LESSONS NO. 19
1
ورابعها غير اللفظية الوضعية، كدلالة الدوال الأربع على مدلولاتها. وخامسها غير اللفظية الطبيعية، كدلالة صهيل الفرس على طلب الماء والكلإ. وسادسها غير اللفظية العقلية، كدلالة الدخان على النار.
دلالت کی اقسام ہم پڑھ رہے تھے بھئی۔ دلالت آپ نے پڑھا کہ ایک چیز کا اس طور پر ہونا کہ اس سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اسے دلالت کہتے ہیں۔ اور جس چیز کے ذریعے پتہ لگا، اسے کہتے ہیں دال اور جس چیز کا پتہ لگا، اسے مدلول کہتے ہیں بھئی۔ اور پھر یہ دلالت دو قسم پر ہے: ایک لفظیہ ہے اور ایک غیر لفظیہ۔ یہ تقسیم کس کے اعتبار سے ہے؟ دال کے اعتبار سے ہے۔ دال اگر لفظ، تو دلالتِ لفظیہ، اور دال اگر غیرِ لفظ، تو دلالتِ غیرِ لفظیہ۔ پھر ان دونوں کی تین تین قسمیں ہیں بھئی: وضعیہ، طبعیہ، اور عقلیہ۔
اور وضعیہ، جس میں وضع ہو، اور وضع کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کرنا، اس طور پر کہ ایک چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، یعنی جب ایک کا پتہ لگا، تو ساتھ ہی دوسری کا بھی پتہ لگ گیا۔ میں نے آپ کے سامنے "زید" کہا، آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں، اس کو اس طرح لکھنا ہے۔ میں پڑھتا ہوں "ذا"، آپ جانتے ہیں "ذا" کو کس طرح لکھنا ہے، "دال"، دال کو بھی آپ جانتے ہیں کس طرح لکھنا ہے، "سین" بولتا ہوں، سین کا بھی آپ کو پتہ ہے کس طرح لکھنا ہے، اسی طرح "شین"، تو ہر ہر منہ سے جو بھی آواز نکلتی ہے، آپ جانتے ہیں کہ اس کو کس طرح لکھنا ہے، اور یہ خود بخود آپ کو پتہ ہے یا آپ نے باقاعدہ اس کو سیکھا بھئی؟ باقاعدہ آپ نے سیکھا ہے، ہم نے مقرر کر رکھا ہے کہ "را" کو اس طرح لکھتے ہیں، چنانچہ آپ کو سکھایا جاتا ہے باقاعدہ کہ "را" اس طرح لکھتے ہیں، "ذا" اس طرح لکھتے ہیں، "سین" اس طرح لکھتے ہیں، "شین" اس طرح لکھتے ہیں۔ تو یہ دیکھو، ہم نے آپس میں مقرر کر رکھا ہے کہ اس طرح کی آواز منہ سے ادا ہو، تو اس کو اس طرح لکھا کرتے ہیں۔
اور پھر جب کوئی لفظ، یہ تو حروف تھے، پھر جب کوئی لفظ ادا ہو، مثلاً میں نے کہا "زید"، تو آپ فوراً سمجھ گئے کہ اس میں "ذا" کی بھی آواز ہے، "یا" کی بھی آواز ہے، "دال" کی بھی آواز ہے، تو ذا، یا اور دال کو ملا کر آپ لکھ دیتے ہیں "زید" بھئی۔ تو دیکھیے، یہ سب چیزیں ہم نے پہلے سے مقرر کر رکھی ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: سائیکل لکھیں بھئی، آپ جانتے ہیں کہ سائیکل کس طرح لکھیں گے؟ سین، اس کے ساتھ الف، پھر ہمزہ، یا، چھوٹا کاف اور لام بھئی، اس طرح سائیکل لکھیں گے۔ تو یہ ہم نے چیزیں مقرر کر رکھی ہیں کہ اس آواز کو اس طرح لکھنا ہے، اس آواز کو اس طرح لکھنا ہے۔
