Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 53
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 17 1 فَصْلٌ: لَا شُغْلَ لِلْمَنْطِقِيِّ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ مَنْطِقِيٌّ بِبَحْثِ الْأَلْفَاظِ، كَيْفَ وَهَذَا الْبَحْثُ بِمَعْزِلٍ عَنْ غَرْضِهِ وَغَايَتِهِ! وَمَعَ ذَلِكَ فَلَا بُدَّ لَهُ مِنْ بَحْثِ الْأَلْفَاظِ الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي لِأَنَّ الْإِفَادَةَ وَالِاسْتِفَادَةَ مَوْقُوفَةٌ عَلَيْهِ، وَلِذَلِكَ يُقَدَّمُ بَحْثُ الدَّلَالَةِ وَالْأَلْفَاظِ فِي كُتُبِ الْمَنْطِقِ. یہ ایک سوال مقدر... سوال کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ آگے دراصل دلالت کی بحث آ رہی ہے، دلالت کی بحث بھئی، جس میں الفاظ سے متعلقہ بحث ہے۔ تو سوال پیدا ہوا کہ منطقی تو الفاظ سے بحث نہیں کرتا، تو پھر یہ الفاظ کی بحث کو وہ کتابوں کے شروع میں کیوں لاتے ہیں منطقی کتابوں میں؟ کیونکہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہماری باتیں دو قسم کی ہیں: ایک قولِ معقول اور ایک قولِ ملفوظ۔ قولِ معقول وہ بات جو ہمارے ذہن میں آتی ہے، اور قولِ ملفوظ وہ بات جو ہم زبان سے ادا کرتے ہیں، اس پر تلفظ کرتے ہیں، اسے بولتے ہیں بھئی۔ تو منطقی جو ہے، وہ قولِ معقول سے بحث کرے گا اور ایسے تصورات اور تصدیقات معلومہ، جن کے ذریعے وہ کس تک پہنچے؟ تصوراتِ مجمولہ اور تصدیقاتِ مجمولہ تک وہ پہنچے بھئی۔ یعنی وہ معانی کی بحث کرتا ہے منطقی، جو وہ بات جو ذہن میں آئے اور ذہن میں معنی اور مفہوم آتا ہے کسی چیز کا۔ تو منطقی تو معانی کے ساتھ اس کا کام ہے، معانی کے ساتھ بحث کرنی چاہیے، پھر یہ اپنی کتابوں کے شروع میں یہ جو دلالت کی بحث لاتے ہیں، الفاظ کی بحث کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو جواب دینے لگے ہیں اس کا کہ بھئی ہاں، یہ بات آپ کی ٹھیک ہے، منطقی معنی کے ساتھ بحث کرتا ہے، قولِ معقول کے ساتھ، لیکن چونکہ معنی ایک دوسرے کو سمجھانا یہ الفاظ پر موقوف ہے۔ آپ کے دل میں کوئی بات آئی، تو دوسرے کو بتانے کے لیے کس کا سہارا لیں گے؟ الفاظ کا سہارا لیں گے، کوئی منہ سے لفظ کہیں گے تو دوسرے کو وہ بات پتہ اس کا پتہ چلے گا ورنہ تو اسے علم ہی نہیں ہوگا۔ تو لہذا ایک دوسرے کو چونکہ سمجھنا اور سمجھانا اس پر موقوف ہے، اس لیے مناطقہ کیا کرتے ہیں اپنی کتابوں کے شروع میں دلالت کی بحث لے کر آتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھانا اور خود کسی بات کو سمجھنا، یہ الفاظ پر موقوف ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ کیوں لاتے ہیں یہ بحث شروع میں؟ کیونکہ ایک دوسرے کو سمجھانا اور خود بات کا سمجھنا کس چیز پر موقوف ہے؟ الفاظ پر موقوف ہے، اس لیے وہ اس کو شروع میں لے کر آتے ہیں بھئی۔ تو یہی بات کرنے لگے ہیں: فَصْلٌ أيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ ایک فصل ہے۔ لَا شُغْلَ لِلْمَنْطِقِيِّ، کوئی کام نہیں ہے منطقی کا، مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ مَنْطِقِيٌّ، اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہے، کوئی کام نہیں منطقی کا لَا شُغْلَ لِلْمَنْطِقِيِّ اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہے بِبَحْثِ الْأَلْفَاظِ، کس چیز کے ساتھ؟ الفاظ کی بحث کے ساتھ۔ بھئی الفاظ کی بحث لے کر آ رہے ہیں آگے اور منطقی کا تو کوئی کام نہیں الفاظ کی بحث سے، وہ کیوں یہ بحث چھیڑتے ہیں؟ تو کہتے ہیں: لَا شُغْلَ لِلْمَنْطِقِيِّ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ مَنْطِقِيٌّ بِبَحْثِ الْأَلْفَاظِ، کوئی کام نہیں ہے منطقی کا اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہو بِبَحْثِ الْأَلْفَاظِ، کس کے ساتھ؟ الفاظ کی بحث کے ساتھ۔ یعنی منطقی کا کوئی کام نہیں ہے الفاظ کی بحث کے ساتھ اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہو۔ كَيْفَ، اور کیسے ہو سکتا ہے؟ وَهَذَا الْبَحْثُ بِمَعْزِلٍ عَنْ غَرْضِهِ وَغَايَتِهِ، اور یہ بحث یعنی جو الفاظ کی بحث ہے، یہ الگ ہے اس کی غرض و غایت سے۔ منطقی کی جو غرض و غایت اور جو مقصود ہے، یہ اس سے الگ چیز ہے، تو اس کا اس کے ساتھ کوئی کام نہیں ہونا چاہیے، اس سے کوئی اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ وَمَعَ ذَلِك،َ فَلَا بُدَّ لَهُ مِنْ بَحْثِ الْأَلْفَاظِ الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي، اور وَمَعَ ذَلِكَ، اور اس کے باوجود فَلَا بُدَّ لَهُ، ضروری ہے اس کے لیے مِنْ بَحْثِ الْأَلْفَاظِ الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي، بحث کرنا اس کے لیے ان الفاظ سے الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي، جو دلالت کرنے والے ہیں معانی پر۔ کہتے ہیں منطقی کا کوئی کام نہیں ہے الفاظ کی بحث سے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ الفاظ کی بحث اس کے غرض و غایت سے الگ ہے بالکل، لیکن اس کے باوجود اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بحث کرے ان الفاظ کے ساتھ الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي، جو کس پر دلالت کرتے ہیں؟ معانی پر دلالت کرتے ہیں، ان کی بحث اس کے لیے کرنا اس کے لیے ضروری ہوتا ہے لِأَنَّ الْإِفَادَةَ وَالِاسْتِفَادَةَ مَوْقُوفَةٌ عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ افادہ، افادہ کا معنی ہے دوسرے کو فائدہ دینا، اور استفادہ، استفادہ کہتے ہیں خود فائدہ حاصل کرنا، فائدہ حاصل کرنا۔ کیونکہ افادہ اور کیونکہ فائدہ پہنچانا اور فائدہ حاصل کرنا مَوْقُوفَةٌ عَلَيْهِ، وہ اس پر موقوف ہے، الفاظ کی بحث پر موقوف ہے، یہ الفاظ وہ الفاظ جو معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ وَلِذَلِكَ يُقَدَّمُ بَحْثُ الدَّلَالَةِ وَالْأَلْفَاظِ فِي كُتُبِ الْمَنْطِقِ، اور اسی وجہ سے مقدم کیا جاتا ہے دلالت اور الفاظ کی بحث کو منطق کی کتابوں میں۔ اسی وجہ سے کیا کیا جاتا ہے؟ مقدم کیا جاتا ہے دلالت، الفاظ اور دلالت کی بحث کو منطق کی کتابوں میں بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ کہ منطقی کا تو کوئی کام نہیں ہے، الفاظ کی بحث کرتا پھرے، اس کا کام تو کیا ہے؟ قولِ معقول ہے، تو پھر یہ دلالت اور یہ الفاظ کی بحث کو شروع میں کیوں لاتے ہیں؟ جواب دے دیا کہ بھئی ہاں، اس کا یہ کام نہیں، اس کا تعلق نہیں اس سے، لیکن بہرحال چونکہ ایک دوسرے کو بات سمجھانا یا اس کی بات کا سمجھنا، یعنی دوسرے کو فائدہ پہنچانا اور فائدہ حاصل کرنا، یہ کس پر موقوف ہے؟ الفاظ پر موقوف ہے، اس لیے منطقی اپنی کتابوں کے شروع میں کیا لاتے ہیں؟ مناطقہ الفاظ کی بحث لاتے ہیں بھئی، دلالت کی بحث لاتے ہیں۔ اور کہا: مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ مَنْطِقِيٌّ، منطقی کا کوئی کام نہیں اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہو بھئی۔ بھئی بعض اوقات مثلاً ایک شخص منطقی بھی ہے، ایک نحوی بھی ہے۔ تو نحوی کا تو کام ہی کیا ہے؟ کس کے ساتھ بحث کرے؟ عربی الفاظ کے ساتھ بحث کرے کہ یہ کیا ہے؟ اسم ہے، یہ فعل ہے، یہ حرف ہے، یہ معرب ہوگا، یہ مبنی ہوگا، یہ فاعل یہ ہوتا ہے، مفعول یہ ہوتا ہے، حال یہ ہوتا ہے، یہ ساری چیزیں کیا بنیں گی؟ الفاظ ہی بنتے ہیں۔ تو نحوی جو ہے، وہ تو الفاظ سے بحث کرتا ہے۔ اب ایک شخص منطقی بھی ہے اور نحوی بھی ہے، تو وہ جب الفاظ کی نحوی ہے، تو نحو کی بحث کرتے ہوئے وہ یقیناً کس کی بات کرے گا؟ الفاظ کی۔ تو یہ نحوی ہونے کی حیثیت سے وہ الفاظ کی بحث کر رہا ہے، منطقی ہونے کی حیثیت سے نہیں بھئی۔ منطقی ہونے کی حیثیت سے الفاظ سے اس کا کوئی کام نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی لیے یہ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ مَنْطِقِيٌّ، یہ قید اس لیے لگائی کہ منطقی اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہو، اور اگر اس حیثیت سے کہ وہ نحوی ہے، تو نحوی ہونے کے اعتبار سے وہ الفاظ سے بحث کرے گا۔ لیکن منطقی ہونے کی حیثیت سے الفاظ کی بحث اس کا کام نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: فَصْلٌ فِي الدَّلَالَةِ، أيْ هَذَا فَصْلٌ فِي الدَّلَالَةِ، یہ فصل ہے دلالت میں، یعنی دلالت کے بارے میں۔ اس میں دلالت کی بحث کریں گے بھئی اس فصل میں۔ الدَّلَالَةُ لُغَةً هُوَ الْإِرْشَادُ أيْ رَاهْنُمُودَن. بھئی، دلالت کسے کہتے ہیں؟ سمجھ لیجیے اچھی طرح۔ دلالت کا معنی ہے راستہ دکھانا۔ دلالت کا کیا معنی ہے؟ راستہ دکھانا۔ جب بھی ہم کسی دوسرے کو کوئی بات بتلاتے ہیں یا کوئی دوسرا بات بتلاتا ہے، تو اس کے کئی طریقے ہیں، کئی صورتیں ہیں، مثلاً کوئی ہمیں بات بول کر بتلاتا ہے، کوئی لکھ کر بتلاتا ہے، کوئی اشارہ کر کے بتلاتا ہے۔ جب بھی ایک دوسرے کو کوئی بات بتلانی ہو، کسی چیز کا علم دینا ہو، تو اس کی کتنی صورتیں ہیں؟ مثلاً بول کر بھی بتلائی جاتی ہے بات، لکھ کر بھی بتلائی جاتی ہے اور اشارہ کر کے بھی بھئی۔ اسی طرح جو چیزیں ہم جانتے ہیں، تو یہ جاننا بھی کبھی کسی نے بولا تو ہم نے سن لیا، اس سے بھی ہمیں پتہ لگ جائے گا۔ اسی طرح کسی نے لکھا، ہم نے اس کو پڑھ لیا، تو اس سے بھی ہمیں پتہ چل جائے گا۔ اسی طرح کسی نے بولا بھی نہیں اور لکھا بھی نہیں، لیکن اشارہ کر دیا، ہم اس کے اشارے کو سمجھ گئے، تو اس سے بھی ہمیں چیز کا پتہ چل جاتا ہے۔ چیز کا پتہ چل جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح اگر آپ دیکھیں بھئی، تو بہت سا دھواں ایک جگہ سے اٹھ رہا ہے، تو آپ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ معلوم ہوا اس جگہ پر آگ لگی ہوئی ہے۔ تو دیکھو اس دھوئیں نے آپ کو آگ کا بتلا دیا۔ کس چیز کا بتلایا؟ آگ کا بتلا دیا۔ تو یہاں دو چیزیں ہو گئیں۔ ایک وہ چیز جس جو بتانے والی ہے۔ بتانے والی کیا چیز ہے یہاں؟ دھواں ہے، اور ایک وہ چیز جس کے بارے میں اس نے بتایا، جس کا اس سے پتہ لگا، وہ کیا ہے مثلاً؟ آگ۔ تو یہ جو بتانے والی چیز ہے، اس کو کہتے ہیں دال۔ دالٌ، لام مشدد ہے بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ دال کہتے ہیں، اور جس چیز کا پتہ لگا، اسے کہتے ہیں مدلول۔ دالٌ دیکھو اس میں فاعل ہے، دلالت کرنے والا، بتلانے والا، بتلانے والا، اور مدلول جس کا بتلایا گیا ہے، جس پر دلالت کی گئی ہے بھئی۔ تو یہاں دو چیزیں ہو گئیں: ایک دال اور ایک مدلول بھئی۔ تو یہ جو دال ایک چیز کے ذریعے دوسری کا پتہ لگا، یعنی دال کے ذریعے مدلول کا پتہ لگنا، یہ دلالت کہلاتا ہے۔ یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ دلالت کہلاتا ہے بھئی، دلالت کہلاتا ہے۔ کیا دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کا اس طرح ہونا کہ اس سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں بھئی۔ مثلاً بھئی، مثلاً آپ نے اپنے ساتھی سے پوچھا: زید کہاں ہے؟ اس نے زبان سے کہا: زید یہ سامنے والے کمرے میں بیٹھا ہے۔ جی، تو یہ جو الفاظ اس نے کہے، اس سے آپ کو کیا پتہ چلا؟ زید کا کہ سامنے والے کمرے میں ہے۔ تو معلوم ہوا یہ الفاظ کیا ہوئے؟ دال، اور زید کا کمرے میں ہونا یہ ہے مدلول بھئی۔ یا آپ نے اس سے پوچھا: زید کہاں ہے؟ اس نے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کہا، کاپی پر آپ کے سامنے قلم سے لکھ دیا۔ کیا لکھا؟ کہ زید یہ سامنے والے کمرے میں ہے۔ تو دیکھو، آپ کو پتہ چل گیا یا نہیں چل گیا اس سے؟ تو یہ جو آپ نے سامنے لکھا، یہ لکھائی کیا ہو گئی؟ دال، اور اس سے جو بات سمجھ میں آئی وہ کیا ہوئی؟ مدلول۔ اسی طرح مثلاً آپ نے اپنے ساتھی سے پوچھا: زید کہاں ہے؟ اس نے نہ زبان سے کچھ کہا، نہ اس نے کاپی پر لکھا، بلکہ ہاتھ سے اشارہ کر دیا سامنے والے کمرے کی طرف۔ تو آپ فوراً سمجھ گئے کہ زید کہاں ہے؟ اس سامنے والے کمرے میں۔ تو یہاں دال کیا ہے؟ وہ جو اشارہ کیا آپ نے، اور مدلول کیا ہے؟ زید کا وہاں ہونا بھئی، زید بھئی، زید مدلول ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا دال کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے، یعنی جس سے بھی ایک چیز سے دوسری کا پتہ لگے، اسے کیا کہیں گے؟ دال کہیں گے، اور جس چیز کا پتہ لگا وہ مدلول، اور یہ جو دال کے ذریعے مدلول کا پتہ لگ رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔ جیسے مثلاً بھئی، آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں، صبح کے وقت، آپ نے کھڑکی سے باہر نظر ڈالی، تو آپ کو دھوپ نظر آئی۔ کیا نظر آئی؟ دھوپ نظر آئی، تو آپ فوراً ایک اور چیز بھی سمجھ گئے، اور وہ کیا؟ کہ سورج نکل آیا ہے۔ کسی نے آپ کو کچھ بتایا؟ کوئی اشارہ کیا؟ کچھ بھی نہیں، لیکن ایک چیز سے دوسری کا پتہ لگ گیا، کمرے کے اندر سے دیکھا، باہر دھوپ نظر آئی، تو معلوم ہوا سورج نکل آیا ہے۔ تو بس جس ایک چیز سے بھی دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، تو یہ پہلی کو کیا کہتے ہیں؟ دال، دوسری کو مدلول، اور یہ دال کے ذریعے مدلول کا پتہ لگنا، یہ کیا ہے؟ دلالت۔ تو یہاں پر آپ نے دھوپ کو دیکھا اور سورج کے کا پتہ چل گیا، تو دال کیا ہوگا؟ دھوپ دال، اور سورج مدلول، اور یہ دھوپ کے ذریعے جو سورج کا پتہ لگا، اسے کیا کہیں گے؟ دلالت کہیں گے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے ایک دال، ایک مدلول اور اور ایک دلالت ہے بھئی، دلالت۔ اب یاد رکھیے، آگے دلالت کی قسمیں بنائیں گے، لیکن یہ قسمیں دال کے اعتبار سے ہیں۔ دال کے اعتبار سے یہ قسمیں ہیں بھئی۔ مثلاً یہی دال کبھی لفظ ہوتا ہے اور کبھی غیرِ لفظ ہوتا ہے، جیسے ابھی میں نے مثالیں ذکر کر دیں۔ اس نے منہ سے کہا: فلاں کا زید اس سامنے والے کمرے میں ہے، تو یہاں پر دال کیا ہے؟ لفظ، اور اگر اس نے سامنے صرف کاپی پر لکھ دیا، تو یہ اب دال کیا چیز ہے؟ یہ لکھائی دال ہے، اور اگر اس نے اشارہ کیا، تو یہ، تو وہ اشارہ کیا ہے؟ دال۔ تو جو دال ہوتا ہے دال، وہ کبھی لفظ ہوگا، یعنی آپ منہ سے بولتے ہیں اس کو زبان سے ادا کرتے ہیں بھئی، اور کبھی غیرِ لفظ ہوگا، لفظ کے علاوہ کوئی بھی چیز ہوگی۔ تو اس اعتبار سے یہ دلالت دو قسم پر ہوئی۔ ایک دلالتِ لفظیہ اور ایک دلالتِ غیرِ لفظیہ۔ دلالتِ لفظیہ نام سے ہی پتہ چل گیا، کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہو، لفظ کہتے ہیں جو منہ سے ہم بولتے ہیں، تلفظ کرتے ہیں جس پہ، سمجھ میں آئی بات؟ یہ تلفظ، اور یہ جو لکھے ہوئے سے پتہ چلا، یاد رکھو یہ لفظ نہیں ہے۔ لفظ وہ ہے جو منہ... اس لکھے ہوئے کو اگر زبان سے پڑھیں گے، تو یہ لفظ بن گئے۔ ورنہ یہ نقوش ہیں بھئی، کیا کہلاتے ہیں؟ نقوش ہیں، آگے انشاءاللہ ان کی بھی تفصیل آ جائے گی۔ تو دال کے اعتبار سے دلالت دو قسم پر ہوئی۔ ایک دلالتِ لفظیہ اور ایک دلالتِ غیرِ لفظیہ۔ دلالتِ لفظیہ جس میں دال کیا ہو؟ لفظ ہو۔ اور دلالتِ غیرِ لفظیہ جس میں دال لفظ نہ ہو۔ مثلاً ابھی میں نے مثال ذکر کی، آپ نے پوچھا: زید کہاں ہے؟ اس نے کہا: زید سامنے والے کمرے میں ہے۔ یہ تو یہاں یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ، شاباش! اور اگر اس نے منہ سے کچھ بھی نہیں کہا، صرف لکھ کر دے دیا، تو اور آپ کو پتہ چل کہ سامنے والے کمرے میں زید ہے، تو یہ دلالتِ غیرِ لفظیہ، کیونکہ زبان سے اس نے کچھ نہیں کہا، زبان سے کہے گا تو لفظ کہلائیں گے، زبان سے نہیں کہے گا تو لفظ نہیں کہلائیں گے۔ تو یہ، یا اسی طرح بھئی، اس نے اشارہ کر دیا کہ زید سامنے والے کمرے میں ہے، نہ زبان سے کچھ کہا، نہ لکھا، اشارہ کیا صرف، تو اب یہ کون سی... 2 اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بس دال پر نظر رکھنی ہے آپ نے۔ دال کے اعتبار سے دلالت کی قسم بنے گی۔ اگر دال اس میں لفظ ہو تو وہ دلالتِ لفظیہ، اگر دال اس میں لفظ نہیں ہے تو پھر دلالتِ غیر لفظیہ بھئی۔ اب پھر یاد رکھیے، دلالتِ لفظیہ کی بھی آگے تین قسمیں ہیں اور دلالتِ غیر لفظیہ کی بھی تین قسمیں ہیں۔ دلالتِ لفظیہ کی تین قسمیں بھئی، پہلی ہے دلالتِ لفظیہ وضعیہ، دوسری ہے دلالتِ لفظیہ طبعیہ بھئی اور تیسری ہے دلالتِ لفظیہ عقلیہ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تیسیر المنطق میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ تو تین قسمیں ہوئیں دلالتِ لفظیہ کی۔ پہلی کیا؟ دلالتِ وضعیہ، دوسری ہے دلالتِ طبعیہ اور تیسری عقلیہ۔ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، دلالتِ لفظیہ طبعیہ اور دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ اسی طرح دلالتِ غیر لفظیہ کی بھی یہی تین قسمیں ہیں۔ دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ اور دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ اور دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ۔ تین دلالتیں، تین قسم کی ہو گئی بھئی۔ اب سب سے پہلے وضع کے بارے میں سمجھ لیں بھئی، وضع کسے کہتے ہیں؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ یا دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ، تو وضع کسے کہتے ہیں بھئی؟ بھئی انسانوں نے، انسان چونکہ سب آپس میں مل جل کر رہتے ہیں، تو آپس میں ایک دوسرے کو بات سمجھنے اور سمجھانے کے لیے چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں، کہ اس چیز کا یہ نام ہوگا، اس چیز کا یہ نام ہے، اس چیز کا یہ نام ہے بھئی۔ چنانچہ ہم جب کوئی چیز کسی کو پکارتے ہیں تو اس کا نام لے کر پکارتے ہیں۔ دس آدمیوں میں، دس آدمی بھی سامنے کھڑے ہوں، آپ اگر زید کے نام سے آواز دیں گے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ صرف کس کو پکارا جا رہا ہے؟ زید۔ تو وہ سب آپ کے پاس نہیں آئیں گے بلکہ ان میں سے صرف زید آپ کے پاس آ جائے گا۔ اسی طرح کوئی، آپ کسی سے کوئی چیز منگواتے بھی ہیں تو نام لے کر منگواتے ہیں جو ہم نے مقرر کر رکھے ہیں۔ تو چنانچہ جب نام لیتے ہیں وہ سمجھ جاتا ہے مثلاً کتاب منگوا رہے ہیں یا کاپی منگوا رہے ہیں یا قلم منگوا رہے ہیں تو وہ وہی چیز آپ کے پاس لے کر آئے گا کیونکہ وہ نام بولتے ہی وہ سمجھ گیا کہ یہ چیز ہے بھئی، یہ چیز مراد ہے۔ تو نام لینے سے چیزوں کا ہمیں پتہ لگتا ہے کہ فلاں چیز مراد ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً مختلف چیزوں کے، مثلاً گلاس ہے۔ گلاس بولتے ہی آپ سمجھ گئے بھئی وہ فلاں قسم کا جو مخصوص برتن ہوتا ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ گلاس۔ یا میں مثلاً کہتا ہوں پیالہ، آپ سمجھ گئے بھئی یہ تو وہ دوسری قسم کا فلاں برتن ہے جس میں چائے وغیرہ پیتے ہیں، یا میں نے کہا مثلاً دیگچی، تو آپ فوراً سمجھ گئے کہ یہ تو وہ فلاں برتن کا نام لے رہے ہیں جس میں سالن وغیرہ پکایا جاتا ہے۔ اسی طرح بھئی جانوروں، کسی کا بھی میں نام لے لوں، اونٹ ہے، بیل ہے، بکری ہے، تو ہر ایک سے آپ الگ الگ جانور فوراً آپ کے ذہن میں اس کی صورت گھوم جاتی ہے، آپ سمجھ جاتے ہیں فلاں جانور کا نام لیا جا رہا ہے، فلاں مراد ہے بھئی۔ اسی طرح کپڑے مختلف قسم کے ہیں، مثلاً میں کہتا ہوں کہ قمیص، آپ فوراً سمجھ گئے کس قسم کا، یہ کون سا کپڑا جو پہنا جاتا ہے وہ، وہ مراد ہے، اور اسی طرح مثلاً میں نے کہا ٹوپی، آپ سمجھ گئے جو سر پر رکھتے ہیں، اسی طرح میں نے کہا پگڑی، فوراً آپ کے ذہن میں پگڑی کی صورت گھوم گئی کہ وہ کپڑا ہے رومال سا جسے سر پر باندھا جاتا ہے۔ تو ہر چیز کے انسانوں نے کیا کیے ہیں؟ نام مقرر کر رکھے ہیں۔ اسی طرح مثلاً میں کہتا ہوں سائیکل، آپ فوراً آپ کے ذہن میں صورت گھوم گئی کہ وہ دو پہیوں والی سواری ہے، اور اسی طرح میں نے موٹر سائیکل کہا تو دوسری کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، گاڑی کہا تو اور صورت آ گئی، بس کہا تو اور صورت آ گئی، تو یہ ہم نے ہر چیز کے آپس میں نام مقرر کر رکھے ہیں۔ اسی طرح مثلاً آپ جانتے ہیں خوشی کسے کہتے ہیں، خوشی، اور ایک ہوتا ہے غم، تو خوشی کس کیفیت کا نام ہے آپ یہ بھی جانتے ہیں، کس کا نام، کس چیز کو ہم خوشی کہتے ہیں، اور غم کسے، کس چیز کا نام ہم نے غم رکھا ہے یہ بھی آپ جانتے ہیں، بھوک کس چیز کا نام ہے یہ بھی آپ جانتے ہیں، پیاس کس چیز کا نام ہے یہ بھی آپ جانتے ہیں، تو ہم نے کیا کیا ہے؟ ہر چیز کا ایک نام مقرر کر رکھا ہے، اور جب وہ نام بولتے ہیں تو وہی چیز ذہن میں آتی ہے، کوئی دوسری چیز ذہن میں نہیں آتی، تو دیکھو ناموں کی وجہ سے کتنی آسانی آ گئی، کتنی آسانی آ گئی کہ انسان سوچ نہیں سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں اسی کے بارے میں فرماتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی دیکھو قرآن میں کیا فرماتے ہیں سورۂ رحمن کے اندر: خَلَقَ الْإِنْسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا وَعَلَّمَهُ الْبَيَانَ اور اس کو بیان کرنا سکھلا دیا، کہ اپنے دل کی بات دوسرے کو پہنچا سکے، یہ بہت بڑی نعمت ہے بھئی، اگر یہ نام نہ ہوتے، یہ زبان نہ ہوتی، تو ہم کیسے ایک دوسرے کو اپنی بات پہنچاتے بھئی؟ تو یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے بھئی۔ تو جس چیز کے لیے جو نام مقرر کیا ہے، وہ نام لینے سے وہی چیز ذہن میں آتی ہے، کوئی دوسری چیز ذہن میں نہیں آتی بھئی، کوئی دوسری چیز نہیں، اور ہر زبان والوں نے اپنے اپنے نام مقرر کر رکھے ہیں۔ انگریزی بولنے والوں کے ہاں یہ جو چیزیں میں نے گنوائیں، ہر ایک کے اپنے نام ہوں گے، ان کے ہاں کوئی جب ایک لفظ بولتا ہے دوسرا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ فلاں چیز مراد ہے، ہم نے اپنی زبان میں مختلف چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں، تو جب بھی کوئی نام، کوئی چیز کا نام لیتا ہے اور اسے بولتا ہے، دوسرا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ فلاں چیز مراد ہے، فلاں مراد نہیں ہے بھئی، فلاں مراد نہیں ہے۔ تو یہ دیکھیے، ہم نے چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں، کیا کیا ہے؟ نام مقرر۔ اسی طرح یہ تو تھے لفظ، گلاس، جگ، پانی، موٹر سائیکل، بس، سائیکل، بیل گاڑی، گائے، وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ لفظ ہیں۔ ایک لفظ کو ایک چیز کے لیے مقرر کر دیا اور اس لفظ کے بولنے سے ہمیں وہی چیز سمجھ میں آتی ہے۔ اسی طرح کچھ علامتیں ہیں بھئی، جہاں لفظ نہیں ہوتا لیکن آپ چیز کو سمجھ جاتے ہیں۔ مثلاً رمضان کے اندر افطاری اور سحری کے وقت سائرن بجتا ہے۔ مغرب کے وقت بھئی، جیسے ہی سائرن بجتا ہے، آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ افطار کا وقت ہو گیا، اب روزہ کھول لینا چاہیے، تو کسی نے آپ سے کہا کہ روزہ کھول لو؟ لفظوں میں تو کسی نے بھی نہیں کہا، لیکن یہ علامت آپ نے مقرر کی ہوئی ہے کہ اس وقت جب سائرن بجے گا، تو اس کا معنیٰ کیا ہوگا؟ کہ روزہ کھول لیں، افطار کا وقت ہو چکا ہے۔ اسی طرح سحری کے وقت آپ کھانے پینے میں مشغول ہوتے ہیں، جیسے ہی سائرن بجتا ہے، آپ فوراً کیا کر دیتے ہیں؟ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔ اب کسی نے کوئی آپ سے کہا کہ کھانا پینا چھوڑ دیں؟ نہیں، لیکن آپ نے ایک علامت مقرر کر رکھی ہے آپس میں کہ یہ سائرن جب بجے گا تو اس کا معنیٰ یہ ہے کہ سحری کا وقت کیا ہو چکا؟ ختم ہو گیا، اب کھانا پینا بند کر دیں، اب روزہ شروع ہو گیا بھئی۔ اسی طرح بھئی، یہ علامت ہے، اس میں لفظ کوئی نہیں۔ آپ سڑک پر گاڑی چلا رہے ہیں اور چوک میں پہنچے، تو اشارے سرخ رنگ کی لائٹ جل گئی بھئی اشارے کی۔ اب آپ فوراً کیا کرتے ہیں؟ گاڑی کو روک لیتے ہیں۔ بھئی کسی نے آپ سے کہا گاڑی روک لو؟ نہیں، لیکن یہ آپ جانتے ہیں یہ سرخ رنگ کا اشارہ ہم نے متعین ہی اس لیے کیا ہے تاکہ اس کا مطلب کیا ہے؟ کہ گاڑی اور سواری کو روک لیا جائے بھئی، اور پھر جب سبز رنگ کی لائٹ جلتی ہے، تو آپ فوراً گاڑی چلا دیتے ہیں۔ بھئی کسی نے آپ سے کہا کہ گاڑی چلاؤ؟ لیکن آپ نے متعین کر رکھا ہے کہ سبز رنگ کی لائٹ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کہ اب گاڑی چلا سکتے ہیں آپ بھئی۔ تو دیکھو، یہاں لفظ کوئی نہیں، لیکن ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل رہا ہے بھئی۔ سائرن سے مغرب کے وقت سائرن ہو تو افطار کا پتہ چل رہا ہے، سحری کے وقت سائرن ہو تو اس روزے کے شروع ہونے کا پتہ چل رہا ہے، سبز رنگ کی لائٹ جلی تو اس سے کیا پتہ چلا؟ گاڑی چلانے کا، چلانی چاہیے۔ اور سرخ رنگ کی لائٹ جلے تو کیا معنیٰ سمجھے آپ اس سے؟ تو دیکھو سب میں دلالت ہے، ایک چیز سے دوسری چیز آپ کو سمجھ میں آ رہی ہے۔ اسی طرح بھئی، میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھوک لگی ہے؟ آپ نے اپنے سر کو اوپر سے نیچے ایک دو مرتبہ ہلایا، تو اس کا کیا معنیٰ سمجھا جائے گا؟ کہ جی ہاں مجھے بھوک لگی ہے، کیونکہ سر کو اوپر سے نیچے کی طرف ہلانا یہ ہم نے کس کے لیے مقرر کر رکھا ہے؟ ہاں کے لیے، ہاں۔ اور اگر میں نے آپ سے پوچھا کیا آپ کو بھوک لگی ہے؟ آپ نے دائیں بائیں سر دو تین مرتبہ ہلا دیا۔ اوپر نیچے نہیں، بلکہ دائیں بائیں، تو اس سے کیا سمجھے گا کہنے والا؟ کہ نہیں، معلوم ہوا اسے بھوک نہیں لگی، تو یہ ہم نے اشارہ مقرر کر رکھا ہے، اب آپ نے زبان سے کچھ نہیں کہا لیکن میں سمجھ گیا، اگر آپ نے سر اوپر سے نیچے ہلایا تو معلوم ہوا ہاں واقعتاً آپ کو بھوک لگی ہے، اور اگر آپ نے دائیں بائیں سر ہلایا تو میں سمجھ جاؤں گا کہ آپ کو بھوک نہیں لگی، تو یہ ہم نے کچھ چیزیں مقرر کر رکھی ہیں، علامتیں بھئی جن کے ذریعے ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگ جاتا ہے، تو سر اوپر نیچے ہلانے سے کس چیز کا پتہ لگتا ہے؟ ہاں کا، تو یہ سر کا اوپر نیچے ہلانا یہ ہوا دال، اور ہاں یہ کیا ہے؟ مدلول ہے اس کا، اور اسی طرح بھئی سر کا دائیں بائیں ہلانا یہ ہے دال، اور نہیں کا اس سے جو پتہ لگا وہ ہے مدلول بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہ جو ہم نے چیزیں خود مقرر کر رکھی ہیں، چاہے وہ لفظ کے قبیل سے ہوں، چاہے غیر لفظ کے قبیل سے، اسے کہتے ہیں وضع بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ وضع۔ یعنی جس چیز کو مقرر کیا ہے، اسے کہتے ہیں موضوع۔ جس چیز کو مقرر کیا ہے، اسے کہتے ہیں موضوع، عین ہے آخر میں، موضوع۔ اور جس چیز کے لیے مقرر کیا ہے، اسے کہتے ہیں موضوع لہ، موضوع لہ، جس کے لیے مقرر۔ تو وضع کہتے ہیں بھئی، ایک چیز کو اس طرح مقرر کرنا کہ اس سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ وضع۔ ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اور آپ لوگوں نے خود اسے مقرر کیا ہو، اسے یہ یاد رکھنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک چیز کو اس طرح مقرر کرنا کہ اس کے جاننے سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ وضع۔ زبان سے دہرائیے بھئی! ایک چیز کو اس طرح... ایک چیز کو اس طرح مقرر کرنا... دہرائیے میرے پیچھے بھئی، ایک چیز کو اس طرح مقرر کرنا کہ اس کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، اسے وضع کہتے ہیں۔ وضع، واؤ، ضاد، عین، اسے وضع کہتے ہیں۔ اور پہلی چیز جس کے، جس کو آپ نے مقرر کیا ہے دوسری کے لیے، تو پہلی کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اسے موضوع کہا جاتا ہے۔ مثلاً سر کا اوپر نیچے ہلانا، یہ ہے موضوع، مقرر ہے۔ اور کس چیز کے لیے مقرر ہے؟ ہاں کے لیے، تو وہ ہاں کیا ہے؟ موضوع لہ ہے بھئی۔ یہ سرخ رنگ کا اشارہ آپ نے مقرر کر رکھا ہے، سرخ رنگ، تو یہ سرخ رنگ کا اشارہ یہ ہوا موضوع، اور یہ کس چیز کے لیے وضع ہے؟ گاڑی کے روکنے کے لیے، تو گاڑی کا روکنا کیا ہوا؟ موضوع لہ ہوا بھئی۔ اسی طرح مغرب کے وقت سائرن کا بجنا، تو یہ سائرن کے بجنے سے ایک دوسری چیز کا آپ کو علم ہو گیا جس کے لیے آپ نے مقرر کیا ہے، تو یہ سائرن کیا ہوا؟ موضوع، اور جس چیز کا پتہ لگا، یعنی کہ افطاری کا وقت ہو گیا، یہ کیا ہے؟ موضوع لہ ہے بھئی۔ جی، تو وضع کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز کو اس طرح مقرر کرنا کہ اس کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، اسے وضع کہتے ہیں بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے وضع بھئی، تو دلالتِ لفظیہ وضعیہ وہ ہوگی جس میں دلالت وضع کے اعتبار سے ہو، آپ کے مقرر کرنے کے اعتبار سے ہو۔ میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن آ گیا جس میں پانی پیا جاتا ہے، تو دیکھیے یہ دال کیا ہے؟ لفظ ہے، تو لہٰذا یہ کون سی قسم ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ، اور دلالتِ لفظیہ کی یہ کون سی قسم ہو گئی؟ وضعیہ، کہ ہاں آپ نے اس گلاس کے لفظ کو فلاں برتن کے لیے مقرر کر رکھا ہے بھئی۔ تو یہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ۔ چلیے بس کریں بھئی بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 17 of 108