Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 64
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 11 1 أما التصديق فهو على قول الحكماء عبارة عن الحكم المقارن للتصورات. والتصورات الثلاثة شرط لوجود التصديق، ومن ثم لا يوجد تصديق بلا تصور. والإمام الرازي رحمه الله تعالى يقول: إنه عبارة عن مجموع الحكم وتصورات الأطراف. آج ہم تصدیق کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، تصدیق کے بارے بارے میں۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ علم کی دو قسمیں ہیں: تصور اور تصدیق بھئی۔ تصور بھی علم کی ایک قسم ہوئی، اور تصدیق بھی علم کی ایک قسم ہوئی، اور علم کا معنی ہے جاننے کے بھئی، جاننے کے۔ تو تصدیق جو ہے وہ علم ہے جس میں حکم لگایا گیا ہو بھئی۔ تصدیق وہ علم ہے جس کے اندر کیا لگایا گیا ہو؟ حکم اس چیز پر دوسری چیز کا حکم لگایا گیا ہو۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: زید قائم بھئی، آپ زید قائم کہتے ہیں، اور زید تو زید کے قیام کا یقین کر لیا مثلاً آپ نے۔ یا یوں کہتے ہیں آپ: زید عالم کہتے ہیں، اور آپ نے زید کے عالم ہونے کا یقین کر لیا، کیا کر لیا؟ یقین کر لیا۔ یا آپ کہتے ہیں: ليس زيد عالما، تو آپ نے زید کے عالم نہ ہونے کا یقین کر لیا بھئی۔ تو یہ اور جب یقین کر لیا تو یہ حکم آگیا کہ زید پر آپ نے زید کے لیے کیا کیا ہے؟ ایک چیز ثابت کی ہے یا اس کی اس سے ایک چیز کی نفی کی ہے، تو یہ حکم آگیا، اور جب حکم آگیا تو معلوم ہوا یہ تصدیق ہے بھئی۔ کیا ہے یہ؟ تصدیق ہے، تو تصدیق کے اندر آپ نے پڑھا تھا یقین کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو یہاں یاد رکھیے، اب چار چیزیں ہو گئیں بھئی چار۔ سب سے پہلے پہلا حصہ زید قائم میں، یہ زید کو ہم کیا کہتے تھے، مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ موضوع، شاباش، کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور یہ عالم کو کیا کہتے ہیں؟ محمول کہتے ہیں، شاباش۔ اچھا، تو ایک ہوا تصور زید کا۔ زید قائم جب کہا تو پہلے کیا حاصل ہونا چاہیے آپ کو؟ زید کا تصور، زید کا علم۔ پھر اس کے بعد کیا خبر کیا آئی تھی؟ عالم، عالم کا بھی آپ کو، عالم کا تصور بھئی، یعنی عالم کا بھی آپ کو علم ہو بھئی، عالم کسے کہتے ہیں، کیا معنی ہوتا ہے عالم کا؟ پھر اس عالم، تیسری چیز آپ نے عالم کی زید کی طرف نسبت کر دی بھئی۔ عالم، زید کے عالم ہے یا عالم نہیں ہے بھئی، تو یہ نسبت حکمیہ کہلاتی ہے۔ کیا کہلاتی ہے؟ یا یوں کہیں نسبت تامّہ خبریہ کہلاتی ہے۔ اور پھر اس نسبت تامّہ خبریہ کا آپ نے یقین بھی کر لیا کہ ایسا ہی ہے، اسے تسلیم بھی کر لیا۔ تو چار چیزیں ہوئیں یہاں بھئی، ذرا توجہ سے سننا بھئی۔ ایک ہوا زید کا تصور، ایک ہوا عالم کے معنی کا تصور کہ عالم کا کیا معنی ہے، تیسرا ہے نسبت حکمیہ کا تصور بھئی، کس چیز کا تصور؟ نسبت حکمیہ کا تصور، یعنی کہ زید عالم ہے یا عالم نہیں، آپ نے دونوں میں تعلق جوڑ دی، تعلق پیدا کر دیا، ان کو آپس میں جوڑ دیا، ربط دے دیا۔ اس ربط کا نام ہے نسبت حکمیہ بھئی، نسبت حکمیہ۔ جیسے بھئی لکڑیوں اور رسی سے چارپائی بنتی ہے۔ تو جیسے لکڑیوں اور چارپائی سے رسی بنتی ہے، اکیلی لکڑیاں ہوں اس کو بھی چارپائی نہیں کہتے، اکیلی رسی ہو اسے بھی چارپائی نہیں کہتے، اور دونوں جز پڑے ہوں، رسی اکٹھی پڑی ہے لکڑی کے ساتھ، اسے بھی چارپائی نہیں کہیں گے، ہاں جب آپ ان کو جوڑ دیں گے جس سے، جیسا کہ ان کو جوڑا جاتا ہے، پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ چارپائی پھر کہیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ لکڑی کے آپ چار پائے بنا دیں، پھر ان کے درمیان جو ہے لکڑی لگا کر ان کو آپس میں جوڑ دیں، پھر اس کے ساتھ بیچ میں اس کی رسی لگا دی جائے اس کے طریقے کے مطابق، تو پھر اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ چارپائی۔ تو دیکھو ان یہ صرف لکڑی بھی چارپائی؟ نہیں، صرف رسی بھی چارپائی؟ نہیں، درمیان میں ربط ضروری ہے، ان کو جوڑ دیا جائے آپس میں، بات سمجھ میں آئی؟ اسی طرح آپ نے بھی کیا کیا ہے؟ عالم کو کس کے ساتھ جوڑ دیا ہے؟ زید کے ساتھ جوڑ دیا ہے، تو اکیلا زید، یہ بھی تصور ہے، اکیلا عالم، یہ بھی تصور ہے، پھر ان دونوں کے درمیان جو صرف تعلق ہے جسے نسبت حکمیہ کہتے ہیں یا نسبت تامّہ خبریہ کہتے ہیں، اس کا بھی تصور ہونا چاہیے کہ ان دونوں کے درمیان تعلق اور ربط کا تصور۔ پھر اس تصور کا یقین کر لینا، اس نسبت کا یقین کر لینا، اسے حکم کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ تو نسبت حکمیہ کا یقین کر لینا یہ حکم کہلاتا ہے۔ تو یہاں پر جب آپ نے کہا: زید عالم، تو یہاں آپ کو یہاں چار چیزیں ہو گئیں بھئی، کتنی چیزیں ہو گئیں؟ چار چیزیں، سب سے پہلے کیا؟ زید کا تصور، دوسرا؟ عالم کا تصور، تیسرا ان دونوں کے درمیان ربط اور تعلق بھئی اس کا تصور، جسے آپ نے کیا کہا؟ نسبت تامّہ خبریہ یا نسبت حکمیہ، اور پھر چوتھی چیز ہے کہ اس کا آپ یقین بھی کر لیں، تو یہ نسبت تامّہ خبریہ کا یقین جو ہے، اسے حکم کہا جاتا ہے، کیا کہا جاتا ہے؟ حکم کہا جاتا ہے۔ تو چار چیزیں ہو گئیں مولانا۔ اب یہ چار چیزیں ہوں گی تو تصدیق کہلائے گی۔ چار چیزوں میں سے آخری کو نکال دیں تو پھر یہ تصدیق نہیں رہے گا۔ آخری کیا چیز تھی؟ حکم یعنی نسبت تامّہ خبریہ کا یقین، اس کو ختم کر دیں تو پھر تصدیق باقی نہیں، پھر نسبت خبریہ تو ہو گی لیکن پھر اس سے آپ نے پڑھا تھا، زید عالم کہا اور آپ کو تردد ہے کہ زید عالم ہے یا عالم نہیں، اور دونوں جانبیں برابر ہوں تو اسے کیا کہتے تھے؟ شک کہتے تھے، شک۔ اور ایک جانب راجح ہوتی تھی، ایک جانب مرجوح، تو جانب راجح کو کیا کہتے تھے؟ ظن، اور یہ تصدیق کی قسم ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا۔ البتہ وہم جو ہے، وہ تصدیق کی قسم نہیں۔ تو دیکھو، شک بھی تصور کی قسم، وہم بھی تصور کی قسم۔ اب یہاں پر نسبت تامّہ خبریہ موجود ہے، آپ نے دونوں میں ربط دے دیا ہے، عالم کو کس کے ساتھ ربط دے دیا؟ زید کے ساتھ، لیکن پھر بھی اسے تصدیق نہیں کہتے، کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ وہ چوتھی چیز نہیں ہے، وہ کیا چیز تھی؟ نسبت تامّہ خبریہ کا یقین یہاں پر صرف نہیں ہے، تصور زید بھی موجود ہے، تصور عالم بھی موجود ہے، اور ان دونوں کے درمیان نسبت تامّہ خبریہ کا تصور بھی موجود ہے، لیکن چوتھی چیز وہ یقین نہیں ہے، تو آپ نے شک کو بھی کیا قرار دے دیا؟ تصور، آپ نے وہم کو بھی کیا قرار دے دیا؟ تصور، حالانکہ وہ تین چیزیں تو یہاں پر ہیں، زید کا بھی تصور ہے، عالم کا بھی تصور ہے، اور ان دونوں کے درمیان نسبت تامّہ خبریہ کا بھی تصور ہے، لیکن اسے تصدیق نہیں کہتے۔ تو معلوم ہوا تصدیق میں کیا ضروری ہے؟ اس نسبت تامّہ خبریہ کا یقین بھی ضروری ہے اور اسے کیا کہتے ہیں؟ حکم کہتے ہیں بھئی شاباش، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے تصدیق مولانا یہ۔ اب یاد رکھیے، شارح آگے تصدیق بیان کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ اختلاف ذکر کریں گے کیونکہ تصدیق کے اندر مناطقہ کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں تصدیق مثلاً اس چیز کا نام ہے، دوسرے کہتے ہیں اس چیز کا نام نہیں بلکہ اس چیز کا نام تصدیق ہے، تو وہ اختلاف بھی ذکر کرنا چاہتے ہیں بھئی، اختلاف بھی۔ دیکھیے، کتاب پر ذرا دیکھ لیجیے، تصدیق سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تصدیق بھئی، اس میں کتنی چیزیں آ گئیں؟ چار چیزیں، سب پہلی چیز؟ زید یعنی موضوع کا تصور، دوسری چیز؟ عالم ہونا یعنی کہ محمول کا تصور، تیسری چیز؟ ان دونوں کے درمیان ربط اور تعلق کا تصور بھئی، جی، اور چوتھی چیز؟ وہ جو ربط اور تعلق ہے، یعنی وہ جو نسبت تامّہ خبریہ، لفظ یاد کریں بھئی ساتھ ساتھ، نسبت تامّہ خبریہ کا یقین ہو بھئی، تو اس کو حکم کہتے ہیں، تو اس کا ہونا ضروری تصدیق کے اندر بھئی۔ جی، اب دیکھیے، کہتے ہیں: أما التصديق فهو على قول الحكماء، باقی تصدیق جو ہے تو وہ حکماء کے قول پر، حکماء بھئی، حکماء فلاسفۂ یونان کو کہتے ہیں بھئی یاد رکھنا۔ حکماء کس کو کہتے ہیں؟ فلاسفۂ یونان، فلاسفہ جمع ہے فلسفی کی، تو یہ جو یونان بھئی، یاد رکھیے یہ جو منطق کا علم ہے یہ یونان سے آیا ہے بھئی یونان سے۔ تو یونان والے اس علم کے ماہر تھے بڑے اور انہوں نے اس علم کو، انہوں نے مدون کیا اور وہاں سے پھر یہ علم مسلمانوں کے اندر آیا، تو یہ جو یونان کے فلاسفہ ہیں ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ حکماء، کیا کہا جاتا ہے؟ حکماء، حکماء جمع ہے حکیم کی بھئی، تو یہ فلاسفۂ یونان کو کہتے ہیں۔ یاد رکھیے، یہ کہ فلاسفۂ یونان میں جو ہیں، ارسطو جو ہے ارسطو، اس نے اس علم کو باقاعدہ مدون کیا بھئی، ارسطو۔ کس نے؟ ارسطو نے، الف ر س ط و، ارسطو، اور یہ ارسطو جو تھا، یہ شاگرد تھا افلاطون کا بھئی۔ یہ شاگرد تھا افلاطون کا، اور یہ استاد تھا سکندر اعظم کا بھئی۔ سکندر اعظم مشہور بادشاہ گزرا ہے بھئی، اور تو یہ اس کا استاد تھا بھئی ارسطو، اور کس کا شاگرد ہے؟ افلاطون کا۔ اور یہ جو افلاطون ہے، یہ بھی بہت بڑا فلسفی، اور یہ شاگرد تھا سقراط کا بھئی۔ سقراط، س ق دو نقطوں والا، جسے آپ اردو میں سقراط کہتے ہیں بھئی، اصل نام سقراط تھا بھئی، س ق ر الف اور ط۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ جسے سقراط کہتے ہیں یہ اصل لفظ سقراط ہے، س پر فتحہ ہے، تو سقراط کا شاگرد ہوا افلاطون، افلاطون کا شاگرد ہوا ارسطو، ارسطو۔ تو یہ فلاسفہ ہیں، سکندر اعظم تو میں نے ویسے ذکر کر دیا مشہور بادشاہ گزرا ہے، تو اور یہ بڑے فلاسفہ گزرے ہیں بھئی یونان والوں کے اندر، تو ان کے جو پیروکار ہیں وہ سارے حکماء کہلاتے ہیں، کیا کہلاتے ہیں؟ حکماء کہلاتے ہیں، یعنی کہ فلاسفۂ یونان بھئی، ان کی اپنی رائے مسائل کے سلسلے میں، اور تو یہاں پر بھی انہوں نے تصدیق کی تعریف کے اندر بھئی کہ تصدیق کس چیز کو کہتے ہیں، اس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ یاد رکھیے، پہلے سمجھ لیجیے، یہ جو فلاسفۂ یونان ہیں یہ کہتے ہیں تصدیق صرف حکم کا نام ہے۔ کس چیز کا نام ہے؟ حکم، چار چیزیں میں نے آپ کو بتلائیں، مثلاً آپ نے زید عالم کہا، ایک زید کا تصور، دوسرا عالم کا تصور، تیسرا ان کے درمیان جو ربط اور تعلق ہے، یعنی نسبت تامّہ خبریہ کا تصور، یہ تین چیزیں، اور چوتھی چیز کیا تھی؟ یقین تھا اس نسبت تامّہ خبریہ کا، جسے ہم کیا کہتے ہیں؟ حکم کہتے ہیں۔ تو حکماء فلاسفۂ یونان کہتے ہیں کہ تصدیق اس حکم کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ اس حکم کا نام تصدیق ہے، اور یہ جو باقی تین چیزیں ہیں، زید کا تصور یعنی موضوع کا تصور، محمول کا تصور اور نسبت خبریہ کا جو تصور ہیں، یہ تین اس کے لیے شرط ہیں۔ یہ کیا کہتے ہیں؟ ہاں سب بھئی جواب دیا کریں بھئی، میں آپ جی، تو یاد میرا مقصد ہے تاکہ آپ کے اچھی طرح بات ذہن نشین ہو جائے، زبان سے ادا کرنے سے بات ذہن نشین ہوتی ہے بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں تصدیق صرف نام کس چیز کا ہے؟ حکم کا نام ہے، اور یہ باقی تین تصورات جو تھے یہ اس کے لیے شرط ہیں، اور شرطِ شئے شئے سے خارج ہوا کرتی ہے، جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے، اور وضو نماز سے خارج ہے بھئی، وضو کیا ہے؟ نماز سے خارج ہے، الگ چیز ہے اور نماز الگ چیز ہے، ہاں وضو نماز کے لیے شرط ہے۔ تو یہاں پر بھی حکم کے لیے یہ تین تصورات کیا ہیں؟ شرط ہیں اور اس تصدیق سے خارج ہیں، کیونکہ تصدیق صرف کس چیز کا نام؟ حکم کا۔ تو لہٰذا تصورِ زید کو ہم نے تصدیق کہا؟ نہیں، وہ تصدیق سے خارج ہے۔ ہم نے تصورِ اسی طرح تصورِ محمول کو ہم نے کوئی تصدیق کہا؟ نہیں، وہ بھی تصدیق سے خارج ہے۔ اسی طرح وہ جو نسبت حکمیہ کا تصور تھا وہ بھی تصدیق سے 2 تو یہ اس تصدیق کے لیے شرط کے درجے میں ہے بھئی۔ سمجھ؟ تو گویا حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہوئی، بسيط۔ بسيطة، با، سین، یا اور طاء بھئی طاء، بسيط۔ بسيط اس چیز کو کہتے ہیں جس کے اجزاء نہ ہوں بھئی۔ بسيط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اجزاء نہ ہوں بھئی۔ تو یہاں بھی تصدیق صرف حکم کا نام ہے۔ ادھر توجہ ہے؟ صرف کس کا نام؟ حکم۔ اس کے کوئی اور اجزاء ہیں؟ اور اجزاء نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں اگر ان میں سے دو یا تین سے بنی ہوتی تو پھر ہم کہتے تصدیق کیا ہے؟ اس کا یہ بھی ایک جز ہے، یہ بھی ایک جز ہے، یہ بھی ایک جز ہے، اس کا حصہ ہے، لیکن یہ تو اس کے اندر داخل ہی نہیں، تصدیق تو صرف حکم کا نام ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا تصدیق کیا ہو گئی؟ بسيط ہو گئی یعنی اس کے اجزاء نہیں ہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ آگے امام رازی رحمہ اللہ کا بھئی، بہت بڑے عالم دین، منطقی اور فلسفی گزرے ہیں اور آج تک اللہ نے ان کو اتنی شہرت اور مقبولیت نصیب فرمائی، اللہ کے اتنے بڑے ولی تھے کہ آج بھی بچے بچے کی زبان پر ان کا نام ہے بھئی۔ تو یہ امام رازی رحمہ اللہ جو ہیں، یہ فرماتے ہیں کہ تصدیق جو ہے تصدیق، ان کے مجموعے، ان چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ تصدیق کیا ہے؟ ان چیزوں کے مجموعے کا نام ہے بھئی۔ کہ کیا ہو؟ تصورِ موضوع بھی ہو، تصورِ محمول بھی ہو اور اور نسبتِ تامّہ خبریہ ہو۔ تو ان تینوں کا مجموعہ اور ساتھ یقین بھی ہو اس کا، یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے ان کے نزدیک۔ تو ان کے نزدیک تصدیق مرکب ہوئی، اس کے اجزاء ہیں، یہ کئی چیزوں سے مل کر بنی ہے۔ جبکہ حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہے، اس کے اجزاء نہیں ہیں بھئی۔ یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا التَّصْدِيقُ، باقی تصدیق جو ہے فَهوَ عَلَى قَوْلِ الْحُكَمَاءِ، تو یہ حکماء کے قول پر عِبَارَةٌ عَنِ الْحُكْمِ الْمُقَارِنِ لِلتَّصَوُّرَاتِ۔ حکماء کے قول کے مطابق تصدیق عبارت ہے عَنِ الْحُكْمِ، اس حکم سے الْمُقَارِنِ، جو ملا ہوا ہے لِلتَّصَوُّرَاتِ، تصورات کے ساتھ۔ یہ کس چیز سے عبارت ہے؟ وہ حکم جو کس کے ساتھ ملا ہوا ہے؟ تصورات کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ نام ہے حکم کا، البتہ وہ حکم ملا کس کے ساتھ ہوا ہے؟ تین تصورات کے ساتھ۔ کون کون سے تین تصورات تھے؟ موضوع کا تصور، محمول کا تصور اور نسبتِ تامّہ خبریہ کا تصور۔ تو یقین آ گیا، تو یہ جو یقین ہے جو ان تین تصورات سے ملا ہوا ہے، یہ تین تصورات اس کے لیے شرط ہیں۔ جیسے وضو نماز کے لیے کیا ہوتا ہے؟ شرط۔ تو نماز وضو کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے یعنی وضو ہوگا تو نماز ہے، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں۔ تو شرط ہوگی تو مشروط کا بھی وجود ہے، شرط نہیں تو مشروط کا بھی وجود نہیں۔ تو یہ تین چیزیں تصدیق کے لیے شرط تو ہیں لیکن اس کے اندر داخل نہیں۔ یہ کس کا مذہب بیان ہو رہا ہے؟ فلاسفۂ یونان کا مذہب بیان ہو رہا ہے، کیونکہ وہی بات کر رہے ہیں۔ تصدیق کس کا نام بتایا تھا میں نے؟ حکم کا ان کے نزدیک۔ یہی کہہ رہے ہیں: تصدیق عبارت ہے عَنِ الْحُكْمِ، اس حکم سے الْمُقَارِنِ لِلتَّصَوُّرَاتِ، جو ملا ہوا ہو تصورات کے ساتھ۔ تصورات جمع کا صیغہ لائے بھئی۔ جمع کا اطلاق کم از کم کتنے افراد پر ہوتا ہے؟ تین افراد پر۔ تو تین تصورات یہاں آ گئے: ایک تصورِ موضوع، تصورِ محمول اور تصورِ نسبتِ نسبتِ خبریہ تامّہ بھئی۔ فَالتَّصَوُّرَاتُ الثَّلَاثَةُ شَرْطٌ لِوُجُودِ التَّصْدِيقِ، پس تین تصورات جو ہیں، وہ شرط ہیں وجودِ تصدیق کے لیے، تصدیق کے پائے جانے کے لیے۔ یہ تین تصورات شرط ہیں تصدیق کے پائے جانے کے لیے۔ یہ تین تصورات ہوں گے تو آگے پھر وہ حکم بھی آئے گا، یہ تین تصورات نہیں تو حکم بھی نہیں۔ جیسے وضو ہے تو نماز ہے، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں۔ تو یہ تین تصورات شرطٌ لِوُجُودِ التَّصْدِيقِ، وجود کا کیا معنی میں نے کیا؟ پایا جانا۔ لِوُجُودِ التَّصْدِيقِ، تصدیق کے پائے جانے کے لیے، یا تصدیق کے وجود کے لیے یہ تین تصورات شرط ہیں۔ وَمِنْ ثَمَّ، یاد رکھیے یہ ثُمَّ نہیں ہے، ثَمَّ ہے، اس میں اشارہ ہے۔ کیا ہے یہ؟ اس میں اشارہ ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ثَمَّ زَيْدٌ، وہ زید ہے، جیسے میں کہتا ہوں: ذٰلِكَ زَيْدٌ، تو اسی طرح ثَمَّ بھی کیا ہے اس میں اشارہ ہے۔ وَمِنْ ثَمَّ، اور اسی وجہ سے لَا يُوجَدُ تَصْدِيقٌ بِلَا تَصَوُّرٍ، تصدیق نہیں پائی جاتی بغیر تصور کے۔ کیونکہ تصور، تین تصور تصدیق کے لیے کیا ہو گئے؟ شرط ہو گئے۔ اور شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو شرط تو مشروط کے ہونے کے لیے شرط کا ہونا ضروری۔ تو تصدیق کے ہونے کے لیے ان تصورات کا ہونا ضروری ہے۔ وَالْإِمَامُ الرَّازِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ، جبکہ امام رازی رحمہ اللہ جو ہیں، وہ فرماتے ہیں: إِنَّهُ عِبَارَةٌ عَنْ مَجْمُوعِ الْحُكْمِ، کہ تصدیق یہ عبارت ہے مجموعۂ حکم وَتَصَوُّرَاتِ الْأَطْرَافِ، اور وہ جو اطراف کے تصورات ہیں تینوں ان کے ان کا حکم اور تصوراتِ اطراف کا مجموعہ بھئی۔ طرف کہتے ہیں جانب کو، جانب کو۔ تینوں جانب کے تصورات، وہی تین تصورات بھئی: تصورِ موضوع، تصورِ محمول اور تصورِ نسبتِ نسبتِ تامّہ خبریہ۔ یہ تصوراتِ اطراف اور حکم کے مجموعے سے عبارت ہے یعنی اس مجموعے کو تصدیق کہا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حکماء کے نزدیک تصدیق ہوئی بسيط، اس کے اجزاء نہیں، صرف حکم کا نام ہے۔ اور تصوراتِ ثلاثہ اس کے لیے شرط، جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ چاروں سے مرکب ہے بھئی، جی چاروں سے۔ الحكم وتصورات الأطراف، حکم اور تینوں، تینوں اطراف کے تصورات بھئی۔ فَإِذَا، دیکھیے اب خود مثال سے وضاحت کر رہے ہیں۔ فَإِذَا قُلْتَ زَيْدٌ قَائِمٌ، پس جب آپ نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، وَأَذْعَنْتَ بِقِيَامِ زَيْدٍ، اور آپ نے قیامِ زید کو تسلیم کر لیا، کیا کر لیا؟ آپ نے قیامِ زید کو تسلیم کر لیا یعنی اس کا یقین کر لیا۔ يَحْصُلُ لَكَ عُلُومٌ ثَلَاثَةٌ، تو آپ کو تین علوم حاصل ہو گئے۔ أَحَدُهَا عِلْمُ زَيْدٍ، ایک کیا ہے؟ ان تین میں سے ایک جو ہے وہ زید کا علم یعنی زید کا تصور ہے۔ وَثَانِيهَا إِدْرَاكُ مَعْنَى قَائِمٍ، اور دوسرا کیا ہے؟ قائم کے معنی کا جاننا کہ قائم کسے کہتے ہیں۔ میں نے عالم کی مثال ذکر کر دی، یعنی قائم کے معنی کا تصور۔ ایک زید کا تصور، دوسرا قائم کے معنی کا تصور۔ وَثَالِثُهَا، اور تیسرا جو ہے عِلْمُ الْمَعْنَى الرَّابِطِ، اس معنیِ رابط کا علم۔ وہ جو ربط دینے والا معنی ہے جسے کیا کہا؟ نسبتِ حکمیہ، نسبتِ حکمیہ یا نسبتِ تامّہ خبریہ بھئی۔ تو اس ربط دینے والے معنی کا تصور الَّذِي يُعَبَّرُ عَنْهُ فِي الْفَارِسِيَّةِ بـ "هَسْتْ"، وہ معنیِ رابط جس کو تعبیر کیا جاتا ہے فارسی زبان کے اندر "ہست" کے ساتھ فِي الْإِيجَابِ، اس ایجاب کا معنی اثبات، پہلے بات گزر چکی ہے۔ اثبات کے اندر اس کو کس سے فارسی میں تعبیر کرتے ہیں؟ "ہست" کے ساتھ۔ وَ"نِيسْتْ" فِي السَّلْبِ، اور "نیست" کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں سلب میں یعنی نفی کے اندر بھئی۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: زید عالم ہست، زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ زید عالم نیست، زید عالم نہیں ہے۔ تو یہ "ہے" کے ذریعے اور "نہیں ہے" کے ذریعے دونوں میں ربط آ گیا بھئی۔ زید عالم، اس سے بات پوری نہیں ہوئی۔ جب "ہست" کہا: زید عالم ہے، یا زید عالم نیست: زید عالم نہیں ہے، تو اب بات پوری ہو گئی۔ معلوم ہوا یہ جو "ہے"، یہ جو "ہست" ہے اور "نیست" ہے اس سے کیا ہو رہا ہے؟ ان میں ربط آ رہا ہے، کیا آ رہا ہے؟ ربط آ رہا ہے۔ اردو میں اس کے لیے لفظ "ہے" ہے۔ فارسی میں تھا "ہست"، اردو میں "ہے"۔ اور فارسی میں تھا "نیست"، اور اردو میں "نہیں ہے" بھئی۔ تو یہ فارسی میں "ہست" ایجاب کے اندر اور "نیست" نفی کے اندر، وَ"هَے" وَ"نَهِے" فِي الْهِنْدِيَّةِ، اور ہندیہ یعنی اردو زبان کے اندر "ہے" اور "نہیں" کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔ "ہے" کون سی صورت میں؟ اثبات، ایجاب کی صورت میں "ہے" کہتے ہیں۔ اور سلب یعنی نفی کی صورت میں "نہیں" کہتے ہیں۔ وَيُقَالُ لِهٰذَا الْمَعْنَى، اور کہا جاتا ہے اس معنی کو، یہ جو "ہے" اور "نہیں"، یہ جو معنیِ رابط بیان کیا بھئی، ربط دینے والا معنی، اس کو کہا جاتا ہے اَلْحُكْمُ، حکم کہا جاتا ہے تَارَةً، تارۃً: وقت بھئی، ایک وقت میں۔ ایک وقت اس کو حکم کہا جاتا یعنی کسی وقت اس کو حکم کہا جاتا ہے۔ وَالنِّسْبَةُ الْحُكْمِيَّةُ أُخْرَى، اور أُخْرٰى یعنی تَارَةً أُخْرٰى، موصوف محذوف ہے۔ دوسرے وقت میں اس کو نسبتِ حکمیہ کہا جاتا ہے۔ ایک وقت میں اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ وَيُقَالُ لِهٰذَا الْمَعْنَى، اور کہا جاتا ہے اس معنی کو، کون سا معنی؟ یہ جو اوپر بیان ہوا معنیِ رابط، یہ جو ربط دینے والا معنی ہے نسبتِ حکمیہ خبریہ تامّہ، اس نسبتِ حکمیہ کو کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ حکم کہہ دیتے ہیں۔ اور کبھی اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ نسبتِ حکمیہ کہہ دیتے ہیں، وَالنِّسْبَةُ الْحُكْمِيَّةُ أُخْرَى، اور کبھی نسبتِ... ترجمے پر نظر ہے؟ تارۃً کا کیا معنی میں نے کیا؟ کسی وقت۔ اور تارۃً اخرى: کسی دوسرے وقت۔ با محاورہ ترجمہ یوں ہوگا: اور کہا جاتا ہے اس معنی کو کبھی حکم اور کبھی نسبتِ حکمیہ۔ اس کو کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ اسی معنی، یہ جو ربط دینے والی چیز ہے اسی کو کبھی کہہ دیتے ہیں حکم ہے اور کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ نسبتِ حکمیہ۔ یعنی یہ دونوں ایک چیز ہیں، لیکن میں نے بتایا حکم کے اندر فرق یہ ہے کہ اس کے اندر کیا ہوگا؟ یقین ہوگا بھئی، کیا ہوگا؟ یقین۔ تو نسبتِ حکمیہ وہی ربط دینے والی چیز ہے لیکن اسی کے ساتھ اگر یقین آ جائے تو اس کو حکم کہیں گے، اگر یقین نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ نسبتِ حکمیہ کہیں گے۔ فَإِذَا أَتْقَنْتَ مَا عَلَّمْنَاكَ، پس جب آپ نے پختہ کر لیا، فَإِذَا أَتْقَنْتَ، پس جب آپ نے پختہ کر لیا مَا، وہ جو کہ عَلَّمْنَاكَ، ہم نے آپ کو سکھا دیا۔ یہ جو ہم نے آپ کو ابھی سکھایا، جو پڑھایا ابھی اس بات کو جب آپ نے کیا کر لیا؟ پختہ کر لیا، اس کو جان لیا فَاعْلَمْ، تو تو جان لے أَنَّ الْحَكِيمَ يَزْعُمُ، کہ حکیم جو ہے وہ اعتقاد کرتا ہے۔ زعم کے معنی اعتقاد کرنے کے بھی ہیں، زعم کہنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ زعم کے معنی اعتقاد کرنے کے بھی ہیں اور کہنے کے بھی ہیں۔ تو یہاں جو بھی ترجمہ آپ مناسب سمجھتے ہیں یوں کر لیں: أَنَّ الْحَكِيمَ يَزْعُمُ، حکیم اعتقاد، یعنی فلسفی اعتقاد کرتا ہے، اس کا یہ اعتقاد ہے۔ یا یوں کر لیں: فلسفی یوں کہتا ہے کہ أَنَّ التَّصْدِيقَ لَيْسَ إِلَّا إِدْرَاكَ الْمَعْنَى الرَّابِطِ، کہ تصدیق نہیں ہے مگر وہ معنیِ رابط کا ادراک۔ وہ جو معنیِ رابط تھا اس کا ادراک۔ فلسفی نے کیا کہا بھئی؟ حکماء کیا کہتے ہیں؟ تصورِ موضوع تھا ایک، تصورِ محمول تھا، ایک نسبتِ تامّہ خبریہ تھی، یہ تین تصورات تھے اور ایک حکم تھا۔ فلسفی کیا کہتا ہے؟ کس کا نام تصدیق ہے؟ حکم کا نام تصدیق ہے۔ کس کا نام؟ حکم کا نام تصدیق ہے۔ تو فلسفی یہی بات تو بیان کر رہے ہیں۔ فلسفی یہ کہتا ہے کہ أَنَّ التَّصْدِيقَ لَيْسَ إِلَّا إِدْرَاكَ الْمَعْنَى الرَّابِطِ، تصدیق نہیں ہے مگر اس معنیِ رابط کا ادراک۔ صرف اس معنیِ رابط، وہی معنیِ رابط وہ جو نسبتِ حکمیہ تامّہ خبریہ تھی اس کا ادراک یعنی اس کا یقین کر لینا۔ کیا کر لینا؟ اس کا یقین کر لینا۔ وَالْإِمَامُ يَزْعُمُ، جبکہ امام کا گمان یہ ہے، جبکہ امام رازی رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں، یہ اعتقاد کرتے ہیں یوں کر لیں، یا امام رازی رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں کہ أَنَّ التَّصْدِيقَ مَجْمُوعُ الْإِدْرَاكَاتِ الثَّلَاثَةِ، کہ تصدیق وہ نام وہ مجموعہ ہے تین ادراکات کا، أَعْنِي تَصَوُّرَ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ، یعنی تصورِ محکوم علیہ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، موضوع کو جو پہلے آتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ محکوم علیہ بھی، موضوع بھی کہتے ہیں اور محکوم علیہ بھی۔ اور جو بعد میں آئے اس کو محمول بھی کہتے ہیں اور محکوم بہ بھی۔ یہی بات کر رہے ہیں کہ تین ادراکات، أَعْنِي تَصَوُّرَ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ، یعنی محکوم علیہ کا تصور وَتَصَوُّرَ الْمَحْكُومِ بِهِ، اور محکوم بہ کا تصور۔ وَإِدْرَاكَ النِّسْبَةِ الْحُكْمِيَّةِ، اور نسبتِ حکمیہ کا ادراک الْمُسَمَّى بِالْحُكْمِ، جو مسمّیٰ ہے کس کے ساتھ؟ حکم، جسے حکم کہا جاتا ہے، جسے کیا کہا جاتا ہے؟ حکم کہا جاتا ہے۔ تو یہاں بات، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہاں عبارت میں شارح، مصنف کی عبارت میں تھوڑا سا خلل ہے کہ پہلے انہوں نے کہا کہ امام، اوپر اوپر کہا تھا امام رازی کسے کہتے، امام رازی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کتاب پر دیکھیے کہ تصدیق کس کا نام ہے؟ حکم اور تصوراتِ ثلاثہ۔ معلوم ہوا کتنی چیزیں آ گئیں؟ چار چیزیں، تین تصورات اور ایک حکم یعنی اس کا یقین۔ اور یہاں کیا فرما رہے ہیں کہ امام کیا فرماتے ہیں کہ تصدیق نام کس چیز کا ہے؟ ادراکاتِ ثلاثہ، ادراکاتِ ثلاثہ۔ تو یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ ادراکِ نسبتِ حکمیہ کے اندر وہ تصور بھی آ گیا، نسبتِ حکمیہ کا تصور اور پھر اس کے ساتھ کیا آ جائے؟ یقین بھی آ جائے۔ یقین بھی آ جائے بھئی۔ ترجمہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ دوبارہ ضرورت تو نہیں ترجمہ کرنے کی؟ تو دوبارہ سن لیں، خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ اس سے پہلے آپ نے تصور کے بارے میں پڑھا تھا اور تصور میں حکم نہیں تھا۔ آج آپ نے تصدیق کے بارے میں پڑھا اور دو مذاہب پڑھ لیے، اور مذاہب کی تفصیل میں کرتے ہوئے میں نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر تین تصورات ہیں اور ایک حکم ہے۔ ایک موضوع کا تصور، ایک محمول کا تصور اور ایک نسبتِ تامّہ خبریہ کا تصور۔ یہ تین تصورات ہوں اور اس کے ساتھ چوتھی چیز ایک حکم یعنی یقین ہو جائے اس نسبتِ خبریہ تامّہ کا تو یہ کیا ہے؟ تصدیق کہلائے گی۔ تو پھر اس میں اختلاف ہے، حکماء فرماتے ہیں کہ صرف یہ جو حکم ہے، یہ جو ان تین تصورات کے ساتھ یہ جو حکم آ کر ملا، صرف اس حکم کا نام کیا ہے؟ تصدیق۔ تو ان کے نزدیک تصدیق کیا ہوئی؟ بسيط ہوئی۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم اور اس کے ساتھ یہ تینوں تصورات ان کے مجموعے کا نام کیا ہے؟ تصدیق۔ 3 تصدیق ہے۔ ان کے مجموعے کا نام تصدیق ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہوئی، کیونکہ صرف حکم کا نام ہے، اس کے اجزاء نہیں۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اس مجموعے کا نام، سارے کا نام تصدیق ہے۔ معلوم ہوا یہ سارے کیا تصدیق کیا ہو گئی، مرکب ہو گئے۔ حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط، امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہو گئی بھئی۔ تو دونوں میں فرق مولانا، دو تین فرق ہو گئے۔ پہلا فرق تو یہی حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہے۔ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہے۔ کیا ہے؟ مرکب ہے، بسيط نہیں۔ دوسرے، دوسرا فرق بھئی، حکماء کے نزدیک جو ہے کہ تصوراتِ ثلاثہ جو ہیں تصوراتِ ثلاثہ، یہ تصدیق سے خارج ہیں، اس کے لیے شرط ہیں۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصوراتِ ثلاثہ تصدیق کے اندر داخل ہیں، اس کا جزء ہیں بھئی۔ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں داخل ہیں، اس کا جزء ہیں۔ اور حکماء کے نزدیک تصوراتِ ثلاثہ تصدیق سے خارج ہیں، اس کے لیے شرط ہیں۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تصوراتِ ثلاثہ تصدیق کے اندر داخل ہیں اور اس کا جزء ہیں، جزء ہیں۔ تیسری بات، تیسرا فرق یہ کہ حکماء کے نزدیک تصدیق نفسِ حکم کا نام ہے۔ وہ جو حکم تھا، صرف اسی کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک نفسِ حکم تصدیق نہیں ہے، بلکہ حكم جو ہے تصدیق کا جزء ہے بھئی۔ حکم کیا ہے؟ تصدیق کا جزء۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تین فرق ہیں بھئی۔ اچھا بھئی، خلاصۂ بحث سن لیجیے بھئی۔ خلاصۂ بحث، کہ جیسے میں نے آپ کو بتایا کہ یہاں پر چار چیزیں ہیں بھئی۔ ایک موضوع کا تصور، صرف موضوع نہیں کہنا کہ موضوع۔ موضوع کا، موضوع کا تصور، محمول کا تصور، نسبتِ تامّہ خبریہ کا تصور، یہ تین ہو گئے تصورات۔ اور چوتھا ہے نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین بھئی۔ تو کتنی چیزیں ہو گئیں؟ چار۔ پہلی کیا؟ موضوع کا تصور۔ دوسرا، محمول کا تصور۔ تیسرا، نسبتِ تامّہ خبریہ کا تصور۔ اور چوتھی چیز، نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین، اس کا اذعان بھئی۔ یہ چار چیزیں ہیں یہاں پر، چار۔ تو حکماء کہتے ہیں کہ ان چار میں سے جو آخری چیز ہے یعنی نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین، اسے تصدیق کہا جاتا ہے۔ حکماء کیا کہتے ہیں؟ آخری چوتھی چیز جو میں نے ذکر کی، نسبتِ تامّہ خبریہ، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ یہ نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین جسے حکم کہتے ہیں۔ حکم کسے کہتے ہیں؟ ہاں، پوری بات کرو، نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین حکم کہلاتا ہے۔ تو یہ چوتھی چیز ہے۔ پہلی چیز ہوئی موضوع کا تصور، دوسری چیز ہوئی محمول کا تصور، تیسری چیز ہوئی نسبتِ تامّہ خبریہ کا تصور، اور چوتھی چیز ہوئی نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین جسے کیا کہتے ہیں؟ حکم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حکم۔ تو حکماء یعنی فلاسفۂ یونان فرماتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان چار چیزوں میں سے یہ جو آخری چیز ہے یعنی نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین، اس کا کیا نام میں نے رکھا؟ حکم۔ اس حکم، یہ حکم تصدیق ہے۔ تصدیق صرف اس حکم کا نام ہے۔ باقی تین چیزیں تصدیق کے اندر داخل نہیں ہیں، وہ اس سے خارج۔ صرف اس حکم کا نام تصدیق ہے، اور یہ تین چیزیں جو ہیں یہ اس کے لیے تصدیق کے لیے شرط ہیں۔ بھئی، جب آپ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کرتے ہیں اور اس کا یقین کرتے ہیں تو وہ تین چیزیں بھی تو ہونی چاہئیں، پھر ہی یقین کریں گے بھئی۔ موضوع کا بھی تصور ہو، یعنی اس کا بھی علم ہو۔ محمول کا بھی تصور، یعنی اس کا بھی علم ہو آپ کو۔ پھر ان دونوں کے درمیان نسبتِ تامّہ خبریہ کا اس اس کے درمیان جو ہے وہ تعلق اور ربط بھی حاصل ہو بھئی، وہ نسبتِ تامّہ خبریہ۔ یعنی اس کا تصور، یعنی اس کا علم۔ تو تیسری چیز ہوئی نسبتِ تامّہ خبریہ کا علم۔ اور چوتھا ہے پھر اس نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین جسے کیا کہتے ہیں؟ حکم۔ تو حکماء کہتے ہیں کہ یہ جو حکم ہے، یہ ہے تصدیق۔ اور باقی تین چیزیں تصدیق سے ہوئیں خارج۔ وہ تصدیق کے اندر داخل نہیں۔ تو وہ تین چیزیں تصدیق کے لیے شرط ہیں بھئی۔ کیا ہیں؟ شرط ہیں۔ تو یہ شرط ہوئیں اور حکم ہوا مشروط بھئی۔ اور مشروط تب ہی پایا جاتا ہے جب شرط پائی جائے۔ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ جس کی مثال سے میں نے وضاحت کی تھی، جیسے وضو ہے تو نماز ہے، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں۔ کیونکہ نماز کے لیے پاکی اور وضو یہ شرط ہے، تو اگر وضو ہوا، پاکی حاصل ہوئی آپ کو تو آپ نماز پڑھیں گے، نماز ہو جائے گی، اگر ویسے پڑھیں گے تو نماز نہیں ہوگی۔ تو لہٰذا حکماء کے نزدیک تصدیق نام ہے صرف کس چیز کا؟ حکم کا۔ اور وہ جو تین تصورات ہیں یعنی تصورِ موضوع، تصورِ محمول اور تصورِ نسبتِ تامّہ خبریہ، یہ تین تصورات اس حکم کے لیے یعنی اس تصدیق کے لیے شرط ہیں۔ ان کا ہونا بھی تصدیق کے لیے ضروری ہے، تو یہ اس کے لیے کیا ہوئے؟ شرط ہوئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حکماء کے نزدیک تصدیق صرف کس چیز کا نام ہے؟ حکم کا۔ حکماء کے نزدیک تصدیق کس چیز کا نام ہے؟ حکم کا۔ اور اس کے لیے کیا چیزیں ضروری ہیں؟ تین تصورات ضروری ہیں۔ دوبارہ دہرائو زبان سے بھئی۔ حکماء کے نزدیک تصدیق صرف کس چیز کا نام ہے؟ حکم کا۔ اور اس کے لیے کتنی چیزوں کا ہونا ضروری؟ تین، یعنی اور وہ تین تصورات ہیں، تو تصدیق کے لیے کتنے چیزوں کا ہونا ضروری؟ تین تصورات کا ہونا ضروری، وہ اس کے لیے شرط ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ اس کے لیے شرط ہیں اور وہ تین تصورات کیا کیا ہیں؟ موضوع، محمول نہیں کہنا۔ موضوع کا تصور، محمول کا تصور، نسبتِ تامّہ خبریہ اس کا تصور بھئی، اس کا تصور بھئی۔ اور اماں، جبکہ ان کے مقابلے میں امام رازی رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ ان، یرحمک اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ صرف حکم کا نام تصدیق نہیں ہے، بلکہ تینوں تصورات اور حکم، یہ چاروں چیزوں کے مجموعے کا نام کیا ہے؟ تصدیق ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ان کے مجموعے کا نام تصدیق ہے بھئی۔ جو حکماء تھے، ان کے نزدیک تصدیق کے اجزاء نہیں، کیونکہ وہ تو ایک ہی چیز کا نام تھا حکم، کس چیز کا؟ حکم کا۔ اور باقی تین تصورات، وہ تو اس سے خارج ہیں، شرط ہیں اس کے لیے۔ تو وہ تصدیق سے خارج ہوئے۔ تو لہٰذا تصدیق صرف کس چیز کا نام ہے حکماء کے نزدیک؟ یہ حکم کا نام ہے بھئی، حکم کا نام ہے۔ تو ان کے نزدیک تصدیق بسيط ہوئی۔ بسيط کس کو کہتے ہیں؟ جس کے اجزاء نہ ہوں بھئی۔ تو اس کے اجزاء ہیں ہی نہیں، یہ ایک چیز کا نام ہے۔ دو کا نام ہوتا تو ہم کہتے اس کا ایک یہ جزء ہے، ایک یہ جزء ہے، لیکن اس کے تو اجزاء نہیں۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ چاروں کے مجموعے کا نام تصدیق ہے۔ تو ان کے نزدیک تصدیق مرکب ہوئی۔ یہ چاروں چیزیں اس کے اجزاء بن گئیں بھئی۔ یہ تصورِ موضوع بھی ہوگا، تصورِ محمول بھی ہوگا، نسبتِ تامّہ خبریہ کا تصور بھی ہوگا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ حکم بھی آ جائے۔ تو یہ چاروں چیزیں ملیں گی تو پھر کیا کہلائیں گی؟ تصدیق۔ تو یہ چاروں تصدیق کے اجزاء ہوئے۔ یہ بھی، پہلی چیز بھی جزء، دوسری بھی جزء، تیسری بھی جزء، چوتھی بھی جزء۔ تو اب تصدیق کے اجزاء ہیں یا اجزاء نہیں ہیں بھئی؟ اجزاء ہیں بھئی۔ تو امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مرکب ہوئی بھئی، کیونکہ اس کے اجزاء ہیں۔ جبکہ حکماء کے نزدیک تصدیق کیا ہو گئی؟ بسيط ہو گئی بھئی، بسيط بھئی۔ جس کے اجزاء نہ ہوں بھئی، اجزاء نہ ہوں۔ اس کے بعد میں نے آپ کو ان دونوں کے درمیان فرق بتلائے تھے، کچھ فرق بتلائے تھے۔ پہلا فرق یہی تھا کہ حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہے اور امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہے۔ پہلا فرق یہ۔ آسان سی بات ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کہ ان کے نزدیک تصدیق بسيط ہے، اس کے اجزاء نہیں ہیں، وہ صرف حکم کا نام ہے۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہے، یہ پہلا فرق۔ کیا ہوا پہلا فرق، دہرائیں ذرا۔ تصدیق مرکب ہے امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک، شاباش بھئی۔ دوسرا فرق یہ ہوا تھا کہ کہ جو تین تصورات ہیں، تین تصورات، کون سے تین تصورات؟ شاباش، یہ جو تین تصورات ہیں، حکماء کے نزدیک یہ تصدیق سے خارج ہیں، اس کے لیے شرط ہیں۔ اور امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تصدیق کے اندر داخل ہیں، اس کا جزء ہیں بھئی۔ یہ کیا ہیں اس کا؟ تو کیا فرق ہوا دوسرا؟ کہ حکماء کے نزدیک تصوراتِ ثلاثہ تصدیق سے خارج اور تصدیق کے لیے شرط ہیں۔ اور امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تصوراتِ ثلاثہ تصدیق کا جزء ہیں، کیونکہ اس کے اندر داخل ہیں، وہ چاروں سے مل کر بنتی ہے۔ یہ دوسرا فرق ہوا۔ اور تیسرا جو ہے کہ تصدیق جو ہے نفسِ حکم کا نام ہے فلاسفۂ یونان کے نزدیک۔ چوتھی چیز کا نام ہے بھئی، فلاسفہ کے نزدیک تصدیق کس چیز کا نام ہے؟ چوتھی، یعنی نفسِ حکم ہی کو ہم کیا کہتے ہیں؟ تصدیق۔ تو تصدیق جو ہے یہ نفسِ حکم ہی کا نام تصدیق ہے، یہ کس کے نزدیک؟ فلاسفۂ یونان یعنی حکماء کے نزدیک۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک حکم وہ نفسِ حکم، وہ تصدیق نہیں ہے، وہ تصدیق کا جزء ہے، اس کے اندر داخل ہے۔ کیونکہ تصدیق تو چار چیزوں کا ملا کر مجموعہ تھا، اس کا نام تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلی بات دوبارہ ذرا، پہلا فرق کیا ہے دونوں کے کیا فرق ہے؟ ہاں، حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہوئی اور امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک مرکب ہوئی، شاباش۔ دوسرا فرق یہ کہ وہ تصوراتِ ثلاثہ جو ہیں حکماء کے نزدیک تصدیق سے خارج ہیں اور اس کے لیے شرط، شرط ہیں۔ اور امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق کا جزء ہیں، اس کے اندر داخل ہیں بھئی۔ اور تیسرا فرق کیا ہوا کہ حکماء کے نزدیک تصدیق نفسِ حکم ہی کا نام ہے۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک حکم وہ تصدیق کے اندر داخل ہے، اس کا جزء ہے۔ تو نفسِ حکم تصدیق نہیں ہے، بلکہ نفسِ حکم تو تصدیق کا ایک جزء ہے، چار چیزوں میں سے یہ ایک چیز ہے، اس کا جزء ہے بھئی۔ جی، اب بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ سمجھ میں آیا بھئی، اس کی ایک اور مثال سے وضاحت سمجھ لیجیے بھئی۔ دیکھیے، چائے کن کن چیزوں سے بنتی ہے؟ دودھ ہوگا، چینی، پتی اور پانی ہوگا۔ چائے کن چیزوں سے بنی؟ دودھ، چینی، پانی اور پتی۔ اچھا، تو معلوم ہوا چائے کے لیے یہ چار چیزیں ہوں گی تو چائے بنے گی بھئی، چار چیزیں ہوں گی۔ صرف دودھ ہو تو اسے بھی چائے نہیں کہیں گے۔ صرف پانی ہو تو اسے بھی چائے نہیں کہیں گے۔ صرف پتی ہے تو اس کو بھی چائے نہیں کہیں گے۔ صرف چینی ہو تو اسے بھی چائے نہیں کہیں گے۔ یہ ساری چیزیں مل جائیں گی تو پھر ان کو کیا کہیں گے؟ چائے کہیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو امام رازی رحمہ اللہ بھی اسی طرح فرماتے ہیں کہ یہ چاروں چیزیں جو ہیں، یہ یہ تصدیق کے اجزاء ہیں۔ جیسے چائے چار چیزوں کے مجموعے اور مل جائیں اچھی طرح تو اس کو کہیں گے کیا کہیں گے؟ بھئی دیکھیے، آپ نے اب یہ چار چیزیں لیں بھئی۔ اور پھر ان چاروں کو ایک برتن میں ڈال دیا۔ کیا کیا؟ ایک برتن میں ڈال دیا۔ جیسے ہی برتن میں ڈالا، ان میں ربط آ گیا یا ربط نہیں آیا؟ ربط آ گیا۔ لیکن کیا اب اس کو چائے کہو گے؟ نہیں۔ جب تک اسے پکائو گے نہیں، تیار نہیں کرو گے، آپ اسے چائے نہیں کہہ سکتے۔ تو لہٰذا جب ان کو پکا لیں گے تو اب کہیں گے چائے۔ اب اسے کیا کہیں گے؟ چائے کہیں گے۔ تو دیکھو چائے کے لیے چینی کا ہونا بھی ضروری، پتی کا ہونا بھی ضروری، دودھ کا ہونا بھی ضروری اور پانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور پھر یہ چار چیزیں اکٹھی کر دو، ملا دو، ان میں ربط بھی آ گیا، لیکن ابھی بھی بات پوری نہیں ہوئی، چائے پوری طرح بنی نہیں۔ پھر اس کو جب آپ آگ پر پکائیں گے تو پھر کیا ہو جائے گی؟ چائے بن جائے گی۔ تو بس اسی طرح سمجھ لیجیے۔ یہ جو، یہاں پر جو ہیں، یہ ان اجزاء کا ہونا بھی ضروری چائے کے، پھر ان کا آپس میں ملنا بھی ضروری، ربط اور تعلق بھی ضروری، اور پھر اس کا پکنا یعنی اس کا یقین کرنا بھی ضروری ہے بھئی۔ تو حکماء کے نزدیک گویا وہ جو چائے کی آخری صورت حاصل ہو گئی، ساری چیزوں کے ساتھ اور اس کا آپ نے یقین بھی کر لیا، چائے بن گئی، تو اس کو کیا، یہ چائے صرف اس کا نام ہے، یہ آخری حالت کا بھئی، جو آخری حالت حاصل ہو گئی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور باقی چیزیں کہتے ہیں یہ چائے ہونے کے لیے شرط تو ضرور ہیں۔ لیکن اس کا، اگرچہ مثال میں تو جزء بن رہے ہیں، یہ ویسے سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ تو وہ ان کے نزدیک صرف آخری حالت کا نام کیا ہو گیا؟ تصدیق ہوا یعنی وہ حکم کا۔ اور باقی اس کے لیے چائے کے بنانے کے لیے چیزیں شرط ہیں بھئی۔ یہ ہوں گی تو چائے بنے گی، یہ نہیں ہوں گی تو چائے بھی نہیں۔ لیکن یہ خود چائے نہیں۔ چائے اس حالت کا نام ہے، آخری حالت جب پک... 4 صورۃ سمجھ میں آ گئی؟ جب کہ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ گویا کہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں ملیں گی تو پھر ہی چائے کہلائے گی۔ اس میں آخری حالت کا ہونا بھی ضروری، اس سے ساتھ ساتھ چینی، پتی، دودھ وغیرہ کا ہونا بھی ضروری تو وہ ان ساروں کے مجموعے کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ اس کو تصدیق کہتے ہیں اور حکما صرف کس کو کہتے ہیں؟ آخری حالت کو کہتے ہیں بھئی، آخری حالت کو۔ تو آپ کے سامنے دو تعریفیں آ گئیں تصدیق کی بھئی، ایک حکما کی تعریف کرتے ہیں ایک امام رازی۔ تعریف بھی نوٹ کر لیں بھئی، کتاب کے اندر دیکھیں کیا کہا: قول الحکما عبارۃ عن الحکم المقارن للتصورات۔ الحکم المقارن للتصورات یہ ہے حکما کے نزدیک تصدیق کی تعریف، یہ آپ کو یاد ہونی چاہیے بھئی، عربی لفظ کے ساتھ الحکم المقارن للتصورات وہ حکم جو ملا ہوا ہے للتصورات تین تصورات کے ساتھ اس حکم کا نام کیا ہے؟ تصدیق ہے حکم کا نام۔ لیکن یہ حکم ملا کس کے ساتھ ہوا ہے؟ تین تصورات کے ساتھ، تو وہ تین تصورات اس کے لیے کیا ہو گئے؟ شرط ہو گئے۔ تو لیکن تصدیق خود کس چیز کا نام ہے؟ حکم، الحکم کس کا نام ہے؟ حکم کا نام ہے، لیکن وہ حکم ملا ہوا ہے المقارن کس کے ساتھ؟ تین تصورات کے ساتھ۔ اور امام رازی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک نیچے آیا مجموع الحکم والتصورات مجموعہ حکم کا اور تین تصورات کا یہ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تعریف ہو گئی، حکم بھی ہو اور تین تصورات بھی ہوں ان کا مجموعہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ چلیے بس یہی راہ ہو الما، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
108 approved lectures · 11 of 108