چنانچہ ہر زبان والوں نے اپنا طریقہ بنا رکھا ہے بھئی۔ آپ اپنے انداز میں لکھتے ہیں اردو زبان کو، انگریزی بولنے والے اپنے اے بی سی کے حساب سے اس کو لکھتے ہیں، فارسی والے اپنے اعتبار سے اس کو لکھیں گے، اور دنیا کی زبانوں والے اپنے اعتبار سے ان کے اپنے الفاظ ہوں گے، اس کے مطابق لکھیں گے۔ فارسی والوں کے اپنے الفاظ ہوں گے، وہ اس کے مطابق لکھیں گے بھئی۔ تو انہوں نے ہر ہر آواز کے لیے ایک ایک حرف کو مقرر کر رکھا ہے، اور پھر جب لفظ بولا جاتا ہے، تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس میں یہ یہ الفاظ، یہ یہ حروف آنے چاہئیں، اس سے یہ لفظ بنے گا۔
چنانچہ آپ کو میں نے بتایا کہ کسی کو بات بتانے کے، گزشتہ سبق میں بات گزری، کسی کو کوئی چیز بتلانا، کبھی زبان کے ذریعے آپ بولتے ہیں، اس کو اس چیز کا پتہ لگ جاتا ہے، اور کبھی لکھ دیتے ہیں آپ، زبان سے نہیں بولتے، اس سے بھی اس کو پتہ چل جاتا ہے بھئی۔ جیسے مثال آئی تھی: کسی نے آپ سے پوچھا "زید کہاں ہے؟"، آپ نے زبان سے کہا "زید سامنے والے کمرے میں ہے"، تو اس سے فوراً اس کو پتہ چل گیا۔ اس نے صرف یہ الفاظ سنے ہیں، لیکن معنی ایک ایک لفظ کا اسے پتہ ہے کہ یہ لفظ اس معنی کے لیے مقرر کر رکھا ہے ہم نے، تو اس پوری بات کا یہ معنی ہوا کہ "زید سامنے والے کمرے میں ہے"۔
اور ایک صورت یہ ہے، وہ آپ سے پوچھتا ہے "زید کدھر ہے؟ زید کدھر ہے؟"، تو آپ نے کچھ زبان سے کہنے کے بجائے کاغذ پر لکھ دیا: "زید سامنے والے کمرے میں ہے"۔ اب آپ نے زبان سے کچھ بھی نہیں کہا، لیکن وہ جو آپ کی لکھی ہوئی تحریر پر جب اس کی نظر پڑے گی، اس کو فوراً اس کا معنی سمجھ میں آ جائے گا، اسے پتہ چل جائے گا یہ ذا، یا، دال لکھا ہے، یہ "زید" بنتا ہے، اور سین، الف، میم، نون اور یہ، یا لکھی ہے، اس سے "سامنے" کا لفظ بن گیا، اسی طرح ایک ایک لفظ کا وہ معنی سمجھ جاتا ہے۔
تو یہ جو ہم نے ہر لفظ کے لیے ایک لکھائی مقرر کر لی، کیا کر لی؟ ایک لکھائی مقرر کر لی۔ اور وہ لکھائی جب سامنے ہو، تو ہم اس سے وہی لفظ سمجھتے ہیں، کوئی اور چیز نہیں سمجھتے۔ اور یہ جو اس لفظ کو اس لکھائی کو اس لفظ کے لیے مقرر کیا، یہ خود بخود ہے یا ہم نے لوگوں نے باقاعدہ مقرر کی ہے؟ لوگوں نے باقاعدہ مقرر کر رکھی ہے، چنانچہ ہر ایک اسی طرح لکھے گا، ہر ایک بھئی۔
تو یہ دلالت ہوئی مثلاً لکھے ہوئے لفظِ زید، لفظ لکھا ہوا تھا، آپ نے اس کو دیکھا، آپ کے ذہن میں فوراً کس کی صورت آ گئی؟ زید کی! تو دیکھو، زبان سے کچھ بھی نہیں کہا، لیکن اس لکھے ہوئے نے دلالت کر دی بھئی ایک چیز پر۔ اور یہ دلالت ہماری وضع کے اعتبار سے ہے۔ تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ لفظیہ ہوئی یا غیر لفظیہ؟ غیر لفظیہ! کیونکہ زبان سے کچھ نہیں کہا۔ اور غیر لفظیہ کون سی ہوئی؟ وضعیہ! کہ ہم نے مقرر کر رکھا ہے بھئی، ہم نے مقرر کر رکھا ہے۔
