Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-062

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 10 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم و نادیناه ان یا ابراهیم قد صدقت الرؤیا انا کذلک نجزی المحسنین ان هذا لهو البلاء المبین اچھا بھئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر ہو رہا ہے کہ آپ کی قوم نے آپ کو آگ میں پھینکا اور اللہ نے پھر اس آگ کو منع فرما دیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے سے اور ان کو تکلیف دینے سے اور پھر وہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت فرما گئے ملک شام کی طرف اور وہاں انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے نیک بیٹا عطا فرمائیے میں اکیلا ہوں یہاں پر تو اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو ایک تحمل والے لڑکے کی خوشخبری دی پھر جب وہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا یعنی سات سال اور بعض نے لکھا تیرہ سال کی عمر کو پہنچ گئے ان کے بیٹے یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام تو اس وقت پھر آپ نے تین راتوں تک مسلسل خواب میں دیکھا کہ اپنے اس اکلوتے بیٹے کو ذبح فرما رہے ہیں تو دو دن تک تو سوچ ہی میں پڑے رہے کہ معلوم نہیں اس خواب کی کیا تعبیر ہے لیکن جب تیسری رات بھی مسلسل یہی خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہی حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے بیٹے کو اللہ کے لیے قربان کر دیں بھئی چنانچہ اپنے بیٹے سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تمہاری کیا رائے ہے تو بیٹا کہنے لگا کہ اے ابا جان آپ کو جو حکم دیا گیا ہے آپ اسی طرح کر لیجئے آپ انشاءاللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے پس جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو لٹا دیا اور اس میں یہ بھی روایات میں آتا ہے یہ جو حج کے دنوں میں یہ جو جمرات ہیں تین جمرات جہاں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں ساتھ ساتھ جب اپنے بیٹے کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر جا رہے تھے ذبح کرنے کے لیے منا کے مقام پر تو شیطان ظاہر ہوا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو روکنے کی کوشش کی کہ بھئی یہ تمہیں ذبح کرنے لے کر جا رہے ہیں اور تو حضرت اسماعیل علیہ السلام اور بعض روایات میں آتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو سات کنکریاں ماریں پھر شیطان ظاہر ہوا کچھ آگے چل کر پھر سات کنکریاں ماریں پھر اس کے بعد کچھ اور آگے گئے تو پھر شیطان بہت بڑی صورت میں ظاہر ہوا کہ پوری وادی کو اس نے گھیر لیا بھئی اتنی بڑی صورت میں پھر آپ نے سات کنکریاں ماریں چنانچہ ان کی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وہ سنت آج تک جاری ہے اور اس مقام پر حج کے ایام میں حاجی سات سات کنکریاں مارتے ہیں بھئی تین دن تک بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو اللہ فرماتے ہیں فلما اسلما وتله للجبین پس جب دونوں نے فرمانبرداری کی وتله للجبین اور ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو گرا دیا للجبین پہلو پر بھئی جبین میں نے بتلایا تھا کن پٹی کو کہتے ہیں بھئی تو کن پٹی پر لٹایا یعنی پہلو پر لٹا دیا بھئی تو آگے اللہ فرماتے ہیں و نادیناه ان یا ابراهیم