LESSONS NO. 46
1
فَصْلٌ: اَلْعَرَضِيُّ أَعْنِي الْخَاصَّةَ وَالْعَرَضَ الْعَامَّ يَنْقَسِمُ إِلَى لَازِمٍ وَمُفَارِقٍ. فَاللاَّزِمُ مَا يَمْتَنِعُ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ إِمَّا بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ كَالزَّوْجِيَّةِ لِلْأَرْبَعَةِ وَالْفَرْدِيَّةِ لِلثَّلَاثَةِ، فَإِنَّ انْفِكَاكَ الزَّوْجِيَّةِ عَنِ الْأَرْبَعَةِ وَالْفَرْدِيَّةِ عَنِ الثَّلَاثَةِ مُسْتَحِيلٌ.
آج خاصہ اور عرضِ عام کی تقسیم ہم پڑھیں گے بھئی۔ خاصہ اور عرضِ عام کی۔ آپ نے کل کے سبق میں پڑھا کہ خاصہ اور عرضِ عام جو ہے، ان کو کلی عرضی کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ کلی عرضی۔ کیونکہ یہ اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جنس، نوع اور فصل کو کلی ذاتی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے افراد کی ماہیت میں داخل ہوتی ہے بھئی۔
جی، تو سب سے پہلے یہ بتلا رہے ہیں کہ خاصہ اور عرضِ عام، ان دونوں کی دو دو قسمیں ہیں بھئی۔ ایک لازم اور ایک مفارق۔ خاصہ بھی دو قسم پر، خاصہ لازم اور خاصہ مفارق۔ اور عرضِ عام بھی دو قسم پر، ایک عرضِ عام لازم اور دوسرا عرضِ عام مفارق بھئی۔
لازم اور مفارق بھئی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ خاصہ لازم کسے کہیں گے؟ جو اپنے معروض یعنی موصوف کے ساتھ لازم ہو بھئی، اس سے جدا نہ ہو سکے۔ لازم کیا؟ اس کے ساتھ لازم ہے، ضروری ہے، اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔ اور مفارق، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، مفارق کا معنی جدا ہونے والا۔ تو خاصہ اگر وہ اپنے افراد سے جدا ہو جاتا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ خاصہ مفارق۔ اور اسی طرح عرضِ عام، اگر وہ اپنے افراد سے جدا ہو جاتا ہے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ عرضِ عام مفارق کہیں گے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ آسان تعریفیں ہیں۔ دیکھیے کتاب پر:
فَصْلٌ أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ اَلْعَرَضِيُّ أَيِ الْكُلِّيُّ الْعَرَضِيُّ، وہ کلی عرضی جو ہے، أَعْنِي الْخَاصَّةَ وَالْعَرَضَ الْعَامَّ، أَعْنِي بھئی متکلم کا صیغہ ہے۔ أَعْنِي، میری مراد یہ ہے۔ أعني کا کیا ترجمہ ہے؟ میری مراد یہ ہے۔ جی، لیکن بہرحال اس کا ترجمہ "یعنی" کے ساتھ ہی کر دیا جاتا ہے۔
کلی عرضی یعنی کہ اَلْخَاصَّةَ وَالْعَرَضَ الْعَامَّ، یعنی کہ خاصہ اور عرضِ عام جو ہیں، يَنْقَسِمُ إِلَى لَازِمٍ وَمُفَارِقٍ، یہ تقسیم ہوتے ہیں لازم اور مفارق کی طرف۔ فَاللاَّزِمُ مَا يَمْتَنِعُ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ، انفكاك کہتے ہیں جدا ہونا، جدا ہونا۔ پس لازم وہ ہے فَاللاَّزِمُ مَا، پس لازم جو ہے وہ ہے يَمْتَنِعُ انْفِكَاكُهُ، کہ ممتنع ہو اس کا انفكاك عَنِ الشَّيْءِ اس چیز سے۔ اس چیز سے اس کا جدا ہونا کیا ہو؟ ممتنع ہو، یعنی ممکن نہ ہو۔
لازم بھئی، لازم کا کیا معنی ہے؟ ایک چیز کے ساتھ وہ ساتھ ضروری ہے، لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو یہی معنی بیان کر رہے ہیں: لازم وہ ہے کہ اس کا جدا ہونا اس چیز سے ممکن نہ ہو بھئی، جدا نہ ہو سکے۔
پھر آگے تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ کہہ رہے ہیں یہ جو لازم ہوگا، یا تو ماہیت کے ساتھ لازم ہوگا کبھی اور کبھی وجود کے ساتھ لازم ہوگا۔ کس کے ساتھ؟ یا ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے لازم ہوگا اور کبھی وجود کی طرف نظر کرتے ہوئے۔
کہتے ہیں: إِمَّا بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ، یا تو ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے، كَالزَّوْجِيَّةِ لِلْأَرْبَعَةِ، جیسے کہ زوجیت، جفت ہونا لِلْأَرْبَعَةِ، چار کے لیے۔ بھئی چار کے ساتھ جفت ہونا لازم ہے۔ چار سے جفت ہونا کبھی بھی جدا نہیں ہو سکتا۔ کیا آپ کوئی ایسی صورت بنا سکتے ہیں کہ چار کا عدد ہو اور جفت نہ ہو؟ چار کا عدد جب بھی ہوگا، وہ کیا ہوگا؟ جفت ہوگا۔ تو یہ جفت ہونا چار کی ماہیت کے ساتھ ہی لازم ہے، اس کی ماہیت کے ساتھ ہی لازم ہے۔
اسی طرح طاق ہونا ثلاثہ سے بھئی، طاق ہونا ثلاثہ کے لیے بھئی۔ تو تین کا عدد طاق ہے بھئی۔ اور یہ طاق ہونا تین سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا۔ تین کا عدد ہو اور وہ طاق نہ ہو، ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ تو یہ ان کی ماہیت کے ساتھ ہی، سے ہی اس کا جدا ہونا ممکن نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: فَاللاَّزِمُ مَا، دوبارہ دیکھیے: فَاللاَّزِمُ مَا يَمْتَنِعُ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ، پس لازم وہ ہے کہ ممتنع ہو یعنی ممکن نہ ہو اس کا جدا ہونا اس چیز سے، إِمَّا بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ، یا تو نظر کرتے ہوئے اس کی ماہیت کی طرف، یعنی ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے اس سے جدا ہونا ممکن نہیں ہوگا، كَالزَّوْجِيَّةِ لِلْأَرْبَعَةِ وَالْفَرْدِيَّةِ لِلثَّلَاثَةِ، جیسے جفت ہونا چار کے عدد کے لیے اور طاق ہونا تین کے لیے بھئی، تین کے عدد کے لیے۔
