LESSONS NO. 33
1
فَصْلٌ: اَلْمَفْهُوْمُ - أَيْ مَا حَصَلَ فِي الذِّهْنِ - قِسْمَانِ: أَحَدُهُمَا جُزْئِيٌّ، وَالثَّانِي كُلِّيٌّ. أَمَّا الْجُزْئِيُّ فَهُوَ مَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِهِ عَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ، كَزَيْدٍ، وَعَمْرٍو، وَهٰذَا الْفَرَسِ، وَهٰذَا الْجِدَارِ۔
کل ہم نے کلی اور جزئی کی بحث شروع کر دی تھی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلی وہ ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے بھئی، جس میں شرکت نہ ہو سکے، کسی متعین فرد پر بولا جائے۔
اور جبکہ کلی وہ ہے جو کثیرین پر صادق آئے اور جس میں شرکت ہو سکے بھئی۔
جس میں شرکت ہو سکے اور کثیرین پر صادق آئے، یہ کیا ہے؟ کلی ہے۔
کلی ہے، اور بتلایا تھا کہ افراد کو آپ نے نہیں دیکھنا، فرد ایک ہو، دو ہوں، تین ہوں، اس کو آپ نے نہیں دیکھنا، آپ نے اس کے مفہوم پر غور کرنا ہے؛ کیونکہ یہ تقسیم مفہوم کی ہو رہی ہے، وہ جو ذہن میں آیا ایک چیز کا معنی، اور تو اس میں اگر آپ کا ذہن شرکت کو جائز قرار نہیں دیتا تو معلوم ہوا وہ جزئی ہے، اور اگر آپ کا ذہن اس میں شرکت کو جائز قرار دیتا ہے تو معلوم ہوا وہ کلی ہے بھئی، کلی۔
کہتے ہیں: "اَلْمَفْهُوْمُ - أَيْ مَا حَصَلَ فِي الذِّهْنِ - قِسْمَانِ" مفہوم یعنی کہ وہ چیز جو ذہن میں حاصل ہو دو قسم پر ہے۔
"أَحَدُهُمَا جُزْئِيٌّ، وَالثَّانِي كُلِّيٌّ" ان دو میں سے ایک جزئی ہے اور دوسری کلی ہے۔
"أَمَّا الْجُزْئِيُّ فَهُوَ مَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِهِ عَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ" یہ جزئی کی تعریف آ گئی۔
اما الجزئی، باقی جزئی جو ہے "فَهُوَ" وہ مفہوم ہے "مَا يَمْنَعُ" کہ جو روکے، منع کرے۔
کیا چیز منع کرے؟ "نَفْسُ تَصَوُّرِهِ" اس کا نفسِ تصور۔
اس مفہوم کا نفسِ تصور کریں آپ، یعنی ذہن میں اس کو حاضر کریں، تو یہ جو اس کا نفسِ تصور ہے یہ منع کرے "عَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ" اس کے کثیرین پر صادق آنے کو۔
یعنی اس کا نفسِ تصور جب آپ کرتے ہیں ذہن میں اس کا مفہوم لے کر آتے ہیں تو تو اس کا یہ نفسِ تصور جو ہے کثیرین پر اس کے صادق آنے کو منع کرتا ہے، یہ مفہوم بتلا دیتا ہے کہ یہ کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ جی سر۔
"كَزَيْدٍ، وَعَمْرٍو، وَهٰذَا الْفَرَسِ، وَهٰذَا الْجِدَارِ" جیسے زید بھئی۔
تو زید کا تصور کر لیں تو اب یہ اس کا مفہوم جو ذہن میں آیا یہ خود ہی آپ کو بتلا دیتا ہے کہ یہ مفہوم کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا بھئی۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کثیرین، اسی طرح عمرو بھئی، عمرو کا مفہوم ہی آپ کو ذہن، آپ ذہن میں حاضر کریں کہ عمرو کسے کہتے ہیں تو وہ مفہوم ہی سے آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مفہوم کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا۔
اسی طرح "هٰذَا الْفَرَسِ" یہ گھوڑا، اب جب اشارہ کر دیا یہ گھوڑا تو متعین ہو گیا، جب متعین ہو گیا تو یہ گھوڑا تو ایک ہی ہے، یہ تو کثیرین پر صادق نہیں، صرف فرس کہیں گھوڑا، وہ تو ہر گھوڑے پر صادق آئے گا، لیکن آپ نے صرف فرس نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ "هٰذَا الْفَرَسِ" یہ گھوڑا، کوئی متعین گھوڑا جو ہے اس کی طرف اشارہ کیا تو یہ گھوڑا تو ایک ہی ہے، یہ تو کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا۔