اور ہم نے ان کو ندا دی ان کو آواز دی ان یا ابراهیم یہ ان تفسیر کے لیے ہے بھئی آپ نحو کی کتابیں میں حروف تفسیر پڑھیں گے جیسے اے اے کا لفظ تفسیر کے لیے آتا ہے اسی طرح ان کا لفظ بھی تفسیر کے لیے آتا ہے لیکن ان کے ذریعے ایسے لفظ کی تفسیر کی جائے گی جس میں قول کا معنی آئے کون سا معنی آئے قول والا تو ندا دینا آواز دینا اس میں قول ہے یا نہیں بھئی اس میں قول ہے تو یہ ان تفسیر ہے کہ ہم نے ان کو آواز دی یعنی کہ اے ابراہیم و نادیناه اور ہم نے ان کو آواز دی ان یا ابراهیم یعنی کہ اے ابراہیم یا یوں ترجمہ کر لیں بھئی و نادیناه ان یا ابراهیم اور ہم نے ان کو آواز دی یوں کہ اے ابراہیم ہم نے ان کو آواز دی یوں کہ اے ابراہیم قد صدقت الرؤیا تحقیق تم نے سچ کر دکھایا اپنا خواب رؤیا خواب کو کہتے ہیں بھئی قد صدقت الرؤیا تحقیق آپ نے سچ کر دکھایا وہ خواب انا کذلک نجزی المحسنین بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو ان هذا لهو البلاء المبین یقیناً یہ البتہ واضح آزمائش تھی یہ یا یہ واضح آزمائش ہے ان هذا لهو البلاء المبین یقیناً یہ البتہ واضح آزمائش تھی بھئی بہت بڑی آزمائش بھئی وہ بیٹا جسے دعاؤں سے مانگا ہو اکلوتا بیٹا ہو اور پھر وہ جب چلنے پھرنے کے قابل ہوا اب اللہ کی طرف سے حکم آ گیا کہ اپنے اس اکلوتے بیٹے کو خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرو بھئی خود اپنے ہاتھ سے کتنی بڑی آزمائش بھئی تو اللہ فرماتے ہیں انا کذلک نجزی المحسنین بیشک ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ان هذا لهو البلاء المبین یقیناً یہ البتہ واضح آزمائش تھی وفدیناه بذبح عظیم فدی یفدی کے معنی ہوتے ہیں فدیہ دے کر چھڑانا کوئی مال وغیرہ دے کر کسی قیدی وغیرہ کو چھڑایا جائے اس کو کیا کہتے ہیں فدا یفدی بھئی تو کسی کو چھڑانا مال دے کر تو یہاں معنی کر لیں گے بدلہ دیا بھئی بدلہ دیا وفدیناه اور ہم نے بدلہ دیا ان کو ان کا بذبح عظیم ذبح ایک ہے ذبح ذبح مصدر ہے جس کا معنی ہے ذبح کرنا اور ایک ہے ذبح جیسے کہ یہاں ہے بھئی ذبح ذبح بمعنی ہے ذبیح کے ذبیحہ یعنی قربانی کا جانور اس کو ذبح کہتے ہیں بھئی قربانی کے جانور کو کیا کہتے ہیں ذبح وفدیناه بذبح عظیم اور بدلہ دیا ہم نے ان کا کیا بدلہ دیا بذبح عظیم ایک بڑا قربانی کا جانور اور ہم نے ان کا بدلہ دیا ایک بڑا قربانی کا جانور مفسرین حضرات لکھتے ہیں بھئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو لٹایا اور پھر چھری ان کے گلے پر چلانا شروع کی بھئی لیکن چھری کاٹ ہی نہیں رہی بھئی پھر زور سے چھری چلائی پھر نہیں کاٹ رہی تو اس وقت پھر فرشتے کو اللہ نے بھیجا اور فرشتے نے ندا دی کہ اے ابراہیم بس اللہ نے آپ کی قربانی قبول فرما لی ہے اب اس بیٹے کے بجائے اس مینڈھا تھا ایک دنبہ تھا بڑا سا بھئی وہ جنت سے لے کر آیا اس کو ذبح کر دو چنانچہ اس کو انہوں نے ذبح کیا بھئی تو اسی کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں وفدیناه بذبح عظیم اور بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کا ایک بڑا قربانی کا جانور یا یوں ترجمہ کر لیں فدا یفدی کے معنی ہوتے ہیں مال دے کر چھڑانا تو وہی چھڑانے والا معنی کر رہے ہیں اور چھڑا لیا ہم نے ان کو بذبح عظیم ایک بڑے قربانی کے جانور کے بدلے ہم نے ان کو چھڑا لیا ایک بڑے قربانی کے جانور کے بدلے تو ذبح عظیم صفت لائی گئی بڑا قربانی کا جانور بڑا اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ عام دنیا کا مینڈھا اور دنبہ نہیں تھا بلکہ جنت سے لایا گیا تھا اس لیے کیا کہا گیا ذبح عظیم بڑا قربانی کا جانور کیونکہ جنت کا تھا یا اس لیے بڑا کہا گیا کہ بڑا موٹا تازہ دنبہ تھا اس لیے اس کو ذبح عظیم کہا گیا بھئی و ترکنا عليه في الاخرین اور باقی رہنے دی ان پر یعنی ابراہیم علیہ السلام پر فی الاخرین بعد والوں میں اور باقی رہنے دی ہم نے ابراہیم علیہ السلام پر بعد والوں میں یہ بات بھئی جو آگے آ رہی ہے سلام علی ابراہیم سلامتی ہو ابراہیم پر بھئی ہم جب بھی نام لیتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں علیہ السلام ان پر سلامتی ہو یہ مراد ہے بھئی و ترکنا عليه في الاخرین اور باقی رہنے دی ان پر ہم نے بعد والوں میں یہ بات کہ سلام علی ابراہیم سلامتی ہو ابراہیم پر کذلک نجزی المحسنین اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو انه من عبادنا المومنین یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ایمان والے بندوں میں سے تھے انه من عبادنا المومنین بیشک وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے و بشرناه باحاق اور خوشخبری دی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کی و بشرناه باحاق اور خوشخبری دی ہم نے ان کو اسحاق کی نبیا من الصالحین اس حال میں کہ وہ پیغمبر ہوں گے نیکوکاروں میں سے معنی سمجھ میں آ گیا بھئی و بشرناه باحاق نبیا من الصالحین اور ہم نے خوشخبری دی ان کو اسحاق علیہ السلام کی جو کہ نبی ہوں گے نیک لوگوں میں سے نیکوکاروں میں سے بھئی قرآن کا یہ سیاق بتلا رہا ہے کہ اوپر جو خوشخبری دی گئی اور جس لڑکے کو ذبح کیا کرنے کا حکم ہوا وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے علاوہ تھے بھئی یہود کہتے ہیں کہ ذبیح اللہ جو ہیں وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں یہود وغیرہ کیا کہتے ہیں ذبیح اللہ جو ہیں وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں جبکہ ہمارے بھی بعض مفسرین اس طرف چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں لیکن جمہور علماء یعنی اکثر علماء اور اکثر مفسرین جو ہیں وہ اسی طرف گئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں بھئی اور قرآن سے بھی واضح طور پر یہی معلوم ہوتا ہے بھئی پیچھے تھا فبشرناه بغلام حلیم بھئی کہ ہم نے ان کو خوشخبری دی ایک تحمل والے لڑکے کی اور اس کی پھر آگے قربانی وغیرہ کے ذکر آیا بھئی اور آگے وبشرناه باحاق نبیا من الصالحین ہم نے ان کو خوشخبری دی اسحاق علیہ السلام کی جو نبی ہوں گے صالحین میں سے یعنی اسحاق علیہ السلام کی جب خوشخبری دی گئی تو یہ بھی ساتھ بتلا دیا گیا کہ یہ آگے چل کر پیغمبر ہوں گے بھئی کیا ہوں گے پیغمبر ہوں گے تو اگر یہ مانا جائے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام ذبیح اللہ تھے بھئی تو یہ بات کس طرح بھئی حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ تو یہ بھی بتلایا گیا کہ وہ آگے چل کر پیغمبر ہوں گے آگے چل کر تو اگر ذبح کا حکم دیا جائے تو وہ پیغمبر پھر کیسے ہوئے بھئی یا پھر اس کا یہ معنی کرنا پڑے گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ تو پتہ تھا کہ مجھے بتایا گیا ہے آگے چل کر انہوں نے پیغمبر بننا ہے اور مجھے جو ذبح کا حکم دیا گیا ہے معلوم ہو یہ بچ جائیں گے کیونکہ آگے چل کر انہوں نے کیا