Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-022

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 65
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 22 1 فَصْلٌ الدَّلَالَةُ التَّضَمُّنِيَّةُ وَالِالْتِزَامِيَّةُ لَا تُوجَدَانِ بِدُونِ الْمُطَابَقَةِ وَذٰلِكَ لِأَنَّ الْجُزْءَ لَا يَتَصَوَّرُ بِدُونِ الْكُلِّ وَكَذَا اللَّازِمُ بِدُونِ الْمَلْزُومِ وَالتَّابِعُ لَا يُوجَدُ بِدُونِ الْمَتْبُوعِ وَالْمُطَابَقَةُ قَدْ تُوجَدُ بِدُونِهِمَا لِجَوَازِ أَنْ يُوضَعَ اللَّفْظُ لِمَعْنًى بَسِيطٍ لَا جُزْءَ لَهُ وَلَا لَازِمَ لَهُ اچھا بھئی! یہاں سے اب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ جہاں بھی یاد رکھو، جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی یا جہاں بھی دلالت التزامی ہوگی، وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی، وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ جہاں آپ کو جز ایک لفظ سے سمجھ میں آئے، وہاں کل بھی ضرور ہوگا کہ وہ بھی سمجھ میں آئے گا۔ جہاں توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی۔ جہاں آپ کو دلالت تضمنی کسے کہتے تھے؟ ایک لفظ سے اس کا جز سمجھ میں آ جائے، اس کے معنی موضوع لہ کا۔ تو جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی، وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ ایسا نہیں ہو سکتا دلالت تضمنی ہو اور دلالت مطابقی نہ ہو۔ کیوں؟ کیونکہ دلالت تضمنی کہتے ہی کسے ہیں؟ کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے۔ جز کا لفظ ہی بتلاتا ہے کہ اس کا کوئی کل بھی ہے۔ جز وہی ہوگا نا جہاں جس کا کوئی کل ہو۔ جس کا کل ہی نہیں ہے اس کو جز کہیں گے؟ جی؟ جس کا کل ہی نہیں ہے، جہاں کل ہوگا تو یعنی جہاں پر کل اگر مرکب ہے، اس کے جز ہیں، تو پھر ہی وہ جو اس کے ایک ایک حصہ ہے اس کو جز کہیں گے۔ ورنہ تو اس چیز کو جز کہہ ہی نہیں سکتے بھئی اگر اس کا کل نہیں ہے۔ جز کا کیا معنی؟ حصہ۔ سمجھ میں آئی بات؟ حصے کو کہتے ہیں۔ تو جب یہ ایک حصہ ہے، معلوم ہوا اس کا پورا بھی کوئی ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دلالت تضمنی کسے کہتے تھے کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے۔ تو یہ جز کے لفظ سے پتہ چل گیا کہ یہ کل نہیں ہے، اس کا کوئی نہ کوئی اس کا کوئی نہ کوئی کل بھی ہے جس کا یہ جز ہے بھئی۔ اسی کی اسی کل کی وجہ سے تو ہم اس کو جز کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ کل نہ ہوتا تو ہم اسے جز بھی نہ کہتے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب جز پہ لفظ دلالت کر رہا ہے تو یقیناً اس کا کیا ہوگا؟ کل بھی ہوگا۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی، وہاں ہمیشہ کیا ہوگی؟ مطابقی، کیونکہ دلالت تضمنی کسے کہتے ہیں کہ لفظ معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے، اور جب جز ہے تو پتہ لگا اس کا کوئی نہ کوئی کل بھی ہے تو کل پر بھی دلالت ہوگی۔ انسان بولیں، صرف حیوان ذہن میں آتا ہے؟ حیوان جب میں کہہ دوں یہ حیوان پر اس کی دلالت تضمنی ہے، آپ سمجھ گئے حیوان اس کا ایک جز ہے۔ حیوان اس کا ایک جز ہے، تو اس کے لیے کوئی کل بھی ہوگا جبھی تو یہ اس کا جز کہلاتا ہے ورنہ اگر کل نہ ہوتا تو اسے جز بھی نہ کہا جاتا۔ تو جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی، وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی بھئی۔ کیونکہ جز کا تصور بغیر کل کے نہیں ہو سکتا، جز کہتے ہی اسے ہیں جس کا کوئی نہ کوئی کل ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح دلالت التزامی، دلالت التزامی کسے کہتے تھے؟ کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے لازم پر دلالت کرے۔ تو لازم پر جب دلالت ہو رہی ہے تو ضرور معنی موضوع لہ پر بھی تو دلالت ہوگی۔ یہ کس کا لازم ہے؟ انسان جب دلالت کر رہا ہے کس پر؟ قابلیتِ علم پر، یہ قابلیتِ علم نہ اس کا معنی موضوع لہ ہے، نہ اس کا جز ہے، بلکہ کیا ہے اس کا؟ خارجِ لازم ہے۔ اس سے الگ معنی ہے اور لیکن اس انسان کے ساتھ یہ لازم ہے، لازم بھئی۔ تو لازم، کس کے ساتھ لازم ہے؟ انسان یعنی معنی حیوانِ ناطق یعنی معنی موضوع لہ۔ تو معنی موضوع لہ کا لازم، ادھر توجہ کرو، یہ ہے معنی موضوع لہ بھئی۔ یہ ہے اس کا لازم۔ یہ معنی موضوع لہ ہے، یہ حیوانِ ناطق ہے، اور یہ التزامی ہے، یہ کیا ہے لازم کیا ہے؟ قابلیتِ علم ہے۔ جب انسان کا لفظ میں نے بولا، آپ کے ذہن میں قابلیتِ علم آئی بھئی۔ یہ کس کا لازم ہے قابلیتِ علم؟ انسان یعنی حیوان کس کا حیوانِ معنی موضوع لہ کا لازم ہے نا، معنی موضوع لہ ذکر کرو۔ یہ قابلیتِ علم کس کا لازم ہے؟ حیوانِ ناطق کا لازم ہے۔ حیوانِ ناطق کا لازم ہے۔ تو جب یہ لازم ہے، تو کوئی ملزوم یہ جو حیوانِ ناطق اس کا ہوا ملزوم جس کے ساتھ یہ لازم ہے، جس کے ساتھ یہ ضروری ہے، اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ تو یہ لازم ہوتا ہے اور دوسرے معنی موضوع لہ کو کیا کہتے ہیں پھر؟ ملزوم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ملزوم۔ تو لازم کہتے ہی اس کو ہیں جس کے لیے کوئی ملزوم ہو۔ یہ لفظ ہی بتلا رہا ہے لفظِ لازم، لازم کا کیا معنی؟ جو کسی دوسرے کے ساتھ ہے۔ اردو میں دیکھ لیں معنی کے اندر غور، لازم، وہ زید عمر کے ساتھ لازم ہے۔ معلوم ہوا زید ہے لازم، تو عمر ہے ملزوم۔ تو لازم اس کو کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی نہ کوئی ملزوم بھی ہو، ورنہ لازم کہیں گے؟ میں کہتا ہوں زید لازم ہے، آپ کہیں گے کس چیز کا لازم ہے؟ جب تک کوئی ملزوم نہیں اسے لازم کا لفظ اس پر نہیں کہا جا سکتا۔ تو یہاں کہہ رہے ہیں دلالت التزامی لازم پر دلالت کرتی ہے، بھئی کس چیز کے لازم پر؟ معنی موضوع لہ، اور وہ معنی موضوع لہ کیا تھا؟ دلالت مطابقی ہی تو تھی اس پر جو دلالت تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خلاصۂ کلام یہ: جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی وہاں پر دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ جہاں بھی دلالت التزامی ہوگی وہاں پر دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ دلالت تضمنی تو ہو اور دلالت مطابقی نہ ہو، کیونکہ جز بغیر کل کے نہیں ہو سکتا۔ اور جہاں بھی دلالت التزامی ہو ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہاں دلالت مطابقی نہ ہو، کیونکہ لازم بغیر ملزوم کے نہیں ہو سکتا، تو وہی جو معنی موضوع لہ ہے وہ کیا ہے؟ ملزوم بھئی، تو اس کے بغیر لازم نہیں ہو سکتا۔ لازم کا لفظ ہی بتلا رہے ہیں لازم یہ اس کے ساتھ لازم ہے، ضروری ہے، کس کے ساتھ ضروری ہے؟ معنی موضوع لہ کے ساتھ، تو وہ ملزوم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نیز یہ تو یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو دلالت مطابقی اور دلالت التزامی یہ تابع ہیں، اور دلالت مطابقی متبوع ہے۔ متبوع جس کے تابع ہوا جائے۔ تو دلالت مطابقی کیا ہوئی؟ متبوع، اور دلالت تضمنی کیا ہوئی؟ تابع۔ اسی طرح دلالت التزامی بھی کیا ہوئی؟ تابع بھئی۔ اور تابع کا معنی کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز دوسری کے پیچھے ہے یعنی کہ اس کے تابع ہے۔ اس کے، تو جس کے پیچھے ہے کسی کے پیچھے ہے تو تابع کہیں گے نا اس کو ورنہ تابع کہہ سکتے ہیں؟ تابع تو معلوم ہوا اس کے لیے تابع ہے ہی وہ جس کے لیے متبوع ہو۔ متبوع نہیں تو اس کو تابع کس اعتبار سے آپ کہہ رہے ہیں؟ تو چونکہ یہ دلالت التزامی اور تضمنی کیا ہیں؟ تابع ہیں اور وہ معنی موضوع لہ کیا ہے؟ متبوع ہے۔ تو وہ اس کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ بس خلاصہ یہ: جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی وہاں یقیناً یقیناً کیا ہوگی؟ دلالت مطابقی بھی ہوگی۔ اسی طرح جہاں بھی دلالت التزامی ہوگی وہاں یقیناً یقیناً دلالت مطابقی بھی ہوگی بھئی۔ یعنی تضمنی بغیر مطابقی کے نہیں ہو سکتی، التزامی بغیر مطابقی کے نہیں ہو سکتی بھئی۔ ہاں، دلالت مطابقی ہو سکتی ہے ان کے بغیر بھئی۔ دلالت مطابقی ہو اور تضمنی نہ ہو۔ دلالت مطابقی ہو اور دلالت تضمنی نہ ہو۔ مثلاً لفظ کو ایک ایسے معنی کے لیے وضع کیا یا ایسی ذات کے لیے جو بسيط ہے۔ بسیط کسے کہتے تھے؟ جس کا کوئی جز نہ ہو۔ تو جب جز ہے ہی نہیں تو جز پہ دلالت کہاں سے ہو بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ حیوانِ ناطق کے تو جز تھے دو، ایک حیوان ایک ناطق۔ ایسا معنی جس کا جز ہی کوئی نہ ہو، تو جز ہی نہیں تو جز پہ دلالت بھی نہیں ہے، جب جز پہ دلالت نہیں ہے تو معلوم ہوا دلالت تضمنی نہیں ہے۔ تو مطابقی ہو اور تضمنی نہ ہو۔ جیسے لفظِ اللہ کی دلالت ذاتِ باری تعالی پر بھئی۔ سمجھ میں آیا لفظِ اللہ کی دلالت خالقِ ارض و سما پر بھئی۔ لفظِ اللہ بھئی۔ یاد رکھیے یہ اللہ، یہ نام ہے ذاتِ باری تعالی کا بھئی۔ جس طرح زید ایک انسان کا نام ہے، عمر ایک انسان کا نام ہے، بکر ایک انسان کا نام ہے، اس لیے اسی طرح ذاتِ باری تعالی کا نام کیا ہے، علم کیا ہے؟ اللہ ہے بھئی، اللہ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور جس طرح وہ ذات بڑی عظیم ہے، اسی طرح اس ذات کا یہ نام بھی بڑا عظیم ہے اور بڑی ہی خصوصیات رکھتا ہے بھئی، بڑی خصوصیات رکھتا ہے اپنے اندر۔ چنانچہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ انہوں نے اس لفظِ اللہ کے خصوصیات پر کتاب لکھی، تقریباً بارہ تیرہ سو صفحات کے اندر عربی زبان میں، فتح اللہ نام کی کتاب، اور اس میں اس لفظِ اللہ کے ساڑھے آٹھ سو یا اس سے بھی زائد خصوصیات ذکر کیں صرف اس لفظِ اللہ کی بھئی۔ ساڑھے آٹھ سو خصوصیات جمع کیں اس کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور آج تک کہتے ہیں یہ نام ایسا نام ہے کسی انسان نے نہیں رکھا کسی دوسرے کا بھئی۔ لوگ ہر طرح کے نام رکھتے ہیں مگر یہ نام آج تک کسی نے نہیں رکھا۔ تاریخ میں کہتے ہیں صرف ایک عورت کا ذکر ملتا ہے جس نے اپنے بچ پیدا ہونے والے بچے کا نام اللہ رکھا تھا۔ لیکن اس نے نام اللہ نام بیٹے کا رکھا، تو فوراً ہی آسمان سے، آسمان سے بجلی اور شعلہ لپکا اور اس کے بیٹے کو جلا کر ختم کر دیا بھئی۔ تو یہ نام خاص ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب اللہ کی ذات یاد رکھو بسیط ہے بھئی، بسیط ہے۔ اللہ کے اجزا نہیں، کیونکہ اگر جز ہوگا تو وہ چیز مرکب ہوگی۔ جز ہوگا تو وہ چیز کیا ہوگی؟ مرکب ہوگی۔ بھئی جز ہے تو اور بھی جز ہوں گے تو وہ مرکب ہو جائے گی، اور جو چیز مرکب ہو وہ حادث ہوا کرتی ہے، قدیم نہیں۔ اور اللہ کی ذات قدیم ہے۔ قدیم کا کیا معنی میں نے بتلایا تھا؟ جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، جو مسبوق بالعدم نہ ہو، جو ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے۔ تو لہٰذا دیکھو، جب اللہ کی ذات کا جز ہی کوئی نہیں تو یہاں لفظِ اللہ نے ذاتِ باری تعالی پر تو دلالت کی، لیکن جز ہے ہی نہیں تو دلالت تضمنی ہے ہی نہیں سرے سے، صرف کون سی دلالت ہے؟ دلالت مطابقی ہے بھئی مطابقی۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کوئی ایسا لفظ ہو جس کا جہاں مطابقی تو ہو اس کا لازمی کوئی نہ ہو۔ بھئی جہاں بھی التزامی دلالت التزامی ہوگی وہاں تو دلالت مطابقی کا ہونا ضروری، لیکن جہاں بھی دلالت مطابقی ہو وہاں التزامی کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ التزامی تو تب ہوگی جب اس لفظ کا کوئی لازم ہے اور یہ اس پر کیا کرے؟ دلالت کرے۔ اگر اس کا کوئی لازم ہی نہ ہو، تو پھر دلالت مطابقی تو ہے لیکن دلالت التزامی نہیں ہے بھئی۔ تو خلاصۂ کلام یہ: جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی وہاں ضرور ضرور دلالت مطابقی بھی ہوگی۔ اسی طرح جہاں بھی دلالت التزامی ہوگی وہاں ضرور کیا ہوگی؟ دلالت مطابقی ہوگی۔ لیکن جہاں بھی دلالت مطابقی ہو وہاں دلالت تضمنی یا التزامی کا ہونا ضروری نہیں ہے، ہو سکتا ہے ہوں، ہو سکتا ہے نہ ہوں بھئی۔ اگر چیز کا جز ہی نہیں ہے تو مطابقی تو ہوگی لیکن تضمنی نہیں ہوگی۔ اگر چیز کا لازم ہی نہیں ہے کوئی تو پھر بھی مطابقی تو ہوگی لیکن التزامی نہیں ہوگی بھئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ فَصْلٌ الدَّلَالَةُ التَّضَمُّنِيَّةُ وَالِالْتِزَامِيَّةُ لَا تُوجَدَانِ بِدُونِ الْمُطَابَقَةِ دلالت تضمنی اور دلالت التزامی لَا تُوجَدَانِ یہ دونوں نہیں پائی جاتیں، تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو لَا تُوجَدَانِ، یہ دونوں نہیں پائی جاتیں بِدُونِ الْمُطَابَقَةِ بغیر دلالت مطابقی کے۔ وَذٰلِك اور یہ اس وجہ سے لِأَنَّ الْجُزْءَ لَا يَتَصَوَّرُ بِدُونِ الْكُلِّ اس لیے کہ کیونکہ جز کا تصور نہیں کیا جا سکتا بغیر کل کے۔ جز کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی نہ کوئی کل ہو۔ وَكَذَا اللَّازِمُ بِدُونِ الْمَلْزُومِ اور اسی طرح لازم ہے بغیر ملزوم کے۔ یعنی لازم بغیر ملزوم کے نہیں ہو سکتا، لازم کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی نہ کوئی ملزوم ہو۔ وَالتَّابِعُ لَا يُوجَدُ بِدُونِ الْمَتْبُوعِ اور تابع نہیں پایا جاتا بغیر کسی متبوع کے بھئی، متبوع کے۔ تابع کہتے ہی اسے ہیں جس کا کوئی نہ کوئی متبوع ہو بھئی۔ تو یہ جب تابع ہیں تو ان کے لیے متبوع بھی چاہیے۔ وَالْمُطَابَقَةُ قَدْ تُوجَدُ بِدُونِهِمَا اور دلالت مطابقی تحقیق قد کا معنی تحقیق، تحقیق تُوجَدُ وہ پائی جاتی ہے بِدُونِهِمَا ان دونوں کے علاوہ، ان دونوں کے بغیر لِجَوَازِ أَنْ يُوضَعَ اللَّفْظُ بوجہ جائز ہونے اس بات کے کہ وضع کیا جائے لفظ کو لِجَوَازِ أَنْ يُوضَعَ اللَّفْظُ بوجہ جائز ہونے اس بات کے کہ وضع کیا جائے لفظ کو لِمَعْنًى بَسِيطٍ ایسے معنی بسیط کے لیے لَا جُزْءَ لَهُ کہ جس کا کوئی جز ہی نہ ہو وَلَا لَازِمَ لَهُ اور نہ اس کا کوئی لازم ہو۔ فَإِنْ قُلْتَ لَا نُسَلِّمُ أَنْ يُوجَدَ مَعْنًى لَا لَازِمَ لَهُ فَإِنَّ لِكُلِّ مَعْنًى لَازِمًا الْبَتَّةَ وَأَقَلُّهُ أَنَّهُ لَيْسَ غَيْرَهُ یہ ایک اعتراض کر رہے ہیں اور آگے اس کا جواب دیں گے۔ یاد رکھیے کتابوں میں فَإِنْ قُلْتَ کا لفظ آئے، تو اس کے ذریعے کوئی سوال، کوئی اعتراض ذکر کیا جاتا ہے۔ اور آگے قُلْنَا آ رہا ہے۔ قُلْنَا ہم کہتے ہیں یا قُلْتُ بعض جگہ کہہ دیتے ہیں مصنفین، تو قُلْنَا اور قُلْتُ کے ذریعے اس کا جواب ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں دراصل ایک اشکال یہ کر رہے ہیں جو مبنی ہے امام رازی رحمہ اللہ کے مذہب پر۔ امام رازی۔ امام رازی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ مطابقی ہو اور تضمنی نہ ہو۔ یہ بات تو ہمیں تسلیم ہے کہ دلالت مطابقی کہیں پائی جائے اور ہو سکتا ہے وہاں پر دلالت تضمنی نہ پائی جائے کیونکہ اس چیز کا کوئی جز ہی نہیں ہے تو جز پر دلالت بھی نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ہو سکتا ہے ایک جگہ کیا پائی جائے؟ مطابقی تو ہو لیکن تضمنی نہ ہو۔ لیکن آپ نے کہا کہ مطابقی ہو اور لازم نہ ہو، یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے۔ جہاں دلالت مطابقی ہوگی وہاں دلالت التزامی بھی ضرور ہوگی۔ ہمارے دو دعوے تھے نا کہ مطابقی بغیر تضمنی کے بھی ہو سکتی ہے، پہلا دعویٰ۔ دوسرا، مطابقی بغیر التزامی کے بھی ہو سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی لازم ہو ہی نہ، جب لازم ہی نہیں ہے تو دلالت اس پہ کہاں سے ہو۔ 2 تو وہ کہتے ہیں، ہمیں یہ بات تو تسلیم کہ مطابقی بغیر تضمنی کے ہو سکتی ہے، کیونکہ جز ہی کوئی نہیں تو جز پر دلالت کہاں سے؟ لیکن یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ مطابقی بغیر التزامی کے پائی جائے، کیونکہ جو بھی لفظ ہوگا اس کا کوئی نہ جو بھی معنی ہوگا اس کا کوئی نہ کوئی لازم ضرور ہوگا۔ تو جب اس پورے پر دلالت ہوگی، ساتھ اس لازم پر کیا ہو جائے گی؟ دلالت ہو جائے گی۔ تو جی دلالت ہو جائے گی۔ اور کچھ بھی نہ لازم ہوا اس کا، تو یہ تو اس چیز کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے۔ یہ تو ہر چیز کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں۔ مثلاً میں نے کہا زید، تو زید لفظِ زید نے ذاتِ زید پر دلالت کی، غیرِ زید پر دلالت نہیں کی بھئی۔ اور زید کے ساتھ لازم ہے۔ کیا لازم ہے؟ کہ وہ غیرِ زید نہیں ہے، اپنے علاوہ کوئی اور چیز وہ نہیں ہے، وہ اپنی ہی ذات ہے، اپنے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔ زید ہے، بکر نہیں ہے۔ بکر بھی تو غیرِ زید ہے نہ؟ دلالت کس پر ہو رہی ہے؟ زید پر۔ تو اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ کہ وہ غیرِ زید نہیں ہے۔ تو جب غیرِ زید میں تو دنیا کی ساری چیزیں آ گئیں زید کے علاوہ۔ کتاب بھی غیرِ زید ہے، زید کے علاوہ ہے۔ بکر بھی کیا ہے؟ زید کے توجہ ہے سبق کی طرف؟ بکر بھی کیا ہے؟ زید ہے یا غیرِ زید ہے؟ زید کے علاوہ ہے، غیرِ زید ہے۔ کتاب بھی کیا ہے؟ غیرِ زید ہے۔ قلم بھی کیا ہے؟ غیرِ زید ہے۔ گاڑی بھی کیا ہے؟ غیرِ زید ہے۔ پہاڑ بھی کیا ہے؟ غیرِ زید ہے۔ جنگل بھی کیا ہے؟ غیرِ... تو دنیا کی ہر چیز غیرِ زید کے اندر آ گئی زید کے علاوہ۔ تو ہر جب بھی کسی لفظ پہ کہتے ہیں دلالت ہوگی، تو اس کے ساتھ یہ بھی دلالت ہو جائے گی، کم از اور کوئی لازم نہ ہوا اس کا، یہ تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے، اپنے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ تو یعنی یہ زید ہے، یعنی غیرِ زید نہیں، اور نہ قلم ہے، نہ کتاب ہے، نہ بکر ہے، نہ عمرو ہے، کوئی بھی چیز نہیں، صرف یہ کیا ہے؟ زید۔ تو اپنے غیر، اپنا غیر نہ ہونا، یہ تو ہر ایک کے ساتھ لازم ہے۔ یہ کتاب ہے مثلاً، تو کتاب سے یہ کتاب ہی سمجھ میں آئے گی، لیکن اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ کہ یہ اپنا غیر نہیں ہے، یعنی یہ غیرِ کتاب نہیں۔ غیرِ کتاب میں کتاب کے علاوہ سب چیزیں آ گئیں۔ زید بھی کیا ہے؟ غیرِ کتاب ہے۔ بکر بھی کیا ہے؟ غیرِ کتاب ہے۔ قلم بھی کیا ہے؟ غیرِ... تو اس کتاب نے کس پر دلالت کی؟ اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ کہ یہ اپنے غیر، اپنی غیر نہیں، اپنے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ تو ہر چیز میں، جس معنی پر بھی دلالت کریں، اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں آ جاتی ہے کہ یہ اپنے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ اپنے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ تو ہر معنی کے ساتھ یہ لازم ہے کہ یہ اپنے علاوہ نہیں ہے۔ گلاس کہا تو گلاس ہی سمجھ میں آیا، گلاس کے غیر کوئی سمجھ میں نہیں۔ یہ یعنی گلاس کے ساتھ لازم ہے کہ یہ اپنا غیر نہیں ہے، یعنی گلاس کے غیر، گلاس کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ امامِ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ دلالتِ مطابقی بغیر التزامی کے پائی جائے، کیونکہ جو بھی معنی ہوگا جس پر وہ لفظ دلالت کر رہا ہے مطابقی کے اعتبار سے، ہر معنی کا کوئی نہ کوئی لازم ضرور ہوگا۔ اور جب لازم ضرور ہوگا تو جب اس پہ دلالت ہوگی تو وہ کیا کہلائے گی؟ التزامی کہلائے گی۔ تو مطابقی کے ساتھ ہمیشہ کیا ہوگی؟ دلالتِ التزامی ہوگی۔ اگر کوئی ایسا لفظ ہوا جس کا کوئی بھی لازم نہیں ہے، تو کم از کم ایک لازم تو ہر ایک کے ساتھ آئے گا، وہ کیا کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے، وہ اپنی ہی ذات ہے، اپنا غیر نہیں ہے۔ تو وہ جواب دیں گے بھئی کہ نہیں بھئی! اپنا غیر نہ ہونا، اپنا غیر نہ ہونا، یہ ہمارے ذہن میں نہیں آتا اور دلالتِ التزامی میں ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ ملزوم سے ذہن کس کی طرف چلا جائے؟ لازم کی طرف۔ حیوانِ ناطق انسان بولا تو حیوانِ ناطق کے ساتھ ساتھ قابلیتِ علم بھی آ گئی۔ حیوانِ ناطق کے ساتھ لازم ہے قابلیتِ علم۔ حیوانِ ناطق سے خود بخود ذہن کس کی طرف چلا گیا؟ قابلیتِ علم۔ حیوانِ ناطق سے ذہن خود بخود قابلیتِ علم کی طرف چلا گیا، اسے کہتے ہیں دلالتِ التزامی۔ اور غیر کی طرف جب کوئی، غیر کی طرف ہمارا ذہن جاتا ہی نہیں، چہ جائیکہ کے اس کے اپنے غیر نہ ہونے کی طرف ہمارا ذہن چلا جائے کہ یہ اپنا غیر نہیں ہے بھئی۔ بھئی دلالتِ التزامی کسے کہتے تھے؟ موضوع لہ کے لازم اور ذہن اس کی طرف خود منتقل ہو۔ اگر لازم ہے ذہن منتقل نہیں ہوتا تو بھی التزامی تو نہ پائی گئی، ذہن میں تو نہ آئی نہ؟ دلالت تو کہتے کسے تھے؟ ایک چیز سے دوسری چیز سمجھ میں آئے، ذہن میں آئے۔ جب ذہن ہی نہیں گیا اس چیز کی طرف تو دلالتِ التزامی تو نہ پائی گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں بھئی اور کچھ بھی نہ ہو، ہر لفظ کے ساتھ اپنے معنی پر ہی دلالت کرتا ہے اور اس کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں، اپنے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے، یہی چیز ہے، کوئی اور چیز یہ نہیں ہے۔ تو یہ تو ہر ایک کے ساتھ لازم ہے۔ کہتے ہیں بھئی اس طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ یہ بے شک ہر ایک کے ساتھ لازم ہے، لیکن ہم نے کیا کہا تھا کہ دلالت کہتے کس کو ہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز سمجھ میں آئے۔ یہاں ہمارا اس طرف ذہن ہی نہیں جا رہا، وہ ہمیں ذہن ہمارے ذہن میں ہی نہیں آتی یہ بات۔ ذہن میں آئے گی تو دلالت ہوگی، جب ذہن میں نہیں آئی تو دلالت بھی کہاں سے ہوئی بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر: فَإِنْ قُلْتَ اگر آپ یہ کہیں، یعنی اگر آپ یہ اعتراض کریں: لَا نُسَلِّمُ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے أَنْ يُّوْجَدَ مَعْنًى لَّا لَازِمَ لَهٗ کہ پایا جائے کوئی ایسا معنی جس کا کوئی لازم ہی نہ ہو۔ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ کوئی ایسا معنی پایا جائے جس کا کوئی لازم نہ ہو۔ فَإِنَّ لِكُلِّ مَعْنًى لَّازِمًا اَلْبَتَّةَ اس لیے کیونکہ ہر معنی کے لیے کوئی نہ کوئی لازم ہے البتہ یقینی طور پر، قطعی طور پر۔ ہر معنی کے لیے کوئی نہ کوئی لازم ہے۔ وَأَقَلُّهٗ أَنَّهٗ لَيْسَ غَيْرَهٗ اور کم سے کم جو ہے اس کا کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے، یہ تو ہر ایک کے ساتھ لازم ہے۔ زید زید ہی ہے، غیرِ زید نہیں۔ کتاب کتاب ہی ہے، غیرِ کتاب نہیں۔ تو اپنا غیر نہ ہونا یہ تو کم از کم ہر ایک کے ساتھ لازم، اور کوئی بھی نہ لازم ہو یہ تو لازم ہے۔ تو کہہ رہے ہیں: فَإِنْ قُلْتَ لَا نُسَلِّمُ کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے أَنْ يُّوْجَدَ مَعْنًى لَّا لَازِمَ لَهٗ کہ کوئی ایسا معنی پایا جائے جس کا کوئی لازم ہی نہ ہو فَإِنَّ لِكُلِّ مَعْنًى لَّازِمًا اَلْبَتَّةَ اس لیے کیونکہ ہر معنی کا کوئی نہ کوئی لازم ہے یقینی طور پر وَأَقَلُّهٗ أَنَّهٗ لَيْسَ غَيْرَهٗ اور کم سے کم یہ تو ہر ایک کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے۔ زید زید ہی ہے، غیرِ زید نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو غیرِ زید میں پھر دنیا کی ہر چیز آ گئی جو زید کے علاوہ ہے۔ انسان بھی آ گئے، جانور بھی آ گئے، کتابیں بھی آ گئیں، قلم بھی آ گئے، دیواریں بھی آ گئیں، کمرے بھی آ گئے، وہ سب زید سے غیر ہیں۔ تو جواب دے رہے ہیں: قُلْنَا اَلْمُرَادُ بِاللَّازِمِ هُوَ اللَّازِمُ الْبَيِّنُ الَّذِيْ يَنْتَقِلُ الذِّهْنُ مِنَ الْمَلْزُوْمِ إِلَيْهِ۔ قُلْنَا اَلْمُرَادُ بِاللَّازِمِ هُوَ اللَّازِمُ الْبَيِّنُ الَّذِيْ يَنْتَقِلُ الذِّهْنُ مِنَ الْمَلْزُوْمِ إِلَيْهِ۔ جواب دے رہے ہیں بھئی! بھئی پہلے سمجھ لیں۔ ایک تو ہے لازم جو پہلے بھی بیان ہو چکا۔ لازم وہ جو دوسری چیز کے ساتھ ہو ہو لازم ہو، یعنی اس سے جدا نہ ہو سکے۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے لازم ہو بھئی۔ یعنی اس دوسری چیز سے کسی کے ساتھ ہو اور اس سے جدا نہ ہو سکے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ لازم کہا جاتا ہے بھئی۔ جیسے سورج کے ساتھ روشنی بھئی، اور انسان کے لیے قابلیتِ علم۔ سورج سے روشنی جدا نہیں ہو سکتی۔ جیسے آگ سے حرارت جدا نہیں ہو سکتی۔ جب بھی آگ ہوگی اس کے ساتھ کیا ضروری ہے؟ حرارت ضروری ہے۔ جب بھی سورج ہوگا اس کے ساتھ روشنی ضروری ہے۔ جب بھی کوئی انسان ہوگا اس میں قابلیتِ علم، علم کی صلاحیت ضرور ہوگی۔ تو اس کو کہتے ہیں لازم، جو وہ شے جو دوسرے سے جدا نہ ہو سکے، اس کے ساتھ ہو ہر حال میں، اسے لازم کہا جاتا ہے۔ پھر یہ لازم دو قسم پر ہے: ایک لازمِ بین اور ایک لازمِ غیرِ بین بھئی۔ ایک لازمِ بین اور ایک لازمِ غیرِ بین۔ لازمِ بین کہتے ہیں کہ ملزوم سے، ملزوم بھئی جس چیز کے ساتھ وہ شے لازم ہو اسے ملزوم کہتے ہیں۔ مثلاً روشنی سورج کے ساتھ لازم ہے، اور تو سورج ہوا ملزوم اور روشنی ہوئی لازم۔ آگ کے ساتھ حرارت لازم ہے، تو حرارت ہوئی لازم اور آگ ہوئی ملزوم۔ انسان کے ساتھ قابلیتِ علم لازم ہے، تو قابلیتِ علم ہے لازم اور انسان ہے ملزوم بھئی۔ پتہ چل گیا بھئی لازم اور ملزوم کا؟ تو وہ کہتے ہیں کہ لازم پھر دو قسم پر ہے: ایک لازمِ بین اور ایک لازمِ غیرِ بین۔ لازمِ بین وہ ہے کہ ملزوم سے کہ ملزوم کے سے ذہن جو ہے، لازم کی طرف خود بخود منتقل ہو جاتا ہو۔ ملزوم سے ذہن کس کی طرف؟ لازم کی طرف خود بخود منتقل ہو جاتا ہو۔ جیسے سورج بولتے ہی ہمارے ذہن میں روشنی کا تصور آ جاتا ہے۔ تو دیکھو ذہن خود بخود منتقل ہو گیا۔ روشنی کا لفظ میں نے کہا نہیں، صرف کیا کہا مثلاً؟ سورج۔ فوراً سورج کے ساتھ وہ چمکدار جسم بھی آپ کے ذہن میں آیا اور ساتھ ساتھ روشنی بھی آ گئی، تو یہ روشنی کا تو میں نے نام نہیں لیا، خود اس کے ساتھ آ گئی، کیونکہ یہ اس کے ساتھ لازم ہے اور ذہن خود بخود اس کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ لازمِ بین۔ لازمِ بین کہ ملزوم کے سے ذہن خود بخود کس کی طرف منتقل ہو جائے؟ لازم کی طرف بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور لازمِ غیرِ بین، اسی سے لازمِ بین کی تعریف سے لازمِ غیرِ بین بھی خود بخود سمجھ میں آ گیا۔ جس میں ملزوم سے لازم کی طرف ذہن منتقل نہ ہو۔ ہے وہ بھی لازم، اس چیز سے جدا نہیں ہو سکتا، کیونکہ لازم کی قسمیں پڑھ رہے ہیں نہ؟ اور لازم کسے کہتے ہیں؟ جو دوسری چیز سے جدا نہ ہو، ہمیشہ اس کے ساتھ ہو۔ تو یہ پھر ایک بین ہوا کہ ملزوم کے تصور سے ذہن کس کی طرف منتقل ہو جائے؟ لازم کی طرف، اور لازمِ غیرِ بین اس کا عکس ہے کہ جہاں ملزوم سے لازم کی طرف ذہن خود بخود منتقل نہ ہو بھئی۔ ذہن یعنی ملزوم بولنے سے لازم ذہن میں خود بخود نہ آئے بھئی۔ جیسے جفت اور طاق ہونا بھئی۔ بھئی جفت اور طاق جانتے ہیں یا نہیں؟ ایک کیا ہے؟ طاق ہے۔ اور دو کیا ہے؟ جفت ہے۔ تین کیا ہے؟ طاق ہے۔ چار کیا ہے؟ جفت ہے۔ تو دیکھئے اب کوئی عدد دیکھ لیں، مثلاً 100 کا عدد ہے۔ میں جیسے ہی کہتا ہوں 100، آپ کے ذہن میں 100 کا عدد آ گیا۔ لیکن اس کے ساتھ جفت ہونے کا تصور نہیں آتا، حالانکہ جفت ہونا 100 کے ساتھ لازم ہے۔ 100 کا عدد ہو اور جفت نہ ہو، ایسا کبھی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ 90 کا عدد ہو اور جفت نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے؟ 91 کا عدد ہے، اس کے ساتھ طاق ہونا لازم ہے۔ تو 91 کا عدد ہو اور طاق نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں، یہ ان کے ساتھ لازم ہے۔ تو کوئی بھی عدد بطورِ مثال کے آپ فرض کر لیں، اس عدد کے ساتھ ہی طاق یا جفت ہونا لازم ہوگا، لیکن یہ فوراً ذہن میں نہیں آئے گا۔ کیا جب بھی کوئی شخص 100 کہے، فوراً آپ کے ذہن میں آ جاتا ہے جفت ہونا؟ جی؟ آپ کو پتہ تو ہے، کوئی جفت ہونے کی بات کرے گا تو آپ بتا تو دیں گے، یہ جفت ہے یا طاق ہے، لیکن وہ عدد بولتے ہی جفت یا طاق ہونا اس کے ساتھ ذہن میں نہیں آتا بھئی۔ تو یہ مثال ہے لازمِ غیرِ بین کی کہ ملزوم سے ذہن لازم کی طرف خود بخود نہ منتقل ہو بھئی۔ 100 میں نے کہا تو آپ کے ذہن میں 100 ہی آیا، جفت ہونا نہیں آیا بھئی۔ تو دیکھو نہیں آیا تو معلوم ہوا اس پر دلالت نہیں ہوئی بھئی۔ اس پر دلالت نہیں ہوئی تو یہ ہے لازمِ غیرِ بین بھئی، کہ جس میں ملزوم سے ذہن لازم کی طرف خود بخود منتقل نہیں ہوتا۔ یہ ایسا اس میں نہیں ہوتا کہ جب بھی ملزوم کا تصور آئے لازم کا بھی تصور آ جائے۔ تو لازمِ بین جس میں ملزوم سے ذہن کس کی طرف منتقل ہوتا ہے؟ لازم کی طرف۔ اور لازمِ غیرِ بین جس میں ملزوم سے ذہن لازم کی طرف منتقل نہیں ہوتا بھئی، منتقل نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں بھئی: قُلْنَا ہم کہتے ہیں اَلْمُرَادُ بِاللَّازِمِ هُوَ اللَّازِمُ الْبَيِّنُ الَّذِيْ يَنْتَقِلُ الذِّهْنُ مِنَ الْمَلْزُوْمِ إِلَيْهِ۔ قُلْنَا ہم جواب میں کہتے ہیں اَلْمُرَادُ بِاللَّازِمِ کہ لازم سے مراد جو ہے هُوَ اللَّازِمُ الْبَيِّنُ وہ کیا ہے؟ لازمِ بین ہے، یعنی لازمِ غیرِ بین نہیں ہے۔ تو مراد لازم سے وہ لازم وہ لازمِ بین ہے الَّذِيْ یہ صفت ہے لازم کی، پہلی صفت الْبَيِّنُ ہے اور دوسری صفت الَّذِيْ ہے۔ تو کہتے ہیں ہماری مراد لازم سے وہ لازمِ بین ہے الَّذِيْ يَنْتَقِلُ الذِّهْنُ کہ وہ کہ جس میں منتقل ہوتا ہو ذہن مِنَ الْمَلْزُوْمِ ملزوم سے إِلَيْهِ اس لازم کی طرف بھئی، اس لازم کی طرف۔ تو کہتے ہیں لازمِ بین وہ لازم ہے کہ منتقل ہوتا ہو ذہن ملزوم سے اس کی طرف۔ وَقَوْلُكَ لَيْسَ غَيْرَهٗ لَيْسَ مِنَ اللَّوَازِمِ الْبَيِّنَةِ اور آپ کا قول لَيْسَ غَيْرَهٗ یہ لوازمِ بینہ میں سے نہیں ہے۔ لِأَنَّا كَثِيْرًا مَّا نَتَصَوَّرُ الْمَعَانِيَ اس لیے کیونکہ بسا اوقات ہم معانی کا تصور کرتے ہیں وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِنَا مَعْنَى الْغَيْرِ فَضْلًا عَنْ كَوْنِهٖ لَيْسَ غَيْرَهٗ اور ہمارے دل میں نہیں آتا، بال کہتے ہیں دل کو۔ بِبَالِنَا ہمارے دل میں، اور خَطَرَ يَخْطُرُ کے معنی ہوتے ہیں دل میں آنا کسی بات کا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّا كَثِيْرًا مَّا نَتَصَوَّرُ الْمَعَانِيَ اس لیے کیونکہ بسا اوقات ہم معانی کا تصـ... یعنی اکثر اوقات، اکثر اوقات ہم معانی کا تصور کرتے ہیں وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِنَا مَعْنَى الْغَيْرِ اور ہمارے دل میں غیر کا معنی نہیں آتا۔ زید ہم جیسے ہی بولتے ہیں، آپ کے ذہن میں زید آ جاتا ہے، لیکن غیر کا معنی... غیر نہیں آتا آپ کے ذہن میں۔ فَضْلًا عَنْ كَوْنِهٖ لَيْسَ غَيْرَهٗ چہ جائیکہ لَيْسَ غَيْرَهٗ جو ہے وہ ائے ذہن میں بھئی۔ تو ہمارا ذہن منتقل نہیں ہوتا غیر کی طرف، چہ جائیکہ کہ لَيْسَ غَيْرَهٗ کی طرف ذہن منتقل ہو اور وہ ذہن میں آئے کہ یہ اپنا غیر نہیں ہے، زید زید ہی ہے، غیرِ زید نہیں ہے، یہ ہمارے ذہن میں نہیں آتا بھئی۔ تو ہماری مراد لازم سے لازمِ بین ہے کہ 3 تو کہتے ہیں: وَقَوْلُكَ لَيْسَ غَيْرَهُ لَيْسَ مِنَ اللَّوَازِمِ الْبَيِّنَةِ، کہ لازم سے تو ہماری مراد لازمِ بین ہے اور آپ کا قول لَيْسَ غَيْرَهُ لَيْسَ مِنَ اللَّوَازِمِ الْبَيِّنَةِ، یہ لوازمِ بینہ میں سے نہیں ہے، اس کی قبیل سے نہیں ہے، لِأَنَّ كَثِيرًا مَا نَتَصَوَّرُ الْمَعَانِيَ، اس لیے کیونکہ ہم بسا اوقات معانی کا تصور کرتے ہیں، وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِنَا مَعْنَى الْغَيْرِ، اور ہمارے دل میں غیر کا معنی نہیں آتا، فَضْلًا عَنْ كَوْنِهِ لَيْسَ غَيْرَهُ، چہ جائے کہ وہ لَيْسَ غَيْرَهُ ہے، یہ معنی ہمارے ذہن میں آئے، کہ وہ اپنا اپنا غیر نہیں ہے، یہ معنی کہاں سے ہمارے... جب غیر کا نہیں ہمارے ذہن میں معنی آتا تو اپنا غیر نہ ہونے کا معنی بطریقِ اولیٰ نہیں آتا بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں کہ ہم جواب میں کہتے ہیں: المُرَادُ بِاللَّازِمِ، کہ لازم کے ذریعے مراد جو ہے، وَاللَّازِمُ الْبَيِّنُ، وہ لازمِ بین ہے، الَّذِي يَنْتَقِلُ الذَّهْنُ مِنَ الْمَلْزُومِ إِلَيْهِ، کہ ذہن منتقل ہو جاتا ہو ملزوم سے الیہ، اس لازم کی طرف، کہ ذہن منتقل ہو جاتا ہو ملزوم سے... لازمِ بین... سورج بولتے ہی روشنی کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے یا نہیں آ جاتا؟ تو یہ جو ذہن خود بخود منتقل ہوتا ہے، یہ ہے دلالتِ التزامی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ یہ ذہن منتقل ہوتا ہے ملزوم سے لازم کی طرف۔ وَقَوْلُكَ لَيْسَ غَيْرَهُ لَيْسَ مِنَ اللَّوَازِمِ الْبَيِّنَةِ، اور آپ کا قول لَيْسَ غَيْرَهُ یہ لوازمِ بینہ میں سے نہیں ہے۔ یہ وہ جو ہم نے لازمِ بین کسے کہا؟ کہ ذہن خود بخود کیا ہو جائے؟ منتقل ہو جائے۔ وہ لازمِ بین ہے جس کی طرف ذہن خود بخود منتقل ہو جائے۔ سورج بولتے ہی ساتھ ہی کیا آ گئی؟ اس کی روشنی بھی ذہن... روشنی بھی ذہن میں آ گئی۔ تو لفظِ سورج تو اس کے لیے وضع نہیں، وہ تو ایک چمکدار جسم کے لیے وضع ہے، لیکن ساتھ سورج کے ساتھ چونکہ روشنی لازم ہے اس سے جدا نہیں، جب بھی سورج ہوگا کیا ہوگی؟ روشنی ہوگی۔ تو سورج سے ذہن میں جو روشنی کا تصور آیا، یہ کیا ہے دلالتِ... یہ دلالتِ التزامی ہے بھئی، التزامی ہے۔ اور آپ نے اعتراض کیا چل رہا تھا؟ کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی لازم ہے۔ اور کچھ بھی نہیں تو کم از کم یہ تو ہر ایک کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اپنا غیر نہیں ہے۔ کہتے ہیں بھئی لَيْسَ غَيْرَهُ، اپنا غیر نہ ہونا، یہ لازمِ بین میں سے... لوازمِ بینہ میں سے نہیں ہے بھئی، یعنی یہ لازمِ بین کی قبیل سے نہیں ہے۔ کیوں؟ کہ اس کی طرف ذہن بھی تو منتقل ہو! بھئی آپ نے کہا: "زید"، تو آپ کے ذہن میں کبھی یہ بات آئی کہ یہ زید ہے، غیرِ زید نہیں ہے بھئی؟ یہ ذہن میں نہیں آتا، ذہن اس طرف نہیں جاتا، ہاں پتا ہو بھی لیکن ذہن اس طرف نہیں جاتا۔ آپ نے کہا: "کتاب"، ساتھ آپ کے ذہن میں کیا یہ بات آئی کہ یہ غیرِ کتاب نہیں ہے؟ ذہن میں یہ ساتھ آتا ہے؟ میں نے کہا: "قلم"، آپ کے ذہن میں آیا یہ قلم ہے، غیرِ قلم نہیں ہے؟ یہ ذہن میں... تو دلالت تو کہتے ہی کس کو تھے کہ ذہن میں ایک چیز آئے اس کو ہم دوسری چیز سے... تو یہاں وہ چیز ذہن میں ہی نہیں آ رہی، تو وہ دلالت بھی نہیں ہے۔ لِأَنَّ كَثِيرًا مَا نَتَصَوَّرُ الْمَعَانِيَ، اس لیے کیونکہ ہم بسا اوقات، كثيراً اکثراوقات، نَتَصَوَّرُ الْمَعَانِيَ، ہم تصور کرتے ہیں معانی کا، وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِنَا مَعْنَى الْغَيْرِ، اور نہیں آتا ہمارے بال... بال کہتے ہیں دل کو بھئی۔ سمجھ میں آئی؟ جی، اور خطر: التزامات دل میں آنا بھئی۔ وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِنَا، بال کسے کہتے ہیں؟ دل کو۔ وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِنَا مَعْنَى الْغَيْرِ، اور نہیں آتا ہمارے دل میں غیر کا معنی۔ زید کہتے ہی غیر کا معنی ہمارے ذہن میں نہیں، کتاب کہنے سے غیر کا معنی ہمارے ذہن میں نہیں آتا، فَضْلًا عَنْ كَوْنِهِ لَيْسَ غَيْرَهُ، چہ جائے کہ لَيْسَ غَيْرَهُ کہ یہ اس کا اپنا غیر نہ ہونا، یہ ہمارے ذہن میں آئے بھئی۔ خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ جہاں بھی دلالتِ مطابقی ہو... جہاں بھی دلالتِ تضمنی ہوگی، وہاں ضرور کیا ہوگی؟ دلالتِ مطابقی۔ جہاں بھی دلالتِ التزامی ہوگی، وہاں ضرور کیا ہوگی؟ دلالتِ مطابقی۔ اس لیے کیونکہ جز کل کے بغیر اور لازم ملزوم کے بغیر نہیں، لیکن معنی دلالتِ مطابقی کے ساتھ ان دونوں کا ہونا ضروری نہیں۔ دلالتِ مطابقی ہو اور تضمنی نہ ہو، کیونکہ معنی کا کوئی جز ہی نہیں ہے۔ جز ہوتا تو تضمنی، اور دلالتِ مطابقی ہو اور التزامی نہ ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اس پر امامِ رازی رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق کسی نے اشکال کیا۔ کہ بھئی کم از کم اپنے غیر نہ ہونا، یہ تو ہر چیز کے ساتھ لازم ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا مطابقی کے ساتھ التزامی ضرور ہوگی۔ مطابقی کے ساتھ... یہ زید ہے، اس کے ساتھ لازم ہے کہ یہ غیرِ زید نہیں ہے، یہ بھی ضرور ذہن میں آئے گا۔ تو جواب دے رہے ہیں: نہیں بھئی نہیں، ہماری مراد لازم سے ہر لازم نہیں ہے، یہ ٹھیک ہے اس کے ساتھ لازم تو ہے لیکن ہماری مراد لازمِ بین ہے، کہ جس کی طرف ذہن بھی منتقل ہوتا ہو، اور اس اپنا غیر نہ ہونا اس کی طرف ہمارا کبھی بھی ذہن منتقل نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 22 of 108