اسی طرح "وَهٰذَا الْجِدَارِ" جدار کہتے ہیں دیوار کو، یہ دیوار، تو یہ دیوار بھی متعین ہے بھئی۔
تو اس بالکل اس جیسا مثلاً آپ نے اشارہ کیا کس کی طرف؟ کسی متعین گھوڑے کی طرف، "هٰذَا الْجِدَارِ" یا "هٰذَا الْفَرَسِ" یا متعین دیوار ہے بھئی، اب بالکل اسی جیسا کوئی اور گھوڑا ہو۔
تو بھئی یہ یہ گھوڑا تو یہی ہے، وہ اس جیسا ہے۔
وہ وہ اس جیسا ضرور ہے لیکن یہی گھوڑا وہ نہیں ہے، وہ الگ گھوڑا ہے۔
"هٰذَا الْجِدَارِ" جب آپ نے کہا، یہ متعین دیوار اس سے مراد ہے، بالکل اس جیسی اور دیوار بھی اگر ساتھ ہو تو آپ کہیں گے کہ وہ اس جیسی تو ہے لیکن یہ والی نہیں ہے، یہ تو یہی دیوار ہے اور وہ دیوار اس جیسی ہے؛ کیونکہ یہ جزئی ہیں یہاں شرکت ہو ہی نہیں سکتی بھئی، تو "هٰذَا الْجِدَارِ" ایک ہی دیوار پر صادق آئے گا، دو یا تین پر صادق نہیں آئے گا۔
"هٰذَا الْفَرَسِ" ایک ہی گھوڑے پر صادق آئے گا، دو یا تین گھوڑوں پر صادق نہیں آئے گا، یہاں شرکت نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ جزئی ہیں بھئی۔
"وَأَمَّا الْكُلِّيُّ" اور باقی کلی جو ہے "فَهُوَ مَا" وہ مفہوم ہے کہ "لَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِهِ عَنْ وُقُوْعِ الشِّرْكَةِ فِيْهِ" کہ نہیں منع کرتا اس کا نفسِ تصور کس چیز کو نہیں منع کرتا؟ "عَنْ وُقُوْعِ الشِّرْكَةِ فِيْهِ" اس بات سے کہ اس میں شرکت ہو سکے۔
یعنی وہ اس میں شرکت سے منع نہیں کرتا، اس میں شرکت ہو سکتی ہے، کلی کے اندر شرکت، وہ کثیرین پر صادق آتی ہے، مثلاً آپ نے فرس کہا تو فرس فرس کا ہر ہر فرد پر یہ صادق آئے گا، جو بھی گھوڑا ہے وہ فرس ہے، تو دیکھو کثیرین پر یہ اس کا مفہوم صادق آ رہا ہے، اور جی "وَعَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ" تو اس کا نفسِ تصور جو ہے اس میں وقوعِ شرکت سے منع نہیں کرتا "وَعَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ" اور اس کے کثیرین پر صادق آنے کو منع نہیں کرتا۔
"كَالْإِنْسَانِ وَالْفَرَسِ" جیسے کہ انسان اور فرس ہیں۔
انسان دیکھو یہ کثیرین پر صادق آتا ہے، اس میں شرکت ہوتی ہے، اسی طرح فرس یہ کثیرین پر صادق آتا ہے، اس میں شرکت عقل شرکت کو جائز قرار دیتی ہے۔
"وَقَدْ يُفَسَّرُ الْكُلِّيُّ وَالْجُزْئِيُّ بِتَفْسِيْرَيْنِ آخَرَيْنِ" اور تحقیق تفسیر کی جاتی ہے کلی اور جزئی کی دوسری دو تفسیروں کے ساتھ۔
"أَمَّا الْكُلِّيُّ" جی اب دوسری تعریف کرنے لگے ہیں، ایک تعریف کلی اور جزئی کی گزر گئی بھئی۔
جزئی کی کیا تعریف کی؟ "فَهُوَ مَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِهِ عَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ" اور کلی کی کیا تعریف کی؟ "هُوَ مَا لَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِهِ عَنْ وُقُوْعِ الشِّرْكَةِ فِيْهِ وَعَنْ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ"۔
اب اور تفسیر کریں گے اسی کلی اور جزئی کی، کہتے ہیں: "أَمَّا الْكُلِّيُّ فَهُوَ" باقی کلی جو ہے "فَهُوَ مَا جَوَّزَ الْعَقْلُ" وہ ہے وہ مفہوم ہے کہ جائز رکھے عقل، جائز قرار دے عقل۔
کس چیز کو جائز قرار دے؟ "تَكَثُُّرَهُ" اس کے کثیر ہونے کو۔