فَإِنَّ انْفِكَاكَ الزَّوْجِيَّةِ عَنِ الْأَرْبَعَةِ وَالْفَرْدِيَّةِ عَنِ الثَّلَاثَةِ مُسْتَحِيلٌ، پس بے شک جدا ہونا جفت ہونے کا زوجیت کا جدا ہونا چار سے، اور فردیت کا جدا ہونا تین سے مستحیل ہے، یہ محال ہے۔ یہ کیا ہے؟ محال ہے۔ یعنی ممکن ہی نہیں ہے بھئی کہ زوجیت چار سے جدا ہو جائے، جفت ہونا چار سے جدا ہو جائے، اور یا طاق ہونا یہ تین سے جدا ہو جائے، یہ محال ہے بھئی، ان کی ماہیت کی طرف ہی نظر کرتے ہوئے۔
وَإِمَّا بِالنَّظَرِ إِلَى الْوُجُودِ، اس کا عطف ہے وہ جو ماقبل میں آیا تھا إِمَّا بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ۔ کیا بتلایا تھا پیچھے؟ کہ لازم وہ ہے کہ جس کا کسی چیز سے جدا ہونا ممکن نہ ہو یا تو اس کی ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے جیسے کہ زوجیت للاربعہ اور فردیت للثلاثہ۔ وَإِمَّا بِالنَّظَرِ إِلَى الْوُجُودِ، یا پھر اس کے وجود کی طرف نظر کرتے ہوئے، اس کے وجود کے اعتبار سے اس سے جدا ہونا ممکن نہیں، یعنی حقیقت میں تو داخل نہیں، لیکن بہرحال اس کے وجود کے ساتھ لازم ہے، اس کے وجود سے جدا نہیں ہو سکتا، كَالسَّوَادِ لِلْحَبَشِيِّ، جیسے کہ سیاہی یعنی کالا ہونا حبشی کے لیے۔
اب دیکھیے، حبشی سے سواد جدا نہیں ہو سکتا بھئی۔ کالا ہونا یہ اس سے جدا، حبشی جو بھی ہوگا وہ کیا ہوگا؟ کالا ہوگا بھئی۔ لیکن یہ کالا ہونا اس کی ماہیت میں نہیں داخل۔ ماہیت کے اعتبار سے جدا ہونے کی بات، ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے نہیں، بلکہ یہ اس کے وجود کی طرف نظر کرتے ہوئے اس کے ساتھ لازم ہے۔ ماہیت تو کیا ہے اس کی؟ انسان ہے۔ اور انسان کسے کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ اور کیا حیوانِ ناطق کے ساتھ کالا ہونا ضروری ہے؟ نہیں، ضروری نہیں ہے۔ تو یہاں یہ جو کالا ہونا حبشی کے ساتھ لازم ہے، یہ اس کی ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے لازم نہیں ہے، بلکہ اس کے وجود کی طرف نظر کرتے ہوئے، یہ اس کے وجود سے جدا نہیں ہو سکتا۔
كَالسَّوَادِ لِلْحَبَشِيِّ، جیسے کہ کالا ہونا حبشی کے لیے۔ فَإِنَّ انْفِكَاكَ السَّوَادِ عَنْ وُجُودِ الْحَبَشِيِّ مُسْتَحِيلٌ، یقیناً جو ہے جدا ہونا سواد کا، سیاہی کا حبشی کے وجود سے مستحیل ہے، محال ہے۔ سواد کا جدا ہونا حبشی کے وجود سے یہ محال ہے۔ لَا عَنْ مَاهِيَّتِهِ بھئی، اس کی ماہیت سے نہیں بھئی۔ حبشی کے سواد کا حبشی کے وجود سے جدا ہونا محال ہے، اس کی ماہیت سے جدا ہونا محال نہیں بھئی، کیونکہ ماہیت تو اس کی ہے حیوانِ ناطق، اور حیوانِ ناطق جو ہے وہ ضروری تو نہیں اس کے ساتھ سیاہی ہو بھئی۔
لِأَنَّ مَاهِيَّتَهُ الْإِنْسَانُ، اس لیے کیونکہ اس کی ماہیت جو ہے وہ انسان ہے۔ وَظَاهِرٌ أَنَّ السَّوَادَ لَيْسَ بِلَازِمٍ لِلْإِنْسَانِ، اور یہ بات ظاہر ہے کہ سیاہی جو ہے، یعنی کالا ہونا، یہ انسان کے ساتھ لازم نہیں ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لازم کا کیا معنی؟ جس کا کسی چیز سے جدا ہونا ممکن نہ ہو۔ پھر یہ جو لازم ہے، یا تو ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے ہوگا یا وجود کی طرف۔ یعنی ماہیت کی طرف نظر کرتے ہوئے، یعنی ماہیت کے ساتھ ہی یہ لازم ہوگا، اس ماہیت سے جدا نہیں ہو سکتا۔ اور کبھی ماہیت کے ساتھ لازم نہیں ہوتا بلکہ وجود کے ساتھ لازم ہوتا ہے، اس وجود سے جدا نہیں ہو سکتا۔
جی، اب وہ مفارق کے بارے میں بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالْعَرَضُ الْمُفَارِقُ مَا لَمْ يَمْتَنِعِ انْفِكَاكُهُ عَنِ الْمَلْزُومِ كَالْكِتَابَةِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ وَالْمَشْيِ بِالْفِعْلِ لَهُ۔
عرضِ مفارق بھئی، عرض بھئی خاصہ بھی عرض ہے اور عرضِ عام بھی عرض ہے، دونوں مراد ہیں، دونوں مراد ہیں۔ اور عرضِ مفارق وہ ہے کہ لَمْ يَمْتَنِعِ انْفِكَاكُهُ، کہ ممتنع نہ ہو اس کا جدا ہونا عَنِ الْمَلْزُومِ کس سے؟ ملزوم سے۔ جدا ہونا، بھئی ایک چیز دوسری کے ساتھ ہے لیکن اس سے جدا ہونا بھی ممکن ہے اس کا۔ لازم نہیں اس کے ساتھ، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مفارق۔ جیسے کتابت بالفعل انسان کے لیے۔ کتابت بالفعل۔
بھئی دیکھیے، انسان کا خاصہ ہے کاتب بھئی ہونا بھئی کہ وہ کیا ہے؟ کاتب ہے۔ اس میں لکھنا، لکھنے کی صلاحیت ہے۔ اور پھر یہ جو لکھنا، لکھنے والا، یہ ایک ہے لکھنے کی صلاحیت ہونا، اور ایک ہے بالفعل لکھنا۔ باقاعدہ آپ قلم سے لکھ رہے ہوں تو ہم کہیں گے آپ کاتب ہیں بالفعل۔ جب آپ کیا کر رہے ہوں؟ قلم سے باقاعدہ لکھ رہے ہوں تو اس وقت کیا کہیں گے؟ آپ کاتب بالفعل ہیں۔
