Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-023

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 23 1 فصلٌ، اللفظ الدال إما مفردٌ وإما مرکبٌ، فالمفرد ما لا يقصد بجزئه الدلالة على جزء معناه كدلالة همزة الاستفهام على معناه ودلالة زيد على مسماه ودلالة عبد الله على المعنى العلمي، والمركب ما يقصد بجزئه الدلالة على جزء معناه كدلالة زيد قائم على معناه ودلالة رامي السهم على فحواه۔ یہاں آپ کو اب مفرد اور مرکب کے بارے میں بتلائیں گے کہ وہ لفظ جو دلالت کرنے والا ہے، بات بھئی دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی چل رہی ہے اور دلالتِ لفظیہ وضعیہ کے اندر دلالت کرنے والا لفظ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ لفظ ہوگا اور کہ جسے ہم نے مقرر کیا ہے بھئی۔ تو یہ لفظ یا تو مفرد ہوگا یا مرکب ہوگا بھئی، مفرد ہوگا یا مرکب ہوگا۔ مفرد کی یہ تعریف کیا کریں گے؟ کہ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو بھئی۔ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو۔ یہ کیا ہے؟ مفرد کہلائے گا بھئی۔ پھر اس میں تین صورتیں بنیں گی بھئی، تین صورتیں۔ بعض علماء نے چار صورتیں بنائیں، بعض نے پانچ صورتیں بنائیں، لیکن صاحبِ مرقات کی مثالوں سے وضاحت ہو رہی ہے کہ تین قسمیں بنیں گی یہاں پر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہاں، حالانکہ محشی نے بھی لکھا جو حاشیے والے ہیں، جو شرح کر رہے ہیں اس کی، کہ مصنف سے تسامح ہوا اور ایک چوتھی قسم ہے وہ رہ گئی، وہ انہوں نے ذکر نہیں کی، حالانکہ مصنف کی ترتیب بڑی بہترین ہے بھئی۔ تین ہی قسمیں بنتی ہیں مفرد کی بھئی، مفرد کی۔ تین قسمیں۔ تو مفرد کی تعریف انہوں نے کیا کی ہے؟ کہ لفظ کے جز کے ذریعے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ کیا جائے، نہ ہو بھئی۔ پہلی صورت یہ کہ لفظ کا سرے سے جز ہی نہ ہو، جب جز ہی نہیں ہے تو لفظ کے جز سے، جب جز ہی نہیں ہے تو جز سے معنی پر، جز سے معنی کے جز پر دلالت بھی نہ ہوئی بھئی۔ تو پہلی صورت کہ لفظ کا جز ہی نہ ہو، جیسے ہمزۂ استفہام۔ ہمزۂ استفہام، مثلاً میں آپ سے پوچھتا ہوں "أَزَيْدٌ عِنْدَكَ أَمْ عَمْرٌو؟" کیا زید ہے آپ کے پاس یا عمر ہے؟ تو دیکھو ہمزۂ استفہام لایا اور اس کا کیا ترجمہ کریں، کرتے ہیں اردو میں؟ "کیا" کے ساتھ، کیا، تو ہمزۂ استفہام ایک حرف ہے، کوئی جز ہے آگے بھئی اس کے؟ لفظ ایک ہی حرف پر مشتمل ہے اور حروف ہیں ہی نہیں۔ تو پہلی صورت یہ کہ لفظ کا سرے سے جز ہی نہ ہو، تو یہ بھی کیا ہوا؟ مفرد ہوا مفرد۔ دوسری صورت لفظ کا جز تو ہو لیکن معنی اس کا کوئی نہ ہو بھئی، مثلاً "زید"۔ اب اس لفظ کے جز ہیں: ز، ی اور د۔ ز، ی اور د، تو لفظ کے جز ہیں، لیکن یہ جز معنی دار نہیں ہیں، ان کا معنی ہی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلی صورت تھی کہ لفظ کا سرے سے جز ہی نہ ہو، دوسری صورت لفظ کے جز تو ہوں لیکن لیکن وہ معنی دار ہی نہ ہوں بھئی، تو یہ بھی مفرد ہوگا، جیسے زید، کوئی بھی اسی طرح لفظ لے لیں: انسان، ا، ن، س، ا، ن بھئی، تو دیکھیے لفظ کے جز ہیں، لیکن جز معنی دار نہیں۔ ا کا کوئی معنی نہیں ہے بھئی۔ ن، س، ہر ایک، کسی کا کوئی معنی نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح زید میں ز، ی، د بھئی، ز کا کوئی معنی نہیں، ی کا کوئی معنی نہیں، د کا کوئی معنی نہیں۔ تیسری صورت جیسے کسی کا ہم نام عبداللہ رکھتے ہیں بھئی، عبداللہ۔ تو عبداللہ لفظ ہے اور اس کے جز بھی ہیں، ایک جز ہے عبد، ایک ہے لفظِ اللہ۔ لیکن جب کسی کا نام رکھا تو اس کا اس وقت جو ہے لفظ کی دلالت اپنے معنی، لفظ کے جز کی دلالت اپنے معنی پر نہیں ہو رہی ہے بھئی۔ بھئی عبداللہ، عبد کا معنی ہوتا ہے عربی میں بندہ اور لفظِ اللہ یہ نام ہے ذاتِ باری تعالیٰ کا، تو ترجمہ تو اس کا ہوگا ویسے اللہ کا بندہ، اللہ کا بندہ۔ لیکن جب کسی کا نام رکھا تو یہ معنی مقصود نہیں ہوتے، یہ معنی مقصود نہیں ہوتے بھئی۔ میں نے کہا "جَاءَ عَبْدُ اللهِ"، تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے یہ کہا اللہ کا بندہ آیا ہے؟ نہیں، بلکہ آپ کیا کہتے ہیں؟ عبداللہ آیا ہے۔ عبداللہ آیا ہے۔ تو لفظ کا جز بھی ہے، یہ عبداللہ جب کسی کا نام رکھا، تو یہ لفظ کا جز بھی ہے، ایک جز عبد، ایک لفظِ اللہ۔ معنی دار بھی ہیں وہ جز، عبد کا معنی ہے بندہ اور اللہ یہ ذاتِ باری تعالیٰ کا نام۔ لیکن یہ دلالت مقصود نہیں ہے، یہ اس کا ارادہ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا، یعنی اس سے اللہ کا بندہ یہ معنی مراد ہی نہیں ہے، تو لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا، یعنی اس کا ارادہ نہیں ہے، ارادہ نہیں ہے۔ چنانچہ اگر عبداللہ سے اللہ کے بندے کا والا معنی مراد ہو تو یہ مرکب ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ مرکب کہلائے گا۔ مثلاً بھئی، زید اور عمر میں کسی بات پہ تھوڑا سا جھگڑا ہو گیا، اب آپ ان کو سمجھا رہے ہیں، بھئی کہ زید کی طرف رخ کر کے، آپ بھی اللہ کے بندے، عمر کو کہتے ہیں بھئی آپ بھی اللہ، آپ بھی عبداللہ ہیں، آپ بھی عبداللہ ہیں اور جو عبداللہ ہوتے ہیں وہ آپس میں جھگڑا نہیں کرتے، ناراضگی نہیں رکھتے دلوں کے اندر۔ تو دیکھو اب آپ نے نام کا ارادہ نہیں کیا بلکہ معنی کا ارادہ کیا ہے، تو اس صورت میں لفظِ عبداللہ کیا ہو جائے گا؟ مرکب ہو جائے گا، کیونکہ لفظ کے جز بھی ہیں اور جز معنی دار بھی ہیں اور ان معنی کا ارادہ بھی کیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تین قسمیں ہو گئیں مفرد کی بھئی۔ ایک پہلی قسم، جس میں لفظ کا سرے سے جز ہی نہ ہو۔ دوسرا، جس میں لفظ کا جز تو ہے لیکن معنی دار نہیں ہے۔ تیسری صورت، لفظ کا جز بھی ہے، معنی دار بھی ہے، لیکن وہ معنی مقصود نہیں، وہ مراد نہیں بھئی، تو یہ بھی کیا ہوگا؟ مفرد ہو جائے گا بھئی، مفرد ہو جائے گا۔ تو مثلاً اب دیکھو عبداللہ، جیسے ابھی میں نے ذکر کیا، کبھی اس کے اندر معنی مراد ہوگا، کبھی معنی مراد نہیں، جب کسی کا نام رکھ دیں تو معنی مراد نہیں ہے۔ تو معنی مراد نہیں، چنانچہ عربی میں بھی اگر آپ لکھیں، آپ کے ایک ساتھی کا نام عبداللہ ہے، آپ عربی میں کہتے ہیں "جَاءَنِي عَبْدُ اللهِ فَأَكْرَمْتُهُ"، "جَاءَنِي عَبْدُ اللهِ" آیا میرے پاس، کیا ترجمہ کریں گے؟ میرے پاس عبداللہ آیا "فَأَكْرَمْتُهُ" تو میں نے اس کا اکرام کیا۔ بھئی آپ عبداللہ، مضاف مضاف الیہ ہیں، ان کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ آپ یہ ترجمہ کیوں نہیں کرتے میرے پاس اللہ کا بندہ آیا، بس میں نے اس کا کیا کیا؟ اکرام کیا، کیوں نہیں ترجمہ کر رہے؟ کیونکہ وہ مقصود نہیں، مراد ہی نہیں لیا ہم نے اس سے اللہ کے بندے والا معنی ہم نے مراد ہی نہیں لیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دلیل اس کی یہی ہے کہ معنی مراد نہیں ہے کہ اگر یہ عربی عبارت میں آئے، آپ اس کا ترجمہ کریں تو اس کو بعینہٖ عبداللہ کو اردو میں بھی عبداللہ ہی ساتھ لکھتے ہیں، اس سے اللہ کا بندہ اس کا ترجمہ نہیں لکھتے، معلوم ہوا ترجمہ یہاں مراد نہیں ہے بھئی، بلکہ اس کا نام کے اعتبار سے اس کا نام رکھ دیا ہے یہ دونوں لفظوں کو ملا کر، تو یہ اب اس صورت میں اب لفظ کا جز معنی کے جز پر جو ہے اس کی دلالت کا ارادہ نہیں کیا گیا، تو یہ مفرد ہے، مرکب نہیں ہے بھئی۔ مثالیں سمجھ میں آ گئیں؟ اور جب آپ اس سے مراد اللہ کا بندہ لیں گے تو پھر تو ترجمہ بھی کریں گے اس کے مطابق بھئی۔ جیسے آپ نے ابھی میں نے مثال ذکر کی، زید اور بکر میں کیا ہو گئے؟ زید اور عمر میں کیا ہوئی؟ مثلاً کچھ جھگڑا ہوا، آپ ایک کو بھی کہتے ہیں: انت عبد الله، دوسرے کو بھی کہتے ہیں: انت عبد الله، تو دیکھو اب ترجمہ کیسے کریں گے؟ تو بھی عبداللہ ہے، تو بھی عبداللہ ہے، یہ ترجمہ تو نہیں ہوگا، کہ دونوں تو عبداللہ تو نام ہی نہیں ان کا، تو یہاں کیا ترجمہ کریں گے؟ تم بھی اللہ کے بندے ہو اور تم بھی اللہ کے بندے ہو، تو دیکھو معلوم ہوا یہاں معنی کا ارادہ کیا گیا، معنی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تو دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی اب۔ "فَصْلٌ" یعنی هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ "اللوفظ الدال إما مفرد وإما مرکب" وہ لفظ جو دلالت کرنے والا ہو وہ یا تو مفرد ہوگا یا مرکب ہوگا۔ "فالمفرد ما لا يقصد بجزئه الدلالة على جزء معناه" پس مفرد جو ہے، فالمفرد پس مفرد جو ہے "ما"، ما سے مراد لفظ ہے۔ پس مفرد جو ہے وہ لفظ ہے "لا يقصد" کہ ارادہ نہ کیا جائے "بجزئه" اس کے جز سے، ارادہ نہ کیا جائے اس کے جز سے، کس چیز کا ارادہ نہ کیا جائے؟ "الدلالة على جزء معناه" اس، آخر سے ترجمہ، اس کے جز، اس کے معنی کے جز پر دلالت کا، ارادہ نہ کیا جائے کس چیز کا؟ آخر سے ترجمہ، اس کے معنی کے جز پر دلالت، اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ کیا جائے، یعنی لفظ کے جز سے ارادہ نہ کیا جائے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ "کدلالة همزة الاستفهام على معناه" جیسے کہ دلالت ہمزۂ استفہام کی "على معناه" اپنے معنی پر۔ "ودلالة زيد على مسماه" اور جیسے زید کی دلالت اپنے مسمّٰی پر، مسمّٰی میں نے بتایا تھا جس کا نام رکھا گیا اسے کیا کہتے ہیں؟ مسمّٰی، تو زید ہوا اسم اور ذاتِ زید کیا ہوئی؟ مسمّٰی۔ تو زید کی دلالت اپنے مسمّٰی پر، یہ بھی کیا ہے؟ مفرد ہے زید لفظ بھئی۔ "ودلالة عبد الله على المعنى العلمي" اور لفظِ عبداللہ کی دلالت "على المعنى العلمي" کون سے معنی پر؟ علم والے معنی پر اس کی دلالت، علم یعنی نام بھئی، یہ جو نام ہونے کے اعتبار سے دلالت کر رہا ہے، یہاں ایک ایک لفظ کا معنی مقصود نہیں ہے، وہ مراد نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "والمرکب" جی، بھئی مفرد کی کیا تعریف کی؟ ہاں، لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو، اسی سے مرکب کی تعریف بھی سمجھ میں آ گئی، جس میں ارادہ ہو، لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ ہو، وہ مرکب ہے بھئی، یہی بات کر رہے ہیں۔ "والمرکب ما يقصد بجزئه الدلالة على جزء معناه" اور مرکب وہ لفظ ہے، ما سے کیا مراد ہے؟ لفظ، لفظ۔ "والمرکب ما" اور مرکب وہ لفظ مرکب وہ لفظ ہے "يقصد بجزئه" کہ ارادہ کیا جائے اس کے جز سے، کیا ارادہ کیا جائے اس کے جز سے؟ "الدلالة على جزء معناه" اس کے معنی کے جز پر دلالت، اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے اس کے جز سے بھئی۔ "کدلالة" جیسے کہ دلالت "زيد قائم على معناه" اس کو زیدٌ قائمٌ پڑھنا بھئی اور یہ مضاف الیہ ہے دلالت کے لیے اور آپ نے پڑھا ہے مضاف الیہ پر جر آتا ہے، کیا آتا ہے؟ جر آتا ہے، لیکن یہاں پر زیدٌ قائمٌ پورا جملہ ہے بھئی اور جملہ مبنی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ مبنی، تو یہاں اس وقت یہ محلاً مجرور ہے۔ کیا ہے؟ محلاً، لیکن اس کا ایک ایک لفظ جو ہے وہ اسی طرح اپنے حالت پر رہے گا، زیدٌ مرفوع ہے مبتدا ہونے کی وجہ سے اور قائمٌ مرفوع ہے خبر ہونے کی وجہ سے، زیدٌ قائمٌ۔ تو زیدٌ قائمٌ کا کیا معنی؟ زید کھڑا ہے، اب دیکھیے لفظ کیا بولا آپ نے؟ زیدٌ قائمٌ، زید کھڑا ہے، تو لفظ کے جز ہیں، ایک زید اور ایک قائم اور یہ جز معنی دار بھی ہیں، زید کا کیا معنی؟ اس سے مراد وہ ذاتِ زید ہے بھئی، اس کے لیے اس کو ہم نے وضع کیا ہے اور قائمٌ کا کیا معنی؟ کھڑا ہونے، کھڑا اور تو زیدٌ قائمٌ زید کھڑا ہے، تو دیکھو زید سے مراد ذاتِ زید ہو رہی ہے اور قائمٌ اپنا معنی ادا کر رہا ہے کہ وہ کھڑا ہے، تو لفظ کا جز کیا کر رہا ہے؟ معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے، تو یہ مرکب ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں "کدلالة زيد قائم على معناه" جیسے زیدٌ قائمٌ کی دلالت اپنے معنی پر۔ "ودلالة رامي السهم على فحواه" فحویٰ کا معنی بھی معنی کے ہیں بھئی، فحویٰ کا کیا معنی ہے؟ معنی بھئی، معنی، مطلب۔ رامی، رَمَى يَرْمِي رَمْيًا فَهُوَ رَامٍ بھئی، رامی پھینکنے والا، پھینکنے والا، سہَم کہتے ہیں تیر کو، تیر، رامی السہم تیر پھینکنے والا، تیر چلانے والا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اب بھئی رامی السہم، کیا دیکھو رامی السہم، ایک لفظ ہے رامی، ایک ہے السہم، تو یہ لفظ کے جز ہیں بھئی اور یہ جز معنی دار بھی ہیں اور اس معنی کا آپ نے ارادہ بھی کیا ہے، یہ کسی کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا باقاعدہ ایک ایک لفظ کا آپ معنی کر رہے ہیں، رامی السہم کا کیا معنی؟ تیر پھینکنے والا، لیکن یہی رامی السہم اگر کسی کا نام رکھ دیں، کیا کریں؟ نام رکھ دیں، تو پھر یہی مفرد بن جائے گا، اگرچہ لفظ کے جز بھی ہیں، جز معنی دار بھی ہیں اور یہ ان پر دلالت بھی کرتے ہیں، لیکن یہ وہ دلالت یہاں پر مقصود نہیں ہے جب کسی کا نام رکھ دیا۔ تو معلوم ہوا مرکب کے اندر تین شرطیں ہوں گی، اسی مفرد کا عکس۔ مرکب کے اندر تین شرطیں ہوں گی: لفظ کا جز بھی ہوگا، وہ جز معنی دار بھی ہوگا اور اور اس دلالت کا ارادہ بھی ہوگا۔ لہٰذا عبداللہ، عبداللہ اس کے اندر جب یہ کسی کا نام نہ ہو، لفظ کا جز بھی ہے اور ہر ایک جز کیا ہے اس کا؟ معنی بھی ہے اور 2 کہ مفرد کی تین صورتیں بن گئیں اور مرکب کے اندر تین شرطیں بن گئیں۔ مفرد کی تین صورتیں کیا؟ پہلی کہ لفظ کا سرے سے کوئی جز ہی نہ ہو، تو بھی مفرد ہے۔ دوسری صورت: لفظ کا جز تو ہے لیکن وہ معنی دار نہیں۔ جیسے "زید" کا جز "ز" بھی ہے، "یا" بھی ہے، "د" بھی ہے، لیکن ان کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اور تیسری صورت: لفظ کا جز بھی ہے اور وہ معنی دار بھی ہیں، لیکن وہ معنی مراد اور مقصود نہیں ہیں، جیسے "عبد اللہ" جب کیا کریں؟ کسی کا نام رکھ دیں بھئی۔ اور مرکب کے اندر پھر تین شرطیں ہو جائیں گی۔ پہلی شرط کیا؟ کہ لفظ کا جز ہو۔ دوسری شرط: وہ جز، جز، وہ جز معنی دار بھی ہوں، اور تیسری شرط: کہ وہ اپنے معنی پر دلالت بھی کر رہا ہو، مراد بھی ہو، اس کا ارادہ بھی ہو۔ تو اس صورت میں یہ کیا ہو جائے گا؟ یہ مرکب ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے بھئی! جی، جیسے مثالیں ذکر کیں مرکب کی انھوں نے۔ کہا: كَدَلَالَةِ "زَيْدٌ قَائِمٌ" عَلَى مَعْنَاهُ، جیسے "زَيْدٌ قَائِمٌ" کی دلالت اپنے معنی پر، وَدَلَالَةِ "رَامِي السَّهْمِ" عَلَى فَحْوَاهُ، اور جیسے "رَامِي السَّهْمِ" کی دلالت اپنے معنی پر۔ ثُمَّ الْمُفْرَدُ عَلَى أَنْحَاءٍ ثَلَاثَةٍ، پھر مفرد جو ہے وہ تین قسم پر ہے؛ لِأَنَّهُ إِنْ كَانَ مَعْنَاهُ مُسْتَقِلًّا بِالْمَفْهُومِ... بھئی یاد رکھیے، آگے تقسیم کرنے لگے ہیں مفرد کی اور بتلائیں گے آپ کو کہ مفرد تین قسم پر ہے، جیسے "ہدایۃ النحو" میں آپ نے پڑھا کہ کلمہ تین قسم پر ہے: اسم، فعل اور حرف۔ بعینہٖ وہی تقسیم یہاں بھی کریں گے، البتہ نام الگ الگ رکھیں گے۔ اسم کو اسم ہی کہیں گے۔ فعل کو... فعل کو... نحوی تو فعل کہتے ہیں اور مناطقہ اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ کلمہ۔ فعل ہی کا کیا نام رکھا انھوں نے؟ کلمہ رکھا۔ اور آگے تیسرے نام نحو یوں نے حرف بولا، تو مناطقہ اس کو ادات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ادات۔ ادات کے معنی آلے کے ہوتے ہیں، آلے، آلہ۔ تو یہ تیسرا نام آلہ ہے۔ تو مفرد کی تین قسمیں بنائیں گے یہ بھئی: اسم، کلمہ اور ادات۔ جیسے نحویوں نے کیا بنائی تھیں؟ اسم، فعل اور حرف۔ اور کس اعتبار سے وہ تقسیم کرتے ہیں؟ کہ لفظ یا تو اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گا۔ مستقلاً دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گا۔ اگر مستقلاً دلالت نہیں کرتا تو یہ ہے ادات، یعنی وہ حرف ہے۔ اور اگر مستقلاً دلالت کرتا ہے، پھر اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہوگا یا ملا ہوا نہیں ہوگا۔ اگر نہ ملا ہو تو یہ ہے اسم، اور اگر ملا ہو تو یہ ہے کلمہ۔ جیسے نحوی کیا کرتے تھے تقسیم؟ کہ کلمہ کا معنی مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا، اگر مستقل نہیں ہے تو یہ حرف ہے۔ مناطقہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مناطقہ... وہ ادات کہتے ہیں اسی طرح۔ تو کہتے ہیں نحوی کہتے ہیں اگر معنی مستقل نہ ہو تو وہ حرف ہے، اور اگر معنی مستقل ہو، پھر اس کے اندر تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوگا یا نہیں ملا ہوگا، اگر نہ ملا ہو تو یہ ہے اسم، اور اگر ملا ہو تو یہ فعل ہے۔ اور اس فعل کو مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ کلمہ کہتے ہیں، کلمہ بھئی۔ مثلاً دیکھیے! معنی مستقل ہونے اور نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ معنی مستقل یہ ہے کہ اس لفظ ہی سے معنی سمجھ میں آ جاتا ہو، کسی اور چیز کو ساتھ ملانے، کسی اور لفظ کو ساتھ ملانے کی ضرورت نہ ہو، تو یہ ہے معنی... معلوم ہوا یہ اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کر رہا ہے۔ مثلاً جیسے میں لفظ بولتا ہوں: "ابتدا"۔ ابتدا کا معنی سمجھ میں آیا یا نہیں آپ کو؟ کیا معنی ہوتا ہے؟ شروع کرنا، شروع ہونا بھئی، یہ ہے اس کا معنی بھئی۔ تو ابتدا اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کر رہا ہے، کسی چیز کو اور اس کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں، صرف لفظ بولتے ہی اس کا معنی ہمیں سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور بعض اوقات معنی مستقلاً سمجھ میں نہیں آتا۔ مثلاً جیسے "مِنْ"، "مِنْ"، "مِنْ" کا معنی بھی ابتدا ہے، لیکن صرف "مِنْ" کہوں، کیا آپ کو شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آیا؟ شروع کرنے کا، "مِنْ" سے شروع کرنے کا معنی سمجھ میں نہیں آتا۔ ہاں "مِنْ" کے ساتھ میں اور لفظ جب ملاؤں گا، اب آپ کو شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "سِرْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى الْبَيْتِ"۔ "سِرْتُ"، "سَارَ يَسِيْرُ" کے معنی چلنے کے ہیں۔ چلا میں، "سِرْتُ"، میں چلا "مِنَ الْمَسْجِدِ"، مسجد سے، "إِلَى الْبَيْتِ"، گھر تک۔ میں چلا مسجد سے گھر تک۔ پتا چلا آپ کو بھئی، میرے چلنے کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے؟ مسجد سے۔ یہ کس نے بتایا؟ یہ "مِنْ" نے بتایا آپ کو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ "مِنْ" نے بھی ابتدا والا معنی ادا کیا، اور ابتدا لفظِ ابتدا نے بھی... تو "مِنْ" نے بھی شروع کرنے کا معنی بتلایا اور لفظِ ابتدا نے بھی شروع کرنے کا معنی بتلایا۔ لیکن "مِنْ" کے ساتھ کوئی کلمہ ملے گا تو شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آئے گا، اور ابتدا لفظ سے خود بخود شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ "مِنْ" جو ہے، اس کے ساتھ جب تک کوئی اور لفظ نہیں ملائیں گے، اس سے شروع کرنے کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا، معلوم ہوا یہ ادات ہے، یعنی حرف ہے۔ کیا ہے؟ حرف ہے۔ یرحمك الله! بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے یا مشکل ہو گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا بھئی، جو ادات ہے، اس کا معنی مستقل نہیں ہوتا، یعنی صرف اس ادات کو ذکر کرنے سے اس کا معنی سمجھ میں نہیں آتا، بلکہ اس کے ساتھ کیا کرنا پڑے گا؟ کوئی اور لفظ ساتھ ملانا پڑے گا، پھر اس سے معنی سمجھ میں آئے گا۔ جیسے "مِنْ" کا معنی ہے ابتدا، لیکن خود صرف "مِنْ" سے یہ معنی سمجھ میں نہیں آتا، جب تک جہاں سے ابتدا ہو رہی ہے اس کو ساتھ ذکر نہ کریں۔ مسجد کا جب ذکر آیا ساتھ، اس نے بتلایا کہ یہ چلنے کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے؟ مسجد سے ہو رہی ہے۔ تو یہ اور لفظ ساتھ ملا تو اب اس کا معنی ہمیں سمجھ میں آیا بھئی۔ ورنہ کوئی 10 دفعہ بھی آپ سے کہے "مِنْ"، "مِنْ"، "مِنْ"، آپ کو اس کا معنی شروع کرنا سمجھ میں نہیں آئے گا۔ جبکہ "ابتدا" کا لفظ ایک دفعہ ہی کوئی آپ کے سامنے کہے، آپ کو فوراً اس کا معنی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ معلوم ہوا "ابتدا" ہے مستقل، اور "مِنْ" کیا ہے معنی پر دلالت میں؟ غیرِ مستقل بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
108 approved lectures · 23 of 108