LESSONS NO. 14
1
فَصْلٌ: إِيَّاكَ وَأَنْ تَظُنَّ أَنَّ كُلَّ تَرْتِيبٍ يَكُونُ صَوَابًا مُوصِلًا إِلَى عِلْمٍ صَحِيحٍ؛ كَيْفَ وَلَوْ كَانَ الأَمْرُ كَذَلِكَ مَا وَقَعَ الاِخْتِلاَفُ وَالتَّنَاقُضُ بَيْنَ أَرْبَابِ النَّظَرِ مَعَ أَنَّهُ قَدْ وَقَعَ؟ فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ: العَالَمُ حَادِثٌ، وَيَسْتَدِلُّ بِقَوْلِهِ: العَالَمُ مُتَغَيِّرٌ، وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ، فَالْعَالَمُ حَادِثٌ. وَمِنْ زَاعِمٍ يَزْعُمُ أَنَّ العَالَمَ قَدِيمٌ غَيْرُ مَسْبُوقٍ بِالعَدَمِ، وَيُبَرْهِنُ عَلَيْهِ بِقَوْلِهِ: العَالَمُ مُسْتَغْنٍ عَنِ المُمَثِّلِ، وَكُلُّ مَا هَذَا شَأْنُهُ فَهُوَ قَدِيمٌ.
بھئی، آپ نے علم کے بارے میں بھی پڑھ لیا کہ علم وہ حصولِ صورت کا نام ہے یا علم صورتِ حاصلہ کا نام ہے، چار پانچ تعریفات آپ نے پڑھ لیں بھئی۔
تو آسان لفظوں میں علم کا معنی ہے جاننا۔ پھر آپ نے پڑھا تھا کہ یہ علم دو قسم پر ہے: ایک کو کیا کہتے ہیں؟ تصور، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق۔ تصور وہ ہے جس کے اندر حکم نہ ہو، اور تصدیق وہ ہے جس کے اندر حکم ہو۔
اور حکم کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پڑھا تھا کہ نسبتِ تامّہ خبریہ کا یقین ہو۔ پھر اس کے بعد آپ نے پڑھا کہ تصور اور تصدیق دو دو قسم پر ہیں: یا وہ بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے۔ بدیہی کا معنی جہاں غور و فکر کی ضرورت نہ ہو، خود بخود سمجھ میں آ جائے، اور نظری وہ جو نظر و فکر کا محتاج ہو، کس کا محتاج ہو؟ نظر و فکر کا محتاج ہو۔
تو اب سوال پیدا ہوا نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ تو گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ نظر اور فکر کسے کہتے ہیں کہ کچھ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم چیز کو حاصل کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ نظر و فکر۔ کسے کہتے ہیں نظر و فکر؟ کچھ معلوم، کچھ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم چیز کو حاصل کرنا، یہ کیا ہے؟ نظر و فکر ہے بھئی۔
یاد رکھیے نظر اور فکر کا ایک ہی معنی ہے۔ نظر کا معنی بھی کچھ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجهول چیز کو حاصل کرنا، اور فکر کا بھی یہی معنی ہے کچھ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجهول چیز کو حاصل کرنا۔
تو معلوم ہوا کہ تصورِ معلوم کے ذریعے ہم کس کو حاصل کریں گے؟ تصورِ مجهول کو۔ تو کچھ تصورِ معلوم لیں، ان کو خاص ترتیب دیں، تو اس سے آپ کو تصورِ مجهول حاصل ہو گا۔
اور تصدیقِ معلوم، کچھ تصدیقِ معلوم کو ساتھ ملائیں تو اس سے ہمیں کیا حاصل ہو گی؟ تصدیقِ مجهول۔ تو تصور ہمیشہ تصور ہی سے حاصل ہو گا، اور تصدیق ہمیشہ تصدیق ہی سے حاصل ہو گی، یہ نہیں ہو سکتا کہ تصور تصدیق سے حاصل ہو جائے یا تصدیق تصور سے حاصل ہو جائے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے انگریزی انگریزی پڑھنے سے ہی آئے گی، عربی عربی پڑھنے سے ہی آئے گی بھئی، یہ نہیں ہو سکتا کہ عربی پڑھیں اور انگریزی آ جائے يا انگریزی پڑھیں اور عربی آ جائے۔ تو اسی طرح یہاں بھی تصورِ معلوم کو ترتیب دیں گے تو کیا حاصل ہو گا؟ تصورِ مجهول، اور تصدیقِ معلوم کو ترتیب دیں گے تو کیا حاصل ہو گی؟ تصدیقِ مجهول۔
تو بس نظر و فکر آپ نے پڑھا، یہ ان معلوم تصوروں کو یا معلوم تصدیقوں کو ترتیب دینا ہے، خاص ترتیب سے ان کو جوڑنا ہے کہ جس سے آپ کو وہ مجهول تصور یا مجهول تصدیق حاصل ہو جائے۔ معلوم تصوروں کو خاص ترتیب سے ملائیں گے تو کیا حاصل ہو گا؟ مجهول تصور، اور معلوم تصدیقوں کو خاص ترتیب سے ملائیں گے تو مجهول تصدیق حاصل ہو گی۔
تو معلوم ہوا کہ ترتیب سے جوڑنا پڑے گا ان کو، کس سے جوڑنا پڑے گا؟ ترتیب سے جوڑنا پڑے گا اور جیسے اس کی تصدیق کی مثال گزری کہ العالم متغیر، وكل متغیر حادث، نتیجہ کیا نکلا؟ العالم حادث، کہ عالم کیا ہے؟ حادث۔ یہ جہان حادث ہے۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا حادث کا کیا معنی ہے؟ حادث کسے کہتے ہیں؟ جس پر کبھی عدم آیا ہو، یعنی ہمیشہ سے اس کا وجود نہ ہو، کوئی زمانہ ایسا آیا ہو کہ اس کا وجود نہیں تھا بھئی۔ تو یہاں دو لفظ ہیں: ایک حادث اور ایک قدیم بھئی۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں، قدیم اس کو کہتے ہیں جس پر عدم کبھی نہ آیا ہو، اور حادث اسے کہتے ہیں جس پر عدم آیا ہو بھئی۔
