Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-047

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 62
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 47 1 فَصْلٌ فِي التَّعْرِيفَاتِ مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُحْمَلُ عَلَيْهِ لإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، وَهُوَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ: الْحَدُّ التَّامُّ، وَالْحَدُّ النَّاقِصُ، وَالرَّسْمُ التَّامُّ، وَالرَّسْمُ النَّاقِصُ؛ فَالْتَّعْرِيفُ إِنْ كَانَ بِالْجِنْسِ الْقَرِيبِ وَالْفَصْلِ الْقَرِيبِ يُسَمَّى حَدًّا تَامًّا، كَتَعْرِيفِ الإِنْسَانِ بِالْحَيَوَانِ النَّاطِقِ. بھئی، گزشتہ سبق میں آپ نے خاصے اور عرضِ عام کی تقسیم پڑھی تھی۔ آپ نے پڑھا تھا کہ خاصہ اور عرضِ عام یا لازم ہوں گے یا مفارق، بھئی۔ لازم وہ ہے جس کا کسی چیز سے جدا ہونا ممکن نہ ہو، اور مفارق وہ ہے جس کا کسی چیز سے جدا ہونا ممکن ہو۔ پھر آپ نے پڑھا تھا کہ لازم دو قسم پر ہے: ایک لازمِ بین اور ایک لازمِ غیرِ بین۔ بین کا معنیٰ واضح، بھئی۔ یعنی لازمِ بین وہ ہے جس کا لزوم واضح ہو، بھئی، واضح۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی، خود ہی سمجھ میں آ جائے، لزوم خود ہی لزوم کا پتہ چل جائے کہ ایک چیز دوسری کے ساتھ لازم ہے، بھئی۔ اور لازمِ غیرِ بین جس میں لزوم واضح نہ ہو، بھئی، بلکہ وہاں لزوم کے لیے باقاعدہ دلیل دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لازم کے ساتھ ساتھ ملزوم کا تصور کر لیں ملزوم کے ساتھ، ملزوم کے ساتھ لازم کا تصور کر لیں، پھر بھی لزوم کا یقین نہیں ہوتا بلکہ باقاعدہ ایک دلیل دینا پڑتی ہے جس کے لیے پھر لزوم کا پتہ چلتا ہے، بھئی۔ تو اسے کیا کہتے ہیں؟ لازمِ غیرِ بین۔ مثلاً بھئی، یہ عالم ہے اور یہ عالم حادث ہے، بھئی۔ حادث ہے، تو عالم کا بھی تصور کر لیں اور حادث ہونے کا تصور کر لیں، پھر بھی ان دونوں میں لزوم کا یقین نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ دلیل دینا پڑتی ہے کہ ”اَلْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ“. جبکہ لازمِ بین میں دلیل وغیرہ کی ضرورت جی لازمِ بین میں دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، بھئی، وہاں لزوم خود ہی واضح ہوتا ہے۔ پھر وہ لازمِ بین جو تھا وہ دو قسم پر ہے۔ ایک لازمِ بین بالمعنیٰ الاخص اور ایک لازمِ بین بالمعنیٰ الاعم۔ لازمِ بین بالمعنیٰ الاخص یہ ہے کہ جہاں ملزوم کے تصور سے ہی لازم کا تصور خود بخود آ جائے، بھئی۔ تصور ملزوم کا کیا، لیکن ساتھ ہی کس کا تصور آ گیا؟ لازم کا تصور خود بخود ساتھ آ گیا، بھئی۔ جیسے عمیٰ، اندھے پن کا تصور کرتے ہی بینائی کا تصور خود بخود ذہن میں آ جاتا ہے، یا جیسے آگ کا تصور کرتے ہی خود بخود حرارت کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ کہ خود بخود لازم یعنی یہ ذہن خود بخود اس کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک چیز دوسری کے ساتھ اتنی مضبوط، اتنا مضبوط تعلق ہے اس کا، اتنا گہرا تعلق ہے کہ ایک کا تصور کیا، مثلاً ملزوم کا، اور لازم خود بخود ذہن میں آ گیا۔ جبکہ دوسری قسم ہے لازمِ بین کی لازمِ بین بالمعنیٰ الاعم، جہاں ملزوم کا تصور کرتے ہی لازم کا تصور نہیں آتا۔ ہاں، البتہ جب ملزوم کے ساتھ ساتھ آپ لازم کا بھی تصور کر لیں تو لزوم کا یقین ہو جاتا ہے، لزوم کا پتہ چل جاتا ہے۔ جیسے چار جو ہے اس کا بھی تصور کیا اور جفت ہونے کا بھی تصور کیا، تو ذہن خود بخود بتلا دیتا ہے کہ یہ جفت ہونا تو چار کے ساتھ لازم ہے۔ یا اسی طرح آٹھ کا، یا اسی طرح دس، کسی بھی جفت عدد کا تصور کریں، تو اس عدد کا تصور کرتے ہی خود بخود جفت ہونا نہیں آتا ذہن میں، ہاں، جفت ہونے کا بھی ساتھ تصور کر لیں، تو پھر فوراً ذہن بتلا دیتا ہے کہ اس عدد کے ساتھ جفت ہونا لازم ہے، بھئی، لازم ہے۔ پھر دوسری قسم پڑھی تھی مفارق کی، بھئی، کہ خاصہ اور عرضِ عام یا کیا ہوں گے؟ مفارق، جن کا اپنے جن کا اپنے معروض سے جدا ہونا ممکن ہوگا۔ پھر اس کی دو قسمیں تھیں کہ معروض سے جدا ہونا ممکن تو ہے لیکن جدا ہوا نہیں کبھی، ہمیشہ سے اس کے ساتھ ہے۔ جیسے فلک کے ساتھ حرکت، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ قدیم مناطقہ کا یہ رائے ہے، اس پر یہ مثال مبنی ہے، ان کے نزدیک آسمان ہر وقت حرکت میں ہے، بھئی، گردش کر رہا ہے، گھوم رہا ہے اپنی جگہ پر۔ تو یہ حرکت جو ہے اس کا آسمان سے جدا ہونا ممکن تو ہے لیکن جدا ہوئی نہیں کبھی، ہمیشہ سے اس کے ساتھ ہے۔ اور دوسرا مفارق وہ ہے جو باقاعدہ جدا بھی ہو جایا کرتا ہے۔ یہ تو جدا ہوا ہی نہیں، ممکن تو ہے لیکن جدا کبھی ہوا نہیں، جبکہ دوسرا وہ ہے جو باقاعدہ جدا ہونا ممکن بھی ہے اور جدا ہو بھی جاتا ہے، بھئی۔ پھر اس کی دو قسمیں تھیں کہ جدا وہ کبھی جلدی ہو جاتا ہے اور کبھی دیر سے۔ جلدی سے جدا ہونے کی مثال جیسے کہ شرمندہ آدمی کی سرخی، بھئی، اور جیسے کہ خوفزدہ آدمی کی زردی، بھئی۔ جبکہ کبھی دیر سے جدا ہوتا ہے جیسے اس کی مثال جوانی، بھئی۔ اب جوانی بھی جدا ہو جاتی ہے، آپ سب جانتے ہیں، لیکن جلدی جدا نہیں ہوتی، بھئی، کئی سال تک رہنے کے بعد پھر ختم ہوتی ہے، بھئی۔ آج ہم تعریفات کے بارے میں پڑھیں گے، بھئی۔ آپ کو مصنف نے بتلایا تھا کہ منطق کا موضوع جو ہیں وہ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات ہیں اس حیثیت سے کہ وہ مجہول تصورات اور مجہول تصدیقات تک پہنچا دیں۔ یہ کیا ہے علمِ منطق کا موضوع؟ تو لہٰذا پہلے تو مصنف نے بہت سی چیزیں بتلائیں جو منطق کی تعریف کے لیے ان کا جاننا ضروری تھا۔ سمجھ میں آیا؟ علم کے بارے میں آپ کو بتلایا، تصور کسے کہتے ہیں یہ بتلایا، تصدیق کسے کہتے ہیں یہ بھی آپ کو بتلایا، پھر بتایا کچھ بدیہی ہوتے ہیں ان میں، کچھ نظری ہوتے ہیں۔ پھر یہ بتایا کہ ترتیبِ نظر و فکر کہتے کس کو ہیں، بھئی، نظر و فکر؟ پھر اس کے بعد جا کر بتلایا کہ بھئی، اس نظر و فکر میں کہ جس (یعنی یہ جو معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر ہم مجہول چیز کا علم حاصل کرتے ہیں) اس میں کبھی غلطی بھی ہوتی ہے، اور اس غلطی کی سے حفاظت جو ہے جس علم کے ذریعے ہوتی ہے وہ علمِ منطق ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو علمِ منطق کی تعریف کا سمجھنا وہ موقوف تھا بعض دوسری چیزوں پر، تو پہلے ان کو بیان کیا تھا اور پھر آخر میں جا کر علمِ منطق کی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت کو بیان کیا۔ اور وہاں انہوں نے یہ بیان کیا تھا کہ منطق کی غرض کیا ہے؟ معلوم تصورات کے ذریعے مجہول تصورات کو حاصل کرنا، اور معلوم تصدیقات کے ذریعے مجہول تصدیقات کو حاصل کرنا۔ یہ ہے منطق کا موضوع، منطق انہی سے بحث کرتا ہے۔ تو اب اس کے بارے میں ذکر کرنا تھا، اور یہ جو معلوم تصور جس کے ذریعے مجہول تصور کو کیا کیا جاتا ہے؟ حاصل کیا جاتا ہے، اس کو آپ نے پڑھا تھا مُعَرِّف کہتے ہیں، بھئی، اور قولِ شارح بھی کہتے ہیں۔ اور جس چیز کا علم ہوتا ہے ان کے ذریعے، جس چیز کی تعریف ان کے ذریعے ہوتی ہے، اس کو مُعَرَّف کہتے ہیں، مُعَرَّف، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مُعَرَّف بھی کہتے ہیں اور محدود بھی کہتے ہیں، بھئی۔ تو یہ اصل موضوع یہ تھے، بھئی، یہ مُعَرَّف، بھئی۔ لیکن مُعَرِّف کا جاننا بھی بہت سی چیزوں پر موقوف تھا، لہٰذا مصنف نے پہلے ان کو بیان کیا۔ آپ کو بتایا: ایک ہے، ایک ہوتی ہے جزئی، ایک ہوتی ہے کلی۔ پھر جزئی جو ہے اس کے بارے تفصیل بتائی، پھر کلی کے بارے میں تفصیل بتائی کہ کلیات کتنی ہیں؟ پانچ ہیں: جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام، بھئی۔ جب یہ ساری چیزیں آپ کو سمجھ میں آ گئیں جن پر مُعَرِّف کا سمجھنا موقوف تھا، پہلے ان کو بیان کیا، تو اب آ کر جب سب چیزیں آپ کو پتہ لگ گئیں، اب مُعَرِّف بتلانے لگے ہیں۔ مُعَرِّف کا سمجھنا، بھئی، کلی، جزئی، جنس، فصل، خاصہ، عرضِ عام وغیرہ ان چیزوں پر موقوف تھا۔ ان چیزوں کا پتہ ہوگا تو آگے یہ تعریف جو کرنے لگ، تعریف کر کے جن کے ذریعے کی جاتی ہے، وہ ان کا یہ سمجھ میں آئیں گی، ان کا پتہ چلے گا۔ تو پہلے موقوف علیہ کو بیان کیا، یعنی جن پر مُعَرِّف کا سمجھنا موقوف تھا۔ اب مُعَرِّف کو بیان کرنے لگے ہیں، بھئی۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو یہ ساری ابھی تک یہ اسی مُعَرِّف کے لیے مختلف چیزیں بیان ہو رہی تھیں اس کے سمجھنے کے لیے۔ اب ان کے بارے میں بتلائیں گے آپ کو، بھئی۔ کتاب پر دیکھیے، بھئی: ”فَصْلٌ فِي التَّعْرِيفَاتِ“، یہ فصل ہے تعریفات کے بارے میں۔ یہ فصل ہے تعریفات کے بیان میں، بھئی۔ ”فَصْلٌ فِي التَّعْرِيفَاتِ“ أي ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ التَّعْرِيفَاتِ“، یہ فصل ہے تعریفات کے بیان میں، بھئی۔ مصنف فرماتے ہیں: ”مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُحْمَلُ عَلَيْهِ لِإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ“، ”مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُحْمَلُ عَلَيْهِ لِإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ“؛ کہ کسی چیز کا مُعَرِّف وہ ہے جس کو اس پر محمول کیا جاتا ہے ”لِإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ“ اس کے تصور کا فائدہ دینے کے لیے۔ ”أَفَادَ يُفِيدُ“ کا کیا معنیٰ ہے؟ فائدہ دینا۔ اس کے تصور کا فائدہ دینے کے لیے، بھئی۔ بھئی، ابھی میں نے آپ کو بتلایا، بھئی، مُعَرِّف، مُعَرِّف، اسی کو تعریف بھی کہتے ہیں۔ مُعَرِّف ہی کا دوسرا نام کیا ہے؟ تعریف۔ اسی کا تیسرا نام ہے قولِ شارح، بھئی، قولِ شارح۔ یعنی وہ قول جو شرح کرنے والا ہے، ایک چیز کی تفسیر کرنے والا ہے۔ تعریف کے ذریعے بھی کیا ہوتی ہے؟ ایک چیز کی تفسیر ہوتی ہے، اس کی وضاحت بیان کی جاتی ہے کہ یہ کیا چیز ہے، بھئی، کیا چیز ہے۔ مثلاً دیکھیے، انسان جو ہے آپ نے پڑھا اس کی حقیقت ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“ ہے، بھئی۔ تو کیا کہیں گے؟ ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“. پہچاننا کس کا کس کو پہچاننا یہاں مقصود تھا؟ انسان کو۔ تو انسان کو بنایا گیا موضوع، اور اس کے تفسیر، اس کی تعریف کیا کی گئی؟ ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“، کہ انسان کیا ہے؟ ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“. تو یاد رکھیے، جو مُعَرَّف ہوتا ہے جس کی تعریف کی جاتی ہے اس کو بناتے ہیں مبتدا، یعنی موضوع۔ کیا بناتے ہیں؟ مبتدا کا دوسرا نام کیا تھا؟ موضوع۔ اور جو مُعَرِّف ہے جو اس کی پہچان کروا رہا ہے، جو اس کی تعریف ہے، اس کو بناتے ہیں خبر، یعنی محمول بناتے ہیں۔ مبتدا کو یہ کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور خبر کو یہ کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ تو مُعَرَّف جو ہے اس کو بناتے ہیں موضوع، اور مُعَرِّف کو کیا کرتے ہیں؟ خبر بناتے ہیں اس چیز کے تصور کو حاصل کرنے کے لیے۔ کیا کرنے کے لیے؟ اس چیز کے تصور کو حاصل کرنے کے لیے۔ دیکھو، انسان ہے مُعَرَّف، اس کی تعریف کی جا رہی ہے، اور اس کا مُعَرِّف کیا ہے؟ کن لفظوں سے تعریف کر رہے ہیں؟ ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“. تو انسان جو مُعَرَّف ہے اس کو بنایا موضوع، اور ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“ کو بنایا اس کے لیے محمول۔ دیکھو، اس پر حمل کر رہے ہیں۔ مبتدا پر یہ خبر کا حمل ہوتا ہے، بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ عَالِمٌ“، یہ عالم کا میں نے کیا کیا؟ زید پر حمل کیا۔ کیا کیا؟ یہ جو زید پر عالم ہونے کا حکم لگایا میں نے، اس کو حمل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حمل کہتے ہیں۔ تو خبر کا حمل کیا جاتا ہے کس پر؟ مبتدا پر۔ یعنی مناطقہ کی زبان میں یوں کہیں کہ محمول کا حمل کیا جاتا ہے کس پر؟ موضوع پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جب یہ خبر کا یا یوں کہیں محمول کا حمل ہوگا موضوع پر، تو ہمیں موضوع کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔ جب ہم نے کہا: ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“، آپ کو انسان کی حقیقت پتہ چل گئی کہ انسان کیا ہے؟ ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“ ہے، بھئی۔ ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“ کیا ترجمہ ہوا؟ انسان حیوانِ ناطق ہے۔ دیکھو، انسان پر حکم لگا دیا گیا، کیا حکم لگایا گیا؟ حیوانِ ناطق ہونے کا، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو ہے محمول، یعنی حیوانِ ناطق، یہ انسان کی تعریف ہے، یہ اس کا مُعَرِّف ہے، یہ اس کا قولِ شارح ہے، بھئی۔ یہ دیکھو، دو دو معلوم تصورات کو ہم نے ملایا تو ایک مجہول تصور ہمیں حاصل ہو گیا، بھئی۔ کیا ہوا؟ کس کو؟ حیوان کو اور ناطق کو ملایا، ترتیب دی، تو ہمیں انسان کی حقیقت حاصل ہو گئی، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“، بھئی، یہ حمل کیا گیا۔ اسی کو بیان کر رہے ہیں، بھئی، کہ ”مُعَرِّفُ الشَّيْءِ“، کسی شے کا مُعَرِّف جو ہوتا ہے، یعنی اس کی تعریف جو ہوتی ہے، ”مَا“ وہ ہے ”يُحْمَلُ عَلَيْهِ“ جس کا اس پر حمل کیا جاتا ہے، کیوں حمل کرتے ہیں؟ ”لِإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ“ اس کے تصور کا فائدہ دینے کے لیے۔ فائدہ دینے کے لیے۔ تو یاد رکھیے، بھئی، ایک ہے تعریفِ حقیقی، ایک ہے تعریفِ لفظی۔ ایک کیا ہے؟ تعریفِ حقیقی، اور ایک تعریفِ لفظی۔ تعریفِ حقیقی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی ماہیت کو بیان کیا جائے۔ مُعَرِّف کیا کرتا ہے؟ کسی چیز کی ماہیت آ کر بیان کرے تو اس کو کیا کہیں گے؟ تعریفِ حقیقی۔ یا اس کو باقی چیزوں سے جدا کر دے اور ممتاز کر دے، بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعریفِ حقیقی۔ تو تعریفِ حقیقی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی ماہیت کو بیان کیا جائے یا اس کو دیگر افراد سے جدا کر دیا جائے، بھئی۔ جب ہم نے انسان کے بارے میں کہا کہ انسان کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے، تو یہ دیکھو، انسان کی ہمیں ماہیت کا پتہ چل گیا کہ انسان کی حقیقت کیا ہے، وہ حیوانِ ناطق ہے۔ و نیز وہ باقی چیزوں سے بھی جدا ہو گیا۔ ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“ 2 خارج ہوئے، صرف کیا رہ گیا؟ انسان۔ تو دیکھو اس نے انسان کو باقی تمام افراد سے کیا کر دیا؟ جدا کر دیا۔ تو تعریفِ حقیقی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت کو بیان کیا جاتا ہے، اور دیگر افراد سے اس کو جدا کر دیا جاتا ہے بھئی۔ یہ تعریفِ حقیقی ہے بھئی، جس کے ذریعے کسی چیز کی ماہیت کو بیان کیا جائے یا اس کو دوسرے افراد سے، دوسری ماہیتوں کے افراد سے جدا کر دیا جائے بھئی۔ یہ ہے تعریفِ حقیقی۔ تو اس کے دو بڑے مقصد ہوئے تعریفِ حقیقی کے۔ اس کے ذریعے ہمیں کسی چیز کی ماہیت کا پتہ چلتا ہے، اس کی ذاتیات کا۔ کس کا؟ ماہیت یعنی ذاتیات۔ بھئی وہ چیزیں جو کسی چیز کی حقیقت میں داخل ہوں ان کو کیا کہتے ہیں؟ ذاتیات کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ ذاتیات ہیں، اور تو ایک فائدہ تعریفِ حقیقی کا یہ کہ اس کے ذریعے چیزوں کی ماہیت اور ذاتیات پر اطلاع ہوتی ہے، اس پر انسان مطلع ہوتا ہے۔ اور دوسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ اس کے ذریعے دیگر حقیقتوں کے افراد سے وہ چیز جدا ہو جاتی ہے۔ دو ہی فائدے ہیں، وہی جو ابھی میں نے تعریف کی بھئی۔ تعریفِ حقیقی کسے کہتے ہیں؟ جس میں کسی چیز کی ماہیت بیان کی جائے یا اس کو دوسرے افراد، دوسری ماہیتوں کے افراد سے جدا کر دیا جائے، یہی دو اس کے فائدے ہیں۔ یعنی جس کے ذریعے کسی چیز کی ماہیت بیان ہو، یہ پہلا فائدہ کہ تعریفِ حقیقی کے ذریعے کسی چیز کی ماہیت بیان ہوتی ہے۔ اور دوسرا فائدہ کیا؟ کہ دوسری ماہیتوں کے افراد سے یہ جدا ہو جاتے ہیں، یہ دو فائدے ہیں بھئی۔ تو یہ تعریفِ حقیقی، یہ تعریفِ حقیقی ہے۔ جبکہ تعریفِ لفظی، وہ آگے آ جائے گی بھئی۔ اب دیکھیے، یہ تعریفِ حقیقی بیان کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے، دوسرے لفظوں میں یوں کہیے، تعریفِ حقیقی۔ تعریفِ حقیقی وہ ہے جس کے ذریعے صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جائے۔ تعریفِ حقیقی کسے کہتے ہیں؟ صورتِ غیر حاصلہ کو کیا کیا جائے؟ حاصل کیا جائے۔ ایک چیز کا آپ کو پتہ نہیں تھا، اس کا پتہ جس کے ذریعے چلے اسے تعریفِ حقیقی کہتے ہیں۔ جب حیوانِ ناطق کہا تو آپ کو انسان کا تصور حاصل ہوا بھئی۔ جب ہم نے کیا کہا؟ حیوانِ ناطق کہا، اس کا حمل کیا انسان پر تو آپ کو انسان کا تصور حاصل ہوا، اس سے پہلے آپ کو اس کی حقیقت، ماہیت وغیرہ کا پتہ نہیں تھا بھئی۔ تو دیکھو صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کرنے کے، صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل جس کے ذریعے کیا جاتا ہے وہ کیا ہے؟ تعریفِ حقیقی ہے بھئی، تعریفِ حقیقی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی بات کو دیکھو یہی تعریفِ حقیقی تو وہ بیان کر رہے ہیں کہ معرف الشئی ما یحمل علیہ افادۃ تصورہ، کسی شے کا معرف وہ ہوتا ہے یحمل علیہ کہ جس کا اس چیز پر حمل کیا جائے، یعنی معرف کا اس شے پر کیا کیا جائے؟ حمل کیا جائے افادۃ تصورہ تاکہ یہ اس کے تصور کا فائدہ دے۔ دیکھو معلوم تصور کے ذریعے ہم کس کو حاصل کر رہے ہیں؟ مجهول تصور کو۔ حیوان اور ناطق یہ دو معلوم تصور تھے، ان کو ملایا تو ایک مجهول تصور کیا حاصل ہوا؟ انسان، کہ انسان کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ پہلے تو ہمیں علم نہیں تھا بھئی، تو ان دو کو ترتیب دیا، جوڑا، ملایا تو انسان کی حقیقت کا ہمیں پتہ چل گیا بھئی۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ تعریفِ حقیقی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں معرف الشئی کسی شے کا معرف جو ہوتا ہے، یعنی اس کی تعریف جو ہوتی ہے، یعنی اس کا قولِ شارح جو ہوتا ہے، ما وہ ہے یحمل علیہ جس کا اس پر حمل کیا جاتا ہے افادۃ تصورہ تاکہ اس کے تصور کا فائدہ دے۔ وھو علی اربعدۃ اقسام، اور یہ معرف جو ہے یا یوں کہیں تعریفِ حقیقی جو ہے یا یوں کہیں یہ قولِ شارح جو ہے بھئی جی، علی اربعدۃ اقسام کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر ہے۔ الحد التام، پہلا حدِ تام ہے، یہ میم مشدد ہے یاد رکھیے۔ الحد التام والحد الناقص، دوسرا حدِ ناقص ہے، والرسم التام، اور تیسرا رسمِ تام ہے، والرسم الناقص، اور چوتھا رسمِ ناقص ہے۔ بھئی دیکھیے، حد، یاد رکھیے حد بھی دو قسم پر، رسم بھی دو قسم پر۔ حدِ تام اور حدِ ناقص، اور رسم بھی دو قسم پر، رسمِ تام اور رسمِ ناقص۔ یاد رکھیے یہ جو تام ہوں اور ناقص جو ہے، تو یہ تام ہونے کا دارومدار جنسِ قریب پر ہے۔ نشانیاں یاد رکھیے آپ کو پھر یہ خود یاد رہیں گے۔ تام ہونے کا دارومدار جنسِ قریب پر ہے۔ اگر تعریف کے اندر جنسِ قریب ذکر ہوئی تو اس کو تام کہنا۔ اگر جنسِ قریب ذکر نہیں تو پھر تام نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ ناقص۔ تو تام ہونے کا دارومدار کس پر ہے؟ جنسِ قریب پر۔ جنسِ قریب اگر ہے تو تام کہنا، اگر جنسِ قریب نہیں بلکہ جنسِ بعید ہے یا ہے ہی نہیں جنس سرے سے تو اس کو کیا کہیں گے؟ ناقص۔ اور حد اور رسم، حد کا دارومدار فصل پر ہے۔ کس پر ہے؟ اگر فصل ہوئی تو حد کہنا۔ اگر فصل نہ ہوئی بلکہ خاصہ ہوا تو پھر رسم کہنا۔ کیا کہنا؟ تو حد کا دارومدار کس پر؟ فصل پر، اور رسم کا دارومدار کس پر؟ خاصے پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا حدِ تام میں کیا ذکر ہوگا؟ دیکھو حد سے کیا پتہ چلا؟ فصل، اور تام ہونے سے کیا پتہ چلا؟ جنسِ قریب۔ معلوم ہوا فصلِ قریب، فصل اور جنسِ قریب اس میں ذکر ہوگا۔ اور حدِ ناقص، ناقص سے کیا پتہ چلا؟ جنسِ بعید ہے یا سرے سے جنس ہے ہی نہیں۔ یعنی جنسِ قریب نہیں ہے اس میں، بس یوں کہو۔ جنسِ قریب نہیں ہے، اور حد کے لفظ سے کیا پتہ چلا حدِ ناقص؟ کہ اس میں فصل ہے۔ تو حدِ ناقص اس کو کہیں گے جس میں جنسِ بعید اور فصل ہوں یا صرف فصل ہو۔ یا صرف فصل ہو۔ اچھا، رسمِ تام، رسم کے لفظ سے کیا پتہ چلا؟ خاصہ، اور تام سے کیا پتہ چلا؟ جنسِ قریب۔ معلوم ہوا جنسِ قریب اور رسم، رسم سے کیا پتہ چلا؟ خاصہ۔ جنسِ قریب اور خاصہ ہوا تو اس کو کیا کہنا؟ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ تام ہونے کا دارومدار کس پر؟ جنسِ قریب پر، اور رسم ہونے کا دارومدار کس پر؟ خاصے پر۔ تو میں کیا کہہ رہا ہوں؟ رسمِ تام، اس میں کیا ذکر ہوگا؟ جنسِ قریب اور خاصہ بھئی۔ اور میں کہتا ہوں رسمِ ناقص، رسم سے کیا پتہ چلا؟ خاصہ، اور ناقص سے کیا پتہ چلا؟ جنسِ قریب نہیں ہے بس، جنسِ قریب نہیں ہے۔ ہاں، آگے پھر جنسِ بعید ہو یا نہ ہو بھئی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ رسمِ ناقص۔ یہ یاد رہے گا بھئی؟ جی۔ تو یہ بس اب آپ کو بتائیں گے۔ اگر جنسِ قریب ہو، ہاں اب آپ بلکہ مجھے بتائیے۔ جنسِ قریب ہو اور فصل ہو، جنسِ قریب، یہ کیا آئے گا؟ اور فصل ہو، ہاں تو کیا کہیں گے؟ حدِ تام۔ اچھا۔ جنسِ بعید ہو اور فصل ہو، فصل سے کیا پتہ چلا؟ اور جنسِ بعید سے؟ تو کیا کہیں گے؟ یا صرف فصل ہو۔ حد، صرف فصل ہے۔ حد، اور جنسِ قریب ہے؟ تو کیا کہیں گے؟ حدِ ناقص۔ صورت سمجھ، تو حدِ ناقص میں جنسِ بعید اور فصل ہوں گے، یا صرف فصل ہوگی۔ تعریف صرف کس کے ذریعے کی جائے؟ صرف فصل کے ذریعے، تو یہ بھی کیا ہے؟ حدِ ناقص۔ یا فصل اور جنسِ بعید کے ذریعے کی جائے، یہ بھی کیا ہے؟ حدِ ناقص ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح رسمِ تام میں نے کہا، رسم سے فوراً کیا سمجھ میں آیا؟ اور تام سے کیا سمجھ میں آیا؟ ہاں تو وہ تعریف جس میں جنسِ قریب ذکر ہو اور خاصہ ذکر ہو اس کو کیا کہیں گے؟ رسمِ تام۔ اور اگر تعریف میں جنسِ بعید اور صرف خاصہ ہیں، رسمِ ناقص، یا صرف خاصہ ذکر ہیں، یہ بھی رسمِ ناقص۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ یہ سب تعریفات ہیں، کسی چیز کی تعریف کبھی جنسِ قریب اور فصل سے کرتے ہیں، کبھی جنسِ بعید اور فصل سے کرتے ہیں، کبھی صرف فصل کے ذریعے بیان کر دیا جاتا ہے اس کو، کبھی جنسِ قریب اور خاصے کے ذریعے بیان کر دیا جاتا ہے اس کو، کبھی جنسِ بعید اور خاصے کے ذریعے اور کبھی صرف کس کے ذریعے؟ خاصے کے ذریعے بیان کر دیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں فالتعریف ان کان بالجنس القریب والفصل القریب یسمی حدا تاما، پس تعریف اگر وہ جنسِ قریب اور فصلِ قریب کے ذریعے ہو تو یسمی حدا تاما تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ تام کہتے ہیں۔ جی، فصل بھی قریب والی ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ بعید نہیں۔ کتعریف الانسان بالحیوان الناطق، جیسے انسان کی تعریف کی جائے حیوانِ ناطق کے ساتھ۔ یہ کیا ہے؟ حدِ تام۔ دیکھو حیوان کیا ہے انسان کے لیے؟ انسان سے اوپر کیا ہے؟ حیوان، تو یہ سب سے قریب جنس یہ ہوئی۔ اور ناطق کیا ہے انسان کے لیے؟ فصلِ قریب ہے بھئی، تو یہ تعریف الانسان، کوئی کہے الانسان حیوان ناطق، یہ کون سی تعریف ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ حدِ تام ہے۔ وان کان بالجنس البعید والفصل القریب، اور اگر تعریف جو ہے جنسِ بعید کے ذریعے ہو اور فصلِ قریب کے ذریعے، قریب کے ساتھ۔ جنسِ بعید اور فصلِ قریب۔ او بالفصل وحدہ، او بال، بالفصل کا لفظ واضح ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں، واضح کر لیں۔ او بالفصل وحدہ، یا صرف اکیلی فصل کے ذریعے، اگر تعریف کس کے ذریعے ہو بھئی؟ جنسِ بعید اور فصلِ قریب، مثلاً مثلاً جنسِ بعید کیا انسان کے لیے؟ جسمِ نامی ہے، جسم ہے، جوہر ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ان میں سے کوئی ایک پکڑ لیں، اور ساتھ کس کو ملائیں؟ فصل، کیا ہوا؟ مثلاً جسمِ ناطق، یہ انسان۔ کوئی پوچھے آپ سے، آپ انسان کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ کوئی تعریف انسان کے بارے میں پوچھے، آپ کیا کہتے ہیں؟ جسم ناطق۔ کیا کہا؟ اب جسم کیا ہے انسان کے لیے؟ جنسِ بعید ہے، کیا ہے؟ اور ناطق کیا ہے؟ فصلِ قریب، تو اس جسم ناطق، یہ جو انسان کی تعریف کی اس کو آپ کیا کہیں گے؟ رسمِ، نہیں، حد، حدِ ناقص کہیں گے بھئی۔ اور اگر صرف ناطق کہہ دیں، ناطق کے ذریعے بھی تو انسان باقی چیزوں سے جدا ہو گیا یا نہیں بھئی؟ بتایا ہے نا، یہ تعریفِ حقیقی ساری چل رہی ہے، اس کی چار قسمیں ہیں جس کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی ذاتیات کو بیان کیا جاتا ہے یا اس کو باقی چیزوں سے جدا کیا جاتا ہے۔ تو جب میں نے ناطق کہا، انسان کی پوری حقیقت تو اس میں نہیں آئی لیکن باقی چیزوں سے جدا ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ کیونکہ ناطق صرف کون ہے؟ انسان ہے اور کوئی چیز ناطق نہیں، تو باقی سب خارج ہو گئیں صرف انسان رہ گیا۔ تو لہٰذا جنسِ بعید اور فصلِ قریب کے ذریعے تعریف ہو او بالفصل وحدہ یا صرف کس کے ذریعے ہو؟ فصل کے ذریعے ہو، یسمی حدا ناقصا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ ناقص۔ وان کان بالجنس القریب والخاصۃ، اور اگر تعریف جو ہے جنسِ قریب اور خاصہ کے ذریعے ہو، یسمی رسما تاما تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسمِ تام کہتے ہیں۔ دیکھو جنسِ قریب ہو، جنسِ قریب لاؤ انسان کے لیے۔ کیا ہے انسان کے لیے جنسِ قریب؟ حیوان، اور خاصہ لاؤ انسان کا کوئی بھئی؟ ضاحک، تو کیا کہیں گے؟ حیوان ضاحک۔ آپ نے کہا الانسان حیوان ضاحک۔ یہ انسان کی آپ نے تعریف کی۔ اس کو کیا کہیں گے؟ رسمِ تام، کیوں؟ کیونکہ خاصہ ہے، اور اس کی وجہ سے رسم کہیں گے، اور جنسِ قریب ہے، اس کی وجہ سے کیا کہیں گے؟ تام کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دیکھو، اب اس تعریف کے ذریعے انسان کی پوری حقیقت کا تو پتہ نہیں چلا، لیکن بہرحال اور چیزوں سے وہ جدا ہو گیا بھئی، کیونکہ ضاحک جب آپ نے کہا، حیوان کے ذریعے اس کی جنس کا کچھ، کچھ حقیقت کا پتہ چل گیا۔ پوری حقیقت تو حیوانِ ناطق تھی انسان کی، لیکن آپ نے صرف آدھی ذکر کی حیوان، صرف جنس کو ذکر کیا تو کچھ حقیقت کا پتہ چلا، اور ضاحک کے ذریعے وہ باقی چیزوں سے کیا ہوا؟ جدا، کیونکہ ضاحک، ضحک جو ہے یہ صرف انسان کا خاصہ ہے، ہنستا صرف کیا ہے؟ انسان، باقی حیوانات میں کسی کے اندر ضحک موجود نہیں۔ تو کہتے ہیں وان کان بالجنس القریب والخاصۃ یسمی رسما تاما، اور اگر تعریف جنسِ قریب اور خاصہ کے ذریعے ہو تو اس کو رسمِ تام کہتے ہیں۔ وان کان بالجنس البعید والخاصۃ، اور اگر تعریف جو ہے وہ جنسِ بعید اور خاصہ کے ذریعے ہو، او بالخاصۃ وحدہا یا صرف اکیلے خاصہ کے ذریعے تعریف ہو، فیسمی رسما ناقصا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسمِ ناقص۔ بھئی جنسِ بعید لاؤ انسان کے لیے۔ جسم، اچھا، اور خاصہ لاؤ۔ ضاحک، جسم ضاحک، الانسان جسم ضاحک۔ یہ کیا ہے؟ رسمِ ناقص بھئی، تو اس کے لیے اس پوری انسان کی حقیقت کا تو پتہ نہیں چلا، لیکن دوسری چیزوں سے وہ کیا ہو گیا؟ جدا، اور تعریفِ حقیقی کے دو ہی تو فائدے تھے، یا تو اس کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت کا پتہ چلتا ہے یا اس کے ذریعے دوسری چیزوں سے وہ جدا، اور وہ فائدہ ہمیں حاصل ہو رہا ہے اس کے اندر بھئی۔ اور اگر صرف خاصہ کے ذریعے ہو تعریف بھئی، مثلاً خاصہ لائیں انسان کا، ضاحک، الانسان ضاحک بھئی، دیکھو آپ نے انسان کی تعریف کی۔ اور کس کے ذریعے کی؟ صرف خاصے کے ذریعے کی۔ اب انسان کی حقیقت کا تو ہمیں اس سے ذرا بھی نہیں پتہ چلا کیونکہ خاصہ تو حقیقت سے خارج ہوتا ہے، لیکن باقی چیزوں سے انسان کیا ہو گیا؟ جدا، کیونکہ ضحک خاصہ کس کا ہے؟ انسان کا، تو تعریفِ حقیقی کا فائدہ حاصل ہو گیا ہمیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب تعریف، مثالیں بھی ذکر کر رہے ہیں۔ مثال الحد الناقص، بھئی حدِ تام کی مثال اوپر ذکر کر دی تھی، جیسے انسان کی تعریف کرنا حیوانِ ناطق سے، یہ کیا تھی؟ حدِ تام۔ اب حدِ ناقص وغیرہ کی مثالیں اب ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں مثال الحد الناقص، حدِ ناقص کی مثال، تعریف الانسان بالجسم الناطق او بالناطق فقط، انسان کی تعریف کرنا جسمِ ناطق سے۔ جسم کیا ہے انسان کے لیے؟ جنسِ بعید، اور ناطق کیا ہے؟ فصل۔ جی، تو جنسِ بعید اور فصلِ قریب کے ذریعے تعریف کی تو یہ کیا حدِ ناقص، او بالناطق فقط یا صرف کس کے ذریعے تعریف کرنا؟ ناطق، الانسان ناطق، یا کہنا الانسان جسم ناطق، یہ کیا ہیں؟ حدِ ناقص ہیں۔ ومثال الرسم تام، اور رسمِ تام کی مثال جو ہے، تعریف الانسان بالحیوان الضاحک، تعریف کرنا انسان کی حیوانِ ضاحک سے۔ 3 رسمِ تام ہے بھئی! اس میں کیا کیا ذکر ہوتا ہے؟ جنسِ قریب، خاصہ۔ تو حیوان انسان کے لیے کیا ہے؟ جنسِ قریب۔ اور ضاحک کیا ہے؟ خاصہ۔ تو یہ کیا ہوئی رسمِ تام۔ و مثال الرسم الناقص اور رسمِ ناقص کی مثال جو ہے، تعريفہ اي تعريف الانسان انسان کی تعریف کرنا بالجسم الضاحك، کس کے ذریعے؟ جسمِ ضاحک کے ذریعے۔ او بالضاحك وحدہ يا صرف اکیلے ضاحک کے ذریعے۔ بھئی! جسم... جسمِ ضاحک، جسم کیا ہے انسان کے لیے؟ جنسِ بعید۔ اور ضاحک کیا ہے؟ خاصہ۔ تو جنسِ بعید اور خاصے کے ذریعے او بالضاحك وحدہ یا اکیلے کس کے ذریعے؟ ضاحک کے ذریعے۔ یہ یعنی صرف خاصے کے ذریعے، یہ کیا ہے رسمِ ناقص۔ کہتے ہیں ولا دخل فی التعريفات للعرض العام، کہتے ہیں کوئی دخل نہیں ہے تعریفات کے اندر عرضِ عام کا۔ بھئی! عرضِ عام کا یہاں ذکر ہوئی؟ خاصہ تو آ گیا رسم کے اندر خاصہ ہوتا ہے، عرضِ عام؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! عرضِ عام کا دخل نہیں ہے تعریفات میں۔ اس کو تعریفات میں ذکر نہیں کیا جاتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ عرضِ عام... بھئی! تعریفِ حقیقی کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت پر مطلع ہونا اور یا اس کو دوسری چیزوں سے جدا کرنا۔ تو کبھی دونوں فائدے ہوں گے، کبھی دو میں سے ایک فائدہ ہوگا، لیکن ایک فائدہ تو ضرور ہوگا کم از کم۔ اور عرضِ عام وہ چیز کی حقیقت میں داخل ہوتی ہے یا اس سے حقیقت سے خارج ہوتی ہے؟ حقیقت سے خارج۔ تو اس کے ذریعہ حقیقت کا بھی پتہ نہیں چلا۔ یہ فائدہ تو اس سے ہوتا نہیں حقیقت کا۔ تو دوسرا فائدہ ہونا چاہیے، باقی افراد سے کیا کر دے؟ باقی ماہیتوں سے جدا کر دے۔ اور عرضِ عام باقی ماہیتوں سے بھی جدا نہیں کرتا، وہ تو کئی ماہیتوں کے افرادِ مشترک ہوتا ہے، سب میں پایا جاتا ہے۔ جیسے ماشی، اپنے قدموں پر چلنے والا۔ اب ماشی کہا آپ نے تو انسان کی حقیقت کا بھی نہیں پتہ چلا۔ اور نیز اور ماہیتوں سے انسان جدا بھی نہیں ہوا۔ ماشی... چلنے والا، بھئی! چلنے والا جیسے انسان ہے، اسی طرح گھوڑا بھی ہے، اسی طرح گائے بھی ہے، اسی طرح بیل بھی ہے، اسی طرح بکری بھی ہے۔ تو یہ سب چلنے والے ہیں۔ تو دیکھو! نہ حقیقت کا پتہ چلا اور نہ دوسرے افراد سے جدا ہوا۔ تو تعریفِ حقیقی کے تو یہی دو مقصد ہوتے تھے۔ تو جو یہ مقصد یہاں کسی صورت میں بھی حاصل نہیں ہو رہا، لہٰذا اس کے ذریعے تعریف نہیں کی جاتی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ولا دخل فی التعريفات للعرض العام، میں نے بتلایا عرض کا لفظ را پر فتحہ پڑھنا ہے بھئی! جہاں بھی آئے۔ اور کوئی دخل نہیں ہے تعریفات کے اندر عرضِ عام کا لانـہ لا يفيد التميز... تميز ہے آپ کی کتابوں میں، تمییز ہونا چاہیے، تمییز بھئی! دو یا ہونی چاہئیں، دو یا۔ تمییز بھئی! تمییز، ایک یا ہو تو تمیز بنتا ہے لفظ۔ بھئی! کیوں؟ تعریفات میں اس کا کوئی دخل کیوں نہیں؟ کہتے ہیں لانـہ لا يفيد التمييز۔ تمییز بھئی! تفعیل مصدر پر ہے، میز یمیز تمییزا، اس کا معنی ہوتا ہے جدا کرنا۔ تمیز کا معنی ہوتا ہے جدا ہونا اور تمییز کا معنی جدا کرنا۔ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں لانـہ لا يفيد التمييز، اسی کیونکہ یہ عرضِ عام تمییز کا فائدہ نہیں دیتا، جدا کرنے کا فائدہ نہیں دیتا۔ یہ کسی حقیقت کو افراد کو دوسری حقیقتوں سے جدا نہیں کرتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا! یہاں تک بات تھی تعریفِ حقیقی کی۔ اب تعریفِ لفظی بھئی! آسان سی ایک بات ذکر کرنے لگے ہیں تعریفِ لفظی کے بارے میں۔ بھئی! تعریفِ حقیقی تو کیا تھا؟ کسے کہتے ہیں؟ جس میں کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت کا علم ہو یا اس کو دوسری حقیقتوں کے افراد سے جدا کیا جائے۔ یہ تھی تعریفِ حقیقی۔ اور میں نے بتلایا ایک تعریفِ لفظی ہے۔ تعریفِ لفظی وہ ہے بھئی! جس میں کسی لفظ کی تفسیر کی جاتی ہے بھئی! کیا کی جاتی ہے؟ لفظ کی تفسیر کی جاتی ہے، یعنی یوں کہیں اس کے معنی کی وضاحت کی جاتی ہے۔ کیا کی جاتی ہے؟ اس کے معنی کی وضاحت کی جاتی ہے۔ جیسے عربی میں شیر کو اسد کہتے ہیں۔ اور یہ مشہور ہے، سب کو پتہ ہے۔ اور اسی طرح شیر کا ایک نام غضنفر بھی ہے، غضنفر۔ آپ غضنفر کہیں تو ہر ایک کو پتہ نہیں چلتا۔ تو لہٰذا آپ غضنفر کی تفسیر کرتے ہیں کہ الغضنفر اسد، غضنفر کیا ہے؟ شیر ہے۔ غضنفر شیر ہے۔ تو آپ نے اسد کا حمل کیا غضنفر پر، الغضنفر کو موضوع بنایا اور اسد کو کیا بنایا؟ محمول بنایا۔ اور مقصد کیا تھا؟ کیا اس سے شیر کی کوئی حقیقت معلوم ہوئی؟ نہیں۔ اچھا! باقی چیزوں سے وہ جدا ہوا ہے؟ نہیں۔ ہاں! صرف وہی الغضنفر کے لفظ کی آپ اس کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ غضنفر کیا ہے؟ غضنفر کیا ہے؟ شیر ہے۔ اسی لفظ کا معنی بیان کیا، اس لفظ کے کی تفسیر کر دی بھئی! لفظ کی کیا کر دی؟ تفسیر کر دی بھئی! تفسیر کر دی۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہو، تعریفِ حقیقی کے ذریعے تو صورتِ غیر حاصلہ کو کیا کیا جاتا تھا؟ حاصل کیا جاتا تھا۔ جبکہ تعریفِ لفظی میں صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل نہیں کیا جائے گا۔ یہاں صورت تو آپ کو پہلے سے حاصل ہے، صرف ذہن اس کی طرف متوجہ نہیں تھا، دوسرے لفظ کے ذریعے اس کی طرف کیا کر دیا گیا؟ متوجہ کر دیا گیا۔ دیکھو! شیر کا تصور آپ کو پہلے سے حاصل تھا، لیکن الغضنفر کہنے سے ذہن اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ پھر جب اسد کہا تو اب ذہن کیا ہوا اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تعریفِ حقیقی میں کیا کیا جاتا ہے؟ صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل، یعنی ایک چیز کا تصور پہلے آپ کو حاصل نہیں تھا، معلوم نہیں تھا، اس کے ذریعے اس کا تصور حاصل کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہاں تعریفِ لفظی میں اس چیز کا تصور آپ کو پہلے سے حاصل ہے، ہاں! ذہن اس کی طرف متوجہ نہیں ہے، تو دوسرے لفظ کے ذریعے ذہن اس کی طرف متوجہ کر دیا جاتا ہے۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں تعريف... فصل، ای هذا فصل، یہ فصل ہے۔ التعريف قد يكون حقيقيا كما ذكرنا، تعریف تو کبھی حقیقی ہوتی ہے جیسے ہم نے ذکر کر دیا۔ وقد يكون لفظيا اور کبھی لفظی ہوتی ہے۔ وهو ما يقصد بہ تفسير مدلول اللفظ اور وہ... اور وہ تعریف جو ہے، تعریفِ لفظی، ما وہ ہے يقصد بہ کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے۔ کس چیز کا ارادہ کیا جائے؟ تفسير مدلول اللفظ، لفظ کے مدلول یعنی لفظ کے معنی کی تفسیر کا۔ مدلول جس پر وہ لفظ دلالت کر رہا ہے، یعنی اس کا معنی، یعنی اس کا مفہوم جو ہے۔ لفظ کے مفہوم کی تفسیر کی جائے، لفظ کے مفہوم کی وضاحت کی جائے بھئی! الغضنفر کا کیا مفہوم ہے؟ اسد کے ذریعے میں نے وضاحت کر دی، الغضنفر اسد بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ مدلول جانتے ہو یا نہیں؟ بھئی! جس پر لفظ کیا کر رہا ہے؟ دلالت، وہ اس کا مدلول ہے، یعنی جو اس کا مفہوم ہے۔ تو اسی مفہوم، اسی مدلول کی کیا کی جائے؟ جس لفظ کے ذریعے تفسیر اور وضاحت کی جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ تعریفِ لفظی۔ کہتے ہیں تعریفِ لفظی جو ہے وہو ما يقصد بہ تفسير مدلول اللفظ، جس کے ذریعے ارادہ کیا جائے لفظ کے مدلول کی تفسیر کا، كقولہم جیسے عرب کا یہ قول بھئی... جی، سعدان... السعدانة ہے آپ کی کتابوں میں؟ بھئی! یہ کتابت... کتابوں میں تو اسی طرح ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ تا نہیں ہونی چاہیے بھئی! السعدان نبت، السعدان نبت۔ بھئی! سعدان ایک پودے کا نام ہے جسے اونٹ بڑے شوق سے کھاتا ہے بھئی۔ کوئی چھوٹا سا پودا ہے خاردار، کانٹوں والا، لیکن اونٹ کی غذا ہے اور اس کی بہترین غذا ہے یہ، تو اس کا نام سعدان ہے، سعدان بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو سعدانة لکھ دیا ہے انہوں نے، لیکن وہ سعدان لفظ ہے، تا نہیں ہے اس کے ساتھ۔ تو سعدان نبت، دیکھو! سعدان ایک پودے کا نام ہے، لیکن آپ کو پتہ نہیں تھا، میں نے آگے اس کی تفسیر کر دی: السعدان نبت بھئی۔ یہ با ساکن ہے، با ساکن بھئی نبت کی۔ ہر جگہ آپ کو با پر فتحہ ہی پڑھنے کو ملے گا، سننے کو ملے گا، لیکن دراصل یہ با ساکن ہے بھئی۔ لغت اٹھائیں، وہاں آپ کو لفظ صحیح مل جائے گا بھئی، نبت۔ تو سعدان نبت، کیا ترجمہ ہوا؟ سعدان ایک پودا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک پودا ہے۔ والغضنفر الاسد اور غضنفر شیر ہے۔ جی، کہتے ہیں وها هنا قد تم بحث التصورات، اور یہاں جو ہے تحقیق پوری ہو گئی تصورات کی بحث، اعنی القول الشارح، یعنی کہ قولِ شارح، اس کی بحث مکمل ہو گئی۔ جی، آگے اب وہ تصدیقات کی بحث شروع ہو گی بھئی۔ چلیے بس بھئی! هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 47 of 108