Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 57
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 6 1 مقدمة إعلم أن العلم يطلق على معان أحدها حصول صورة الشيء في العقل ثانيها الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل ثالثها الحاضر عند المدرك رابعها قبول النفس لتلك الصورة خامسها الإضافة الحاصلة بين العالم والمعلوم مقدمة بھئی، مقدمہ! یہ یاد رکھیے قدم يقدم سے ہے مقدمة بھئی، تو اس کے معنی ہیں آگے کرنے والا۔ قدم يقدم تقديم کے کیا معنی ہیں؟ آگے کرنے والا۔ تو ابتداء کتاب میں یہ چند باتیں ذکر ہوتی ہیں مقدمہ کے عنوان سے۔ تو یہ لفظ جو پہلے تو اس کی ترکیب بھئی، یاد رکھیے یہ خبر ہے اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں، یعنی هذه مقدمة۔ هذه مبتدا محذوف اور مقدمة کیا بنے گی؟ خبر۔ یہ مقدمہ ہے، ترجمہ کیا ہوگا؟ یہ مقدمہ ہے۔ تو میں نے بتلایا کتاب کے شروع میں چند باتیں ذکر ہوتی ہیں اور اس کا عنوان کیا رکھا جاتا ہے؟ مقدمہ۔ تو مقدمہ کا معنی کیا بیان ہوا؟ آگے کرنے والا۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو خود کتاب پر آگے ہے، تو یہ تو خود آگے ہے اور کتاب جو کہ جو مقاصد ہیں وہ اس کے بعد آ رہے ہیں، تو یہاں کیسے یہ معنی درست بنے گا؟ یہ تو آگے کرنے والا نہ ہوا بلکہ آگے ہونے والا ہوا۔ تو جواب دیتے ہیں علماء کہ یہ مقدمة بمعنی متقدمة کے ہے بھئی، باب تفعیل بمعنی باب تفعل کے ہے بھئی۔ تو یہ مقدمہ کس معنی میں ہوا؟ متقدمة کے معنی میں ہوا، یعنی آگے ہونے والا۔ آگے ہونے والا، تو یہ بھی آگے ہے اور کتاب کے جو مقاصد ہیں، جو مقصودی باتیں کتاب کے اندر ہیں ان پر یہ آگے ہے، ان سے پہلے آیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور بعض علماء نے لکھا کہ یہ مقدمة ہے بھئی، مقدمة نہیں بلکہ مقدمة، اس میں مفعول... مقدمة تو تھا اس میں فاعل کا صیغہ، اور مقدمة اس میں مفعول کا صیغہ، اور مقدمة کے معنی ہوئے آگے کیا ہوا، چونکہ اسے بھی کتاب کی مقصودی باتوں پر آگے کیا گیا ہے، ان سے پہلے لایا گیا ہے، تو اس پر کوئی اشکال نہیں ہوتا بھئی۔ لیکن راجح قول وہی پہلا ہے بھئی، اکثر علماء کے نزدیک یہ کیا لفظ ہے؟ مقدمة، آگے کرنے والا، اور پھر یہ مقدمة کس معنی میں ہے؟ متقدمة کے، اور متقدمة کے معنی ہیں آگے ہونے والا، یعنی پہلے آ جائے جو۔ اور یہ ماخوذ ہے مقدمة الجيش سے بھئی۔ جيش لشکر کو کہتے ہیں، مقدمة الجيش لشکر کا ہراول دستہ۔ قديم زمانے میں لشکر جنگ کے لیے مثلاً جا رہا ہے تو بہت بڑی تعداد ہوتی تھی، تو اس کے لیے انتظام کرنا پہلے ایک دستے کو آگے بھیج دیا جاتا تھا، جو جگہ وغیرہ دیکھتا تھا کوئی مناسب سی، جہاں پر جا کر پھر فوج پڑاؤ ڈالے گی اور رہے گی۔ چند ایک آدمی تو ہیں نہیں، سینکڑوں ہزاروں آدمی ہیں، تو ان کے لیے کوئی مناسب سی جگہ دیکھنا جہاں پر پانی وغیرہ کا انتظام ہو، کوئی ندی، کوئی چشمہ وغیرہ یا اس قسم کی چیز ہو یا تالاب وغیرہ، جہاں پر ان کی اس کی ضرورت پوری ہو اور مناسب جگہ ہو، جہاں پر اتنی بڑی فوج ٹھہر سکے، تو یہ جو دستہ آگے بھیجا جاتا تھا اس کو کیا کہتے تھے؟ مقدمة الجيش بھئی، مقدمة الجيش۔ تو جیسے یہ لشکر سے آگے چلتا تھا اسی طرح کتاب کے شروع میں چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں اسے بھی کیا کہا جاتا ہے؟ مقدمة۔ پھر یاد رکھیے یہ مقدمہ دو قسم پر ہے: ایک مقدمة العلم ہے اور ایک مقدمة الكتاب ہے بھئی۔ مقدمة العلم، علم کا مقدمہ۔ علم سے، کسی بھی علم کے شروع سے، شروع کرنے سے پہلے چند باتوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے اور علم کا جاننا اس پر موقوف ہوتا ہے، یعنی وہ باتیں سمجھ میں آئیں گی تو وہ علم سمجھ میں آئے گا، وہ باتیں انہی معلوم نہیں تو علم کا سمجھنا بھی علم بھی سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی، تو اسے کہتے ہیں مقدمة العلم، یعنی جن پر علم کا سمجھنا موقوف ہوتا ہے، اور وہ تین چیزیں ہیں: اس علم کی تعریف، اس علم کا موضوع، اور اس علم کی غرض و غایت اور مقصد بھئی۔ تو مقدمة العلم میں کتنی چیزیں ذکر ہوتی ہیں؟ تین چیزیں بھئی: اس علم کی تعریف، اس کا موضوع، اور اس کی غرض و غایت، اسے مقدمة العلم کہتے ہیں اور اس پر ان علم کا سمجھنا موقوف ہے، یہ باتیں سمجھ میں آئیں گی تو علم سمجھ میں آئے گا، ان باتوں ہی کا پتہ نہ ہو تو وہ علم بھی سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی، تعریف کا ہی نہیں پتہ، اس علم کے موضوع کا ہی نہیں پتہ، اس کی غرض کا ہی نہیں پتہ، تو پھر علم کا بھی پتہ نہیں چلے گا۔ اور ایک ہوتا ہے مقدمة الكتاب۔ مقدمة الكتاب کہ کتاب کے شروع میں مصنف چند باتیں ذکر کرتا ہے ضروری باتیں، کتاب کا سمجھنا تو ان پر موقوف نہیں ہوتا، آگے جو کتاب میں مقصد کی باتیں آ رہی ہیں ان باتوں کا سمجھنا ان پر موقوف تو نہیں ہوتا کہ اگر یہ سمجھ میں نہ آئے تو وہ بھی سمجھ میں نہیں آئیں گی، ہاں البتہ ان باتوں کو اگر جان لے گا تو پھر آگے کتاب کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ تو مقدمة الكتاب کسے کہتے ہیں؟ کہ کتاب میں جو مقصودی باتیں ہیں ان سے پہلے چند باتیں ذکر کی جائیں جن سے اس کتاب کا سمجھنا آسان ہو جائے بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ مقدمة الكتاب بھئی۔ تو یہ جو یہاں پر آیا یہ مقدمة العلم بھی ہے اور مقدمة الكتاب بھی۔ مقدمة الكتاب تو ظاہر ہے کتاب سے پہلے کہ مقاصد شروع کرنے سے پہلے شروع میں ہی چند باتیں لے ذکر کر رہے ہیں، اور مقدمة العلم بھی ہے کہ اس کے اندر مصنف جو ہیں علم منطق کی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت ذکر کریں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں مقدمة، کہ یہ مقدمہ ہے۔ تو آپ درجہ ثانیہ کے طلباء ہیں، دوسرا سال ہے آپ کا، تو ہم آسان آسان انداز میں چلیں گے بھئی، اس طرح کی باتیں آپ کو سمجھ میں آ جائیں۔ تو یہاں پر جیسے مقدمة میں اور بھی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں، لیکن بہرحال کم از کم ایک ترکیب تو یہ آپ پختہ کر لیں، یاد ہونی چاہیے آپ کو بھئی، یعنی هذه مقدمة۔ آگے فرما رہے ہیں مصنف: إعلم، جان لے تو، امر کا صیغہ آیا۔ أن العلم، إعلم کے بعد یاد رکھیے أن پڑھتے ہیں ہمیشہ إن نہیں بھئی، سمجھئے یہ مفعول کا تقاضا کرتا ہے تو آگے آنے والا جملہ پھر بتأویل مفرد اس کے لیے مفعول بنتا ہے۔ إعلم، جان لے، کون جانے؟ جو مخاطب ہے، جو پڑھ رہا ہے، یعنی آپ جان لیں، اور کیا جان لیں؟ أن العلم يطلق على معان، یہ آگے آنے والا جو کلام ہے یہ مفعول بنتا ہے، یہ چیز آپ جان لیں، تو أن پڑھا جاتا ہے یہاں پر إن نہیں۔ أن العلم يطلق على معان، علم کا اطلاق ہوتا ہے کئی معانی پر، معان جمع ہے معنى کی بھئی، معنى کی، اور اس کے آخر میں یاء تھی، وہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر گئی بھئی، معانيٌ تھا اصل میں، کیا تھا؟ معنيٌ، معنى دیکھو اس کے اندر بھی آپ دیکھ رہے ہیں، تو اسی طرح یہاں آخر میں یاء ہے جو الف سے بدلی ہے، تو معانيٌ یہاں پر بھی نون کے بعد کیا تھی؟ یاء تھی، پھر یاء پر ضمہ ثقیل تھا، تو اس کو گرا دیا، تو کیا رہ گیا؟ معانين، بھئی دیکھیے یہ جو تنوین ہوتی ہے یہ بھی نون ساکن ہوتا ہے، تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نون ساکن کا۔ اچھا، میں آپ کے سامنے مثلاً لکھتا ہوں ض، ر، ب، اور ب کے اوپر میں تنوین ڈال دیتا ہوں، اب آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ ضربٌ، نون پڑھ رہے ہیں یا نہیں آخر میں؟ زید میں لکھتا ہوں اور اس کے دال پر تنوین ڈال دیتا ہوں، آپ کیسے پڑھیں گے؟ زيدٌ، تو دیکھو میں نے تو صرف دال لکھا ہے لیکن آپ آخر میں نون بھی پڑھ رہے ہیں، یہ نون کیا ہے دراصل؟ وہ تنوین ہے، تو تنوین نون ساکن کا نام ہے، نون ساکن کا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح تھا: معانيٌ، پھر یاء پر ضمہ ثقیل ہے بھئی، یاء کی مناسبت کسرہ کے ساتھ ہے، ضمہ کے ساتھ مناسبت نہیں، تو پھر یاء پر ضمہ ثقیل تھا، اس کو گرا دیا، تو یاء ساکن ہو گئی۔ اور آخر میں کیا تھا؟ نون تنوین، وہ اسی طرح رہے گا، تو معا... کیا بن گیا اب؟ معانين، یاء بھی ساکن، آخری نون بھی ساکن، تو یہ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا اور تو اب اس یاء کو گرا دیں گے، نون وہ نون ساکن اسی طرح رہے گا، تو جب یاء گر گئی کیا بن گیا؟ معانٍ بن گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معانٍ ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں علم کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے، یعنی کئی معانی پر یہ بولا جاتا ہے۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے کہ کتاب کی ابتداء، اور ابھی ہم نے پڑھ لیا کہ یہ مقدمة العلم... مقدمة الكتاب کے ساتھ ساتھ یہ مقدمة العلم ہے۔ اور ویسے بھی کتاب شروع ہونے لگی ہے، نئی کتاب ہے ایک فن کی، تو شروع میں کیا ذکر کرنا چاہیے مصنف کو؟ اس علم کی تعریف ذکر کرنی چاہیے، اس کا موضوع، اور اس کی غرض و غایت، لیکن انہوں نے علم کی تعریف شروع کر دی، علم کے بارے میں بحث شروع کر دی۔ تو جواب یہ بھئی، کہ وہ تعریف ہی کرنا چاہتے ہیں، لیکن تعریف تبھی سمجھ میں آئے گی جب یہ باتیں سمجھ میں آ جائیں بھئی۔ علم منطق کی تعریف تب سمجھ میں آئے گی جب یہ جو باتیں ذکر کر رہے ہیں وہ ہماری سمجھ میں آ جائیں۔ تو لکھ لیجیے بھئی یہ دو تین سطریں، ضروری بات ہے، کہ علم منطق کی تعریف کریں گے یہ، اور علم منطق کی تعریف کا سمجھنا... علم منطق کی تعریف کا سمجھنا موقوف ہے یہ بات جاننے پر، یہ بات جاننے پر کہ منطق کی ضرورت کیوں ہے۔ منطق کی ضرورت کیوں ہے... علم منطق کا سمجھنا اس بات پر موقوف ہے... علم منطق کی تعریف کا سمجھنا اس بات پر موقوف ہے کہ منطق کی ضرورت کیوں ہے۔ اور علم منطق کی ضرورت کیوں ہے، اس کا سمجھنا موقوف ہے... اور علم منطق کی ضرورت کیوں ہے اس کا سمجھنا موقوف ہے فکر و نظر پر۔ اس کا سمجھنا موقوف ہے فکر و نظر پر، نظر ظاء ہے ظاء اس میں طاء ظاء۔ اور فکر و نظر کا سمجھنا موقوف ہے... اور فکر و نظر کا سمجھنا موقوف ہے بدیہی، بدیہی و نظری کے جاننے پر۔ بدیہی... ب، د، یا، ہ، اور یا۔ اور فکر و نظر کا سمجھنا موقوف ہے بدیہی و نظری پر... بدیہی و نظری پر۔ اور بدیہی و نظری کا سمجھنا موقوف ہے... اور بدیہی و نظری کا سمجھنا موقوف ہے تصور اور تصدیق پر۔ تصور اور تصدیق پر، تصور بھی صاد کے ساتھ ہے۔ آگے آپ کی کتاب میں بھی یہ لفظ آ رہا ہے ایک دو سطروں کے بعد۔ تصور صاد کے ساتھ اور تصدیق، یہ بھی صاد کے ساتھ لکھیں بھئی۔ اور بدیہی و نظری کا سمجھنا موقوف ہے تصور اور تصدیق پر۔ اور تصور اور تصدیق کا سمجھنا موقوف ہے... اور تصور اور تصدیق کا سمجھنا موقوف ہے علم کے معنی سمجھنے پر۔ علم کے معنی سمجھنے پر۔ علم کے معنی سمجھنے پر۔ لکھ لیا بھئی؟ ہاں، بس بھئی، بات مکمل ہوئی۔ اب اس کو دیکھ لیں دوبارہ بھئی، سمجھ لیں کہ یہ منطق کی تعریف، موضوع، غرض و غایت ہی ذکر کرنا چاہتے ہیں، لیکن علم منطق کی تعریف کا سمجھنا موقوف ہے کس چیز پر؟ علم منطق کی ضرورت پر، کہ علم منطق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی ضرورت کیوں ہے؟ یہ بات ہمیں پتہ چلے گی تو پھر ہی علم منطق کی تعریف سمجھ میں آئے گی بھئی۔ اور علم منطق کی ضرورت کیوں ہے، اس کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے فکر و نظر کو جان لیں کہ فکر و نظر کسے کہتے ہیں بھئی۔ توجہ ہے ادھر سبق کی طرف بھئی؟ کہ علم منطق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کے لیے کیا جاننا ضروری؟ پہلے یہ ہم جانیں فکر و نظر کسے کہتے ہیں، یہ تو پتہ چلے، اور پھر فکر و نظر کا سمجھنا موقوف ہے بدیہی و نظری پر بھئی، کہ بدیہی کسے کہتے ہیں، نظری کسے کہتے ہیں، پہلے یہ پتہ ہوگا تو پھر فکر و نظر کا پتہ چلے گا۔ اور بدیہی و نظری تب ہمیں سمجھ میں آئیں گے جب ہمیں پہلے تصور اور تصدیق کا پتہ ہو۔ تصور اور تصدیق کا پتہ ہوگا تو بدیہی و نظری ہمیں سمجھ میں آئیں گے۔ اور تصور اور تصدیق جو ہیں، ان کا... 2 بیان کریں گے، اس کی تعریف کریں گے بھئی۔ تو علم کا معنی ہمیں سمجھ میں آئے گا، تو اس کے بعد پھر وہ تصور اور تصدیق ہمیں بتائیں گے۔ تصور اور تصدیق کا معنی سمجھ میں آ جائے گا، تو اب ہم بدیہی و نظری سمجھ سکتے ہیں، تو پھر وہ بدیہی و نظری کو بیان کریں گے۔ بدیہی و نظری کا معنی ہمیں سمجھ میں آ جائے گا، تو پھر اس کے بعد وہ فکر و نظر کو بیان کریں گے، اب ہمیں فکر و نظر کا معنی سمجھ میں آئے گا۔ اور فکر و نظر کا معنی جب سمجھ میں آ جائے گا، تو پھر وہ ہمیں بتائیں گے منطق کی ضرورت کیوں ہے، اس علم کی ضرورت کس لیے ہے۔ پھر جب اس علم کی ضرورت ہمیں سمجھ میں آ جائے گی، تو پھر اس کے بعد اس علم کی تعریف کریں گے اور وہ ہمیں سمجھ میں آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ سب سے پہلے کیا بیان ہوگا؟ علم کی علم کا معنی بیان کریں گے علم کی تعریف، اس کے بعد؟ تصور اور تصدیق۔ آخر سے پھر واپس چلنا ہے بھئی۔ یہ جو ابھی میں نے چیزیں لکھوائیں، اب آخر کی طرف سے دیکھیں، سب سے پہلے علم کو بیان کریں گے، اس کے بعد تصور اور تصدیق، اس کے بعد بدیہی و نظری، اس کے بعد فکر و نظر، اس کے بعد علم منطق کی ضرورت کیوں ہے، اور اس کے بعد اب ساری چیزیں ہمیں سمجھ میں آ گئیں، تو اب علم منطق کی تعریف کریں گے بھئی۔ اعلم! کہتے ہیں "اعلم أن العلم يطلق على معاني" جان لیجیے کہ علم جو ہے اس کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے، یعنی کئی معانی پر یہ بولا جاتا ہے۔ پہلے علم کو سمجھ لیں اپ بھئی، علم کہتے کس کو ہیں؟ علم کے معنی ہیں جاننا۔ علم کے کیا معنی ہیں؟ جاننا۔ اور مختلف چیزوں کے جاننے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی چیزوں کی صورت اور تصویر ہمارے ذہن میں آ جائے۔ ان کی صورت اور تصویر، توجہ سے سمجھنا بھئی، سمجھ لیں بات تو انشاءاللہ پھر کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور مختلف چیزوں کو ہم جانتے ہیں، یہ جاننے کا معنی کیا ہے؟ کہ ان کی صورت اور تصویر ہمارے ذہن میں آ جائے۔ جن چیزوں کو اپ جانتے ہیں ان سب کی صورتیں اور تصویریں اپ کے ذہن میں موجود ہیں۔ مثلاً دیکھیے، بادشاہی مسجد اپ لوگوں نے دیکھی ہے کہ نہیں بھئی؟ اپ لوگوں نے بادشاہی مسجد دیکھی ہوئی ہے، تو جیسے ہی میں نے کہا "بادشاہی مسجد"، وہ بادشاہی مسجد کی صورت اور نقشہ فوراً اپ کے ذہن میں آ گیا، آیا یا نہیں آیا بھئی؟ آ گیا۔ تو یہ جو صورت آ گئی اس چیز کی، اس کا جو نقشہ ہمارے ذہن میں آ گیا، یہی اس چیز کا جاننا ہے، جاننا ہے۔ جیسے جامعہ کی، اس جامعہ کی مسجد اپ نے دیکھی ہوئی ہے، جیسے ہی میں نے کہا "اس جامعہ کی مسجد"، فوراً اس مسجد کی تصویر اپ کے ذہن میں آ گئی بھئی۔ تصویر ذہن میں آ گئی، اس کی صورت ذہن میں آ گئی، یہ کیا ہے؟ اس مسجد کا علم ہے۔ بادشاہی مسجد کی صورت اپ کے ذہن میں آئی، یہ بادشاہی مسجد کا علم ہے بھئی اپ کے پاس ذہن میں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ علم ہے۔ اور اسی طرح بھئی، اپنے ساتھیوں میں دیکھ لیں، مثلاً اپ کا ایک ساتھی ہے، دوست ہے، اس کا نام ہے زید۔ ایک دوست ہے، اس کا نام ہے عمرو۔ میں نے جیسے ہی اپ کے سامنے "زید" کہا، تو فوراً اس کی صورت اپ کے ذہن میں آ گئی بھئی۔ میں نے جیسے ہی "عمرو" کہا، فوراً اس کی صورت اور تصویر اپ کے ذہن میں آ گئی۔ یہ اس زید کا جو، زید کی صورت اور اس کا حلیہ، اس کی شکل اپ کے ذہن میں، اپ کی عقل میں آ گئی، یہ ہے زید کا علم جو اپ کو حاصل ہے۔ عمرو کہا تو عمرو کی صورت اور تصویر اپ کے ذہن میں آ گئی، یہ عمرو کا علم ہے بھئی۔ اسی طرح بھئی، اور چیزوں میں دیکھ لیں بھئی، پھلوں میں دیکھ لیجیے بھئی، مثلاً مختلف قسم کے پھل ہیں، امرود ہے، سیب ہے، ناشپاتی ہے، دیکھیے جس جس کا میں نام لے رہا ہوں، اپ اگر جانتے ہیں چیزوں کو، تو ساتھ ساتھ ان کی صورت ذہن میں آتی چلی جا رہی ہے، اپ کو پتہ لگ رہا ہے یہ کس چیز کا ذکر ہو رہا ہے، امرود کسے کہتے ہیں، ناشپاتی کسے کہتے ہیں، سیب کسے کہتے ہیں، ان کی صورت فوراً اپ کے ذہن میں آ رہی ہے اور اپ کو علم ہے، تو یہ ان چیزوں کا علم ہے۔ اسی طرح مختلف خوشبوئیں ہیں بھئی، خوشبو مثلاً گلاب کی خوشبو ہے، ایک موتیے کی خوشبو ہے، ان کی اپ کے ذہن میں الگ الگ پہچان ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسی طرح بھئی، پہچان ہے۔ اور اسی طرح ذائقے ہیں بھئی مختلف قسم کے، کوئی چیز کھٹی ہوتی ہے، کوئی چیز میٹھی ہے، کوئی نمکین ہے، تو جیسے جیسے میں ذائقہ ذکر کرتا جا رہا ہوں، اپ کا ذہن فوراً اس کے، اس کی ایک صورت بنا رہا ہے کہ یہ اس قسم کا ذائقہ ہوتا ہے، یہ اس قسم کا ذائقہ ہوتا ہے، یہ اس قسم کی خوشبو ہے، تو یہ ان چیزوں کا علم ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو ہر ہر چیز کی الگ پہچان ہے ہماری عقل کے اندر، ہمارے ذہن کے اندر، یہ اس چیز کا علم ہے بھئی۔ ہر چیز کی الگ الگ جو پہچان ہے اپ کے ذہن میں، یہ کیا ہے اس چیز کا؟ علم ہے۔ اور اگر یہی چیزیں اپ کے ذہن سے نکل جائیں، تو یہی اس چیز کا جہل ہے بھئی۔ یعنی اپ اس چیز سے جاہل ہیں۔ اگر اپ اس کو جانتے ہیں، اس کی صورت اپ کے دماغ میں، اس کی تصویر اپ کے دماغ میں، عقل میں موجود ہے، تو اپ، ہم کہیں گے یہ اس چیز کا عالم ہے، یعنی جاننے والا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ عالم دین ہے، اس کی بات نہیں ہو رہی، وہ اس عام، اس چیز کا عالم ہے، یعنی اس کا علم رکھنے والا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور جس چیز کا علم اپ کے ذہن میں نہیں ہے، مثلاً اس کتاب میں آگے کیا کیا باتیں بیان ہوں گی، اپ کو اس کا علم نہیں۔ بہت سے علوم ابھی اپ نے پڑھے نہیں۔ لاہور کی بہت سی سڑکیں، راستے وغیرہ ہیں جو ابھی اپ نے دیکھے ہی نہیں۔ تو جیسے ہی ان کا نام میں لیتا ہوں، اب وہ اپ کے ذہن میں نہیں آئے گا، کیونکہ اپ نے دیکھا ہی نہیں، اپ کبھی اس طرف گئے ہی نہیں، تو یہ جہل ہے ان چیزوں سے۔ مثلاً ایک ایسی سڑک کا نام میں لیتا ہوں جہاں اپ نہیں گئے، تو اپ اس سے جاہل ہیں، اس کی کوئی صورت اپ کے ذہن میں نہیں آئے گی، کیونکہ کبھی اپ اس طرف گئے ہی نہیں۔ تو جس چیز کی ہم جانتے ہیں اور اس کا علم ہے، جیسے ہی اس کا نام لیں گے، اس کی الگ پہچان فوراً ہمارے ذہن میں آ جائے گی، تو ہم کیا کہیں گے کہ یہ اس چیز کا، یہ شخص اس چیز کا عالم ہے، اور اگر نہیں جانتا، تو اسی کو کیا کہیں گے؟ اس چیز سے جاہل ہے، یعنی لا علم ہے بھئی، اس چیز سے لا علم ہے۔ اور پھر یہ جو عقل مختلف چیزوں کی صورتیں بناتی ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی۔ ہر چیز کی الگ الگ پہچان ہے بھئی عقل میں، جن کو اپ جانتے ہیں۔ تو یہ جو چیزیں جن کو ہم جانتے ہیں، جن کی صورت ہمارے عقل میں ہے، یہ دو قسم پر ہیں بھئی، دو قسم پر۔ کچھ وہ ہیں جن کا الگ اپنا وجود ہے۔ مثلاً میں نے جیسے ابھی ذکر کیا، بادشاہی مسجد، اس مدرسے کی مسجد، اپ کا ایک دوست مثلاً زید ہے، ایک عمرو ہے، اسی طرح میں نے پھل وغیرہ ذکر کیے، تو ان کا اپنا الگ وجود ہے بھئی، جو باقاعدہ دکھائی دیتا ہے آنکھوں سے، تو ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کا اپنا الگ وجود ہے، ان کو کہتے ہیں اعیان۔ کیا کہتے ہیں؟ اعیان بھئی، اعیان۔ اور یہ اعیان جمع ہے عین کی، عین اس چیز کو جس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے بھئی۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا اپنا الگ وجود خارج میں نہیں ہوتا۔ ذہن میں تو اس کی صورت اور تصویر اور اس کی پہچان الگ ہے، لیکن خارج میں اس کا اپنا الگ وجود نہیں۔ جیسے مثلاً سخاوت۔ سخاوت کا کبھی الگ اپنا وجود دیکھا ہے اپ نے؟ نہیں، یہ کسی کی صفت ہوتی ہے، کسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ مثلاً اپ کہتے ہیں "زید بڑا سخی آدمی ہے"، تو یہ جو زید کی سخاوت ہے، یہ زید کا ایک وصف ہے۔ زید ہے تو یہ والا وصف بھی اس کا ہے، زید نہ ہوتا تو زید کی سخاوت الگ اپ دیکھ سکتے تھے؟ جی؟ الگ اس کا اپنا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ اسی طرح خوشی ہے، غم ہے، بھئی خوشی کا الگ اپنا کوئی وجود دیکھا ہے اپ نے کبھی؟ اپنا الگ وجود نہیں۔ یہ کیفیت ہے، صفت ہے، کسی ذات کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح غم، غم کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، یہ کسی ذات کے ساتھ قائم ہوگی۔ صورت، اسی طرح بزدلی ہے، بزدلی کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ تو عقل کے اندر جو چیزیں آتی ہیں، جن کی الگ الگ پہچان ہے، وہ دو قسم پر ہیں، اگر ان کا اپنا الگ خارج میں وجود ہے، دکھائی دیتا ہے، تو ان کو اعیان کہتے ہیں، جمع ہے عین کی، عین وہ چیز جو دکھائی دے، جس کا اپنا الگ وجود ہو، اور وہ جن کا اپنا الگ وجود نہیں ہے، غیر کے ساتھ قائم ہیں، وہ غیر ہے تو ان کا بھی وجود ہے، غیر نہیں تو ان کا بھی وجود نہیں، تو انہیں اعراض کہا جاتا ہے، اعراض، ضاد کے ساتھ، یہ جمع ہے عرض کی۔ عرض کی، یعنی وہ صفت جو غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہے، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہوتا۔ تو اعیان، اعیان کو جاننے کا نام، یہ علم الاعیان کہلاتا ہے، اور اعراض کو جاننے کا علم کیا کہلاتا ہے؟ علم الاعراض کہلاتا ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کوئی بھی چیز اپ دیکھ لیں، مثلاً اپ کے سامنے یہ کتاب موجود ہے، اس کی صورت اپ کے ذہن میں، تصویر جو ذہن میں بنی، یہ اس کتاب کا علم ہے۔ تپائی اپ کے سامنے موجود ہے، اس کی تصویر ذہن میں بنی، یہ اس تپائی کا علم ہے۔ تو بس آسان لفظوں میں ہر چیز کی جو الگ الگ پہچان ہمارے عقل میں ہے، اسے کیا کہا جاتا ہے؟ اس چیز کا علم کہا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ میں نے اسی لیے علم پر اتنی لمبی تقریر کی اپ کو سمجھانے کے لیے، اپ درجہ ثانیہ کے طلباء ہیں، میں نے اسی رنگ میں، اسی انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ تو بعض جگہ کسی چیز کے رٹا لگانا ضروری ہوتا ہے، یاد کرنا، اور اصل ہے کہ اس کو انسان سمجھ لے، اچھا اس چیز کو علم کہتے ہیں۔ اج تک اپ پڑھتے رہے ہیں علم، فلاں علم، فلاں علم، فلاں علم، اج اپ کو علم کا میں نے بتا دیا، علم دراصل کس چیز کو کہتے ہیں؟ کسی کی، کسی چیز کی جو صورت ہمارے ذہن میں آتی ہے، اس کی جو الگ پہچان ہوتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، الگ پہچان، دیکھو بزدلی، بہادری اس کی ایک ہمارے ذہن میں پہچان ہے، خارج میں اس کا وجود نہیں ہے، بس ذہن ہی ذہن کے اندر اس کا وجود ہے، اور وہ ہمیں سمجھ میں آتی ہے، غیر کے ساتھ قائم ہے، اپنا الگ وجود نہیں، وہ غیر ہے تو اس کا وجود بھی ہے، وہ غیر نہیں تو اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں بھئی، الگ وجود نہیں۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 6 of 108