تو بس خطوط سے مراد یہ لکھائیاں ہیں، یہ تحریریں ہیں بھئی، جو ہم نے مقرر کر رکھی ہیں۔ اور ان کا کتنا بڑا فائدہ ہے! اگر یہ نہ ہوتیں، تو صرف سامنے ہی کسی سے جو بات ہوتی، کوئی دور ہوتا، الگ ہوتا، اس سے بات کی کوئی صورت اس کی کوئی بات ہم تک پہنچ ہی نہ سکتی تھی بھئی۔ سامنے بیٹھا ہے، منہ سے لفظ بول رہا ہے، تو دوسرا سن لے گا۔ اب دوسرے شہر سے، دوسرے شہر سے آج کل تو چلو ٹیلیفون آ گئے، اس میں بھی وہی بولنا آ گیا، لیکن اگر ٹیلیفون بھی نہ ہو، تو پھر تو کوئی صورت نہیں تھی، لیکن اب اس لکھائی کی برکت ہے کہ وہ خط کے ذریعے ساری چیزیں لکھ کر آپ کے پاس بھیج دیتا ہے، اور آپ اس صفحے کو اپنے سامنے رکھتے ہیں، اور ایک ایک بات کو سمجھتے چلے جاتے ہیں کہ یہ مجھے کہنا چاہتا ہے۔
اور اسی لکھائی کی برکت ہے بھئی، کہ بزرگوں کی ساری باتیں ہم تک پہنچی ہیں بھئی۔ اگر نہ ہوتی یہ لکھائی نہ ہوتی، وہ تو اس زمانے میں گزر گئے تھے، ان کے علوم ہم تک کسی صورت میں بھی نہ پہنچ سکتے بھئی۔ تو یہ جو لکھائیاں ہیں، یہ ان کو یہ خطوط ہیں، یا یوں کہیں یہ نقوش ہیں بھئی، ان کو نقوش بھی کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ نقوش ہیں، اور ہر ہر نقش ایک ایک معنی پر دلالت کرتا جا رہا ہے، اور آپ پوری بات سمجھتے جا رہے ہیں۔
تو دلالت کون سی ہوئی؟ غیر لفظیہ! ہاں، کیونکہ زبان سے کچھ نہیں کہا۔ چنانچہ ایک آدمی آپ کو خط لکھتا ہے، آپ کے ساتھی نے خط اٹھایا، آپ اس کے سامنے بیٹھ گئے، اور وہ خط پڑھتا جا رہا ہے، آپ سمجھتے جا رہے ہیں۔ یہ کون سی دلالت ہوئی؟ یہ تو دلالتِ لفظیہ ہو گئی۔ اور اس کے بجائے خط کو آپ نے خود اپنے سامنے رکھا، اور اس کو دیکھتے جا رہے ہیں، زبان سے کچھ بھی نہیں ہے، لفظ یہاں ہے نہیں، لیکن آپ سمجھتے جا رہے ہیں، تو یہ دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ ہو گئی، اور اسی کی بات ہم اس وقت کر رہے ہیں: غیر لفظیہ وضعیہ بھئی۔ تو یہ ہیں خطوط بھئی۔
دوسرا لفظ، دوسری چیز ہے دوالِّ اربعہ میں: عقود بھئی۔ عقود جمع ہے عقدٌ کی، عقدٌ۔ اور عقدٌ کہتے ہیں گرہ کو بھئی، گرہ! گرہ، جیسے دھاگے وغیرہ میں گرہ لگائی جاتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقدٌ بھئی۔ مراد اس سے یہ انگلیوں کے جوڑ ہیں بھئی۔ یہ جو انگلیوں میں جوڑ ہیں، ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ عقود! تو عقود سے مراد عقودِ انامل ہوئے بھئی، عقودِ انامل! انامل: انگلیاں بھئی، انگلیاں! عقودِ انامل: انگلیوں کے جوڑ۔ یہ بھئی عرب، عرب ممالک کے اندر یہ گنتی کا ایک خاص طریقہ رائج تھا، یہ انگلیوں کے جوڑوں کے ذریعے... بھئی، دونوں ہاتھوں میں کل کتنی انگلیاں؟ 10! اور آپ اس کے ذریعے کسی کو تعداد بتانا چاہیں، تو 10 تک بتا سکتے ہیں، یا اگر پورے شمار کریں، تو 30 تک بتا سکتے ہیں، لیکن عرب ان کے ذریعے 10,000 تک گنتی بتایا کرتے تھے بھئی! 10,000 تک ان 10 انگلیوں پر بھئی!
