Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-044

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 44 1 فَصْلٌ: كُلُّ مُقَوِّمٍ لِلْعَالِي مُقَوِّمٌ لِلسَّافِلِ كَالْقَابِلِ لِلْأَبْعَادِ، فَإِنَّهُ مُقَوِّمٌ لِلْجِسْمِ وَهُوَ مُقَوِّمٌ لِلْجِسْمِ النَّامِي وَالْحَيَوَانِ وَالْإِنْسَانِ، وَكَالنَّامِي فَإِنَّهُ كَمَا أَنَّهُ مُقَوِّمٌ لِلْجِسْمِ النَّامِي مُقَوِّمٌ لِلْحَيَوَانِ وَمُقَوِّمٌ لِلْإِنْسَانِ أَيْضًا. بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے فصل کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا، اور صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ فصل وہ کلی ہے جو "أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ" کے جواب میں واقع ہوتی ہے بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ "أَيُّ شَيْءٍ" یہ اصطلاحی الفاظ ہیں، اس کے ذریعے کسی چیز کے ممیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ کس چیز کے، کس کے بارے میں سوال کیا ہے؟ ممیز کے بارے میں، یعنی ایسی چیز جو اس کو اس چیز کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے بھئی۔ پھر یہ "أَيُّ شَيْءٍ" کے ساتھ قید لگاتے ہیں "فِي ذَاتِهِ" کی یا کبھی لگاتے ہیں "فِي عَرَضِهِ" کی۔ اگر "فِي ذَاتِهِ" کی قید ہو کہ "أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ"، وہ کیا چیز ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، اپنے حقیقت کے اعتبار سے، تو اس کے جواب میں فصل آتی ہے۔ لیکن اگر سوال ہو "أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ"، وہ چیز کیا ہے اپنے عرض یعنی اپنے صفت کے اعتبار سے، تو پھر اس کے جواب میں خاصہ آتا ہے۔ کیا آتا ہے؟ خاصہ آتا ہے، کیونکہ پہلی میں "فِي ذَاتِهِ" کی قید موجود ہے اور اس کے جواب میں فصل آئے گی کیونکہ فصل بھی حقیقت اور ماہیت میں داخل ہوتی ہے۔ اور دوسری میں "فِي عَرَضِهِ" کی قید موجود ہے اور کہ اپنے صفت کے اعتبار سے یہ کیا چیز ہے، اور اس کے جواب میں خاصہ آتا ہے کیونکہ خاصہ جو ہے وہ حقیقت میں داخل نہیں ہوتا بھئی۔ پھر بتلایا تھا کہ فصل دو قسم پر ہے: ایک فصلِ قریب ہے، ایک فصلِ بعید ہے۔ فصلِ قریب کسے کہیں گے؟ وہ فصل جو ممیز بنے—کیا بنے؟ فصل نے تو ہے ہی ممیز—تو وہ فصل جو ممیز بنے ان افراد سے جو جنسِ قریب میں شریک تھے۔ کس میں شریک تھے؟ جنسِ قریب میں جو شریک تھے ان سے ممیز بنے تو اس کو فصلِ قریب کہتے ہیں۔ اور اگر فصل جو ہے وہ ممیز بنے ان افراد سے جو جنسِ بعید میں شریک تھے، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ فصلِ بعید بھئی۔ جیسے ناطق اور حساس۔ انسان ناطق بھی ہے اور حساس بھی ہے کیونکہ حیوان ہے، اور حیوان کی تعریف میں آپ نے کیا لفظ پڑھا تھا؟ حساس، کہ ہر حیوان کیا ہے؟ حساس ہے، محسوس کرنے والا ہے چیزوں کو۔ تو انسان کے لیے ناطق بھی فصل اور حساس بھی فصل۔ لیکن جب ہم نے ناطق کہا، ناطق، تو اس کے ذریعے جنسِ قریب جو ہے انسان کے لیے، یعنی حیوان، اس کے افراد سے انسان جدا ہو گیا۔ کیونکہ حیوان میں سے صرف انسان کیا ہے؟ ناطق ہے، باقی سب کیا ہیں؟ باقی سب غیر ناطق ہیں۔ تو جیسے ہی ہم نے کہا ناطق، تو غیر ناطق کیا ہوئے سارے؟ جدا ہو گئے۔ دیکھو حیوان انسان کے لیے جنسِ قریب ہے، سب سے قریب جنس یہی ہے، اور اس میں موجود افراد سے اس ناطق نے جدا کر دیا بھئی۔ حیوان کے اندر تو انسان بھی داخل تھا، بقر، غنم وغیرہ، بھیڑ، بکری، اونٹ وغیرہ تمام چیزیں داخل تھیں، لیکن جب ہم نے ناطق کہا، صرف یہ کس پر صادق آتا ہے؟ صرف انسان پر، تو باقی سارے ہیں غیر ناطق، وہ خود بخود الگ ہو گئے بھئی، الگ ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو انسان کے اوپر کیا ہے؟ حیوان۔ تو یہ جنسِ قریب ہے۔ اس سے افراد سے ناطق نے جدا کر دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصلِ قریب۔ اور ایک ہے فصلِ بعید بھئی، کہ جنسِ بعید کے افراد سے جدا کرے۔ مثلاً بھئی، ہم نے کہا حساس۔ اب یہ حساس انسان کے لیے فصلِ بعید ہے، کیونکہ یہ جنسِ بعید کے افراد سے جدا کرے گا۔ حیوان انسان کے لیے جنسِ قریب کیا؟ حیوان۔ انسان کے اوپر کیا ہے؟ حیوان۔ حیوان کے اوپر کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ جسمِ نامی سے اوپر کیا ہے؟ جسمِ مطلق۔ جسمِ مطلق سے اوپر کیا ہے؟ جوہر۔ تو انسان کے اوپر ہے حیوان، اور اس سے اوپر ہے جسمِ نامی۔ یرحمک اللہ۔ تو ہم نے جب کہا حساس، حساس، تو انسان کی جنسِ قریب تو ہے حیوان۔ اس سے جدا نہیں کیا اس نے، کسی فرد سے جدا نہیں کیا۔ کیوں؟ کیونکہ حیوان کی تعریف میں کیا لفظ آیا تھا؟ حساس۔ حیوان تو سارے ہی حساس ہوتے ہیں، تو لہٰذا کوئی حساس کہنے سے بھی کوئی بھی فرد نہیں نکلا۔ ہاں، حیوان سے اوپر گئے ہم، جسمِ نامی۔ جسمِ نامی کے اندر حیوانات بھی داخل تھے اور درخت وغیرہ بھی داخل ہیں۔ اور ان میں سے حیوانات حساس ہیں، درخت وغیرہ حساس نہیں۔ تو اب حساس کہنے سے کون نکل گئے؟ درخت اور پودے وغیرہ نکل گئے۔ اور درخت اور پودے وغیرہ جنسِ قریب یعنی حیوان میں تو داخل ہی نہیں تھے، یہ تو کس میں داخل تھے؟ جنسِ بعید یعنی جسمِ نامی میں داخل تھے۔ تو یہ فصلِ بعید ہے کہ جنسِ بعید کے افراد سے جدا کر دے ماہیت کو بھئی۔ اس نے جنسِ بعید کے افراد سے انسان کو جدا کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پھر بتلایا تھا کہ یہ فصل جو ہے اس کی نسبت ہے نوع کے ساتھ بھی اور اس کی نسبت ہے جنس کے ساتھ بھی۔ یعنی اس کا تعلق جنس کے ساتھ بھی ہے اور اس کا تعلق نوع کے ساتھ بھی ہے۔ تو جنس کے اعتبار سے اس کو کہتے ہیں مقسم، تقسیم کرنے والی۔ اور نوع کے اعتبار سے اس کو کیا کہتے ہیں فصل کو؟ مقوم، کیونکہ یہ اس کے قوام میں اور حقیقت میں داخل ہے۔ مقوم کا معنی قوام بنانے والی، حقیقت بنانے والی بھئی۔ تو نوع کے اعتبار—تو جہ ہے سب کی طرف بھئی؟ نوع کے اعتبار سے فصل کو کیا کہیں گے؟ نوع کے اعتبار سے، مقوم۔ اور جنس کے اعتبار سے؟ مقسم۔ نوع کے اعتبار سے مقوم کیوں کہیں گے؟ یہ اس کے قوام میں یعنی اس کی حقیقت میں داخل ہے، قوام اور حقیقت کا ایک معنی۔ کیونکہ یہ اس کی حقیقت میں داخل ہے۔ بھئی، ناطق انسان کی حقیقت میں داخل ہے۔ ناطق یہ فصل ہے اور انسان کی—کیونکہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو انسان ہے نوع، یعنی حیوانِ ناطق نوع ہے، اور یہ ناطق اس اسی کی حقیقت میں داخل ہے بھئی۔ اور یہی فصل جو ہے اس کی نسبت جنس کی طرف کریں۔ انسان کے لیے جنس کیا؟ حیوان۔ تو حیوان کی نسبت سے یہ ناطق کیا ہے؟ حیوان کو تقسیم کر رہا ہے۔ سارے حیوان تو ناطق نہیں ہیں، صرف کون ناطق ہے؟ تو جب ہم نے ناطق کہا، تو حیوان کے دو گروہ بن گئے۔ کچھ ہیں ناطق اور کچھ باقی کیا رہ گئے؟ غیر ناطق۔ تو دیکھو، یہ جنس حیوان جنس تھی، اس کے اعتبار سے ناطق اس کو تقسیم کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ تقسیم کر رہا ہے دو حصوں میں۔ ایک ہے ناطق تو دوسرا ہے غیر ناطق بھئی۔ جی، تو یہ—تو لہٰذا فصل کی فصل جو ہے یہ نوع کے اعتبار سے مقوم کہلاتی ہے اور جنس کے اعتبار سے مقسم کہلاتی ہے بھئی۔ جی، تو آج ہم اسی سے متعلق بھئی چار ضابطے پڑھیں گے بھئی، چار ضابطے۔ دو ضابطے ہیں نوع کے اعتبار سے اور دو ضابطے ہیں جنس کے اعتبار سے۔ آسان سے ضابطے ہیں بھئی، بڑے آسان۔ پہلا ضابطہ دیکھیے بھئی، یہ شروع میں ہی ذکر کر رہے ہیں۔ فَصْلٌ: أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ كُلُّ مُقَوِّمٍ لِلْعَالِي، ہر وہ فصل جو—ہر وہ جو مقوم ہے عالی کے لیے، ہر وہ جو—یعنی ہر وہ فصل جو مقوم ہے کس کے لیے؟ عالی کے لیے، مُقَوِّمٌ لِلسَّافِلِ، وہ سافل کے لیے بھی مقوم ہے۔ سافل کے لیے بھی مقوم ہے۔ معنی یہ بھئی، ادھر توجہ کرو۔ ہاں، یہ جو فصل ہے یہ نوع کے اعتبار سے کیا ہے؟ مقوم۔ اور آپ نے پڑھا نوع جو ہے، سب سے نیچے والی نوع کیا کہلاتی ہے؟ نوع الانواع۔ اس سے اوپر نوعِ متوسط ہے، اور سب سے اوپر نوعِ عالی آئے گی بھئی۔ تو سب سے نیچے والی ہے نوعِ سافل، سب سے اوپر والی ہے نوعِ عالی، اور درمیان والی نوعِ متوسط۔ یہ وہ تقسیم تھی، لیکن اب یہاں یاد رکھیے اس ان دو فصلوں کے اندر بھئی، اب اس فصل میں اور اگلی فصل کے اندر عالی اور سافل کا لفظ آئے گا، لیکن عالی اور سافل کا عالی کا یہ معنی نہیں سب سے اوپر، بس عالی کا معنی ہے اوپر والی۔ جس ایک کے اوپر بھی ہو تو اس کو بھی ہم کیا کہیں گے؟ اس ایک کی نسبت سے عالی ہے۔ پھر جو اس کے اوپر ہوگی اس کو بھی کیا کہیں گے؟ عالی۔ تو عالی وہ ہوگی جس کے نیچے کوئی ہو۔ اور سافل، سافل کا معنی یہ نہیں کریں گے جو سب سے نیچے ہے، بلکہ کیا مراد ہوگا سافل سے؟ نیچے والی، یعنی جس کے اوپر ایک ہے وہ تو دوسری کیا ہے اس کے نیچے والی ہے۔ اس سے اوپر چلے جائیں، اگر اس کے اوپر بھی کوئی ہے تو اس کو نی—وہ اس کے نیچے ہے، اس کے اعتبار سے اس کو کیا کہیں گے؟ نوعِ سافل۔ نوع بھی اسی طرح، جنس بھی اسی طرح۔ عالی کس کو کہیں گے؟ جس کے نیچے کوئی ہو۔ اور سافل کسے کہیں گے؟ جس کے اوپر کوئی ہو۔ لہٰذا، انسان اور حیوان۔ انسان کیا ہے؟ سافل، نوعِ سافل۔ اور حیوان کیا ہے؟ نوعِ عالی، کیونکہ اوپر ہے نا انسان کے۔ اچھا، دوسرے دو پکڑ لو: حیوان اور جسمِ نامی۔ حیوان نیچے ہے، جسمِ نامی اوپر ہے۔ تو حیوان کو کیا کہیں گے؟ نوعِ سافل۔ اور جسمِ نامی کو کیا کہیں گے؟ نوعِ عالی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یرحمک اللہ۔ یہ، وہ بھئی نوعِ اضافی کی بات چل رہی ہے یہ نوعِ اضافی۔ ایک ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا واقع ہو؟ جنس۔ تو اس کو بھی تو نوع کہتے ہیں، تو یہ نوعِ اضافی۔ اچھا، جسمِ نامی یہ کس کے نیچے ہے؟ جسمِ مطلق کے۔ تو جسمِ مطلق کیا ہوا؟ عالی، نوعِ عالی۔ اور جسمِ نامی اس کے مقابلے میں کیا ہوا؟ نوعِ سافل۔ تو ہر جو نیچے والا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ سافل۔ جو اوپر والا ہے اس کو عالی کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ضابطہ یہ کہ ہر وہ فصل جو مقوم ہے کس کے لیے؟ عالی کے لیے۔ ہر وہ نوع—توجہ ہے؟ ہر وہ نوع جو مقوم ہے عالی کے لیے، وہ مقوم ہوگی سافل کے لیے بھی۔ ہر وہ نوع جو مقوم ہے کس کے لیے؟ عالی کے لیے، وہ مقوم ہوگی سافل کے لیے بھی۔ مقوم کا کیا معنی؟ حقیقت میں داخل ہے۔ ہر وہ فصل، ہر وہ فصل جو اوپر والے کی حقیقت میں داخل ہے، وہ لازمی بات ہے نیچے والے کی حقیقت میں بھی داخل ہوگی۔ کیونکہ نیچے والی بھی اوپر والے کی ہی قسم ہے نا، اور یہ اوپر والے کی کس میں داخل؟ فصل کسے کہتے ہیں جو حقیقت میں داخل ہوتی ہے۔ تو جب فصل اوپر والے کی حقیقت میں داخل ہے، تو نیچے والے کی حقیقت میں کیا ہوگی؟ ضرور داخل ہوگی کیونکہ نیچے والی اسی کی تو قسم ہے۔ جسمِ نامی کس کی قسم ہے؟ جسمِ مطلق کی۔ تو جسمِ مطلق گویا دو قسم پر ہے: ایک جسمِ نامی، ایک جسمِ غیر نامی۔ تو جسمِ مطلق کی تقسیم ہوئی، اس کی دو قسمیں بنیں۔ تو جو چیز جسمِ مطلق کی حقیقت میں داخل ہوگی، وہ لازمی بات ہے اس کی جو نیچے دو قسمیں ہیں، اس کے اندر بھی داخل ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح جسمِ نامی کے نیچے کیا ہے؟ حیوان۔ معلوم ہوا جسمِ نامی دو قسم پر ہے۔ ایک حیوان، اور ایک غیر حیوان—یعنی ایک جو ہے حساس متحرک بالارادہ ہے، دوسرا حساس متحرک بالارادہ نہیں ہے۔ تو جو جسمِ نامی کی حقیقت میں جو چیز داخل ہوگی، وہ لازمی بات ہے اس کی جو نیچے دو قسمیں ہیں، ان میں بھی داخل ہوگی۔ کیونکہ وہ اسی کے تو قسمیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے دیکھیے بھئی، مثال دیکھو۔ قابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ۔ کیا معنی قابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ؟ قبول کرنے والا تین تین بعدوں کو، یعنی طول، عرض اور عمق کو۔ میں نے بتلایا تھا جسم کی تعریف کیا کی تھی؟ کہ جسم طول، عرض اور عمق ہو۔ وہ قبول کرنے والا ہو تین پیمائشوں کو بھئی، طول، عرض اور عمق۔ تو جب میں نے کہا قابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ، کیا معنی ہوا قابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ؟ تین بعدوں کو قبول کرنے والا، طول، عرض اور جس کا طول، عرض اور عمق ہو، بس یوں کہیں۔ یا یوں کہیں تین بعدوں کو قبول کرنے والا۔ تو یہ جسم کے لیے فصل ہے۔ کیا ہے؟ فصل ہے۔ اچھا، تو یہ جسمِ مطلق کے حقیقت میں داخل ہے۔ کیونکہ ہر جسم کیا ہوتا ہے؟ وہ قابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ ہوتا ہے۔ بھئی، یہ جسمِ مطلق ہے، توجہ رکھو ادھر بھئی، یہ جسمِ مطلق ہے، اور ہر جسم کیا ہوتا ہے؟ قابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ ہوتا ہے۔ ہر جسم کیا ہوتا ہے؟ تین بعدوں کو قبول کرتا ہے وہ، طول، عرض اور عمق کو۔ اسی جسم کی آگے تقسیم ہوئی، اس جسمِ مطلق کی دو قسمیں بن گئیں آگے: ایک جسمِ نامی، ایک جسمِ غیر نامی۔ تو یہ کس کی قسمیں ہیں؟ جسم کی نا، کیونکہ جسمِ نامی، جسم کا لفظ آ رہا ہے یعنی ساتھ، جسمِ غیر نامی، اس میں بھی جسم کا لفظ آ رہا ہے یا نہیں؟ یہ دونوں جسم کی قسمیں ہیں۔ اور جسم میں وہ طول، عرض اور عمق کو قبول کرتا تھا، تو یہ جب اس کی قسمیں ہیں تو لازمی بات ہے یہ نیچے والی بھی کیا کریں گے؟ طول، عرض اور عمق کو قبول کریں گے۔ ان سے نیچے آ جائیں بھئی۔ جسمِ نامی کے اندر ایک کیا ہے؟ جسمِ نامی کے اندر حیوان ہے اور غیر حیوان ہے بھئی۔ حیوان ہے اور غیر حیوان۔ بھئی، یہ حیوان بھی معلوم ہوا جسم ہے۔ کیونکہ اس سے جسم کی قسمیں چلی آ رہی ہیں نیچے تک۔ اور غیر حیوان یعنی پودے وغیرہ، وہ بھی کیا ہیں؟ جسم ہیں۔ تو جب وہ بھی جسم ہے، یہ بھی جسم ہے، تو یہ بھی کیا کریں گے؟ طول، عرض اور عمق کو لازمی بات ہے قبول کریں گے۔ اچھا، حیوان کے نیچے آ جائیں، اس میں ایک ہے ناطق، ایک ہے غیر ناطق۔ ناطق یعنی انسان، غیر ناطق اور اور جانور وغیرہ۔ لیکن یہ ان سب کے بھی جسم ہیں، کیونکہ یہ اوپر سے کس کی قسم چلے آ رہے ہیں؟ جسم کے۔ تو ان میں سے ہر ایک جسم ہوگا، اور ہر ایک کیا ہوگا؟ قبول کرنے والا ہوگا طول، عرض اور عمق کو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا، جو مقوم ہے عالی کے لیے، وہ مقوم ہے سافل کے لیے بھی۔ یعنی جو اوپر والے کی حقیقت میں داخل، وہ لازمی بات ہے نیچے والوں کی بھی حقیقت میں داخل، کیونکہ نیچے والی اسی اوپر والے کی تو قسمیں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ضابطہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی: فَصْلٌ: أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ كُلُّ مُقَوِّمٍ لِلْعَالِي مُقَوِّمٌ لِلسَّافِلِ، ہر مقوم—ہر وہ جو مقوم ہے عالی کے لیے، وہ مقوم ہے سافل کے لیے۔ عالی کا کیا معنی؟ اوپر، جس کے نیچے کوئی ہو۔ اور سافل کا کیا معنی؟ جس کے اوپر کوئی ہو۔ جی، تو ہر مقوم للعالی جو ہے، وہ مقوم للسافل بھی ہے۔ ہر وہ جو اوپر والے کے لیے مقوم ہے، ہر وہ فصل، ہر وہ فصل جو اوپر والے کے لیے مقوم ہے، وہ نیچے والی نوع کے لیے بھی کیا ہے؟ مقوم۔ 2 کالقابل للابعاد جیسے کہ قبول کرنے والا ابعاد کو، یعنی ابعاد ثلاثہ کو۔ قبول کرنے والا ابعاد ثلاثہ، یہ جسم کے لیے فصل ہے۔ فانہ مقوم للجسم، یہ جو ہے مقوم ہے جسم کے لیے۔ وهو مقوم للجسم النامي، اور یہ مقوم ہے بھئی جسم کے نیچے کیا؟ جسم نامی، تو یہ اس کے لیے بھی مقوم ہے۔ تو کہتے ہیں وهو مقوم للجسم النامي، تو یہ مقوم ہے جسم نامی کے لیے بھی۔ اچھا جسم نامی کے نیچے کیا؟ حیوان۔ حیوان کے نیچے کیا؟ انسان۔ دیکھو سب کے لیے مقوم ہے، کہتے ہیں وهو مقوم للجسم النامي والحيوان والانسان، یہ مقوم ہے جسم نامی کے لیے بھی، حیوان کے لیے بھی اور انسان کے لیے بھی۔ یہ ایک مثال ذکر کی، قابل للابعاد یہ ہے پہلی مثال فصل کی جو مقوم ہے عالی کے لیے، تو مقوم ہے سافل کے لیے بھی۔ دوسری مثال كالنامي، جیسے کہ نامی۔ فانہ كما انه مقوم للجسم النامي، پس یہ جو ہے جس طرح کہ یہ مقوم ہے کس کے لیے؟ جیسے کہ یہ مقوم ہے جسم نامی کے لیے، مقوم للحيوان ومقوم للانسان ايضا، تو یہ مقوم حیوان کے لیے بھی ہے اور مقوم انسان کے لیے بھی۔ بھئی دیکھیے، جسم نامی اس کے اندر نامی فصل ہے، نامی کیا ہے؟ فصل ہے۔ نامی کا کیا معنیٰ؟ بڑھنے والا۔ اچھا اس جسم نامی کی کتنی قسمیں؟ دو، کون سی؟ حیوان اور غیر حیوان پودے وغیرہ۔ اچھا حیوان بھی بڑھنے والا ہے یا نہیں؟ پودے بھی بڑھنے والے ہیں یا نہیں؟ تو دیکھو جو اس کے لیے مقوم اس کی حقیقت میں داخل تھا، وہ ان کی بھی حقیقت میں داخل ہے۔ اچھا حیوان کے آگے قسم ہے انسان، انسان بھی بڑھنے والا ہے یا نہیں؟ دیکھو بڑھنے والا ہے، تو جو اوپر والے کے لیے مقوم تھا، وہ نیچے والے کے لیے بھی، جو اوپر والی نوع کی حقیقت میں داخل ہے، وہ نیچے والی نوع کی حقیقت میں یقیناً کیا ہوگا؟ داخل ہوگا۔ تو یہی بات کر رہے ہیں فانہ كما ان، وكان النامي اور جیسے کہ نامی ہے، فانہ كما انه مقوم للجسم النامي مقوم للحيوان ومقوم للانسان ايضا، جیسے کہ نامی کیونکہ جیسے یہ مقوم ہے جسم نامی کے لیے، یہ مقوم ہے حیوان کے لیے بھی اور مقوم ہے انسان کے لیے بھی۔ وكالحساس والمتحرك بالارادة، بھئی حیوان کی تعریف کیا کی تھی؟ وہ جسم نامی ہے جو حساس ہو اور متحرک بالارادہ ہو۔ تو حساس اور متحرک بالارادہ، یہ حیوان کے لیے فصل ہیں، کیا ہیں؟ فصل ہیں۔ کیا کیا؟ حساس اور متحرک بالارادہ۔ اب حیوان کے نیچے کیا ہے؟ انسان بھی ہے، گھوڑا بھی ہے، گدھا بھی ہے، اونٹ بھی ہیں، گائے بھی ہیں۔ اب بتائیے انسان بھی حساس ہے یا نہیں؟ اور باقی جانور بھی حساس ہیں یا نہیں؟ اچھا، تو نیز انسان بھی کیا ہے؟ متحرک بالارادہ، اور جانور بھی کیا ہیں؟ متحرک بالارادہ، کیونکہ وہ سب حیوان کی قسمیں ہیں اور جب حیوان کی حقیقت میں حساس اور متحرک بالارادہ ہے، تو نیچے اس کی قسموں میں بطریقِ اولیٰ کیا ہوگا؟ یہ ان کی حقیقت میں حساس اور متحرک بالارادہ ان کی حقیقت میں داخل ہوگا۔ وكالحساس والمتحرك بالارادة، اور جیسے کہ حساس اور متحرک بالارادہ ہے، فانہما كما انهما مقومان للحيوان، پس یہ دونوں جو ہیں جس طرح کہ یہ مقوم ہیں حیوان کے لیے، كذلك مقومان للانسان، اسی طرح یہ دونوں مقوم ہیں انسان کے لیے بھی۔ جی پہلا ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ کیا تھا؟ کل مقوم للعالي مقوم للسافل۔ اب آگے دوسرا ضابطہ آ رہا ہے، وليس كل مقوم للسافل مقوما للعالي، اور ہر وہ فصل جو مقوم ہو کس کے لیے؟ سافل کے لیے، وہ مقوم للعالی نہیں ہوگی بھئی۔ یعنی جو بھی فصل مقوم، بھئی ادھر دیکھیے اب، اب نیچے کی طرف نسبت کریں گے، پہلے کہا تھا جو اوپر والے کے لیے مقوم ہے، وہ نیچے والے کے لیے بھی مقوم ہے۔ اب بتائیں گے جو نیچے والے کے لیے مقوم ہے، وہ ضروری نہیں کہ اوپر والے کے لیے بھی کیا ہو؟ مقوم ہو۔ تو ہر نیچے والا مقو، نیچے والی فصل جو ہے، یعنی جو نیچے والے کے لیے مقوم ہے، نیچے والی نوع کے لیے، وہ ضروری نہیں کہ اوپر والی نوع کے لیے بھی کیا ہو؟ مقوم ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے دیکھیے ناطق، ناطق یہ انسان کے لیے مقوم ہے، انسان کی حقیقت میں داخل ہے۔ انسان کی حقیقت میں داخل ہے۔ اچھا اس کے اوپر جائیں ذرا، حیوان، حیوان، تو کیا حیوان کی تعریف میں ناطق کا لفظ آیا تھا؟ جی؟ نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جو نیچے والے کے لیے کیا ہو؟ مقوم ہو، وہ ضروری نہیں کہ اوپر والے کے لیے بھی کیا ہو؟ مقوم ہو۔ کہتے ہیں وليس كل مقوم للسافل مقوما للعالي، اور ہر وہ جو مقوم ہے سافل کے لیے، یعنی نوعِ سافل کے لیے، وہ نہیں ہوگا مقوم عالی کے لیے، یعنی وہ مقوم نہیں ہوگا نوع، ہر وہ فصل جو مقوم ہے نوعِ سافل کے لیے، وہ نوعِ عالی کے لیے مقوم نہیں ہے۔ فان الناطق مقوم للانسان، اسی کیونکہ ناطق جو ہے مقوم ہے انسان کے لیے، وليس مقوما للحيوان، اور وہ مقوم للحیوان نہیں ہے، حیوان کی حقیقت میں داخل نہیں، کیونکہ حیوان کی تعریف میں کوئی ناطق کا لفظ نہیں آیا تھا، اس کی تعریف میں نے آپ کو لکھوائی تھی بھئی۔ فصل ای هذا فصل، یہ فصل ہے۔ كل فصل مقسم للسافل مقسم للعالي، بھئی وہ اوپر والے دو ضابطے تھے، کس کے اعتبار سے؟ نوع کے اعتبار سے، کیونکہ نوع کے اعتبار سے فصل کیا ہے؟ مقوم ہے۔ اور اگلے آگے دو ضابطے آئیں گے، آسان ضابطے ہیں، وہ جنس کے اعتبار سے ہیں، جنس کے لیے فصل کیا تھی؟ مقسم تھی، کیا تھی؟ مقسم تھی، اب دیکھیے کہ جو بھی نیچے والی جنس کے لیے مقسم ہوگی جو بھی فصل، وہ اوپر والی کے لیے بھی مقسم ہوگی۔ جو فصل کی بات کر رہے ہیں نا، جو فصل نیچے والی جنس کے لیے مقسم ہوگی، وہ لازمی بات ہے اوپر والی کے لیے بھی کیا ہوگی؟ مقسم ہوگی۔ لیکن جو اوپر والی کے لیے مقسم ہو، وہ ضروری نہیں کہ نیچے والی کے لیے بھی مقسم ہو۔ جیسے دیکھیے بھئی، یہ ہے انسان، اس کے اوپر کیا ہے؟ حیوان، اس کے اوپر جسمِ نامی، اس کے اوپر جسمِ مطلق، اس کے اوپر جوہر، تو سب سے نیچے ہوا انسان۔ اچھا انسان کے لیے فصل کیا ہے؟ ناطق۔ یہ ناطق اب انسان کے اوپر ہے جنس، انسان تو ہے نوع، اس کے اوپر کیا ہے؟ جنس، تو یہ ناطق، یہ حیوان کے اعتبار سے اس کو تقسیم کر رہا ہے حیوان کو، معلوم ہوا حیوان دو قسم پر ہے، ایک ناطق، ایک غیر ناطق، تو یہ حیوان تو ہے جنس، تو یہ ناطق نے کیا کیا؟ اس جنس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، اسی لیے بحث پہلے گزر چکی کہ فصل کو جنس کی نسبت سے کیا کہا جاتا ہے؟ مقسم کہا، یہ کیوں کیا کر رہا ہے؟ اس کو تقسیم کر رہا ہے، یہ ناطق حیوان کو کتنے حصوں میں تقسیم کر رہا ہے؟ دو حصوں میں، ایک ناطق تو ایک غیر ناطق، اور حیوان کیا ہے؟ جنس ہے، جس کو یہ تقسیم کر رہا ہے، تو معلوم ہوا فصل جو ہے، یہ جنس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ اور حیوان کیا ہے؟ جنسِ سافل ہے یا جنسِ عالی ہے؟ یہ تو سب سے نیچے والی جنس ہے، یہ ہے جنسِ سافل، اس کے اوپر کیا ہے؟ جسمِ نامی، جسمِ نامی، تو حیوان ہوا جنسِ سافل، اور جسمِ نامی ہوا جنسِ عالی، کیونکہ میں نے ابھی بتایا اس فصل میں عالی اور سافل کا کیا معنیٰ؟ عالی کا معنیٰ جس کے نیچے کوئی ہو، اور سافل کا معنیٰ جس کے اوپر کوئی ہو، تو حیوان کے اوپر کیا ہے؟ جسمِ نامی، تو حیوان کیا ہے؟ جنسِ سافل، اور جسمِ نامی کیا ہے؟ جنسِ عالی، جنسِ عالی ہے۔ اچھا پھر جسمِ نامی کے اوپر ہے جسمِ مطلق، تو جسمِ نامی کیا ہوا؟ جنسِ سافل، اور جسمِ مطلق کیا ہوا؟ جنسِ عالی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں جو بھی ف، جو بھی فصل نیچے والی جنس کے لیے مقسم ہوگی، وہ لازمی بات ہے اوپر والی کے لیے بھی کیا ہوگی؟ مقسم ہوگی۔ جیسے دیکھو ناطق نے حیوان کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا تھا؟ دو حصوں میں، کیا؟ ایک ناطق اور ایک غیر ناطق، اچھا اسی طرح یہ ناطق اس سے اوپر چلے جائیں، جسمِ نامی، اس کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دے گی، ایک جسمِ نامی ناطق، ایک جسمِ نامی غیر ناطق۔ بھئی انسان بھی تو جسمِ نامی میں، اس میں داخل ہے یا نہیں؟ تو جب ہم نے کہا ناطق، تو معلوم ہوا جسمِ نامی ناطق آ گیا، جسمِ نامی غیر ناطق کیا ہوا؟ نکل گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا اس سے اوپر چلے جائیں، جسمِ مطلق، تو انسان بھی جسم ہے یا نہیں؟ تو وہ اس کی قسم میں سے ہے، تو جب ہم نے کہا ناطق، تو جسمِ مطلق کے بھی معلوم ہوا دو حصے ہو گئے، ایک جسمِ مطلق کون سا؟ ناطق، اور ایک جسمِ مطلق غیر، کیونکہ یہ اسی کی قسم تھی، تو وہ باقیوں کو جب ناطق، تو دیکھو جو نیچے والے کے لیے مقسم ہے، وہ اوپر والے کے لیے بھی کیا ہے؟ مقسم ہے، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں، دیکھیے کتاب پر، فصل ای هذا فصل، یہ فصل ہے۔ كل فصل مقسم للسافل، ہر وہ فصل جو مقسم ہو کس کے لیے؟ سافل یعنی نیچے والی جنس کے لیے، مقسم للعالي، وہ اوپر والی جنس کے لیے بھی کیا ہوگی؟ مقسم۔ فان الناطق كما يقسم الحيوان الى الناطق وغير الناطق، پس ناطق یہ جس طرح تقسیم کر دیتا ہے حیوان کو ناطق اور غیر ناطق کی طرف، كذلك يقسم الجسم المطلق اليهما، اسی طرح یہ تقسیم کر دیتا ہے جسمِ مطلق کو بھی ان دو قسموں کی طرف، کہ اس کی بھی دو قسمیں بن جائیں گی، ایک ناطق اور ایک غیر۔ جی دوسرا ضابطہ، وليس كل مقسم للعالي مقسما للسافل، ہر وہ فصل جو مقسم ہو کس کے لیے؟ عالی کے لیے، اب اوپر کی طرف سے آئیں، بھئی نیچے کی طرف سے ہم گئے، نیچے والی کے لیے جو مقسم تھا، وہ اوپر والی کے لیے بھی مقسم، لیکن اس کا عکس نہیں ہے، جو اوپر والی کے لیے مقسم ہو، وہ ضروری نہیں کہ نیچے والی کے لیے بھی مقسم ہو۔ تو کہتے ہیں وليس كل مقسم للعالي مقسما للسافل، اور ہر وہ جو فصل جو مقسم ہو عالی، جنسِ عالی کے لیے، یہ ضروری نہیں کہ وہ مقسم ہو کس کے لیے؟ جنسِ سافل کے لیے بھی۔ فان الحساس مثلا يقسم الجسم النامي الى الجسم النامي الحساس والى الجسم النامي غير الحساس، بھئی دیکھیے بھئی، ضابطہ یہ بیان ہوا کہ جو اوپر والی کے لیے مقسم ہو، وہ ضروری نہیں کہ نیچے والی کے لیے بھی مقسم ہو۔ اچھا مثلاً دیکھیے، ہم نے کہا حساس، بھئی جسمِ نامی، حساس کیا ہے؟ حساس حیوان کا، کی فصل ہے۔ حساس، ہر حیوان کیا ہے؟ حساس ہے، تو بھئی جب ہم، تو جسمِ نامی کے نیچے حیوان بھی تھے اور پودے بھی تھے۔ کیا تھے؟ اور حیوان کا ایک کی فصل کیا ہے؟ حساس ہے، تو جب ہم نے کہا حساس، تو یہ حیوان کے لیے جنس کیا؟ اوپر والی، حیوان کے لیے؟ اوپر جنس کیا ہے اس کے؟ بھئی حیوان ہے نوعِ اضافی، کیا ہے؟ ہاں اس کے لیے اوپر کیا ہے؟ جنس ہے، جنسِ قریب اس کے کیا ہے؟ جسمِ نامی ہے، حیوان نوعِ اضافی ہے نا؟ جنس بھی ہے لیکن نوع بھی ہے یا نہیں نوعِ اضافی؟ کہ نوعِ اضافی کسے کہتے تھے؟ اس ماہیت کو لے کر دوسری ماہیت کے ساتھ سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس، حیوان کے ساتھ پودے وغیرہ لے کر سوال کرو جواب میں کیا آئے گا؟ جسمِ نامی، اور وہ جنس ہے، معلوم ہوا یہ حیوان کیا ہے؟ نوعِ اضافی بھی ہے، تو اس وقت ہم اس سے بات کر رہے ہیں نوعِ اضافی ہونے کے اعتبار سے بات کر رہے ہیں، اس حیوان کے اوپر سب سے قریبی جنس کون سی؟ جسمِ نامی، جب ہم نے کیا کہا؟ حساس کہا، حساس، تو یہ جو جسمِ نامی ہے اس کے دو حصے بن گئے، کون کون سے؟ ایک حساس اور ایک غیر حساس، حساس میں صرف کیا رہے؟ حیوان، اور غیر حساس میں کیا چلے گئے؟ پودے وغیرہ، پودے وغیرہ چلے گئے۔ ہاں انسان کے اعتبار سے، کس کے اعتبار سے؟ انسان کے اعتبار سے لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، ضابطہ یہ بیان ہو رہا ہے توجہ رکھو بھئی، ضابطہ یہ بیان ہو رہا ہے کہ جو عالی کے لیے مقسم ہو، وہ ضروری نہیں کہ سافل کے لیے بھی مقسم ہو، جو سافل کے لیے مقسم ہے، وہ تو ضرور عالی کے لیے مقسم ہو گا، لیکن جو عالی کے لیے مقسم ہو، وہ ضروری نہیں کہ سافل کے لیے بھی مقسم ہو۔ جیسے دیکھیے انسان کی ایک فصل حساس بھی ہے۔ کیا ہے؟ کیوں حساس کیوں؟ کیونکہ انسان کس کا نام ہے؟ حیوانِ ناطق کا، تو حیوان اور ناطق، اور حیوان کس چیز کا نام ہے؟ حساس متحرک بالارادہ کا نام ہے، تو اس میں حساس داخل ہے بھئی، جب حیوان کہا تو حساس خود ہی اس کے اندر آ گیا، تو ہم نے حساس کہا، حساس کیا ہے؟ انسان کے لیے حقیقت میں داخل ہے انسان کی، تو اور یہ کیا کرتا ہے؟ جب ہم نے کہا حساس، تو کون نکل گئے؟ غیر حساس، تو یہ قسمیں کہاں جا کر بنیں؟ حیوان میں بنیں؟ حیوان میں، حیوان میں نہیں بنیں گی، کیونکہ ہر حیوان کیا ہے؟ حساس، ہاں حساس حیوان سے اوپر جائیں، جسمِ نامی، وہاں جا کر دو قسمیں بن گئیں، ایک حساس اور ایک غیر حساس۔ تو دیکھو یہ حساس مقسم ہے عالی کے لیے، کس کے لیے؟ اوپر والی جنس کے لیے، اور جو اوپر والی جنس کے لیے مقسم ہو، وہ ضروری نہیں کہ نیچے والی جنس کے لیے بھی مقسم، دیکھو حساس سے جسمِ نامی تو تقسیم ہو رہا تھا دو قسموں میں، لیکن حیوان نہیں تقسیم ہو رہا، حیوان کیونکہ ہر حیوان کیا ہے؟ حساس ہے، کوئی بھی حیوان غیر حساس نہیں، ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ کہ نوع، فصل جو ہے نوع کی نسبت سے وہ مقوم کہلاتی ہے، اور جنس کی نسبت سے مقسم، اور پھر دو دو ضابطے بتائے دونوں اعتبار سے، نوع کے اندر، نوع کے تعلق کے اعتبار سے دو ضابطے بتائے کہ ہر وہ فصل جو مقوم ہو کس کے لیے؟ عالی کے لیے، وہ مقوم ہوگی سافل کے لیے بھی، لیکن ہر وہ، ہر وہ فصل جو مقوم ہو کس کے لیے؟ سافل کے لیے، وہ ضروری نہیں کہ وہ مقوم ہو عالی کے لیے بھی۔ اور پھر جنس کے اعتبار سے بھی دو ضابطے بتائے، کیا؟ کہ ہر وہ فصل جو مقسم ہو کس کے لیے؟ سافل کے لیے، وہ مقسم ہوگی کس کے لیے؟ عالی کے لیے، لیکن ہر وہ فصل جو مقسم ہو کس کے لیے؟ عالی کے لیے، وہ ضروری نہیں کہ وہ مقسم ہو کس کے لیے؟ سافل کے لیے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں وليس كل مقسم للعالي مقسما للسافل، اور نہیں ہے ہر مقسم للعالی مقسم للسافل، ہر مقسم للعالی وہ مقسم للسافل نہیں ہے، فان الحساس مثلا، مثال کے طور پر حساس۔ 3 "فیقسم الحسم النامی" یہ تقسیم کرتا ہے جسم نامی کو "إلى الجسم النامي الحساس وإلى الجسم النامي غير الحساس" کس کی طرف تقسیم کرتا ہے اس جسم نامی کو؟ جسم نامی حساس اور جسم نامی غیر حساس کی طرف۔ "وليس يقسم الحيوان إليهما" اور یہ حیوان کو ان دو قسموں کی طرف تقسیم نہیں کرتا۔ "فإن كل حيوان حساس" اس لیے کیونکہ ہر حیوان کیا ہے؟ حساس ہے۔ "ولا يوجد غير حساس" اور کوئی حیوان غیر حساس نہیں پایا جاتا۔ "يوجد" کے اندر "هو" ضمیر ہے، وہ حساس کو راجع، اور "غیر حساس" یہ اس سے حال ہے، اور نہیں پایا جاتا کوئی حیوان اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ غیر حساس ہو بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 44 of 108