اور اس وقت جب آپ نہیں لکھ رہے تو ہم کہیں گے آپ کاتب بالقوة ہیں بھئی۔ کاتب بالقوة ہیں بھئی۔ یعنی آپ میں صلاحیت ہے لکھنے کی۔ ابھی کاپی نکالیں گے، قلم پکڑیں گے اور لکھنا شروع کر دیں گے۔ تو آپ میں صلاحیت ہے لکھنے کی، لیکن اس وقت آپ کاتب بالفعل نہیں۔ تو جب صلاحیت ہو اور بالفعل نہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بالقوة کہتے ہیں بھئی، بالقوة۔
جیسے ماشی۔ ماشی کا کیا معنی؟ چلنے والا، اپنے پاؤں پر چلنے والا۔ آپ بھئی دیکھیے، اس وقت آپ سب بیٹھے ہیں، لیکن آپ سب ماشی ہیں بالقوة بھئی۔ آپ میں کیا ہے؟ چلنے کی صلاحیت ہے، چل نہیں رہے۔ ہاں، جب آپ باقاعدہ اپنے قدموں پر چل رہے ہوں گے تو اس وقت ہم کہیں گے آپ ماشی ہیں بالفعل بھئی۔ جب عین اس فعل کو کر رہا ہو تو اس وقت بالفعل کا لفظ بولتے ہیں، اور جب نہ کر رہا ہو، صلاحیت ہو تو کیا کہتے ہیں؟ بالقوة بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یا جیسے ایک انسان ہے، انسان ہے بھئی۔ تو ہر انسان وہ کاتب بالقوة ہے بھئی، کاتب بالقوة، اس میں لکھنے کی صلاحیت ہے۔ اگرچہ اس نے سیکھا ہی نہیں ہے، ان پڑھ ہے، لیکن پھر بھی ہم کیا کہیں گے؟ یہ کیا ہے؟ کاتب بالقوة۔ کیا معنی ہے کاتب بالقوة کا؟ اس میں صلاحیت ہے، اگر وہ سیکھے گا تو سیکھ جائے گا، لکھنا سیکھ جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ آپ یہ نہ کہیں کہ جس کو لکھنا ہی نہیں آتا آپ کہیں یہ کاتب بالقوة بھی نہیں ہے۔ نہیں نہیں، کاتب بالقوة وہ ہے، ہر انسان کاتب بالقوة ہے، یعنی اس میں لکھنے کی صلاحیت ہے، اگر نہیں بھی جانتا تو کیا کر سکتا ہے؟ سیکھ سکتا ہے، صلاحیت ہر ایک میں اللہ نے رکھی ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح اگر کوئی اپاہج ہو، معذور ہے دونوں پاؤں سے، آپ یہ نہ کہیں یہ ماشی بالقوة بھی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، اس وقت اب یہ چل نہیں سکتا، لیکن یہ کسی بیماری یا کسی عارض کی وجہ سے ہوا، ورنہ انسان ہونے کے اعتبار سے ہر ایک میں اللہ نے کیا رکھی؟ صلاحیت رکھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کسی عارض کی وجہ سے اب وہ معذور ہو گیا، چل نہیں سکتا بھئی، چل نہیں سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عرضِ مفارق کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کا ملزوم سے جدا ہونا ممکن ہو۔ جس کا ملزوم سے جدا ہونا ممکن، جدا ہو یا نہ ہو اس سے ہماری بحث نہیں، ممکن ہو جدا ہونا۔ بھئی پچھلی مثالوں کے اندر ممکن ہی نہیں تھا، سیاہی یعنی کالا ہونا، کالا پن وہ حبشی سے جدا ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ اور اسی طرح زوجیت، یعنی جفت ہونا یہ اربعہ سے جدا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اسی طرح فردیت، یعنی طاق ہونا یہ ثلاثہ سے جدا ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔
اب آگے جو مثالیں ذکر کریں گے وہ ممکن ہے جدا ہونا، پھر آگے چاہے جدا ہو یا نہ ہو، وہ الگ بات ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْعَرَضُ الْمُفَارِقُ مَا لَمْ يَمْتَنِعِ، اور عرضِ مفارق وہ ہے کہ ممکن، کیا ہو؟ ممتنع نہ ہو بھئی، ممتنع نہ ہو۔ یعنی ناممکن نہ ہو، جب ناممکن نہیں ہے تو کیا معنی؟ ممکن ہے۔ کہ ممتنع نہ ہو انْفِكَاكُهُ عَنِ الْمَلْزُومِ، اس کا جدا ہونا ملزوم سے، كَالْكِتَابَةِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ، جیسے کہ بالفعل کتابت ہے انسان کے لیے۔
تو بالفعل، کتابت بالفعل جو ہے، یہ انسان، آپ ہر وقت لکھتے رہتے ہیں یا کبھی لکھتے ہیں اور کبھی نہیں لکھتے بھئی؟ کبھی لکھتے ہیں اور کبھی نہیں۔ تو جب لکھ رہے ہوں یہ کیا ہے؟ کتابت بالفعل۔ اور جب نہیں لکھ رہے تو یہ کتابت بالفعل نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو یہ کتابت بالفعل جدا ہو جاتی ہے، کبھی آپ کاتب بالفعل ہوتے ہیں کبھی کاتب بالفعل نہیں ہوتے۔
تو کہتے ہیں: كَالْكِتَابَةِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ، جیسے کہ کتابت بالفعل ہے انسان کے لیے، یہ اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ وَالْمَشْيِ بِالْفِعْلِ لَهُ، لَهُ میں ہا ضمیر انسان کو راجع ہے، لِلْإِنْسَانِ۔ اور اسی طرح چلنا بالفعل انسان کے لیے۔ آپ ہر وقت چلتے ہیں یا کبھی چلتے ہیں، کبھی بیٹھتے ہیں، کبھی لیٹتے ہیں بھئی؟ کبھی چلتے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ جو مشی بالفعل ہے، یہ آپ سے جدا ہو جاتا ہے بھئی۔ تو یہ عرضِ مفارق ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو کتابت بالفعل، یہ مثال ہے خاصے کی بھئی، خاصہ مفارق ہے یہ۔ کتابت انسان کے ساتھ خاص ہے۔ اور مشی بالفعل، یہ مثال ہے کس کی؟ عرضِ عام مفارق کی۔ کس کے؟ عرضِ عام۔ ہاں، تو دونوں کی ایک ایک مثال ذکر کر دی کہ خاصہ بھی مفارق ہوتا ہے اور عرضِ عام بھی مفارق ہوتا ہے۔