اور تجارت وغیرہ ہو رہی ہے، تجارت کے اندر بھئی، ہر جگہ زبان سے کہنا ضروری نہیں، اتنا عام، ہر ایک کو ان کے پتہ ہوتا تھا، ہر ایک کو! آسان سا طریقہ تھا، تو مثلاً کسی سے کوئی چیز خریدنی ہے، تو دکاندار سے پوچھتے: یہ کتنے کی ہے؟ وہ زبان سے یا بتا دیتا، یا زبان سے بھی بعض دفعہ کہنے کی زحمت نہ کرتا، بس ہاتھ سے اشارہ کر دیتا: 10, 5 کی یا 10 کی یا 15 کی یا 20 کی یا 25 کی یا 30 کی یا 45 کی یا 99 کی ہے، 500 کی ہے، بس ہاتھ سے ہلکا سا اشارہ کر دیا، فوراً وہ سمجھ جاتا اتنے کی چیز ہے۔ تو اس کو کیا کہتے تھے؟ عقودِ انامل! یہ جو انگلیوں پر گنتی کا طریقہ تھا، اس کو عقودِ... عقودِ انامل کا تو ویسے معنی ہے نا: انگلیوں کے جوڑ، لیکن اس سے مراد کیا ہے؟ انگلیوں پر وہ جو حساب کیا جاتا تھا، جو گنتی شمار کو بیان کیا جاتا تھا انگلیوں کے جوڑوں کے ذریعے، وہ مراد ہے بھئی، وہ مراد ہے۔
اور کہاں تک یہ گنتی ہوتی تھی؟ 10,000 تک بھئی! یا مثلاً تین چار آدمی کھڑے ہیں، دکاندار ایک چیز فروخت کر رہا ہے، ایک کچھ پیسے بتا رہا ہے، دوسرا کچھ پیسے بتا رہا ہے، تیسرا چھپا کر خاموشی سے ہاتھ سے اشارہ کر دیتا ہے کہ میں اتنے دے دوں گا، یا مجھے دے دو۔
2
سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ اور ہر ایک ان میں سے جاں تھا بھئی۔
مثلاً دیکھیے بھئی، دیکھیے یہ، یہ میرا ہاتھ آپ کے سامنے، ہتھیلی کا رخ آپ کی طرف ہے۔ اب یہ جو چھوٹی انگلی، دایاں ہاتھ بھئی دایاں ہاتھ، دائیں ہاتھ کی یہ چھوٹی انگلی اس کو کہتے ہیں خنصر۔ کیا کہتے ہیں؟ خنصر، ص کے ساتھ خنصر۔ یہ جو ص، اس چھوٹی انگلی کے ساتھ والی انگلی ہے اس کو کہتے ہیں بنصر، ص کے ساتھ۔ پہلی، سب سے چھوٹی انگلی خنصر، دوسری بنصر۔ اس کے ساتھ یہ درمیان والی انگلی اس کو وسطی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وسطی۔ اور اس کے ساتھ یہ جو شہادت کی انگلی ہے، یہ اس کو سبابہ کہتے ہیں بھئی، سبابہ۔ اور انگوٹھے کو ابہام کہتے ہیں بھئی، ابہام۔
تو چھوٹی انگلی خنصر، اس کے ساتھ والی بنصر، درمیان والی وسطی، پھر اس کے بعد سبابہ اور پھر ابہام بھئی، ابہام بھئی، ابہام۔
تو یہ جو تین چھوٹی انگلیاں، تین، پہلی تین انگلیاں ہیں، خنصر، بنصر اور وسطی، ان کے ذریعے ایک سے نو تک اکائیاں بیان ہوتی تھیں۔ کیا بیان ہوتی تھیں؟ دائیں ہاتھ کی بات کر رہا ہوں، دائیں ہاتھ میں خنصر، بنصر اور وسطی ان کے ذریعے کیا بیان ہوتی تھیں؟ اکائیاں یعنی ایک سے نو تک۔ اور پھر یہ جو سبابہ اور ابہام ہے اس کے ذریعے دہائیاں بیان ہوتی تھیں، یعنی 10، 20، 30، 40، 50، 60، 70، 80، 90 تک بھئی۔ یہ کس کے ذریعے بیان ہوتی تھیں دہائیاں؟ سبابہ اور ابہام کے ذریعے بھئی۔
وسطی کے بعد سبابہ ہے، پھر ابہام ہے۔
تو نام یاد ہو گئے انگلیوں کے؟ خنصر، بنصر، وسطی، سبابہ اور ابہام۔ اور خنصر، بنصر اور وسطی کے ذریعے اکائیاں یعنی ایک سے نو تک، اور سبابہ اور ابہام کے ذریعے دہائیاں یعنی 10، 20، 30، 90 تک بھئی، یہ بیان ہوتے تھے۔
یہ تو تھا دایاں ہاتھ، دایاں ہاتھ۔ بائیں ہاتھ میں اسی طرح، بائیں ہاتھ میں خنصر، بنصر اور وسطی اس کے ذریعے سینکڑے بیان ہوتے تھے۔ یعنی 100 یا 200 یا 300 یا 400 یا 500، 900 تک بھئی۔ ادھر خنصر، بنصر اور وسطی کے ذریعے ایک سے نو تک، ادھر 100 سے 900 تک بھئی۔
