Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-050

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 50 فصلٌ: وَقَدْ تُقَسَّمُ القَضِيَّةُ بِاعْتِبَارِ المَوْضُوعِ، فَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ جُزْئِيًّا وَشَخْصًا مُعَيَّنًا سُمِّيَتِ القَضِيَّةُ شَخْصِيَّةً وَمَخْصُوصَةً؛ كَقَوْلِكَ: زَيْدٌ قَائِمٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُزْئِيًّا بَلْ كَانَ كُلِّيًّا فَهُوَ عَلَى أَنْحَاءٍ؛ لِأَنَّهَا إِنْ كَانَ الحُكْمُ فِيهَا عَلَى نَفْسِ الحَقِيقَةِ تُسَمَّى القَضِيَّةُ طَبِيعِيَّةً؛ نَحْوُ: الإِنْسَانُ نَوْعٌ، وَالحَيَوَانُ جِنْسٌ. بھئی گزشتہ اسباق میں آپ نے قضیہ کے بارے میں پڑھا تھا قضیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ قول جو صدق اور کذب کا احتمال رکھے۔ اور دوسری تعریف پڑھی تھی کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور پھر پڑھا تھا کہ یہ قضیہ جو ہے یہ دو قسم پر ہے ایک حملیہ اور ایک شرطیہ۔ حملیہ وہ ہے جس میں ایک شئے کے لیے دوسری شئے کا اثبات کیا جائے یا اس کی نفی کی جائے۔ جبکہ قضیہ شرطیہ جس میں ایسا نہ ہو بھئی، ایسا نہ ہو۔ یا دوسرے فرق بتلایا تھا کہ قضیہ حملیہ جو ہے اس کی جب تحلیل کریں اس کو کھولیں تو ہمیں دو مفرد حاصل ہوں یا ایک مفرد اور ایک قضیہ حاصل ہوں۔ جبکہ قضیہ شرطیہ کو اگر کھولیں گے تو وہاں ہمیں دو قضیے حاصل ہوں گے بھئی، دو قضیے۔ جی اس کے بعد قضیہ حملیہ کی دو قسمیں بتلائی تھیں کہ یا وہ موجبة ہوگا یا سالبة۔ اگر اس میں ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے ثبوت ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ موجبة۔ اور اگر اس میں ایک شئے سے دوسری شئے کی نفی ہو تو اسے سالبة کہیں گے۔ پھر اس کے بعد ان کے اجزاء بتلائے تھے کہ قضیہ حملیہ جو ہے اس کے تین اجزاء ہوتے ہیں ایک موضوع، ایک محمول اور ایک رابطہ۔ موضوع جس پر حکم لگایا گیا، محمول جس کا حکم لگایا گیا، اور رابطہ درمیان میں وہ چیز جو ربط دینے والی ہے بھئی ربط دینے والی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ربط اصل میں دے اصل میں تو وہ نسبت ہے بھئی نسبت، موضوع اور محمول کے درمیان جو نسبت ہے، جو تعلق ہے، جو ارتباط ہے۔ لیکن اس پر جو دلالت کرتا ہے جو لفظ اسی کو رابطہ کہہ دیتے ہیں اگرچہ وہ رابطہ نہیں وہ تو دال علی الرابطة ہے، رابطہ پر دلالت کرنے والا ہے لیکن اسی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ رابطہ۔ جبکہ اسی طرح قضیہ شرطیہ جو ہے اس کے دو جز ہوتے ہیں بھئی۔ پہلا جز جو ہے اس کا وہ مقدم کہلاتا ہے اور دوسرا جز تالی، دوسرا جز تالی۔ آج قضیہ حملیہ کی ایک اور تقسیم آپ کو بتلائیں گے بھئی، اور یہ تقسیم ہے موضوع کے اعتبار سے۔ کس کے اعتبار سے؟ بھئی قضیہ حملیہ کے پہلے جز کو موضوع کہتے ہیں اور دوسرے کو محمول، تو موضوع کے اعتبار سے قضیہ حملیہ جو ہے وہ چار قسم پر ہے بھئی چار قسم پر۔ موضوع اگر اس کا جزئی ہو بھئی، کلی نہ ہو بلکہ کیا ہو؟ جزئی ہو۔ اور کوئی شخص معین ہو تو اس کو قضیہ شخصیہ بھی کہتے ہیں اور قضیہ مخصوصہ بھی کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ شخصیہ اور قضیہ مخصوصہ، یہ کس وقت کہیں گے؟ جب قضیہ حملیہ کا موضوع کیا ہو؟ کوئی شخص معین ہو، ایک ہوں یا دو ہوں یا زیادہ ہوں لیکن کیا ہوں؟ معین افراد ہوں تو اس کو قضیہ شخصیہ بھی کہتے ہیں اور قضیہ مخصوصہ بھی کہتے ہیں بھئی۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زَيْدٌ عَالِمٌ یا عَمْرٌو قَائِمٌ یا بَكْرٌ أَخُوكَ، کوئی بھی جملہ بنا لیں چاہے اس میں ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے اثبات ہو یا اس کی نفی ہو وہ قضیہ حملیہ ہے، اور پھر اس کا اگر موضوع جو ہے وہ شخص معین ہے چاہے ایک فرد ہو، دو ہوں یا زیادہ لیکن ہوں متعین افراد، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ شخصیہ اور دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ کہیں گے بھئی۔ یہ دو نام ہیں اس کے: قضیہ شخصیہ، قضیہ شخصیہ نام سے ہی پتہ لگ رہا ہے کیونکہ یہاں اس کا موضوع کیا ہے ایک شخص معین ہے۔ قضیہ مخصوصہ نام سے ہی پتہ لگ رہا ہے کہ اس کا موضوع کیا ہے ایک مخصوص فرد ہے یا مخصوص افراد ہیں بھئی۔ تو یہاں پر یہ وہ پہلی قسم جس میں حکم اس کا موضوع کیا ہے جہاں پر؟ شخص معین ہے، جزئی ہے۔ اور اگر اس قضیہ حملیہ کا موضوع کلی ہو، کلی جزئی نہ ہو بلکہ کلی ہو، تو پھر حکم جو ہے وہ اس کی حقیقت پر لگایا گیا ہوگا یا اس کے افراد پر۔ اگر حکم حقیقت پر لگایا گیا ہے تو پھر اسے قضیہ طبعیہ کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ اسے قضیہ طبعیہ کہتے ہیں اگر موضوع ہے تو کلی لیکن کلی کے افراد پر حکم نہیں لگایا گیا بلکہ اس کی حقیقت پر حکم لگایا گیا ہے، جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: الإِنْسَانُ نَوْعٌ یا الحَيَوَانُ جِنْسٌ بھئی۔ الإِنْسَانُ نَوْعٌ یہاں پر انسان پر نوع ہونے کا حکم لگایا گیا اور انسان کلی ہے یا جزئی ہے بھئی؟ کلی ہے کیونکہ کثیرین پر صادق آتا ہے۔ اور حکم یہاں پر اس کے افراد پر نہیں لگایا گیا بلکہ حقیقت پر لگایا گیا کہ حقیقت کے اعتبار سے انسان کیا ہے؟ نوع ہے بھئی۔ یہ جو انسان کی حقیقت ہے حیوان ناطق، وہ کیا ہے؟ نوع ہے۔ اس کے افراد نوع نہیں بھئی، زید، عمرو، بکر وغیرہ ان پہ حکم نہیں لگ رہا کیونکہ اس کے افراد وہ تو جزئی ہیں بھئی، وہ تو نوع نہیں ہیں بھئی۔ اس کے افراد کیا ہیں؟ وہ تو انسان پر نوع ہونے کا حکم لگایا گیا اور ظاہر سی بات ہے انسان کے افراد نوع نہیں ہیں ہاں البتہ حقیقت کے اعتبار سے انسان کیا ہے؟ نوع۔ یا جیسے کہا جائے: الحَيَوَانُ جِنْسٌ بھئی، حیوان کیا ہے؟ جنس ہے بھئی، جنس ہے۔ تو یہاں پر حیوان کے افراد جو ہیں ان پر حکم نہیں لگایا گیا جنس ہونے کا کیونکہ اس کے افراد تو جزئی ہیں بھئی، تو یہ حکم جنس ہونے کا حکم حیوان کی حقیقت پر لگایا گیا کہ حقیقت کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ حیوان جنس ہے بھئی۔ جیسے بھئی دیکھیے ایک اور مثال بھئی: مثلاً الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ المَرْأَةِ، مرد عورت سے بہتر ہے۔ اب دیکھیے یہاں افراد مراد نہیں ہو سکتے کہ رجل کے افراد اور عورت کے افراد سے بہتر ہوں، ایسا نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ خود غور کریں: ایک کافر مرد ہے، ایک مومنہ عورت ہے، کون افضل ہے؟ مومنہ عورت افضل ہے اور آپ تو جملے میں اس میں تو کیا آیا: الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ المَرْأَةِ کہ مرد عورت سے بہتر ہے۔ سو معلوم ہوا یہاں افراد پر حکم نہیں لگایا جا رہا ورنہ تو یہ درست ہی نہیں ہوگا ہر جگہ پر بھئی۔ یا جیسے یہ تو مثال تھی کافر مرد اور مومنہ عورت کی اس میں واضح معلوم ہو رہا ہے کہ عورت افضل ہے۔ اور دوسری مثال مثلاً اسی میں کہ ایک فاسق مرد ہے اور ایک نیک عورت ہے، کون افضل ہے؟ نیک عورت لازمی بات ہے افضل ہے بھئی، تو دیکھو یہاں بھی یہ درست نہیں بیٹھتا بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں جو کہا گیا: الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ المَرْأَةِ یہ رجل کے افراد پر حکم نہیں لگایا گیا بلکہ اس کی حقیقت پر حکم لگایا گیا ہے، کس پر؟ حقیقت، یعنی حقیقتِ رجل یعنی جنسِ رجل وہ افضل ہے کس سے؟ جنسِ عورت سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ جنس اس جنس سے بہتر ہے، اس کو اللہ نے بہتر بنایا اس کو اس پر عورت پر حاکم بنایا ہے، اللہ نے اس کو فوقیت دی ہے بھئی۔ اب معنی ٹھیک ہوا بھئی کہ جنسِ رجل بہتر ہے کس سے؟ جنسِ عورت سے، یعنی حقیقتِ رجل بہتر ہے کس سے؟ حقیقتِ عورت سے، تو یہاں افراد مراد نہیں بلکہ یہاں جنس حقیقت مراد ہے۔ تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگر قضیہ حملیہ کا موضوع کیا ہو؟ کلی ہو اور پھر حکم کلی کے افراد پر نہ ہو بلکہ اس کی حقیقت پر ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ طبعیہ۔ اگر شخص معین ہو قضیہ کا موضوع تو اس کا کیا نام تھا؟ قضیہ شخصیہ، اور دوسرا نام؟ قضیہ مخصوصہ۔ اور اگر حکم کیا ہو؟ اگر موضوع کلی ہو اور حکم کلی کی حقیقت پر لگایا جائے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ طبعیہ کہیں گے بھئی، قضیہ طبعیہ۔ اور اگر حکم کلی پر ہے اور پھر کلی کے حقیقت پر نہیں حکم لگایا گیا بلکہ اس کے افراد پر حکم لگایا گیا ہے، افراد پر۔ اور پھر افراد کی مقدار بھی بیان کی گئی ہے کلیت اور جزئیت کے اعتبار سے کہ تمام افراد کا یہ حکم ہے یا بعض افراد کا یہ حکم ہے، تو اس کو قضیہ محصورہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ محصورہ، صاد کے ساتھ، محصورہ۔ مثلاً بھئی، میں کہتا ہوں: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے، ہر انسان حیوان ہے۔ اب دیکھیے یہ یہاں پر موضوع کیا ہے؟ كُلُّ إِنْسَانٍ، اور محمول کیا ہے؟ حَيَوَانٌ، ہر انسان حیوان۔ اب دیکھیے یہ انسان موضوع ہے اور اس پر حیوان ہونے کا حکم لگایا گیا، تو موضوع یہاں پر جزئی ہے یا کلی؟ انسان جزئی ہے یا کلی بھئی؟ کلی۔ اور حکم یہاں افراد پر لگایا گیا، کس پر لگایا گیا؟ افراد پر لگایا گیا، اور افراد کل یا بعض کتنے مراد ہیں وہ بھی بیان کر دیا گیا بھئی کہ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بھئی، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ یا اس کا عکس کریں: بَعْضُ الحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ تو دیکھیے یہاں حکم کلی پر لگایا گیا اور کلی کے افراد مراد ہیں اور ساتھ یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ کل افراد پر یہ حکم ہے یا بعض افراد پر یہ حکم ہے۔ تو جو جملہ کیا تھا؟ قضیہ کیا تھا؟ بَعْضُ الحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان، کیونکہ یہ ظاہر سی بات ہے تمام حیوان تو انسان نہیں ہیں بھئی اس میں تو گائے بھی آ گئی، بھیڑ بکری بھی آ گئی، اونٹ بھی آ گئے، اور جانور بھی آ گئے سب، ان میں سے بعض تو انسان ہیں اور بعض انسان نہیں۔ تو دیکھیے حکم لگایا افراد پر اور مقدار بھی بیان کر دی گئی کہ یہ بعض افراد پر انسان ہونے کا حکم لگایا جا رہا ہے تمام افراد پر یہ حکم نہیں، تو جس قضیے کے اندر حکم کی مقدار بھی بیان کر دی جائے کہ یہ کل افراد کا یہ حکم ہے یا بعض افراد کا یہ حکم ہے اسے قضیہ محصورہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ محصورہ کہتے ہیں۔ اور اگر یہ حکم افراد پر تو لگایا جائے لیکن کل یا بعض ہونے کے اعتبار سے مقدار نہ بیان کی جائے تو پھر اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ مہملہ کہتے ہیں۔ اھمال کا معنی ہے چھوڑ دینا، ترک کر دینا، تو چونکہ یہاں بھی افراد کی مقدار کو بیان نہیں کیا گیا اس کو چھوڑ دیا گیا اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ مہملہ۔ جیسے: الإِنْسَانُ فِي خُسْرٍ بھئی، انسان کس میں ہے؟ انسان خسارے میں ہے، نقصان میں ہے۔ اب یہ نہیں بتایا گیا كُلُّ الإِنْسَانِ یا بَعْضُ الإِنْسَانِ، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ مہملہ کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو چار قسمیں آپ نے پڑھ لیں بھئی: ایک قضیہ شخصیہ یا قضیہ مخصوصہ، دوسری قسم قضیہ طبعیہ، تیسری قسم قضیہ محصورہ، چوتھی قسم قضیہ مہملہ۔ چار قسمیں آسان سی تھیں بھئی۔ دوبارہ سن لیں کہ قضیہ جب قضیہ حملیہ کے اندر اس کا موضوع جو ہے وہ کلی ہوگا یا جزئی، اگر جزئی ہے تو اس کا نام کیا ہے؟ قضیہ شخصیہ، قضیہ مخصوصہ۔ اگر کلی ہے تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: یا تو کلی کے حقیقت پر حکم ہوگا یا اس کے افراد پر۔ اگر حقیقت پر حکم ہے اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ طبعیہ۔ اگر افراد پر حکم ہے پھر دو حال سے خالی نہیں: یا تو افراد کی مقدار بیان کی گئی ہوگی کلیت اور جزئیت کے اعتبار سے یا بیان نہیں کی گئی، اگر بیان کی گئی ہے تو اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ محصورہ، اور اگر بیان نہیں کی گئی تو اسے کیا کہیں گے؟ قضیہ مہملہ بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے اب کتاب پر: فَصْلٌ: یعنی هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ وَقَدْ تُقَسَّمُ القَضِيَّةُ بِاعْتِبَارِ المَوْضُوعِ، اور کبھی تقسیم کی جاتی ہے قضیے کی موضوع کے اعتبار سے، فَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ جُزْئِيًّا، إِنْ كَانَ بھئی انہوں نے ملا کر لکھا کاتب نے، یہ کتابت کی غلطی ہے اس میں إِنْ الگ لفظ ہے كَانَ الگ لفظ ہے ان کو الگ ہی لکھنا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ جُزْئِيًّا وَشَخْصًا مُعَيَّنًا، اگر قضیہ جو ہے اس کا موضوع جزئی اور شخص معین ہو، سُمِّيَتِ القَضِيَّةُ شَخْصِيَّةً وَمَخْصُوصَةً، تو کہا جاتا ہے اس قضیے کو قضیہ شخصیہ اور قضیہ مخصوصہ، تو اس کو شخصیہ اور مخصوصہ کہتے ہیں، كَقَوْلِكَ: زَيْدٌ قَائِمٌ، جیسے کہ آپ کا قول: زَيْدٌ قَائِمٌ بھئی، دیکھیے یہاں موضوع کیا ہے؟ شخص معین ہے بھئی۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُزْئِيًّا، اور اگر موضوع جو ہے قضیے کا وہ جزئی نہ ہو، بَلْ كَانَ كُلِّيًّا، بلکہ کلی ہو، فَهُوَ عَلَى أَنْحَاءٍ، تو وہ کئی قسم پر ہے، لِأَنَّهَا إِنْ كَانَ الحُكْمُ فِيهَا عَلَى نَفْسِ الحَقِيقَةِ، اس لیے کیونکہ اگر اس کے اندر حکم جو ہے وہ نفسِ حقیقت پر ہو افراد پر نہ ہو بلکہ کس پر؟ نفسِ حقیقت پر ہو، تُسَمَّى القَضِيَّةُ طَبِيعِيَّةً، تو اس قضیے کو طبعیہ کہتے ہیں، نَحْوُ: الإِنْسَانُ نَوْعٌ وَالحَيَوَانُ جِنْسٌ، الإِنْسَانُ نَوْعٌ دیکھو یہاں انسان پر نوع ہونے کا حکم لگایا گیا اور حیوان پر جنس ہونے کا بھئی، یہ دو قضیے ہیں دو مثالیں ذکر کر دیں بھئی۔ وَإِنْ كَانَ عَلَى أَفْرَادِهَا، اور اگر حکم اس کلی کے افراد پر لگایا جائے، فَلاَ يَخْلُو إِمَّا أَنْ يَكُونَ كَمِّيَّةُ الأَفْرَادِ فِيهَا مُبَيَّنًا أَوْ لَمْ يَكُنْ، تو پس وہ خالی نہیں یا تو اس میں افراد کی مقدار اس قضیے میں مُبَيَّنًا بیان کی گئی ہوگی یا بیان نہیں کی گئی ہوگی، فَإِنْ بُيِّنَ كَمِّيَّةُ الأَفْرَادِ، اگر بیان کر دی گئی ہو افراد کی مقدار، تُسَمَّى القَضِيَّةُ مَحْصُورَةً، تو اس قضیے کو محصورہ کہتے ہیں، كَقَوْلِكَ: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، جیسے آپ کا کہنا: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، دیکھیے کل افراد کی مقدار بیان کر دی گئی، وَبَعْضُ الحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، یہاں بعض کے اعتبار سے مقدار بیان
108 approved lectures · 50 of 108