وَالْعَرَضُ اللَّازِمُ قِسْمَانِ، اور عرضِ لازم دو قسم پر ہے۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے، عرضِ لازم، نام سے ہی پتہ چل گیا، جو اپنے افراد سے جدا نہیں ہوتا، ملزوم کے ساتھ وہ لازم ہے۔ جب بھی ملزوم پایا جائے گا، یہ دوسری چیز
2
۔ وہ عرض جو لازم نہ ہو تو وہ ضرور بالفرض ضرور پایا جائے گا بالفرض تو لازم یہ دو قسم پر ہے۔ ایک ایک لازمِ بین اور ایک لازمِ غیر بین۔
کون کون سا؟ لازمِ بین اور لازمِ غیر بین۔
لازمِ بین بین کا معنی ہے واضح واضح۔ لازمِ بین وہ لازم جو واضح ہے بھئی واضح ہے۔ اور ایک ہے لازمِ غیر بین۔ وہ لازم جو واضح نہیں ہے۔
لازمِ بین کی پھر تقسیم کرتے ہیں بھئی۔ ایک وہ لازم ہے کہ ملزوم کا تصور کرتے ہی بھئی لازم کسے کہتے ہیں؟ جو دوسری چیز کے وہ عرض جو دوسری چیز کے ساتھ کیا ہو؟ لازم ہے۔ تو اپ یہ یہ تو ہے لازم اور جس کے ساتھ لازم ہے اس کو کہتے ہیں ملزوم۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملزوم۔
تو لازمِ بین دو قسم پر ہے۔ لازمِ بین نام سے ہی پتہ چل گیا جس کا لزوم واضح ہو۔ جس میں کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہ ہو۔ لازمِ بین وہ ہے جس میں لزوم کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہ پڑے۔ اور لازمِ غیر بین وہ ہے جہاں لزوم کے لیے باقاعدہ دلیل کی ضرورت پڑے بھئی۔
اس اس کا لازم ہونا واضح لازمِ غیر بین ہے اس کا لازم ہونا واضح نہیں ہے۔ اپ کو ویسے پتہ نہیں چلتا۔ اس کے لیے باقاعدہ کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے؟ باقاعدہ دلیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو لازمِ بین وہ جو اپنے جس میں لزوم کے لیے دلیل کی ضرورت نہ ہو بھئی لزوم کے یقین کے لیے دلیل کی ضرورت نہ ہو بھئی۔ وہاں اپ کو خود ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ چیز دوسری کے ساتھ لازم ہے بھئی۔ خود ہی پتہ چل جاتا ہے تو یہ ہے لازمِ بین واضح لازم ہے بھئی۔ اور لازمِ غیر بین جہاں لزوم کے جاننے کے لیے اس کے یقین کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑے؟ دلیل کی ضرورت پڑے باقاعدہ بھئی۔
پھر یہ جو لازمِ بین ہے یہ دو قسم پر ہے دو قسم پر۔ ایک تو یہ بھئی کہ ملزوم کا تصور کرتے ہی خود بخود لازم کا بھی تصور ساتھ ا جائے۔ دونوں میں اتنا گہرا تعلق ہے کہ جب اپ صرف ملزوم کا تصور کرتے ہیں تو ساتھ کس کا تصور ا جاتا ہے؟ لازم کا بھی تصور ا جاتا ہے۔ لازم کا بھی تصور ا جاتا ہے۔
جیسے اندھا پن بھئی۔ اندھے پن کا تصور کرتے ہی بینائی کا بھی ساتھ تصور ا جاتا ہے۔ اندھے اندھا کیونکہ اندھا کہتے ہی کس کو ہیں؟ جس میں دیکھنے کی صلاحیت تھی لیکن اب کیا ہو چکی؟ ختم ہو چکی۔ تو اندھا جیسے ہی اپ اندھا کہیں گے فورا بینا کا تصور بھی دیکھنے والے کا تصور بھی اپ کے ذہن میں ا جائے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو یہ کس کی مثال ہوئی؟ لازمِ بین جس میں جس میں ملزوم کا تصور کرتے ہی کس کا تصور ساتھ ا جائے؟ لازم کا بھی تصور ا جائے۔ اس کو کہتے ہیں لازمِ بین بالمعنی الاخص۔ کیا کہتے ہیں؟ لازمِ بین بالمعنی الاخص بھئی۔ بالمعنی الاخص بھئی۔ سمجھ میں ایا؟ یہ اپ کے حاشیے میں پہلی سطر کے اندر انہوں نے دیا ہوا ہے۔ لازمِ بین بالمعنی الاخص۔
یہ تو وہ صورت تھی بھئی ادھر توجہ کرو۔ یہ وہ صورت تھی کہ ملزوم کا تصور کرتے ہی کس کا تصور ا گیا؟ لازم کا اتنا گہرا تعلق ہے۔ اپ نے صرف ملزوم کا تصور کیا تھا لیکن فورا خود ہی کون ا گیا ساتھ اس کے؟ لازم بھی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازمِ بین بالمعنی الاخص۔
اور دوسری قسم ہے لازمِ بین بالمعنی الاعم بھئی۔ لازمِ بین بالمعنی الاعم۔ بھئی وہاں پر ملزوم کے تصور سے ہی فورا لازم کا تصور نہیں اتا۔ ملزوم کے تصور سے فورا لازم کا تصور نہیں اتا۔
ہاں ملزوم کے ساتھ ساتھ اپ لازم کا بھی الگ تصور کر لیں تو دونوں کے اندر لزوم کا یقین ہو جاتا ہے بھئی۔ دونوں میں لزوم کا یقین لزوم کا یقین ہو جاتا ہے۔ کیونکہ لازمِ بین ہے نا واضح لازم ہے خود بخود جہاں پتہ چل جاتا ہے لزوم کا اور وہاں کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑتی بھئی۔
بھئی دیکھیے جیسے چار کا عدد جہاں بھی ہو گا جو بھی ہو گا وہ ہمیشہ جفت ہو گا۔ لیکن چار کا عدد بولتے ہی فورا ذہن میں جفت ہونا نہیں اتا کہ یہ جفت ہے۔ جفت کی طرف ذہن ہی نہیں جاتا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ بھئی جفت ہونا چار کے ساتھ لازم تو ہے لیکن جیسے ہی میں کہوں چار فورا اپ کے ذہن میں ایا یہ جفت ہے؟ فورا نہیں ائے گا۔ چار تو مثال کے طور پر ہے کوئی دوسرا جفت عدد لے لو۔ میں نے اپ سے کہا بھئی کل میں نے اس کو 100 روپے دیے تو کیا 100 کا لفظ سنتے ہی فورا اپ کے ذہن میں ایا یہ جفت ہے؟ نہیں فورا جفت ہونا نہیں اتا۔ اپ کو پتہ تو ہے یہ جفت ہے لیکن ذہن میں فورا نہیں اتا۔ ہاں جب تو یہ ہے 100 کا عدد یہ ہے ملزوم اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ جفت ہونا۔ ان دونوں کا جب اپ تصور کریں گے ملزوم کا بھی اور لازم کا بھی تو فورا ہی یقین ہو جائے گا اپ کو کہ ان دونوں کے درمیان لزوم ہے بھئی۔