تو لہٰذا اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں، باقی تمام چیزیں حادث ہیں۔ انسان، جنات، فرشتے، آسمان، زمین، یہ سب حادث ہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ ان کا وجود نہیں تھا، پھر اللہ نے ان کو پیدا فرمایا، تو یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ حادث، اور اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات وہ کیا ہیں؟ قدیم ہیں، ہمیشہ سے ہیں بھئی، ہمیشہ سے۔
تو لہٰذا آپ کو معلوم ہوا کہ جب تصورِ معلوم کو ترتیب دیں گے تو پھر ہمیں اس سے کیا حاصل ہو گا؟ تصورِ مجهول، اور تصدیقِ معلوم کو ترتیب دیں گے تو اس سے ہمیں کیا حاصل ہو گا؟ تصدیقِ مجهول بھئی، تصدیقِ مجهول بھئی۔
اور پھر یاد رکھیے یہ ترتیب دینے میں غلطی بھی واقع ہو جاتی ہے۔ غلطی واقع ہو گی تو نتیجہ بھی غلط نکلے گا، غلطی واقع ہو گی تو نتیجہ بھی۔ مثلاً بھئی! آپ کے پاس دو، تین، چار تصور ہیں، ان کو جب معلوم ہیں، آپ جب ان کو ملائیں گے تو آپ کو کیا حاصل ہو گا؟ نامعلوم تصور یعنی مجهول تصور آپ کو حاصل ہو جائے گا۔
لیکن اس کے لیے ترتیب ضروری ہے، مثلاً آپ کے پاس کرسی کے حصے الگ الگ پڑے ہوئے ہیں، بنی نہیں اس کے حصے الگ الگ آپ کے پاس موجود ہیں۔ تو ان کو آپ کو ایک خاص ترتیب سے جوڑنا پڑے گا، پھر ہی کرسی آپ کو اس سے حاصل ہو گی اور کرسی بن جائے گی بھئی۔ لیکن اگر آپ سے یہ ترتیب میں غلطی ہو گئی تو پھر کرسی صحیح نہیں بنے گی۔ اسی طرح تو یہ مثال ہو گئی مثلاً معلوم تصوروں کو ترتیب دیں گے تو کیا حاصل ہو گا؟ مجهول تصور۔
جی! اور اگر میز بنانی ہے مثلاً، تو میز کے حصوں کو صحیح ترتیب سے آپ آپس میں جوڑیں گے تو پھر اس کے بعد آپ کو میز حاصل ہو گی۔ اگر اس ترتیب میں اس کے بنانے میں کوئی غلطی ہو گئی تو پھر آپ کو وہ نتیجہ حاصل نہیں ہو گا۔ تو اس بنانے کے اندر، اس ترتیب کے اندر، یہ جو ہم معلوم تصوروں کو ترتیب دیتے ہیں یا ہم معلوم تصدیقوں کو کیا کرتے ہیں؟ ترتیب دیتے ہیں، اس میں غلطی کا بھی امکان ہوتا ہے، ہمیشہ یہ درست ہی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھار اس میں غلطی بھی ہوتی ہے۔
چنانچہ یہی وجہ ہے آپ خود دیکھیں گے بھئی کہ مناطقہ کی رائے مختلف چیزوں میں وہ مختلف ہوتی ہے، ایک ایک بات کرتا ہے تو دوسرا دوسری بات کرتا ہے۔ مثلاً اس کی ایک مثال انہوں نے کتاب کے اندر ذکر کر دی کہ مثلاً بعض مناطقہ جو ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ عالم قدیم ہے۔ جبکہ ہمارا کیا عقیدہ ہے؟ یہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ عالم قدیم ہے۔
تو وہ بھی معلوم تصوروں کو ملا کر اس مجهول معلوم تصدیقوں کو ملا کر اس مجهول تصدیق کو حاصل کرتے ہیں، اور ہم بھی کیا کرتے ہیں ان کے مقابلے میں؟ معلوم تصدیقوں کو ملا کر مجهول تصدیق کو یعنی نتیجے کو حاصل کرتے ہیں، اس تک پہنچتے ہیں۔ تو ہم کیا دلیل پیش کرتے ہیں؟
ہاں، وہ کل میں نے الفاظ ان کے نام آپ کو بتائے تھے بھئی: معلوم تصوروں کو ملایا تو آپ کو کیا حاصل ہوئے؟ نامعلوم یعنی مجهول تصور۔ تو یہ جو معلوم تصور ہیں اس کا کیا نام ہے؟ معرف، تعریف اور قولِ شارح۔ اور وہ جو مجهول تصور آپ کو حاصل ہوا اس کا نام کیا ہے؟ معرف ہے بھئی، معرف۔
اور اگر تصدیق میں ایسا ہو کچھ معلوم تصدیقوں کو ملایا اور ایک مجهول تصدیق آپ کو حاصل ہوئی، تو یہ جو معلوم تصدیقیں تھیں جن کو آپ نے ترتیب دیا، ان کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت، ان کو دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ اور وہ جو مجهول تصدیق آپ کو حاصل ہوئی اسے کیا کہیں گے؟ نتیجہ بھی کہتے ہیں اور مطلوب بھی کہتے ہیں، مطلوب وہ جو مقصود ہو بھئی۔
تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی، اب بعض مناطقہ کہتے ہیں کہ عالم قدیم ہے، بعض کہتے ہیں کہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ اب عالم حادث، یہ ہمارا عقیدہ ہے، ہم کہتے ہیں مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ یہ سب چیزیں فنا ہو جائیں گی، اور پھر وہ حساب کتاب کا عظیم نظام قائم ہو گا اور اس کے بعد جنت اور جہنم کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تو یہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں تو یہ سارا جہان حادث ہوا بھئی۔ تو اس کے لیے ہم دلیل کیا ذکر کرتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں: العالم متغیر، یہ جہان کیا ہے؟ متغیر ہے۔ متغیر کا کیا معنی؟ جس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں آپ خود دیکھتے ہیں، وكل متغیر حادث، پہلی پہلی تصدیق کیا تھی؟ العالم متغیر، یہ بات بھی ہمیں معلوم ہے، وكل متغیر حادث، ہر وہ چیز جس میں تبدیلیاں آئیں وہ کیا ہوتی ہے؟ حادث ہوتی ہے، یہ بھی ہمیں معلوم۔ اب ہم ان دونوں کو دیکھو ملائیں گے، ترتیب دیں گے، تو ہمارا مطلوب اور وہ جو نتیجہ جو مقصود ہے وہ حاصل ہو جائے گا، مقصود ہمارا کیا ہے؟ دعویٰ ہمارا کیا ہے؟ کہ العالم حادث، یہ ہمیں ثابت کرنا ہے۔ تو ہم کیا کہتے ہیں: العالم متغیر، وكل متغیر حادث، نتیجہ کیا نکلا؟ العالم حادث۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اردو میں کر لیں۔ یہ اس عالم میں تبدیلیاں، اس جہان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، اور جس چیز میں تبدیلیاں آئیں وہ حادث ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ عالم بھی حادث ہے۔
تو یہی بات عربی میں ہے: العالم متغیر، وكل متغیر حادث، نتیجہ کیا نکلا؟ العالم حادث۔
اس کے مقابلے میں دوسرے مناطقہ جو قیامت وغیرہ کے منکر ہیں، اسلام کو تسلیم نہیں کرتے، وہ وہ اپنی دلیل ذکر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں یہ عالم قدیم ہے، یعنی ہمارا دعویٰ تو تھا یہ عالم حادث ہے، ہم نے اس پہ دلیل پیش کر دی۔ یہ جو دو معلوم تصدیقیں ملائیں ان کو کیا کہتے تھے؟ جن سے نامعلوم تصدیق حاصل ہوئی۔ ہاں، ان کو دلیل اور حجت کہتے ہیں، تو ہم نے اپنی دلیل پیش کر دی۔ اب وہ کیا کہتے ہیں؟ ان کا دعویٰ کیا ہے؟ العالم قدیم، ہمارا دعویٰ کیا تھا؟ العالم حادث، ان کا دعویٰ ہے العالم قدیم۔ وہ پھر اس کے لیے اپنی دلیل پیش کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: العالم مستغن عن المؤثر، العالم مستغن عن المؤثر، کتاب میں یہ آپ کے عبارت دی ہوئی ہے بھئی: العالم مستغن عن المؤثر، کہ یہ جہان مستغنی ہے یعنی اسے حاجت نہیں ہے مستغنی ہے مؤثر سے، کسی اثر ڈالنے والے سے۔
اس میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہیں اس جہان کے اندر، یہ جہان کا نظام خود بخود چل رہا ہے بھئی، اس جہان کا نظام خود بخود چل رہا ہے۔
تو وہ کہتے ہیں: العالم مستغن عن المؤثر، کہ یہ عالم کیا ہے؟ مستغنی ہے، مستغنی جسے کسی چیز کی حاجت نہ ہو، بے پروا۔ یہ عالم بے پروا ہے کسی مؤثر سے یعنی اثر ڈالنے والے سے، اس عالم میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہیں، یعنی یہ خود بخود بنا ہے اور اس کا نظام یہ ہمیشہ سے اسی طرح ہے، اور اس کا نظام چلانے کے لیے کسی ذات کی ضرورت نہیں ہے، تو یہ عالم مستغنی ہے مؤثر سے، یعنی بے پروا ہے کسی اثر ڈالنے والے سے، اس عالم میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہیںے۔ ہم تو کہتے ہیں اس عالم کو اللہ تعالیٰ چلا رہے ہیں، اگر اللہ کی ذات اگر اللہ کی ذات اسے نہ بناتی تو اس کا وجود بھی نہ ہوتا، اور پہلے اس کا وجود نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے بنایا بھئی۔
تو وہ کہتے ہیں نہیں، یہ عالم قدیم ہے، ہمیشہ سے ہے، اس میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہیں، اور جس میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہ ہو وہ قدیم ہوتا ہے۔
سمجھ میں آ رہی ہے بات کہ نہیں بھئی؟ اس عالم میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہیں، اور جس میں کسی اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہ ہو وہ کیا ہوتی ہے چیز؟ وہ قدیم ہوتی ہے، معلوم ہوا یہ عالم بھی قدیم ہے۔
دہرائیں زبان سے بھئی! کیا میں نے بات کی؟ کہ یہ عالم اس میں اس میں کسی مؤثر کی ضرورت نہیں۔ اور جس کے لیے جس چیز کو کسی مؤثر کی ضرورت نہ ہو وہ کیا ہوتی ہے؟ قدیم۔ دوبارہ دہرائیں! اس عالم میں اس عالم کو کسی مؤثر کی ضرورت نہیں، اور جس چیز کو کسی مؤثر کی ضرورت نہ ہو وہ قدیم ہوتی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ عالم یہ عالم قدیم ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارا دعویٰ تھا کہ یہ عالم ہمارا کیا دعویٰ تھا؟
2
دونوں چیزیں تو ہو نہیں سکتی۔ معلوم ہوا ایک نظر ان میں سے صحیح ہے اور ایک نظر غلط ہے غلط ہے۔
تو معلوم ہوا کہ نظر و فکر کے اندر غلطی واقع ہوتی ہے جیسے مثال ابھی گزر گئی بھئی۔ مثال سے بات واضح ہو گئی، ایک گروہ کہتا ہے عالم حادث دوسرا کہتا ہے عالم قدیم، دونوں چیزیں تو ہو نہیں سکتیں۔ لازمی بات ہے ایک ہی بات ہوگی یا عالم ہمیشہ سے ہے یا عالم ہمیشہ سے نہیں، ایک ہی بات ہو سکتی ہے دونوں تو ہو نہیں سکتی۔ معلوم ہوا دونوں میں سے ایک ترتیب غلط ہے اور ایک ترتیب صحیح ہے بھئی۔
