Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 57
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 39 1 فَصْلٌ، اَلثَّانِي اَلنَّوْعُ: وَهُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ، وَلِلنَّوْعِ مَعْنًى آخَرُ وَيُقَالُ لَهُ اَلنَّوْعُ اَلْإِضَافِيُّ، وَهُوَ مَاهِيَّةٌ يُقَالُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا اَلْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ. گزشتہ سبق میں ہم نے کلیاتِ خمسہ شروع کی تھیں، اور وجہِ حصر پڑھی تھی کہ کلی یا تو اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہوگی یا اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوگی۔ اگر اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہے، تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ اپنے افراد کی تمامِ ماہیت ہوگی، تمامِ حقیقت ہوگی، یعنی پوری حقیقت ہوگی یا حقیقت کا جز ہوگی۔ اگر پوری حقیقت ہو تو اسے نوع کہتے ہیں، جیسے حیوانِ ناطق انسان کے لیے بھئی۔ تو یہ حیوانِ ناطق انسان کی پوری حقیقت ہے بھئی، تو اسے کیا کہیں گے؟ نوع کہیں گے۔ اور اگر اپنے افراد کی پوری حقیقت نہ ہو، بلکہ حقیقت کا جز ہو، تو پھر وہ اس ماہیت اور دوسری ماہیت کے درمیان مشترک ہوگی یا مشترک نہیں ہوگی۔ اگر وہ اس ماہیت اور دیگر ماہیتوں میں مشترک ہو، تو اسے جنس کہا جاتا ہے، جیسے کہ حیوان بھئی، حیوان انسان کے اندر اور دیگر ماہیتوں میں گائے بکری وغیرہ کے اندر یہ مشترک ہے بھئی، سب حیوان ہیں۔ اور اگر دیگر ماہیتوں میں بھئی، حقیقت پوری حقیقت بھی نہیں، پوری حقیقت تو نہیں ہے حقیقت کا جز ہے، اور دیگر ماہیتوں میں نہیں پائی جاتی، دیگر ماہیتوں میں مشترک نہیں ہے، تو پھر اسے فصل کہتے ہیں بھئی فصل، جیسے ناطق انسان کے لیے۔ اب ناطق انسان کی پوری حقیقت نہیں حقیقت کا جز ہے، اور انسان کے علاوہ کسی اور ماہیت میں یہ موجود نہیں، تو لہٰذا اسے کیا کہیں گے؟ فصل کہیں گے، فصل۔ تو جنس، نوع اور فصل، یہ عینِ حقیقت ہیں یا حقیقت کا جز ہیں بھئی؟ وجہِ حصر ہم اسی طرح کر رہے تھے نا کہ حقیقت میں داخل ہوگی، تو یہ سب حقیقت میں داخل ہیں۔ پھر ان میں سے حیوانِ ناطق جو ہے وہ پوری حقیقت ہے، جبکہ جنس اور فصل کیا ہیں؟ حقیقت کا جز ہیں۔ پھر جنس اور فصل میں سے جو جنس ہے، وہ اس ماہیت اور دوسری ماہیتوں کے درمیان مشترک ہے، جبکہ فصل وہ صرف اسی ماہیت کے ساتھ خاص ہے، اسی ماہیت میں ہے، دوسری ماہیتوں میں نہیں ہے۔ اور اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو، تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ اسی ماہیت کے افراد کے ساتھ خاص ہوگی یا اس کے ساتھ ساتھ دوسری ماہیتوں میں بھی پائی جائے گی۔ اگر اسی ماہیت کے افراد کے ساتھ خاص ہو، حقیقت سے خارج ہو اور اسی ایک ہی ماہیت کے افراد کے ساتھ خاص ہو، تو اسے خاصہ کہتے ہیں۔ اور اگر حقیقت سے خارج ہے اور اس ماہیت کے افراد کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ دوسری ماہیتوں میں بھی پائی جائے، تو پھر اسے عرضِ عام کہتے ہیں بھئی، عرضِ عام کہتے ہیں۔ تو ان میں سے ہم نے جنس کے بارے میں پڑھ لیا تھا اور نوع کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ جنس کی تعریف آپ نے پڑھی تھی: هُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ. وہ ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جاتی ہے کہ جن کی حقیقتیں مختلف ہوتی ہیں، کس کے جواب میں؟ ما ہو کے جواب میں، جیسے کہ حیوان، کیونکہ یہ انسان پر بھی بولا جاتا ہے، گھوڑے پر بھی، بھیڑ بکری وغیرہ پر بھی جب ان کے بارے میں سوال کیا جائے ما ہو کے ساتھ۔ اور ما ہو اصطلاح کے بارے میں میں نے بتلایا تھا، ما ہو کا کیا معنی ہے؟ "وہ کیا ہے؟" اور اس کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ تو اگر ایک ہی حقیقت والے افراد کے بارے میں سوال کیا جائے کہ مثلاً زید، عمر اور بکر جو ہیں "ما ہم؟" (وہ کیا ہیں؟)، تو جواب میں کیا آئے گا؟ نوع آئے گی بھئی، کیونکہ ایک حقیقت والے ہیں تو پوری حقیقت آ جائے گی، جواب میں کہیں گے "حیوانٌ ناطقٌ"۔ یا ایک ہی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے، تو بھی اس کی پوری حقیقت آئے گی، جیسے "الانسانُ ما هو؟"، ایک ہی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو اس کی پوری حقیقت آئے گی جواب میں اور کیا کہیں گے؟ "حیوانٌ ناطقٌ"۔ تو ایک ہی حقیقت والے افراد کے بارے میں سوال کیا جائے یا ایک ہی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے، تو جواب میں نوع آیا کرتی ہے بھئی اس کے، نوع۔ اور اگر مختلف ماہیتوں والے افراد کے بارے میں پوچھا جائے اس کے ذریعے، مثلاً "زیدٌ وعمروٌ وبکرٌ وفرسٌ وغنمٌ ما هي؟" (یہ کیا ہیں؟)، تو اب جواب میں ایسی ماہیت لائیں گے جو ان سب میں مشترک ہو بھئی۔ اب ان کی حقیقتیں تو الگ بھئی، زید، عمر، بکر کی حقیقت الگ، فرس کی حقیقت الگ، غنم کی حقیقت الگ، تو ایسی چیز، ایسی ماہیت جواب میں ذکر کریں گے جو ان سب میں مشترک ہو، اور ان سب میں مشترک کیا ہے؟ حیوان، تو جواب میں اب حیوان یعنی کہ جنس آئے گی بھئی، جنس بھئی۔ اس کے بعد نوع کے بارے میں ہم نے پڑھا کہ نوع کسے کہتے ہیں؟ هُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ. وہ ایسی کلی ہے جو بولی جاتی ہے ایسے کثیرین پر جن کی حقیقت متفق ہوتی ہے، یعنی ایک ہی ہوتی ہے جن کی حقیقت بھئی۔ جیسے ابھی مثال گزری، کوئی پوچھتا ہے "زیدٌ وعمروٌ وبکرٌ ما هم؟" (زید، عمر اور بکر کیا ہیں؟)، اب یہ کثیرین ہیں، لیکن ان کی حقیقت کیا ہے؟ ایک ہی ہے، تو جواب میں نوع آئے گی اور کیا کہیں گے؟ "حیوانٌ ناطقٌ"۔ آگے اب مصنف فرماتے ہیں: وَلِلنَّوْعِ مَعْنًى آخَرُ. اور نوع کا ایک اور معنی بھی ہے۔ وَلِلنَّوْعِ مَعْنًى آخَرُ، نوع کا ایک اور معنی بھی ہے، وَيُقَالُ لَهُ اَلنَّوْعُ اَلْإِضَافِيُّ، اور اسے نوعِ اضافی کہتے ہیں۔ یہ جو پہلے تعریف گزری: هُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ، یہ نوعِ حقیقی کی تعریف تھی بھئی، کس کی تعریف؟ نوعِ حقیقی کی، اب آگے نوع کا ایک اور معنی بیان کرنے لگے ہیں اور اسے نوعِ اضافی کہتے ہیں بھئی، نوعِ اضافی۔ اور وہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ مَاهِيَّةٌ، وہ ماہیت ہے، يُقَالُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا اَلْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ. کہ بولا جائے اس پر اور اس کے علاوہ پر، اس ماہیت اور اس کے علاوہ ماہیت پر جنس بولی جائے فِي جَوَابِ مَا هُوَ، کس کے جواب میں؟ ما ہو کے جواب میں۔ بھئی، نوعِ اضافی ادھر توجہ کریں بھئی، نوعِ اضافی اسے کہتے ہیں کہ کسی ماہیت کو پکڑ کر اس کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملائیں اور پھر سوال کریں کہ "ما ہما" یا "ما ہی" کے ساتھ سوال کریں۔ تو جواب میں جنس آئے بھئی، کیا آئے؟ جنس آئے، ایک ماہیت ہے، اس کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے اور جواب میں جنس آئے، تو سمجھ لیں یہ نوعِ اضافی ہے وہ ایک ماہیت۔ مثلاً دیکھیے، یہ ایک ماہیت ہے میرے سامنے بھئی، اس ماہیت کے ساتھ میں کوئی اور ماہیت ملا کر سوال کروں اور جواب میں کیا واقع ہو؟ جنس، تو سمجھ جائیں یہ جو ماہیت، پہلی ماہیت تھی اس کو کیا کہیں گے؟ نوعِ اضافی کہیں گے بھئی، اس ماہیت کو میں نے دوسری کسی ماہیت کے ساتھ ملا کر سوال کیا تو جواب میں جنس آیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ نوعِ اضافی کسے کہتے ہیں؟ وہ ماہیت جس کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملا کر "ما ہی" کے ساتھ سوال کیا جائے تو جواب میں کیا واقع ہو؟ جنس واقع ہو بھئی، جنس واقع ہو، تو اسے نوعِ اضافی کہیں گے۔ مثلاً بھئی، دیکھتے ہیں کہ انسان نوعِ اضافی ہے یا نوعِ اضافی نہیں۔ تو انسان ایک ماہیت ہے، اب اس کے ساتھ ذرا میں ایک اور ماہیت مثلاً فرس کو ملا دیتا ہوں، اور آپ سے پوچھتا ہوں: "الانسانُ والفرسُ ما هما؟" (انسان اور فرس یہ دونوں کیا چیز ہیں؟)، آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ "حیوانٌ" بھئی، دیکھا؟ حیوان تو جنس ہے بھئی، تو دیکھو انسان کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر میں نے سوال کیا تو جواب میں جنس واقع ہوئی، اس سے پتہ چل گیا کہ انسان نوعِ اضافی ہے بھئی، کیا ہے؟ انسان نوعِ اضافی ہے بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ کہ نوعِ اضافی کسے کہیں گے؟ ایک ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے، ہاں، ایک ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے، تو وہ جو پہلی ماہیت تھی اس کو کیا کہیں گے؟ نوعِ اضافی کہیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسے نوعِ اضافی کہیں گے۔ اور اس کے ساتھ جس ماہیت کو ملایا، معلوم ہوا وہ بھی نوعِ اضافی ہے بھئی، اس کے ساتھ اس کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے گا؟ وہی جنس آئے گی بھئی۔ بس نوعِ اضافی اتنا سمجھ لیں وہ ہے کہ اس ماہیت کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا واقع ہو؟ جواب میں جنس کا آنا ضروری ہے بھئی، اگر جنس نہ آئے جواب میں تو سمجھ جائیں یہ نوعِ اضافی نہیں ہے بھئی، اگر جنس آئے جواب میں تو سمجھیں کہ یہ نوعِ اضافی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِلنَّوْعِ مَعْنًى آخَرُ وَيُقَالُ لَهُ اَلنَّوْعُ اَلْإِضَافِيُّ وَهُوَ مَاهِيَّةٌ يُقَالُ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا اَلْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ. اور نوع کا ایک اور معنی بھی ہے اور اسے نوعِ اضافی کہا جاتا ہے، اور وہ ماہیت ہے کہ يُقَالُ عَلَيْهَا، بولا جائے اس پر، وَعَلَى غَيْرِهَا، اور اس کے غیر پر، اَلْجِنْسُ، کیا بولا جائے، کیا ذکر کیا جائے؟ جنس کو ذکر کیا جائے فِي جَوَابِ مَا هُوَ، ما ہو کے جواب میں۔ وَبَيْنَ اَلنَّوْعِ اَلْحَقِيقِيِّ وَالنَّوْعِ اَلْإِضَافِيِّ عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ. اور نوعِ حقیقی اور نوعِ اضافی کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے بھئی، عموم و خصوص من وجہ۔ بھئی، عموم و خصوص من وجہ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، عموم و خصوص من وجہ کسے کہتے تھے؟ کہ پہلی کلی دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آئے بعض پر صادق نہ آئے، اور دوسری کلی پہلی کلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے بھئی، یہ تھے عموم، یہ ہے عموم و خصوص من وجہ، اور اس میں کتنے مادے ہوتے ہیں بھئی؟ اس میں جی تین مادے ہوتے ہیں، ایک مادہ افتراق کا اور دو مادے۔۔۔ نہیں، ایک مادہ اجتماع کا اور دو مادے افتراق کے ہوتے ہیں بھئی، جیسے کہ اس کی مثال ابیض اور حیوان گزری تھی بھئی۔ کوئی چیز ابیض ہو حیوان نہ ہو، یہ ہے افتراق کا مادہ، یا کوئی چیز حیوان ہو اور ابیض نہ ہو، یہ بھی افتراق کا مادہ، اور ایک چیز ابیض بھی ہو اور حیوان بھی ہو، تو یہ کیا ہے؟ اجتماع کا مادہ بھئی، اجتماع کا مادہ۔ تو یہاں تین مادے ہوتے ہیں، اب وہی تینوں مادے بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں ان کے درمیان عموم و خصوص من وجہ ہے، کیوں؟ لِتَصَادُقِهِمَا عَلَى اَلْإِنْسَانِ، بوجہ ان دونوں کے صادق آنے کے انسان پر، کہ یہ دونوں انسان پر صادق آتی ہیں، کون کون دونوں بھئی؟ نوعِ حقیقی اور نوعِ اضافی۔ انسان نوعِ حقیقی بھی ہے اور نوعِ اضافی بھی۔ نوعِ حقیقی کیوں؟ کیونکہ یہ ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں متفق ہیں، ایک ہی ہیں بھئی، تو یہ نوعِ حقیقی بھی ہے، اور نوعِ اضافی بھی ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو مثلاً فرس یا غنم کو لے کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا واقع ہوتی ہے؟ جنس واقع ہوتی ہے، تو یہ ہے وہ اجتماع کا مادہ انسان بھئی، نوعِ اضافی بھی ہے اور نوعِ حقیقی بھی ہے۔ وَصِدْقِ اَلْحَقِيقِيِّ بِدُونِ اَلْإِضَافِيِّ فِي اَلنُّقْطَةِ. اور حقیقی کا صادق آنا بغیر اضافی کے، یعنی نوعِ حقیقی کا صادق آنا بغیر نوعِ اضافی کے صادق آئے فِي اَلنُّقْطَةِ، یہ کس کے اندر ہے؟ نقطے کے اندر ہے بھئی، نقطے کے اندر۔ نقطہ بھئی سمجھ لیں بھئی۔ ایک ہے نقطہ، ایک ہے خط، اور ایک ہے سطح، اور ایک جسم بھئی، جسم۔ نقطہ، خط، سطح، جسم۔ جسم بھئی، جسم جوہر سے مرکب ہوتا ہے اور یہ لمبائی، چوڑائی اور گہرائی تینوں طرف تقسیم کو قبول کرتا ہے، تینوں طرف اس کی تقسیم ہو سکتی ہے بھئی۔ مثلاً دیکھیے فرض کیجیے بھئی، یہ میرے سامنے ایک چوکور ڈبہ پڑا ہے، چوکور ڈبہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ چوکور ایک ڈبہ پڑا ہے بھئی، نظر آ رہا ہے سب کو بھئی؟ اب اس چوکور ڈبے کے کے دیکھو کچھ لمبائی ہے، کچھ چوڑائی ہے، اور کچھ گہرائی یا اونچائی کہہ لیں آپ بھئی، کچھ کیا ہے؟ اونچائی ہے۔ تو لمبائی بھی ہے، چوڑائی بھی ہے اور گہرائی یا اونچائی کہہ لیں بھئی، گہرائی بھی ہے۔ اور آپ تقسیم کرنا چاہیں چوڑائی میں اس کو، تو چوڑائی میں تقسیم کر سکتے ہیں بھئی۔ ڈبہ مثلاً چار انچ چوڑائی ہے، تو آپ اس کو تقسیم کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے بھئی؟ جی؟ تقسیم کر سکتے ہیں بھئی، چار انچ چوڑائی ہے جتنے حصے مرضی کریں چوڑائی میں۔ اسی طرح لمبائی ہے مثلاً پانچ انچ لمبائی ہے، تو لمبائی میں بھی آپ اس کو تقسیم کر سکتے ہیں۔ دیکھیں مثلاً یہ ہے اس کی چوڑائی، یہ ہے لمبائی، اور یہ ہے اونچائی اس کی بھئی۔ چوڑائی میں بھی یہ تقسیم ہو جائے گا، جتنے بھی حصے کر لیں بھئی، اور لمبائی میں بھی آپ جتنے اس کے حصے کرنا چاہیں لمبائی میں بھی یہ تقسیم ہو جاتا ہے، اور یہ جو اونچائی یا گہرائی ہے اس میں بھی تقسیم ہو جاتا ہے جتنے حصے کر لیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو جسم ہوتا ہے، جسم۔۔۔ 2 جس میں مطلق کہیں یا جسم کہہ لیں۔ یہ جسم جو ہے لمبائی، چوڑائی اور گہرائی تینوں طرف تقسیم کو قبول کر لیتا ہے۔ اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ تقسیم ہو سکتا ہے بھئی۔ اور اس جسم کی انتہا جو ہے یعنی ایک جانب، یہ سطح کہلاتی ہے۔ کیا کہلاتی ہے؟ دیکھیے، یہ اس کی ہے اوپر والی سطح، ایک اس کی نیچے والی سطح ہوگی، ایک دائیں طرف سطح ہے، ایک بائیں طرف، ایک آگے کی جانب سطح ہے اور ایک پیچھے کی جانب بھئی۔ تو یہ جس جہت میں بھی، جس طرف کو بھی اس جسم کی انتہا ہو رہی ہے، جہاں پر یہ ختم ہو رہا ہے، یہ والی اس کی جانب کیا کہلاتی ہے؟ سطح کہلاتی ہے۔ سین، ط، ح، سطح۔ سطح۔ تو اس کی دیکھیے کتنی سطحیں بن گئیں بھئی؟ چھ سطحیں بن گئیں بھئی، اوپر نیچے، دائیں بائیں اور آگے پیچھے۔ یہ جو جسم کی جس پر انتہا ہو رہی ہے اسے سطح کہتے ہیں۔ تو سطح جسم کی انتہا کا نام ہے بھئی۔ اور یہ جو سطح ہوتی ہے، یاد رکھیے، یہ مثلاً یہ دیکھیے، یہ اوپر والی سطح، یہ لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کر لے گی، چوڑائی میں بھی تقسیم کو قبول کر لے گی، لیکن گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں کرے گی بھئی، کیونکہ گہرائی ہے ہی نہیں اس کی، یہ صرف اوپر والے حصے کا نام ہے بھئی۔ گہرائی ہوتی تو پھر آگے تقسیم بھی ہو جاتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو اس کی تو گہرائی ہے ہی نہیں، یہ صرف اوپر اوپر والے حصے کا نام ہے، تو اس کی گہرائی ذرا بھی نہیں ہے۔ اگر گہرائی ہوتی تو پھر تقسیم بھی ہو جاتا گہرائی کی طرف، لیکن گہرائی تو ہے نہیں۔ چوڑائی بھی ہے اس کی، لمبائی بھی ہے، لیکن گہرائی نہیں، تو صرف یہ کس میں تقسیم کو قبول کرتا ہے؟ لمبائی اور چوڑائی میں، گہرائی میں یہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا بھئی۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب یہ جو سطح ہے، اس سطح کی یہ دیکھیے چار جانبیں بن رہی ہیں یہاں پر۔ چار جانبیں ہیں بھئی، دائیں، دایاں کنارہ اس سطح کا، بایاں کنارہ، اگلا کنارہ اور پچھلا کنارہ، یہ چار کنارے اس کے بن رہے ہیں۔ تو یہ جو سطح کا کنارہ ہوتا ہے، سطح کی انتہا ہوتی ہے، اس کو خط کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ خط کہتے ہیں۔ تو یہاں دیکھیے کتنے خط مل گئے ہمیں؟ ایک دائیں طرف، ایک بائیں طرف، ایک اگلے جانب اور ایک پچھلے جانب، تو کتنے خط مل گئے؟ چار۔ سطح کتنی طرف کو تقسیم قبول کرتی تھی؟ دو طرف، لمبائی میں اور چوڑائی میں۔ اور یہ جو خط ہے یاد رکھیے، یہ صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرے گا، چوڑائی میں بھی نہیں، کیونکہ چوڑائی ہے ہی نہیں اس کی، یہ سطح کا آخری کنارہ ہے۔ اور کس کا کنارہ ہے؟ سطح کا، اور سطح خود گہرائی میں تقسیم کو قبول کرتی تھی؟ سطح خود بھی گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں، تو اس کا کنارہ بھی گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں، تو گہرائی میں بھی یہ خط تقسیم کو قبول نہیں کرتا، اور اب چوڑائی میں بھی تقسیم کو قبول نہیں کر رہا، صرف کس میں تقسیم کو قبول کر رہا ہے؟ صرف لمبائی کے اندر تقسیم کو قبول کر رہا ہے۔ یہ والا خط ہے، تو اس طرف کو دوسری سامنے والا خط ہے، وہ صرف اس لمبائی کے اندر تقسیم کو قبول کرے گا بھئی، چوڑائی اور گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں کرے گا۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ اچھا، اس کے بعد یہ جو خط ہے ایک، اس خط کی طرف کو نقطہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ خط کے آخری کنارے کو ایک طرف بھی اور دوسری طرف بھی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نقطہ کہتے ہیں بھئی، نقطہ۔ اور یہ جو نقطہ ہے، بھئی خط صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کر رہا تھا، اور اس کا آخری کنارہ ہے نقطہ۔ تو یہ جو نقطہ ہے، یہ اب لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول نہیں کرے گا۔ نہ لمبائی میں، نہ چوڑائی میں، نہ گہرائی میں، کسی طرف بھی یہ تقسیم کو قبول نہیں کرے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جسم کی انتہا کو کیا کہتے ہیں؟ سطح۔ سطح کے آخری کونے اور انتہا کو کیا کہتے ہیں؟ خط۔ اور خط کے آخری کونے کو کیا کہتے ہیں؟ نقطہ۔ جسم جو ہے لمبائی، چوڑائی، گہرائی تینوں طرف تقسیم کو قبول کر لیتا ہے، جبکہ سطح جو ہے وہ صرف لمبائی اور چوڑائی میں تقسیم کو قبول کرتی ہے، اور پھر خط جو ہے وہ صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے، چوڑائی یا گہرائی اس کی ہوتی ہی نہیں ہے، تو اس میں تقسیم کو کیسے قبول کرے۔ اور جو نقطہ ہے وہ، وہ کسی جانب میں بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا، نہ لمبائی، نہ چوڑائی اور نہ گہرائی بھئی، نہ گہرائی بھئی۔ دوسرے لفظوں میں آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں بھئی، کہ کئی نقطے ملیں گے تو ایک خط بنے گا۔ نقطہ خود تو لمبائی، چوڑائی، گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں کرتا، لیکن کئی نقاط آپس میں ملیں گے بھئی ایک قطار کے اندر، تو کیا بن جائے گا؟ خط بن جائے گا۔ اور کئی خط آپس میں ملیں گے تو کیا بن جائے گی؟ سطح بن جائے گی بھئی، بہت سے خط ساتھ ساتھ مل گئے تو سطح بن گئی۔ اور کئی سطحیں آپس میں ملیں گی تو کیا بن جائے گا؟ جسم بن جائے گا بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھیے، جسم تو ہے جوہر، لیکن یہ جو نقطہ، خط اور سطح ہیں، یہ عرض کے قبیل سے ہیں بھئی، عرض کے قبیل سے، وہ جوہر نہیں ہیں۔ اچھا بھئی، بات چل رہی تھی نوع اضافی اور نوع حقیقی کی۔ نوع اضافی اور نوع حقیقی کے درمیان کون سی نسبت ہے؟ عموم خصوص من وجہ۔ اور جہاں ایک مادہ اجتماع کا ہوتا ہے تو دو افتراق کے۔ اجتماع کا مادہ بتلا دیا مثلاً انسان ہے۔ انسان اس میں یہ نوع اضافی بھی ہے اور نوع حقیقی بھی، کیونکہ دونوں کی تعریفیں اس پر صادق آ رہی ہیں۔ وصدق الحقیقی بدون الاضافی فی النقطۃ، اور حقیقی کا صادق آنا بغیر اضافی کے فی النقطۃ، یہ کس کے اندر ہے؟ نقطے کے اندر ہے بھئی، نقطے کے اندر بھئی۔ بھئی نقطہ جو ہے، یہ نوع حقیقی تو ہے، نوع اضافی نہیں ہے۔ نقطہ نوع حقیقی تو ہے، نوع اضافی نہیں ہے۔ کیسے؟ نوع حقیقی اس طرح، کسے کہتے تھے نوع حقیقی؟ وہ کلی مقول علی کثیرین متفقین بالحقائق فی جواب ما ہو۔ کہ جو ایسے کثیرین پر بولی جائے جن کی حقیقتیں متفق ہوں، جن کی حقیقتیں ایک ہی ہوں۔ تو نقطے بہت سارے ہوں بھئی، اور ان سب کی حقیقت، سب کی حقیقت تو ایک ہی ہے، سب نقطے ہیں بھئی، جو ایک کی تعریف ہوگی وہی دوسرے کی بھی تعریف ہوگی۔ تو لہٰذا نقطہ جو ہے، یہ نوع حقیقی تو ہے، نوع حقیقی تو ہے، ایسے کثیرین پر بولا جاتا ہے جن کی حقیقت اور ماہیت ایک ہی ہے بھئی۔ البتہ یہ نوع اضافی نہیں ہے بھئی، نوع اضافی، کیونکہ نوع اضافی کیا کہا تھا؟ کہ اس ماہیت کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں کیا واقع ہو؟ جنس واقع ہو۔ اس نقطے کے ساتھ کسی ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جنس جواب میں نہیں آتی، کیونکہ اس کے اوپر کوئی جنس ہے ہی نہیں جو اس کے جواب میں آئے بھئی۔ تو یہ نوع حقیقی تو ہے، لیکن نوع اضافی نہیں ہے بھئی، نوع اضافی نہیں ہے۔ تو یہ ہوا افتراق کا ایک مادہ۔ وصدق الاضافی بدون الحقیقی فی الحیوان، اور نوع اضافی کا صادق آنا بغیر نوع حقیقی کے، یہ حیوان میں ہے، یہ دوسرا افتراق کا مادہ آ گیا بھئی۔ حیوان جو ہے، اس کے اندر دیکھیے انسان بھی داخل، فرس بھی داخل، غنم، بھیڑ بکریاں بھی داخل، تو کیا ان کی حقیقت ایک ہے یا الگ الگ ہیں؟ الگ الگ ہیں، تو معلوم ہوا یہ نوع حقیقی نہیں، کیونکہ ہم نے تو کیا کہا تھا؟ نوع حقیقی ایسے کثیرین پر بولی جاتی ہے جن کے افراد کی حقیقت ایک ہو۔ تو معلوم ہوا یہ نوع حقیقی نہیں۔ البتہ نوع اضافی ہے، کس طرح؟ حیوان کے ساتھ کسی اور نوع کو ملا کر سوال کریں، مثلاً حیوان کے ساتھ شجر، درخت کو ملا کر سوال کریں، نباتات کو لے کر سوال کریں، الحیوان والشجر ما ہما، حیوان اور شجر کیا چیز ہیں؟ تو میں نے بتلایا تھا کوئی حقیقت مشترکہ جواب میں واقع ہوگی، تو یہاں کیا کہیں گے جواب میں بھئی؟ کیا چیز مشترک ہے؟ جسم نامی، تو جواب میں کیا آئے گا؟ جسم نامی آئے گا بھئی۔ اور جسم نامی تو جنس ہے۔ تو دیکھو، حیوان کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا گیا تو جواب میں کیا واقع ہوئی؟ جنس واقع ہوئی، معلوم ہوا یہ نوع اضافی ہے بھئی، نوع اضافی ہے۔ تو تینوں مادے انہوں نے بیان کر دیے، ایک اجتماع کا مادہ اور دو افتراق کے۔ اجتماع کا مادہ انسان، وہ نوع حقیقی بھی ہے اور نوع اضافی بھی ہے۔ افتراق کا مادہ پہلا نقطہ، وہ نوع حقیقی تو ہے لیکن نوع اضافی نہیں۔ اور دوسرا افتراق کا مادہ حیوان، کہ وہ نوع اضافی تو ہے لیکن نوع حقیقی نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ فصل فی ترتیب الاجناس۔ الجنس اما سافل وهو ما لا يكون تحته جنس ويكون فوقه جنس، بل انما يكون تحته النوع كالحيوان۔ یہاں سے جنس کی تقسیم کر رہے ہیں بھئی، آسان سی بحث ہے، ادھر دیکھیے، کہتے ہیں جنس تین قسم پر ہوگی، یا تو جنس عالی ہوگی، یا جنس متوسط ہوگی، یا جنس سافل ہوگی۔ جنس عالی، اوپر کی جنس بھئی جو اوپر ہو۔ جنس سافل، نیچے والی جنس بھئی، اور جنس متوسط، درمیان والی جنس بھئی۔ بھئی دیکھیے، سب سے نیچے ہے مثلاً بھئی، انسان، اور انسان، اس کے افراد کی حقیقت ایک ہے یا مختلف ہیں بھئی؟ ایک ہی ہے، تو یہ نوع ہے، جنس نہیں ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ نوع۔ اچھا، انسان کے اوپر کیا ہے؟ حیوان۔ حیوان جنس ہے، کیونکہ یہ ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ تو معلوم ہوا حیوان کیا ہے؟ جنس۔ اچھا، حیوان کے اوپر کیا ہے؟ جسم نامی۔ حیوان کے ساتھ شجر کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں کیا آئے گا؟ جسم نامی۔ پھر جسم نامی کے اوپر بھئی؟ جسم مطلق ہے بھئی، جسم مطلق۔ ہاں، شجر وغیرہ شجر، حیوان اور اسی طرح پتھر کے بارے میں سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے گا؟ جسم مطلق آئے گا بھئی، جسم آئے گا۔ اور جسم مطلق کے اوپر کیا ہے؟ جوہر ہے بھئی۔ تو سب سے اوپر ہوا جوہر، اس کے نیچے جسم مطلق، اس کے نیچے جسم نامی، اس کے نیچے حیوان بھئی۔ تو حیوان جنس ہے، اس سے نیچے جائیں، پھر تو انسان آئے گا اور وہ تو کیا ہے؟ نوع ہے بھئی، نوع۔ تو معلوم ہوا ہمارے پاس چار جنسیں یہاں پر اوپر نیچے موجود ہیں: حیوان، سب سے نیچے ہے حیوان، اس کے اوپر ہے جسم نامی، اس کے اوپر ہے جسم مطلق، اس کے اوپر ہے جوہر۔ تو سب سے اوپر کیا ہے؟ جوہر، یہ ہے جنس عالی۔ اسے کیا کہیں گے؟ جنس عالی، سب سے اوپر والی جنس ہے بھئی، جنس عالی۔ اور اسے جنس الاجناس بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تمام جنسوں کی جنس ہے یہ بھئی، سب سے اوپر ہے جنس الاجناس۔ تو یہ تو ہے جنس عالی۔ اچھا، اور جنس، سب سے نیچے والی جنس کون سی؟ حیوان، وہ ہے جنس سافل، نیچے والی جنس بھئی، جنس سافل۔ اور درمیان میں کیا ہیں؟ جسم نامی اور جسم مطلق، یہ جنس متوسط ہیں، ان کے اوپر بھی جنس اور نیچے بھی جنس بھئی۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ جنس عالی وہ ہے کہ جس سے اوپر کوئی جنس نہ ہو، اس سے نیچے تو جنس ہو لیکن اوپر جنس نہ ہو، لہٰذا جوہر جنس عالی ہے، اس کے نیچے تو جنس ہے، جسم مطلق اور جسم نامی وغیرہ، لیکن اس سے اوپر کوئی جنس نہیں۔ اور جو سب سے نیچے ہے وہ کون سی ہے؟ حیوان، اسے جنس سافل کہیں گے، جنس سافل کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کے اوپر تو جنس ہو لیکن نیچے کوئی جنس نہ ہو، نیچے بلکہ اس کے نوع ہو بھئی نوع، جنس نہ ہو۔ اور جو متوسط ہے اس کے اوپر بھی جنس ہوتی ہے اور نیچے بھی، جیسے جسم نامی، اس کے اوپر کیا؟ جسم مطلق، اور نیچے کیا؟ حیوان، تو اوپر بھی جنس، نیچے بھی جنس۔ یا جیسے جسم مطلق، جسم مطلق کے اوپر کیا؟ جوہر، اور نیچے کیا؟ جسم نامی، تو اس کے اوپر بھی جنس اور نیچے بھی جنس بھئی، تو اسے کیا کہیں گے؟ جنس متوسط۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسان سی بحث ہے، اب ترجمہ دیکھ لیجیے۔ فصل فی ترتیب الاجناس، یہ فصل ہے جنسوں کی ترتیب میں، یعنی ان کی ترتیب کے بیان میں۔ الجنس اما سافل، جنس یا تو سافل ہوگی، وهو ما لا يكون تحته جنس، اور وہ وہ جنس ہے کہ نہ ہو اس کے نیچے کوئی جنس بھئی، یعنی اس کے نیچے کوئی جنس نہیں، یہ سب سے نیچے ہے، ويكون فوقه جنس، اور اس کے اوپر جنس ہو۔ تو اس کے نیچے جنس نہ ہو، بل انما يكون تحته النوع، بلکہ اس کے نیچے کیا ہو؟ نوع ہو، كالحيوان، جیسے کہ حیوان، فانه تحته الانسان، اس لیے کہ اس کے تحت انسان ہے، وهو نوع، اور وہ نوع ہے، وفوقه الجسم النامي، اور اس کے اوپر جو ہے وہ جسم نامی ہے، وهو جنس، اور وہ جنس ہے۔ تو یہ معلوم ہوا حیوان جنس سافل ہے، فالحيوان جنس سافل، پس حیوان جنس سافل ہے، واما متوسط، یا جنس کیا ہوگی؟ متوسط ہوگی، وهو ما يكون تحته الجنس، اور وہ وہ جنس ہے کہ اس کے نیچے بھی جنس ہو، وفوقه ايضا جنس، اور اس کے اوپر بھی جنس ہو، كالجسم النامي، جیسے کہ جسم نامی، فان تحته الحيوان، اس لیے کہ اس کے نیچے حیوان ہے، وفوقه الجسم المطلق، اور اس کے اوپر جسم مطلق ہے، واما عال، یا جنس کیا ہوگی؟ عالی ہوگی، وهو ما لا يكون فوقه جنس، اور وہ وہ جنس ہے کہ اس کے اوپر کوئی جنس نہ ہو، ويسمى بجنس الاجناس ايضا، اور اس کو جنس الاجناس بھی کہتے ہیں، یعنی تمام جنسوں کی جنس، سب سے اوپر ہے یہ، كالجوهر، جیسے کہ جوہر، فانه ليس فوقه جنس، اس لیے کہ اس کے اوپر کوئی جنس نہیں ہے، وتحته الجسم المطلق، اور اس کے نیچے جسم مطلق ہے، والجسم النامي، اور جسم نامی ہے، والحيوان، اور حیوان ہے، سب اس کے نیچے ہیں بھئی۔ تو جنس عالی، سب سے اوپر ہو۔ تو اس کے نیچے تو جنس ہوگی، اوپر نہیں۔ جنس سافل، جو سب سے نیچے ہو جنس، اس کے نیچے تو جنس نہ ہو، البتہ اوپر جنس ہو، اور اس سے نیچے پھر کیا ہو؟ نوع ہو۔ تو یہ جنس سافل ہے۔ اور اگر ایسی جنس ہے کہ اس کے اوپر بھی جنس ہے اور نیچے بھی جنس ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ جنس متوسط کہیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 39 of 108