عقل اس میں کثرت کو جائز قرار دے "مِنْ حَيْثُ تَصَوُُّرِهِ" اس کے تصور کی حیثیت سے، اس کے تصور۔
اس کے تصور اس کو ذہن میں حاضر کریں تو اس اعتبار سے عقل اس کے اندر کثرت کو جائز قرار دے کہ اس جیسے اور فرد بھی ہوئے تو ان پر بھی یہ صادق آئے گا۔
اس جیسے اور افراد ہوئے تو ان پر بھی یہ لفظ کیا ہوگا؟ صادق آئے گا۔
"وَأَمَّا الْجُزْئِيُّ فَهُوَ مَا لَا يَكُوْنُ كَذٰلِكَ" اور باقی جزئی ہے "فَهُوَ مَا لَا يَكُوْنُ كَذٰلِكَ" جو اس طرح نہ ہو، یعنی جس میں عقل کثرت کو جائز قرار نہ دے بھئی اس کے تصور کی حیثیت سے۔
کہ اس کا تصور کریں تو عقل جو ہے اس مفہوم کے اندر اوروں کی شرکت کو جائز قرار نہ دے، عقل خود بتلا دے کہ اس میں کثرت نہیں ہو سکتی، زید ہے تو زید ایک ہی ہوگا، دو یا تین زید نہیں ہو سکتے، یہ دیوار، یہ دیوار ہے تو یہ متعین ہے، یہ ایک ہی ہے، دوسری دیوار یہ دیوار نہیں ہو سکتی، وہ اس جیسی ضرور ہو سکتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
جی تو "وَأَمَّا الْجُزْئِيُّ فَهُوَ مَا لَا يَكُوْنُ كَذٰلِكَ" باقی جزئی جو ہے وہ ہے کہ جو اس طرح نہ ہو۔
اچھا بھئی انہوں نے دیکھیے کلی کی کیا تعریف کی؟ "فَهُوَ مَا لَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُُّرِهِ" اور جزئی میں کہا: "فَهُوَ مَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُُّرِهِ" نفسِ تصور کی قید لگائی بھئی، نفسِ تصور کی۔
کہ نفسِ تصور وہ بتلا دے گا کہ شرکت ہو سکتی ہے یا شرکت نہیں ہو سکتی۔
مثلاً دیکھیے واجب الوجود، واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ کہ جو اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو، اور واجب الوجود معنیٰ کی طرف ہی نظر کر لیں، جس کا ہونا واجب ہو، جس کا ہونا ضروری ہو۔
جو اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، اور کبھی اس پر عدم نہ آیا ہو، ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ واجب الوجود۔
اب واجب الوجود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، لیکن واجب الوجود کے مفہوم پر صرف اگر آپ نظر کریں تو مفہوم کے اعتبار سے عقل کثرت کو جائز قرار دیتی ہے، کس کے اعتبار سے؟ مفہوم کیا کیا؟ جو اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو۔
تو یہ تو کوئی فرض کرو کوئی اور ایسی ذات ہو جس میں یہ ساری چیزیں ہوں تو اس پر بھی صادق آئے گا یا نہیں آئے گا؟ اگرچہ اللہ کی ذات ایک ہے، لیکن اس کو نہ خارج کو نہ دیکھیں، صرف لفظ کے مفہوم پر نظر رکھیں بھئی، تو لفظ کے مفہوم کے پر نظر رکھیں واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ جو کہ اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو، اور جس کا ہونا ضروری ہو، اور جو ہمیشہ سے ہو۔
اب یہ مفہوم کسی اور ذات میں ہوا تو اسے بھی واجب الوجود کہیں گے یا نہیں کہیں گے؟ اسے بھی واجب الوجود کہیں گے؛ کیونکہ واجب الوجود کے یہ معنیٰ ہم نے کیے، اور تو یہ معنیٰ اور مفہوم کے اعتبار سے اس میں عقل کثرت کو جائز قرار دیتی ہے، کس کے اعتبار سے؟ اگرچہ خارج میں اللہ کی ذات ایک ہی ہے، لیکن میں نے بتایا خارج سے قطع نظر بات یہ کر رہے ہیں نفسِ تصور کی قید اسی لیے انہوں نے لگائی کہ نفسِ تصور پر آپ نظر رکھیں تو نفسِ تصور کے اعتبار سے عقل اس میں شرکت کو جائز قرار دے، خارج کو نہیں۔