تو لہذا کہتے ہیں اب ہمیں ضرورت ہوئی ایک ایسے علم کی جس کے ذریعے ہمیں درست اور غلط کا پتہ چلے، نظر و فکر میں درست اور غلط کی ہمیں پہچان کروائے۔
بھئی نظر و فکر میں کبھی کیا واقع ہو جاتی ہے؟ غلطی واقع ہو جاتی ہے، تو اب پتہ تو نہیں چلے گا کہ کون سی نظر و فکر صحیح ہے، کون سی غلط ہے۔ تو اس کے لیے ہمیں کس کی ضرورت پڑی؟ ایک ایسے علم کی ضرورت پڑی جو کیا کرے؟ ہمیں پہچان کروا دے، کس چیز کی پہچان کروا دے؟ کہ کون سی نظر صحیح ہے اور کون سی نظر غلط ہے۔ بس یہ علم جو ہمیں اس کی پہچان کروائے، وہ ہے علم منطق بھئی۔ وہ کیا ہے؟ علم منطق بھئی۔
تو علم منطق کے ذریعے ہمیں صحیح اور غلط فکر میں فرق معلوم ہو جائے گا بھئی، یہ ہمیں غلطی سے بچا لے گا اس ترتیب کے اندر جہاں کہیں ہم سے غلطی واقع ہوگی یہ علم ہمیں کیا کرے گا؟ اس غلطی سے بچا لے گا، جب پوری طرح اس علم کو اپ جان لیں گے تو پھر یہ انسان کو غلطی میں واقع نہیں ہونے دیتا، بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟
خلاصہ بحث کیا ہوا؟ کہ اپ نے پڑھا نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم یا مجهول چیز کو حاصل کرنا یہ ہے نظر و فکر، اس نظر و فکر میں کبھی کیا ہو جاتی ہے؟ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ تو ضرورت پیش آئی ایک ایسے علم کی جو نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرے، وہ علم کون سا علم ہے؟ منطق ہے، منطق جب ہم پوری طرح جان لیں گے تو یہ ہمیں کیا کرے گا؟ غلطی سے بچا لے گا۔ یہ ہے خلاصہ سبق، سب کو بات سمجھ میں آگئی؟
اب دیکھیے بھئی کتاب پر:
فَصْلٌ، أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ خبر ہے مبتدا محذوف ہے، هَذَا فَصْلٌ یہ فصل ہے۔
إِيَّاكَ وَأَنْ تَظُنَّ
إِيَّاكَ وَأَنْ تَظُنَّ اس کا معنی ہے دور رکھ تو اپنے اپ کو یہ گمان کرنے سے۔
یہ ہدایت النحو کے اندر آگے تفصیل ا جائے گی کہ یہ کس طرح تھا اور کیسے بنا، بس اتنا یاد رکھیں إِيَّاكَ وَأَنْ تَظُنَّ۔
تو اپنے اپ کو یہ گمان کرنے سے دور رکھ، یعنی یہ گمان نہ کرنا، مراد کیا ہے؟ اس گمان سے اپنے اپ کو دور رکھو یعنی یہ گمان مت کرو۔
إِيَّاكَ وَأَنْ تَظُنَّ اپ اپنے اپ کو اس گمان سے بچائیں، اس گمان سے اپنے اپ کو دور رکھیں، أَنَّ كُلَّ تَرْتِيبٍ يَكُونُ صَوَابًا مُوصِلًا إِلَى عِلْمٍ صَحِيحٍ کہ ہر ترتیب جو ہے وہ صحیح ہوگی، پہنچا مُوصِلًا پہنچانے والی ہوگی إِلَى عِلْمٍ صَحِيحٍ صحیح علم تک۔
اپ یہ گمان مت کرنا کہ ہر ترتیب صحیح ہوتی ہے اور وہ صحیح علم تک پہنچا دیتی ہے، ابھی اپ نے دیکھا، ہر ترتیب صحیح تھی؟ صحیح علم تک پہنچانے والی تھی؟ نہیں، تو ایسا نہیں ہے، تو لہذا اپ یہ کبھی گمان نہ کرنا کہ ہر ترتیب صحیح ہوتی ہے اور وہ صحیح علم تک پہنچاتی ہے، كَيْفَ کیسے؟ یعنی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہر ترتیب صحیح ہو اور صحیح علم تک پہنچا دے؟ وَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ اور اگر ہوتا معاملہ اسی طرح، یعنی ہر ترتیب کیا کرتی؟ درست ہوتی اور ہمیں علم صحیح تک پہنچا دیتی، مَا وَقَعَ الِاخْتِلَافُ وَالتَّنَاقُضُ تو اختلاف اور تناقض، تناقض اور اختلاف کا ایک معنی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک معنی ہے، یا تناقض کا معنی پھر تضاد کے کر لیں بھئی، تو واقع مَا نافیہ ہے بھئی، نفی کے لیے، مَا وَقَعَ واقع نہ ہوتا اختلاف اور تضاد بَيْنَ أَرْبَابِ النَّظَرِ۔
ارباب نظر؟ نظر و فکر والے، نظر و فکر والے، یعنی مناطقہ بھئی، کون مراد ہیں؟ مناطقہ مراد ہیں۔
اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا، یعنی کہ ہر ترتیب درست ہوتی اور صحیح علم تک پہنچاتی، تو پھر تو اختلاف اور تضاد واقع نہ ہوتا مناطقہ کے درمیان، مَعَ أَنَّهُ قَدْ وَقَعَ باوجود اس کے کہ اختلاف تو واقع ہوا ہے۔
قَدْ وَقَعَ اس کی ضمیر راجع ہے اسی اختلاف کو بھئی، حالانکہ باوجود اس کے کہ اختلاف تو کیا ہوا ہے؟ واقع ہوا ہے۔
سمجھ میں آرہی ہے بات کہ نہیں بھئی؟ کہتے ہیں یہ مت گمان کرنا کہ ہر ترتیب درست ہوتی ہے اور صحیح علم تک پہنچاتی ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ایسی بات ہوتی کہ ہر ترتیب صحیح ہوتی اور ہر ترتیب کیا ہے؟ صحیح علم تک پہنچاتی، پھر تو مناطقہ کا اپس میں اختلاف نہ آتا، حالانکہ مناطقہ کا تو اپس میں اختلاف آیا ہے، ایک نے ایک بات کہی، دوسرے نے دوسری کہی ہے، تو دونوں میں سے ایک ہی صحیح ہو سکتی ہے، معلوم ہوا کہ اس ترتیب میں کبھی غلطی بھی آتی ہے، تو پھر یہ صحیح علم نہیں بلکہ کہاں تک پہنچائے گا؟ غلط علم تک پہنچائے گا، اور اگر ترتیب صحیح ہوئی تو وہ صحیح علم تک۔
فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ پس کہنے والوں میں سے ایک کہتا ہے، یعنی مناطقہ کا ایک گروہ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ پس کہنے والوں میں سے کہتا ہے، الْعَالَمُ حَادِثٌ کہ جہان کیا ہے؟ حادث ہے، وَيَسْتَدِلُّ بِقَوْلِهِ اور وہ دلیل پیش کرتا ہے اپنے اس قول کے ساتھ، دلیل کے طور پر اپنا یہ قول پیش کرتا ہے، دعویٰ کیا ہے؟ الْعَالَمُ حَادِثٌ، اور دلیل کے طور پر اس نے یہ قول ذکر کرتا ہے کہ الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ کہ عالم متغیر ہے اور ہر متغیر کیا ہوتا ہے؟ حادث ہوتا ہے، فَالْعَالَمُ حَادِثٌ پس عالم کیا ہے؟ حادث ہے، دعویٰ اپنا ثابت کر دیا۔
وَمِنْ زَاعِمٍ يَزْعُمُ اور بعض گمان کرنے والوں میں سے گمان کرتے ہیں، یہ گمان کرتے ہیں، اوپر آیا تھا: بعض کہنے والوں میں سے یہ کہتے ہیں، اب آ رہا ہے: بعض گمان کرنے والوں میں سے یہ گمان، چونکہ پہلی بات حق ہے کہ عالم حادث ہے ہمیشہ سے نہیں، اسے اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔ تو اس کے لیے يَقُولُ لے کر آئے بھئی، مِــنْ قَائِلٍ يَقُولُ لے کر آئے، اور یہ چونکہ آگے بات کرنے لگے ہیں یہ بات حق نہیں ہے کہ یہ عالم قدیم ہے، قدیم تو صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات، تو اس کے لیے زَعَمَ کا لفظ لے کر آئے بھئی، وَمِنْ زَاعِمٍ يَزْعُمُ، زَعْمٌ کہتے ہیں گمان باطل کو بھئی، گمان باطل، تو ان کے لیے اشارہ کر دیا یہی پر کہ آگے جو کہنے والے ہیں ان کی بات صحیح نہیں۔
وَمِنْ زَاعِمٍ يَزْعُمُ اور گمان کرنے والوں میں سے کوئی گمان کرتا ہے، کیا گمان کرتا ہے؟ أَنَّ الْعَالَمَ قَدِيمٌ کہ عالم کیا ہے؟ قدیم ہے، غَيْرُ مَسْبُوقٍ بِالْعَدَمِ۔
بھئی مسبوق بالعدم، مسبوق بالعدم کا معنی ہے جس پر پہلے عدم آیا ہو، یعنی وہی حادث، وہی حادث۔
مسبوق بالعدم کا کیا معنی؟ جس پر پہلے عدم آیا ہو۔
اور غیر مسبوق بالعدم کا کیا معنی ہوا؟ وہ اپ خود بخود سمجھ گئے، جس پر پہلے عدم نہ آیا ہو، یہ وہی قدیم کا معنی کر رہے ہیں بھئی، کیا کر رہے ہیں؟ قدیم کا معنی کر رہے ہیں۔
تو بعض گمان کرنے والوں کا یہ گمان ہے أَنَّ الْعَالَمَ قَدِيمٌ کہ عالم کیا ہے؟ قدیم ہے، غَيْرُ مَسْبُوقٍ بِالْعَدَمِ اس پر پہلے کبھی عدم نہیں آیا، وَيُبَرْهِنُ عَلَيْهِ بَرْهَنَ يُبَرْهِنُ کے معنی ہوتے ہیں دلیل پیش کرنا، اور دلیل پیش کرتے ہیں اپنے اس قول پر، اپنے اس دعویٰ پر بِقَوْلِهِ اپنے اس قول کے ساتھ، وہ کہتے ہیں الْعَالَمُ مُسْتَغْنٍ عَنِ الْمُؤَثِّرِ کہ یہ جہان بے پرواہ ہے کسی مؤثر سے، اس میں کسی مؤثر کی، اثر ڈالنے والے کی ضرورت نہیں، وَكُلُّ مَا هَذَا شَأْنُهُ فَهُوَ قَدِيمٌ، وَكُلُّ مَا ہر وہ چیز هَذَا شَأْنُهُ جس کی یہ حالت ہو، جس کا یہ حال ہو، ہر وہ چیز جس کا یہ حال ہو، کیا حال ہو؟ کہ وہ مؤثر سے بے پرواہ ہو، وہ مؤثر سے بے پرواہ ہو، فَهُوَ قَدِيمٌ وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ قدیم ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ عالم قدیم ہے، کہ عالم قدیم ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یوں انہوں نے اپنے الفاظ استعمال کیے، اپ اپنے الفاظ بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ اسی مُسْتَغْنٍ کو دوبارہ لے آئیں، کس طرح؟ پہلا یہ پہلا جملہ یہ ہو جائے گا: الْعَالَمُ مُسْتَغْنٍ عَنِ الْمُؤَثِّرِ وَكُلُّ مُسْتَغْنٍ عَنِ الْمُؤَثِّرِ فَهُوَ قَدِيمٌ، نتیجہ کیا نکلا؟ الْعَالَمُ قَدِيمٌ۔
وَلَا أَظُنُّكَ شَاكًّا، اچھا بھئی، بھئی دونوں ایک نے کہا عالم قدیم ہے، ایک نے کہا عالم حادث ہے، کیا دونوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں؟ دونوں باتیں صحیح نہیں، یہی بات کرنے لگے ہیں صاحب کتاب مصنف فرماتے ہیں وَلَا أَظُنُّكَ شَاكًّا میں گمان نہیں کرتا اپ کے بارے میں کہ اپ شَاكًّا شک کرنے والے ہوں اس بات فی أَنَّ اس بات کے اندر کہ أَحَدَ الْفِكْرَيْنِ صَحِيحٌ حَقٌّ کہ دو فکروں میں سے ایک صحیح حق ہے وَالْآخَرُ فَاسِدٌ اور دوسری کیا ہے؟ فاسد۔
مصنف فرما رہے ہیں کہ اپ کو پتہ لگ گیا دو باتوں کا، ایک نے کیا کہا عالم قدیم، دوسرے نے کہا عالم حادث، کہتے ہیں میرا نہیں گمان کہ اپ کو اس بات میں شک ہو کہ ان دونوں میں سے ایک بات صحیح ہے، حق ہے اور دوسری غلط ہے، فاسد ہے۔ یقیناً اپ بھی کیا سمجھتے ہیں؟ ان میں سے ایک بات حق ہے اور دوسری غلط ہے، تو اس میں اپ کو کہتے ہیں کسی قسم کا شک نہیں ہوگا کہ ان یقیناً ان میں سے ایک غلط ہے اور ایک کیا ہے؟ صحیح ہے، دونوں کو اپ صحیح نہیں سمجھتے۔
