Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 61
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 35 1 وَقَدْ أُورِدَ عَلَى تَعْرِيفِ الْكُلِّيِّ وَالْجُزْئِيِّ سُؤَالٌ تَقْرِيرُهُ أَنَّ الصُّورَةَ الْحَاصِلَةَ مِنَ الْبَيْضَةِ الْمُعَيَّنَةِ وَالشَّبَحَ الْمَرِئِيَّ وَالشَّبَحَ الْمَرِئِيَّ مِنْ بَعِيدٍ وَمَحْسُوسَةَ الطِّفْلِ فِي مَبْدَإِ الْوِلَادَةِ كُلُّهَا جُزْئِيَّاتٌ مَعَ أَنَّهُ يَصْدُقُ عَلَيْهَا تَعْرِيفُ الْكُلِّيِّ لِأَنَّ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ لِأَنَّ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ فَرْضَ صِدْقِهَا عَلَى كَثِيرِينَ غَيْرُ مُمْتَنِعٍ یہاں سے کلی اور جزئی کی تعریف پر وارد ہونے والا ایک سوال اور اس کا جواب ذکر کریں گے بھئی۔ کلی اور جزئی کی تعریف پر وارد ہونے والا ایک سوال یعنی ایک اعتراض ذکر کریں گے اور اس کا جواب ذکر کریں گے۔ بھئی دیکھیے جزئی کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ جو جو کسی متعین شے پر، وہ مفہوم جو کسی متعین شے پر صادق آئے اور اس میں شرکت نہ ہو سکے اسے جزئی کہیں گے، اور وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے اور اس میں شرکت ہو سکے اسے کیا کہتے ہیں؟ کلی کہتے ہیں۔ کلی کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: دیکھیے بھئی، ہم آپ کے سامنے چند مثالیں ذکر کرتے ہیں اور وہ سب مثالیں ہیں جزئی کی، لیکن ان پر کلی کی تعریف صادق آتی ہے۔ ہم کیا کریں گے؟ کچھ مثالیں ذکر کریں گے آپ کے سامنے اور وہ ہیں جزئی سب، وہ مثالیں ساری کی ساری کیا ہیں؟ جزئی ہیں، لیکن ان پر کلی کی تعریف صادق آئے گی۔ مثال کے طور پر، مثال کے طور پر بھئی، آپ کے سامنے ایک انڈا پڑا ہے۔ آپ نے اس انڈے کی طرف دیکھا، اس کی صورت آپ کے ذہن میں آئی، آپ کو پتہ چل گیا یہ انڈا پڑا ہے۔ صورت، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب دیکھیے، یہ جو صورت آپ کے ذہن میں انڈے کی آئی، یہ اس متعین انڈے کی صورت آپ کے ذہن میں آئی، تو یہ جزئی ہے۔ یہ کیا ہے؟ جزئی ہے۔ جیسے مثال گزری تھی بھئی: "یہ دیوار"، تو دیکھو متعین دیوار تھی۔ اسی طرح یہاں پر بھی کس کی صورت آئی ہے؟ "یہ انڈا" جو آپ کے سامنے پڑا ہے، تو صورت جو آئی ذہن میں، جو مفہوم، صورت آئی وہ کیا ہے؟ جزئی ہے بھئی۔ اب آپ کی توجہ ذرا دوسری طرف ہوئی، میں نے اٹھا کر دوسرا انڈا اس کی جگہ رکھ دیا۔ آپ نے پھر اس کی طرف دیکھا، آپ کے ذہن میں آیا یہ وہ انڈا ہے۔ وہ جو صورت آپ کے ذہن تھی وہی اس پر بھی صادق آ گئی، حالانکہ یہ اب وہ انڈا تو نہیں، یہ تو دوسرا انڈا ہے۔ پھر آپ کی توجہ ذرا دوسری طرف ہوئی، میں نے پھر اس کو اٹھا کر ایک تیسرا انڈا رکھ دیا۔ آپ نے پھر اس کی طرف دیکھا، آپ کے ذہن میں وہ صورت پہلے سے حاصل تھی، اب آپ نے پھر ذہن میں آیا یہ وہی انڈا ہے، تو وہی صورت بھئی ہر انڈے پر صادق آ رہی ہے بھئی۔ ہر انڈے پر صادق آ رہی ہے، تو دیکھیے وہ جو مفہوم، وہ جو معنی، وہ جو صورت آپ کے ذہن میں آئی تھی، وہ جزئی تھی لیکن کثیرین پر صادق آ رہی ہے۔ ایک انڈے پر صادق آئی، پھر دوسرے پر بھی صادق آئی، پھر تیسرے پر بھی صادق آئی۔ دوسری مثال دیکھیں۔ آپ نے دور سے، بہت دور ایک سایا سا حرکت کرتا ہوا دیکھا۔ اس کو کہتے ہیں شبح۔ کیا کہتے ہیں؟ شبح۔ ش پر بھی فتحہ، ب پر بھی فتحہ، شبح۔ بھئی، شہر میں تو آپ کو اس کا اندازہ صحیح طرح نہ ہو سکے، اگر آپ کسی کھلی جگہ پر ہوں بھئی، میدان ہو یا صحرا میں ہوں یا جنگل میں ہیں، بہت دور جب آپ کو کوئی چیز نظر آتی ہے تو پہلے اس کا دھندلا سا سایا نظر آتا ہے، پورے طور پر اس کی صورت نظر آتی ہے سرا... پورے طور پر پتہ نہیں چلتا کیا چیز ہے۔ تو آپ نے دور سے ایک سایا سا حرکت کرتا ہوا دیکھا، تو آپ کے ذہن میں خیال آیا یہ شاید اونٹ ہو گا بھئی۔ کوئی ایک چیز آپ کے ذہن میں آ گئی، آپ نے کہا یہ فلاں چیز ہو گی۔ پھر تھوڑی سی وہ قریب آئی، تو آپ نے کہا نہیں بھئی، یہ اونٹ تو نہیں لگ رہا، یہ تو لگتا ہے گائے ہو گی بھئی۔ مثال کے طور پر یا کوئی دوسری چیز پھر آپ کے ذہن میں آئی بھئی، یہ وہ فلاں چیز ہو گی۔ پھر دیکھیے، تھوڑی سی اور قریب آئی، تو پھر آپ کو پتہ چلا نہیں بھئی، یہ تو اونٹ بھی نہیں ہے، یہ تو گائے بھی نہیں، یہ تو انسان ہے بھئی، کوئی انسان آ رہا ہے اس طرف کو بھئی۔ تو دیکھیے، یہ جو ایک صورت آپ دیکھ رہے ہیں دور سے، سایا سا، یہ جزئی ہے یا کلی ہے؟ اس کا جو، اس کی صورت ذہن میں آ رہی ہے وہ کیا ہے؟ جزئی ہے، وہ اس متعین چیز کی صورت ہے جو آپ کو دور سے نظر آ رہی ہے۔ تو یہ جزئی ہے۔ لیکن یہ کثیرین پر صادق آ رہی ہے۔ پہلے آپ نے کیا سوچا یہ کیا ہے؟ اونٹ ہے، پھر آپ نے کیا سوچا؟ گائے ہے، پھر آپ نے کیا سوچا؟ یہ انسان ہے بھئی۔ تو دیکھو وہی ایک صورت کثیرین پر صادق آ رہی ہے، تو یہ صورت تو تھی جزئی، لیکن یہ کثیرین پر صادق آئی، تو... اور کثیرین پر تو کون سا مفہوم صادق آتا ہے؟ کلی صادق آتا ہے بھئی۔ تیسری مثال: بچے کی پیدائش ہوئی، نومولود جو ہے نئی نئی پیدائش ہوئی ہے، اب اسے چیزوں کی پہچان نہیں ہوتی اتنی۔ اسے ایک عورت نے گود میں اٹھایا، اس عورت کی صورت اس کے ذہن میں آئی، اس نے سوچا یہ میری ماں ہے۔ پھر اسے کچھ دیر بعد دوسری عورت نے اٹھا لیا، تو اس کے ذہن میں صورت تھی، اس نے کہا یہ وہی عورت میری ماں ہے۔ پھر تیسری عورت نے اٹھایا، اس کے ذہن میں وہ صورت تھی، اس نے کہا یہ بھی وہی ہے، میری ماں ہے۔ تو دیکھیے، وہ جو صورت اس کے ذہن میں آئی تھی، وہ جزئی تھی، لیکن کس پر صادق آ رہی ہے؟ کثیرین پر صادق آ رہی ہے، تو یہ صورت تو جزئی تھی، لیکن اس پر کون سی تعریف صادق آ رہی ہے؟ کلی کی تعریف صادق آ رہی ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ جزئی کی تعریف جامع نہیں اور کلی کی تعریف مانع نہیں بھئی۔ بھئی، ہر تعریف کے لیے جامع مانع ہونا ضروری ہے، جس چیز کی بھی تعریف کرنے لگے ہیں تعریف ایسی ہونی چاہیے کہ اس چیز کے سارے افراد پر صادق آئے۔ جیسے انسان کی کیا تعریف کرتے ہیں؟ انسان کسے کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق کو۔ اب دنیا کا کوئی انسان پکڑیں، اس پر یہ حیوانِ ناطق پوری طرح صادق آئے گا بھئی۔ انسان کے علاوہ کسی اور چیز کو پکڑیں، اس پر یہ حیوانِ ناطق صادق نہیں آئے گا۔ معلوم ہوا انسان کی تعریف ایسی ہے جو جامع ہے، جمع کرنے والی یعنی۔ تمام افراد کو جمع کرنے والی ہے، تمام افراد اس کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ تمام افراد کے لیے یہ تعریف کیا ہوئی؟ جامع۔ تمام افراد اس میں داخل ہو جاتے ہیں، یعنی ہر فرد پر یہ تعریف صادق آتی ہے، اور نیز یہ تعریف مانع بھی ہے۔ کوئی غیرِ انسان اس میں داخل نہیں ہو سکتا، کسی غیرِ انسان پر یہ صادق ہی نہیں آتا۔ کتاب کو پکڑا، اس پر حیوانِ ناطق صادق آتا ہے؟ یہ حیوانِ ناطق ہے؟ اچھا، گائے کو دیکھ لیں، اس پر حیوانِ ناطق صادق آئے گا؟ یہ حیوانِ ناطق ہے؟ نہیں۔ دنیا کی کوئی اور چیز پکڑ لیں، گاڑی دیکھ لیں، دیوار دیکھ لیں، کمرہ دیکھ لیں، جنگل دیکھ لیں، کسی پر بھی حیوانِ ناطق صادق نہیں آئے گا۔ معلوم ہوا انسان کی تعریف جس طرح اپنے تمام افراد کو جامع ہے یعنی جمع کرنے والی ہے، اسی طرح غیرِ انسان کے لیے یہ مانع بھی ہے، کوئی غیرِ انسان اس میں داخل نہیں ہو رہا، کسی ایسی چیز پر صادق نہیں آ رہی کہ جو انسان نہ ہو اور حیوانِ ناطق ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تعریف کو کیا ہونا چاہیے؟ جامع بھی اور مانع بھی۔ جامع کا کیا معنی؟ اپنے تمام افراد کو جمع کر لے یعنی ہر ایک پر صادق آئے، اور مانع بھی ہو یعنی اپنے افراد کے علاوہ کسی اور فرد کو اندر داخل نہ ہونے دے، یعنی کسی اور پر یہ صادق نہ آئے بھئی۔ تو لہٰذا جزئی اور کلی کی آپ نے تعریف کی، لیکن ہم نے مثالوں کے ذریعے بتلا دیا کہ جزئی کی تعریف جامع نہیں اور کلی کی تعریف مانع نہیں، جامع کیسے نہیں جزئی کی تعریف؟ دیکھیے بھئی، یہ تین مثالیں جو میں نے ذکر کیں یہ کس کی تھیں؟ جزئی کی۔ جزئی کی، لہٰذا یہ جزئی ہونی چاہئیں، لیکن یہ کثیرین پر صادق آئیں یا نہیں آئیں؟ کثیرین پر صادق آئیں، اور جزئی کو تو ہم نے کہا تھا وہ کثیرین پر صادق نہ آئے، تو یہ جزئی کے افراد میں سے نکل گئے۔ ہم نے جزئی کی کیا تعریف کی تھی؟ کسی متعین ذات پہ جو صادق آئے اور اس کے... کسی اور پر صادق... اس میں شرکت نہ ہو سکے، اور اس میں کیا ہو رہی ہے؟ تو یہ تعریف سے نکل گئی یا نہیں نکل گئی؟ تو جزئی کی تعریف جامع نہ رہی، اور کلی کی تعریف میں یہ داخل ہو گئی، حالانکہ یہ کلی ہے؟ نہیں، تو یہ کلی تو نہیں، لیکن کلی کی تعریف میں داخل تو ہو رہی ہے، تو کلی میں غیرِ کلی داخل ہو گئی، کلی کی تعریف میں غیر... تو کلی کی تعریف مانع نہ رہی، اس میں غیرِ کلی داخل ہو گئی، یعنی ایک جزئی داخل ہو گئی، حالانکہ یہ تو تھی جزئی، لیکن داخل کس میں ہو گئی؟ کلی میں، کیونکہ کیا ہے؟ کثیرین پر صادق آ رہی ہے، اور کلی کا بھی ہم نے کیا تعریف کی تھی کلی کی؟ کثیرین، تو یہ صورتیں کس پر صادق آ رہی ہیں؟ کثیرین، تو یہ ہے تو جزئی، لیکن تعریف کس کی صادق آ گئی؟ کلی کی صادق آ گئی، یہ کلی میں داخل ہو گئی۔ تو جزئی کی تعریف جامع نہ رہی، یہ فرد... یہ تین افراد اس سے نکل گئے، اور کلی کی تعریف مانع نہ رہی، اس میں جزئی کے یہ تین افراد آ گئے، یہ ہیں تو جزئی لیکن تعریف تو کلی کی صادق آ رہی ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ جی، اب پہلے یہ اعتراض... جو سوال ذکر تھا تقریر جس کی میں نے کی، یہ اب دیکھیے کتاب میں بھئی: وَقَدْ أُورِدَ اور تحقیق وارد کیا گیا ہے عَلَى تَعْرِيفِ الْكُلِّيِّ کلی کی تعریف پر وَالْجُزْئِيِّ اور جزئی کی تعریف پر سُؤَالٌ ایک سوال بھئی۔ کلی اور جزئی کی تعریف پر ایک سوال وارد کیا گیا ہے یعنی ایک اعتراض کیا گیا ہے، یا ایک سوال کیا گیا ہے۔ تَقْرِيرُهُ اس سوال کی تقریر جو ہے وہ یہ ہے کہ أَنَّ الصُّورَةَ الْحَاصِلَةَ مِنَ الْبَيْضَةِ الْمُعَيَّنَةِ کہ وہ صورت جو حاصل ہو کسی متعین انڈے سے، بیضہ کسے کہتے ہیں؟ انڈے کو، وہ صورت جو حاصل ہو کسی متعین انڈے سے وَالشَّبَحَ الْمَرِئِيَّ شَبَحَ اس پر بھی فتحہ پڑھنا کیونکہ الصُّورَةَ الْحَاصِلَةَ پر اس کا عطف ہو رہا ہے اور وہ ہے اَنَّ کا اسم، تو یہ بھی کیا ہے؟ اَنَّ کا اسم۔ وَالشَّبَحَ الْمَرِئِيَّ مِنْ بَعِيدٍ شبح کہتے ہیں دور سے نظر آنے والی تصویر... صورت بھئی، دور سے نظر آنے والا سایا، بہت دور جو ہو وہ سایا سا نظر آتا ہے سائے کی صورت میں اولاً، اسے شبح کہتے ہیں۔ اور مرئی کا معنی ہے نظر آنے والا، مرئیٌ کا کیا معنی؟ نظر آنے والا۔ وَالشَّبَحَ الْمَرِئِيَّ اور دور سے... اور نظر دور سے دکھائی دینے والا سایا، اور دکھائی دینے والا سایا مِنْ بَعِيدٍ دور سے، وَالشَّبَحَ الْمَرِئِيَّ مِنْ بَعِيدٍ بعید کا کیا معنی؟ دور، دور سے نظر آنے والا سایا، وَمَحْسُوسَةَ الطِّفْلِ اور طفل بچہ، محسوس بھئی، محسوس عام محسوس کا عموماً اطلاق جو ہوتا ہے وہ دکھائی دینے والی چیز جو آنکھوں سے دکھائی دے عرف میں اسے محسوس کہا جاتا ہے، کیا کہا جاتا ہے؟ محسوس، تو محسوس بمعنی مبصر کے ہے، دکھائی دینے والی چیز۔ وَمَحْسُوسَةَ الطِّفْلِ اور بچے کو دکھائی دینے والی چیز فِي مَبْدَإِ الْوِلَادَةِ ولادت کی ابتدا میں، مبدأ کا کیا معنی؟ ابتدا، وَمَحْسُوسَةَ الطِّفْلِ اور بچے کے... کے دکھا... کو دکھائی دینے والی چیز فِي مَبْدَإِ الْوِلَادَةِ ولادت کی ابتدا میں، كُلُّهَا جُزْئِيَّاتٌ یہ سب کے سب کیا ہیں؟ یہ سب جزئیات ہیں، مَعَ أَنَّهُ يَصْدُقُ عَلَيْهَا تَعْرِيفُ الْكُلِّيِّ باوجود اس کے کہ صادق آتی ہے ان پر کلی کی تعریف، لِأَنَّ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ اس لیے کہ ان صورتوں میں، صور جمع ہے صورت کی، اس لیے کہ ان صورتوں میں فَرْضَ صِدْقِهَا یہ فَرْضَ یہ منصوب پڑھنا ہے، یہ اَنَّ کا اسم ہے لِأَنَّ کا۔ لِأَنَّ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ اس لیے کیونکہ ان صورتوں میں فَرْضَ صِدْقِهَا عَلَى كَثِيرِينَ اس کے کثیرین پر صادق آنے کو فرض کرنا، اس کے کثیرین پر آنے کو فرض کرنا غَيْرُ مُمْتَنِعٍ یہ ممتنع نہیں ہے، یعنی ناممکن نہیں ہے یعنی ممکن ہے۔ کثیرین پر اس کا صادق آنا ناممکن نہیں ہے بلکہ... جیسے ابھی میں نے مثالیں ذکر کر دیں: ایک انڈا پڑا تھا، اس کو اٹھایا تو دوسرے پر بھی وہی صورت صادق آئی، تو دیکھو کثیرین پر صادق آنے کو ہم فرض کر رہے ہیں، یہاں دیکھو کثیرین پر صادق آ رہی ہے، تیسرے انڈے پر بھی صادق آئے گی، چوتھے پر بھی صادق آئے گی۔ اسی طرح دور سے سایا نظر آیا بھئی، پہلے ایک چیز سمجھے آپ، پھر دوسری، پھر تیسری، تو دیکھو کثیرین پر وہی سایا صادق آ رہا ہے، اور بچے کے ابتدا میں تو ایک عورت کو بھی اپنی ماں سمجھا، پھر دوسری کو بھی اور پھر تیسری کو بھی، تو دیکھو ان میں کثیرین پر ان کا صادق آنے کو فرض کرنا ممتنع نہیں ہے۔ وَالْجَوَابُ جواب یہ ہے کہ أَنَّ الْمُرَادَ بِصِدْقِ الْمَفْهُومِ کہ مفہوم کے صادق آنے سے مراد جو ہے فِي تَعْرِيفِ الْكُلِّيِّ کلی کی تعریف میں، کلی کی تعریف میں جو مفہوم کے صادق آنا ہے اس سے مراد جو ہے هُوَ الصِّدْقُ عَلَى وَجْهِ الاِجْتِمَاعِ وہ صادق آنا ہے اجتماع کے طریقے پر یعنی اکٹھا۔ کیا ہو؟ اکٹھا۔ بھئی دیکھیے، کلی کی تعریف یہ کی تھی کہ وہ کثیرین پر صادق آئے، یعنی عقل اس میں شرکت کو جائز قرار دے بھئی، عقل کیا ہو؟ عقل شرکت کو جائز قرار دے تو وہ کثیرین پر صادق آئے اکٹھا بھئی ایک ہی وقت میں۔ ایک ہی وقت میں جب آپ نے حیوانِ ناطق کا تصور کیا، تو وہ زید پر بھی صادق، عمرو پر بھی صادق، بکر پر بھی صادق، ہر ایک پر صادق آ رہا ہے۔ کلی کی تعریف میں ہم نے کلی اور جزئی کس چیز کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے نا جو ذہن میں آئے، تو کلی اور... تو کلی کی تعریف میں ہم نے کہا کہ وہ کثیرین پر صادق آئے اس سے ہماری کیا مراد ہے؟ کس طرح صادق آنا چاہیے؟ اکٹھا، ایک ہی وقت میں، اکٹھا صادق آنا چاہیے۔ اور یہ اکٹھا صادق نہیں آ رہا، بلکہ یہ علی سبیل البدل ہے، بدل کے طریقے پر صادق آ رہا ہے۔ بھئی، حیوانِ ناطق یہ کلی ہے بھئی، اور یہ اکٹھی زید پر بھی صادق آ رہی ہے، عمرو پر بھی صادق آ رہی ہے اور بکر پر بھی صادق آ رہا ہے یہی مفہوم، لیکن یہ جو آپ نے مثالیں ذکر کیں کہ اس میں شرکت ہو رہی ہے، یہ اکٹھا صادق نہیں آ رہا یہ... یہ صورت اکٹھی صادق نہیں آ رہی، بلکہ بدل کے طریقے پر صادق آ رہی ہے۔ مثلاً انڈا آپ نے دیکھا، اس کی صورت آپ کے ذہن میں آئی، تو آپ کے ذہن میں یہ صورت صرف اس انڈے پر صادق آ رہی ہے، آپ جانتے ہیں اس میں شرکت نہیں ہو سکتی، پھر اٹھا کر دوسرا انڈا رکھا، تو اب وہ صورت اس انڈے پر صادق آئی بدل کے طریقے پر، پہلے اس پر صادق تھی اب اس پر صادق ہے، پھر اس انڈے کو بھی ہٹا کر تیسرا رکھا، تو اب اس پر یہ صورت صادق آئی، اکٹھی سب پر صادق نہیں آ رہی، بدل بدل کر ایک پر کیا ہو رہی ہے صورت صادق آ رہی ہے۔ دور سے جو سایا تھا، ایک وقت میں ایک ہی صورت... معنی اس کا سمجھ رہے ہیں، آپ پہلے کیا سمجھے کہ یہ اونٹ ہے، پھر بدل کر کیا سمجھے؟ گائے ہے، تو دیکھو بدل بدل کر وہ مفہوم کثیرین پر صادق آ رہا ہے، بیک وقت صادق نہیں آ رہا۔ وَالْجَوَابُ جواب یہ ہے کہ أَنَّ 2 خود بتلا رہے ہیں، یعنی کہ صورت البیضۃ المعینۃ یعنی کہ معین انڈے کی صورت اور دوسری اور اس کے علاوہ کی صورتیں انڈے کی صورت اور وہ دور سے دکھائی دینے والے سائے کی صورت اور بچے کے کو دکھائی دینے والی چیز کی جو صورت ہے، انما یصدق علی کثیرین یہ صورتیں صادق آتی ہیں کثیرین کس پر؟ کثیرین پر صادق تو آتی ہیں لیکن بدلاً کس طریقے پر؟ بدل کے طریقے پر، لا معاً، نہ کہ اکٹھی بھئی۔ معاً کا کیا معنی؟ اکٹھی، ایک ہی وقت میں تو اکٹھی یعنی ایک ہی وقت میں سب پر صادق نہیں آ رہی، بدل بدل کر۔ فان الوحدۃ محفوظۃ فی ھذہ الصورۃ، اس لیے کیونکہ وحدۃ ملحوظ ہے ان صورتوں کے اندر۔ وحدت کا کیا معنی؟ ایک ہونا۔ بھئی ایک انڈا رکھا تھا تو صورت بھی کس کی آئی؟ ایک ہی انڈے کی صورت آئی۔ دور سے ایک سایہ نظر آیا تو صورت بھی کس کی آئی؟ ایک ہی متعین سائے کی صورت آئی اور وہ بچے نے عورت کو دیکھا تو اسی ایک کی صورت اس کے ذہن میں آئی، تو ایک تو تو یہاں پر وحدت یعنی ایک ہونا ملحوظ ہے ان تمام صورتوں میں۔ ایک ہونا ملحوظ ہے، دیکھنے والا ایک ہی چیز اس کو جانتا ہے کہ یہ ایک ہی چیز ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ ایک ہی چیز ہے۔ فان الوحدۃ محفوظۃ فی ھذہ الصورۃ اس لیے کیونکہ وحدت جو ہے وہ ملحوظ ہے ان صورتوں میں، ضرورتاً۔ ضرورت کے معنی یقینی بھئی یا بدیہی کے گھر لیں۔ ضرورتھا انھا محفوظۃ من مادۃ معینۃ جزئیۃ۔ اس بات کے بدیہی ہونے کی وجہ سے کہ یہ محفوظ ہے، یہ صورت اخذ کی گئی ہے، لی گئی ہے ایک معین جزئی مادے سے، ایک معین جزئی، ایک معین جزئی مادے سے یہ صورت ہمارے ذہن میں آئی یا وہ جو پہلے ایک انڈا رکھا تھا اس سے صورت ذہن میں آئی ہے، دور سے ایک متعین سایہ نظر آیا تھا اس کی صورت ذہن میں آئی تھی۔ ولولا فیھا اعتبار التوحّد اور اگر اس میں توحّد کا اعتبار نہ ہوتا، لکانت کلیّۃ من غیر لزوم اشکال تو پھر یہ کلی ہی ہوتا بغیر لزوم اشکال کے، تو پھر بغیر کسی اشکال کے ہوئے یہ کیا ہوتا؟ کلی ہی ہوتا۔ ھذا ای خذ ھذا، اس بات کو یاد کر لیجیے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی کہ اس میں وحدت محفوظ ہے اور اکٹھی ہر ایک پر یہ صورت صادق نہیں آرہی، بدل کے طریقے پر صادق آرہی ہے تو جب وحدت ملحوظ ہے اور جزئی میں بھی کیا ہوتی ہے؟ وحدت ہوتی ہے، ایک متعین ذات پر وہ صادق آتی ہے تو لہٰذا یہ جزئی کی تعریف میں داخل رہے۔ اگر اس میں وحدت ملحوظ نہ ہوتی تو پھر یہ کیا تھی؟ کلی ہی ہوتی لیکن اس میں تو وحدت ملحوظ ہے، معلوم ہوا یہ کلی نہیں بھئی۔ دیکھیے جواب سے۔ والجواب جواب یہ ہے کہ ان المراد بصدق المھفوم فی فی تعریف الکلی کہ مفہوم کا صادق آنا جو ذکر کیا گیا فی تعریف الکلی کس کے اندر؟ کلی کی تعریف میں اشکال یہ تھا کہ جزئی کی تعریف جامع نہیں اور کلی کی تعریف مانع نہیں۔ جزئی کی تعریف جامع اس طرح نہیں کہ بعض افراد اس کے، اس سے خارج ہو جاتے ہیں تو یہ جامع نہ رہی اور وہ افراد کلی کی تعریف میں داخل ہو جاتے ہیں تو وہ کلی مانع نہ رہی اس میں جزئی داخل ہو گئی۔ تو جواب دیا کہ بھئی کلی کی تعریف میں جو ہم نے کہا تھا کہ مفہوم صادق آئے کثیرین پر تو اس سے مراد صادق آنا ہے اجتماع کے طریقے پر یعنی اکٹھا بھئی، اجتماع کے طریقے پر یعنی کہ اکٹھا صادق آئے، جیسے انسان بھئی، اب انسان کا کیا مفہوم ہے؟ حیوانِ ناطق اور یہ بہت سے افراد پر اکٹھا صادق آتا ہے، زید کھڑا ہے وہ بھی حیوانِ ناطق، عامر کھڑا ہے وہ بھی حیوانِ ناطق، بکر کھڑا ہے وہ بھی حیوانِ ناطق، تو دیکھو اکٹھا ہی بہت سوں پر صادق آرہا ہے، جبکہ آپ نے جو مثالیں ذکر کیں وہ اکٹھی نہیں صادق آرہی بھئی۔ ایک وقت میں وہ ایک ہی پر صادق آرہی ہیں۔ ایک وقت میں ایک ہی پر صادق آرہی ہیں تو ان میں وحدت ملحوظ ہے، یعنی ایک ہونا ملحوظ ہے بھئی، کہ یہ ایک ہی ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ کہ ان میں ایک ہونا ملحوظ ہے کہ یہ چیز ایک ہی ہے بھئی، ایک ہی ہے۔ تو دیکھیے والجواب جواب یہ ہے کہ ان المراد بصدق المھفوم کہ مراد جو ہے مفہوم کے صادق آنے سے فی تعریف الکلی کلی کی تعریف میں، وہ جو کلی کی تعریف میں ہم نے کہا تھا کہ مفہوم صادق آئے گا یعنی کثیرین پر، ھو الصدق علی وجہ الاجتماع وہ صادق آنا ہے کس طریقے پر؟ اجتماع کے طریقے پر، یعنی اکٹھا وھذہ الصور اور یہ جو صورتیں ہیں یعنی صورت البیضۃ المعینۃ و غیرھما (یعنی یہ جو معین انڈے کی صورت ہے اور اس کے علاوہ کی جو اوپر مثالوں میں ذکر ہوئیں سوال کے اندر) کہتے ہیں: انما یصدق علی کثیرین بدلاً لا معاً، یہ کثیرین پر صادق آتی ہیں بدل بدل کر، لا معاً، نہ کہ اکٹھی۔ فان الوحدۃ محفوظۃ فی ھذہ الصورۃ اس لیے کیونکہ ایک ہونا ملحوظ ہے اس صورت کے اندر بھئی، ہر جو بھی صورت حاصل ہوئی وہ دیکھنے والا کیا گمان کرتا ہے؟ کہ یہ ایک ہی پر صادق آرہی ہے، کثیرین پر صادق نہیں آرہی۔ اس لیے کیونکہ ایک ہونا محفوظ ہے اس صورت کے اندر، ضرورتًا انھا محفوظۃ من مادۃ معینۃ جزئیۃ۔ ضرورت کے معنی میں نے بتلایا، یقینی اور بدیہی کے بھئی، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ ضرورتًا انھا اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے یا اس بات کے بدیہی ہونے کی وجہ سے کہ انھا محفوظۃ من مادۃ معینۃ جزئیۃ، کہ یہ جو صورت ہے یہ اخذ کی گئی ہے، حاصل کی گئی ہے من مادۃ معینۃ جزئیۃ، کس سے؟ ایک مادہ معینہ جزئیہ سے، ارہمک اللہ، کس سے اخذ کی گئی ہے؟ ایک مادہ معینہ جزئیہ سے بھئی, ایک معین صورت، ایک معین انڈے کی وہ صورت آئی تھی ذہن میں۔ اسی طرح وہ بچے کے ذہن میں ایک معین عورت کی صورت آئی تھی، اسی طرح دور سے ایک سایہ حرکت کرتا ہوا نظر آیا تو اس معین مادے کی صورت آپ کے ذہن میں آئی، تو یہ صورت جو ہے یہ اخذ کی گئی ہے ایک معین جزئی مادے سے۔ ولا فیھا اعتبار التوحّد، اور اگر اس کے اندر ایک ہونے کا اعتبار نہ ہوتا، اس میں تو کس چیز کا اعتبار ہے؟ ایک ہونے کا۔ اگر اس میں ایک ہونے کا اعتبار نہ ہوتا، لکانت کلیّۃ تو پھر تو یہ کلی ہی ہوتی، من بغیر لزوم اشکال، بغیر اشکال کے، بغیر کسی اشکال کے لازم آئے، (یعنی پھر اس صورت میں کوئی اشکال لازم نہ آتا، اگر وحدت محفوظ نہ ہوتی) تو پھر تو یہ کلی ہی ہوتی اور ہم بھی کہتے یہ کلی ہے، لیکن آپ ان سب صورتوں میں دیکھ رہے ہیں کہ یہ جو صورت لی گئی, اخذ کی گئی ہے، کس سے اخذ کی گئی ہے؟ ایک جزئی مادے سے اخذ کی گئی ہے، تو لہٰذا یہ کلی نہیں بلکہ جزئی ہی ہے بھئی۔ اگر یہ وحدت اس میں توحّد کا بھی وہی معنی ہے، ایک ہونا، تو اگر یہ توحّد اور وحدت اس میں نہ ہوتا، تو پھر تو یہ کلی ہی ہونا تھا، بغیر اشکال کے لازم آئے، ھذا، ای خذ ھذا، یعنی اس بات کو لے لیجیے، اس بات کو یاد کر لیجیے۔ چلیے، بس بھئی ھذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 35 of 108