چونکہ خارجی دلائل تو ہمیں بتلاتے ہیں کہ واجب الوجود اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ہی ہے، وہاں کثرت ممکن ہی نہیں ہے خارجی اعتبار سے بھئی۔
جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "لَوْ كَانَ فِيْهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا" اگر اور آلہہ ہوتے اللہ کے علاوہ تو اس زمین اور آسمان کا نظام خراب ہو جاتا، کبھی بھی صحیح نہ چلتا۔
اور حالانکہ نظام تو صحیح چل رہا ہے، معلوم ہوا معبود ایک ہی ذات ہے، صرف اللہ کی ذات اور کوئی معبود نہیں یہاں پر بھئی۔
تو خارجی اعتبار سے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اور بھی واجب الوجود ہو، لیکن ہم خارج کی بات نہیں کر رہے، ہم صرف کس کی بات کر رہے ہیں؟ مفہوم کی، وہ جو لفظ آپ نے واجب الوجود کہا واجب الوجود مفہوم کے اعتبار سے اس میں شرکت شرکت ہو سکتی ہے، عقل شرکت کو جائز قرار دیتی ہے؛ کیونکہ آپ نے دو تین معنیٰ بیان کر دیے، واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ جو جو اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہ ہو، جو جس کا ہونا ضروری اور جو ہمیشہ سے، تو یہ تین معانی اگر فرض کرو فرض کریں کسی اور ذات میں ہوتے تو اسے بھی ہم کیا کہتے؟ واجب الوجود کہتے؛ کیونکہ یہی تین معانی جو ہیں اس کے اندر بھی پائے جا رہے ہیں۔
تو یہ صرف مفہوم معلوم ہوا مفہوم کے اعتبار سے اس میں شرکت ہو سکتی ہے، ہاں خارج کے اعتبار سے یہاں شرکت اگرچہ ممتنع ہے، لیکن ہم خارج کی بات کر ہی نہیں رہے، کس اعتبار سے بات کر رہے ہیں؟ مفہوم کے اعتبار سے بھئی۔
تو یہ مناطقہ جو ہیں یہ بھی محتاج ہوئے اللہ کی ذات تسلیم کرنے کی طرف بھئی۔
اگرچہ ان کے یہ تو اسلامی منطق آپ پڑھ رہے ہیں، جہاں پر پھر علمائے اسلام نے منطق کی بڑی خدمت کی، بڑی کتابیں اس کے اندر لکھیں، اس سے کفریہ عقائد کو نکالا، اور اسلامی باتوں کو اس میں اسلامی باتوں کو منطقی رنگ دے کر اس میں شامل کیا۔
تو مناطقہ اگرچہ اصل مناطقہ یونان وہ اگرچہ مسلمان نہیں تھے، لیکن وہ بھی محتاج ہوئے واجب الوجود کو ماننے کی طرف کہ کوئی ایک ذات ایسی ہونی چاہیے جو خود بخود ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، ہمیشہ سے ہو۔
وجہ یہ کہ ممکن کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو، معلوم ہوا ہر ممکن کے لیے کہ وجود کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہوگی۔
بھئی اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہے، یہ کتاب اپنے وجود میں ممکن ہر وہ چیز جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو، واجب الوجود کے علاوہ تمام چیزیں ممکن الوجود ہیں، ساری چیزیں، تمام مخلوق اس کے اندر داخل ہو گئی بھئی۔
تو ہر ممکن کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی بنانے والا چاہیے، کیا چاہیے؟ وہ بھئی ممکن کہتے ہی اسے ہیں نا جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو۔
یرحمک اللہ، وہ غیر ہے تو اس کا وجود ہے، وہ غیر نہیں تو اس کا وجود بھی نہیں۔
تو اگر اس ممکن کے لیے پھر جس کی وجہ سے اس کا وجود آیا، وہ ممکن ہی کو مانیں گے۔
تو پھر اس ممکن کے لیے وہ بھی تو ممکن ہے، وہ بھی اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہے، تو اس کے لیے ایک اور ممکن کو ماننا پڑے گا اس سے پہلے۔