اور دائیں ہاتھ میں وسطی، دائیں ہاتھ میں سبابہ اور ابہام کے ذریعے کیا بیان ہوتا تھا؟ دہائیاں بیان ہوتی تھیں، تو بائیں ہاتھ میں سبابہ اور ابہام کے ذریعے ہزار بیان ہوتے تھے؛ 1000، 2000، 3000، 4000، یہ 9000 تک بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب مثلاً میں نے آپ کو بتانا، ایک، ایک کے لیے ان کا یہ اشارہ یہ تھا، یہ دیکھیے ہتھیلی میرے، دایاں ہاتھ ہے، ہتھیلی کا رخ آپ کی جانب ہے۔ اب سب سے، خنصر کو درمیان سے موڑا کہ اس طریقے سے موڑنا ہے کہ انگلی کا سرا اسی انگلی، اپنی، اپنی جڑ تک آ جائے بس بھئی، جڑ یا جڑ کے ساتھ آ جائے، جڑ کے قریب رہے۔ یہ ہے ایک بھئی۔ خنصر موڑی ہوئی ہے میں نے درمیان سے، زیادہ نیچے تک نہیں لے کر جانی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ خنصر کو درمیان سے تھوڑا سا موڑ دیا۔ یہ ہے ایک۔ دو، اس کے ساتھ والی کو بھی موڑ دیں تو یہ ہو گئے دو۔ اس کے ساتھ والے وسطی کو بھی اتنا ہی موڑ دیں تو یہ ہو گئے تین بھئی۔ چار کے لیے یہ تین موڑ گئیں تو یہ تھیں، تینوں کو موڑا ہے تو تین۔ چار کے لیے خنصر کو صرف سیدھا کر دیں باقی دو کو اسی طرح رہنے دیں، یہ ہے چار۔ پانچ کے لیے بنصر کو بھی سیدھا کر دیں اب صرف سبابہ ٹیڑھی ہے بھئی، یہ ہے پانچ۔ چھ کے لیے سبابہ... چھ کے لیے وسطی کو سیدھا کر دیں اور بنصر کو صرف اسی طرح ٹیڑھا کر دیں، یہ ہے چھ۔ سات کے لیے پھر سیدھا کریں انگلیوں کو اور صرف خنصر کو اب پوری طرح موڑ لیں بھئی۔ پہلے آدھی مڑی ہوئی تھی اب پوری مڑی ہوئی ہے خنصر، پوری انگلی موڑ لیں بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا یہ سات۔ اس کے ساتھ والی کو بھی اس کے، بنصر کو بھی پوری نیچے تک لے آئیں جڑ سے مڑی ہوئی ہے، نیچے ہتھیلی پر لگی ہوئی ہے۔ یہ کیا ہے؟ سات۔ اور وسطی کو بھی ساتھ لے آئیں تو یہ ہو گئے... تو یہ نو بیان ہو گئے بھئی، نو اس سے بیان۔
اب بیان کرنا ہے کتنا؟ 10۔ 10 کا طریقہ یہ ہے کہ یہ جو سبابہ ہے اس کو انگوٹھے کے سر کے ساتھ ملا دیں۔ یہ ہے 10۔ باقی انگلیاں سیدھی ہوں، صرف سبابہ کے سر کو انگوٹھے کے سر کے ساتھ ملا دیں، یہ جو گول دائرہ بن گیا یہ کیا ہے؟ 10۔ 11؟ 11 اس کو ساتھ موڑ دیا۔ 12؟ اس کو بھی ساتھ موڑ دیا۔ 13؟ وسطی کو بھی... خنصر، بنصر اور ان پہ نو بیان کیے تھے نہ؟ تو ان سے تین والا عدد بنا لیں۔ سمجھ میں آیا طریقہ؟ 11... 13 ہو گئے؟ 14، 15، 16، 17، 18، 19۔
اب آ گئے 20۔ 20 یہ ہے کہ انگوٹھے کو یہ سبابہ کی جڑ پہ موڑ کر رکھ دیں بھئی، وسطی کی طرف کو۔ یہ ہو گئے 20۔ اب اسی میں سے 21، 22، 23، 24، 25، 26، 27، 28، 29۔
سمجھ میں آیا پھر؟ 29۔
اور 30؟ 30 کا یہ طریقہ ہے، یہ 30۔ ناخن کے اوپر سبابہ... انگوٹھے کے ناخن پر سبابہ رکھ دی بھئی۔ 30، سمجھ میں آیا؟ پھر یہ 40 ہے بھئی۔ سمجھ میں آ رہا ہے؟ 40۔ یہ 50 ہے بھئی۔ یہ 60 ہے بھئی۔ یہ 70 ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس طرح یہ، یہ 100 تک ایک ہاتھ پر گنتی، اور دوسرے ہاتھ میں اب سینکڑے بیان ہو رہے ہیں۔ ادھر خنصر کو صرف موڑا درمیان سے، تو 100۔ بنصر کو ساتھ موڑا تو 200 بائیں ہاتھ میں۔ اور وسطی کو بھی ساتھ موڑ دیا تو 300، 400، 500، 600، 700، 800، 900۔ اور ادھر 10 کیا تھا؟ ہاں، یہی اب اس طرف جو 10 تھا اب اس طرف ہزار ہو گیا۔
سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ میں نے آپ کو 111 بتانا ہے کیسے بتاؤں گا؟ 111، سمجھ میں آیا؟ ہاں، یہ تو... تو عربوں کو بڑی مہارت ہوتی تھی، وہ تو شروع سے ہی ایک چیز ان کے ہاں عام رائج تھی بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ اور احادیث میں بھی آتا ہے بھئی عقودِ انامل کا ذکر بھئی، کہ ہاتھوں پر تسبیحات پڑھی جائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں پر تسبیحات پڑھتے تھے، تو یہ طریقہ ہے بھئی ہاتھوں پر اس طرح تسبیحات پڑھی جاتی تھیں۔
اچھا بھئی، خطوط کا بھی پتہ چل گیا؟ عقود کا بھی؟ اچھا بھئی عقود لفظ ہیں غیر لفظی عقودِ انامل؟ غیر لفظی ہیں۔ اور خود بخود ہو گئے یا ہم نے مقرر کیے ہیں؟ ہم نے، تو یہ دلالتِ وضعیہ کی قسموں کی بات چل رہی ہے بھئی، تو عقود۔
تیسرا ہے نصب بھئی، نصب جمع ہے نصبۃ کی، ص کے ساتھ۔ نصب جمع ہے نصبۃ کی، اور نصبۃ بھئی، یہ جو راستے میں سفر کرتے ہوئے ہر میل یا میل پر ایک پتھر گاڑ دیا جاتا تھا، اسے جسے سنگِ میل کہا جاتا ہے بھئی، سنگِ میل۔ تو یہ نصبۃ کہلاتا تھا۔
آج بھی آپ سفر کرتے... بھئی اس کے ذریعے فاصلے کا پتہ چلتا تھا، ایک... ایک آیا ہے یا دو آئے ہیں یا تین آئے ہیں، ہو سکتا ہے اس کی بھی نشانیاں ہوں ان کے ہاں کوئی ایک کی نشانی، دو کی یا تین کی، تو بہرحال یہ جو راستے کے ساتھ پتھر گاڑے جاتے تھے قدیم زمانے کے اندر ان کو کیا کہا جاتا تھا؟ نصبۃ، وہ مراد ہیں، آج کل جو لگائے جاتے ہیں پتھر وہ مراد نہیں۔ کیوں نہیں وہ مراد؟ اس لیے کہ ان میں ان پر تو باقاعدہ شہر کا نام بھی لکھا ہوتا ہے، میل اور کلومیٹر بھی لکھے ہوتے ہیں، تو یہ تو خطوط کی قبیل میں چلے گئے بھئی، لکھائی آ گئی نہ؟ تو یہ کس قبیل سے ہو گئے؟ یہ تو خطوط کی قبیل سے ہو گئے بھئی، تو ان پر لکھائی وغیرہ نہیں ہوتی تھی، تو ہو سکتا ہے کوئی اور علامت ہو لیکن لکھائی بہرحال نہیں ہوتی تھی، تو ان پتھروں کو کیا کہا جاتا تھا؟ نصب بھئی، تو ان کی دلالت ہوتی تھی کہ اتنے میل رہ گئے یا اتنے میل ہو... اتنی منزلیں ہو گئیں اتنے میل ہو گئے بھئی، تو وہ مراد ہیں بھئی۔
اور اشارات؟ اشارات یہی بھئی، میں نے آپ سے پوچھا زید کدھر ہے؟ آپ نے زبان سے بھی نہیں کہا، آپ نے لکھ کر بھی نہیں کہا، ہاتھ کے اشارے... ہاتھ کا اشارہ کر دیا اور میں سمجھ گیا کہ زید کیا ہے؟ سامنے والے کمرے میں ہے۔ تو یہ جو ہاتھ کے اشارے کے... کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا... ہاتھ کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور دوسرا اس کو سمجھ لیتا ہے، یہ ہیں اشارات بھئی۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ خطوط سے کیا مراد ہیں؟ لکھائیاں اور تحریریں۔ عقودِ انامل سے کیا مراد ہیں؟ وہ جو گنتی... گنتی کا طریقہ تھا اردو... ہاتھ کے... کی انگلیوں کے جوڑوں کے ذریعے وہ مراد ہے۔ اور نصب کے ذریعے وہ جو سنگِ میل لگائے جاتے تھے جن پر تحریر وغیرہ نہیں ہوتی تھی وہ مراد ہیں، اور اشارات یہ جو اشارات ہاتھ وغیرہ کے ہیں یہ مراد ہیں بھئی، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ دوالِ اربعہ، تو یہ سب غیر لفظیہ وضعیہ کی قسم ہیں۔