ان دونوں میں لزوم کا اپ کو کیا ہو جائے گا؟ یقین ہو جائے گا۔ یا جیسے اپ پانچ کے عدد کا تصور کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ طاق ہونے کا بھی تصور کریں دونوں کا تصور کریں گے تو فورا ہی اپ کو کیا ہو جائے گا؟ یقین ہو جائے گا کہ پانچ اور طاق ہونے میں کیا ہے؟ لزوم ہے۔ پانچ ملزوم ہے اور طاق ہونا اس کے ساتھ لازم ہے بھئی لازم ہے۔
فرق سمجھ میں ایا؟ کیا؟ لازمِ بین پہلے تو لازمِ بین سمجھیں۔ پھر اس کے بعد اس کی دو قسمیں۔ لازمِ بین جہاں جہاں لزوم کے یقین کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہ ہو۔ کسی دلیل کی ضرورت نہیں بھئی۔
ابھی اپ نے جیسے دیکھا بھئی چار کے ساتھ جفت ہونا لازم ہے۔ کیا اپ کو کسی دلیل کی ضرورت پڑتی ہے؟ کسی دلیل کی ضرورت نہیں بھئی فورا ہی خود ہی اپ کے ذہن کو پتہ کوئی یقین ہو جاتا ہے کہ یہ بھئی جفت ہے بھئی کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ تو لہذا لازمِ بین وہ لازم ہے جس میں لزوم کیا ہوتا ہے ملزوم اور لازم کے درمیان جو لزوم ہے وہ واضح ہوتا ہے واضح ہوتا ہے۔ وہاں کسی دلیل کی ضرورت نہیں اور لازمِ غیر بین وہ ہے جہاں لزوم کے یقین کے لیے کسی باقاعدہ دلیل کی ضرورت پڑتی ہے وہاں لزوم واضح نہیں ہے بھئی واضح نہیں ہے۔
اور پھر لازمِ بین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک لازمِ بین بالمعنی الاخص اور ایک لازمِ بین بالمعنی الاعم۔ لازمِ بین بالمعنی الاخص کا کیا معنی؟ کہ ملزوم کا تصور کرتے ہی خود بخود کس کا تصور ا جاتا ہے؟ لازم لازم کا اپ کو الگ تصور نہیں کرنا پڑتا۔ ملزوم کا تصور کرتے ہی خود بخود کیا ا جاتا ہے؟ لازم دونوں میں اتنا گہرا تعلق ہوتا ہے بھئی کہ اپ نے تو صرف ملزوم کا تصور کیا لیکن لازم خود ہی ا گیا۔ اور دوسرا لازمِ بین بالمعنی الاعم وہاں ایسا نہیں ہے کہ ملزوم کا تصور کریں تو فورا کس کا تصور ا جائے؟ لازم کا۔ وہاں ایسا نہیں ہو گا۔ چار کا تصور کرتے ہی جفت ہونے کا تصور اپ کے ذہن میں نہیں اتا۔
ہاں اس کا الگ تصور کریں ملزوم کا الگ تصور کریں اور لازم کا الگ تصور کریں۔ مثلاً اپ نے اربعہ کا بھی تصور کیا اور جفت ہونے کا بھی تصور کیا تو ان دونوں کا تصور کرتے ہی فورا اپ کو پتہ لگ گیا۔ کہ یہ جفت ہونا چار کے ساتھ لازم ہے۔
یہاں چار کا تصور کرتے ہی جفت ہونے کا تصور ذہن میں نہیں اتا ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوتا لیکن اگر دونوں کا تصور کر لیا جائے تو خود بخود ان دونوں میں لزوم کا یقین ہو جاتا ہے کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی بھئی۔ فرق سمجھ میں ا گیا؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازمِ بین بالمعنی الاعم بھئی۔
تو دیکھیے بھئی میں نے تو دو قسمیں بیان کر دیں بھئی لازمِ بین اور لازمِ غیر بین۔ یہ اس کو جو ذکر نہیں کر رہے صرف لازمِ بین کی جو دو قسمیں ہیں لازمِ بین بالمعنی الاخص اور لازمِ بین بالمعنی الاعم ان کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں "والعرض اللازم قسمان" اور وہ عرض جو لازم ہو اس کی دو قسمیں ہیں۔ "الأول" پہلی قسم جو ہے "ما يلزم تصوره من تصور الملزوم" وہ لازم ہے وہ وہ ہے کہ "يلزم تصوره" کہ اس کا تصور لازم ہو "من تصور الملزوم" ملزوم کے تصور سے۔
وہ جس کا تصور لازم ہو کس کے تصور سے؟ ملزوم ملزوم کا تصور کرتے ہی کس کا تصور ا جاتا ہے؟ لازم کا "کالبصر للأعمى" جیسے کہ بینائی "للأعمى" اندھے پن کے لیے بھئی۔
سمجھ میں ایا؟ اندھے پن کا تصور کرتے ہی بینائی کا فورا اپ کے ذہن میں ا جاتا ہے کیونکہ اندھا کہتے ہی اس کو ہیں جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہو۔ لہذا اپ دیوار کو، پتھر کو، کتاب کو اپ ان کو اندھا نہیں کہتے بھئی کیونکہ ان میں تو دیکھنے کی صلاحیت تھی ہی نہیں۔ تو جب بھی اپ اندھے پن کا تصور کرتے ہیں ساتھ ہی اپ کے ذہن میں فورا کس کا تصور ا جاتا ہے؟ بینائی کا بھی کہ دیکھنے والی ایک انکھ ہے اور پھر کیا کیا ہو گیا اس سے دیکھنے کی صلاحیت کسی مرض کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ "والثاني ما يلزم من تصور الملزوم واللازم الجزم باللزوم" اور دوسری قسم لازم کی وہ ہے کہ لازم ہو "من تصور الملزوم واللازم" ملزوم اور لازم دونوں کے تصور سے لازم ہو کیا لازم ہو؟ "الجزم باللزوم" جزم کہتے ہیں یقین کو بھئی۔ لزوم کا یقین اس کے ساتھ لازم ہو۔
