LESSONS NO. 5
1
آج ہم مصنف کے احوال پڑھیں گے اور پھر ساتھ ہی کتاب بھی شروع کریں گے، بھئی۔ تو سب سے پہلے مصنف کے احوال لکھ لیجیے، بھئی۔
مرقاة کے مصنف کا نام فضل امام ابن محمد ارشد ہے۔ آپ ہندوستان کی ایک بستی خیر آباد میں پیدا ہوئے۔ بعد میں شاہجہان آباد میں رہائش اختیار کی اور پھر دہلی کو اپنا مسکن بنایا۔
آپ بہت بڑے عالمِ دین تھے۔ خاص طور پر علومِ عقلیہ منطق و فلسفہ میں بہت زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ دہلی میں آپ کے درسِ علومِ عقلیہ میں شرکت کے لیے طلباء دور دراز سے آتے۔
یہ وہی زمانہ ہے جب شاہ عبد العزیز اور شاہ عبد القادر بھی دہلی میں دینی خدمات میں مصروف تھے۔ صاحبِ مرقاة کی اور بھی کئی تصانیف ہیں، لیکن سب سے زیادہ شہرت آپ کی تصنیف مرقاة کو حاصل ہوئی۔
چنانچہ آج برِ صغیر کے تمام مدارس میں مرقاة پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔ اور یہ اس کتاب کی عند الله مقبولیت کا اثر ہے کہ یہ کتاب تمام دینی طلباء کو پڑھائی جاتی ہے۔
آپ کا انتقال 5 ذی قعدہ سن 1240 ہجری کو خیر آباد میں ہوا اور وہی پر مدفون ہوئے۔
لکھ لیا، بھئی؟
تو مصنف فضل امام ہیں، بھئی۔ ان کی اس کتاب، یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں، اس کا نام "مرقاة" ہے، مرقاة، بھئی۔ مرقاة اس میں آلہ کا صیغہ ہے، بھئی۔ گردانیں پڑھی ہیں یا نہیں، بھئی، آپ نے؟ اسمِ آلہ کا۔ اور باب اس کا ہے "رَقِيَ يَرْقَى"، بابِ سمع سے آتا ہے۔ "رَقِيَ يَرْقَى" اور اس کے معنی ہوتے ہیں اوپر چڑھنے کے، سیڑھی پر چڑھنے کے۔ تو اسی سے ہے مرقاة۔ مرقاة کہتے ہیں اوپر چڑھنے کا آلہ، یعنی سیڑھی۔ تو مرقاة کسے کہتے ہیں؟ اوپر چڑھنے کا آلہ، یعنی سیڑھی۔ تو "رَقِيَ يَرْقَى" سے ہے جس کے معنی سیڑھی پر چڑھنے کے ہیں، تو اسی سے مرقاة ہے اور مرقاة سیڑھی کو کہتے ہیں۔ تو اس کتاب کا نام انہوں نے "مرقاة" رکھا، یعنی یہ کتاب پڑھنے والے کے لیے علوم کے اندر مہارت کے سلسلے میں سیڑھی کا کام دے گی، بھئی، سیڑھی کا کام دیتی ہے۔ جو اس کو یاد کر لے گا، دیگر علوم میں بڑی تیزی سے مہارت حاصل کرتا جائے گا، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ منطق میں بھی اور دیگر علوم میں بھی تیزی سے مہارت حاصل کرے گا، یعنی بلندیوں کی طرف جائے گا جیسے سیڑھی پر چڑھنے والا بلندی کی طرف جاتا ہے، بھئی۔ تو مرقاة کا کیا معنی؟ سیڑھی، بھئی، سیڑھی۔ اچھا بھئی، اب آئیے، کتاب کھولیے، بھئی۔
اچھا، کتاب کی عبارت پر بھی نظر رکھیے گا، جیسے میں عبارت پڑھتا ہوں، کل آپ نے مجھے اسی طرح سبق سنانا ہے، عبارت صحیح ہو آپ کی، بھئی۔
بسم الله الرحمن الرحيم. الحمد لله الذي أبدع الأفلاك والأرضين والصلاة على من كان نبيا وآدم بين الماء والطين وعلى آله وأصحابه أجمعين.