کہتے ہیں كَدَلَالَةِ الدَّوَالِّ الْأَرْبَعِ عَلَى مَدْلُولَاتِهَا، جیسے دوالِ اربعہ کی دلالت علَى مَدْلُولَاتِهَا اپنے مدلولات پر۔ وَخَامِسُهَا غَيْرُ اللَّفْظِيَّةِ الطَّبِيعِيَّةُ، اور پانچویں قسم جو ہے پانچویں، وہ غیر لفظیہ طبعیہ ہے كَدَلَالَةِ صَهِيلِ الْفَرَسِ، صہیل کہتے ہیں وہ ہنہنانا گھوڑے کا ہنہنانا، فرس گھوڑا، اور كَدَلَالَةِ صَهِيلِ الْفَرَسِ جیسے گھوڑے کے ہنہنانے کی دلالت عَلَى طَلَبِ الْمَاءِ وَالْكَلَإِ، پانی اور گھاس کی طلب پر، کَلا یہ کہتے ہیں گھاس کو بھئی، کَلا، الف کے بعد ہمزہ لکھا ہے بھئی؟ جی؟ آپ کی کتابوں میں کس طرح ہے؟ الف کے بعد نہیں ہونا چاہیے ہمزہ بھئی، الف کے اوپر ہمزہ ہونا چاہیے، یہ الف دراصل ہمزہ ہے بھئی۔ وَالْكَلَإِ، کَلا کس کو کہتے ہیں؟ گھاس کو کہتے ہیں، تو دیکھیے گھوڑا ہنہنایا اس ہنہنانے سے آپ کو پتہ چلا کہ اس کو گھاس یا پانی کی طلب ہے، اور تو یہاں دلالت لفظ نہیں کیونکہ گھوڑے، جانوروں کی آواز اس کو لفظ نہیں کہا جاتا، تو دلالت ہوئی غیر لفظیہ اور یہ دال کس وجہ سے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے سے، تو یہ دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ ہوئی۔ وَسَادِسُهَا الْغَيْرُ اللَّفْظِيَّةُ الْعَقْلِيَّةُ، اور چھٹی قسم جو ہے چھ... ان میں سے غیر لفظیہ عقلیہ ہے كَدَلَالَةِ الدُّخَانِ عَلَى النَّارِ، جیسے کہ دخان کہتے ہیں دھوئیں کو بھئی، دھوئیں کی دلالت آگ پر، بہت سا دھواں ایک جگہ سے اٹھ رہا ہے، آپ کی نظر پڑی، آپ فوراً سمجھ گئے کہ نیچے کہیں آگ لگی ہوئی ہے بھئی، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ ہوئی بھئی، غیر لفظیہ عقلیہ ہوئی۔
بھئی اب اگر آپ سے کوئی تعریف پوچھے دلالتوں کی، تو تعریف کس طرح کریں گے؟ دلالتِ غیر لفظیہ... ایک ایک کی تعریف کس طرح کریں گے؟ توجہ سے سن لیں۔ اگر کہ دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ وہ دلالت ہے جس میں دال لفظ ہو اور دلالت باعتہار وضع کے ہو۔
بھئی لفظیہ ہے نہ؟ تو کیا کہیں گے؟ جس میں دال لفظ ہو اور دلالت باعتہار وضع کے ہو۔
دلالتِ لفظیہ طبعیہ، اس کی کیا تعریف؟ جس میں دال لفظ ہو اور دلالت باعتہار... باعتہار طبیعت کے تقاضے کے ہو۔ دلالتِ لفظیہ عقلیہ، جس میں دلالت... جس میں دال لفظ ہو اور... اور دلالت باعتہار عقل کے ہو، یا یوں کہیں کہ دلا... یہ دلالت... دلالت وہ نہ باعتہار وضع کے ہو، نہ باعتہار طبیعت کے تقاضے کے ہو، بلکہ دلالت باعتہار عقل کے ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ، جس میں دال لفظ نہ ہو اور دلالت باعتہار وضع کے ہو۔ دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ، جس میں دال لفظ نہ ہو اور دلالت باعتہار... دلالت باعتہار طبیعت کے تقاضے کے ہو۔ اور دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ، جس میں دال لفظ نہ ہو اور دلالت باعتہار عقل کے ہو، یا یوں کہیں جس میں دال لفظ نہ ہو اور دلالت باعتہار وضع کے بھی نہ ہو اور باعتہار طبیعت کے تقاضے کے بھی نہ ہو، بلکہ... بلکہ عقل کے اعتبار سے ہو بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی آگے دیکھیے۔ فَهَذِهِ سِتُّ دَلَالَاتٍ، تو یہ چھ دلالتیں ہیں۔ وَالْمَنْطِقِيُّ إِنَّمَا يَبْحَثُ عَنِ الدَّلَالَةِ اللَّفْظِيَّةِ الْوَضْعِيَّةِ، بھئی چھ قسمیں گزر گئیں، لیکن کہتے ہیں منطقی جو بحث کرے گا وہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ سے کرے گا، باقی پانچ سے نہیں۔