بھئی دیکھیے اپ نے ملزوم کا بھی تصور کیا۔ اپ نے لازم کا بھی تصور کیا۔ تو جب ان دونوں کا تصور کریں گے فورا ہی اپ کو یقین ہو جائے گا کہ ان دونوں میں کیا ہے؟ لزوم ہے۔ ان دونوں میں اپ اربعہ کا تصور کریں گے اور ساتھ جفت ہونے کا تصور کریں گے تو ان دونوں کا تصور کرتے ہی اپ کا ذہن اپ کو بتلا دے گا کہ ان دونوں میں کیا ہے؟ لزوم ہے۔ ان دونوں یہ دونوں ایک دوسرے کے یہ یہ جفت ہونا اربعہ کے ساتھ لازم ہے۔ تو یہاں کیا کرنا پڑتا ہے؟ ملزوم کے تصور سے لازم کا تصور نہیں اتا بلکہ کیا کرنا پڑتا ہے؟ دونوں کا تصور کرنا پڑتا ہے پھر اس سے ان دونوں میں لزوم کا یقین ہو جاتا ہے یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ "ما يلزم من تصور الملزوم واللازم" کہ ملزوم اور لازم دونوں کے تصور سے لازم ہوتا ہو "الجزم باللزوم" لزوم کا یقین بھئی پھر لزوم کا یقین ہوتا ہے "کالزوجية للأربعة" جیسے جفت ہونا چار کے لیے "فإن من تصور الأربعة وتصور مفهوم الزوجية" بس بے شک جس نے تصور کیا چار کا "وتصور مفهوم الزوجية" اور تصور کیا جفت ہونے کے مفہوم کا کہ جفت کسے کہتے ہیں۔
"يجزم بداهة" تو اس کو یقین ہو جاتا ہے بدیہی طور پر بغیر غور و فکر کے اپ نے چار کا بھی تصور کیا ذہن میں اور جفت ہونے کا بھی تصور کیا کہ جفت اس کو کہتے ہیں جو دو برابر حصوں میں کیا ہو جاتا ہے جفت کسے کہتے ہیں؟ جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ تو اپ نے چار کا بھی تصور کیا اور جفت ہونے کے مفہوم کا بھی ذہن میں تصور کیا کہ جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہو جائے۔ فورا ہی اپ کے ذہن اپ کو بتا دے گا کہ ان دونوں میں کیا ہے؟ چار میں اور جفت ہونے میں لزوم ہے۔ جفت ہونا چار کے ساتھ لازم ہے۔
یہ معنی ہے "فإن من تصور الأربعة وتصور مفهوم الزوجية" پس بے شک جس نے تصور کیا چار کا اور تصور کیا جفت ہونے کے مفہوم کا "يجزم بداهة" تو اس کو یقین ہو جاتا ہے بداہۃً یعنی بغیر بداہۃً کا کیا معنی؟ بغیر بدیہی کسے کہتے تھے؟ جس میں غور و فکر کی ضرورت نہ پڑے۔ تو اس کو یقین ہو جاتا ہے بداہۃً بغیر غور و فکر کے ہی "أن الأربعة زوج" کہ یہ چار جو ہے یہ جفت ہے۔ "ومنقسمة بمتساويين" اور یہ تقسیم ہو جاتا ہے دو برابر حصوں میں۔ "منقسمة بمتساويين" کہ یہ تقسیم ہو جاتا ہے دو برابر حصوں میں۔
فصلٌ
فصلٌ "أي هذا فصلٌ" یہ فصل ہے۔ "العرض المفارق" وہ عرض جو جدا ہونے والا ہے۔ "أعني ما يمكن انفكاكه عن المعروض" یعنی یعنی کہ "ما يمكن انفكاكه" وہ جس کے ممکن ہو اس کا جدا ہونا "عن المعروض" کس سے؟ معروض سے۔
معروض وہی موصوف بھئی معروض۔ تو کہ ممکن ہو اس کا جدا ہونا معروض سے "أيضاً قسمان" یہ بھی دو قسم پر ہے۔ "أحدهما" ان میں سے دو میں سے ایک جو ہے "ما يدوم عروضه للملزوم" کہ دائم ہوتا ہو اس کا عروض ملزوم کے ساتھ۔
بھئی دیکھیے۔ عرضِ مفارق کسے کہا تھا؟ جو لازم ملزوم نہ کہیں۔ لازم ملزوم تو نہیں جدا ہوتے۔ معروض کہیں۔ لفظ کیا استعمال کریں؟ معروض۔ معروض جس کے ساتھ وہ عرض قائم ہے بھئی۔ تو معروض۔
تو مفارق کس کو کہا تھا؟ وہ عرض ہے جو معروض سے جدا ہو۔ ہاں وہ عرض جو اپنے معروض سے جدا ہونا ممکن ہو۔ اس کو کیا کہیں گے؟ مفارق۔ میں نے بتایا تھا ممکن ہو چاہے جدا ہو سکے جدا ہوتی ہے یا جدا نہیں ہوتی وہ الگ بات ہے لیکن ممکن ہے اس سے جدا ہونا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرضِ مفارق۔ پھر اس میں بتائیں گے۔ یہ دو قسم پر ہے۔
کہ جدا ہونا ممکن تو ہے لیکن جدا ہوتی نہیں۔ یعنی اس کے ساتھ ہمیشہ سے ہے۔ کیا ہے؟ ہے اس کے ساتھ ہمیشہ سے۔ جدا ہونا ممکن بھی ہے لیکن جدا ہوئی نہیں ابھی تک کیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی ہے۔ ہاں ممکن ہے جدا ہونا۔ پچھلی مثالوں میں تو تھا جدا ہونا ممکن ہی نہیں تھا یہاں کیا ہو گا؟ ممکن تو ہے پھر جدا ہو یا نہ ہو تو ایک چیز ہے دوسری چیز کے ساتھ ہمیشہ سے ہے لیکن جدا ہونا ہم غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جدا ہونا اس کا ممکن تو ہے تو لہذا اس کو کیا کہیں گے؟ اگرچہ یہ ہمیشہ سے اس کے ساتھ ہے لیکن ہم اس کو کیا کہیں گے؟ عرضِ مفارق کہیں گے کیونکہ اس کا جدا ہونا کیا ہے؟ ممکن ہے۔
تو لہذا عرضِ مفارق دو قسم پر ہوا۔ ایک تو وہ عرضِ مفارق کہتے کس کو تھے؟ جس کا جدا ہونا ممکن ہو۔ تو یاد رکھیے یا دو قسم پر ہے یا تو یہ اس کا جدا ہونا ممکن تو ہے لیکن جدا ہوئی نہیں ابھی تک ہمیشہ سے اس چیز کے ساتھ ہے۔ ہمیشہ سے اس چیز کے ساتھ ہے۔ یا دوسری قسم کہ وہ جدا ہو جاتی ہے بھئی۔ کیا ہے جدا ایک تو وہ ہے جو ہمیشہ سے ساتھ ہے جدا ہونا ممکن تو ہے لیکن ابھی تک جدا ہوئی نہیں اور دوسری کیا ہے جو جدا ہو جاتی ہے ہم خود باقاعدہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا ہو جاتی ہے؟ جدا ہو جاتی ہے یعنی بالفعل بھی جدا ہو جاتی ہے۔
پھر جو جدا ہو جاتی ہے کبھی تو وہ ایسے عرضِ مفارق ہو گا جو جلدی جدا ہو جاتا ہے بھئی۔ تھوڑی دیر میں جدا ہو جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے۔ اور ایک وہ عرضِ مفارق ہے جو ذرا دیر سے جدا ہوتا ہے۔ جو ذرا دیر سے جدا ہوتا ہے۔