وہ اس سے پہلے جو ممکن مانا وہ بھی ممکن ہے، وہ اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہے، تو اس سے پہلے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ ایک اور ممکن کو ماننا پڑے گا جس نے اس کو وجود دیا، وہ بھی ممکن ہے تو اس سے پہلے ایک اور ممکن ماننا پڑے گا جس نے اس کو وجود دیا، تو یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جائے گا اور اس کو تسلسل کہتے ہیں کہ ایک سلسلہ چلتا ہی چلا جائے کہیں پر بھی جا کر نہ رکے، یہ سلسلہ بھی کہیں نہیں رکے گا، چلتا ہی چلا جائے گا، اور یہ درست نہیں ہے بھئی، تسلسل تو باطل ہے، درست۔
تو مجبوراً ایک ذات ایسی ماننا پڑے گی آخر میں آ کر کہ جس جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہیں ہے اور خود بخود ہے جس کا وجود، جس پر کبھی بھی عدم نہیں آیا۔
تقریر سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ بھئی دیکھیے ہر ممکن وہ ہے جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج، یعنی کوئی غیر تھا جس نے اس کو وجود دیا، وہ غیر ہے تو اس کا وجود ہے، غیر نہیں تو اس کا وجود بھی نہیں۔
معلوم ہوا اس ممکن سے پہلے ایک اور ذات ہے جس نے اس کو وجود دیا ہے، اب وہ ذات یا تو ممکن مانیں گے یا کیا مانیں گے؟ واجب، ممکن مانیں گے تو معلوم ہوا اس ذات نے اس کو وجود دیا اور وہ خود بھی ممکن ہے، یعنی اس کو بھی اپنے وجود میں غیر کی اس کے لیے غیر کی ضرورت ہے جس نے اس کو پھر وجود دیا ہے۔
تو جب اس دوسری چیز کو کس نے وجود دیا تھا؟ اس ممکن نے۔
اب یہ بھی ممکن ہے، ممکن کہتے کس کو ہیں جو اپنے وجود میں غیر کے محتاج؟ معلوم ہوا اس ممکن کو بھی کسی اور نے وجود دیا ہے، تو اگر آپ ممکن ہی ممکن مانتے چلے جائیں گے تو یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جائے گا، ہر ممکن کے سے پہلے ایک اور ممکن چاہیے تاکہ وہ اس کو وجود دے، اس ممکن سے پہلے ایک اور ممکن چاہیے تاکہ وہ اس کو وجود دے، تو یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جائے گا اور کہیں بھی جا کر نہیں رکے گا اور اسے تسلسل کہتے ہیں اور تسلسل کیا ہے؟ باطل ہے بھئی، یہ نہیں ہو سکتا یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جائے، کہیں رک ہی نہیں رہا بھئی، ہر ممکن اس کو دوسرے ممکن نے بنایا، ہر ممکن کو دوسرے ممکن نے بنایا، تو وہ مجبور ہو گئے انہیں کہنا پڑا کوئی ایک کہ ایک ذات ہے جس نے کیا کیا؟ سب کو بنایا ہے، اور وہ ذات واجب الوجود ہے، وہ اپنے وجود میں کسی کے محتاج نہیں بھئی، اس کا ہونا ضروری، اس پر کبھی بھی عدم نہیں آیا۔
لیکن پھر اس میں بھی ان کے کفریہ عقائد آ گئے، وہ اس کو علت بناتے ہیں۔
2
وہ جو معلول جس کے لیے وہ سبب ہے وہ بھی خود بخود اس کے ساتھ پایا جائے۔ سورج جیسے ہی نکلے گا فوراً دن ہوگا۔ یہ سورج کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ پھر دن کو پیدا کرتا ہے تو علت جب بھی پائی جاتی ہے فوراً کیا ہوگا؟ معلول بھی پایا جاتا ہے۔ چابی جیسے ہی گھومے گی فوراً تالا کھل جائے گا۔ سورج سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس کو کہتے ہیں علت کہ ایک چیز پائی جائے اس کے پائے جانے سے فوراً ہی دوسری چیز کا بھی وجود پایا جائے۔
دوسری چیز کا بھی وجود پایا جائے تو مناطقة کا یہ مذہب تھا کہ اللہ کی ذات ان ممکنات کے لیے علت ہے۔ اللہ کی ذات ان ممکنات کے لیے علت ہے واجب الوجود کی ذات ان ممکن الوجود کے لیے علت ہے یعنی جیسے اللہ کی ذات سے
اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور اللہ کی ذات علت ہے ممکنات کے لیے تو اللہ کی ذات کے ساتھ ہی ان ممکنات کا بھی وجود ہے۔
اللہ کی ذات کے ساتھ ہی سورج جس لمحے میں ہے جس لمحے سے نکلا ہے اسی لمحے سے کیا ہے؟ دن بھی ہے اور اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور جیسے سورج علت تھا دن کے لیے اللہ کی ذات علت ہے کس کے لیے؟ مخلوق کے لیے اور اللہ کی ذات ہے ہمیشہ سے اور جیسے ہی علت پائی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی معلول کا وجود بھی خود بخود آ جاتا ہے اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا تو معلوم ہوا اللہ کے ساتھ مخلوق بھی ہمیشہ سے ہے۔
اللہ کے ساتھ مخلوق بھی ہمیشہ سے ہے چنانچہ اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ یہ عالم قدیم ہے ہم نے کیا کہا یہ عالم حادث ہے۔ وہ کہتے ہیں اللہ کی ذات علت ہے اور یہ عالم اس کا معلول ہے اور جب سے علت جیسے علت ہوتی ہے ساتھ ہی کیا پایا جاتا ہے معلول بھی اور اللہ کی ذات تو ہے ہمیشہ سے تو معلول بھی ہمیشہ سے ہے یہ عالم بھی ہمیشہ سے ہے اسی لیے انہوں نے کہا یہ عالم کیا ہے؟ قدیم ہے۔ حادث قدیم ہے بھئی ہم کہتے ہیں نہیں یہ حادث ہے اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے لیکن اللہ کی ذات ان کے لیے علت نہیں ہے بھئی علت تام نہیں ہے کہ اس کے وجود کے ساتھ ہی ان کا بھی وجود ہمیشہ سے ہو بلکہ ان کو اللہ نے اپنے اختیار سے پیدا کیا۔ علت تو کے آنے سے تو معلول اتا ہے بغیر اختیار کے جبکہ اللہ نے ان تمام چیزوں کو اپنے اختیار سے پیدا فرمایا ہے بھئی تو یہ عالم اس لیے ہم کہتے ہیں یہ عالم حادث ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ عالم ہمیشہ سے ہے جیسے اللہ کی ذات قدیم ہے یہ عالم بھی قدیم ہے البتہ اللہ کی ذات کو تقدم ذاتی حاصل ہے ذات کے اعتبار سے اللہ کی ذات زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ذات کے اعتبار سے واجب الوجود مقدم ہے جیسے بھئی مثال میں نے ایک ذکر کی تھی چابی کے گھمانے سے تالا کھلتا ہے۔
تو چابی کا گھمانا علت ہے تالے کے کھلنے کے لیے تو چابی کا گھمانا علت تالے کا کھلنا معلول جیسے جیسے چابی گھومتی چلی جاتی ہے ساتھ ساتھ تالا بھی کھلتا چلا جاتا ہے زمانے میں کوئی فرق نہیں چابی کے گھومنے اور تالے کے کھلنے کا ایک ہی زمانہ ہے لیکن چابی کو
تقدم ذاتی حاصل ہے ذات کے اعتبار سے مقدم ہے کیونکہ وہ علت ہے زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں تو یہاں بھی وہ اسی طرح کہتے ہیں اللہ کی ذات جو ہے وہ کو تقدم ذاتی حاصل ہے ذات کے اعتبار سے واجب الوجود مقدم اور ممکن الوجود مؤخر لیکن زمانے کے اعتبار سے کوئی تقدم اور تاخر نہیں ہے بھئی۔
جی تو لیکن علمائے اسلام نے بھئی بتلایا کہ نہیں یہ عالم کیا ہے؟ حادث دلیل کا انہوں نے رنگ بدل دیا بتلایا کہ یہ تم لوگوں کا کفریہ عقیدہ ہے یہ درست نہیں۔ تمہارے کہنے کا تو یہ مطلب ہے کہ خالق ارض و سماں جو ہے وہ وہ بے اختیار ہے یعنی کہ یہ چیزیں اپنے اختیار سے نہیں بنائیں اس کے اختیار میں یہ تھا ہی نہیں کیونکہ وہ تو علت ہے اور علت تو جیسی ہوتی ہے اس کے ساتھ معلول بھی خود بخود ہوتا ہے اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دن ہو جاتا ہے سورج کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا چابی جیسے ہی گھومتی ہے فوراً تالا کھل جاتا ہے چابی کے اختیار سے تالا نہیں کھلتا بھئی چابی جب بھی گھومے گی تالا ضرور کھلے گا بھئی تو اسی طرح اللہ کے انہوں نے گویا کہ بے اختیار مان لیا جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں اللہ نے تمام چیزوں کو اپنے اختیار سے پیدا کیا ہے اور اللہ کی ذات ہماری عقلوں سے وراء الوراء ہے بہت اونچی ذات اللہ کی تو اسی لیے اللہ کی ذات کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرنے سے منع کیا گیا اسے کیونکہ ہم جو بھی چیز سوچتے ہیں تصور کرتے ہیں یہ جو ہم ارد گرد چیزیں نظر آ رہی ہیں اس اعتبار سے ہم چیزوں کو سوچتے ہیں کہ ہم کیونکہ ہم نے یہی چیزیں دیکھی ہیں اور چیزوں کو دیکھا ہی نہیں ہے تو اللہ کی ذات کی حقیقت تک ہماری کبھی بھی رسائی نہیں ہو سکتی ہم جب بھی اللہ کی ذات کے بارے میں سوچیں گے تو انہی اپنی مخصوص چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچیں گے اور اس طرح ہم اس طرح اگر انسان سوچے تو کفر کی طرف چلا جاتا ہے اللہ فرماتے ہیں لیس کمثلہ شیء اللہ جیسی کوئی بھی چیز نہیں ہے بھئی کس اعتبار سے تم اس کا تصور کرو گے کس طرح بھئی؟
چنانچہ آپ آگے جا کر اللہ کی ذات کے بارے میں عقائد کی کتابوں میں جب تفصیلات آتی ہیں تو انسان حیران رہتا ہے بھئی انسان حیران رہتا ہے اور اللہ کی ذات کو چھوڑیئے اللہ کی جو صفات ہیں ان کی حقیقت تک بھی انسان کی رسائی نہیں ہوتی بھئی اللہ کی ذات اتنی عظیم ہے اتنی بلند تر ہے بھئی۔
بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی تو یہ واجب الوجود سے بات آئی میں نے کہا کچھ تفصیل آپ کو بتلا دوں۔ اچھا بھئی تو واجب الوجود مفہوم کے اعتبار سے کلی ہے بھئی واجب الوجود مفہوم کے اعتبار سے کلی ہے تو کلی وہ جس میں شرکت ہو سکے اور کثیرین پر صادق آئے اور جزی وہ جس میں شرکت نہ ہو سکے اور کثیرین پر صادق نہ آئے کسی متعین فرد پر صادق آئے بھئی۔
اچھا بھئی کلی کو کلی کیوں کہتے ہیں اور جزی کو جزی کیوں کہتے ہیں؟
یہ بھی سمجھ لیں۔ بھئی کلی اس کے آخر میں یہ جو یا ہے یہ یا نسبت والی ہے۔ کلی کا معنی ہے کل والی۔ جزی اس کے آخر میں بھی یا نسبت والی ہے۔ جزی کا معنی ہے جز والی۔
جیسے آپ کہتے ہیں لاہوری کیا معنی ہوتا ہے لاہوری؟ لاہور والا یا لاہور والی اسی طرح پاکستانی کا کیا معنی ہوتا ہے پاکستان والا تو یہاں پر بھی دیکھو یہ یا نسبت کے لیے ہے کلی کا کیا معنی کل والی اور جزی کا معنی جز والی دیکھیے انسان پر ذرا نظر رکھیں انسان کا مفہوم کیا ہے؟ حیوان ناطق حیوان ناطق ہے اور انسان حیوان کے افراد میں سے آپ جانتے ہیں۔ حیوان بھئی حیوان انسان بھی حیوان جب ہم نے کہا اس میں انسان بھی آگیا اس میں گائے بھی آگیا اس میں بکری بھی آگیا اس کے اندر یعنی مطلب تمام حیوانات اس میں داخل ہو گئے اور انہی میں سے ایک کیا ہے؟ انسان بھی ہے۔
ایک کیا ہے؟ انسان بھی ہے۔
تو حیوان ہوا کلی اور انسان کیا ہے اس کی ایک جزی۔
اچھا، اب ذرا اس کے مفہوم پر غور نظر رکھنا کلی ایک کلی کا کیا معنی تھا کل والی اور جزی کا معنی جز والی۔
کل والی یعنی یہ خود کل نہیں ہے کل کی طرف منسوب ہے جیسے لاہوری کا کیا معنی؟ لاہور والا لاہور کی طرف کوئی چیز منسوب ہے دیکھو انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق تو انسان کا ایک جز ہوا حیوان ایک جز ہوا ناطق تو کل کیا ہے؟ حیوان ناطق اور جز کیا ہے؟ حیوان۔
