Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 38 1 فصلٌ۔ الكليات خمسٌ۔ الأول الجنسُ۔ جنس کا لفظ ہے آپ کی کتابوں میں بھئی۔ الاول کے بعد الجنس کا لفظ ہونا چاہیے۔ الأول الجنسُ۔ وهو كليٌ مقولٌ على كثيرين مختلفين بالحقائق في جواب ما هو كالحيوان فإنه مقولٌ على الإنسان والفرس والغنم إذا سئل عنها بما هي، ويقال الإنسان والفرس ما هما فالجواب حيوانٌ۔ آج ہم کلیاتِ خمسہ جو ہیں، ان کی بحث شروع کریں گے۔ کلیات پانچ ہیں بھئی یاد رکھیے، پانچ۔ جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام۔ جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام۔ یہ پانچ ہیں بھئی، یہ کلیاتِ خمسہ۔ وجہِ حصر سن لیجیے۔ یعنی ان پانچ میں بند کیا بھئی۔ وجہِ حصر یہ ہے، پانچ میں بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کلی یا تو اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہو گی، اپنے افراد کی حقیقت میں سے ہو گی، یا اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو گی۔ کلی یا تو اپنے افراد کی حقیقت میں سے ہو گی یا حقیقت سے خارج ہو گی۔ اگر حقیقت میں سے ہو تو پھر وہ عینِ حقیقت ہو گی یا حقیقت کا جز ہو گی۔ کلی کس میں سے ہو اگر؟ افراد کی حقیقت میں سے۔ حقیقت میں سے ہو تو پھر عینِ حقیقت ہو گی، یعنی پوری حقیقت ہو گی، یا حقیقت کا جز ہو گی۔ اگر پوری حقیقت ہے تو اسے نوع کہتے ہیں، نوع۔ اور اگر حقیقت، پوری حقیقت تو نہیں، البتہ حقیقت کا جز ہے تو پھر وہ اس ماہیت میں اور دوسری ماہیت کے افراد میں مشترک ہو گی بھئی۔ ایک ماہیت اور دوسری ماہیت کے افراد میں مشترک ہو گی تو اسے جنس کہتے ہیں۔ اور اگر حقیقت کا جز ہے اور دوسری ماہیت کے افراد میں اور ان میں مشترک بھی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں ایک ہی حقیقت کے افراد کا جز ہو گی تو پھر اس صورت میں اسے فصل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فصل۔ جیسے دیکھیے انسان کی حقیقت ہے حیوانِ ناطق۔ انسان کی کیا حقیقت ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو یہ حیوانِ ناطق، یہ ایک کلی ہے اور اپنے افراد کی عینِ حقیقت ہے، یعنی پوری حقیقت ہے۔ انسان کی پوری حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو یہ بھی حیوانِ ناطق پوری حقیقت ہے تو اس کو کہتے ہیں نوع۔ اور اگر پوری حقیقت نہیں، حقیقت کا جز ہے تو پھر اس کے اندر اور دوسری ماہیت کے افراد میں یہ حقیقت مشترک ہو گی تو اسے جنس کہتے ہیں۔ جیسے حیوان بھئی۔ حیوانِ ناطق میں سے جو پہلا جز ہے، یعنی حیوان۔ انسان ہے، یہ بھی حیوان، اس کے ساتھ ساتھ اور گائے، بکری، بیل وغیرہ یہ بھی کیا ہیں؟ حیوان۔ تو دیکھو حیوان ایسی کلی ہے جو انسان اور دوسری ماہیتوں کے درمیان مشترک ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جنس کہتے ہیں۔ حقیقت میں داخل ہے، حقیقت کا جز ہے اور اس ماہیت میں اور دوسری ماہیت کے افراد میں مشترک ہے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ جنس کہتے ہیں۔ اور اگر صرف اسی حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہو بھئی، حقیقت کا جز ہے اور اسی حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہے، اسی ماہیت کے افراد کے ساتھ، کسی اور میں نہیں پائی جاتی تو پھر اسے فصل کہتے ہیں۔ تو انسان کی کیا حقیقت تھی؟ حیوانِ ناطق۔ حیوان تو بتایا، حیوانِ ناطق پورا یہ تو ہوا نوع۔ اور صرف حیوان، یہ کیا ہے؟ جنس۔ اور صرف ناطق، اب یہ ناطق ہونا، یہ صرف انسان ہی کے اندر پایا جائے گا، غیرِ انسان میں نہیں پایا جاتا۔ اور پوری حقیقت ہے یا حقیقت کا جز ہے؟ حقیقت کا جز۔ تو جب کلی اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہو اور حقیقت کا جز ہو اور صرف اسی حقیقت کے افراد میں یہ پائی جائے، کسی اور میں نہیں تو پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں۔ تو ناطق کیا ہوا انسان کے لیے؟ فصل ہوا بھئی، فصل۔ تو یہ بھی دوسری ماہیتوں کے افراد سے انسان کو جدا کر دیتی ہے بھئی۔ ناطق ہونا، یہ انسان کو دوسروں سے جدا کرتا ہے، انسان ناطق ہے، گائے، بیل، بکری وغیرہ ناطق نہیں، تو یہ ان سے جدا کرنے والی ہے، اس لیے اس کو فصل کہا جاتا ہے۔ جی، تو دوبارہ سنیے بھئی، کلی یا تو اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہو گی یا اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو گی۔ اگر اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہے تو پھر یا تو وہ پوری حقیقت ہو گی اپنے افراد کی یا حقیقت کا جز۔ اگر پوری حقیقت ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوع۔ اور اگر حقیقت کا جز ہے تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ اس ماہیت اور دوسری ماہیت کے افراد میں مشترک ہو گی یا مشترک نہیں ہو گی۔ اگر مشترک ہے تو پھر یہ جنس ہے، جیسے حیوان۔ اور اگر مشترک نہیں بلکہ اسی ماہیت کے افراد کے ساتھ خاص ہے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ فصل۔ تو حیوانِ ناطق پورا، یہ ہے نوع۔ صرف اس میں سے جو حیوان، یہ کیا ہے؟ جنس۔ اور صرف ناطق جو ہے، یہ کیا ہے؟ یہ فصل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو وہ صورت تھی جب کلی اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہو۔ اگر اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو، افراد میں پائی تو جا رہی ہے لیکن ان کی حقیقت میں داخل نہیں، ان کی حقیقت سے خارج ہے تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ صرف اسی ماہیت میں کے ساتھ خاص ہو گی یا اور ماہیتوں میں بھی پائی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ۔ اگر صرف اسی ماہیت کے ساتھ خاص ہو، حقیقت سے خارج ہو اور ایک ہی ماہیت کے افراد میں پائی جائے تو اسے کہتے ہیں خاصہ۔ اور اگر حقیقت سے خارج ہے اور ایک ہی ماہیت کے افراد کے ساتھ خاص نہیں ہے تو پھر اسے کہتے ہیں عرضِ عام بھئی۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ عرضِ عام۔ جی، دوبارہ سن لیں کہ اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ ایک ہی حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہو گی، انہی میں پائی جائے گی، اوروں میں نہیں پائی جاتی، تو اسے کیا کہیں گے؟ خاصہ۔ اور اگر دوسری ماہیتوں کی اس اس ماہیت کے ساتھ ساتھ دوسری ماہیت کے افراد میں بھی پائی جائے، ہے حقیقت سے خارج، تو اسے کیا کہیں گے؟ عرضِ عام کہیں گے، عرضِ عام۔ خاصے کی مثال ہے جیسے ضاحک، ضاحک۔ اب ضاحک یعنی ہنسنے والا۔ یہ ہنسنا خاصہ ہے انسان کا صرف بھئی، جانوروں میں ضحک نہیں ہے۔ تو ضاحک دیکھو، یہ انسان کی حقیقت میں نہیں داخل، انسان کی حقیقت تو کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ لیکن یہ ضاحک ہونا، یہ انسان کی حقیقت سے خارج ہے اور صرف اسی کے ساتھ خاص ہے، اور ماہیتوں میں یہ چیز نہیں ہے تو یہ خاصہ کہلائے گا۔ اور اگر اس کے ساتھ اور ماہیتوں میں بھی پائی جائے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ عرضِ عام۔ جیسے کہ ماشی، چلنے والا بھئی، چلنے والا۔ اب چلنے والا انسان ہے تو اسی طرح گھوڑا بھی چلنے والا ہے، بکری بھی چلنے والی ہے، گائے، بیل بھی چلنے والے ہیں۔ تو ماشی جو ہے، ماشی، چلنے والا، تو یہ چلنے والا ہونا، یہ حقیقت سے، انسان کی حقیقت سے خارج ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور ماہیتوں میں بھی پایا جاتا ہے تو اسے کیا کہیں گے؟ عرضِ عام کہیں گے۔ تو یہ ہیں پانچ کلیات بھئی۔ وجہِ حصر اب دوبارہ سن لیں۔ کلی اپنے افراد کی یا حقیقت میں داخل ہو گی یا حقیقت سے خارج ہو گی۔ اگر حقیقت میں داخل ہے تو پھر یا تو وہ پوری حقیقت ہو گی یا حقیقت کا جز۔ اگر پوری حقیقت ہے تو وہ نوع، اگر حقیقت کا جز ہے تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں، یہ اس ماہیت اور دوسری ماہیت کے افراد میں مشترک ہو گی یا مشترک نہیں ہو گی۔ اگر اس ماہیت اور دوسری ماہیت کے افراد میں مشترک ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ جنس، اور اگر صرف ایک ہی ماہیت کے افراد میں پائی جائے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ فصل کہیں گے۔ اور اگر حقیقت سے خارج ہے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ ایک ہی ماہیت کے افراد میں ہو گی تو اسے کیا کہیں گے؟ خاصہ، اور اگر اس ماہیت کے ساتھ ساتھ اور ماہیت میں بھی پائی جائے تو اسے کیا کہیں گے؟ عرضِ عام کہیں گے۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ اگر ایک ہی حقیقت کے افراد میں پائی جائے تو اسے کیا کہیں گے؟ خاصہ کہیں گے، اور اگر اس حقیقت کے ساتھ ساتھ دوسری حقیقت کے افراد میں بھی پائی جائے تو اسے عرضِ عام کہیں گے بھئی، عرضِ عام۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جنس، نوع اور فصل۔ نوع کی کیا مثال ذکر کی؟ حیوانِ ناطق۔ جنس کی کیا مثال؟ حیوان۔ اور فصل کی؟ ناطق۔ بس اسی صرف حیوانِ ناطق کے مجموعے پہ نظر رکھیں، یہاں سے آپ کو جنس بھی سمجھ میں آ جائے گی، نوع بھی اور فصل بھی۔ نوع کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ اور جنس کیا ہے؟ حیوان۔ اور فصل کیا ہے؟ ناطق۔ اور اگر حقیقت سے خارج ہو تو پھر وہ اسی ایک ہی ماہیت کے افراد میں ہو گی اور یا پھر اور ماہیتوں میں بھی پائی جائے گی۔ اگر ایک ہی ماہیت کے افراد میں ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ خاصہ۔ اور اگر اور ماہیتوں میں بھی پائی جائے تو اسے عرضِ عام کہتے ہیں۔ خاصے کی مثال ضاحک بھئی، اور عرضِ عام کی مثال ماشی۔ ماشی کا کیا معنیٰ؟ چلنے والا، اپنے پاؤں پر چلنے والا۔ جی تو وجہِ حصر یہ ہوئی، کلی یا تو اپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہو گی یا حقیقت سے خارج ہو گی۔ اگر حقیقت میں داخل ہے تو پھر یا تو وہ پوری حقیقت ہو گی یا حقیقت کا جز۔ اگر پوری حقیقت ہے تو وہ نوع، اگر حقیقت کا جز ہے تو پھر اس ماہیت اور دوسری ماہیت دونوں میں مشترک طور پر پائی جائے گی تو اس کو کیا کہیں گے؟ جنس۔ اور اگر صرف ایک ہی ماہیت کے افراد میں پائی جائے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ فصل کہیں گے۔ اور اگر حقیقت سے خارج ہے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ ایک ہی ماہیت کے افراد میں ہو گی تو اسے کیا کہیں گے؟ خاصہ، اور اگر اس ماہیت کے ساتھ ساتھ اور ماہیت میں بھی پائی جائے تو اسے کیا کہیں گے؟ عرضِ عام کہیں گے۔ دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ فصلٌ ای ھذا فصلٌ۔ الكليات خمسٌ، کلیات پانچ ہیں۔ الأول الجنسُ، اول کے بعد الجنس کا لفظ ہونا چاہیے بھئی۔ الأول الجنسُ، پہلی جو ہے وہ جنس ہے۔ وهو كليٌ مقولٌ على كثيرين مختلفين بالحقائق في جواب ما هو۔ بھئی پہلے "ما ہو" کو سمجھ لیں۔ یاد رکھیے "ما ہو"، "ما ہو" کا کیا معنیٰ؟ وہ کیا ہے؟ "ما ہو"، وہ کیا ہے؟ اس کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مناطقہ کے نزدیک "ما ہو" کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، مثلاً کسی چیز کے بارے میں کہا جائے "ما ہو"، وہ کیا ہے؟ تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی حقیقت کیا ہے بھئی؟ اس چیز کی حقیقت... مثلاً اب آپ سے کوئی پوچھے الانسان ما هو؟ انسان کیا ہے؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوانٌ ناطقٌ، انسان حیوانِ ناطق ہے۔ تو یاد رکھیے "ما ہو" کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ اگر ایک ہی چیز کے بارے میں سوال، ایک ہی قسم کی چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے، یا ایک ہی چیز ہو یا ایک جیسی چیزیں ہوں، تو پھر جواب میں نوع آتا ہے بھئی۔ ایک ہی چیز کے بارے میں سوال ہو، مثلاً جیسے میں نے ابھی پوچھا: الانسان ما هو؟ تو ایک ہی چیز کے بارے میں پوچھا تو اس کی حقیقت بیان کریں گے اور وہ کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو یہ نوع جواب میں آیا بھئی، نوع ہے بھئی۔ اور اگر دو تین افراد ہیں، لیکن ہیں وہ ایک ہی حقیقت والے تو بھی جواب میں اسی طرح نوع آئے گی بھئی۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: زیدٌ و عمروٌ و بکرٌ ما هم؟ زیدٌ و عمروٌ و بکرٌ ما هم؟ زید، عمر اور بکر کیا ہیں؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوانٌ ناطقٌ، کیونکہ یہ سارے کیا ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ تو یہاں بھی جب ایک ہی ماہیت کے افراد کے بارے میں سوال ہو تو اس وقت بھی جواب میں نوع آئے گی بھئی۔ اور اگر یہ ایک ماہیت کے افراد نہ ہوں، دو یا تین ماہیتوں کے افراد ہوں تو پھر جواب میں ایسی چیز ذکر کی جائے گی، ایسی ماہیت ذکر کی جائے گی جو ان دو، دونوں یا تینوں میں مشترک ہو بھئی۔ دونوں یا تینوں میں مشترک ہو۔ مثلاً میں آپ سے پوچھتا ہوں: الإنسان والفرس ما هما؟ انسان اور فرس، انسان اور گھوڑا کیا چیز ہیں؟ یعنی ان کی حقیقت کیا ہے؟ تو اب جواب میں ایسی چیز لے کر آئیں جو ماہیت ہو ان کی، حقیقت ہو، حقیقت میں داخل ہو اور دونوں میں مشترک ہو۔ انسان میں اور فرس میں کیا مشترک ہے؟ حیوان بھئی، دونوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جواب میں آئے گا حیوانٌ بھئی۔ الإنسان والفرس ما هما؟ تو جواب میں کیا آئے گا؟ حیوانٌ۔ تو دیکھو، یہ مشترکہ ماہیت دونوں میں ذکر کر دی۔ انسان تو ہے حیوانِ ناطق، گھوڑا جو ہے یہ ہے حیوانِ صاہل، ص کے ساتھ، حیوانِ صاہل۔ صاہل کا معنیٰ ہنہنانے والا۔ وہ جو گھوڑا آواز نکالتا ہے اسے ہنہنانا کہتے ہیں، وہ اس کی مخصوص آواز ہے، اس جیسی آواز اور کوئی جانور نہیں نکالتا بھئی۔ تو یہ جو ہنہنانا ہے، یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ گھوڑے کے ساتھ، تو وہ گھوڑا ہے حیوانِ صاہل۔ اسی طرح گدھا جو ہے، گدھا وہ ہے حیوانِ ناہق بھئی، ق دو نقطوں والا آخر میں، حیوانِ ناہق۔ ناہق، حیوانِ ناہق کہا، وہ جو گدھا آواز نکالتا ہے اپنی، اس آواز کو کیا کہیں گے؟ اردو میں اسے رینکنا، رینکنا کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ جو اس کی آواز ہے بھئی۔ تو وہ جو گدھے کی مخصوص آواز ہے، اسے 2 توبہ آواز جو ہے نہیق بھئی نہیق، وہ گدھے کی آواز۔ تو اسی کی وجہ سے گدھے کو کیا کہتے ہیں؟ حیوان ناہق۔ اب دیکھو میں نے سوال کیا الإنسان والفرس ما ہما؟ تو جواب میں ایسی حقیقت آئے گی جو دونوں میں مشترک ہو۔ آپ نے غور کیا تو دیکھا انسان ہے حیوان ناطق، اور گھوڑا ہے حیوان صاہل۔ تو دونوں کے درمیان مشترک کیا ہے؟ حیوان۔ تو جواب میں حیوان کہیں گے بھئی، کیا کہیں گے؟ حیوان۔ اور اگر ساتھ میں شجر کو بھی ملا دیتا ہوں الإنسان والفرس والشجر ما ہی؟ الإنسان والفرس والشجر ما ہی؟ تو جواب میں آپ کیا کہیں گے، کیا چیز مشترک ہے ان تینوں میں؟ جسم نامی، شاباش بھئی۔ تو جواب کیا آئے گا؟ جسم نامی آئے گا بھئی۔ یعنی جسم نام۔ تو ما ہو کی اصطلاح کا پتہ چل گیا؟ کہ اس کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ اگر ایک ہی چیز کے بارے میں پوچھا جائے تو اس کی پوری حقیقت آ جائے گی۔ اگر دو یا تین یا چار افراد کے بارے میں پوچھا گیا لیکن وہ سارے ایک ہی حقیقت والے ہیں تو بھی پوری حقیقت آئے گی۔ اور اگر دو تین حقیقتوں والے چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان میں سے تو ہر ایک کی حقیقت الگ الگ ہے۔ تو ایسی چیز جواب میں آئے گی جو تینوں میں کیا ہو؟ مشترک ہو بھئی، مشترک ہو۔ جی اب دیکھیے، وهو کلی مقول على كثيرين اور جنس جو ہے وہ کلی ہے مقول جو بولی جاتی ہے على كثيرين کتنے پر؟ کثیرین پر بولی جاتی ہے، افراد اس کے بہت زیادہ ہیں۔ مختلفين بالحقائق ایسے کثیرین جو مختلف ہوں حقائق کے اعتبار سے، یعنی ان کی حقیقتیں مختلف ہوں۔ بھئی میں نے آپ کو مثال جیسے بتلایا نوع کی کیا مثال ہے؟ حیوان ناطق، اور جنس کی کیا مثال ہے؟ حیوان۔ اب دیکھیے حیوان جن افراد پر بولا جاتا ہے انسان ہے، گھوڑا ہے، گدھا ہے، گائے ہے، بیل ہے، بکری ہے، انسان یہ سب کیا ہیں؟ حیوان۔ تو حیوان ایسی کلی ہے جو کثیرین پر بولی جاتی ہے اور ان کے افراد کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ انسان کی حقیقت اور ہے، گھوڑے کی حقیقت اور ہے، گدھے کی حقیقت اور ہے، گائے بکری وغیرہ کی حقیقت اور ہے۔ تو دیکھو کثیرین ہیں اور مختلفین بالحقائق ہیں، ان سب کی حقیقتیں مختلف مختلف ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے جنس وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے على كثيرين مختلفين بالحقائق في جواب ما هو، ایسے کثیرین پر جن کی حقیقتیں مختلف ہوں في جواب ما هو، کس کے جواب میں؟ ما ہو کے جواب میں، یعنی ما ہو کے ذریعے جب سوال کیا جائے۔ كالحيوان جیسے کہ حیوان، فإنه مقول على الإنسان والفرس والغنم، اس لیے کیونکہ یہ بولی جاتی ہے یا یہ لفظ حیوان بولا جاتا ہے انسان پر اور فرس پر اور غنم، غنم کہتے ہیں بھیڑ بکری کو بھئی، انسان، گھوڑے اور بھیڑ بکری پر، إذا سئل عنها جب پوچھا جائے ان کے بارے میں بمَا هيَ، کس چیز کے ساتھ؟ ما ہی کے ساتھ جب ان کے بارے میں پوچھا جائے کہ الإنسان والفرس والغنم ما هي؟ تو جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوان۔ ويقال الإنسان والفرس ما هما، اور کہا جائے انسان اور فرس ما ہما یہ دونوں کیا ہیں؟ فالجواب حیوان، تو جواب حیوان ہو گا۔ فصل، الثاني النوع، دوسری کلی کلیات خمسہ میں سے دوسری کیا ہے؟ نوع ہے۔ وهو کلی مقول على كثيرين متفقين بالحقائق في جواب ما هو، وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے على كثيرين ایسے کثیرین پر متفقين بالحقائق جو حقیقتوں میں متفق ہوں، یعنی ان کی ایک ہی حقیقت ہو، في جواب ما هو، کس کے جواب میں؟ ما ہو کے جواب میں بھئی، ما ہو کے جواب میں۔ بھئی دیکھیے میں نے آپ سے پوچھا زيد وبكر وعمرو ما هم؟ زید، عمر اور بکر وہ کیا ہیں؟ جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوان ناطق بھئی، حیوان ناطق ہیں۔ تو دیکھو حیوان ناطق بھئی، یہ ایسی کلی ہے جو کثیرین پر بولی جاتی ہے اور ان کثیرین کی حقیقتیں الگ الگ ہیں یا ایک ہی ہیں بھئی؟ ایک ہی حقیقت ہے ان سب کی، زید، عمر، بکر وغیرہ جتنے بھی افراد ہیں سب کی حقیقت ایک ہی ہے۔ تو یہ فرق ہے دونوں میں بھئی، جنس میں ہے کثیرین مختلفین بالحقائق، اور نوع کے اندر ہے کثیرین متفقین بالحقائق کہ ان کی حقیقت متفق ہوتی ہے، ایک ہی ہوتی ہے في جواب ما هو۔ جی تو یہ جنس کی تعریف آپ نے یاد کرنی ہے وهو کلی سے لے کر في جواب ما هو تک بھئی، یہ تعریف ہے جنس کی۔ وهو کلی مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق في جواب ما هو۔ اور نوع کی تعریف انہوں نے کی وهو کلی مقول على كثيرين متفقين بالحقائق في جواب ما هو۔ یہ نوع ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ ہے نوع حقیقی، یہ کیا ہے؟ نوع، جیسے جزئی کی بات کل گزری، ایک جزئی حقیقی ہے اور ایک جزئی اضافی۔ جزئی حقیقی کسے کہتے تھے؟ جو کثیرین پر صادق نہ آئے اور اس میں شرکت نہ ہو سکے، اور جزئی اضافی کس کو کہتے تھے؟ ہر اخص تحت العام۔ اسی طرح نوع بھی دو قسم پر ہے، ایک نوع حقیقی اور ایک نوع اضافی۔ نوع حقیقی کی جس کی تعریف ابھی گزر گئی، وهو کلی مقول على كثيرين متفقين بالحقائق۔ اور اب جو ہے نوع اضافی کی تعریف کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے بھئی! نوع اضافی اسے کہتے ہیں کہ جب کسی ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں جنس واقع ہو۔ کیا واقع ہو؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 38 of 108