Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 7 1 اعلم ان العلم يطلق على معان احدها حصول صورة الشيء في العقل ثانيها الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل ثالثها الحاضر عند المدرك رابعها قبول النفس لتلك الصورة خامسها الإضافة الحاصلة بين العالم والمعلوم بھئی، گزشتہ سبق میں علم کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا کہ علم کے معنی جاننے کے ہیں بھئی۔ تو کسی چیز کی جو صورت اور الگ پہچان ہمارے ذہن میں ہے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ علم۔ مثلاً، جو مختلف جگہوں کی صورتیں ہیں، اسی طرح مختلف لوگوں کی صورتیں ہیں، پھلوں وغیرہ کی صورتیں ہیں اور یہ تمام چیزیں جن کو آپ دیکھتے ہیں ان کی صورتیں ہیں اور اسی طرح ہر خوشبو کی الگ پہچان ہے ہمارے ذہن میں، اسی طرح ذائقوں کی پہچان ہے، ان چیزوں کو کیا کہا جاتا ہے؟ علم۔ علم کہا جاتا ہے۔ اب علماء کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ علم مبدء انکشاف ہے۔ علم کیا ہے؟ مبدء انکشاف ہے۔ مبدء کے معنی سرچشمہ بھئی، سرچشمہ۔ سمجھ میں آیا؟ جہاں سے کوئی چیز شروع ہوتی ہے، پھوٹتی ہے، نکلتی ہے۔ اور انکشاف کے معنی ہیں واضح ہو جانے کے، کسی چیز کا واضح ہو جانا اور اس کا پتہ لگ جانا، اس کا روشن ہو جانا۔ تو علم جو ہے مبدء انکشاف ہے، علم سے چیز واضح ہو جاتی ہے بھئی، اس کا پتہ چل جاتا ہے، چیز واضح ہو جاتی ہے انسان کے لیے۔ مثلاً، ایک گہری سیاہ رات ہو، ہر طرف سخت اندھیرا چھایا ہوا ہو اور پھر آپ ایک کمرے کے اندر بھی ہوں، وہاں بھی سخت اندھیرا چھایا ہوا ہے، تو آپ کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا، حتیٰ کہ اپنا ہاتھ بھی دکھائی نہ دے بھئی۔ اب اس تاریکی کے اندر ایک چراغ آپ روشن کرتے ہیں، چراغ روشن کرتے ہی چیزیں کیا ہو گئیں؟ آپ کے سامنے واضح ہو گئیں، منکشف ہو گئیں۔ تو اسی طرح علم جس طرح اس چراغ سے یہ چیزیں منکشف ہو گئیں، یہ واضح ہو گئیں، آپ کو ان کا پتہ لگ گیا، اسی طرح علم جو ہے یہ بھی ایک نور ہے، اس کے ذریعے چیزیں کیا ہوتی ہیں؟ واضح ہو جاتی ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ تو علم سے چیز واضح ہو جاتی ہے، روشن ہو جاتی ہے، انسان کو اس کا پتہ چل جاتا ہے بھئی۔ تو اس بات پر تو علماء کا اتفاق ہے کہ علم کیا ہے؟ مبدء انکشاف ہے۔ اس پر تو اتفاق ہوا علماء کا کہ مبدء انکشاف ہے، البتہ اس کی تعریف اور حقیقت میں تعریف میں اختلاف کرتے ہیں علماء، کئی تعریفیں کیں جو آگے کتاب میں آ رہی ہیں بھئی۔ یاد رکھیے انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک قوت دی ہے جس کے ذریعے وہ علم حاصل کرتا ہے مختلف چیزوں کا اور یہ قوت مدرکہ، ادراک کا معنی ہے جاننے کے، جاننے کے بھئی۔ تو یہ قوت مدرکہ جس کے ذریعے چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے انسان، اس کو عقل کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ عقل، تو عقل قوت مدرکہ کا نام ہے انسان میں اللہ نے ایک قوت رکھی ہے بھئی۔ اور عقل کے ذریعے انسان چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے اور تو یہ انسان کو ایک آلہ دیا بھئی، جیسے آپ قلم کی مدد سے لکھتے ہیں تو قلم لکھنے کا آلہ ہے بھئی۔ اسی طرح جس کی نظر کمزور ہوتی ہے تو وہ عینک کے استعمال کرتا ہے اس کے ذریعے دیکھتا ہے تو یہ عینک اس کے لیے دیکھنے کا آلہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جیسے گاڑی آپ کے لیے سفر کا آلہ ہے ایک۔ تو وہ جس کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے اسے آلہ کہا جاتا ہے۔ تو اسی طرح یہ ادراک کے لیے اللہ نے ایک آلہ دیا ہے انسان کو، ایک قوت دی ہے، اسے عقل کہتے ہیں۔ اور اس عقل کو آگے پھر آگے اللہ نے آلات فراہم کیے جس کے ذریعے وہ مختلف قسم کے علم حاصل کرتی ہے۔ جیسے ایک حکومت کا محکمہ ہوتا ہے وہ مختلف قسم کی ملک کے اندر کی خبریں حکومت کو پہنچاتا ہے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے بھئی۔ اور پھر اس محکمے کے آگے اس میں لوگ ہوتے ہیں ہر ایک مختلف قسم کی خبریں پہنچاتا ہے۔ تو اسی طرح انسان کو بھی اللہ نے ایک آلہ دیا جس کے ذریعے وہ علم حاصل کرتا ہے، اس کا نام عقل ہے اور اس عقل کو پھر آگے اللہ نے آلات فراہم کیے جس کے ذریعے وہ مختلف قسم کا علم حاصل کرتی ہے بھئی۔ مثلاً بھئی، اس عقل کو قوت باصرہ دی اور آلے کے طور پر باصر دیکھنے کی قوت بھئی، اور اسے اللہ نے آنکھوں میں رکھا ہے۔ آنکھوں میں اللہ نے کون سی قوت رکھی ہے؟ قوت باصرہ، قوت باصرہ ص کے ساتھ بھئی، دیکھنے کی طاقت۔ اسی طرح ایک قوت شامہ ہے، سونگھنے کی قوت بھئی، یہ اللہ نے ناک میں رکھی ہے بھئی، کسی چیز کی خوشبو اور بدبو کا پتہ اس سے چلتا ہے۔ اور اسی طرح سننے کے لیے قوت سامعہ اللہ نے دی، قوت سامعہ اللہ نے کان میں رکھی ہے جس سے ہم مختلف قسم کی اور مختلف لوگوں کی آوازوں میں فرق کرتے ہیں اور ان کو جانتے ہیں۔ اسی طرح اللہ نے ایک قوت لامسہ دی بھئی، چھونے کی قوت، چھونے کی۔ آپ کسی چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں بے شک آنکھیں بند ہوں آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سخت چیز ہے یا نرم چیز ہے، خشک ہے یا تر ہے، کھردری ہے یا ہموار ہے وغیرہ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کیا ہے قوت لامسہ، قوت لامسہ۔ اور اسی طرح ایک قوت ذائقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے زبان میں رکھی ہے، کسی چیز کو اس کے ذریعے اس قوت ذائقہ کے ذریعے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کوئی چیز کڑوی ہے یا میٹھی ہے یا پھیکی ہے، نمکین ہے یا کھٹی ہے وغیرہ بھئی۔ تو یہ عقل کے ذرائع ہیں جن کے ذریعے وہ مختلف قسم کا علم حاصل کرتی ہے۔ آنکھ کے، آنکھ میں کون سی قوت رکھی؟ قوت باصرہ، تو آنکھ سے جو چیز آنکھوں سے دکھائی دینے والی ہیں ان کا علم اس کے ذریعے حاصل ہو گا۔ قوت سامعہ کے ذریعے آوازوں کا پتہ چلتا ہے، قوت شامہ کے ذریعے خوشبو وغیرہ کا پتہ چلتا ہے اور قوت لامسہ کے ذریعے بھی مختلف قسم کی کوئی چیز سخت ہے، نرم ہے، کھردری ہے، ہموار ہے وغیرہ ان چیزوں کا پتہ چلتا ہے بھئی۔ اور اسی طرح قوت ذائقہ کے ذریعے ذائقوں کا۔ تو یہ پانچ آلات اللہ نے عقل کو دیے ہیں بھئی، پانچ آلات بھئی۔ اور ان کے ذریعے تو آنکھوں کے ذریعے جو نظر آنے والی چیزیں ہیں ان کا علم حاصل ہوتا ہے، قوت ذائقہ کے ذریعے ذائقوں کا پتہ چلتا ہے، قوت سامعہ کے ذریعے آوازوں کا پتہ چلتا ہے، قوت لامسہ کے ذریعے بھی مختلف قسم کے بعض علوم حاصل ہوتے ہیں جیسے میں نے ابھی بیان کیا اور قوت شامہ، قوت شامہ جو ہے اس کے ذریعے خوشبوؤں وغیرہ میں فرق ہوتا ہے ان کا علم ہوتا ہے۔ تو یہ عقل کے آلات ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عقل جیسے میں نے بتایا ایک محکمہ حکومت نے بنایا اور پھر آگے اس کے اندر مختلف لوگ کام کرنے والے ہیں، مختلف قسم کے خبریں لاتے ہیں تو یہ اس کے عقل کے یہ پانچ آلات ہیں بھئی۔ اب علم کا میں نے بتایا اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ علم کیا ہے؟ مبدء انکشاف ہے یعنی انکشاف کا سرچشمہ ہے، اس سے چیز واضح ہو جاتی ہے، روشن ہو جاتی ہے، انسان کو اس کا پتہ لگ جاتا ہے لیکن اس کی تعریف میں ہے علماء کا اختلاف ہے اور پانچ تعریفیں کریں گے یہاں پر مصنف رحمہ اللہ بھئی۔ تو وہی بات بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں اعلم جان لے ان العلم يطلق على معان علم کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے۔ معانی جمع ہے معنی کی۔ تو علم جو ہے اس کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے، اطلاق کا معنی ہے بولا جانا، علم کئی معانی پر بولا جاتا ہے، یہ معنی یہ بھی علم ہے، یہ معنی یہ بھی علم ہے، تو یہ کئی معانی پر بولا جاتا ہے جو وہ آگے ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو یہ آگے جو ذکر ہو رہے ہیں ایک حصول صورت ہے، ایک صورت حاصلہ ہے، ایک الحاضر عند المدرک ہے، تو حصول صورت جو ہے اس پر اس کو بھی علم کہتے ہیں، اس پر بھی لفظ کیا بولا جاتا ہے؟ علم۔ اور دوسرا وہ جو صورت حاصل ہوئی اس پر بھی بولا جاتا ہے کہ یہ علم ہے، تیسرا الحاضر عند المدرک اس پر بھی اطلاق ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ علم۔ چوتھا نفس کا صورت کو قبول کر لینا یہ بھی کیا کہلاتا ہے؟ علم۔ اور پانچواں جو ہے وہ اضافت، وہ نسبت، وہ تعلق جو حاصل ہو جائے عالم اور معلوم کے درمیان اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ علم کہتے ہیں۔ علم کہتے ہیں۔ تو علم کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے۔ احدها احدها، یہ ھا ضمیر راجع ہے معانی کو، ان معانی میں سے ایک یہ ہے، پہلا بیان کرنے لگے ہیں ان معانی میں سے ایک یہ ہے: احدها، ایک معنی یہ ہے حصول صورة الشيء في العقل، حاصل ہونا شئے کی صورت کا عقل میں۔ عقل میں شئے کی صورت کا حاصل ہونا یہ کیا ہے؟ علم ہے، علم ہے۔ بھئی حاصل ہونا دیکھو مصدر ہے، مصدر۔ پٹائی کرنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، یہ سب مصادر ہیں بھئی۔ اردو میں ان کی پہچان کیا ہے؟ کہ ان کے آخر میں "نا" کا لفظ آتا ہے، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، دیکھو سب کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ "نا" کا لفظ بھئی۔ اور اسی سے ہے حصول، یہ بھی مصدر ہے، حاصل ہونا، تو یہ بھی مصدر ہوا بھئی۔ اور یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے ہمیشہ یہ مصدر جو ہے اس کا خارج میں اپنا کوئی وجود نہیں، یہ جب بھی ہوگا کسی ذات کے ساتھ قائم ہوگا، اس کی صفت ہوگا۔ خارج میں آپ کو کبھی بھی مصدر نظر نہیں آئے گا۔ کھانا، پینا، سونا، جاگنا، یہ ہمیں خارج میں دکھائی نہیں دیتے بھئی۔ زید پانی پی رہا ہے تو زید کا پانی پینا یہ ہمیں دکھائی نہیں دے گا۔ آپ کہیں گے ہمیں تو نظر آتا ہے زید کا پانی پینا، وہ پانی پی رہا ہو؟ نہیں بھئی، مصدر کبھی خارج میں نظر نہیں آتا، مصدر ایک صفت ہوتی ہے جو غیر کے ساتھ قائم ہے، وہ غیر ہے تو یہ ہے، غیر نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی کوئی نہیں، زید کا پانی پینا، دیکھو زید ہے تو اس کا پانی پینا بھی ہے، زید نہ ہوتا تو اس کا پانی پینا بھی نہ ہوتا، تو یہ زید کے ساتھ قائم ہے۔ تو آپ کہیں گے ہمیں تو دکھائی دیتا ہے، یاد رکھیے یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے یہ وہ معنی مصدری نہیں، یہ وہ مصدر نہیں ہے، مصدر تو دکھائی نہیں دیتا، ہاں یہ اس مصدر سے حاصل ہونے والی ہیئت ہے، صورت ہے۔ جیسے دیکھو دوڑنا، دوڑنا مصدر ہے، دوڑنا مصدر ہے اور یہ کسی کی صفت ہوگی تو مثلاً آپ کہتے ہیں زید دوڑا، تو زید کا دوڑنا ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ اور جو دکھائی دیتا ہے یہ اس دوڑنے سے حاصل ہونے والی ہیئت ہے یعنی کہ دوڑ، تو خارج میں آپ کو جو آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے وہ دوڑ ہے، دوڑنا نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دوڑنا نہیں بھئی۔ اسی طرح چلنا مصدر ہے بھئی، خارج میں آپ کہتے ہیں زید چل رہا ہے، تو زید کا چلنا یہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا کیونکہ مصدر کا اپنا الگ وجود نہیں، ہاں اس چلنے سے جو ہیئت حاصل ہوئی، جو صورت حاصل ہوئی وہ ہمیں دکھائی دے رہی ہے یعنی کہ چال، تو ہمیں خارج میں چال دکھائی دے رہی ہے، چلنا دکھائی نہیں دے رہا، بات سمجھ میں آ گئی؟ بس اتنا ذہن میں رکھیں کہ مصدر جو ہے اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا خارج میں، یہ غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اس کی صفت ہوتا ہے، وہ غیر ہے تو اس کا وجود بھی ہے، غیر نہیں تو اس کا اپنا وجود بھی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو زید کا چلنا ابھی ذکر جیسے ہوا زید چل رہا ہے تو زید ہے تو یہ چلنا بھی ہے جو زید کی صفت ہے، یہ زید نہیں تو یہ چلنا بھی نہیں۔ آپ چل رہے ہیں تو یہ جو آپ کا چلنا یہ آپ ہیں تو اس چلنا بھی ہے، آپ نہیں تو یہ چلنا بھی نہیں، بکر چل رہا ہے تو بکر ہے تو وہ چلنا ہے، بکر نہیں تو وہ چلنا بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ چلنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا یہ سب مصادر ہیں، حدث ہیں، ایسا معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو تو یہ ہمیں آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے، ہاں پھر ان پر عمل کرنے سے اس یعنی یہ صفت جب کسی کو حاصل ہوتی ہے تو اس سے جو ہیئت اور جو صورت حاصل ہوئی آگے وہ ہمیں دکھائی دیتی ہے بھئی اور اسے حاصل بالمصدر کہا جاتا ہے۔ تو ہمیں حاصل بالمصدر حاصل بالمصدر تو نظر آئے گا لیکن مصدر کبھی بھی خارج میں نظر نہیں آئے گا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ پہلا معنی اس کا بیان کرنے لگے ہیں: حصول صورة الشيء في العقل، شئے کی صورت کا عقل میں حاصل ہونا۔ بھئی دیکھیے اس کی مثال سمجھ لیجیے پہلے، جیسے آئینہ بھئی، آئینہ، شیشہ۔ تو آئینہ آئینے کے سامنے جب بھی آپ کوئی چیز رکھتے ہیں اس چیز کی صورت آئینے میں آ جاتی ہے، آپ کو دکھائی دیتی ہے۔ تو چیز تو سامنے پڑی ہے لیکن اس کی صورت کہاں پر آپ کو نظر آ رہی ہے؟ آئینے کے اندر اس کی صورت نظر آ رہی ہے۔ اسی طرح یہ جو عقل ہے یہ بھی ایک روحانی آئینہ ہے جو اللہ نے انسان کو عطا کیا ہے۔ جیسے آئینے کے سامنے کوئی چیز آتی ہے تو آئینے کے اندر اس کی صورت آ جاتی ہے، اسی طرح عقل کے سامنے جب کوئی چیز آتی ہے تو عقل میں اس کی صورت آ جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ایک روحانی آئینہ انسان کے اندر اللہ نے بنایا ہے بھئی۔ تو دیکھو یہاں پر جب آئینے کے سامنے چیز آئے گی تو اس کی صورت کا حصول ہوگا آئینے میں، کیا ہوگا؟ صورت کا حصول ہوگا، حاصل ہونا یہ معنی مصدری ہے بھئی۔ تو یہ ہمیں دکھائی نہیں دے گا، ہاں البتہ اس کی جو صورت حاصل ہوگی وہ ہمیں دکھائی دے گی بھئی۔ تو پہلا معنی بعض علماء نے کیا بیان کیا کہ علم کس چیز کو کہتے ہیں؟ حصول صورة الشيء في العقل، عقل میں شئے کی صورت کا حاصل ہونا، تو یہ 2 صورت سمجھ میں آگئی۔ ثانيها، ان معانی میں سے دوسرا معنی، ثانیہا دوسرا معنی الصورۃ الحاصلۃ من الشیء، وہ صورت جو حاصل ہو من الشیء شے سے عند العقل عقل کے نزدیک بھئی۔ بعض، پہلے علماء نے کہا تھا اس حاصل ہونے کا نام علم ہے۔ یہ دوسرے علماء کہتے ہیں حاصل ہونے کا نام علم نہیں ہے، بلکہ وہ جو صورت حاصل ہو گئی، اس صورت کا نام علم ہے۔ دیکھیے، مثلاً یہ آئینہ ہے، یہ اس کے سامنے ایک چیز ہے۔ یہ چیز جیسے ہی آئے گی، اس صورت کا آئینے کے اندر حصول ہوگا۔ تو اس حصول کا نام انہوں نے کیا رکھا؟ علم ہے۔ دوسرے کیا کہتے ہیں، یہ جو حصول ہے اس کا نام علم نہیں، بلکہ وہ جو صورت آئینے کے اندر حاصل ہو گئی، اس کا کیا نام ہے؟ علم ہے۔ تو اس صورتِ حاصلہ کا نام ہے۔ فرق دونوں میں سمجھ میں آرہا ہے؟ پہلے میں ہے صورت کا صورت خود نہیں، بلکہ صورت کا حاصل ہونا، اور دوسری، دوسرے کیا تعریف کر رہے ہیں؟ وہ جو صورت حاصل ہو گئی، اس کا نام کیا ہے؟ علم ہے بھئی، اس کا نام علم ہے۔ تو دوسری تعریف کر رہے ہیں ثانيها، علم کا دوسرا معنی، الصورۃ الحاصلۃ من الشیء عند العقل، وہ صورت جو حاصل ہوئی شے سے عقل کے نزدیک۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الكلام۔
108 approved lectures · 7 of 108