کل ہے حیوان ناطق اور حیوان کیا ہے؟ جز تو حیوان کو ذرا آپ الگ کرو یہ جز ہے یا کل ہے؟ حیوان ناطق اس میں سے کل انسان کیا ہے؟ حیوان ناطق انسان کا پورا مفہوم کیا ہے؟ حیوان ناطق ایک جز کیا ہے اس سے حیوان تو حیوان کل ہے یا جز ہے انسان کا؟ جز ہے یہ انسان کا جز ہے تو حیوان ہے تو جز لیکن کس کا جز ہے؟ کل کا۔
تو لہٰذا اس کو کہیں گے کلی یہ کل والا ہے یہ خود تو جز ہے لیکن کس کس کی طرف منسوب ہے؟ انسان یہ بھئی لاہور کا رہنے والا ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں لاہور کی لاہور لاہور کی طرف نسبت ہو تو کہتے ہیں لاہوری تو یہاں بھی انسان کا پورا مفہوم ہے حیوان ناطق اس میں سے صرف حیوان کو پکڑیں تو وہ کیا ہے جز۔
تو ہے تو جز لیکن کس کا جز ہے کل کا تو یوں کہیں گے یہ کل والا ہے یہ جز کیا ہے؟ کل والا یعنی اس کا کوئی کل بھی ہے تو اس کو کیا کہیں گے کلی۔ اور انسان اس کا کیا ہے؟
کل ہے انسان اس کا کل ہے۔ بھئی وہ انسان کا کیا حیوان ناطق پورا مفہوم پر نظر رکھیں نا حیوان اس کا جز تھا تو حیوان ناطق اس کا کل ہے۔
تو انسان کل ہے حیوان ناطق کل ہے۔
اور اس کل کا حیوان کیا ہے؟ جز ہے۔ تو یہ کل ہے جز والا جز کی طرف منسوب ہوا یہ جز والا ہے۔
اس کا کوئی جز ہے تو اس کو کہیں گے جزی بھئی کیا کہیں گے؟
معنی سمجھ میں آیا کہ نہیں سمجھ میں آیا بھئی؟
بھئی حیوان ناطق یہ ان- انسان کا مفہوم کیا ہے؟ حیوان ناطق اس میں سے صرف حیوان لیں تو یہ جز ہے یا کل؟ جز اور پورا حیوان ناطق لیں تو یہ کیا ہے؟ کل ہے۔
ٹھیک ہے دوبارہ توجہ سننا۔ صرف حیوان ناطق میں سے صرف حیوان کیا ہے؟ جز ہے۔ اور انسان حیوان ناطق پورا کیا ہے؟ کل۔ یہ تو پتہ چل گیا جز کیا؟ حیوان کل کیا؟ حیوان ناطق۔
لیکن ہم نے کہا حیوان کلی ہے اور انسان اس کی جزی ہے۔ ابھی بات گزری تھی یا نہیں؟ حیوان کلی ہے اور انسان اس کی جزی ہے اس کے افراد میں سے ہے انسان بھی اس حیوان کے افراد میں سے گھوڑا بھی اس کے افراد میں سے بیل بھی اس کے افراد میں سے۔
تو حیوان ہے کلی اور انسان ہے جزی۔ یہ بات گزر گئی یہ پہلا مقدمہ دوسرا مقدمہ کیا ہوا؟ کہ انسان پھر کسے کہتے ہیں؟ حیوان ناطق تو حیوان ناطق ہوا کل اور صرف اس میں سے حیوان کیا ہوا؟ جز۔ لیکن ہم نے کیا کہا اس جز کا کیا نام رکھا؟
کلی ابھی پچھلے جملے میں کیا آیا تھا؟
حیوان ہے کلی اور انسان ہے جزی۔ لیکن اب آؤ ذرا اب حیوان ناطق تو پورا مانا اس میں سے حیوان کیا ہے؟ جز اور حیوان ناطق کیا ہے؟ یہ کل ہے۔ تو دیکھو جز کو ہم کہہ رہے ہیں کلی۔
اور کل کو ہم نے کیا کہا؟ جزی۔
- جز کو ہم نے کیا کہا؟
کلی کہا نا حیوان کو صرف ہم نے کیا کہا؟
کلی کہا حالانکہ یہ تو جز ہے۔ کیوں کہا کلی؟
یہ ہے تو جز لیکن کل والا ہے اس کا کوئی کل ہے اور وہ کیا ہے؟ حیوان ناطق۔
اور حیوان ناطق کو ہم نے کیا کہا؟ جزی اور یہ کیا ہے؟ کل۔ تو کل ہے لیکن ہم اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ جزی یعنی یہ جز والا ہے اس کا کوئی جز ہے جو حیوان ہے اور جو ناطق ہے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ ہے وجہ تسمیہ اس لیے ان کو کہتے ہیں کیونکہ ہر کلی اس کا وہ دراصل تو جزی ہے کسی کل کے لیے اس کا کوئی کل ہوگا اور ہر جزی جو ہے اس کا کوئی جز ہوگا عموماً بھئی۔
چلیے بس بھئی ھذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