Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 58
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 49 فَصْلٌ الْحَمْلِيَّةُ تَلْتَئِمُ مِنْ أَجْزَاءٍ ثَلَاثَةٍ أَحَدُهَا الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَيُسَمَّى مَوْضُوعًا وَالثَّانِي الْمَحْكُومُ بِهِ وَيُسَمَّى مَحْمُولًا وَالثَّالِثُ الدَّالُّ عَلَى الرَّابِطِ وَيُسَمَّى رَابِطَةً بھئی، گزشتہ سبق میں قضایا کی بحث شروع ہوئی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ جو ہے دو قسم پر ہے بھئی۔ قضیہ اولاً تعریف کی قضیہ کی، کہ قضیہ اس کو کہتے ہیں جو صدق اور کذب کا احتمال رکھے، اور دوسری تعریف کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور پھر یہ دو قسم پر تھا، حملیہ اور شرطیہ بھئی۔ قضیہ حملیہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہو یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی ہو۔ اگر ثبوت ہو تو اس کو موجبہ کہتے ہیں اور اگر ایک شے کی دوسری شے سے نفی ہو تو اس کو سالبہ کہتے ہیں۔ جی، تو قضیہ حملیہ کی تعریف انہوں نے کی تھی جس میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہو یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی ہو۔ جبکہ شرطیہ میں ایسا نہیں ہوگا، ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا ایک شے کی دوسری شے سے نفی نہیں ہوگی بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ بعضوں نے کہا کہ قضیہ شرطیہ وہ ہے کہ جب اس کو کھولیں تو دو قضیے حاصل ہوں گے ہمیں۔ جبکہ قضیہ حملیہ کو اگر کھولیں تو پھر یا تو دو مفرد حاصل ہوں گے یا ایک مفرد اور ایک قضیہ حاصل ہوں گے، دو قضیے یہاں حاصل نہیں ہوں گے بھئی۔ آج قضیہ حملیہ اور قضیہ شرطیہ کے اجزاء بتا رہے ہیں آپ کو بھئی۔ دیکھیے کتاب پر بھئی۔ فَصْلٌ أيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ الْحَمْلِيَّةُ تَلْتَئِمُ مِنْ أَجْزَاءٍ ثَلَاثَةٍ، قضیہ حملیہ جو ہے وہ مرکب ہوتا ہے— التَأَمَ یَلْتَئِمُ کے معنی ملنا، ملنا— ملتا ہے تین اجزاء سے، یعنی تین اجزاء جڑتے ہیں تو پھر کیا بنتا ہے؟ قضیہ حملیہ۔ تو یہ مرکب ہوتا ہے تین اجزاء سے، تین اجزاء ہیں اس کے۔ أَحَدُهَا الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ، ایک کیا ہے؟ محکوم علیہ ہے بھئی، یعنی جس پر حکم لگایا گیا۔ محکوم علیہ، جس پر حکم لگایا گیا۔ وَيُسَمَّى مَوْضُوعًا، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع۔ یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ قضیہ کے پہلا جز جو ہے، اس کو موضوع کہتے ہیں اور دوسرے جز کو محمول کہتے ہیں، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہ یہ تین اجزاء سے مرکب ہوتا ہے، أَحَدُهَا الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ، ان میں سے ایک جو ہے وہ محکوم علیہ ہے وَيُسَمَّى مَوْضُوعًا اور اسے موضوع کہتے ہیں۔ وَالثَّانِي الْمَحْكُومُ بِهِ وَيُسَمَّى مَحْمُولًا، اور دوسرا جو ہے وہ محکوم بہ ہے اور اس کو محمول کہتے ہیں، اسے محمول کہا جاتا ہے۔ وَالثَّالِثُ الدَّالُّ عَلَى الرَّابِطِ، اور تیسرا جز وہ ہے جو دلالت کرنے والا ہے رابط پر۔ کس پر؟ رابط پر بھئی۔ یعنی وہ جو ان کو جوڑنے والی چیز ہے۔ بھئی دیکھیے، زَیْدٌ قَائِمٌ۔ زید ایک الگ لفظ تھا، قائم ایک الگ لفظ ہے۔ پھر آپ نے ان دونوں کو جوڑا، زَیْدٌ قَائِمٌ۔ تو ان کے درمیان جوڑا گیا۔ کیا آگیا؟ جوڑ آگیا۔ اگر جوڑ نہیں، پھر تو اب بھی یہ الگ الگ لفظ ہی ہیں اگر آپ ان کو اکٹھا لکھ بھی دیں پھر بھی۔ لیکن جوڑ آیا تبھی آپ اب ملا کر ترجمہ کرتے ہیں، زَیْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہے؟ کھڑا ہے۔ یہ قائم کا حکم کس پر لگا دیا گیا؟ زید پر، یہ جوڑ ان کے درمیان آگیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو ان کے درمیان یہ جوڑ اور ربط آجاتا ہے۔ تو یہ جو نسبت ہے ان کے درمیان، یہ جو جوڑ آگیا، یہ ہے رابط بھئی۔ ربط دینے والی۔ رابط کا کیا معنی؟ ربط دینے والی۔ یہ جو دونوں کے درمیان نسبت آئی، یہ جو جوڑ آیا، یہ ہے رابط۔ اور اس نسبت پر جو چیز دلالت کرے گی، اسے دال علی الرابط کہیں گے، رابط پر دلالت کرنے والی چیز۔ وہ جو نسبت آئی درمیان میں، وہ جو جوڑ آیا، وہ ہے دراصل رابط، ربط دینے والی چیز۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جیسے بھئی نکاح ہوتا ہے۔ ایک مرد الگ ہے، عورت الگ ہے، لیکن پھر نکاح ہوا۔ نکاح ہوا تو دونوں کے درمیان جوڑ آگیا، اب یہ میاں بیوی بن گئے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو جوڑ آگیا، اسی طرح یہاں دو لفظوں کو آپ نے ملایا تو ان کے درمیان جوڑ آگیا، نسبت آگئی، یہ نسبت یہ ہے رابط۔ اور اس نسبت پر جو لفظ دلالت کرے گا، اس کو، اسی کو، وہ ہے دال علی الرابط۔ اس نسبت پر دلالت کرنے والا ہے۔ اسی کو رابط کہہ دیں گے بھئی۔ اسی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ تو رابط یہ دراصل یہ جو لفظ ہے وہ رابط نہیں ہے، یہ لفظ صرف اس نسبت پر، اس رابط پر دلالت کرنے والا ہے، لیکن اسی کو عموماً کیا کہہ دیا کرتے ہیں؟ رابط کہہ دیتے ہیں۔ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہوگئی بھئی؟ اصل رابط کیا چیز ہے؟ یہ جو موضوع اور محمول کے درمیان کیا آئی؟ نسبت ہے بھئی۔ یہ جو جوڑ ہے ان کے درمیان، اس کا نام ہے رابط۔ لیکن اس جوڑ پر، اس نسبت پر جو لفظ دلالت کر رہا ہے، اسی کو رابط کہہ دیا کرتے ہیں۔ کیا کہہ دیا کرتے ہیں؟ اسی کو رابط کہہ دیتے ہیں، اصل میں وہ رابط نہیں، رابط تو دراصل وہ نسبت ہے۔ لیکن اس کلمہ، یہ جو لفظ جو اس پر دلالت کر رہا ہے اسی کو رابط کہہ دیتے ہیں، تو دراصل یہ رابط نہیں، یہ کیا ہے؟ دال علی الرابط ہے، اس پر کیا کرنے والا ہے؟ دلالت کرنے والا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالثَّالِثُ الدَّالُّ عَلَى الرَّابِطِ، اور تیسرا جز جو ہے وہ دلالت کرنے والا رابط پر۔ تیسرا جز وہ ہے جو دلالت کرتا ہے کس پر؟ رابط پر دلالت کرتا ہے بھئی، خود رابط نہیں ہے رابط پر دلالت کرتا ہے۔ وَيُسَمَّى رَابِطَةً، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ کہتے ہیں۔ فَفِي قَوْلِكَ زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ، پس آپ کے اس قول زَیْدٌ هُوَ قَائِمٌ کے اندر، زَيْدٌ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، زید کیا ہے؟ زَیْدٌ هُوَ قَائِمٌ، تو زید محکوم علیہ ہے اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع۔ وَقَائِمٌ، یہ حکم لگایا گیا زید پر، تو قَائِمٌ کیا ہے؟ محکوم بہ۔ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ محمول کہتے ہیں۔ اور یہ جو لفظِ هُوَ ہے، لفظِ هُوَ، یہ کیا ہے؟ وہ رابطہ ہے بھئی، رابطہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ اس رابط پر دلالت کرنے والا ہے تو اسی کو رابطہ کہہ دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں آپ کے اس قول کے اندر زید جو ہے محکوم علیہ، وہ محکوم علیہ ہے وَمَوْضُوعٌ اور موضوع ہے۔ وَقَائِمٌ مَحْكُومٌ بِهِ، اور قائم محکوم بہ ہے وَمَحْمُولٌ اور محمول ہے۔ وَلَفْظَةُ هُوَ نِسْبَةٌ وَرَابِطَةٌ، اور لفظِ هُوَ یہ وہ نسبت اور رابطہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ بس تین جز ہیں۔ ایک موضوع، ایک محمول اور ایک رابطہ۔ موضوع جو پہلے آیا، محمول جو بعد میں جس کا اس پر حکم لگایا گیا بھئی۔ زید پر کیا حکم مثلاً لگایا گیا؟ قیام کا حکم لگایا گیا۔ اور رابطہ، وہ جو درمیان میں لفظ ہے جو اس ربط پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ وَقَدْ تُحْذَفُ الرَّابِطَةُ فِي اللَّفْظِ دُونَ الْمُرَادِ فَيُقَالُ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ کہتے ہیں بھئی، کبھی کبھار یہ جو رابطہ ہے اس کو لفظوں سے حذف کر لیتے ہیں البتہ مراد میں اب بھی موجود ہوتا ہے۔ مثلاً بھئی پچھلی مثال میں رابطہ کیا تھا؟ هُوَ۔ زَیْدٌ هُوَ قَائِمٌ، یہ هُوَ کیا تھا؟ رابطہ ہے، یہ جوڑ دینے والا ہے۔ لیکن کبھی کبھار کیا کر دیتے ہیں؟ اس هُوَ کو لفظوں سے حذف کر دیتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ زَیْدٌ قَائِمٌ۔ تو یہ لفظوں سے تو حذف ہے لیکن مراد میں اب بھی باقی ہے بھئی۔ جوڑ چاہیے یا نہیں چاہیے درمیان میں بھئی؟ جوڑ تو ہر حال میں چاہیے۔ تو لفظوں میں حذف ہے، مراد میں حذف نہیں۔ ارادہ اب بھی اس کا ہے بھئی۔ مراد جس کا ارادہ کیا جائے، تو مراد یہ اب بھی ہے بھئی، اس کا ارادہ اب بھی کیا گیا ہے۔ صرف لفظوں سے حذف کر دیا گیا ہے اس کو۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ تُحْذَفُ الرَّابِطَةُ فِي اللَّفْظِ، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے رابطہ کو لفظوں میں دُونَ الْمُرَادِ نہ کہ مراد میں، مراد میں نہیں حذف کیا جاتا صرف لفظوں میں۔ فَيُقَالُ، پس یوں کہا جاتا ہے: زَيْدٌ قَائِمٌ بھئی، دیکھو هُوَ کو حذف کر دیا گیا۔ فَصْلٌ أيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ لِلشَّرْطِيَّةِ أَيْضًا أَجْزَاءٌ، قضیہ شرطیہ جو ہے، اس کے بھی اجزاء ہیں۔ وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مِنْهَا مُقَدَّمًا، اور اس کا جو جز اول ہوتا ہے، وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مِنْهَا، اور جزِ اول ہیں مِنْهَا اس قضیہ شرطیہ میں سے، اسے مقدم کہتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، قضیہ شرطیہ بتلایا تھا کہ جو دو قضیوں کی طرف کھلے بھئی۔ جیسے مثال گزری تھی: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ۔ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے۔ اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے۔ تو دیکھیے، یہاں پر یہ جو پہلا جز ہے: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، اس کو کہیں گے مقدم۔ جو پہلا جز ہے: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، اس کو کیا کہیں گے؟ مقدم۔ اور دوسرا جز جو ہے: فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، اس کو کہیں گے تالی۔ آگے آرہا ہے، وہ خود بتلائیں گے کتاب میں بھی آپ کو، اس کو تالی کہا جاتا ہے۔ مقدم اور تالی۔ مقدم اور تالی۔ مقدم نام سے ہی پتہ لگ رہا ہے جس کو آگے کیا گیا ہے، جو جز پہلے ہے، وہ ہے مقدم۔ تالی کے معنی پیچھے آنا بھئی، تو دوسرا جز پیچھے ہے، بعد میں ہے، لہٰذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ تالی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں قضیہ شرطیہ کے بھی اجزاء ہیں، وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مِنْهَا مُقَدَّمًا، اور جزِ اول کو اس میں سے مقدم کہتے ہیں۔ وَالْجُزْءُ الثَّانِي مِنْهَا تَالِيًا، اور جزِ ثانی کو اس میں سے تالی کہتے ہیں۔ فَفِي قَوْلِكَ، پس آپ کے اس قول کے اندر: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا، یہ قضیہ شرطیہ ہے۔ تو اس کے اندر مقدم کیا بھئی؟ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً۔ اور تالی کیا؟ كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا۔ بس یہی بتلا رہے ہیں۔ تو فَفِي قَوْلِكَ، آپ کے اس قول کے اندر: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا، قَوْلُكَ اس قول میں سے آپ کا قول جو ہے: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، مُقَدَّمٌ یہ کیا ہے؟ مقدم ہے۔ وَقَوْلُكَ كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا تَالٍ، اور آپ کا قول كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا یہ کیا ہے؟ تالی ہے۔ وَالرَّابِطَةُ هِيَ الْحُكْمُ بَيْنَهُمَا، اور رابطہ وہ ان دونوں کے درمیان حکم ہے۔ ان دونوں کو جو آپ نے جوڑ دیا، ملا دیا بھئی، یہ کیا ہے ان کے درمیان؟ یہ رابطہ، یہ حکم، یہ جو نسبت ہے۔ یہ جو پہلے میں کیا بیان ہوا؟ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، اس میں طلوعِ شمس کا بیان ہے۔ کس چیز کا؟ طلوعِ شمس کا۔ اور دوسرا جو ہے: كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا، اس میں وجودِ نہار کا ذکر ہے۔ پہلے میں کس چیز کا ذکر؟ طلوعِ شمس کا ذکر۔ دوسرے میں؟ وجودِ نہار کا ذکر۔ تو یہ جو طلوعِ شمس کے ساتھ آپ نے وجودِ نہار کو جوڑ دیا، یہ ہے حکم بھئی۔ کس کے ساتھ جوڑا وجودِ نہار کو؟ طلوعِ شمس کے ساتھ، کہ طلوعِ شمس ہے تو وجودِ نہار ہے بھئی، طلوعِ شمس نہیں تو وجودِ نہار بھی نہیں۔ تو یہ جو آپ نے طلوعِ شمس کے ساتھ جوڑ دیا کس کو؟ وجودِ نہار کو، یہ ہے حکم بھئی۔ دونوں میں جوڑ آگیا بھئی، ربط آگیا بھئی۔ اس، یہ ہے حکم ان کے درمیان۔ تو بتلا رہے ہیں: وَالرَّابِطَةُ هِيَ الْحُكْمُ بَيْنَهُمَا، اور رابطہ وہ ان دونوں کے درمیان حکم ہے۔ ان دونوں کے درمیان حکم ہے۔ کون دونوں؟ ایک پہلا مقدم اور دوسرا تالی۔ تو کیسے ان میں حکم آیا؟ کہ طلوعِ شمس کو اس کے ساتھ آپ نے کس کو جوڑ دیا؟ وجودِ نہار کو، اس کے ساتھ جوڑ دیا بھئی۔ تو یہ رابطہ اس کو اردو میں تعبیر کیا جاتا ہے 'ہے' ایجاب کے اندر، 'ہے' وغیرہ کے ساتھ۔ اور نفی کے اندر 'نہیں۔' وغیرہ کے ساتھ اس کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے زید عالم ہے۔ 'ہے' جب تک نہیں آئے گا بات پوری نہیں ہوگی بھئی۔ زید عالم ہے، تو جب تک 'ہے' نہیں آخر میں، اس وقت تک بات پوری نہیں۔ یا آپ کہتے ہیں زید عالم نہیں ہے، تو جب تک یہ 'نہیں ہے' آخر میں نہیں آئے گا اس وقت تک بات پوری نہیں۔ بس اس وقت تک بات پوری نہیں ہوگی، تو یہ ہے رابطہ بھئی۔ اردو میں اس طرح آتا ہے۔ اور عربی میں، عربی میں عموماً یہ رابطہ جو ہے یہ لفظوں میں کم ہی ذکر ہوتا ہے۔ حرکتِ اعرابی اس پر دلالت کرتی ہے بھئی۔ عربی کے اندر یہ رابطہ کم ہی لفظوں میں ذکر ہوتا ہے، عموماً آپ اسی طرح سنتے ہیں: زَیْدٌ قَائِمٌ، زَیْدٌ عَالِمٌ، زَیْدٌ جَالِسٌ وغیرہ بھئی۔ زَیْدٌ هُوَ عَالِمٌ، زَیْدٌ هُوَ جَالِسٌ، اس طرح بہت کم سنیں گے بھئی۔ تو عموماً عربی کے اندر یہ جو رابطہ ہے اس کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ حذف ہی کیا جاتا ہے اور اس پر دلالت یہ اعرابی حرکت ہوتی ہے۔ یہ جو زید کے ساتھ عالم کو جوڑا، زید بن گیا مبتدا اور مبتدا پر پڑھتے ہیں رفع: زَیْدٌ۔ اور عالمٌ بن گئی خبر اور خبر ہوتی ہے مرفوع، اس پر بھی رفع پڑھتے ہیں تو آپ نے پڑھا: عَالِمٌ۔ زَیْدٌ عَالِمٌ بھئی، تو یہاں پر یہ ان کے اعرابی حرکت ہی کیا کرتی ہے؟ رابطے پر دلالت کرتی ہے بھئی۔ لفظوں میں عموماً اس کو حذف ہی کر دیتے ہیں۔ تو ہر زبان میں یہ اپنا الگ انداز، اپنا الگ طریقہ ہوتا ہے بھئی۔ جیسے اردو میں 'ہے' اور 'نہیں' بھئی۔ فارسی میں ہوگا 'ہست' اور 'نیست' بھئی۔ 'ہست' کا معنی 'ہے'، 'نیست' کا معنی 'نہیں ہے' بھئی۔ تو ہر زبان کا اپنا اپنا طریقہ ہے بھئی۔ تو بہرحال رابط ہوگا تو دو لفظ جڑیں گے۔ رابط نہیں تو دو لفظ بھی نہیں جڑیں گے۔ اور رابط دراصل وہ نسبت کا نام ہے، اور چونکہ وہ لفظ اس نسبت پر دلالت کر رہا ہوتا ہے اس لیے اسی کو رابطہ کہہ دیا جاتا ہے بھئی۔ جی چلیے، بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
108 approved lectures · 49 of 108