مصنف کیا کہہ رہے ہیں کہ میرا یہ گمان، میں یہ میرا یہ گمان نہیں ہے کہ اپ کو اس بات میں شک ہوگا کہ ان دو میں سے ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے بھئی، یقیناً اپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ان دو چیزوں میں سے ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے، دونوں صحیح نہیں ہو سکتیں۔
وَإِذَا كَانَ قَدْ وَقَعَ الْغَلَطُ فِي فِكْرِ الْعُقَلَاءِ اور جب تحقیق واقع ہوا ہے، قَدْ وَقَعَ تحققا تحقیق کے لیے، اور جب تحقیق واقع ہوا ہے واقع ہوئی ہے غلطی فِي فِكْرِ الْعُقَلَاءِ عقلاء کی فکر میں، عقلاء کی فکر میں، جب ان کی فکر میں، عقل والوں کی فکر میں یا یوں کہیں مناطقہ کی فکر میں، جب ان کی فکر میں غلطی واقع ہوئی ہے، بھئی دو میں سے ایک یقیناً کیا ہے؟ غلط، معلوم ہوا ان کی فکر اور نظر میں کیا واقع ہوئی ہے؟ غلطی، تو جب یہ تحقیق غلطی واقع ہوئی ہے عقلاء کی فکر میں، فَعُلِمَ مِنْ ذَلِكَ تو معلوم ہوا اس سے کہ أَنَّ الْفِطْرَةَ الْإِنْسَانِيَّةَ غَيْرُ كَافِيَةٍ کہ فطرت انسانی وہ کافی نہیں ہے فِي تَمْيِيزِ، یہ تمییز میں دو یا ہونی چاہئیں بھئی، مَيَّزَ يُمَيِّزُ تَمْيِيزًا بھئی، کہ فطرت انسانی جو ہے، انسانی فطرت جو ہے وہ کافی نہیں ہے فِي تَمْيِيزِ الْخَطَأِ مِنَ الصَّوَابِ، خَطَأِ یہ ہمزہ آخر میں الف کے بعد لکھا اس کو الف کے اوپر لکھنا چاہیے بھئی، تمییز کہ انسانی فطرت کافی نہیں ہے فِي تَمْيِيزِ، تمییز کا معنی ہے جدا کرنا، الگ کرنا، تَمْيِيزِ الْخَطَأِ مِنَ الصَّوَابِ غلط کو جدا کرنا درست سے، غلط کو جدا کرنا درست سے۔
فَعُلِمَ مِنْ ذَلِكَ پس اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی فطرت غَيْرُ كَافِيَةٍ وہ کافی نہیں ہے فِي تَمْيِيزِ الْخَطَأِ مِنَ الصَّوَابِ غلط کو درست سے الگ، غلط کو صحیح سے الگ کرنے میں۔
بھئی دیکھیے انہوں نے بتلایا کہ بعض عقلاء نے کیا کہا؟ الْعَالَمُ حَادِثٌ، بعض نے کہا: الْعَالَمُ قَدِيمٌ، تو دونوں میں سے ایک بات یقیناً صحیح ہے اور دوسری غلط ہے، دیکھیے پتہ چل گیا کہ عقلاء کی فکر میں کیا واقع ہوتی ہے کبھی کبھار؟ غلطی واقع ہوتی ہے جیسے کہ اپ نے خود بھی دیکھ لیا، پس اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی فطرت وہ کافی نہیں ہے کہ وہ درست کو غلط سے جدا کر سکے، بتلا سکے کہ یہ چیز صحیح ہے اور یہ چیز غلط، اگر انسانی فطرت کافی ہوتی پھر تو دونوں کی رائے ایک جیسی ہونی تھی، غلط کسی کی بھی رائے غلط نہ ہوتی۔ ایک کی رائے غلط ہو گئی یا نہیں بھئی؟ اگر انسانی فطرت ہی اسے بتا دیتی کہ یہ چیز غلط ہے تو کبھی وہ غلط بات کرتا؟ وہ غلط بات نہ کرتا، معلوم ہوا انسانی فطرت سے جو ہے صحیح اور غلط میں تمییز نہیں ہو سکتی، دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
انسانی فطرت، فطرت کا لفظ آیا بھئی، فطرت۔
یاد رکھیے فطرت وہ وہ صفت کہہ لیں، وہ طبیعت جس پر کسی چیز کی پیدائش ہوتی ہے اس کو اس کی فطرت کہا جاتا ہے بھئی۔ اسے کیا کہا جاتا ہے؟ اس کی فطرت بھئی۔
جیسے بھئی پرندے اپ دیکھتے ہیں، پرندے کے بچے پیدا ہوئے اور پھر جب وہ بڑے ہوتے ہیں، جب ان کے انڈے دینے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنا گھونسلہ بناتے ہیں، بھئی یہ کس نے بتایا ان کو گھونسلہ بنانا ہے اور کس طرح بنانا ہے؟ کسی نے بھی نہیں بتایا ان کو، کسی نے بھی نہیں سکھایا، بس اللہ نے ان کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے، ان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ اس طریقے سے کیا کرنا ہے؟ گھونسلہ بنانا ہے، تو یہاں سیکھنے وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں بھئی۔
سمجھ میں آئی بات؟ اسی طرح انسان کی فطرت میں اللہ نے رکھا ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرے بھئی، کہ ایک کوئی ایک ذات ہے جو اس سارے نظام کو اس سارے عالم کو چلا رہی ہے۔ ہر انسان کی فطرت میں اللہ نے یہ بات رکھی ہے اور اسی پر اس کی پیدائش ہوتی ہے، ہاں بعد میں ماحول کا اثر پڑتا ہے، اس کے ماں باپ کا اثر پڑتا ہے، چنانچہ کوئی انہیں یہودی بنا دیتا ہے ماں باپ انہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں، تو یہ ان کے ارد گرد کا ماحول جو ہے ان پر اثر انداز اور ان کے ماں باپ اور ان کے رشتہ دار ان پر اثر انداز ہوئے، اگر یہ چیزیں اثر انداز کسی پر نہ ہوں اور اسی طرح وہ بڑا ہو تو اس کی فطرت اس کی خود اسے پکار کر کہے گی کہ کوئی نہ کوئی ذات ہے جو کیا کر رہی ہے اس سارے نظام کو چلا رہی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ بھی جو ہر حال میں اللہ کا انکار کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں اللہ ہے ہی کوئی نہیں، کوئی ایسی ذات ہے ہی نہیں، ان کے واقعات باقاعدہ آتے ہیں کہ جب وہ اتنی مشکل میں کہیں سخت ترین مشکل میں گرفتار ہو جاتے تو خود بخود ان کا ذہن اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا کہ اے اللہ ہمیں کیا کر؟ اس تکلیف سے نجات دے دے، ساری زندگی کبھی مانتے ہی نہیں ہیں لیکن جب شدید تکلیف ا جاتی تو پھر بالآخر وہ جو آواز اللہ نے ان کے اندر رکھی ہے جس پر ان کی پیدائش ہوئی ہے وہ بالآخر ظاہر ہو ہی جاتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو یہ فطرت ہے جو اللہ نے پیدائشی طور پر کسی چیز میں کوئی رکھی ہو۔ تو کہتے ہیں اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی فطرت وہ کافی نہیں ہے غلط کو صحیح سے جدا کرنے میں وَامْتِيَازِ الْقِشْرِ عَنِ اللُّبَابِ، قشر امتیاز کا معنی بھی جدا کرنا، الگ کرنا۔ قشر کہتے ہیں چھلکے کو بھئی، چھلکا، اور لباب کہتے ہیں مغز کو بھئی، مغز۔ جیسے بادام بھئی، اس کے اوپر چھلکا ہوتا ہے، اس چھلکے کو اپ توڑتے ہیں اور اندر مغز نکالتے ہیں وہ جسے کھایا جاتا ہے، یا جیسے اخروٹ کے اوپر چھلکا ہے اور اندر مغز ہے۔
3
تو کہتے ہیں معلوم ہوا اس سے، جی، کہ انسانی فطرت کافی نہیں ہے غلط کو صحیح سے الگ کرنے میں وامتیاز القشر عن اللباب، اور اسی طرح انسانی فطرت کافی نہیں ہے چھلکے کو مغز سے الگ کرنے میں۔ انسانی فطرت نہیں پہچان سکتی پوری طرح کہ کیا چیز چھلکا ہے یعنی ردی چیز ہے اور کیا مغز ہے، جیسے اس فکر میں آپ نے دیکھا جنہوں جن کا یہ قول تھا وہ نہیں پہچان سکے کہ ہمارا یہ قول درست نہیں ہے بلکہ غلط ہے بھئی، یعنی صحیح اور غلط کی پہچان نہیں ہوتی مراد یہ ہے بھئی۔
فجاءت الحاجة في ذلك، پس حاجت پیش آئی فی ذلك اس میں، کس میں؟ صحیح کو غلط سے جدا کرنے میں، فجاءت الحاجة پس حاجت پیش آئی اس صحیح کو غلط سے جدا کرنے میں، الى حاجت پیش آئی اس میں الى قانون کس چیز کی؟ قانون عاصم، ایسے قانون کی عاصم کا معنی حفاظت کرنے والا، بچانے والا۔ ایسے قانون کی جو بچانے والا ہو عن الخطا في الفكر فکر میں غلطی سے، يبين فيه طرق اكتساب المجهولات عن المعلومات، يبين فيه یہ بھی صفت ہے قانون کی بھئی، ایک صفت قانون کی کیا آئی؟ عاصم عن الخطا في الفكر، ایسا قانون جو بچانے والا ہو فکر میں غلطی سے، اور ایسا قانون يبين فيه جس میں بیان کیا جائے، کیا بیان کیا جائے؟ طرق اكتساب المجهولات عن المعلومات، ترجمہ آخر سے کروں گا، بیان کیا جائے اس میں معلومات سے مجهولات کو حاصل کرنے کے طریقے، اكتساب کا معنی ہے حاصل کرنا، طرق جمع ہے طریقہ کی۔
دوبارہ ترجمہ: يبين فيه کہ بیان کیا جائے اس میں، کیا بیان کیا جائے؟ طرق اكتساب المجهولات عن المعلومات، معلومات سے مجهولات کے حاصل کرنے کے طریقے اس میں بیان کیے جائیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ معلوم تصورات کو ملا کر کیا حاصل کریں گے؟ مجهول تصور کو، کس طریقے سے؟ یہ علم ہمیں بتائے گا۔ آپ معلوم تصدیقات کو ملا کر کیا حاصل کریں گے؟ مجهول تصدیق کو، کس طریقے سے؟ یہ اس علم میں بیان کیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟
وهذا القانون اور یہ قانون جو ہے، هو المنطق والميزان، یہی منطق اور میزان ہے یعنی یہی علم منطق اور علم میزان ہے بھئی۔ علم منطق کا نام علم میزان بھی ہے، منطق بھی کہتے ہیں اسے اور علم میزان بھی کہتے ہیں۔ آگے تفصیل آجائے گی کہ منطق کیوں کہتے ہیں اور میزان کیوں کہا جاتا ہے بھئی۔ ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو کہنے کا ان کا مطلب یہ ہے، دوبارہ خلاصہ کلام یہ ہوا، کہتے ہیں بھئی انہوں نے صاحب کتاب نے آپ کو بتایا کہ آپ کو یہ پتہ چل گیا کہ نظر اور فکر کسے کہتے ہیں۔ نظر کسے کہتے ہیں؟ کہ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجهول چیز کو حاصل کیا جائے اسے کہتے ہیں فکر اور نظر۔
