Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-025

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 52
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 25 1 فصل قد يقسم المفرد بتقسيم آخر وهو أن المفرد إما أن يكون معناه واحداً أو يكون كثيراً والذي له معنى واحد على ثلاثة أضرب لأنه لا يخلو إما أن يكون ذلك المعنى متعيناً مشخصاً أو لم يكن والأول يسمى علماً كزيد وهذا وهو والأولى أن يسمى هذا القسم بالجزيئي الحقيقي۔ آج مفرد کی دوسری تقسیم ہم پڑھیں گے بھئی۔ ایک تقسیم آپ نے مفرد کی پڑھ لی اور وہ کیا؟ کہ مفرد تین قسم پر ہے، اسم ہوگا یا کلمہ ہوگا یا ادات ہوگا۔ یعنی معنی مستقل اور غیر مستقل ہونے کے اعتبار سے تین قسم پر تھا مفرد۔ اگر معنی غیر مستقل ہو تو وہ ادات ہے اور اگر مستقل ہو تو پھر اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوگا یا نہیں ملا ہوگا۔ اگر ملا ہو تو وہ کلمہ ہے اور اگر نہ ملا ہو تو وہ اسم ہے۔ آج دوسری تقسیم کر رہے ہیں مفرد کی۔ بھئی دیکھیے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ مفرد کا معنی ایک ہوگا یا کئی ہوں گے بھئی۔ مفرد کا کبھی ایک معنی ہوگا یا کئی معانی ہوں گے۔ جیسے انسان بھئی، انسان کا معنی ہے حیوان ناطق بھئی۔ یہی ایک معنی ہے، اس کا کوئی اور معنی بھی ہے یا نہیں بھئی؟ اور کوئی معنی نہیں اس کا بھئی۔ جبکہ بعض اوقات ایک ہی اسم کے کئی معانی آتے ہیں جیسے عینٌ کا لفظ بھئی۔ عین کا لفظ چشمے کو بھی کہتے ہیں، عین کا لفظ گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عین کا معنی سونے کے بھی آتے ہیں، سونا بھئی وہ جو دھات ہے جس سے زیور بنائے جاتے ہیں، تو عین کا معنی سونا بھی ہے، عین کا معنی گھٹنا بھی ہے، عین کا معنی چشمہ بھی ہے، عین سورج کو بھی کہتے ہیں تو عین کا معنی سورج بھی ہوا، اسی طرح عین جاسوس کو بھی کہتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو کتنے ہی معانی اس کے آتے ہیں۔ تو اب اس لفظ کا ایک معنی ہے یا زیادہ معانی ہیں؟ زیادہ، تو بس مفرد کا کبھی ایک ہی معنی ہوگا اور کبھی زیادہ معانی ہوں گے، دو قسم پر ہوا بھئی۔ اگر ایک ہی معنی ہو تو اسے کہتے ہیں متحد المعنی، اور اگر زیادہ معانی ہوں تو اس کو کہتے ہیں متکثر المعنی بھئی۔ اگر مفرد کا ایک ہی معنی ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ متحد المعنی، متحد المعنی۔ اور اگر کئی معانی ہوں تو اسے کیا کہیں گے؟ متکثر المعنی، زبان سے ادا کرو بھئی، متکثر المعنی، یعنی اس کے کثرت سے ہیں اس کے معانی، کئی معانی ہیں یعنی بھئی۔ دیکھیے اب کتاب پر: فصلٌ أي هذا فصلٌ، یہ ایک فصل ہے، قد يقسم المفرد بتقسيم آخر، کبھی تقسیم کیا جاتا ہے مفرد کو دوسری تقسیم کے ساتھ، یعنی کبھی اس کی دوسری تقسیم کی جاتی ہے، وهو، اور وہ یہ، أن المفرد إما أن يكون معناه واحداً، کہ وہ مفرد جو ہے یا تو اس کا معنی واحد ہی ہوگا یعنی ایک ہی معنی ہوگا، اور اس کا کیا نام بتایا میں نے؟ متحد المعنی، متحد المعنی۔ أو يكون كثيراً، یا اس کا معنی کیا ہوگا؟ یا اس کا معنی کثیر ہوں گے۔ والذي له، جی، اب آگے پھر اس جس کا معنی ایک ہو اس کی تقسیم کر رہے ہیں۔ آگے چل کر پھر وہ یہاں پر متحد المعنی کی تقسیم کر رہے ہیں، آگے چل کر متکثر المعنی کی تقسیم کریں گے بھئی۔ متکثر المعنی کی تقسیم اگلے فصل میں کریں گے۔ اب دیکھیے بھئی، اس مفرد کی تقسیم کرنے لگے ہیں جس کا ایک معنی ہے یعنی متحد المعنی ہے۔ اس کا جو وہ معنی ہے، وہ متعین اور مشخص ہوگا یا متعین اور مشخص نہیں ہوگا؟ متعین اور مشخص کا ایک ہی معنی ہے بھئی، مشخص کا معنی بھی متعین ہے بھئی۔ مشخص کا بھی کیا معنی ہے؟ متعین ہی ہے مشخص کا معنی بھئی۔ تو دیکھیے ایک لفظ کا ایک ہی معنی ہے، وہ معنی یا تو متعین ہوگا، مشخص ہوگا، یعنی اس میں شرکت نہیں ہو سکے گی، یعنی اس میں شرکت نہیں ہو سکے گی، یعنی عقل بتلا دے گی کہ یہ کئی چیزوں پر صادق نہیں آتا، صرف ایک ہی چیز پر صادق آتا ہے، ایک ہی متعین چیز پر صادق آتا ہے، جیسے زید، عمر، بکر۔ زيد ایک ہی متعین ذات پر صادق آتا ہے یا کئیوں پر صادق آتا ہے؟ ایک ہی متعین ذات کو زید کہتے ہیں، آپ کسی اور کو نہیں کہتے، معلوم ہوا عقل یہاں شرکت کو جائز نہیں سمجھتی، یعنی اور لفظ اس کے اور چیزیں اس میں شریک نہیں ہیں بھئی، یہ معنی متعین اور مشخص ہے، یعنی ایک متعین چیز ایک متعین ہے اس میں شرکت نہیں ہو سکتی، اور افراد نہیں آ سکتے، تو زید سے ایک ہی زید ذات مراد ہے اور وہ زید کی ذات ہے، اور کبھی کبھار شرکت کو عقل جائز سمجھتی ہے، یعنی وہ لفظ کثیرین پر بولا جاتا ہے، جیسے انسان۔ اب دیکھیے انسان کا لفظ زید پر بھی بول سکتے ہیں، یہ انسان ہے، زید انسان ہے، عمر پر بھی بولا جاتا ہے کہ عمر انسان ہے، بکر پر بھی بولا جاتا ہے کہ بکر انسان ہے، تو جتنے افراد ہیں دیکھو لاکھوں کروڑوں اربوں افراد، ہر ایک پر لفظ انسان صادق آ رہا ہے۔ تو دیکھو تو دو قسم کے ہوئے مفرد، معنی تو ایک ہی ہے، انسان کا ایک ہی معنی تھا کیا؟ حیوان ناطق، کوئی دوسرا معنی اس کا نہیں ہے۔ زید کا بھی ایک ہی اسی ذات کے لیے ہے، لیکن دونوں میں فرق کیا ہے؟ کہ زید کے اندر شرکت نہیں ہو سکتی، عقل جائز نہیں سمجھتی کہ اس کے ساتھ اور بھی افراد شریک ہوں، لیکن انسان کے اندر شرکت ہو سکتی ہے، یہ ایک پر نہیں بولا جاتا بہت سے لوگوں پر بولا جاتا ہے۔ تو بس اتنا سمجھ لیں، خلاصہ یہ کہ وہ لفظ یا تو کثیرین پہ صادق آئے گا یا کثیرین پہ صادق نہیں آئے گا، زید کثیرین پہ صادق آتا ہے؟ بہت سوں پر صادق آتا ہے؟ نہیں، عمر بہت سوں پر صادق آتا ہے؟ نہیں، خالد بہت سوں پر صادق آتا ہے؟ معلوم ہوا یہ ایک قسم ہے۔ اور بعض اوقات لفظ بہت چیزوں پر صادق آتا ہے، جیسے انسان، یہ کثیرین پر صادق آتا ہے یا نہیں آتا؟ آتا ہے۔ حیوان، حیوان بہت سوں پر صادق آتا ہے یا نہیں آتا بھئی؟ بہت سوں پر صادق آتا ہے، انسان بھی اس میں داخل، گھوڑا بھی اس میں داخل، گائے، بیل، بکری، سب حیوان اس میں داخل ہو گئے، تو دیکھو بہت سوں پر صادق آ رہا ہے۔ کتاب بھئی کتاب، یہ کثیرین پر صادق آتی ہے یا نہیں آتی؟ کثیرین پہ صادق آتی ہے، ہر کتاب کو کتاب کہتے ہیں بھئی۔ بس اتنا اب سمجھ لیں، خلاصہ یہ کہ وہ کثیرین پر صادق آئے گا یا کثیرین پر صادق وہ مفرد نہیں؟ اگر کثیرین پر صادق نہ آئے تو اس کا نام انہوں نے رکھا علم، اس کا کیا نام رکھا؟ علم ہے، یعنی اس کے معنی میں کوئی اور اس کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا، کسی اور پر وہ لفظ صادق نہیں آ سکتا، اور اگر اوروں پر صادق آئے تو اس کو کلی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ کلی کہتے ہیں۔ اگر کثیرین پر صادق نہ آئے کسی متعین ذات پر کسی متعین معنی پر صادق آئے وہ لفظ تو اس کو کہتے ہیں جزئی بھئی، جزئیٌ یا مشدد ہے، اور اگر کثیرین پر بولا جائے بہت سے لوگ بہت سے افراد اس میں پر بہت سے افراد پر وہ صادق آ سکے تو اسے کلی کہتے ہیں بھئی، کلیٌ یا مشدد ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ بھی آ رہی ہے یا مشکل ہو گئی؟ کہ مفرد کا معنی ایک متعین ہوگا یا غیر متعین ہوگا، بہت سوں پر صادق آ سکے گا۔ تو یہ جو متعین ہے یہ ہے جزئی، اور وہ جو غیر متعین ہے وہ ہے کلی۔ تو دیکھیے یہی بات کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں والذي له معنًى واحدٌ، اور وہ مفرد جس کا ایک ہی معنی ہو، على ثلاثة أضربٍ، وہ تین قسم پر ہے، اضرب جمع ہے ضرب کی، قسم کو بھی کہتے ہیں عربی میں بھئی، قسم۔ تو یہ على ثلاثة أضربٍ، یہ وہ وہ مفرد جس کا ایک ہی معنی ہو یعنی متحد المعنی ہو اس کے وہ تین قسم پر ہے، لأنه لا يخلو، اس لیے کیونکہ وہ خالی نہیں ہے، یعنی دو حال سے خالی نہیں، دو حال سے خالی نہیں، کون سے دو حال؟ کہتے ہیں إما أن يكون ذلك المعنى متعيناً مشخصاً أو لم يكن، یا تو وہ معنی کیا ہوگا؟ متعین اور مشخص ہوگا، أو لم يكن، یا متعین اور مشخص نہیں ہوگا، تو یہ دو حال سے یہ خالی نہیں ہے۔ والأول يسمى علماً، اور پہلی قسم کو علم کہتے ہیں، صاحبِ مرقات نے پہلی قسم کا کیا نام رکھا؟ علم، یعنی وہ مفرد جس کا ایک ہی معنی ہے اور وہ معنی متعین ہے، مشخص ہے، اس میں شرکت نہیں ہو سکتی، کہ یعنی کسی شے معین پر صادق آتا ہے، تو صاحب مرقات فرما رہے ہیں اس کو علم کہتے ہیں، كزيدٍ، جیسے زید، وهذا، اور هذا، وهو، اور هو۔ هذا کیا ہے؟ اسم اشارہ ہے، هو کیا ہے؟ ضمیر ہے، بھئی دیکھیے، زید کا لفظ ایک متعین ذات پر آپ بولتے ہیں، غیر متعین اس سے مراد نہیں ہوتا، اسی طرح هذا، جب بھی آپ هذا کا لفظ بولیں تو کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہوگا، تو وہ اس هذا سے وہی چیز مراد ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا، کوئی اور چیز مراد نہیں، اسی طرح هو، هو ضمیر ہے غائب کی، جب بھی آپ اس کو استعمال کریں گے کسی متعین چیز کی طرف اس کو لوٹائیں گے اور وہی اس سے مراد ہوگی، ہر چیز اس سے مراد نہیں، تو دیکھو وہی تعریف وہی ہے، وہ یہ هذا کا ایک ہی معنی ہے، اسی طرح هو کا بھی ایک ہی معنی ہے، اور پھر یہ ایک معنی کثیرین پر صادق آئے گا یا کثیرین پر صادق نہیں آئے گا؟ یعنی کثیرین پر صادق نہیں آتا یعنی کسی متعین اور مشخص چیز پر صادق آتا ہے، تو یہ اس اعتبار سے یہ علم ہے۔ کیا ہے؟ علم ہے، دیکھیے میں نے اشارہ کیا اس کتاب کی طرف، هذا كتابٌ، اپنی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں کیا کہتا ہوں؟ هذا كتابٌ، اب هذا سے ہر کتاب مراد ہے یا یہی والی جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں؟ جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں، دیکھو یہ ایک متعین اور مشخص چیز پر دلالت کر رہا ہے، اور چیزیں اس سے مراد نہیں ہیں، اسی طرح میں کہتا ہوں هو، جاءني زيدٌ، میں آپ سے کہتا ہوں جاءني زيدٌ، میرے پاس زید آیا تھا، وهو رجلٌ صالحٌ، اور وہ نیک آدمی ہے، تو هو ضمیر میں نے لوٹائی، اور هو سے ہر شخص مراد ہے یا یہ میں نے صرف زید کو لوٹائی ہے؟ جب میں نے زید کو لوٹائی ہے تو اس وقت اس سے زید ہی مراد ہے، جب آپ هو استعمال کریں گے جو بھی هو کو استعمال کرے گا وہ کسی متعین کے لیے استعمال کرے گا، جو بھی شخص هذا کو استعمال کرے گا جس کسی متعین چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استعمال کرے گا، جب متعین چیز کی طرف اشارہ ہوا تو یہ کیا بن گیا؟ یہ معلوم ہوا علم ہے بھئی، کیا ہے؟ علم ہے۔ نام سے پریشان نہ ہونا، علم تو کہتے ہیں نام کو نام، جیسے زید کسی کا نام ہے، ہم کہتے ہیں زید علم ہے، بکر کسی کا نام ہے، ہم کہتے ہیں بکر علم ہے۔ یہ مطلب اس متعین اور مشخص کا نام ہی انہوں نے علم رکھ دیا، کیا رکھ دیا؟ علم رکھ دیں، یہ اصطلاح ہے، کیا ہے؟ اصطلاحی لفظ ہے، تو آپ کا ذہن یہ ذہن اس طرف نہ جائے کہ هذا تو علم نہیں ہے، کسی کا نام نہیں ہے، هو تو کسی کا نام نہیں ہے، نہیں بھئی، علم یہاں نام کے معنی میں ہے ہی نہیں۔ یہاں علم کس معنی میں ہے؟ وہ مفرد، وہ مفرد جو متحد المعنی ہو اور کسی متعین اور مشخص معنی پر کیا کرے؟ دلالت کرے، اسے کیا کہیں گے؟ علم کہیں گے، تو اس کے اندر نام بھی داخل ہو گئے زید عمر بکر وغیرہ، اس کے اندر هذا بھی داخل ہوا، اس کے اندر هو بھی داخل ہو گیا۔ تو اسمائے اشارہ بھی داخل ہوئے، ضمیریں بھی اس کے اندر داخل ہو گئیں، لیکن اس کا نام کیا ہے؟ علم۔ آگے شارح یہ صاحبِ مرقات خود فرماتے ہیں: والأولى، اور بہتر یہ ہے، أن يسمى هذا القسم بالجزيئي الحقيقي، کہ موسوم کیا جائے اس قسم کو جزئی حقیقی کے نام سے، کہ بہتر یہ ہے اس قسم کا نام کیا رکھنا چاہیے؟ جزئی حقیقی رکھنا چاہیے۔ کیونکہ علم سے ذہن چلا جاتا ہے وہ نام والے معنی کی طرف جو عام استعمال ہوتا ہے علوم کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ علم اصطلاحی لفظ ہے، یہ جو متعین اور مشخص معنی ہوگا اس کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ علم کہتے ہیں، لیکن کہتے ہیں علم نام رکھنا مناسب نہیں، اس مناسب کیا ہے اس کا کیا نام رکھا جائے؟ جزئی حقیقی، مناطقہ تو اس کا نام علم رکھتے ہیں، لیکن علم نہیں نام رکھنا چاہیے، کیونکہ علم سے ہمارا ذہن کس کی طرف چلا جاتا ہے؟ وہ نام کی طرف چلا جاتا ہے، تو بہتر ہے کہ اس کا نام کیا رکھا جائے؟ جزئی حقیقی رکھا جائے بھئی، جزئی حقیقی۔ اور جزئی کسے کہتے تھے؟ میں نے بتلایا آپ کو، وہ معنی جس میں شرکت نہ ہو، یہ جو ابھی تعریف ہو رہی ہے، یہ جزئی حقیقی ہی ہے، وہ معنی جس میں شرکت نہ ہو سکے، اور معین شے پر صادق آئے، کثیرین پر صادق نہ آئے بھئی، یہ زید، هذا، هو، یہ سب جزئی حقیقی ہی ہیں بھئی۔ اس کے مقابلے میں ایک جزئی اضافی ہے بھئی، جزئی اضافی۔ جزئی اضافی ہر اخص تحت الاعم کو کہتے ہیں۔ جزئی حقیقی تو اس کو کہتے ہیں جو ابھی آپ نے تعریف پڑھی بھئی، جس میں شرکت نہ ہو سکے اور کسی متعین ذات پر متعین معنی پر بولا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزئی حقیقی، اس کے مقابلے میں ہے جزئی اضافی، جزئی اضافی اضافت سے ہے، نسبت نسبت، اس میں دو چیزوں کی نسبت کے اعتبار سے ایک کو جزئی کہا جاتا ہے چاہے وہ حقیقت میں جزئی نہ ہو۔ حقیقت میں چاہے وہ جزئی نہ ہو۔ جیسے ہاں، جزئی اضافی کی تعریف میں نے آپ کو بتلائی: ہر اخص تحت الاعم۔ یعنی ہر خاص جو عام کے تحت واقع ہو، ہر خاص جو عام کے تحت واقع ہو، بھئی آپ مجھے بتائیے، ایک ہے انسان، ایک ہے حیوان، کیا ہر انسان حیوان ہے کہ نہیں بھئی؟ ہر انسان حیوان ہے کیونکہ حیوان اس کا جز ہے، حیوان ناطق ہے وہ، تو ہر انسان حیوان ہے۔ 2 لیکن ہر حیوان انسان ہے؟ نہیں۔ معلوم ہوا حیوان عام ہے اور انسان خاص ہے۔ ہر انسان وہ حیوان ہے، اس میں داخل ہے۔ لیکن ہر حیوان انسان نہیں۔ معلوم ہوا حیوان ہے عام اور انسان ہے خاص۔ تو یہاں انسان اخص ہے اور حیوان اعم ہے۔ اور ہر وہ اخص جو تحت الاعم ہو، ہر وہ خاص جو عام کے نیچے ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزئی اضافی۔ تو انسان جزئی اضافی ہوا کیونکہ یہ عام کے نیچے ہے یعنی حیوان کے نیچے ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی؟ دو چیزوں میں نسبت دیکھی جائے، ایک عام ہو، ایک خاص۔ تو جو خاص ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزئی اضافی، یعنی یہ اس کے اعتبار سے جزئی ہے۔ حیوان کی ایک جزئی انسان ہے، حیوان کی ایک جزئی گھوڑا ہے، حیوان کی ایک جزئی کیا ہے؟ گائے، بیل، بکری وغیرہ ہیں۔ تو یہ سب اس کی جزئیات ہیں اور حیوان عام ہے۔ تو لیکن یہ جزئی حقیقی نہیں ہے، کیونکہ اس میں ہاں، تو شرکت تو ہو رہی ہے۔ انسان تو بہت سے افراد پر بولا جاتا ہے، لیکن بہرحال بعض کے اعتبار سے تو یہ خاص ہے، حیوان کے اعتبار سے تو یہ خاص ہے۔ اور ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ جزئی اضافی۔ یعنی حیوان کی طرف نسبت، اضافت کا معنی ہوتا ہے نسبت کرنا۔ انسان حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے دیکھا جائے تو جزئی ہے۔ کیا ہے؟ جزئی ہے۔ اسی طرح اب دیکھو زید، عمرو، بکر وغیرہ، یہ انسان کے تحت ہیں۔ زید انسان ہے، عمرو انسان ہے، بکر انسان ہے، خالد انسان ہے، ان سب پہ انسان صادق آرہا ہے۔ لیکن اس کا عکس کریں، ہر انسان زید ہے؟ نہیں۔ نہیں، وہ تو بکر بھی ہے، خالد بھی ہے۔ اچھا، ہر انسان عمرو ہے؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا انسان عام ہے اور زید، عمرو وغیرہ کیا ہیں؟ خاص ہیں۔ تو یہ انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی ہیں۔ تو یہ جزئی اضافی بھی ہوئے زید، عمرو، بکر وغیرہ اور جزئی حقیقی بھی ہیں کیونکہ یہ متعین ذات پر دلالت کر رہے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 25 of 108