اور کچھ بھی نہیں، تو کم از کم یہ بات تو اس کے ساتھ لازم ہوگی کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے۔ زید زید ہی ہے، غیرِ زید نہیں ہے۔ کتاب کتاب ہی ہے، غیرِ کتاب نہیں ہے۔ تو ہر ایک کے ساتھ یہ چیز لازم ہوتی ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے، تو یہ بھی تو ساتھ سمجھ میں آ جائے گا، بھئی۔ کتاب کہا تو کتاب ہی کتاب سمجھ میں آئے گی، اور ساتھ یہ بات بھی آ جائے گی کہ یہ غیرِ کتاب نہیں ہے۔ زید جب کہیں گے، زید ہمارے ذہن میں آئے گا، اور ساتھ ایک لازم بھی ذہن میں آئے گا، وہ کیا؟ کہ یہ غیرِ زید، یعنی عمر یا بکر وغیرہ نہیں ہے، زید ہی ہے۔ تو جواب دیا تھا: نہیں، بھئی، کہ غیر کی طرف ہمارا ذہن ہی نہیں جاتا، تو چہ جائے کہ اس بات کی طرف ہمارا ذہن جائے کہ یہ اپنا غیر نہیں ہے، زید زید ہی ہے، غیرِ زید نہیں ہے۔ 3 کیونکہ ہم نے کہا تھا دلالتِ التزامی وہ ہے جس میں ذہن خود منتقل ہوتا ہے کس کی طرف، اس لازم کی طرف۔ ذهن کیا ہو؟ خود منتقل ہو۔ دلالت اسی کو کہتے ہیں نا کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگے۔ تو انسان کے کہنے سے خود بخود ہمیں کیا پتہ چل گیا کہ اس میں علم کی بھی صلاحیت ہے اور کتابت کی بھی صلاحیت۔ لیکن زید کہنے سے غیر کہ یہ زید ہی ہے، غیر زید نہیں، تو یہ غیر زید نہیں ہے، اس طرح ہمارا ذہن منتقل نہیں ہوتا۔ تو ہماری بات تو چل رہی تھی اس لازم کے اندر جس کی طرف ذہن خود بخود منتقل ہو۔ تو یہاں اگرچہ ہر چیز کے ساتھ یہ لازم ہے کہ وہ وہ خود ہی ہے، اپنا غیر نہیں ہے، لیکن اس کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوتا تو لہذا یہ دلالتِ التزامی یہاں نہیں ہوگی، ہر جگہ نہیں ہوگی۔ پھر اس کے بعد لفظ کی تقسیم کی تھی مفرد اور مرکب کی طرف بھئی۔ مفرد کی انہوں نے تعریف کیا کی تھی کہ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو۔ دلالت کا ارادہ نہ کیا جائے۔ پھر اس میں تین صورتیں بن گئی تھیں کہ یا تو سرے سے لفظ کا جز ہی نہ ہو یا جز تو ہو لیکن معنی دار نہ ہو، یا جز بھی ہے، معنی دار بھی ہے، لیکن وہ دلالت مقصود نہیں ہے۔ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت ہو، تو یہ ہے مرکب۔ مثلاً میں نے کہا زید کھڑا ہے۔ تجھ سے زید کے لفظ سے زید کی ذات سمجھ میں آئی، کھڑا ہے ہونے سے آپ کو اس کا قیام سمجھ میں آ گیا تو دیکھو ہر لفظ نے اپنے اپنے معنی پر دلالت کی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مفرد ہے کہ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو۔ اس میں پھر تین ہی صورتیں بنتی ہیں۔ پہلی صورت کیا؟ سرے سے لفظ کا جز ہی نہ ہو۔ جب لفظ کا جز ہی نہیں ہے تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کہاں ہو سکتی ہے؟ لفظ کا جز ہی نہیں بھئی۔ جیسے حمزہ استفہام۔ یا لفظ کا جز تو ہے لیکن جز کا معنی کوئی نہیں، جیسے زید کا لفظ زا، یا، دال، تین جز ہیں اس کے لفظ زید کے، لیکن ان کا کوئی معنی نہیں ہے بھئی الگ الگ۔ تو لفظ کے جز سے جب معنی ہی لفظ کے جز کا معنی ہی نہیں ہے، تو معنی کے جز پر دلالت بھی نہیں ہو سکتی بھئی۔ یا لفظ کا جز بھی ہے اور وہ جز معنی دار بھی ہیں، لیکن وہ دلالت مقصود نہیں۔ جیسے کسی کا کیا نام رکھا؟ عبداللہ۔ اب عبداللہ میں ایک لفظ ہے عبد، ایک ہے لفظ اللہ۔ عبد کا اپنا معنی، لفظ اللہ کا اپنا معنی، لیکن جب کسی کا نام رکھ دیں پھر وہ معنی مقصود نہیں ہوتا تو معنی مقصود نہیں ہوتا، تو اب پھر اس کا ترجمہ مفہوم جو ہے، اللہ کا بندہ ہے عبداللہ کا، لیکن اس وقت ذہن اس کی طرف نہیں جاتا، وہ ذہن میں نہیں آتا کیونکہ وہ مراد ہی نہیں ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد مفرد کی انہوں نے تقسیم کی بھئی کہ مفرد جو ہے وہ یا اسم ہوگا یا کلمہ ہوگا یا ادات ہوگا۔ یعنی اس کا معنی مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا۔ اگر مستقل نہیں تو یہ ادات ہے، جسے نحوی والے حرف کہتے ہیں۔ اور اگر مستقل ہے، پھر تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوگا یا نہیں ملا ہوگا۔ اگر نہیں ملا تو یہ اسم ہے اور اگر ملا ہو تو یہ کلمہ ہے، مناطقہ کے نزدیک اور فعل ہے نحویوں کے نزدیک بھئی۔ اگرچہ یہ سب بالکل مترادف بھی نہیں ہیں، جو مناطقہ کے نزدیک اسم ہو، ضروری نہیں کہ نحویوں کے ہاں بھی اسم ہو۔ چلیے بس کرتے ہیں، بس یہی تھا المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام۔
108 approved lectures · 28 of 108