منطقی کس سے بحث کرے گا؟ آگے بحث کرنے لگے ہیں بھئی اور چیزیں، تو وہ بحث کس کے بارے میں کریں گے؟ لفظیہ اور وضعیہ بھئی۔ بھئی کیوں باقی پانچ سے کیوں نہیں کرتے؟ اسی سے کیوں ایک سے کرتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے، یہ تو ایک ظاہر سی بات ہے، کیونکہ سب سے زیادہ اسی میں فائدہ ہے، ہم سب سے زیادہ کیا استعمال کرتے ہیں؟ لفظ استعمال کرتے ہیں، کوئی چیز کسی کو بتلانے کے لیے یا کسی سے کوئی بات سمجھنے کے لیے، جب باقی وہ اشارات ہو گئے، خطوط... اشارات ہو گئے اور عقود وغیرہ وہ تو قلیل چیزیں ہیں، سمجھ میں آئی؟ باقی ہر ہر جگہ پر تو کیا استعمال کرتے ہیں آپ؟ لفظ استعمال کرتے ہیں بھئی، لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اور جو خطوط ہیں، وہ خطوط انہی الفاظ پہ تو دلالت کرتے ہیں۔
تو بس یہ سمجھ لیں کہ بھئی چونکہ زیادہ فائدہ اسی کے اندر ہے، کس کے اندر ہے؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ کے اندر، تو منطقی... منطقی اسی کے لیے، اسی کے ساتھ بحث کرتے ہیں، اس کے علاوہ باقی اقسام سے بحث نہیں کرتے۔
کہتے ہیں وَالْمَنْطِقِيُّ إِنَّمَا يَبْحَثُ عَنِ الدَّلَالَةِ اللَّفْظِيَّةِ الْوَضْعِيَّةِ، اور منطقی جو ہے وہ بحث کرتا ہے دلالتِ لفظیہ وضعیہ سے لِأَنَّ الْإِفَادَةَ لِلْغَيْرِ، افادہ کا کیا معنی میں نے کیا تھا کل؟ فائدہ دینا، دوسرے کو فائدہ دینا۔ لِأَنَّ الْإِفَادَةَ، اس لیے کیونکہ فائدہ پہنچانا لِلْغَيْرِ، غیر کو۔
تو کہتے ہیں منطقی جو ہے وہ بحث کرتا ہے دلالتِ لفظیہ وضعیہ سے لِأَنَّ الْإِفَادَةَ لِلْغَيْرِ، افادہ کا معنی فائدہ پہنچانا، فائدہ دینا، لِأَنَّ الْإِفَادَةَ لِلْغَيْرِ، اس لیے کیونکہ فائدہ پہنچانا غیر کو، وَالِاسْتِفَادَةَ مِنَ الْغَيْرِ، اور استفادہ کا معنی ہے فائدہ حاصل کرنا، اور فائدہ حاصل کرنا غیر سے، یعنی دو... یرحمک اللہ، لِأَنَّ الْإِفَادَةَ لِلْغَيْرِ وَالِاسْتِفَادَةَ مِنَ الْغَيْرِ
3
بخلاف غيرها بخلاف جو اس کے علاوہ اور دلالتوں کی دلالت کی پانچ قسمیں ہیں ان کے لیے اتنا آسان نہیں، فإن الإفادة والاستفادة بها لا يخلو عن صعوبة، اس لیے کیونکہ فائدہ دینا اور فائدہ حاصل کرنا بها ان باقی دلالتوں کے ذریعے، اس کے علاوہ جو دلالتیں ہیں ان کے ذریعے لا يخلو وہ خالی نہیں ہے عن صعوبة صعوبت کہتے ہیں مشکل کو بھئی، وہ مشکل سے خالی نہیں، یعنی ان میں باقی پانچ طریقوں کے اندر فائدہ حاصل کرنا یا فائدہ دینا یہ مشکل ہے بھئی۔
هذا، أي خذ هذا. هذا، اس طرح ہمارے بزرگوں کی عادت ہے، هذا کا لفظ لے آتے ہیں، یہ دراصل مفعول ہوتا ہے اور فعلِ محذوف خذ امر کے لیے، خذ هذا، یعنی یہ بات لے لیجیے، یعنی اس کو خوب یاد رکھیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو بس بات انہوں نے یہ کی کہ منطقی جو ہے وہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ سے بحث کرتا ہے، باقی پانچ قسموں سے بحث نہیں کرتا۔ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے سب سے زیادہ آسانی سے افادہ بھی ہوتا ہے اور استفادہ بھی ہوتا ہے، جبکہ باقی جو پانچ قسمیں ہیں ان کے ذریعے افادہ اور استفادہ اگرچہ ہے لیکن وہ مشکل سے خالی نہیں، اس میں مشکل ہے بھئی۔
چلیے، بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