Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 58
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 16 1 فصل ولعلك علمت مما تلونا عليك في بيان الحاجة حد المنطق وتعريفه من أنه علم بقوانين تعصم مراعاتها الذهن عن الخطأ في الفكر۔ جی، اب منطق کی تعریف کر رہے ہیں بھئی۔ فصل یعنی هذا فصل، یہ فصل ہے۔ جی، آگے کہتے ہیں ولعلك علمت اور شاید کہ آپ جان گئے ہوں گے، امید ہے کہ آپ جان گئے ہوں گے، جو بھی ترجمہ کر لیں درست ہے بھئی، شاید آپ جان گئے ہوں گے یا امید ہے کہ آپ جان گئے ہوں گے مما تلونا عليك اس سے جو کہ تلاوت کیا ہم نے آپ پر۔ شاید اس سے آپ جان گئے ہوں گے جو ہم نے آپ پر تلاوت کیا یعنی جو پڑھا آپ پر، یعنی جو آپ کے لیے ہم نے پیچھے باتیں بیان کیں بھئی۔ منطق کی حاجت کے سلسلے میں بھئی، منطق کی منطق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وجہ بتلایا کہ اس کے ذریعے کیا ہوگا؟ نظر و فکر میں غلطی سے بچائے گا، اس سے حفاظت ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ جو ہم نے آپ کے لیے بیان کیا في بيان الحاجة کس میں؟ منطق کی حاجت، منطق کی ضرورت کے بیان میں جو ہم نے آپ پر پڑھا اور جو بیان کیا، امید ہے آپ اس سے جان گئے ہوں گے۔ کیا جان گئے ہوں گے؟ حد المنطق وتعريفه، حد بھی تعریف کو کہتے ہیں بھئی، منطق کی حد اور تعریف آپ جان گئے ہوں گے بھئی۔ منطق کی تعریف آپ جان گئے یعنی اندازہ ہو گیا یا نہیں؟ انہوں نے حاجت میں بیان کی کہ منطق کی ضرورت کیوں آئی پیش کہ ہمیں نظر و فکر میں غلطی واقع ہوتی ہے، تو ایک ایسے قانون کی ضرورت پڑی جس کے ذریعے نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہو۔ معلوم ہوا منطق ایسا علم ہے جس کے ذریعے نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہو، سمجھ میں آئی بات؟ ضرورت کیوں آئی منطق کی؟ تاکہ نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہو، اس سے ہمیں منطق کی ضرورت پیش آئی۔ معلوم ہوا منطق وہ علم ہے جو نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے، یہی بات کر رہے ہیں کہ ولعلك علمت اور امید ہے کہ آپ جان گئے ہوں گے مما تلونا عليك في بيان الحاجة وہ جو ہم نے آپ پر پڑھا منطق کی حاجت کے بیان میں، منطق کی ضرورت کے بیان میں جو ہم نے پڑھا آپ پر، اس کے ذریعے جان گئے ہوں گے حد المنطق وتعريفه منطق کی حد اور تعریف کو، اس کو آپ جان گئے ہوں گے۔ من یعنی کہ أنه علم بقوانين۔ یہ تعریف میں آپ کو شروع میں لکھوا چکا ہوں بھئی، بعینہ وہی تعریف آرہی ہے۔ منطق کی تعریف جان گئے ہوں گے یعنی کہ أنه علم کہ منطق کیا ہے؟ ایک علم ہے بقوانين ایسے قوانین کا تعصم مراعاتها الذهن تعصم کہ بچاتا ہے مراعاتها ان کی رعایت رکھنا۔ ان کی رعایت رکھنا ان قوانین کی رعایت رکھنا بچاتا ہے الذهن کس چیز کو بچاتا ہے؟ ذہن کو عن الخطأ في الفكر فکر میں غلطی سے۔ یعنی دوبارہ سن لیں من أنه علم بقوانين تعصم مراعاتها الذهن عن الخطأ في الفكر کہ منطق وہ ایسے قوانین کے جاننے کا نام ہے تعصم مراعاتها الذهن کہ بچاتا ہے ان قوانین کی رعایت رکھنا ذہن کو عن الخطأ في الفكر فکر میں۔ ان قوانین کی آپ رعایت رکھیں، مراعاتها، یہ 'ها' ضمیر راجع ہے قوانین کو بھئی۔ ان قوانین کی رعایت رکھنا یہ ذہن کو غلطی سے بچاتا ہے۔ یعنی منطق کچھ قوانین کا نام ہے، کچھ ضابطوں کا نام ہے۔ ان ضابطوں کو جب آپ جان لیں گے اور پھر ان کی رعایت رکھیں گے تو نظر و فکر میں غلطی سے بچ جائیں گے۔ نظر و فکر میں صرف جاننے سے نہیں بچیں گے، جاننے کے بعد ان کی رعایت بھی رکھیں، سمجھ میں آیا؟ ان کے مطابق چلیں تو پھر ہی آپ کو غلطی سے بچائے گا، اگر جان لیا آپ نے اور ان کی رعایت نہیں رکھی، ان پر چلے نہیں، تو پھر تو یقینی بات ہے غلطی سے حفاظت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر آپ جاننے کے بعد ان کی رعایت بھی رکھتے ہیں، انہی کے مطابق چلتے ہیں، تو پھر اس صورت میں یہ غلطی سے کیا کرے گا؟ آپ کو بچائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی، فصل موضوع كل علم ما يبحث فيه عن عوارضه الذاتية له كبدن الإنسان للطب والكلمة والكلام لعلم النحو۔ موضوع بھئی موضوع، پہلے بتلانے لگے ہیں موضوع کہتے کسے ہیں، پھر بتائیں گے کہ علم منطق کا موضوع کیا ہے۔ کہتے ہیں موضوع كل علم ہر علم کا موضوع جو ہے ما وہ ہے يبحث فيه کہ بحث کی جائے اس علم کے اندر عن عوارضه الذاتية له اس کے عوارض ذاتیہ سے۔ وہ چیز جس کے عوارض ذاتیہ سے کسی علم میں بحث کی جائے، اسے اس علم کا موضوع کہتے ہیں۔ کس سے؟ ہر وہ چیز جس کے عوارض ذاتیہ سے کسی علم میں بحث کی جائے، وہ اس علم کا موضوع کہلاتا ہے، موضوع کہلاتا ہے۔ عوارض ذاتیہ، اس چیز کی ذات سے متعلقہ چیزیں۔ عوارض ذاتیہ کا کیا معنی ہے؟ ہاں، ہر علم کے اندر جس چیز کی ذات سے متعلقہ باتوں سے بحث کی جائے، اس کو اس علم کا کیا کہتے ہیں؟ موضوع، ذات سے متعلق۔ مثلاً دیکھو بھئی، علم طب ہے، مثلاً ڈاکٹر ہے ڈاکٹر۔ ڈاکٹر کا موضوع کیا ہے ڈاکٹری کا؟ انسانی بدن۔ وہ صرف انسانی بدن کے بارے میں بات کریں گے، یہ بلڈنگوں کے بارے میں بات نہیں کریں گے، یہ کمرہ کیسے بنتا ہے، یہ کھڑکی کیسے بنتی ہے، یہ قلم کیسے، نہیں۔ اس نے کس کے بارے میں بات کرنی ہے؟ انسانی بدن کے بارے میں اس کی انسانی بدن کی ذات سے متعلقہ جو چیزیں ہیں۔ یہاں کس قسم کے تعلقات مراد ہیں؟ انسانی بدن سے اس کی ذات سے متعلقہ جو چیزیں ہیں، سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا اس کے کپڑوں سے بھی بحث نہیں کرے گا، اگرچہ وہ بھی اس کے ساتھ بدن کے ساتھ متعلق ہیں، آپ کپڑے پہنتے ہیں وغیرہ۔ تو لیکن اس سے وہ بحث نہیں کرے گا۔ انسان کی ذات سے متعلقہ جو باتیں ہیں، آگے اور بھی تفصیل آ جائے گی عوارض وغیرہ کی، لیکن بس اتنا سمجھ لیں عوارض وہ جو متعلقہ چیزیں ہوتی ہیں۔ تو انسانی ذات سے متعلقہ چیزوں سے وہ بحث کرے گا۔ کس طرح بحث کرے گا؟ کہ کس چیز سے بدن کو نقصان ہوتا ہے انسانی بدن کو، کس چیز سے انسانی بدن کو فائدہ ہوتا ہے، کس چیز سے انسانی بدن بیمار ہوتا ہے، کس چیز سے وہ ٹھیک ہوتا ہے، کس کون سی دوائی اسے دی جائے تو یہ فلاں بیماری سے یہ ٹھیک ہو جائے گا، اور کون سی دوائی دی جائے تو فلاں بیماری سے ٹھیک ہوگا وغیرہ بھئی۔ تو اس کی ذات سے انسانی بدن جو ہے، اس سے وہ بحث کرتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اسی طرح جیسے مثلاً انجینئر ہوتا ہے یہ بلڈنگوں کا، کمرے وغیرہ بنانے کی تعمیرات کا جو انجینئر ہے، اس نے کس بارے میں بات کرنی ہے اور بحث کرنی ہے ہمیشہ؟ بلڈنگ بنانے کے بارے میں، تو اس انجینئرنگ جس میں بلڈنگ بنا بلڈنگیں بنانا سکھائی جاتی ہیں، وہ کس چیز کی متعلقہ باتوں سے بحث کرے گا؟ بلڈنگوں کے، بلڈنگوں کے بھئی، مکانات کے کہ کس طرح مکان بنایا جاتا ہے، کس طرح اس کی بنیاد رکھی جاتی ہے، کن کن چیزوں کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے، تو اس سے بلڈنگ اچھی بنے گی، کس سے اس کو نقصان ہوگا وغیرہ وہ اس سے بحث کرے گا۔ اسی طرح جیسے نحوی ہے بھئی، نحوی۔ نحوی، وہ بحث کرتا ہے کلمہ اور کلام کے بارے میں، کہ کون سا کلمہ ہے، معرب ہے، کون سا مبنی ہے، کون سا اسم ہے، کون سا فعل ہے، کون سا حرف ہے، کس طرح ان کو جوڑیں گے تو کلام بنے گا وغیرہ، تو وہ کلمہ اور کلام کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ تو خلاصہ کلام یہ، جس چیز کے بارے میں کسی علم میں بحث کی جاتی ہے، وہ اس علم کا موضوع کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ موضوع کہلاتا ہے۔ تو موضوع کا پتہ ہونا چاہیے، کوئی بھی علم آپ پڑھنے لگے ہیں تو اس موضوع کا پتہ ہونا چاہیے تاکہ پتہ تو ہو آپ کو کہ کس چیز کے بارے میں ہم اس علم میں بات کرتے رہیں گے۔ یہ تو نہیں کہ ہر چیز کی بات کر دیں گے، بلکہ اس خاص موضوع سے متعلقہ کیا کریں گے؟ اس کے ارد گرد چلیں گے، اس سے متعلقہ باتوں کو پر بحث کریں گے۔ تو ہر علم کے لیے موضوع چاہیے ہوتا ہے بھئی، موضوع بھئی۔ ورنہ تو پتہ ہی نہیں چلے گا کس سے بحث کریں ہم بھئی، کبھی ایک چیز کبھی دوسری چیز، کوئی پتہ ہی نہیں ہے، تو ساری محنت کیا ہو جائے گی؟ صحیح طریقے سے محنت نہیں ہو سکتی موضوع کا جب نہ پتہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں موضوع كل علم ما، موضوع ہر علم کا وہ ہے کہ يبحث فيه عن عوارضه الذاتية له کہ بحث کی جائے فيه اس علم کے اندر عن عوارضه الذاتية له اس چیز کے جو عوارض ذاتیہ ہیں ان کے ساتھ۔ عوارض ذاتیہ، ذات سے متعلقہ چیزیں۔ عوارض ذاتیہ کسے کہتے ہیں؟ ذات سے متعلقہ چیزوں سے بحث کی جاتی ہے۔ كبدن الإنسان للطب جیسے بدن انسانی بدن ہے طب کے لیے، علم طب بھئی۔ والكلمة والكلام لعلم النحو اور جیسے کلمہ اور کلام ہیں کس کے لیے؟ علم نحو کے لیے۔ اب علم موضوع کا پتہ چل گیا، موضوع کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ چیز جس کے عوارض ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ اس علم کا موضوع کہلاتا ہے۔ دوبارہ زبان سے دہراؤ بھئی! ہر وہ چیز جس کے عوارض ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے، اس کی ذات سے متعلقہ باتوں سے بحث کی جائے، وہ اس علم کا موضوع ہے۔ کہتے ہیں فموضوع المنطق المعلومات التصورية والتصديقية پس علم منطق کا موضوع وہ معلومات تصورِی اور تصدیقی ہیں۔ معلومات تصوری اور تصدیقی، وہ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی ہیں۔ یعنی بھئی دیکھو، آپ نے پڑھا کچھ تصورات ہمیں معلوم ہیں اور کچھ ہمیں معلوم نہیں، جو معلوم ہیں ان کے ذریعے ہم کس تک پہنچتے ہیں؟ مجهول تصدیق تک پہنچتے ہیں۔ تو اسی طرح کچھ تصدیقات معلوم ہیں اور کچھ نامعلوم یا مجهول ہیں، تو ان معلوم تصدیقات کے ذریعے ہم کس تک پہنچتے ہیں؟ مجهول تصدیقات تک۔ تو یہ جو معلوم تصورات ہیں، یہ جو معلوم تصدیقات ہیں، یہ علم منطق کا موضوع ہیں۔ ان سے ہم بحث کریں گے اور ان کے ذریعے ہم کہاں تک پہنچیں گے؟ نامعلوم تصور اور نامعلوم تصدیق تک۔ تو لہذا علم منطق کا موضوع کیا ہے؟ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات۔ تو کہتے ہیں فموضوع المنطق المعلومات التصورية والتصديقية وہ معلومات تصوریہ اور معلومات تصدیقیہ ہیں۔ لكن لا مطلقا لیکن مطلقاً نہیں بھئی، جو بھی معلوم تصور ہو وہ علم منطق کا موضوع ہے، جو بھی معلوم تصدیق ہو وہ علم منطق کا موضوع ہے، ایسا نہیں ہے۔ بلکہ من حيث أنها موصلة إلى المجهول التصوري والتصديقي اس حیثیت سے کہ یہ پہنچانے والا ہو مجهول تصوری اور مجهول تصدیقی تک۔ بھئی، معلوم تصدیقی سے تو ہم نے بحث کرنی ہے، معلوم تصوری یہ علم منطق کا موضوع، معلوم تصدیقی اور معلوم تصوری۔ لیکن ویسے نہیں، اس حیثیت سے کہ یہ معلوم تصدیقی اور یہ معلوم تصوری ہمیں کہاں تک پہنچانے والے ہوں؟ مجهول تصوری اور مجهول تصدیقی تک ہمیں پہنچانے والے ہوں۔ یہ حیثیت ضرور، معلوم ہوا جو معلوم تصوری مجهول تصوری طرف نہیں پہنچاتا، جو معلوم تصدیقی مجهول تصدیقی تک نہیں پہنچاتا، وہ علم منطق کا موضوع نہیں ہے۔ تو علم منطق کا موضوع معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات ہیں، لیکن اس حیثیت سے کہ وہ کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصور اور مجهول تصدیق تک۔ تا ان کا فائدہ ہوتا کہ ان کا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ موضوع میں آپ کو شروع میں بھی لکھوا چکا ہوں بھئی، وہ آپ یاد کر لیں، تعریف بھی وہی سے یاد کریں، موضوع بھی وہی سے۔ فائدة أي هذه فائدة، یہ ایک فائدہ ہے۔ اعلم، جان لے تو کہ أن لكل علم وصناعة غاية کہ ہر علم کے لیے اور ہر فن کے لیے، صناعت کہتے ہیں فن بھئی، سمجھ میں آیا؟ علم و فن بھئی، ایک ہی معنی ہے فن اور علم کا۔ جان لے تو کہ أن لكل علم وصناعة کہ ہر علم اور ہر فن کے لیے غاية ایک غایت ہوتی ہے۔ غاية اس پہ نصب پڑھنا بھئی، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ أنّ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع۔ اور یہ اس کا غاية اسم مؤخر ہے، اور لكل علم وصناعة یہ خبر مقدم ہے۔ تو یہ خبر مقدم ہے اور اسم مؤخر ہے، تو وہ اسم کیا ہوگا؟ منصوب ہوگا۔ تو کہتے ہیں ہر علم اور ہر فن کا ایک غرض ہوتی ہے۔ بھئی دیکھیے، آپ علم منطق پڑھ رہے ہیں تو اس کا کوئی مقصد ہوگا، بغیر مقصد کے انسان کا کوئی بھی کام نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا؟ آپ کہیں بھی جا رہے ہیں، آپ کا ساتھی آپ سے پوچھے گا آپ کدھر جا رہے ہیں؟ آپ بتائیں گے بھئی فلاں کام کے لیے میں جا رہا ہوں۔ کوئی بھی کام کرتے ہیں آپ، کوئی آپ سے پوچھتا ہے بھئی یہ کیوں کر رہے ہو؟ آپ وجہ بتاتے ہیں کہ بھئی یہ اس مقصد کے لیے کر رہا ہوں۔ تو ہر کام کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوا کرتا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آپ کرتے ہیں، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے، بغیر مقصد کے کوئی کام بھی نہیں ہوتا۔ کوئی بھی کام بغیر مقصد کے، عقلمند آدمی کا کوئی بھی کام بغیر مقصد کے نہیں ہوتا، ہر کام کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ مثلاً آپ جا رہے ہیں نہر کی طرف، آپ کے ساتھی نے آپ سے پوچھا کہ کس لیے آپ اس طرف جا رہے ہیں؟ اب آپ کو کوئی بھی کام نہیں ہے۔ تو آپ کیا کہیں گے، یہ بے مقصد میں جا رہا ہوں؟ نہیں۔ مقصد ہے، معلوم ہوا آپ ویسے سیر کرنے جا رہے ہیں بھئی، تو سیر کرنا بھی مقصد ہو گیا یا نہیں؟ سیر کرنا بھی مقصد، تو ہر کام جو بھی آپ اپنا دیکھیں، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوگا۔ جس طرف بھی آپ جا رہے ہیں، یا تو ویسے گھومنے پھرنے جا رہے ہیں یا کوئی کام ہوگا۔ بہرحال ذہن میں ایک بات ہوگی کہ اس وجہ سے میں اس طرف جا رہا ہوں، بلاوجہ نہیں۔ تو اسی طرح جب علم بھی کوئی پڑھنے لگیں تو اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ پتہ لگے یہ علم کیوں پڑھ رہے ہیں، اس کا فائدہ کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اس کی غرض کیا ہے۔ تو علم منطق کی بھی غرض ہے۔ اسی طرح بھئی مثلاً آپ انگریزی پڑھتے ہیں، مقصد کیا ہے؟ انگریزی سیکھنا۔ عربی پڑھتے ہیں، مقصد کیا ہے؟ عربی سیکھنا۔ یہ درسِ نظامی آپ پڑھ رہے ہیں، اس کا کیا مقصد ہے؟ کہ قرآن و حدیث آپ، قرآن و حدیث کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ تو یہ علم منطق، علم صرف، علم نحو یہ کیوں پڑھ رہے ہیں؟ کیونکہ ان سے آگے ان میں ہمیں فائدہ ہوگا، یہ ہمیں آئیں گے تو وہ اچھی طرح ہمیں سمجھ میں آ جائیں گے۔ تو اس طرح ہر چیز کا مقصد ہوتا ہے، اس مقصد کے بغیر، اگر مقصد 2 اعلم جان لے تو ان لكل علم وصناعة غاية کہ ہر علم اور ہر فن کی ایک کوئی غایت ہوتی ہے۔ غایت وہی مقصد بھئی غرض۔ غایت کا کیا معنیٰ؟ مقصد۔ ہر علم کا کوئی مقصد ہوتا ہے، اس کی کوئی غرض ہوتی ہے۔ والا اور اگر ایسا نہ ہو لكان طلبه عبثا تو پھر تو اس کی طلب کیا ہو جائے گی؟ عبث ہو جائے گی، بیکار ہو جائے گی بھئی۔ والا اور اگر ایسا نہ ہو والا اگر ایسا نہ ہو لكان طلبه عبثا تو اس علم کا طلب کرنا بے فائدہ ہوگا، عبث کہتے ہیں بے فائدہ کو۔ ورنہ اس علم کا طلب کرنا بے فائدہ ہوگا والجد فيه لغوا جد کہتے ہیں کوشش کو اور اس میں کوشش کرنا لغوا بیکار ہوگا۔ فائدے کا بھئی چیز کا مقصد ہی نہیں پتا، تو وہ تو اس کا اس کی طلب کیا ہو جائے گی؟ غرض کا پتا ہی نہیں ہے، اس کو پڑھیں گے کیا بالکل بے فائدہ اس کا مقصد کیا ہے، اس کا فائدہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں والا اور اگر ایسا نہ ہو لكان طلبه عبثا تو اس علم کا طلب کرنا بے فائدہ ہوگا والجد فيه لغوا اور اس میں کوشش کرنا فیہ یعنی فی ذلک العلم اس علم میں، اس علم کے اندر کوشش کرنا جو ہے وہ بیکار ہوگا وغاية علم الميزان الإصابة في الفكر اور علمِ میزان یعنی علمِ منطق کا غایت، یعنی علمِ منطق کی جو غرض ہے اور اس کا مقصد جو ہے الاصابة فی الفكر فکر میں درستگی ہے۔ اصابہ کہتے ہیں درست ہونا بھئی۔ فکر یعنی نظر بھئی وہی ترتیب جو ہے اس کے اندر درستگی ہو، یہ مقصد ہے کس کا؟ بھئی وہ جو امورِ معلومہ کو ترتیب دے کر ہم کیا کرتے ہیں؟ امورِ مجهولہ حاصل کرتے ہیں، تو اس ترتیب کے اندر درستگی ہو یہ علمِ میزان کا مقصد ہے وحفظ الرأي عن الخطإ في النظر اور رائے کو یعنی رائے کو کی حفاظت کرنا عن الخطا غلطی سے فی النظر کس کے اندر؟ نظر۔ نظر و فکر کے اندر رائے کو یعنی اپنے خیال و اعتقاد کو غلطی سے بچانا اس کی حفاظت جو ہے، یہ ہے علمِ میزان اور علمِ منطق کی غرض بھئی۔ تو کیا غرض ہوئی علمِ منطق کی؟ ذہن کو غلطی سے بچانا یہ غرض ہے، یہ اس کی غرض یہ ذہن کو غلطی سے بچاتا ہے۔ تو دیکھیے، اج اپ کو کیا پتا چل گئی؟ علمِ منطق کی تعریف بھی اپ نے پڑھ لی اور علمِ منطق کا موضوع بھی پڑھ لیا کہ وہ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات ہیں اس حیثیت سے کہ وہ مجهول تصدیقات اور مجهول تصورات تک پہنچا دیں اور علمِ منطق کی غرض بھی پڑھ لی کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ ذہن کو ذہن کو غلطی سے بچاتا ہے نظر و فکر میں بھئی، نظر و فکر میں۔ تو بھئی، جب ہم نے شروع کیا تھا، انہوں نے کہا تھا مقدمۃ شروع میں کہ یہ مقدمہ ہے۔ میں نے بتایا تھا اس مقدمے میں وہ کیا بیان کریں گے؟ علمِ منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت بھئی، لیکن تعریف کا سمجھنا موقوف تھا منطق کی غرض پر کہ منطق کا مقصد کیا ہے، اس منطق کی ضرورت پر، منطق کی ضرورت کیوں ہمیں پیش اتی ہے۔ اور منطق کی ضرورت کا سمجھنا موقوف تھا نظر و فکر پر، اور نظر و فکر کا سمجھنا موقوف تھا بدیہی اور نظری پر، اور بدیہی اور نظری کا سمجھنا موقوف تھا تصور اور تصدیق پر، اور تصور اور تصدیق کا سمجھنا موقوف تھا علم پر۔ تو لہٰذا انہوں نے علم سے اغاز کیا، پھر اپ کو علم کے معنی بتلائے، پھر اس کے بعد تصور اور تصدیق بتلائے، پھر اس کے بعد بدیہی اور نظری بتائے، پھر اس کے بعد نظر اور فکر کے بارے میں بتلایا، اور پھر اس کے بعد جب نظر و فکر کا پتا چل گیا تو بتلایا کہ منطق کی ضرورت ہمیں کیوں ہے۔ پھر جب اپ کو منطق کی ضرورت کا بھی پتا چل گیا، تو اس کے بعد انہوں نے اب اپ کے سامنے منطق کی تعریف ذکر کر دی بھئی۔ ترجمہ اچھی طرح ہو گیا بھئی؟ سمجھ میں ا گیا؟ دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے؟ دوبارہ ترجمہ دیکھیے بھئی۔ فصل ولعلك علمت مما تلونا عليك في بيان الحاجة اور امید ہے کہ اپ جان گئے ہوں گے اس سے وہ جو ہم نے پڑھا اپ پر فی بیان الحاجۃ منطق کی ضرورت کے بیان میں۔ کیا جان گئے ہوں گے؟ حد المنطق وتعريفه منطق کی حد اور اس کی تعریف۔ من أنه یعنی کہ (یہ من کا ترجمہ کس سے کرنا ہے؟ یعنی) یعنی کہ انہ علم بقوانين یہ علم ہے ایسے قوانین کا تعصم کہ بچاتے ہیں، بچاتا ہے مراعاتها ان قوانین کی رعایت رکھنا، یہ بچاتا ہے الذهن ذہن کو عن الخطإ في الفكر فکر میں غلطی سے۔ فصل موضوع كل علم ما يبحث فيه عن عوارضه الذاتية له موضوع ہر علم کا وہ ہے جس کی بحث کی جاتی ہے اس علم میں اس چیز کے عوارضِ ذاتیہ سے كبدن الإنسان للطب جیسے انسانی بدن ہے علمِ طب کے لیے، یہ اس کے لیے اس کا موضوع ہے۔ والكلمة والكلام لعلم النحو اور جیسے کلمہ اور کلام موضوع ہیں کس کے لیے؟ علمِ نحو کے لیے۔ فموضوع المنطق المعلومات التصورية والتصديقية پس علمِ منطق کا موضوع وہ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی ہیں لا لكن لا مطلقا لیکن مطلقاً نہیں بل من حيث إنها موصلة إلى المجهول التصوري والتصديقي بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ پہنچانے والے ہیں مجهول تصوری اور مجهول تصدیقی تک۔ فائدة اعلم أن لكل علم وصناعة غاية جان لے تو کہ ہر علم اور ہر فن کی غرض ہوتی ہے وإلا لكان طلبه عبثا ورنہ تو اس کی جو طلب ہے وہ بے فائدہ ہوگی والجد فيه لغوا اور کوشش اس علم کے اندر لغو ہوگی، بیکار ہوگی وغاية علم الميزان الإصابة في الفكر اور علمِ میزان یعنی علمِ منطق کا جو کی غرض اور مقصد ہے الاصابة فی الفكر فکر کے اندر درستگی ہے وحفظ الرأي عن الخطإ في النظر اور رائے کو بچانا ہے نظر کے اندر غلطی سے، نظر کے اندر غلطی سے رائے کو بچانا بھئی۔ چلیے، بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 16 of 108