جیسے بھئی پہلے کی مثال کہ جدا ہونا ممکن تو ہے لیکن جدا ہوئی نہیں ابھی تک ہمیشہ سے اس کے ساتھ ہے۔ لیکن ممکن ہے جدا ہونا اس کی مثال دیتے ہیں جیسے بھئی فلک کی حرکت۔
فلک کی حرکت۔ اسمان کی حرکت۔ یہ قدیم فلاسفہ کا [unclear]
3
قدیم مناطقہ کا نظریہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان جو ہے، آسمان زمین کے گرد ایک بڑا گول سے دائرے کی شکل میں ہے اور کرہ ہے کرہ، گول، اور یہ گھوم رہا ہے اپنی جگہ پر۔
کیا کر رہا ہے؟ گھوم رہا ہے۔
جس طرح لٹو اپنی جگہ پر گھومتا ہے بھئی، اس طرح یہ بھی کیا ہے زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ اور انہی میں ایک میں، اس میں ستارے بھی لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کہتے ہیں ستارے لگے ہوئے ہیں جس طرح کیل چھت میں گاڑ دیے جائیں بھئی۔ جس طرح کیل چھت میں لگے ہوتے ہیں باقاعدہ، اس طرح یہ ستارے بھی کیا ہیں آسمان میں جڑے ہوئے ہیں، لگے ہوئے ہیں اور آسمان چونکہ گھوم رہا ہے اس لیے ستارے بھی ہمیں گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ مشرق سے دیکھو رات کے وقت آپ دیکھیں، تو جو ستارہ عشاء کے بعد مشرق کے قریب ہے، وہ آہستہ آہستہ حرکت کرتے کرتے مغرب کی طرف آپ کو حرکت کرتا ہوا نظر آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ کہتے ہیں یہ کیوں سارے ستارے حرکت کرتے ہیں؟ کیونکہ یہ دراصل لگے ہوئے ہیں آسمان میں اور آسمان گھوم رہا ہے، تو لہٰذا یہ بھی اس کے ساتھ ساتھ پھر گھومتے چلے جاتے ہیں۔ غبارے کے اوپر آپ بھئی قلم سے نشان لگائیں، تو جب غبارے کو گھمائیں گے وہ نقطہ بھی گھومتا چلا جائے گا یا نہیں بھئی؟ تو یہ اسی طرح یہ ستارے بھی اس میں لگے ہوئے ہیں، یہ اس کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہے ہیں بھئی۔
تو یہ قدیم فلاسفہ کا نظریہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان کے نزدیک یہ آسمان حرکت میں ہے ہر وقت بھئی اور ہمیشہ سے ہے اور اس سے حرکت کا جدا ہونا ممکن تو ہے، لیکن ابھی تک ہوئی نہیں۔ ہمیشہ سے یہ اسی طرح حرکت کرتا چلا آ رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے تو اس کے آسمان کی جو حرکت ہے، ہے تو عرض مفارق، لیکن ہمیشہ سے اپنے معروض کے ساتھ ہے، اس سے کبھی جدا نہیں ہوئی۔ ہو سکتی ہے، لیکن ہوئی نہیں بھئی۔
یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ دو جو عرض مفارق ہے، یہ دو قسم پر ہے۔ "أحدهما ما يدوم"، "دام يدوم" کا معنی ہوتا ہے ہمیشہ ہونا۔ "عروض" کا معنی وہی "عارض ہونا"، ساتھ ملنا۔ "أحدهما ما يدوم عروضه للملزوم"، ایک وہ ہے کہ جس کا جو ہمیشہ سے اس کا عروض ہو ملزوم کے ساتھ، یعنی ملزوم کے ساتھ ہمیشہ سے ملی ہوئی ہے، لگی ہوئی ہے، "کالحرکة للفلك"، جیسے کہ آسمان کی، آسمان کے لیے حرکت۔
"کالحرکة للفلك" بھئی، حرکت یا را پر فتحہ پڑھنا بھئی، "کالحرکة للفلك"۔ تو صحیح لفظ حرکت ہے، حرکت۔
"والثاني"، اور دوسری قسم "ما يزول عنه"، وہ ہے جو اس معروض سے کیا ہو جاتی ہے؟ وہ عرض مفارق جو اپنے معروض سے باقاعدہ جدا ہو جاتی ہے۔ پھر یہ دو قسم پر ہے: "إما بسرعة"، یا تو جلدی سے جدا ہو جاتی ہے، "کحمرة الخجل وصفرة الوجل"۔
"خجل يخجل خجلاً" کا معنی ہوتا ہے شرمندہ ہونا۔ "خجل يخجل خجلاً" کا کیا معنی؟ شرمندہ ہونا۔ اسی سے ہے "خجل"، "خجل"، شرمندہ ہونے والا، شرمندہ ہونے والا۔ بھئی جو آدمی شرمندہ ہو گا اس کے چہرے پر سرخی آ جاتی ہے فوراً۔ جو آدمی شرمندہ ہوا اس کے چہرے پر کیا آ جائے گی؟ آپ خود بھی اس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور تو یہ سرخی یہ اس کو عارض ہوئی۔ کیا ہوئی؟ عارض ہوئی۔ یہ عرض ہے مولانا! اور آپ بتائیے یہ دیر تک رہتی ہے یا جلدی سے ختم ہو جاتی ہے؟ جلدی ختم ہو جاتی ہے، تھوڑی دیر کے لیے رہے گی اور پھر کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ تو یہ مثال ہے اس عرض مفارق کی جو جلدی سے جدا ہو جاتا ہے۔
اور اسی طرح بھئی جو شخص ڈر جائے، اس کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں بھئی جو ڈر جائے اس کا رنگ کیا ہوتا ہے؟ زرد پڑ جاتا ہے اور آپ بتائیے یہ زرد ہونا، یہ اس آدمی سے جلدی جدا ہو جاتا ہے یا سالہا سال تک اسی طرح پھر وہ زرد رہتا ہے؟ جلدی جدا ہو جاتا ہے، تھوڑی دیر تک یہ زردی رہے گی اور پھر کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔
جی، تو "خجل" کا کیا معنی؟ شرمندہ ہونے والا، یعنی شرمندہ اور اسی سے، اسی طرح ہے "صفرت"، صفرت کہتے ہیں زردی کو اور "وجل"، "وجل يوجل وجلاً" کا معنی ہے ڈرنا۔ "وجل يوجل وجلاً" کا معنی ہے ڈرنا اور اسی سے صفت کا صیغہ ہے "وجل"، ڈرنے والا، ڈرنے والا۔