"الحمد لله"، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ لفظِ "اللہ" معرفہ ہے، نام ہے ذاتِ باری تعالی کا اور اس کے بعد لفظِ "الذي" آیا، یہ اسمِ موصول ہے اور یہ بھی معرفہ ہے، آپ نے معرفہ کی اقسام میں پڑھا ہے کہ چھ، سات معرفہ ہیں، بھئی۔ علم، یہ معرفہ ہے؛ اسماءِ اشارہ، یہ معرفہ ہیں؛ اور اسی طرح اسماءِ موصولہ بھی معرفہ ہیں۔ تو معرفہ کے بعد معرفہ آئے، تو عموماً وہ اس کی صفت بنتا ہے۔ کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو ترجمہ کریں گے، اور اسمِ موصول کا ترجمہ ہوتا ہے عموماً "وہ جو کہ"۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ "وہ جو کہ"۔ جی۔
تو ترجمہ سنیے: "الحمد لله الذي"، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو کہ "أبدع الأفلاك"، یا جس نے تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے "أبدع الأفلاك"۔ "أبدع" کے معنی ہوتے ہیں عربی زبان میں بغیر مثال کے کوئی چیز پیدا کرنا، بنانا۔ بغیر مثال کے کوئی چیز بنانا۔ بھئی، ایک چیز کی مثال آپ کے سامنے پہلے ہو، تو اس جیسی چیز بنانا اتنا مشکل نہیں۔ لیکن ایک چیز ہے جس کی پہلے کوئی مثال ہی نہیں ہے اور آپ ایک بالکل نئی چیز اپنی طرف سے بناتے ہیں، تو یہ مشکل کام ہے۔ تو یہ تو اس کے عربی زبان کے اعتبار سے معنی ہوئے اور اصطلاح میں ابداع کہتے ہیں بغیر مادے کے کوئی چیز پیدا کرنا۔ مادہ، بھئی، جس سے کوئی چیز بنتی ہے۔ آپ مثلاً یہ آپ کی کتاب ہے، یہ کاغذ، گتا اور سیاہی، یہ تین، چار چیزیں ملیں تو یہ کتاب بنی، بھئی۔ تو اسی طرح ہر چیز کے لیے کیا چاہیے؟ مادہ چاہیے۔ یہ کمرہ ہے آپ کا، یہ کن چیزوں سے بنا ہے؟ اینٹیں ہیں، سیمنٹ ہے اور یہ کھڑکیاں، دروازے وغیرہ، یہ اس کا مادہ، جن چیزوں سے بنتی ہے کوئی چیز، وہ اس کے لیے کیا کہلاتی ہیں؟ وہ اس کا مادہ ہیں۔ تو ابداع کے معنی ہیں بغیر مادے کے پیدا کرنا۔ تو وہ اللہ جس نے پیدا کیا—افلاک جمع ہے فلک کی اور أرضین جمع ہے أرض کی—جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمینوں کو بغیر مادے کے۔ بغیر مادے کے زمینوں اور آسمانوں کو۔
تو دیکھیے، اللہ کی عظمت اور قدرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ کی ذات کس قدر قادر ہے کہ بغیر مادے کے تو کوئی بھی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں، لیکن اللہ نے زمین اور آسمان کو بغیر مادے کے پیدا فرما دیا، بھئی۔
تو "أبدع"، جس نے بغیر مادے کے پیدا فرمایا "الأفلاك"، آسمانوں کو "والأرضين"، اور زمینوں کو، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سات آسمان ہیں اور اسی طرح سات زمینیں ہیں۔ "والصلاة"، اور رحمت نازل ہو "على من"، اس ذات پر "كان نبيا"، جو نبی تھے۔ اس ذات پر رحمت نازل ہو "من كان نبيا"، جو نبی تھے۔ مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جو نبی تھے "وآدم بين الماء والطين"، یہ واؤ حالیہ ہے، بھئی۔ یعنی اگلا جملہ حال بنے گا۔ جو نبی تھے اس حال میں کہ آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے بیچ تھے۔ یعنی ابھی حضرت آدم علیہ السلام کو بھی نہیں بنایا گیا، بھئی، اس وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے، بھئی۔ آپ جانتے ہیں اس ساری کائنات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالی نے تخلیق فرمایا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی نبی تھے جبکہ کسی اور نبی کو ابھی پیدا نہیں کیا گیا۔ ہاں، البتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور ظہور سب سے آخر میں ہوا، لیکن ان کی نبوت سب کی نبوت پر مقدم ہے، بلکہ تمام انبیاء کی نبوت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے مستفاد ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟
تو "من كان نبيا وآدم بين الماء والطين"، وہ جو کہ نبی تھے اس حال میں کہ آدم ابھی مٹی اور پانی، پانی اور مٹی ان کے بیچ تھے۔ "وعلى آله"، دیکھیے، "وعلى آله"، اس کا عطف ہو رہا ہے "على من كان نبيا" پر۔ رحمت نازل ہو اس ذات پر جو کہ نبی تھے اور رحمت نازل ہو "على آله"، ان کی آل پر، ان کی آل پر۔ آل کے بہت سے معانی ہیں، لیکن آپ ایک ہی قول یاد رکھیے جو یہاں مراد ہے: ہر مومنِ متقی۔ ہر متقی مومن۔ "آله" آیا، ان کی آل، وہ جو نبی تھے، ان کی آل، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل سے کیا مراد ہے؟ بھئی، علماء نے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں کہ بعض کہتے ہیں اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات مراد ہیں، بعض کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والے مراد ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے ہر متقی مومن مراد ہے۔
2
کہ تمام متقی مومنین اس کے اندر داخل ہو جائیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس طرح جب اس سے ہر متقی مومن مراد لیا تو آپ جیسے اولیاء اللہ، طلباء بھی اس میں داخل ہو گئے بھئی۔
اور رحمت نازل ہو 'علٰى مَنْ كَانَ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ' اس ذات پر جو کہ پیغمبر تھے اور آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے بیچ تھے۔ 'وَعَلَى آلِهِ' اور رحمت نازل ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر 'وَأَصْحَابِهِ' اور ان کے صحابہ پر 'أَجْمَعِينَ' سب کے سب۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ پر بھئی۔ تو اس کے ذریعے شیعہ کا رد کر دیا۔ شیعہ صرف دو تین صحابہ کے علاوہ اور باقی کو تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن ہم اہل سنت والجماعت، ہم تمام صحابہ سے انتہا درجے کی محبت رکھتے ہیں بھئی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاہقت کے لیے چن لیا تھا۔ ان کی خصوصیات انسان دیکھتا ہے، کے واقعات پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے اور ایمان تازہ ہو جاتا ہے بھئی۔
تو 'وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ' تمام کے تمام صحابہ پر۔ تو رحمت نازل ہو اس ذات پر جو پیغمبر تھے اور رحمت نازل ہو ان کی آل پر اور ان کے تمام صحابہ پر۔
'وَبَعْدُ' اور حمد و صلاۃ کے بعد، أي بعد الحمد والصلاۃ۔ 'فَهَذِهِ عِدَّةُ فُصُولٍ' پس یہ چند فصلیں ہیں۔ 'وَبَعْدُ' أي بعد الحمد والصلاۃ، حمد و صلاۃ کے بعد 'فَهَذِهِ عِدَّةُ فُصُولٍ' تو یہ چند فصلیں ہیں 'فِي عِلْمِ الْمِيزَانِ' علم میزان کے اندر بھئی۔ علم میزان بھی علم منطق ہی کو کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ چند فصلیں ہیں علم منطق کے اندر 'لَا بُدَّ مِنْ حِفْظِهَا' لابد ضروری ہے۔ 'لَا بُدَّ مِنْ حِفْظِهَا' 'هَا' ضمیر راجع ہے 'فصول' کو۔ ضروری ہے یاد کرنا ان فصلوں کو 'وَضَبْطِهَا' 'مِنْ حِفْظِهَا وَضَبْطِهَا'، ضبط کا معنی بھی یاد کرنا اور سمجھنے کے ہیں۔ تو ضروری ہے ان کو یاد کرنا اور سمجھنا 'لِمَنْ' اس شخص کے لیے 'أَرَادَ' جس نے جس کا ارادہ ہے 'أَنْ يَتَذَكَّرَ' یاد کرنے کا۔ 'لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَذَكَّرَ' جس کا ارادہ ہے یاد کرنے کا 'مِنْ أُولِي الْأَذْهَانِ' ذہن والے، اولی الاذہان ذہن والے، یعنی ذہین بھئی ذہین۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ کہتے ہیں 'ذو مال'، 'ذو مال' کا کیا معنی ہے؟ مال والا۔ اسی 'ذو' کی جمع من غیر لفظہ 'اولوا' آتی ہے بھئی۔ مفرد ہو تو 'ذو' کہتے ہیں، جمع ہو تو 'اولو' کہتے ہیں۔ تو 'من اولی مال'، تو یہ وہی 'اولوا' ہے 'من' کی وجہ سے حالت جری میں آیا بھئی۔ 'مِنْ أُولِي الْأَذْهَانِ' ذہن والوں میں سے، یعنی ذہین لوگوں میں سے۔
تو 'لَا بُدَّ مِنْ حِفْظِهَا وَضَبْطِهَا' ضروری ہے اس کو یاد کرنا اور سمجھنا 'لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَذَكَّرَ مِنْ أُولِي الْأَذْهَانِ' جو ارادہ کرتے ہیں یاد کرنے کا ذہین لوگوں میں سے۔ 'وَعَلَى اللَّهِ التَّوَكُّلُ' اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے 'وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ' اور اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ مستعان جس سے مدد طلب کی جائے، مستعین جو مدد طلب کرنے والا ہے۔ 'وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ' اللہ ہی کی ذات سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
جی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک مرتبہ پھر اچھی طرح ترجمہ بھی دیکھ لیں اور عبارت پر بھی نظر رکھیں۔
"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَبْدَعَ الْأَفْلَاكَ وَالْأَرَضِينَ" تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے بغیر مادے کے تمام آسمانوں کو اور زمینوں کو پیدا کیا۔ "وَالصَّلَاةُ عَلَى مَنْ كَانَ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ" اور رحمت ہو اس ذات پر جو کہ پیغمبر تھے اور اس حال میں کہ آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے بیچ تھے۔ "وَعَلَى آلِهِ" اور ان کی آل پر بھی "وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ" اور ان کے تمام صحابہ پر۔
نبی بھئی، نبی بھی لفظ آیا اس کے بارے میں، نبی کسے کہتے ہیں؟ وہ انسان جسے اللہ نے اپنے احکامات کی تبلیغ کے لیے دنیا میں بھیجا ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ نبی۔ وہ انسان جسے اللہ نے اپنے احکامات کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہو۔
"وَبَعْدُ فَهَذِهِ عِدَّةُ فُصُولٍ فِي عِلْمِ الْمِيزَانِ" فِي عِلْمِ الْمِيزَانِ، پس یہ چند فصلیں ہیں علم منطق کے اندر "لَا بُدَّ مِنْ حِفْظِهَا وَضَبْطِهَا" ضروری ہے ان کو یاد کرنا اور سمجھنا "لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَذَكَّرَ مِنْ أُولِي الْأَذْهَانِ" جس شخص کا ارادہ ہو یاد کرنے کا ذہین لوگوں میں سے "وَعَلَى اللَّهِ التَّوَكُّلُ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ" اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے اور اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
چلیے بس بھئی، ہٰذا ہو المرام والله اعلم بحقيقۃ الکلام۔