Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 61
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 15 1 وَأَمَّا تَسْمِيَتُهُ بِالْمَنْطِقِ فَلِتَأْثِيرِهِ فِي النُّطْقِ الظَّاهِرِيِّ؛ أَعْنِي التَّكَلُّمَ، إِذِ الْعَارِفُ بِهِ يَقْوَى عَلَى التَّكَلُّمِ بِمَا لَا يَقْوَى عَلَيْهِ الْجَاهِلُ، وَكَذَا فِي النُّطْقِ الْبَاطِنِيِّ؛ أَعْنِي الْإِدْرَاكَ؛ لِأَنَّ الْمَنْطِقِيَّ يَعْرِفُ حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ، وَيَعْلَمُ أَجْنَاسَهَا وَفُصُولَهَا وَأَنْوَاعَهَا وَلَوَازِمَهَا وَخَوَاصَّهَا، بِخِلَافِ الْغَافِلِ عَنْ هَذَا الْعِلْمِ الشَّرِيفِ۔ جی، گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ نظر و فکر کے اندر غلطی بھی واقع ہو جایا کرتی ہے۔ یہ جو امورِ معلومہ کو ہم ترتیب دیتے ہیں تاکہ کس کو حاصل کر لیں؟ ایک شئےِ مجهول کو حاصل کر لیں، اس ترتیب کے اندر کبھی کیا واقع ہو جاتی ہے؟ غلطی واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ایک ایسے قانون کی ضرورت پیش آئی کہ جس کے ذریعے اس غلطی سے بچا جا سکے اور جس کے ذریعے یہ پتہ لگے کہ معلومات کے ذریعے مجهولات کو کس طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ آپ کے پاس کچھ معلوم چیزیں ہیں، ان کے ذریعے کس طرح مجهول چیز کو حاصل کریں گے؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس قانون کا کیا نام ہے؟ علمِ منطق، اس کو منطق بھی کہتے ہیں اور میزان بھی۔ تو منطق کیوں کہتے ہیں اور میزان کیوں کہتے ہیں، اب اس کی وجہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو منطق جو ہے، منطق، منطق یا تو یہ مصدر ہے، مصدرِ میمی۔ تو منطق کا معنی ہوا بولنا، بات کرنا۔ اور یا یہ اسمِ ظرف کا صیغہ ہے، تو بولنے کی جگہ، بھئی، بولنے کی جگہ۔ کہتے ہیں: "وَأَمَّا تَسْمِيَتُهُ" باقی اس کا نام "تَسْمِيَتُهُ بِالْمَنْطِقِ" اس قانون کا نام منطق رکھنا، سَمَّى يُسَمِّي تَسْمِيَةً کا معنی ہوتا ہے نام رکھنا۔ باقی اس قانون کا نام منطق رکھنا، وہ اس وجہ سے ہے، آگے ذکر کرنے لگے ہیں: "فَلِتَأْثِيرِهِ فِي النُّطْقِ الظَّاهِرِيِّ" بموجب اس کے اثر کرنے کے نطِقِ ظاہری، اس وجہ سے کہ یہ اثر ڈالتا ہے نطِقِ ظاہری میں، بھئی۔ نطِقِ ظاہری کے اندر، بھئی نطِقِ ظاہری کیا ہے؟ ظاہری نطق، بھئی، ظاہری۔ "أَعْنِي التَّكَلُّمَ" یعنی کہ بولنا۔ اس سے انسان کے بولنے پر اثر پڑتا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ منطقی جس انداز میں کلام کر سکتا ہے، کوئی بات بیان کر سکتا ہے، دوسرا اس انداز میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس لیے کیونکہ منطق، آپ نے پڑھا کہ منطقی کیا کرتا ہے؟ دلیل بناتا ہے، اسی طرح معرف ذکر کرے گا، کسی بھی شئے کی پہچان کے لیے وہ چیزوں کو ترتیب دے کر، معلوم چیزوں کو ترتیب دے گا اور اس مجهول چیز کو بیان کرے گا، اس کو ثابت کرے گا، بھئی۔ تو اس کی بات میں ربط ہوا کرتا ہے، دلائل ہوا کرتے ہیں، بڑا مرتب کلام ہوتا ہے۔ تو جس انداز، جو اس علم کا جاننے والا ہوگا، ماہر ہوگا، اس کے کلام کا رنگ ہی اور ہوگا، اس کے کلام کا، اس کے بولنے کا انداز ہی اور ہوگا، اس کی باتوں میں ربط ہوگا، بے ربط باتیں نہیں کرے گا، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ جب بھی کوئی چیز دعویٰ کر رہا ہے، اس کو ثابت کر رہا ہے، تو دلائل لے کر آئے گا اور تمام چیزوں کی رعایت رکھے گا، تو لہٰذا اپنی بات ثابت کرنے میں، اپنی بات منوانے میں کامیاب رہے گا، بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَأَمَّا تَسْمِيَتُهُ بِالْمَنْطِقِ" باقی اس قانون کا نام منطق رکھنا "فَلِتَأْثِيرِهِ فِي النُّطْقِ الظَّاهِرِيِّ" بموجب اس کے اثر ڈالنے کے نطِقِ ظاہری کے اندر، بھئی نطِقِ ظاہری کیا ہے؟ خود بتلا رہے ہیں: "أَعْنِي التَّكَلُّمَ" یعنی کہ بولنا، بات کرنا۔ یعنی اس کے اندر یہ اثر ڈالتا ہے یہ علم، بھئی۔ "إِذِ الْعَارِفُ بِهِ" اس لیے کیونکہ اس علم کو جاننے والا "يَقْوَى عَلَى التَّكَلُّمِ" وہ قادر ہوتا ہے، قَوِيَ يَقْوَى کا معنی قادر ہونا۔ "يَقْوَى عَلَى التَّكَلُّمِ بِما" وہ قادر ہوتا ہے تکلم، بات کرنے پر بما اس چیز کے ساتھ، یعنی وہ اس بات پر بھی قادر ہوتا ہے "لَا يَقْوَى عَلَيْهِ الْجَاهِلُ" کہ قادر نہیں ہوتا اس پر جاہل، یعنی اس علم کو نہ جاننے والا، جس علم کو نہ جاننے والا۔ تو کیا وجہ ذکر کی؟ کہ منطق کو منطق کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کیونکہ یہ نطِقِ ظاہری کے اندر اثر ڈالتا ہے اور اس میں اپنا اثر دکھاتا ہے اور نطِقِ ظاہری کیا چیز ہے؟ تکلم ہے، بولنا، بولنا۔ کیونکہ یہ علم جاننے والا "يَقْوَى عَلَى التَّكَلُّمِ بِمَا لَا يَقْوَى عَلَيْهِ الْجَاهِلُ" یہ قادر، وہ قادر ہوتا ہے بات کرنے پر اس طور پر کہ اس طرح پر قادر نہیں ہوتا نہ جاننے والا، بھئی، کہ نہ جاننے والا اس طرح قادر نہیں ہو سکتا۔ "وَكَذَا فِي النُّطْقِ الْبَاطِنِيِّ" اور اسی طرح یہ اثر ڈالتا ہے نطِقِ باطنی کے اندر بھی۔ بھئی نطِقِ باطنی کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں: "أَعْنِي الْإِدْرَاكَ" یعنی کہ ادراک، یعنی کہ ادراک، یعنی جاننا، جاننا۔ یعنی جاننے کے اندر بھی یہ اثر ڈالتا ہے "لِأَنَّ الْمَنْطِقِيَّ يَعْرِفُ حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ" اس لیے کیونکہ منطقی جو ہوتا ہے وہ چیزوں کی حقیقتیں جانتا ہے "وَيَعْلَمُ أَجْنَاسَهَا" اجناس جمع ہے جنس کی، اور چیزوں کی جنسیں جانتا ہے "وَفُصُولَهَا" فصول جمع ہے فصل کی، اور چیزوں کی فصلیں جانتا ہے "وَأَنْوَاعَهَا" اور انواع جمع ہے نوع کی، اور چیزوں کی نوعیں جانتا ہے "وَلَوَازِمَهَا" لوازم جمع ہے لازم کی، اور چیزوں کے لازموں کو جانتا ہے "وَخَوَاصَّهَا" خواص جمع ہے خاصہ کی، اور چیزوں کے خاصے کو جانتا ہے "بِخِلَافِ الْغَافِلِ عَنْ هَذَا الْعِلْمِ الشَّرِيفِ" برخلاف اس شخص کے جو غافل ہو اس معزز علم سے، شریف بمعنی معزز۔ تو کہتے ہیں کہ یہ جو ہے نطِقِ باطنی یعنی ادراک، ادراک کا کیا معنی؟ جاننا۔ یعنی جاننے کے اندر بھی یہ علم اپنا اثر رکھتا، ڈالتا ہے کیونکہ منطقی وہ چیزوں کی حقائق بھی جانتا ہے، ان کے اجناس بھی، فصول بھی، انواع بھی، لوازم بھی اور خاصے وغیرہ بھی جانتا ہے، برخلاف اس شخص کے جو اس معزز علم سے غافل ہو، جو اسے نہ جانتا ہو، اسے ان سب چیزوں کا پتہ نہیں ہوگا۔ تو یہ چیزیں سب آگے جنس، فصل، نوع، لازم، خاصہ وغیرہ کہنے کہتے ہیں، یہ سب آگے آنے والی ہیں۔ تو یہ منطقی ہی جانتا ہے، غیر منطقی ان کو نہیں جانتا، بھئی۔ وجہ پتہ چل گئی، بھئی؟ اس علم کو علمِ منطق کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یوں کہیں، کیونکہ یہ فائدہ دیتا ہے نطِقِ ظاہری میں بھی اور نطِقِ باطنی میں بھی۔ نطِقِ ظاہری کسے کہتے ہیں؟ بولنا، یہ جو ہم زبان سے بولتے ہیں، بات کرتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں نطِقِ ظاہری۔ اور ایک نطِقِ باطنی ہے یعنی چیزوں کا جاننا، بھئی، چیزوں کا۔ بھئی، شروع میں میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ قولِ معقول اور قولِ ملفوظ وغیرہ، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا یہ قولِ ملفوظ میں بھی مدد دیتا ہے اور قولِ معقول میں بھی مدد دیتا ہے۔ تو یہ وہ ان چیزوں، تو لہٰذا علمِ منطق کو منطق کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ نطق میں فائدہ دیتا ہے، نطِقِ ظاہری میں بھی اور نطِقِ باطنی میں بھی۔ نطِقِ ظاہری کیا ہے؟ بات کرنا، بولنا، اس کے اندر منطقی اس انداز میں بات کر سکتا ہے جس انداز میں غیر منطقی نہیں کر سکتا، وہ اس پر قادر نہیں ہوتا۔ اور دوسری بات کہ نطِقِ باطنی یعنی ادراک میں بھی فائدہ دیتا ہے، منطقی جنس، فصل، نوع وغیرہ ان چیزوں کو جانتا ہے، غیر منطقی ان چیزوں کو نہیں جانتا، تو اس لیے اس کو منطق کہتے ہیں، بھئی، منطق، بھئی۔ وَأَمَّا تَسْمِيَتُهُ بِالْمِيزَانِ، باقی اس کا نام رکھنا میزان کے ساتھ، اس کو میزان کیوں کہتے ہیں، علمِ میزان کیوں اس کا نام رکھا گیا؟ کہتے ہیں: فَلِأَنَّهُ قِسْطَاسٌ لِلْعَقْلِ، کیونکہ یہ ترازو ہے عقل کے لیے۔ قسطاس کہتے ہیں ترازو کو۔ اس کو علمِ میزان اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ ترازو ہے عقل کے لیے يُوزَنُ بِهِ الْأَفْكَارُ الصَّحِيحَةُ، اس کے ذریعے تولا جاتا ہے، وزن کیا جاتا ہے صحیح فکروں کو وَيُعْرَفُ بِهِ، اور جانا جاتا ہے، پہچانا جاتا ہے بِهِ اس علم کے ذریعے نُقْصَانُ مَا فِي الْأَفْكَارِ الْفَاسِدَةِ، نقصان یعنی کمی، جانا جاتا ہے اس کے ذریعے وہ جو کمی ہے فِي الْأَفْكَارِ الْفَاسِدَةِ فاسد فکروں میں، کس میں؟ فاسد فکروں میں۔ وَاخْتِلَالُ مَا فِي الْأَنْظَارِ الْكِاسِدَةِ، اور جانا جاتا ہے وہ جو خلل ہے، اختلال خلل اور خرابی، وہ جو خرابی ہے فِي الْأَنْظَارِ الْكِاسِدَةِ، انظار جمع ہے نظر کی، جیسے پیچھے آیا تھا افکار جمع ہے فکر کی۔ اور وہ جو خرابی ہے فِي الْأَنْظَارِ الْكِاسِدَةِ کھوٹی نظروں میں، کاسد کھوٹے کو کہتے ہیں، کھوٹی چیز۔ کھوٹی نظروں کے اندر، بھئی۔ بھئی، اس علم کی وجہ ذکر کر رہے ہیں اسے علمِ میزان کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ ترازو ہے۔ اس کے ذریعے آپ پہچانیں گے کون سی نظر و فکر صحیح ہے، کون سی نظر و فکر ہے جس میں کچھ کمی ہے، اور کون سی نظر و فکر ہے جو بالکل ہی غلط ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بعض اوقات نظر و فکر بالکل صحیح ہوگی، تو اس کے لیے کیا کہا: "الْأَفْكَارُ الصَّحِيحَةُ"۔ بعض اوقات اس میں کچھ کمی ہوگی، مکمل غلط تو نہیں لیکن اس میں کچھ کمی ہے، تو اس کو کہا: "نُقْصَانُ مَا فِي الْأَفْكَارِ الْفَاسِدَةِ"۔ اور بعض اوقات سرے سے ہی غلط ہوگی، تو اس کو "أَنْظَارِ كَاسِدَةِ" کے ساتھ تعبیر کر دیا، جیسے کھوٹا سکہ چلتا ہی نہیں، کوئی بھی نہیں اس کو لیتا، بالکل ردی ہوتا ہے، اسی طرح بعض نظر و فکر بھی بالکل سرے سے کیا ہوگی؟ ردی اور بیکار ہوگی۔ تو یہ علم ہمیں بتائے گا یہ نظر و فکر صحیح ہے، یہ نظر و فکر اس میں کچھ کمی ہے، یا یہ نظر و فکر بالکل سرے سے ہی غلط ہے۔ تو یہ ترازو ہے، بھئی، جیسے ترازو میں چیزوں کو تول کر وزن کیا جاتا ہے کہ یہ اتنا وزن ہے یا یہ کم ہے یا یہ زیادہ ہے، تو یہ علم بھی ہمیں بتلائے گا کہ کون سی فکر صحیح ہے اور کس میں کمی ہے یا خرابی ہے، وہ یہ علم بتلائے گا، بھئی۔ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ میزان۔ یہ ترازو ہے نظر و فکر کے لیے۔ وَمِنْ ثَمَّ يُقَالُ لَهُ، ثَمَّ میں نے بتلایا اسمِ اشارہ ہے، اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے اس علم کو الْعِلْمُ الْآلِيُّ، علمِ عالی۔ کیا کہا جاتا ہے؟ الْعِلْمُ الْآلِيُّ، اسے علمِ عالی کہا جاتا ہے لِكَوْنِهَا آلَةً لِجَمِيعِ الْعُلُومِ، بموجب ہونے اس کے آلہ تمام علوم کے لیے۔ اس وجہ سے کہ یہ تمام علوم کے لیے آلہ ہے لَا سِيَّمَا لِلْعُلُومِ الْحِكْمِيَّةِ، خاص طور پر فلسفیانہ علوم کے لیے۔ لَا سِيَّمَا خاص طور پر۔ لِلْعُلُومِ الْحِكْمِيَّةِ فلسفیانہ علوم کے لیے، یعنی فلسفے والے علوم کے لیے جو ہے یہ آلہ ہے، بھئی۔ حکمت فلسفے کو کہتے ہیں، بھئی، اسی سے یاءِ نسبت کی آخر میں لگا دی، جیسے لاہور کے آخر میں کہیں لاهوري، تو کیا معنی ہوتا ہے؟ لاہور والا۔ حکمت کہتے ہیں فلسفے کو، تو حِكْمِيَّة فلسفے والا، فلسفے والے علوم میں، یعنی فلسفیانہ علوم میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ اس کو علمِ آلی بھی کہتے ہیں، ایک اور نام بھی بتا دیا، کیونکہ یہ آلہ ہے تمام علوم کے لیے، خاص طور پر فلسفے کے علوم جو ہیں ان کے لیے آلہ ہے۔ یعنی جس طرح آلہ کسی چیز کے اندر معاون ہوتا ہے، اسی طرح یہ علم بھی کیا ہے؟ معاون ہے، اس کے ذریعے باقی علوم میں بے انتہا فائدہ ہوتا ہے اور گہرائی پیدا ہوتی ہے علوم کے اندر، بھئی۔ اس لیے جو منطق نہ جاننے والا ہوگا، اس کی باتیں سرسری ہوں گی، اتنی گہری نہیں ہوں گی، لیکن جو منطق جاننے والا ہوگا، اس کی باتیں بڑی گہری ہوں گی، بھئی۔ فَائِدَةٌ أي هَذِهِ فَائِدَةٌ، یہ ایک فائدہ ہے۔ اِعْلَمْ، جان لے تو كَأَنَّ أَرَسْطَاطَالِيسَ الْحَكِيمَ دَوَّنَ هَذَا الْعِلْمَ بِأَمْرِ الْإِسْكَنْدَرِ الرُّومِيِّ، کہ ارسطاطالیس جو حکیم تھا، ارسطاطالیس یہ پورا نام ہے، بھئی۔ یہ وہی میں نے جو آپ کو بتایا تھا ارسطو، ارسطو۔ یہ ارسطو ہی کا نام ہے ارسطاطالیس، بھئی۔ تو ارسطو بھی کہتے ہیں، ارسطاطالیس بھی کہتے ہیں، یہ پورا نام ہے۔ جان لے کہ ارسطاطالیس حکیم جو تھا، فلسفی جو تھا، دَوَّنَ هَذَا الْعِلْمَ، اس نے مدون کیا اس علم کو بِأَمْرِ الْإِسْكَنْدَرِ الرُّومِيِّ، اسکندرِ رومی کے حکم سے۔ روم کا جو اسکندر تھا، یعنی وہ سکندرِ اعظم جسے جو بڑا فاتح گزرا ہے تاریخ کے اندر، جسے آپ سکندرِ اعظم کے نام سے جانتے ہیں، وہ اس کا یہ ارسطو استاد تھا، تو اس کے، وہ اور وہ بادشاہ تھا، اس کے حکم پر ارسطو نے باقاعدہ اس علم کو مدون کیا، بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ مدون کیا۔ وَلِهَذَا يُلَقَّبُ بِالْمُعَلِّمِ الْأَوَّلِ، اور اسی لیے اس کو لقب دیا جاتا ہے معلمِ اول کا۔ ارسطو کو کیا کہتے ہیں؟ معلمِ اول، کہ سب سے پہلے اس نے اس علم کو مدون کیا اور باقاعدہ لکھا، بھئی، اس کو۔ وَالْفَارَابِيُّ هَذَّبَ هَذَا الْفَنَّ، اور فارابی جو ہیں انہوں نے مہذب کیا اس فن کو وَهُوَ الْمُعَلِّمُ الثَّانِي، اور وہ معلمِ ثانی ہیں، بھئی۔ ان کو، فارابی کو کیا کہتے ہیں؟ معلمِ ثانی۔ ارسطو کو معلمِ اول، جنہوں نے تدوین کی اس علم کی پہلی مرتبہ، اس علم کو لکھا باقاعدہ۔ اور فارابی جو تھا، یہ پھر خلیفہ ہارون الرشید کے حکم پر، یہ فارابی مسلمان ہیں، انہوں نے خلیفہ ہارون الرشید کے حکم پر اس علم کا یونانی زبان سے عربی زبان میں ترجمہ کیا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اولین جو تھے ماہر اس مسلمانوں میں سے اس علم کے اور اس کو عربی میں منتقل کرنے والے اور اس کی تہذیب کرنے والے تھے، بھئی۔ اس لیے ان کو معلمِ ثانی کہتے ہیں۔ هَذَّبَ يُهَذِّبُ تہذیب کے معنی ہوتے ہیں صاف ستھرا کرنا۔ بھئی، جیسے دیکھو، درخت ہوتے ہیں، آپ نے باغ میں پودے وغیرہ لگائے ہیں، تو سال کے اندر جب ان کی شاخیں ایک ادھر ادھر بڑھ جاتی ہیں، آپ سال کے بعد وہ جو زائد شاخیں ہیں ان کو کاٹ کر سارے پودوں کو کیا کرتے ہیں؟ برابر کرتے ہیں، اس کو تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ کاٹ چھانٹ کر کے برابر کرنا اس کو کیا کہتے ہیں؟ تہذیب۔ تو زائد چیزیں، تو اسی طرح انہوں نے بھی جو بیکار وغیرہ باتیں شامل ہو گئی تھیں اس علم میں، ان کو نکالا اور اس کو صاف ستھرا کیا اور اچھے طریقے سے اس کو پیش کیا، تو اس لیے ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ معلمِ ثانی۔ وَبَعْدَ إِضَاعَةِ كُتُبِ الْفَارَابِيِّ، اور إِضَاعَة کا معنی ضائع ہو جانا۔ فارابی کی کتابوں کے ضائع ہو جانے کے بعد فَصَّلَهُ الشَّيْخُ أَبُو عَلِيٍّ ابْنُ سِينَى، پھر اس کے بعد اس کی تفصیل کی شیخ ابو علی ابنِ سینا نے۔ 2 يقال الشيخ الرئيس آجے تو مراد یہ ابو علی ابن سینا مراد ہوتے ہیں بھئی۔ تو فارابی کی کتابیں ساری کتابیں ضائع ہو گئیں، جل گئیں بھئی۔ تو اس کے بعد شیخ ابو علی ابن سینا نے پھر اس علم کو اور اچھے انداز میں مرتب کیا، مدون کیا اور لکھا اور ان کی ایک کتاب خاص طور پر جو سب سے زیادہ شہرت ان کی کتاب جس کو ملی، وہ ہے الشفاء۔ الشفاء ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے بھئی۔ تو انہوں نے تو ان کو منطق منطقی میں کس لقب سے، کس نام سے؟ الشیخ رئیس، الشیخ رئیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جہاں آ جائے قال الشیخ الرئیس یا قال الشیخ تو مراد ابو علی ابن سینا ہوتے ہیں۔ تو یہ جو ارسطو تھا، میں نے بتایا تھا آپ کو پہلے بھی یہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی تقریبا تین، ساڑھے تین، یہ تین سو، تین سو بائیس یا تیئیس قبل مسیح میں اس کا انتقال ہوا ہے۔ تین سو بائیس قبل مسیح، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی پہلے بھئی اس کا انتقال ہوا ہے اور تو معلوم ہوا اب سے تقریبا سوا دو ہزار یا ڈھائی ہزار سال پہلے۔ اور یہ جو فارابی ہیں، ان کا انتقال ہوا ہے 339 ہجری میں۔ آج کل کیا ہے؟ 1431 ہے تو تین سو، یعنی تقریبا ان کو بھی ہزار سال سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ بھئی، ہزار گیارہ سو سال۔ اور شیخ ابو علی ابن سینا جو ہیں، ان کا انتقال ہوا ہے 428 ہجری میں۔ یعنی فارابی کے تقریبا سو سال بعد ان کا انتقال ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ دوبارہ ترجمے کی ضرورت ہے؟ کر دوں یا کافی ہے بھئی، کر لیں گے اچھی طرح۔ تو علم منطق، بھئی منطق کسے کہتے ہیں؟ منطق بمانی بولنا، تو اس کو علم منطق کیوں کہتے ہیں؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: واما تسمیتہ بالمنطق فلتاسیرہ فی النطق الظاہری، اور باقی اس کا نام منطق رکھنا بوجہ اس کے اثر ڈالنے کے نطق ظاہری کے اندر۔ بھئی نطق ظاہری کیا ہے؟ کہتے ہیں: اعنی التکلمہ، یعنی کہ بولنا۔ إذ العارف به يقوى على التکلم بما لا يقوى عليه الجاهل، اس لیے کیونکہ اس علم کو جاننے والا قادر ہوتا ہے وہ بات کرنے پر بھی، بات کرنے پر اس طور پر کہ قادر نہیں ہوتا اس علم کو نہ جاننے والا۔ وقضا فی النطق الباطنی، اور اسی طرح یہ اثر ڈالتا ہے نطق باطنی کے اندر بھی۔ یہ نطق باطنی یعنی کہ ادراک، بھئی۔ اس لیے کیونکہ منطقی جو ہے وہ جانتا ہے چیزوں کی حقیقتیں بھی، ان کی اجناس بھی، فصلیں بھی، انواع بھی، لوازم بھی اور خواص بھی، بخلاف وہ شخص جو غافل ہو اس معزز علم سے، وہ ان چیزوں کو نہیں جانتا۔ تو دیکھو اس لیے اس لیے اس کو منطق کہتے ہیں۔ منطق کا معنی بھی کیا تھا؟ بولنا۔ اور یہ بھی نطق ظاہری، نطق کا بھی بولنا، نطق ظاہری میں بھی فائدہ دیتا ہے، بات چیت میں بھی اور نطق باطنی یعنی ادراک کے اندر بھی، جاننے کے اندر بھی فائدہ دیتا ہے۔ واما تسمیتہ بالميزان، اور باقی اس کو علم میزان کیوں کہتے ہیں؟ فلیانہ قسطاس للعقل، اس لیے کیونکہ یہ ترازو ہے عقل کے لیے، یوزن به الأفقار الصحیحہ، اس کے لیے تولا جاتا ہے، وزن کیا جاتا ہے صحیح فکروں کو، ویعرف بہ نقصان ما فی الأفقار الفاسدۃ، اور جانا جاتا ہے اس کے لیے وہ جو کمی ہوتی ہے خراب، فاسد افکار کے اندر، فاسد فکروں کے اندر، واختلال ما فی الأنزال القاصدۃ، اور وہ جو خرابی ہوتی ہے کھوٹی نظروں کے اندر، ان سب کو اس کے لیے جانا جاتا ہے۔ ومن ثم يققال له العلم العالی، اور اسی وجہ سے اس کو علم عالی بھی کہتے ہیں، لکونہا آلۃ لجميع العلوم، ووجہ اس کا آلا، اس وجہ سے کہ یہ آلہ ہے تمام علوم کے لیے، لا سیما للعلوم الحکمیۃ، خاص طور پر فلسفیانہ علوم کے لیے۔ فائدۃ: اعلم أن ارسطاطالیس الحکیم دون ھذا العلما، کہ ارسطاطالیس فلسفی جو تھا اس نے مدون کیا اس علم کو، بامر الاسکندر الرومی، سکندر رومی کے حکم سے، ولھذا یلقب بالمعلم الاولی، اسی لیے ارسطو کو معلم اول کے لقب دیا جاتا ہے۔ والفارابی ھذب ھذا الفن، اور فارابی نے تہذیب کی پھر اس فن کی، وھو المعلم الثانی، اور وہ کیا ہیں؟ معلم ثانی۔ وبعد اذاۃ کتب الفارابی، اور فارابی کی کتابوں کے ضائع ہو جانے کے بعد فصلہ الشیخ ابو علی ابن سینا، اس علم کی تفصیل بیان کی اس کو، اس کی علم کی وضاحت کی، اس کو پھر نئے سرے سے لکھا اور اس کی تفصیل بیان کی شیخ ابو علی ابن سینا نے بھئی۔ چلیے، بس بھئی! ھذا ھو المراد واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 15 of 108