Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 12 1 فصل التصور قسمان أحدهما بديهي أي حاصل بلا نظر وكسب كتصورنا الحرارة والبرودة ويقال له الضروري أيضا وثانيهما نظري أي يحتاج في حصوله إلى الفكر والنظر كتصورنا الجن والملائكة. فإنا محتاجون في أمثال هذه التصورات إلى تجشم فكر وترتيب نظر ويقال له كسبي أيضا. آج ہم بدیہی اور نظری کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ بھئی علم کے بارے میں تو آپ نے پڑھ لیا کہ علم کے معنی ہیں جاننے کے بھئی، اور پھر اس کی تعریف اور دو اقسام پڑھ لیں تصور اور تصدیق بھئی۔ تصور اور تصدیق۔ اب یاد رکھیے یہ تصور اور تصدیق دونوں دو دو قسم پر ہیں۔ تصور کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک بدیہی اور ایک نظری اور تصدیق کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک بدیہی اور ایک نظری۔ تو کل چار قسمیں ہو گئیں، ایک تصور بدیہی، ایک تصور نظری، ایک تصدیق بدیہی اور ایک تصدیق نظری، یہ چار قسمیں ہوئیں۔ اب کون سے کون سا تصور بدیہی ہو گا اور کون سا نظری؟ اسی طرح کون سی تصدیق بدیہی ہو گی اور کون سی نظری؟ تو پہلے بدیہی اور نظری کی تعریف جان لیں کہ بدیہی کہتے کسے ہیں؟ نظری کہتے کسے ہیں؟ پھر آپ آسانی سے فیصلہ کر سکیں گے کہ کون سا تصور بدیہی ہے اور کون سا نظری؟ کون سی تصدیق بدیہی ہے اور کون سی نظری؟ بدیہی کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے بدیہی وہ چیز ہے جو غور و فکر کے بغیر ہی ہمیں فوراً خود بخود سمجھ میں آ جائے۔ بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جو بغیر غور و فکر کے فوراً ہی ہمیں خود سمجھ میں آ جائے وہ بدیہی कहलाती ہے۔ جبکہ نظری وہ چیز جس کے لیے ہمیں باقاعدہ غور و فکر کرنا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، پھر اس کے بعد وہ چیز ہمیں سمجھ میں آتی ہے بھئی۔ تو بدیہی کس کو کہیں گے؟ ہاں آسان سی بات ہے بھئی بہت آسان جو غور و فکر کے بغیر جو چیز سمجھ میں آ جائے اسے کہتے ہیں بدیہی اور جو جس میں غور و فکر کرنا پڑے، دماغ خرچ کرنا پڑے اسے کیا کرنا اسے نظری کہتے ہیں بھئی۔ تو اب اتنا تو آپ نے جان لیا کہ ہمیں ہم جن چیزوں کو بھی جانیں گے، جو بھی معلومات ہمیں حاصل ہوں گی، جو بھی علم ہمیں حاصل ہو گا وہ یا تو تصور ہو گا یا تصدیق۔ آپ نے پڑھا بھئی علم کی کتنی قسمیں ہیں ایک تصور اور ایک تصدیق۔ تو جو بھی علم ہمارا ہو گا وہ تصور یا تصدیق کے اندر ہی ہو گا بھئی یا وہ تصور ہو گا یا تصدیق اور پھر یہ تصور اور تصدیق جو ہیں یا بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے بھئی بدیہی یا نظری بھئی۔ تو معلوم ہوا ہماری تمام معلوم باتیں یا وہ تصور کے قبیل سے ہوں گی یا تصدیق کے قبیل سے۔ اب اس دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو خود بخود ہمیں سمجھ میں آ جاتی ہیں، اس میں ہمیں غور و فکر ذرا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ معمولی سا بھی غور و فکر نہیں کرنا پڑتا مثلاً اور اسے عالم، جاہل، ان پڑھ سب جانتے ہیں بھئی، سب جانتے ہیں۔ جیسے سردی، سردی کسے کہتے ہیں؟ گرمی کسے کہتے ہیں؟ دھوپ کسے کہتے ہیں؟ بارش کسے کہتے ہیں؟ کتاب کیا چیز ہے؟ تو تو یہ سردی، گرمی، دھوپ، بارش، کتاب، قلم، کپڑے یہ جتنی چیزیں ہیں یہ دیکھو ان میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ چاہے پڑھا لکھا ہو، چاہے ان پڑھ ہو، سب ان چیزوں کو جانتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو یہ غور و فکر کے محتاج نہیں، معلوم ہوا یہ کس قسم کی چیزیں ہیں؟ بدیہی ہیں بھئی، بدیہی ہیں۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کے اندر باقاعدہ غور و فکر کرنا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، پھر جا کر وہ سمجھ میں آتی ہیں۔ جیسے بھئی یہ چیزیں جو آپ پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے پہلے علم کی تعریف پڑھی بھئی، دماغ خرچ کرنا پڑا پھر جا کر آپ کو علم کی تعریف سمجھ میں آئی۔ اس کے بعد تصور کسے کہتے ہیں؟ یہ آپ کو باقاعدہ سمجھنا پڑا۔ اسی طرح تصدیق کسے کہتے ہیں؟ آپ کو غور و فکر کرنا پڑا، دماغ خرچ کرنا پڑا پھر جا کر آپ کو تصدیق سمجھ میں آئی۔ بسيط کسے کہتے ہیں؟ یہ آپ نے پڑھا بھئی۔ اسی طرح بھئی نحو کے اندر آپ پڑھتے ہیں اسم کسے کہتے ہیں؟ فعل کسے کہتے ہیں؟ حرف کسے کہتے ہیں؟ وغیرہ۔ تو ان سب میں آپ کو کیا کرنا پڑا؟ غور و فکر کرنا پڑا اور دماغ خرچ کرنا پڑا تو معلوم ہوا یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ نظری ہیں بھئی، نظری ہیں۔ تو یہ تو ہو گئیں کچھ یہ علم۔ اس کے علاوہ باہر کی دنیا میں دیکھ لیں بھئی جو آپ کے عام استعمال وغیرہ کی جتنی چیزیں ہیں۔ عام گھروں میں استعمال ہونے والی ہے، بازاروں میں استعمال ہونے والی ہے، بکنے والی عام چیزیں ہیں، جن کو ہر ایک جانتا ہو ان کو کیا کہیں گے؟ بدیہی اور جہاں غور و فکر کرنا پڑے یا کسی کو اس کا علم نہ ہو تو وہ اس کے لیے کیا کہلائیں گی؟ نظری۔ یاد رکھو یہ بدیہی اور نظری لوگوں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ ایک شخص کے لیے ایک چیز بدیہی ہو گی تو دوسرے کے لیے ہو سکتا ہے وہ نظری ہو بھئی۔ مثلاً دیکھ لیجیے کہ کیا مثلاً فرشتہ کہہ لیں، فرشتہ۔ یہ اب یہ مسلمانوں کے نزدیک بدیہی ہے بھئی۔ فرشتہ بولتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ کیا مراد ہے، دماغ نہیں خرچ کرنا پڑتا۔ لیکن اس کے مقابلے میں جو غیر مسلم ہے اس کو باقاعدہ سمجھانا پڑے گا، بتانا پڑے گا تو پھر جا کر اس کی سمجھ میں بات آئے گی، تو معلوم ہوا اس کے لیے فرشتہ کیا ہوا؟ نظری، نظری ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تمام تعریفات، چیزیں وغیرہ جو آپ پڑھ رہے ہیں یہ ساری کس قبیل سے ہیں؟ نظری کے قبیل سے ہیں۔ اسی طرح بھئی اور جو بھی چیز دیکھ لیں، مثلاً مختلف قسم کے جانور ہیں، گھوڑا ہے، گدھا ہے، بیل ہے، گائے ہے، بکری ہے، ان کے نام بولتے ہی فوراً آپ کو پتہ لگ جاتا ہے، آپ کو ذرہ برابر بھی دماغ خرچ نہیں کرنا پڑتا، عالم، جاہل ہر ایک ان کو اچھی طرح جانتا ہے، تو یہ کیا کہلائیں گی؟ یہ بدیہی ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مثلاً آپ کا کوئی ساتھی ہے، آپ نے اس کے سامنے ہاتھی کا نام لیا، فرض کرو اس نے ہاتھی دیکھا ہی نہیں آج تک، تو معلوم ہوا ہاتھی اس کے لیے بدیہی نہیں، آپ کو باقاعدہ سمجھانا پڑے گا کہ ایک بہت بڑا جانور ہوتا ہے، اتنے بڑے بڑے اس کے پاؤں، اتنا اس کا اونچا قد ہوتا ہے، اتنی بڑی سونڈ ہوتی ہے وغیرہ۔ تو دیکھو پوری تفصیل بیان کرنا پڑی پھر جا کر اس کو بات سمجھ میں آئی۔ تو یہی ہاتھی آپ کے لیے مثلاً بدیہی تھا، لیکن اس نے چونکہ دیکھا نہیں تھا تو اس کے لیے کیا بن گیا؟ نظری بن گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایک ہی چیز ایک شخص کے اعتبار سے بدیہی ہو تو ضروری نہیں کہ ہر شخص کے لیے وہ بدیہی ہو، یہ لوگوں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ جس کے لیے وہ چیز بغیر غور و فکر کے اسے سمجھ میں آ رہی ہے، اس کے لیے تو وہ بدیہی ہے اور جس کو سمجھانا پڑے باقاعدہ اس کے لیے یہ نظری، یہ نظری ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیے، ایک چیز جب نظری تھی اس کو آپ نے جان لیا تو اب وہ آپ کے لیے بدیہی بن گئی۔ مثلاً آپ نے تصور اور تصدیق آپ کے لیے نظری تھے، اس سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ تصور کسے کہتے ہیں، تصدیق کسے کہتے ہیں۔ لیکن جب آپ نے ایک دفعہ دماغ خرچ کیا اور اس کو سمجھ لیا اچھی طرح، تو اب یہ آپ کے لیے بدیہی بن گئے بھئی۔ اب جیسے ہی تصور کہیں گے آپ کو فوراً پتہ چل جائے گا کہ تصور کسے کہتے ہیں جس کے اندر حکم نہ پایا جائے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جس میں حکم نہ ہو اور تصدیق کسے کہیں گے؟ جس کے اندر حکم پایا جائے بھئی، تو آپ کے لیے یہ بدیہی بن گئی، لیکن کہیں گے اس کو پھر بھی نظری۔ اگرچہ آپ کے لیے اب یہ بدیہی بن گئی، لیکن پھر بھی اس کو کیا کہیں گے؟ نظری ہی کہیں گے کیونکہ آپ کو اسے سیکھنے کے لیے دماغ خرچ کرنا پڑا تھا بھئی۔ سو بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک چیز جاننے سے پہلے تو ہو سکتا ہے نظری ہو گی، لیکن جاننے کے بعد وہ بدیہی بن گئی، لیکن کہیں گے نہیں اس کو بدیہی، بلکہ کیا کہیں گے؟ نظری ہی کہیں گے بھئی، نظری ہی کہیں گے۔ اب جو چیزیں آپ نے جان لیں بھئی، جو چیز جانتے ہیں اس میں آپ دیکھ لیجیے۔ کہ وہ یا تصدیق کے قبیل سے ہوں گی یا تصور کے قبیل سے۔ اگر وہ تصور کے قبیل ہے اور اس میں آپ کو غور و فکر نہیں کرنا پڑتا تو کیا کہلائے گا؟ تصور بدیہی اور اگر ہے تصور اور اس میں آپ کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ دماغ لگانا پڑتا ہے، غور و فکر کرنا پڑتا ہے، تو یہ تصور نظری کہلائے گا۔ اور اگر وہ تصدیق کے قبیل سے ہے، تو پھر اسی کو تصدیق بدیہی کہیں گے یا تصدیق نظری کہیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں بارش ہو رہی ہے، یا میں کہتا ہوں دھوپ نکلی ہوئی ہے، دھوپ نکلی ہوئی ہے، یا میں آپ سے کہتا ہوں مثلاً پنکھا چل رہا ہے، کوئی بھی بات آپ کر لیں، غور و فکر کے بغیر ہر ایک کو اس کا پتہ لگ جاتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ بدیہی ہے اور کون سی تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصدیق ہے بھئی، ایک چیز پر دوسری دوسری کا حکم لگایا گیا ہے بھئی۔ اگر میں صرف پنکھا کہوں تو یہ ہے تصور اور اگر میں کہوں پنکھا چل رہا ہے تو یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ اگر میں کہوں صرف بارش تو یہ کیا ہے؟ تصور، کون سا تصور؟ تصور بدیہی اور اگر میں کہوں بارش ہو رہی ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ تصدیق کون سی؟ بدیہی، تو یہ تصدیق بدیہی ہے۔ اسی طرح میں کہتا ہوں مثلاً دھوپ نکلی ہوئی ہے، پہلے صرف دھوپ، میں کہتا ہوں دھوپ تصور ہے اور کون سا تصور؟ بدیہی ہے، ہر ایک کو اس کا پتہ ہے، میں کہتا ہوں سایا تصور ہے اور کون سا؟ بدیہی ہے بھئی۔ اس کے مقابلے میں مثلاً جن میں کہتا ہوں، جن۔ تو جن کے لیے بتانا بھئی، جن بتانا پڑے گا اس کو کہ بھئی جن ایک مخلوق ہے جسے اللہ نے آگ سے پیدا کیا ہے، دکھائی نہیں دیتی اور یہ مختلف شکلیں بدلنے کی قدرت اللہ نے اسے دی ہے، اس اسے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جن کہتے ہیں۔ تو یہ چیز آپ اگر کچھ ایک شخص کیا ہے؟ مسلمان تو عموماً کیا ہو گا؟ جاننے والا ہے، غیر مسلم غیر مسلموں کے لیے یہ کیا ہو جائے گی؟ نظری، کیونکہ بہت سے لوگ آج بھی آپ دیکھتے ہیں ان چیزوں کو مانتے ہی نہیں ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حالانکہ یہ مخلوق اللہ نے پیدا کی، تو بس آسان سی بات یہ، جس چیز میں آپ کو غور و فکر کرنا پڑے، دماغ خرچ کرنا پڑے تو وہ کیا کہلائے گی؟ نظری نظری اور اس میں پھر وہ تصور کے قبیل سے ہے تو تصور نظری، تصدیق کے قبیل سے ہے تو تصدیق نظری بھئی۔ اسی طرح مثلاً آپ کہتے ہیں بھئی اس کائنات کو چلانے والی ذات اللہ ہی کی ہے، اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، تو دیکھو بہت سے لوگ اس کا انکار کرتے ہیں، تسلیم ہی نہیں کرتے، پھر آپ کو باقاعدہ سمجھانا پڑتا ہے کہ دیکھو اس کائنات کا نظام چل رہا ہے، اتنے احسن طریقے سے چل رہا ہے اور اس کا بنانے والی اس کی بنانے والی معلوم ہوا ایک ہی ذات ہے، دو نہیں ہیں، اگر دو ہوتیں تو ان میں آپس میں ہو سکتا ہے جھگڑا آتا اور جھگڑا آتا تو یہ کائنات کا نظام صحیح نہ چلتا اور وہ اپنے رسول بھیجتا ہے، کسی رسول نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مجھے فلاں خدا نے بھیجا ہے یا فلاں خدا نے، سب کو ایک ہی اللہ نے بھیجا ہے بھئی، معلوم ہوا اس کائنات کے نظام چلانے والی ذات کیا ہے؟ ایک ہی ہے اللہ کی، اور پھر اس کو بتاتے ہیں بھئی دیکھو کسی چیز کا کوئی بھی چیز بنائے بغیر نہیں بنتی اور یہ کائنات اس کا یہ حسین و جمیل نظام جو بنا ہوا ہے، یہ آبشار، یہ کوہسار، یہ مرغزار، یہ سبزہ زار، یہ سب چیزیں کسی بنانے والے نے ہی بنائی ہیں، تو اس طرح تو معلوم اس طریقے سے اس کو بات سمجھاتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ بنانے والی کوئی ذات موجود ہے بھئی۔ تو یہ کیا ہو گا پھر؟ نظری کہلائے گا جس میں آپ کو سمجھانا پڑتا ہے باقاعدہ۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو اور یہ بھی کہ ایک ہی چیز ایک شخص کے لیے بدیہی ہو تو ہو سکتا ہے دوسرے کے لیے کیا ہو؟ نظری ہو بھئی۔ جی اب کتاب پر دیکھیے، آسان سی باتیں ہیں بھئی۔ فصل أي هذا فصل، یہ خبر ہے مبتدأ محذوف کی، یہ فصل ہے۔ التصور قسمان تصور دو قسم پر ہے، أحدهما بديهي ان دو میں سے ایک بدیہی ہے، أي حاصل بلا نظر وكسب، بلا نظر، ظا پہ فتحہ پڑھنا بھئی، أي حاصل بلا نظر وكسب یعنی جو بغیر نظر و کسب کے حاصل ہو، یعنی بغیر غور و فکر کے حاصل ہو، كتصورنا الحرارة والبرودة جیسے کہ ہمارا تصور کرنا گرمی کا اور سردی کا، یہ گرمی حرارت کیا ہے؟ یہ کون سی قسم بنے گی؟ چار میں سے یہ کون سی قسم بنے گی؟ تصوير بديهي، ہر ایک کو پتہ ہے گرمی کسے کہتے ہیں، سردی کسے کہتے ہیں، بھوک کسے کہتے ہیں، پیاس کسے کہتے ہیں۔ تو یہ حرارت والبرودة اور اسی طرح ٹھنڈک بھئی، ٹھنڈ۔ تو یہ گرمی، سردی۔ كتصورنا الحرارة والبرودة جیسے کہ ہمارا تصور کرنا گرمی کا اور سردی کا، ويقال له الضروري أيضا اسی بدیہی کو ضروری بھی کہتے ہیں۔ تصور بدیہی کسے کہیں گے؟ وہ تصور جو بغیر غور و فکر کے ہے، سمجھ میں آ جائے۔ اور اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ تصور ضروری بھئی، تو بدیہی اور ضروری یہ دونوں میں سے کوئی بھی لفظ آ جائے تو آپ سمجھ جائیں گے جو بغیر غور و فکر کے سمجھ میں آ جائے۔ وثانيهما نظري اور تصور کی دوسری قسم جو ہے نظری ہے، نظری، ظا پہ فتحہ پڑھنا بھئی، أي يحتاج في حصوله إلى إلى الفكر والنظر یعنی ضرورت ہوتی ہے، احتیاج حاجت ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے میں إلى الفكر والنظر، فکر و نظر کی ضرورت ہوتی ہے بھئی، یعنی غور و فکر، سوچ بچار کی ضرورت پڑتی ہے، كتصورنا الجن والملائكة جیسے کہ ہمارا تصور کرنا جن اور ملائکہ کا بھئی، جن اور ملائکہ کا، تو یہ کس 2 فإن محتاجون، اس لیے کیونکہ ہم محتاج ہیں فی امثال هذه التصورات، ان تصورات کے مثالوں میں، اس قسم کے تصورات میں۔ امثال هذه التصورات، اس قسم کے تصورات میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ جی۔ فإن محتاجون، کیونکہ بے شک ہم محتاج ہیں فی امثال هذه التصورات، اس قسم کے تصورات میں ہم محتاج ہیں۔ کس چیز کے محتاج ہیں؟ إلى تجشم فکر وترتيب، تجشم کا معنی ہے مشقت اٹھانا بھئی۔ تجشم کا کیا معنی ہے؟ مشقت اٹھانا۔ إلى تجشم فکر وترتيب نظر، کیونکہ اس قسم کے تصورات کے اندر ہم محتاج ہیں فکر کی مشقت کے، فکر کی مشقت، ہمیں غور و سوچ بچار کرنا پڑتا ہے، غور و فکر کی مشقت اٹھانا پڑتی ہے وترتيب نظر اور ترتیبِ نظر کے ہم محتاج ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی جی۔ وہ، جی۔ ترتیبِ نظر، یہ آگے اگلے سبق میں انشاء اللہ اس کی تفصیل آ جائے گی بھئی، آگے اس کی صا، صاحبِ مرقات خود بتلائیں گے آپ کو بھئی۔ ويقال له ويقال له الكسبي أيضا، اور اس تصورِ نظری کو کسبی بھی کہتے ہیں۔ تصورِ نظری کا دوسرا نام ہے تصورِ کسبی بھئی۔ تصور کی پہلی قسم کیا تھی؟ تصورِ بدیہی، اس کا دوسرا نام کیا تھا؟ تصورِ ضروری۔ زبان سے سب دہرائیں، تصور کی پہلی قسم کون سی ہے؟ تصورِ بدیہی، اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ تصورِ ضروری۔ اور تصور کی دوسری قسم کیا ہے؟ تصورِ نظری، اور اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ تصورِ کسبی۔ والتصديق أيضا قسمان، اور اسی طرح تصدیق جو ہے وہ بھی دو قسم پر ہے۔ أحدهما البديهي، ان دو میں سے ایک کیا ہے؟ بدیہی ہے۔ البديهي الحاصل من غير فکر وكسب، وہ بدیہی جو حاصل ہو رہا ہو بغیر فکر و کسب کے یعنی بغیر غور و فکر کے۔ البديهي الحا، وہ بدیہی جو حاصل ہو رہا ہو بغیر غور و فکر کے۔ والثاني منهما النظري مفتقر إليه، اور دوسری قسم ان دو میں سے وہ نظری ہے جو محتاج ہو ان کی طرف یعنی غور و فکر کی طرف محتاج۔ تصدیق دو قسم پر ہوئی، ایک تو بدیہی ہے جو حاصل ہو رہی ہے بغیر غور و فکر کے، اور دوسری نظری ہے المفتقر إليه جو محتاج ہے اس کی، کس کی؟ غور و فکر کی، جو کس کی محتاج ہے؟ جس میں ہمیں غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ مثال الأول، پہلے کی مثال، پہلا کون بھئی؟ تصدیقِ بدیہی کی مثال۔ الكل أعظم من الجزء، کل بڑا ہوتا ہے جز سے۔ ایک ہے کل، ایک ہے جز، بڑا کون سا ہوگا؟ لازمی بات ہے کل بڑا ہے اور اس کا جو ایک ٹکڑا ہے، حصہ ہے یعنی جز وہ اس سے چھوٹا ہوگا۔ والاثنان نصف الأربعة، دو آدھا ہے چار کا۔ دو چار کا آدھا ہے، کچھ غور و فکر کرنا پڑا؟ نہیں، یہ تو ہر ایک کو پتہ ہے، فوراً ہی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ تو یہ تصدیقِ بدیہی کی مثال ہوئی۔ ومثال الثاني، اور دوسرے کی مثال، یعنی کس کی مثال؟ تصدیقِ نظری کی مثال۔ العالم حادث، یہ عالم جو ہے، حادث ہے۔ حادث یاد رکھیے، حادث اور قدیم یہ دو لفظ آئیں گے۔ قدیم اسے کہتے ہیں جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو۔ قدیم کسے کہتے ہیں؟ زبان سے دہرائیں بھئی سارے، قدیم کسے کہتے ہیں؟ جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کبھی بھی ایسا زمانہ نہیں تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا، وہ ہمیشہ سے ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قدیم، یہ اصطلاحی لفظ ہے قدیم آپ اردو میں استعمال کرتے ہیں اس کا معنی ہے پرانا بھئی، یہ نہیں، یہ اصطلاحی لفظ ہے قدیم بھئی کتابوں میں آئے گا۔ قدیم وہ چیز جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کبھی کوئی ایسا زمانہ نہیں تھا جس میں اس کا وجود نہیں تھا، وہ ذات ہمیشہ سے ہے۔ اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں بھئی۔ اللہ کی ذات اور صفات ہمیشہ ہمیشہ سے ہیں، کبھی بھی ایسا وقت نہیں تھا جس میں اللہ کی ذات اور صفات موجود نہ ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہے لفظ حادث، حادث اسے کہتے ہیں جس پر کبھی عدم آیا ہو۔ کوئی زمانہ ایسا تھا جس میں اس کا وجود نہیں تھا۔ مثلاً یہ زمین اور آسمان بھئی، یہ اگرچہ کروڑوں اربوں سال پرانے ہیں، لیکن بہرحال ایک زمانہ ایسا تھا جب ان کا وجود نہیں تھا، پھر اللہ نے ان کو پیدا فرمایا بھئی۔ تو اللہ کی ذات اور صفات کے علاوہ باقی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب حادث ہیں۔ فرشتے جتنے ہیں وہ حادث ہیں، انسان حادث ہیں، زمین حادث ہے، آسمان حادث ہیں، یعنی ایک زمانہ تھا ان کا وجود نہیں تھا، پھر اللہ نے ان کو پیدا فرمایا۔ تو قدیم وہ جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، اور حادث وہ جس پر کبھی عدم آیا ہو بھئی۔ تو مثلاً آپ کہتے ہیں العالم حادث، یہ جہان حادث ہے، ترجمہ کیا ہے؟ یہ جہان حادث ہے۔ اب دیکھیے یہ جہان حادث ہے یعنی ہمیشہ سے نہیں ہے، پہلے اس کا وجود نہیں تھا، پھر اس کو اللہ نے پیدا فرمایا۔ اب یہ بات فوراً سمجھ میں نہیں آئے گی جس سے بھی سمجھائیں، بلکہ غیر مسلم جو اللہ کو تو نہیں مانتے وہ تو کہتے ہیں یہ عالم بھی قدیم ہے بھئی، یہ بھی ہمیشہ سے ہے اسی طرح۔ پھر آپ ان کو دلیل دیتے ہیں کہ نہیں بھئی یہ اس کا اتنا بہترین نظام چل رہا ہے، یقیناً کوئی نظام چلانے والا ہے اور اس میں اتنی حسین و جمیل چیزیں ہیں، دیکھیے زمین کو دیکھ لیجیے اس میں پہاڑ ہیں، دریا ہیں، درخت اگتے ہیں، اوپر ستارے رات کو دکھائی دیتے ہیں، سورج اپنی جگہ پر چکر لگاتا ہے، دن ہوتی، دن ہوتا ہے، رات ہوتی ہے، رات کو چاند دکھائی دیتا ہے، چاند کبھی گھٹتا ہے، کبھی بڑھتا ہے، اور یہ اتنا حسین و جمیل نظام چل رہا ہے اور بنا ہوا ہے اور کوئی بھی چیز بغیر بنائے کبھی نہیں بنتی بھئی۔ بغیر بنائے کبھی بھی نہیں بنتی، معلوم ہوا ان کے بنانے والے کی کوئی ذات ہے، اس نے ان کو بنایا ہے اور وہی اس کا نظام چلا رہی ہے، پہلے اس کا وجود نہیں تھا، پھر اللہ نے اس کو پیدا فرمایا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ جی۔ والصانع موجود، بنانے والی ذات موجود ہے۔ بنانے والی ذات، صانع یعنی اللہ کی ذات موجود ہے، ان چیزوں کو بنا، یہ چیزیں خود بخود نہیں بنیں، ان کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے، معلوم ہوا اللہ کی ذات موجود ہے، اللہ کی ذات ہے بھئی، وہ انکار کرتے ہیں بعض کہ ہے ہی نہیں، تو دیکھو اس میں آپ کو کیا کرنا پڑا؟ باقاعدہ سمجھانا پڑا، دلیلیں دینی پڑیں، بات لمبی بات کرنا پڑی بھئی، تو یہ سب کس کی قسمیں، العالم حادث اور والصانع موجود، یہ کس کی قسمیں ہیں؟ تصدیقِ نظری کی۔ ونحو ذلك، اور اس جیسی اور مثالیں بھئی، یہ دو تو انہوں نے ذکر کر دیں اور اس جیسی العالم حادث والصانع موجود بھئی ونحو ذلك اس جیسی چیزیں ہیں بھئی۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ جی سر۔ کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 12 of 108