تو کہتے ہیں عرض مفارق کی دوسری قسم "ما يزول عنه"، وہ ہے جو اس معروض سے جدا ہو جاتی ہے، "إما بسرعة"، یا تو جلدی سے ہی "کحمرة الخجل"، جیسے کہ شرمندہ کی سرخی، شرمندہ شخص کی سرخی، "وصفرة الوجل"، اور ڈرنے والے کی زردی، تو یہ جلدی جدا ہو جاتے ہیں، "أو ببطء"، یا یہ جدا ہوتے ہیں، ببطء کہتے ہیں تاخیر سے، دیر سے جدا ہوتے ہیں، جلدی نہیں جدا ہوتے، "کالشیب والشباب"، شیب کہتے ہیں بڑھاپے کو، شباب کہتے ہیں جوانی کو۔ بھئی دیکھیے جوانی، جوانی جلدی ختم ہوتی ہے یا بڑے عرصے تک رہتی ہے بھئی؟ بڑے عرصے تک سمجھ میں آیا کئی سال تک رہے گی، پھر ختم ہو گی۔ بھئی وہ جو زردی تھی ڈرنے والے کی اور وہ جو سرخی تھی شرمندہ آدمی کی، وہ تو تھوڑی دیر میں ہی ختم ہو جائے گی، لیکن یہ جوانی کیا ہے؟ کئی سال تک رہتی ہے، پھر جا کر ختم ہوتی ہے بھئی، تو یہ جدا تو ہو رہا ہے یہ عرض مفارق، لیکن جلدی نہیں بلکہ ببطء، "ببطء"، دیر سے، تاخیر سے بھئی، تاخیر سے جدا ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
جی، تو شیب کس کو کہتے ہیں؟ بڑھاپے کو اور شباب کسے کہتے ہیں؟ جوانی کو۔ بھئی یہاں شیب بڑھاپے کی مثال ذکر کرنا درست نہیں بھئی۔ دیگر علماء لکھتے بھی ہیں کہ یہاں بڑھاپے کو بطور مثال کے ذکر کرنا درست نہیں، اس لیے کیونکہ بڑھاپا جب ایک دفعہ آ جائے پھر وہ جدا نہیں ہوتا۔ بڑھاپا پھر ختم ہوتا ہے؟ پھر آگے موت تو آ جاتی ہے، لیکن بڑھاپا جان نہیں چھوڑتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو موت کے بعد تو پھر انسان ہی ختم ہو گیا، پھر جدا ہونے نہ ہونے کی تو بحث ہی نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں بڑھاپے کے بطور مثال کے ذکر کرنا درست نہیں ہے بھئی۔
بعض علماء نے یہ جواب دیا کہ بھئی اس سے وہ طبعی بڑھاپا مراد نہیں ہے جو پچاس ساٹھ سال کی عمر میں آ کر عارض ہوتا ہے، بلکہ اس سے مراد ہے کسی بیماری کی وجہ سے انسان پر بڑھاپا آ جائے۔ کیا آ جائے؟ جوانی کے اندر کوئی ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ اس پہ بڑھاپا آ گیا اور پھر دوائیاں وغیرہ استعمال کیں، پھر تندرست ہو گیا، تو وہ بڑھاپا چلا گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ایک تاویل کر کے جواب دیا بعضوں نے بھئی، لیکن بہرحال یہ بڑی بعید تاویل ہے بھئی۔ بیماری کی وجہ سے جو آئے گا، اس کو بڑھاپا تو نہیں کہیں گے، کمزوری وغیرہ، ضعف تو کہیں گے، بڑھاپا نہیں کہیں گے یا ہو سکتا ہے کوئی ایسی صورت ہو کہ بالکل بڑھاپے جیسے ہی حالت انسان پر آ جاتی ہو۔ تو بہرحال عام اعتبار سے یہ مثال درست نہیں بھئی۔
جی، تو سمجھ میں آیا بھئی کہ عرض مفارق جو ہے، عرض مفارق یہ دو قسم پر ہے: یا تو یہ اپنے معروض سے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے، ہے تو جدا ہونا ممکن تو ہے، لیکن یہ اپنے معروض کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے، جیسے حرکت حرکت فلک بھئی، "کالحرکة للفلك"۔
جیسے حرکت فلک بھئی اور پھر کبھی یہ جدا ہو جاتا ہے، تو ایک تو قسم وہ ہے جو ہمیشہ اپنے معروض کے ساتھ ہے، اس سے جدا ہوتی نہیں، ممکن تو ہے لیکن جدا ہوتی جدا ہوئی نہیں ابھی تک اور دوسری قسم وہ جدا ہو جاتی ہے باقاعدہ، پھر جو جدا ہو جاتی ہے وہ دو قسم پر ہے: یا تو جلدی جدا ہو جاتی ہے یا تاخیر سے۔ جلدی جدا ہونے والے کی مثال جیسے کہ شرمندہ شخص کے چہرے کی سرخی اور ڈرنے والے کے چہرے کی زردی اور جو دیر سے جدا ہو اس کی مثال کیا ہے؟ شباب ہے، جوانی ہے بھئی۔ بحث ساری سمجھ میں آ گئی؟ کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو۔
جی؟ ہاں، لازم غیر بین اس کو دیکھ سمجھ لیں۔ لازم غیر بین میں نے بتایا جس میں لزوم بین نہیں ہے، واضح نہیں ہے۔ ملزوم کے ساتھ لزوم ملزوم کے ساتھ لازم کا کبھی تصور کر لیں، پھر بھی لزوم کا یقین نہیں ہوتا کہ یہ دوسری چیز اس کے ساتھ لازم ہے، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ دلیل کی ضرورت پڑتی ہے بھئی، باقاعدہ دلیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ جیسے دیکھیے یہ عالم، یہ عالم، عالم کا آپ نے تصور کیا اور حادث ہونا، حادث ہونا اس معنیٰ کا بھی آپ نے تصور کیا۔ اب یہ عالم حادث ہے، یہ عالم کیا ہے؟ نہ ہمیشہ سے ہے، نہ ہمیشہ رہے گا، تو یہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے، لیکن آپ اپنے ذہن میں عالم کا تصور کریں اور حادث ہونے کا تصور کریں، تو ان دونوں تصوروں سے یہ ان میں لزوم کا یقین نہیں ہوتا، لزوم کا پتہ نہیں چلتا، بلکہ پھر بھی باقاعدہ دلیل دینا پڑتی ہے کہ "العالم متغیر وکل متغیر حادث"، تو باقاعدہ دلیل کی ضرورت اس میں پڑتی ہے لازم، کیونکہ وہ لازم بین ہے ہی نہیں، واضح ہے ہی نہیں، اگر واضح ہوتا پھر تو دلیل کی ضرورت نہیں تھی، خود ہی سمجھ میں آ جاتا، تو یہ ہے غیر بین جو واضح نہیں ہے، جہاں لزوم کے یقین کے لیے باقاعدہ کس کی ضرورت پڑتی ہے؟ دلیل کی ضرورت پڑتی ہے بھئی، تو اس کو لازم غیر بین کہتے ہیں بھئی۔
چلیے، بس بھئی۔ ھذا ھو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