Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 61
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 34 1 فصل: الكلي أقسام. أحدها: ما يمتنع وجود أفراده في الخارج، كَالَّا شَيْءٍ وَاللَّا مُمْكِنِ وَاللَّا مَوْجُودِ. وثانيها: ما يمكن أفراده ولم توجد، كالعنقاء وجبل من الياقوت. وثالثها: ما أمكنت أفراده ولم توجد من أفراده إلا فرد واحد، كالشمس والواجب تعالى. ورابعها: ما وجدت له افراد كثيرة: إما متناهية، كالكواكب السيارة، فإنها سبع: الشمس، والقمر، والمريخ، والزهرة، وزحل، وعطارد، والمشتري. أو غير متناهية، كأفراد الإنسان والفَرَسِ والغنم والبقر. آج کے سبق میں ہم کلی کی اقسام پڑھیں گے بھئی۔ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے یہ پڑھا تھا کہ کلی جو ہے یہ مفہوم کا نام ہے۔ کس چیز کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے، یعنی وہ چیز جو ذہن میں آئے اور اس میں شرکت ہو سکے، کثیرین پر صادق آئے، تو اسے کلی کہتے ہیں۔ اب یہ کلی اپنے افراد کے اعتبار سے چار قسم پر ہے، جو صاحب مرقات بتلا رہے ہیں بھئی۔ کلی کس کے اعتبار سے؟ اپنے افراد کے اعتبار سے۔ کلی تو مفہوم کا نام ہے اور فرد وہ ہوتا ہے جو خارج میں پایا جاتا ہے—یرحمک اللہ—جیسے انسان بھئی، یہ کسے کہتے ہیں؟ حیوان ناطق کو بھئی، اور اس کے خارج میں پھر افراد ہوتے ہیں: زید، عمرو، بکر وغیرہ۔ تو کلی جو ہے، یہ مفہوم کا نام ہے اور خارج میں اس کے افراد ہوتے ہیں، تو یہ اپنے افراد کے اعتبار سے چار قسم پر ہے۔ چار قسم پر۔ کہ کلی کے وجہ حصر یہ ہے بھئی، وجہ حصر... حصر کا معنیٰ میں نے بتلایا تھا، کیا معنیٰ ہے حصر کا؟ بند کرنا۔ تو یہ چار قسموں میں کیوں بند کیا؟ چار قسمیں کیوں ہیں صرف اس کی؟ تو وجہ حصر یہ ہے کہ کلی کے افراد جو ہیں، ان کا خارج میں پایا جانا ممکن ہوگا یا ممکن نہیں ہوگا۔ کلی کے افراد کا... کلی تو مفہوم کا نام ہے، اس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا بھئی؟ ممتنع کا معنیٰ ناممکن بھئی۔ کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا۔ اگر ممتنع ہو تو یہ پہلی قسم ہے، جیسے کہ: لا شے، لا ممکن، اور لا موجود بھئی۔ لا شے، لا ممکن، اور لا موجود۔ لا شے، اس کا کوئی فرد خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ لا ممکن... بھئی لا عربی کا لفظ ہے نا، لا کا کیا معنیٰ؟ نہیں، تو لا شے، جو بھی خارج میں کوئی چیز پائی جائے وہ شے ہے بھئی، شے۔ ہر چیز پر شے کا اطلاق ہوتا ہے بھئی۔ تو جو بھی چیز خارج میں پائی جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ شے۔ چاہے وہ انسان ہے، زید، عمرو، بکر وغیرہ، اور کتاب ہے، قلم ہے، کمرہ ہے، گھر ہے، اور گاڑی ہے، ہر چیز کیا ہے؟ شے ہے۔ تو یہ کلی کی... وہ کون سی قسم ہم کر رہے ہیں؟ جس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممتنع ہے، یعنی ممکن ہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر لا شے بھئی، لا شے کا کیا معنیٰ؟ جو شے نہیں ہے، معلوم ہوا اس کا خارج میں وجود بھی نہیں ہے، کیونکہ اگر وجود آ جائے پھر تو وہ شے بن جائے گی بھئی۔ تو لا شے کا خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے بھئی، ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ اگر خارج میں پائی جائے گی تو وہ کیا ہو جائے گی؟ شے، وہ تو شے ہو جائے گی اور ہم تو کس کی بات کر رہے ہیں؟ لا شے کی بھئی، لا شے کی۔ تو لا شے کا کوئی فرد خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی طرح لا ممکن... لا ممکن بھئی، یعنی کہ ناممکن۔ لا ممکن کا کوئی خارج... کوئی فرد جو ہے خارج میں پایا جائے، یہ ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ اگر خارج میں پایا جائے گا تو وہ کیا ہوا؟ وہ تو ممکن ہو گیا، اور ہم تو کس کی بات کر رہے ہیں؟ لا ممکن کی بھئی، جو ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی طرح... اسی طرح لا موجود بھئی، لا موجود بھی ایک کلی ہے اور اس کا خارج میں کوئی فرد نہیں پایا جا سکتا۔ کیونکہ اگر خارج میں پایا گیا تو وہ تو موجود ہو جائے گا بھئی، اور ہم بات کس کی کر رہے ہیں؟ لا موجود کی۔ تو لا موجود کا کوئی فرد خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا تقسیم میں کر رہا تھا، وجہ حصر ذکر کر رہا تھا کہ کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا۔ اگر ممتنع ہو تو پھر وہ پہلی قسم ہے، جیسے لا شے، لا ممکن، اور لا موجود۔ اور اگر افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہو، پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: خارج میں افراد کا پایا جانا ممکن ہو بھئی، تو یہ دو حال سے خالی نہیں کہ خارج میں کوئی فرد موجود ہوگا یا موجود نہیں... ممکن تو ہے، لیکن پایا بھی جاتا ہے یا پایا نہیں جاتا؟ لا شے اور لا ممکن کا تو خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں تھا، اب اگلی قسم کیا ہے؟ افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہو، پھر ممکن تو ہے، لیکن کوئی فرد پایا بھی جاتا ہے یا فرد نہیں پایا جاتا؟ اگر کوئی فرد نہیں پایا گیا آج تک، تو وہ دوسری قسم ہے، جیسے عنقا بھئی، عنقا۔ عنقا ایک فرضی پرندہ ہے بھئی، فرضی پرندہ۔ کہتے ہیں یہ بہت بڑا ایک فرضی پرندہ جس کا ایک پر مشرق میں ہے تو دوسرا پر مغرب میں ہے، تو ایک فرض کیا ہوا ایک پرندہ ہے بھئی، جو آج تک ملا نہیں اس کا کوئی فرد بھئی، اتنا بڑا پرندہ! بھئی جیسے آپ ایک انسان تصور کر لیں، اس کے کندھے پر ایک کے بجائے دو سر ہوں بھئی، کبھی ایسا کوئی فرد ملا آپ کو؟ تو یہ بھی اسی طرح ایک فرضی پرندہ ہے بھئی، فرض کر لیا گیا۔ تو اس البتہ عنقا کا پایا جانا ممکن ہے یا ممکن نہیں؟ ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ ہو تو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہے تو ہمیں ملا تو نہیں، لیکن ہو سکتا ہے، ممکن تو ہے۔ ایک انسان کے کندھے پر دو سر ہوں، ہمیں آج تک ملا تو نہیں، لیکن ممکن ہے یا نہیں یہ چیز؟ یہ ناممکن چیز تو کوئی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ممکن تو ہے۔ تو عنقا بھی اسی طرح کا ایک پرندہ ہے فرضی، جس کا پایا جانا ممکن تو ہے لیکن کوئی فرد پایا نہیں گیا بھئی، ایک فرضی پرندہ ہے۔ اسی طرح دوسری مثال اس کی یاقوت کا پہاڑ بھئی۔ یاقوت ایک قیمتی پتھر ہے بھئی، یہ جو انگوٹھیوں وغیرہ میں نگینے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، تو یہ قیمتی پتھر ہے: سرخ، زرد وغیرہ کئی رنگوں کا ہوتا ہے یہ، تو اس کا پہاڑ بھئی، پورا پہاڑ ہی کس کا ہو؟ یاقوت کا ہو، اس قیمتی پتھر کا ہو۔ اب ممکن تو ہے، لیکن پایا نہیں گیا اس کا کوئی فرد، یہ بھی ایک فرضی پہاڑ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کلی کی پہلی قسم وہ تھی کہ اس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں تھا، لا شے اور لا موجود وغیرہ۔ دوسری قسم وہ ہے جس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن تو ہے لیکن اس کا کوئی فرد پایا نہیں گیا۔ تیسری قسم ہے کہ جس کے افراد کا... جس کے افراد میں سے خارج میں صرف ایک فرد پایا گیا بھئی، ایک فرد پایا گیا۔ جیسے سورج بھئی، سورج۔ اب سورج کسے کہتے تھے؟ آسمان پر چمکنے والا جسم بھئی، یا گول جسم، تو یہ ایک کلی مفہوم ہے، لیکن اس کا ایک ہی فرد خارج میں ہمیں ملا ہے بھئی، ایک ہی فرد پایا جاتا ہے۔ جیسے واجب تعالیٰ بھئی، واجب تعالیٰ... واجب الوجود کا جو مفہوم ہے، وہ کلی ہے بھئی۔ ایسی ذات جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو، جو خود بخود ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، اور ہمیشہ سے ہو، یہ ہے واجب الوجود بھئی۔ اور اس کا ایک ہی فرد خارج میں، یعنی اللہ تعالیٰ ہیں بھئی، اس کا ایک ہی فرد خارج میں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایک ہی فرد۔ اور چوتھی قسم کلی کی وہ ہے کہ جس کے کئی افراد، بہت سے افراد خارج میں پائے جاتے ہوں۔ پھر وہ بہت سے افراد یا تو محدود ہوں گے یا لا محدود ہوں گے۔ محدود جن کو ہم شمار کر سکیں، گن سکیں: 10، 15، یا 20، 50، 100، 200، 300، جتنے بھی افراد ہیں، یعنی ہم ان کو کیا کر سکیں؟ گن سکیں۔ اس کی مثال جیسے کواکب سیارہ۔ کواکب جمع ہے کوکب کی، اور کوکب ستارے کو کہتے ہیں۔ سیارہ کا معنیٰ ہے چلنے والا، سیار کسے کہتے ہیں؟ چلنے والا۔ تو چلنے والے ستارے یعنی چلنے والے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی دیکھیے، یہ آسمان پر جو ہمیں چمکدار جسم نظر آتے ہیں، یہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جن کا اپنا وجود ہی روشن ہے۔ اپنا وجود ہی روشن ہے۔ جیسے سورج کی اپنی ذاتی روشنی ہے، اسی طرح ان کی بھی اپنی ذاتی روشنی ہے، لیکن سورج چونکہ قریب ہے، وہ ہمیں بڑا دکھائی دیتا ہے، اور یہ ستارے... یہ سورج سے بعض تو ہزاروں گنا بڑے ہیں بھئی، بعض لاکھوں گنا بڑے ہیں سورج سے، لیکن دور بہت ہیں، اللہ کی یہ کائنات اتنی وسیع ہے، اتنی وسیع کہ انسان جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے انسان اللہ کی قدرتوں پر اور قدرتوں پر حیران ہوتا ہے، اور اس بات پر بھی حیران ہوتا ہے کہ اس کائنات کے اندر انسان کی کیا حیثیت ہے؟ کچھ بھی نہیں ہے بھئی، کچھ بھی حیثیت انسان کو اپنی معلوم نہیں ہوتی، یہ اتنی وسیع، اتنی بڑی کائنات ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اتنی وسیع کائنات ہے کہ پھر جوں ہم اس دنیا سے نکلیں باہر خلا کی طرف جائیں، تو اتنی وسیع ہے خلا کہ پھر یہ فاصلے ماپنے کے لیے کلومیٹر یا میلوں کا ہم... میلوں کے ذریعے پیمائش کریں تو وہ پیمائش کر ہی نہیں سکتے۔ پھر سائنسدان جو ہے، اکائی جو ہے اکائی... اس وقت تو دنیا میں ہم پیمائش کرتے ہیں میل اکائی ہے ہماری بھئی، یا کلومیٹر اکائی ہے، ایک شہر سے دوسرے شہر اتنے کلومیٹر فاصلہ ہے یا اتنے میل، تو میلوں کے ذریعے ہم ماپتے ہیں۔ لیکن اوپر کی طرف جائیں تو پھر یہ میلوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہ جاتی، تو پھر وہ اکائی جو بناتے ہیں جس کے ذریعے پیمائش کرتے ہیں، وہ نوری سال ہے بھئی۔ کس کے ذریعے؟ نوری سال بھئی۔ نوری سال کسے کہتے ہیں؟ وہ فاصلہ جسے روشنی ایک سال میں طے کرے، وہ نوری سال ہے بھئی۔ روشنی، نور، جو ایک سال میں جو فاصلہ طے کرے، وہ ہے اکائی۔ اس کے ذریعے بتاتے ہیں: یہ ستارہ ہم سے 10 نوری سال کے فاصلے پر ہے، یا 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے، یا ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے، یا لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے، یا کروڑ نوری سال کے فاصلے پر ہے، یا ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ نوری سال کے ذریعے بتلاتے ہیں۔ ستارے ہم سے لاکھوں، کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں بھئی، بعض قریب ہیں لیکن زیادہ تر بہت دور ہیں بھئی۔ اور روشنی کی کتنی رفتار ہے، کبھی آپ نے غور کیا؟ کبھی پڑھا؟ روشنی... بھئی دیکھو، دنیا گول ہے، دنیا گول ہے، اوپر کی جانب مثلاً پاکستان ہے، تو نیچے دوسری جانب بھئی، جیسے گیند ہوتا ہے اس پر ایک نقطہ لگا دیں، یہ پاکستان ہے۔ تو بالکل اس کے دوسری طرف نیچے کی طرف نشان لگائیں، وہ مثلاً امریکہ ہے بھئی۔ اور امریکہ ہم یہاں سے جاتے ہیں، تیز ترین سواریاں ہیں آج کل ہمارے پاس جہاز بھئی، جہاز بھی وہاں 24 گھنٹے کے لگ بھگ میں پہنچتا ہے بھئی۔ جو مسافر یہاں سے جاتے ہیں اگلے دن جا کر پہنچتے ہیں بھئی، 24 گھنٹے تقریباً لگ جاتے ہیں ان کو اس سفر کے اندر۔ اور ابھی گیند... دنیا گیند کی طرح ہے نا، ابھی آدھا فاصلہ ہوا، پھر گھوم کے واپس آنا پڑے دوسری طرف سے، تو پھر ایک دن اور لگے گا۔ جتنا وقت جانے میں لگا اتنا ہی وقت آنے میں لگے گا۔ تو یہ ہم تیز جہازوں کے ذریعے 48 گھنٹے میں پوری دنیا کا چکر لگا لیتے ہیں۔ بہت تیز کوئی جہاز ہو وہ بھی 24 گھنٹے تو ضرور لگائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بہت تیز مسافر بردار طیارہ۔ اور روشنی... روشنی کی اتنی رفتار ہے کہ ایک سیکنڈ میں یہ 12 چکر لگا لیتی ہے دنیا کے گرد بھئی۔ وہ فاصلہ جسے آپ 48 گھنٹے میں طے کرتے ہیں، روشنی ایک سیکنڈ میں... ہر ہر سیکنڈ کا حساب لگاؤ، ایک سیکنڈ میں 12 چکر لگا سکتی ہے دنیا کے، 1,86,000 میل فی سیکنڈ رفتار ہے روشنی کی۔ یعنی 3,00,000 کلومیٹر فی سیکنڈ۔ تو ایک سیکنڈ میں 12 چکر ہو گئے تو دو میں 24، چار سیکنڈ میں 48 چکر، تو ایک گھنٹے... ایک منٹ میں 60 سیکنڈ ہوتے ہیں، ایک منٹ میں 60 سے ضرب دیں، پھر آپ کو پتہ لگے گا۔ ایک گھنٹے میں 3600 سیکنڈ ہوتے ہیں، تو اس کو پھر 12 سے ضرب دیں، ایک گھنٹے میں اتنے چکر، تو 48 گھنٹے میں یہ کتنے چکر لگائے گی آپ خود ہی دیکھ لیں بھئی! کتنی رفتار ہے روشنی کی۔ اور یہ روشنی ستاروں سے زمین تک، بعض ستاروں سے ہزاروں سال میں روشنی زمین تک پہنچتی ہے، یعنی پورا سال یہ روشنی 3,00,000 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی رہے، چلتی رہے، تو ایک سال میں یہ جتنا فاصلہ طے کرتی ہے، وہ اکائی ہے بھئی، کتنی بڑی اکائی مقرر کی سائنسدانوں نے! اور پھر اس کے باوجود کہتے ہیں کوئی ستارے ہم سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر ہیں، یعنی آپ ایک ایسے جہاز میں بیٹھیں جو ایک سیکنڈ میں 3,00,000 کلومیٹر کر رہا ہو، تو اس ستارے تک پہنچتے ہوئے آپ کو مثلاً 10,000 سال لگیں گے۔ پیدا ہوتے ہی بچے کو جہاز میں بٹھا دو اور ستارے کی طرف روانہ کر دو، وہ اگر اسے کچھ بھی نہ ہوا، خوراک سارا کچھ ملتا رہا، 60-70 سال بعد اس کا انتقال ہو جائے گا، اور یہ جہاز جو روشنی کی رفتار سے جا رہا ہے، یہ کئی ہزار سال بعد جا کر ستارے پر پہنچے گا۔ اور پھر یہ قریب ترین ستارے ہیں۔ بعض ستارے ان کی روشنی لاکھوں سال میں زمین تک پہنچتی ہے، بعض ستارے ان کی روشنی... 2 اتنی دور ہیں، اتنی دور کہ انسان تصور، بھئی میں نے آپ کو مثال دی۔ قریب ترین جو ستارے ہیں ان کی بھی روشنی پتا نہیں ہزار یا کتنے ہزار سال میں پہنچتی ہے ہمیں، سب سے قریب ستارے۔ آپ ہم سب سے تیز چیز اب تک جو دریافت ہوئی ہے وہ روشنی ہے۔ سب سے تیز چیز اور روشنی کی رفتار سے بھی آپ جائیں تو ساٹھ ستر سال بعد آپ کا تو انتقال ہو جائے گا اور یہ جہاز کئی ہزار، رفتار کتنی ہے؟ ہر سیکنڈ میں کتنا کر رہا ہے؟ تین لاکھ، تین تین لاکھ ہر سیکنڈ میں، ہر۔ کتنی رفتار ہو گئی آپ سوچیں تو سہی۔ اور ہزاروں سال تک چلتے رہیں تو قریب والے ستارے تک پہنچیں گے۔ اور بعض ستارے تو ایسے ہیں ان کی روشنی کروڑوں اربوں سال میں پہنچتی ہے۔ معلوم ہو، یہ جو ہمیں ستارے نظر آتے ہیں، یہ پتا نہیں اس وقت ان میں سے کچھ ہیں بھی اور کچھ ختم ہو گئے ہوں، ہمیں پتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی روشنی ان سے جو روشنی چلی تھی وہ آج ہمیں پہنچی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جو آج سے ہزار سال پہلے تھی، وہ والی روشنی چلی تھی، وہ پہنچ رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مسلسل آ رہی ہے نا۔ تو جو ابھی ہماری آنکھ نے جس کو دیکھا یہ وہ روشنی تھی جو ہزار سال پہلے چلی تھی۔ اب ہو سکتا ہے وہ ختم ہو چکا ہو۔ یہ سورج تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سورج تو ایک عام معمولی سا ستارہ ہے، اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں۔ یہ سورج زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ تیرہ لاکھ گنا۔ یعنی یوں سمجھ لو، سورج اگر ایک اتنی سی گیند زمین اتنی سی گیند ہے تو سورج اس کے مقابلے میں ایک کمرے جتنا ہے۔ زمین اتنی سی گیند، تو سورج کتنا ہے؟ اور یہ آگ کا گولا ہے، پورا آگ ہی آگ ہے۔ اس کے اندر اگر اس کو پھینکا جائے زمین کا تو پتا بھی نہیں چلے گا، جل کے ختم ہو جائے گی، راکھ بھی نہیں بچے گی۔ یہ اتنا گرم ہے سورج کہ کوئی اس کے قریب بھی نہیں جا سکتا بھئی۔ اور یہ ہم سے کئی کروڑ میل کے فاصلے پر ہے۔ کئی کروڑ میل، سیکڑوں ہزاروں میل نہیں، لاکھوں نہیں، کئی کروڑ میل اور اس کی روشنی ہمیں صرف ساڑھے آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے تقریبا۔ کئی کروڑ میل ہیں، لیکن روشنی کتنی دیر میں پہنچ جاتی ہے؟ صرف ساڑھے آٹھ منٹ میں ہمیں پہنچ جاتی ہے۔ کیونکہ روشنی کی رفتار ہی اتنی زیادہ ہے جیسا میں نے ابھی بتایا۔ اور یہ سورج ایک متوسط درجے کا ستارہ ہے، جس کے سامنے زمین کی یہ حیثیت ہے۔ سورج سے بھی لاکھوں گنا بڑے ستارے ہیں جن کے سامنے سورج خود جیسے ایک کمرہ ہو اور اس کے سامنے زمین کی حیثیت تھی، سورج کی ان کے سامنے یہ حیثیت ہے۔ تو زمین کی ان کے سامنے کیا حیثیت ہو گی، آپ خود سوچ لیں۔ اتنی وسیع کائنات، انسان حیران رہ جاتا ہے، حیران رہ جاتا ہے، اتنی وسیع کائنات۔ بعض ستاروں کی روشنی کروڑوں سال میں پہنچتی ہے زمین کو۔ معلوم ہو، ان کی جو روشنی پہنچی اب ہمیں اگر دکھائی دے رہے ہیں آنکھ سے تو یہ اس کی کئی کروڑ سال پہلے والی حالت تھی، اس وقت یہ روشنی چلی تھی اور اب پہنچ رہی ہے۔ اب پتا نہیں وہ ہوں گے یا نہیں ہوں گے، ختم ہو چکے ہو سکتے ہیں، ہو سکتا ہے ہوں، جگہ بدل لی ہو بھئی۔ تو بہرحال بتانا یہ ہے اس وقت ہمیں جو ان کی حالت نظر آتی ہے وہ کسی کی کروڑ سال پہلے والی حالت ہے، کسی کی لاکھ سال پہلے والی حالت ہے، اس وقت والی حالت نہیں۔ کیونکہ اس وقت جو روشنی اب وہاں سے چلی ہے وہ لاکھ سال بعد پہنچے گی یہاں۔ अच्छा بھئی! بات دور نکل گئی بھئی۔ تو یہ ستارے ان کی اپنی روشنی ہے اور کچھ سیارات ہیں جن کی اپنی روشنی نہیں، سورج کی روشنی سے یہ روشن ہیں، انہی میں سے ایک زمین بھی ہے، زمین کی اپنی روشنی نہیں، سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، سورج غروب ہوتا ہے تو رات ہو جاتی ہے۔ تو اس طرح کے کچھ سیارات وغیرہ بھی ہیں۔ آج کل تو اگرچہ ان کی تعداد دس تک پہنچ چکی ہے، جو سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ قدیم جو فلاسفہ وغیرہ تھے، مناطقة، ان کے نزدیک ان کی تعداد سات ہے بھئی۔ کتنی تعداد ہے؟ سات ہے بھئی۔ تو یہ دیکھو۔ کواکب سیارہ چلنے والے ستارے، مفہوم کلی ہے یا نہیں بھئی؟ جو بھی چلنے والا ستارہ ہوگا اس پر یہ صادق آئے گا، چلنے والا ستارہ۔ اور ان کی تعداد محدود ہے بھئی۔ سات انہوں نے شمار کیے ہیں، سات بھئی۔ بتایا نا کہ کلی کے افراد کثیر ہوں گے اور پھر وہ کثیر ایسے ہوں گے کہ ان کو ہم شمار کر سکیں یا شمار نہ کر سکیں؟ شمار کر سکیں، اس کی مثال ہے کواکب سیارہ کہ ان کے وہ قدیم مناطقة کے ہاں کتنے ہیں؟ سات ہیں بھئی، سات۔ اور جن کی تعداد لامحدود ہو بھئی، کلی کے افراد کثیر ہوں خارج میں اور اتنے زیادہ ہیں کہ ہم ان کو شمار نہیں کر سکتے۔ جیسے انسان۔ انسان کے کتنے ہی افراد ہیں دنیا کے اندر بھئی، ہم اس کو شمار کرنے پر قادر نہیں۔ کوئی کہاں پر ہے، کوئی کہاں پر رہتا ہے، کوئی صحراؤں میں رہتے ہیں، کوئی پہاڑوں میں رہتے ہیں۔ ہم تو ایک شہر کی آبادی کو بھی پورے طور پر شمار نہیں کر سکتے بھئی۔ تو لامحدود ہیں۔ اسی طرح گائے بھئی، دنیا میں کتنی گائے ہیں بھئی، شمار ہی نہیں کر سکتے۔ بھیڑ بکری وغیرہ بھئی، یہ بھی کلیات ہیں، ان کے کتنے افراد دنیا میں ہیں ہمیں معلوم ہی نہیں، ہم شمار ہی نہیں کر سکتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگ گئی؟ جی۔ تو لہٰذا بھئی! خلاصہ کلام وجہ حصر دوبارہ سن لو کہ کلی کے افراد کلی کے افراد کا خارج میں وجود ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا۔ اگر ممتنع ہو تو یہ پہلی قسم ہے جیسے لا شے اور لاموجود، اور اگر کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہو تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو اس کے افراد جن کا خارج میں پایا جانا ممکن ہے، کوئی فرد خارج میں پایا بھی جائے گا یا کوئی فرد پایا نہیں جائے گا۔ اگر کوئی فرد نہ پایا جائے، ممکن تو ہے لیکن پایا نہ جائے تو یہ دوسری قسم ہے جیسے عنقا، پرندہ، اور یاقوت کا پہاڑ بھئی۔ اور پھر اگر ممکن ہے اور خارج میں پایا بھی گیا تو پھر وہ کوئی ایک ہی فرد پایا جائے گا یا زیادہ افراد ہوں گے۔ اگر ایک ہی فرد ہو تو یہ تیسری قسم ہے جیسے سورج اور واجب تعالی، اور اگر کثیرین ہیں تو پھر یہ چوتھی قسم ہے۔ یہ پھر آگے دو قسم پر ہے یا تو اس کے افراد محدود ہوں گے جیسے کواکب سیارہ یا اس کے افراد لامحدود ہوں گے۔ تو یہ چار قسمیں ہیں بھئی۔ تقسیم سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ فصل، أي هذا فصل، یہ فصل ہے، الكلي أقسام، کلی کئی قسم پر ہے، أحدها، ان میں سے ایک قسم جو ہے، ما وہ کلی ہے کہ يمتنع وجود أفرادہ في الخارج کہ ممکن نہ ہو اس کے افراد کا وجود خارج میں، اس کے افراد کا پایا جانا خارج میں ممکن نہ ہو، كلاشئ، جیسے لا شے، واللاممكن، اور لاممکن، واللاموجود، اور لاموجود، وثانيها، اور ان میں سے دوسری قسم جو ہے، ما يمكن أفرادہ ولم توجد کہ جس کے افراد ممکن تو ہوں ولم توجد اور پائے نہ جائیں، اور پائے نہ پائے جائیں، كالعنقا، جیسے عنقا ہے، وجبل من الياقوت، اور یاقوت کا پہاڑ بھئی، وثلثها، اور تیسری قسم، ما امتنعت أفرادہ ولم توجد من أفرادہ إلا فرد واحد، اور تیسری جو ہے، ما امتنعت أفرادہ وہ کلی ہے کہ جس کے افراد ممکن تو ہوں (یعنی خارج میں ان کا پایا جانا ممکن تو ہو) ولم توجد من أفرادہ اور نہیں پایا گیا اس کے افراد میں سے إلا فرد واحد، مگر ایک ہی فرد، كالشمس، جیسے کہ سورج ہے، والواجب تعالی، اور واجب تعالی ہیں، ورابعها، اور ان میں سے چوتھی قسم جو ہے، ما وجدت لہ أفراد کثیرة کہ جس کے بہت سے افراد پائے جائیں، پھر وہ بہت سے اما متناہیة، یا وہ افراد یا تو کیا ہوں گے؟ متناہی ہوں گے یعنی محدود ہوں گے، یعنی ہم انہیں شمار کر سکتے ہیں، كالكواكب السيارة، جیسے کہ کواکب سیارہ، فإنها سبع، پس یہ جو ہیں سات ہیں، سات، الشمس، سورج ہے، والقمر، چاند ہے، والمريخ، اور مریخ ہے، مریخ، یہ عام مشہور ہم اردو کی کتابوں میں مریخ پڑھتے ہیں مریخ، لیکن مریخ نہیں، صحیح لفظ مریخ ہے بھئی، اور مریخ ہے، والزهرة، اور زہرہ، والزحل والزحل، اور زحل ہے بھئی، والمشترى، اور مشتری، یہ آسمان پر چمکنے والے جسم ہیں، لیکن یہ سورج کے گرد گھومتے ہیں یہ، اور میں نے بتایا ان کی تعداد دس تک ہے، جبکہ قدیم کے نزدیک سات ہے، اور نیز وہ سورج اور چاند کو بھی اس میں شمار کرتے ہیں، ہم نئے جو تقسیم کی گئی ہے، وہ سورج اور چاند کو ان میں شمار نہیں کرتے بھئی۔ دس وہ سیارات ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ جبکہ اور سورج ان کا مرکز ہے بھئی، مرکز بھئی۔ اور چاند جو ہے، چاند کو بھی اس میں شمار نہیں کرتے، کیونکہ چاند سورج کے گرد نہیں گھومتا، چاند زمین کے گرد گھومتا ہے، اور زمین کو اس میں انہوں نے یہ شمار نہیں کرتے، حالانکہ زمین بھی اسی طرح کا ایک سیارہ ہے اور یہ بھی سورج کے گرد گھوم رہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگ گئی؟ تو یہ ان قدیم مناطقة کی تقسیم ہے بھئی، آج کل جو ہیں نو ہیں اور یا دس ہیں، ان میں عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون اور پلوٹو یہ نو ہیں اور بعضوں نے کہا دسواں بھی اب دریافت ہو چکا ہے، تو یہ یہ قسمیں ہیں۔ او غير متناهية، یا وہ افراد کیا ہیں؟ غیر متناہی، لامحدود ہیں یعنی ہم انہیں شمار نہیں کر سکتے، كأفراد الإنسان، جیسے انسان کے افراد بھئی، والفرس، اور فرس، یعنی گھوڑا جو ہے حیوان صاہل بھئی، اس کے افراد بھی کتنے ہیں ہم شمار نہیں کر سکتے پوری دنیا میں، والغنم، غنم کہتے ہیں بھیڑ اور بکری دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے، دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ غنم کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں، جیسے کہ شات کا لفظ ہے، شات۔ یاد رکھیے آپ شات کا ترجمہ کرتے ہوں گے، بکری، نہیں بھئی، یہ صرف بکری کو نہیں پر بولا جاتا۔ یہ عام رائج غلطی ہے ہماری کتابوں کے اندر کہ اس کا ہم ترجمہ صرف بکری سے کرتے ہیں۔ شات کا لفظ عربی میں بھیڑ اور بکری دونوں کو شامل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ بھیڑ بکری۔ تو غنم اور شات دونوں ایک جیسے لفظ ہیں، ایک ہی معنی ہیں دونوں کا بھیڑ بکری، والبقر، اور یہ گائے بیل وغیرہ بھئی، بقر ان یہ دونوں کو شامل مذکر کو بھی اور مؤنث کو بھی۔ وجہ حصر سمجھ میں آگ گئی؟ دوبارہ سن لو وجہ حصر، کہ کلی اپنے کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا۔ اگر ممتنع ہو تو یہ پہلی قسم، جیسے لا شے اور لاموجود، اور اگر کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہو تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو اس کے افراد جن کا خارج میں پایا جانا ممکن ہے، کوئی فرد خارج میں پایا بھی جائے گا یا کوئی فرد پایا نہیں جائے گا۔ اگر کوئی فرد نہ پایا جائے، ممکن تو ہے لیکن پایا نہ جائے تو یہ دوسری قسم ہے، جیسے عنقا پرندہ، اور یاقوت کا پہاڑ بھئی۔ اور پھر اگر ممکن ہے اور خارج میں پایا بھی گیا تو پھر وہ کوئی ایک ہی فرد پایا جائے گا یا زیادہ افراد ہوں گے۔ اگر ایک ہی فرد ہو تو یہ تیسری قسم ہے جیسے سورج اور واجب تعالی، اور اگر کثیرین ہیں تو پھر یہ چوتھی قسم ہے۔ یہ پھر آگے دو قسم پر ہے یا تو اس کے افراد محدود ہوں گے جیسے کواکب سیارہ یا اس کے افراد لامحدود ہوں گے۔ تو یہ چار قسمیں ہیں۔ تقسیم سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ فصل، أي هذا فصل، یہ فصل ہے، الكلي أقسام، کلی کئی قسم پر ہے، أحدھا، ان میں سے ایک قسم جو ہے، ما وہ کلی ہے کہ يمتنع وجود أفرادہ في الخارج کہ ممکن نہ ہو اس کے افراد کا وجود خارج میں، اس کے افراد کا پایا جانا خارج میں ممکن نہ ہو، كلاشئ، جیسے لا شے، واللاممكن، اور لاممکن، واللاموجود اور لاموجود، وساٹھا، اور ان میں سے دوسری قسم جو ہے، ما يمكن أفرادہ ولم توجد کہ جس کے افراد ممکن تو ہوں ولم توجد اور پائے نہ جائیں، اور پائے نہ پائے جائیں، كالعنقا، جیسے عنقا ہے، وجبل من الياقوت، اور یاقوت کا پہاڑ بھئی، وساٹھا اور تیسری قسم، ما امتنعت أفرادہ ولم توجد من أفرادہ إلا فرد واحد، اور تیسری جو ہے، ما امتنعت أفرادہ وہ کلی ہے کہ جس کے افراد ممکن تو ہوں (یعنی خارج میں ان کا پایا جانا ممکن تو ہو) ولم توجد من أفرادہ اور نہیں پایا گیا اس کے افراد میں سے إلا فرد واحد، مگر ایک ہی فرد، كالشمس، جیسے کہ سورج ہے، والواجب تعالی، اور واجب تعالی ہیں، ورابعها، اور ان میں سے چوتھی قسم جو ہے، ما وجدت لہ أفراد كثرة کہ جس کے بہت سے افراد پائے جائیں، پھر وہ بہت سے اما متناہیة، یا وہ افراد یا تو کیا ہوں گے؟ متناہی ہوں گے (یعنی محدود ہوں گے، یعنی ہم انہیں شمار کر سکتے ہیں)، كالكواكب السيارة، جیسے کہ کواکب سیارہ، فإنها سبع، پس یہ جو ہیں سات ہیں، سات، الشمس، سورج ہے، والقمر، چاند ہے، والمريخ، اور مریخ ہے، مریخ، یہ عام مشہور ہم اردو کی کتابوں میں مریخ پڑھتے ہیں مریخ، لیکن مریخ نہیں، صحیح لفظ مریخ ہے بھئی، اور مریخ ہے، والزهرة، اور زہرہ، والزحل والزحل، اور زحل ہے بھئی، والمشترى، اور مشتری، یہ آسمان پر چمکنے والے جسم ہیں، لیکن یہ سورج کے گرد گھومتے ہیں یہ، اور میں نے بتایا ان کی تعداد دس تک ہے، جبکہ قدیم کے نزدیک سات ہے، اور نیز وہ سورج اور چاند کو بھی اس میں شمار کرتے ہیں، ہم نئے جو تقسیم کی گئی ہے، وہ سورج اور چاند کو ان میں شمار نہیں کرتے بھئی۔ دس وہ سیارات ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ جبکہ اور سورج ان کا مرکز ہے بھئی، مرکز بھئی۔ اور چاند جو ہے، چاند کو بھی اس میں شمار نہیں کرتے، کیونکہ چاند سورج کے گرد نہیں گھومتا، چاند زمین کے گرد گھومتا ہے، اور زمین کو اس میں انہوں نے یہ شمار نہیں کرتے، حالانکہ زمین بھی اسی طرح کا ایک سیارہ ہے اور یہ بھی سورج کے گرد گھوم رہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگ گئی؟ تو یہ ان قدیم مناطقة کی تقسیم ہے بھئی، آج کل جو ہیں نو ہیں اور یا دس ہیں، ان میں عتار و زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون اور پلوٹو یہ نو ہیں اور بعضوں نے کہا دسویں بھی اب دریا ہو چکا ہے، تو یہ یہ قسمیں ہیں۔ أو غير متناهية، یا وہ افراد کیا ہیں؟ غیر متناہی، لامحدود ہیں (یعنی ہم انہیں شمار نہیں کر سکتے)، كأفراد الإنسان، جیسے انسان کے افراد بھئی، والفرس، اور فرس، یعنی گھوڑا جو ہے حیوان صاہل بھئی، اس کے افراد بھی کتنے ہیں ہم شمار نہیں کر سکتے پوری دنیا میں، والغنم، غنم کہتے ہیں بھیڑ اور بکری دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے، دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ غنم کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں، جیسے کہ شات کا لفظ ہے، شات۔ یاد رکھیے آپ شات کا ترجمہ کرتے ہوں گے، بکری، نہیں بھئی، یہ صرف بکری کو نہیں پر بولا جاتا۔ یہ عام رائج غلطی ہے ہماری کتابوں کے اندر کہ اس کا ہم ترجمہ صرف بکری سے کرتے ہیں۔ شات کا لفظ عربی میں بھیڑ اور بکری دونوں کو شامل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ بھیڑ بکری۔ تو غنم اور شات دونوں ایک جیسے لفظ ہیں، ایک ہی معنی ہے دونوں کا بھیڑ بکری، والبقر، اور یہ گائے بیل وغیرہ بھئی، بقر ان یہ دونوں کو شامل، مذکر کو بھی اور مؤنث کو بھی۔ وجہ حصر سمجھ میں آگ گئی؟ دوبارہ سن لو وجہ حصر، کہ کلی اپنے کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا۔ اگر ممتنع ہو تو یہ پہلی قسم، اگر ممکن ہے تو پھر یہ دو حال سے خالی نہیں۔ کوئی خارج میں فرد پایا بھی جاتا ہے یا نہیں پایا جاتا۔ اگر نہیں پایا جاتا، ممکن تو ہے لیکن پایا نہیں گیا، تو یہ دوسری قسم۔ اگر پایا جاتا ہے، پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ کہ ایک ہی فرد پایا گیا یا کثیر افراد پائے گئے۔ اگر ایک ہی فرد پایا گیا، یہ تیسری قسم ہے۔ اور اگر کثیر افراد پائے گئے تو پھر یہ چوتھی قسم ہے، جو انہوں نے ذکر کی ورابعہ رابعہا کے ذریعے بھئی۔ چار ہی قسمیں بنائیں مصنف نے۔ بعض دیگر علماء وہ چھ قسمیں بناتے ہیں۔ انہی چار کے بجائے انہی کو وہ کتنی قسمیں بناتے ہیں؟ چھ قسمیں، وہ بھی ذرا سن لیں، سمجھ لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، کلی کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممتنع ہوگا یا ممکن ہوگا۔ ممتنع ہو تو یہ پہلی قسم۔ اگر ممکن ہے، پھر دو حال سے خالی نہیں۔ کوئی خارج میں فرد پایا بھی گیا یا نہیں پایا گیا، اگر نہیں پایا گیا، ممکن تو ہے لیکن پایا نہیں گیا، یہ دوسری قسم، اور اگر پایا گیا، تو پھر یہ دو حال سے خالی نہیں۔ کہ وہ ایک ہوگا یا کثیر ہوں گے۔ ایک ہو تو اس کی بھی دو قسمیں، کثیر ہوں تو اس کی بھی دو قسمیں، اگر ایک ہی فرد خارج میں پایا گیا، یہ پھر دو حال سے خالی نہیں۔ دوسرا فرد پایا جانا ممکن ہوگا یا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر ممکن ہے تو جیسے تو یہ تیسری قسم، جیسے سورج، سورج کا اور فرد بھی پایا جانا پایا تو ایک ہی فرد گیا، لیکن دوسرا فرد بھی پایا جانا ممکن ہے، ہو سکتا ہے، اور اگر دوسرا فرد پایا جانا ممکن ہی نہ ہو تو یہ چوتھی قسم ہے جیسے واجب تعالی بھئی، اللہ تعالی بھئی۔ اللہ واجب تعالی کا ایک ہی فرد ہے یعنی اللہ تعالی اور دوسرا فرد پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ قرران میں اللہ خود فرماتے ہیں، لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا، اگر اس زمین اور آسمان میں اللہ کے علاوہ اور آلہہ ہوتے تو یہ یہاں فساد یعنی یہ ان کا نظام خراب ہو جاتا بھئی۔ نظام معلوم ہوا کہ واجب تعالی کا دوسرا فرد پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے بھئی، ممکن ہی نہیں۔ تو یہ چار قسمیں ہو گئیں اور پانچویں قسم کیا تھی کہ اگر افراد کثیر ہوں، پھر وہ دو قسم پر ہیں یا وہ کثیر ان کو ہم شمار کر سکیں گے یا شمار نہیں کر سکیں گے۔ اگر شمار کر سکتے ہیں، تو یہ پانچویں قسم ہے جیسے کواکب سیارہ، اور اگر شمار نہیں کر سکتے تو یہ چھٹی قسم ہے، جیسے انسان، فرس اور غنم وغیرہ۔ تو یہی جن کو مصنف نے چار قسمیں بنایا، بعض اس کے یہ کتنے بناتے ہیں، کتنے قسمیں؟ وہ چھ، انہی کو چھ قسمیں ان کو بنا دیتے ہیں بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی ہٰذا هو المراد، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 34 of 108