اور کہتے ہیں یہ کبھی نہ گمان کرنا، یہ خیال مت کرنا کہ ہر ترتیب یعنی ہر نظر صحیح ہوتی ہے بلکہ اس کے اندر کبھی کیا واقع ہو جاتی ہے؟ غلطی۔ جبھی تو عقلاء کا مناطقہ کا آپس میں اختلاف آتے ہیں۔ اگر غلطی نہ واقع ہوتی سب حق پر ہی رہتے، صحیح بات ہی کرتے، پھر تو صحیح بات تو ایک ہی ہوتی اس میں تو کسی قسم کا اختلاف نہ ہوتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مناطقہ اور علماء کے آپس میں کیا ہیں؟ اختلافات ہیں۔ بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ عالم حادث ہے اور دلیل کیا پیش کرتے ہیں کہ العالم متغير وكل متغير حادث، نتیجہ کیا نکلا العالم حادث۔ اور بعض کہتے ہیں کہ عالم قدیم ہے اور دلیل کیا پیش کرتے ہیں العالم مستغن عن المؤثر کہ عالم مستغنی ہے کس سے؟ مؤثر سے، وكل مستغن عن المؤثر اور ہر وہ جو مستغنی ہو مؤثر سے فهو قدیم تو وہ کیا ہے؟ قدیم ہے۔ نتیجہ کیا نکلا العالم قدیم بھئی۔
اور کہتے ہیں آپ کو اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یقیناً ان دو باتوں میں سے ایک بات صحیح ہے اور ایک غلط ہے۔ ایک کہہ رہا ہے عالم حادث ہے، ایک کہہ رہا ہے عالم قدیم ہے، دونوں میں سے ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے۔ کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ مناطقہ کی نظر اور فکر میں بھی کبھی کبھار کیا واقع ہوتی ہے؟ ان دو میں سے ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے تو معلوم ہوا نظر میں غلطی واقع ہوئی ہے۔ تو مناطقہ کی نظر میں اور فکر میں یعنی وہ ترتیب دینے میں کبھی غلطی واقع ہوتی ہے اور فطرت انسانی سے اس غلطی کا پتہ نہیں چلتا کہ کیا صحیح ہے، کیا غلط ہے، کیا چھلکا ہے اور کیا مغز ہے، اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اگر فطرت انسانی سے پتہ چلتا تو پھر انہیں بھی اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور وہ یہ غلط بات کرتے ہی نہ۔
لہذا ضرورت پیش آئی ایک ایسے قانون کی جو انہیں اس فکر و نظر کے اندر کیا کرے؟ غلطی سے بچائے اور اس کے اندر معلومات سے مجهولات کو کس طرح حاصل کیا جائے گا، یہ اس علم میں بیان کیا جائے بھئی۔ اور یہ قانون وہ کیا ہے؟ منطق اور علم میزان ہے بھئی، علم میزان ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ دوبارہ کر دوں یا کافی ہے بھئی؟
فصل اياك وان تظن تم اپنے آپ کو یہ گمان کرنے سے دور رکھو یعنی یہ گمان مت کرو، آپ یہ گمان نہ کریں کہ ان كل ترتيب يكون صوابا کہ ہر ترتیب صحیح ہوگی، موصلا الى علم صحيح اور پہنچانے والی ہوگی صحیح علم تک، كيف؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہر ترتیب صحیح ہو اور صحیح علم تک پہنچائے؟ ولو كان الامر كذلك اگر بات ایسی ہی ہوتی، ما وقع الاختلاف والتناقض تو اختلاف اور تضاد واقع نہ ہوتا بين ارباب النظر اہل نظر کے درمیان یعنی منطقیوں کے درمیان اختلاف اور تضاد واقع نہ ہوتا، مع انه قد وقع باوجود اس کے کہ یہ اختلاف واقع ہوا ہے۔
فمن قائل يقول پس کہنے والوں میں سے کوئی کہتا ہے العالم حادث کہ یہ عالم حادث ہے، ويستدل بقوله اور وہ دلیل پیش کرتا ہے اپنے اس قول کے ساتھ العالم متغير وكل متغير حادث، کہ عالم متغیر ہے اور ہر متغیر حادث ہے، نتیجہ کیا نکلا فالعالم حادث کہ عالم حادث ہے۔
اور اسی طرح ومن زاعم گمان کرنے والوں میں سے يزعم کوئی یہ گمان کرتا ہے ان العالم قدیم کہ عالم کیا ہے؟ قدیم ہے، یعنی غیر مسبوق بالعدم اس پر کبھی عدم نہیں آیا پہلے، ويبرهن عليه اور وہ دلیل پیش کرتا ہے اس پر، برهن يبرهن کے معنی دلیل، اور اس پر وہ دلیل پیش کرتا ہے بقوله اپنے اس قول کے ساتھ العالم مستغن عن المؤثر کہ عالم بے پرواہ ہے یعنی مستغنی ہے مؤثر سے، کسی اثر ڈالنے والے سے، وكل ما هذا شانه فهو قدیم اور ہر وہ چیز جس کی یہ شان ہو، جس کا یہ حال ہو فهو قدیم وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ قدیم ہوتا ہے۔
ولا اظنك شاكا اور میں گمان نہیں کرتا کہ تو شک کرنے والا ہو فی ان احد الفكرين صحيح حق والآخر فاسد غلط اس بات میں کہ ان دو فکروں میں سے ایک صحیح ہے، حق ہے والآخر فاسد غلط اور دوسری فاسد ہے، غلط ہے۔
واذا كان قد وقع الغلط في فکر العقلاء اور جب تحقیق واقع ہوئی ہے غلطی عقلاء کے فکروں میں، فعلم من ذلك تو معلوم ہوئی اس سے یہ بات ان الفطرة الانسانية غير كافية کہ انسانی فطرت کافی نہیں ہے في تمييز الخطا من الصواب غلط کو صحیح سے الگ کرنے میں، وامتياز القشر عن اللباب اور چھلکے کو مغز سے جدا کرنے میں۔
فجاءت الحاجة في ذلك پس پیش آئی ضرورت اس کے اندر الى قانون ایک ایسے قانون کی عاصم عن الخطا في الفكر جو بچانے والا ہو غلطی سے فکر میں، يبين فيه بیان کیا جائے اس قانون کے اندر طرق اكتساب المجهولات عن المعلومات معلومات سے مجهولات کو حاصل کرنے کے طریقے، ان کو بیان کیا جائے۔
وهذا القانون هو المنطق اور یہ قانون جو ہے یہی منطق ہے والميزان اور میزان ہے۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