بننا ہے پیغمبر بننا ہے سمجھ میں آیا بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک کہ خوشخبری دی گئی وہاں تو واضح اور اللہ فرما رہے ہیں ان هذا لهو البلا خالق ارض و سما فرما رہے ہیں بہت بڑی آزمائش تھی بھئی اس سے آپ اندازہ لگا لیں بھئی معلوم ہوا جس لڑکے کی خوشخبری پہلے ملی تھی اس کے ساتھ پیغمبر ہونے کا نہیں بتلایا گیا تھا اگر پیغمبر ہونے کا بتلایا جاتا پھر تو یقینی تھا کہ انہوں نے ہر حال میں بچ ہی جانا ہے بھئی یہ ایک ویسے مجھے حکم دیا جا رہا ہے تھوڑی دیر کے لیے جا کر بس اس طرح کرنا ہے بچنا ہے ان کو کچھ ہوگا نہیں بھئی معلوم ہوا ذبیح اللہ کون تھے اور یہود یہود نے یہ اس قول کو اختیار کیا کیونکہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں بھئی کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں ہی آگے حضرت موسی علیہ السلام آئے اور وہ قوم بنی اسرائیل قوم آئی تو وہ چاہتے ہیں یہ فضیلت ہماری طرف رہے بھئی کس طرف رہے فضیلت یہ ذبیح اللہ کی فضیلت بھی ہماری طرف ہو حالانکہ ذبیح اللہ جو ہیں وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں بھئی چنانچہ تورات ان کی اپنی تورات کے اندر ہے بھئی کہ ان کو حکم دیا گیا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرو اور یہ بات تو قطعی طور پر وہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے تھے اور حضرت اسحاق علیہ السلام چھوٹے تھے بھئی تو جب کہا گیا اکلوتے بیٹے کو ذبح کرو معلوم ہوا اکلوتے کون ہیں جو بڑا ہے لازمی بات ہے اس وقت ابھی چھوٹا پیدا ہی نہیں ہوا تو وہ اکلوتا ہے بھئی اگر اسحاق علیہ السلام کو مانا جائے وہ تو اکلوتے ہی نہیں بھئی وہ تو بعد میں پیدا ہوئے تو اس وقت تو ایک اور بھئی بھی پہلے سے موجود ہے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی و بارکنا عليه وعلى اسحاق ومین ذریتهما محسن و ظالم لنفسه مبین و بارکنا عليه اور برکت دی ہم نے ابراہیم علیہ السلام پر برکت ڈالی و علی اسحاق اور اسحاق علیہ السلام پر اور برکت ڈالی ہم نے ابراہیم علیہ السلام پر و علی اسحاق اور اسحاق علیہ السلام پر و من ذریتهما اور ان دونوں کی اولاد میں سے ان دونوں کی نسل میں سے یعنی کس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سلام و حضرت اسحاق علیہ السلام۔ ان دونوں کی نسل میں سے محسنون، بعض لوگ نیکی کرنے والے ہیں محسن احسان کرنے والے یعنی نیکی کرنے والے، و ظالم اور بعض کیا ہیں ظلم کرنے والے ہیں لنفسہ اپنے نفسوں پر مبین واضح۔ اور ان دونوں کی اولاد میں سے ان دونوں کی نسل میں سے بعض لوگ نیکی کرنے والے ہیں اور بعض واضح اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں (یعنی ہر طرح کے لوگ ہیں ان میں کچھ نیک نیکیاں کرنے والے ہیں تو کچھ گناہ کرنے والے ہیں اور گناہ جو کر رہے ہیں وہ دراصل اپنے ہی اوپر ظلم کر رہے ہیں بھئی)۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو بارکنا علیہ یہ ہ ضمیر کس کو لوٹائی گئی؟ یہ اکثر مفسرین اسی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کو لوٹاتے ہیں بھئی۔ اور ہمارے بعض علماء نے علیہ کی ہ ضمیر کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف لوٹایا اور اس سے اور مضمون میں وسعت پیدا ہو گئی کیونکہ دو ہی بیٹے تھے دونوں کا گویا ذکر آ گیا کہ دونوں بیٹے جو تھے ان میں اللہ فرما رہے ہیں ہم نے برکت دی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ و لقد مننا علی موسٰی و ہارون اور البتہ تحقیق ہم نے احسان کیا موسیٰ علیہ السلام پر اور ہارون علیہ السلام پر۔ و لقد مننا اور تحقیق البتہ ہم نے احسان کیا موسیٰ علیہ السلام پر اور ہارون علیہ السلام پر و نجیناهما و قومهما من الکرب العظیم اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو و قومهما اور ان کی قوم کو من الکرب العظیم بڑی پریشانی سے، بڑے غم سے۔ و نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑے غم سے (بھئی وہ جو فرعون ظلم و ستم کرتا تھا بنی اسرائیل پر بھئی)۔ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کرتا تھا اور اسی طرح پھر یہ جو جب وہاں سے نکلے اور بحر قلزم کے کنارے پر پہنچے اور وہاں اللہ نے سمندر میں راستے بنا دیے یہ لوگ تو اس میں سے نکل گئے حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ اور جو ان کی قوم تھی اور جبکہ فرعون جب پیچھے داخل ہوا اپنا لشکر لے کر بھئی تو وہ اسی کے اندر غرق ہو گیا بھئی۔ و نجیناهما و قومهما من الکرب العظیم اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑی پریشانی سے بڑے غم سے و نصرناههم اور ہم نے ان کی مدد کی فکانو هم الغالبین تو یہی غالب ہوئے و نصرناههم اور ہم نے ان کی مدد کی فکانو هم الغالبین پس یہی غالب ہوئے۔ فکانو هم الغالبین پس یہی تھے غالب ہونے والے۔ یہی تھے (یعنی یہی غالب ہوئے بھئی) و آتیناهما الکتاب المستبین اور عطا کی ہم نے ان دونوں کو الکتاب المستبین واضح کتاب۔ المستبین واضح بھئی۔ واضح بیان کرنے والی بھئی، واضح بیان۔ اور دی ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب یا روشن کتاب۔ واضح کتاب تھی بھئی تورات دی گئی اور تورات کے اندر اللہ کے احکامات بڑے واضح اور تفصیلی انداز میں درج تھے بھئی۔ و هدیناهما الصراط المستقیم اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستے کی، یعنی سیدھے راستے کی پر ان کو قائم رکھا بھئی۔ سیدھے سیدھے راستے پر تو تھے ہی سیدھے راستے پر ان کو قائم رکھا بھئی یہ معنی کرنا ہے یہاں بھئی۔ و هدیناهما الصراط المستقیم اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستے پر قائم رکھا۔ و ترکنا علیہما فی الاخرین اور باقی رہنے دی ان دونوں پر ہم نے بعد والوں میں۔ اور باقی رہنے دی ان دونوں پر ہم نے بعد والوں میں یہ بات بھئی جو آگے آ رہی ہے سلام علی موسٰی و ہارون سلامتی ہو موسیٰ پر اور ہارون پر۔ بھئی دونوں کا جب ہم نام لیتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اسی طرح حضرت ہارون علیہ السلام تو ان پر سلامتی کی دعا کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں یہ بات ہم نے بعد والوں میں یعنی بعد میں بھی ان کا ذکر خیر ہی جب جو بھی کرتا ہے اچھے طریقے سے ہی ان کا ذکر کرتا ہے دعا کرتے ہوئے یہ ہم نے ان کا بدلہ دیا جو انہوں نے اپنی پوری زندگیاں ہمارے راستے کے اندر دین کی دعوت دیتے ہوئے لوگوں کی تکالیف اٹھاتے ہوئے لوگوں کی تکالیف برداشت کی تھیں اور اس طرح دعوت دیتے ہوئے زندگی گزاری۔ و ترکنا علیہما فی الاخرین اور باقی رہنے دی ان دونوں پر ہم نے بعد والوں میں یہ بات کہ سلام علی موسٰی و ہارون سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر انا کذلک نجزی المحسنین بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ انہما من عبادنا المومنین یقیناً یہ دونوں ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے بیشک وہ ہمارے ایمان ایماندار بندوں میں سے تھے۔ و ان الیاس لمن المرسلین اور بیشک الیاس البتہ پیغمبروں میں سے تھے و ان الیاس لمن المرسلین بیشک الیاس جو تھے الیاس علیہ السلام البتہ پیغمبروں میں سے تھے۔ اذ قال لقومه الا تتقون جس وقت کہا انہوں نے اپنی قوم سے الا تتقون کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ یعنی کیا تم یہ جو بت پرستی کرتے ہو تمہیں کوئی خوف نہیں ہے اللہ کا؟ اذ قال لقومه الا تتقون جس وقت کہا انہوں نے اپنی قوم سے الا تتقون کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (یعنی کیا تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے کوئی خوف نہیں ہے اللہ کا؟) اتدعون بعلاً و تذرون احسن الخالقین اتدعون کیا تم پکارتے ہو بعلاً بعل کو؟ بعل بت کا نام تھا بھئی کیا تم بعل بت کو پکارتے ہو؟ اس کی عبادت کرتے ہو؟ اتدعون بعلاً کیا تم بعل کو پکارتے ہو و تذرون اور و ذرا یذرو کے معنی ہوتے ہیں چھوڑنے کے و تذرون اور تم چھوڑ دیتے ہو احسن الخالقین پیدا کرنے والوں میں سے سب سے بہتر کو۔ سب سے بڑھ کر یعنی پیدا کرنے والے کو۔ اتدعون بعلاً و تذرون احسن الخالقین کیا تم بعل بت کو پکارتے ہو اور چھوڑ دیتے ہو سب سے بڑھ کر پیدا کرنے والے کو (یعنی اللہ کو)؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور تم چھوڑ دیتے ہو سب سے بڑھ کر پیدا کرنے والے کو اللہ ربکم و رب آبائکم الاولین اللہ جو منسوب ہے بھئی یہ بدل ہے احسن الخالقین سے۔ اور تم چھوڑ دیتے ہو سب سے بڑھ کر پیدا کرنے والے جو کہ اللہ تمہارے پروردگار ہیں بھئی۔ سب سے بڑھ کر پیدا کرنے والے جو کہ اللہ ہیں تمہارے پروردگار ہیں تمہارے پروردگار ہیں و رب آبائکم الاولین اور تمہارے پہلے آباء و اجداد کے باپ دادوں کے بھی پروردگار ہیں۔ اللہ ربکم و رب آبائکم الاولین اللہ جو کہ اللہ ہیں پروردگار جو کہ پروردگار ہیں تمہارے اور تمہارے پہلے باپ دادوں کے فکذبوه۔ अच्छा भئی حضرت الیاس علیہ السلام بھئی۔ ان کے احوال کی زیادہ تفصیل تو نہیں ملتی مختصر ہی قرآن میں بھی ان کا ذکر مختصر طور پر ہی کیا گیا ان کو کہتے ہیں بعلبک آپ نحو کی کتابوں وغیرہ میں پڑھتے ہیں بھئی یہ بعلبک شہر جو تھا اس کی طرف بھیجا گیا وہاں کے لوگوں کی طرف بھئی اور وہ بعل نامی بت کی عبادت کرتے تھے بعل ان میں کوئی نیک آدمی گزرا تھا پہلے بھئی تو پھر اس کی نشانی کے طور پر محبت کے طور پر انہوں نے اس کا بت بنایا اور پھر رفتہ رفتہ اسی کی عبادت شروع کر دی ان لوگوں نے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کی عبادت شروع کر دی تو ان کو سمجھایا ان کو سمجھاتے تھے کہ بھئی کیا تم کیوں اس بت کی عبادت کرتے ہو اور اللہ جو تمام خالقوں سے بڑھ کر ہے (یعنی حقیقتاً خالق اللہ ہی ہیں باقی اگرچہ ظاہراً کوئی چیزیں بنانے والے بھی ہیں لیکن درحقیقت ہر چیز کے خالق کون ہیں؟ اللہ ہیں بھئی) فکذبوه فانہم لمحضرون پس جھٹلایا انہوں نے ان کو (یعنی ان لوگوں نے حضرت الیاس علیہ السلام کو جھٹلایا) فانہم لمحضرون پس بیشک وہ لوگ البتہ حاضر کیے جائیں گے (یعنی عذاب کے اندر) کس چیز میں؟ عذاب میں فکذبوه پس انہوں نے ان کو جھٹلایا فانہم لمحضرون پس بیشک وہ لوگ (یعنی وہ جو جھٹلانے والے ہیں) لمحضرون البتہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے الا عباد الله المخلصین مگر وہ جو اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے ہیں (یعنی اللہ کے جو چنے ہوئے بندے ہیں) الا عباد الله المخلصین مگر وہ جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں و ترکنا علیہ فی الاخرین اور باقی رہنے دی ہم نے الیاس علیہ السلام پر فی الاخرین بعد والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی سلام علی الیاسین سلامتی ہو الیاسین پر سلامتی ہو الیاسین حضرت الیاس علیہ السلام کو الیاس بھی کہتے ہیں اور الیاسین بھی کہتے ہیں بھئی الیاس بھی اور الیاسین بھی کہتے ہیں جیسے تور سینا بھی کہتے ہیں اور تور سینین بھی کہتے ہیں بھئی تو دونوں طرح یہاں بھی حضرت الیاس علیہ السلام کو الیاس بھی کہتے ہیں اور الیاسین بھی بھئی و ترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی الیاسین اور باقی رہنے دی ان پر ہم نے بعد والوں میں یہ بات کہ سلامتی ہو الیاس پر ان کذلک نجزی المحسنین بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو انہ من عبادنا المومنین بیشک وہ ہمارے ایمان لانے ایمان والے بندوں میں سے تھے بیشک وہ ہمارے ایمان ایماندار بندوں میں سے تھے و ان لوط لمن المرسلین اور بیشک لوط علیہ السلام البتہ پیغمبروں میں سے تھے اذ نجیناه و اهله اجمعین جس وقت نجات دی ہم نے ان کو و اهله اور ان کے گھر والوں کو اجمعین سب کو اذ نجیناه و اهله اجمعین جس وقت ہم نے ان کو اور ان کو اور ان کے گھر والے سب کو نجات دی (یعنی ان کو بھی اور ان کے گھر والے سب کو ہم نے نجات دی) اذ نجیناه و اهله اجمعین جس وقت ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں سب کو نجات دی الا عجوزا فی الغابرین مگر ایک بوڑھی بوڑھیا عجوز کہتے ہیں بوڑھی عورت کو بھئی عجوز یہ حضرت لوط علیہ السلام کی جو بیوی تھی بھئی وہ کافروں کے ساتھ ساز باز تھی ان کی اور وہ ان کے ساتھ ان پر عذاب پیچھے رہ گئیں بھئی باقی حضرت لوط علیہ السلام تو اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے نکل گئے فرشتے آئے تھے عذاب کا بتلایا چنانچہ آپ راتوں رات وہاں سے تشریف لے گئے گھر والوں سمیت تو باقی سب گھر والے بچ گئے ہاں ان کی بیوی جو تھی جو کافروں سے ساز باز کرتی تھی بھئی اور جس نے جا کر ان کو بتایا تھا کہ ان کے مہمان آئے ہیں تو وہ پیچھے رہ گئی عذاب والوں کے اندر بھئی اس وہ عذاب اس پر بھی آیا بھئی وہ بھی ان میں ختم ہو گئی ہلاک ہو گئی تو اسی کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں الا عجوزا فی الغابرین مگر ایک بڑھیا فی الغابرین غابر باقی رہنے والے یعنی پیچھے رہ جانے والے جو عذاب میں پیچھے رہ گئے باقی رہ گئے بھئی ہلاک ہو گئے جو اس میں الا عجوزا فی الغابرین مگر ایک بڑھیا فی الغابرین پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی دوبارہ دیکھیے اذ نجیناه و اهله اجمعین الا عجوزا فی الغابرین اور جس جس وقت نجات دی ہم نے حضرت لوط علیہ السلام کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو الا عجوزا فی الغابرین مگر ایک بڑھیا پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی ثم دمرنا الاخرین پھر دمر یدمر تدبیر کے معنی ہوتے ہیں ہلاک کرنا تباہ کرنا ثم دمرنا الاخرین پھر تباہ کر دیا ہم نے باقیوں کو دوسروں کو ثم دمرنا الاخرین پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو جو پیچھے رہ گئے تھے جو باقی تھے یہ تو نکل گئے وہاں سے اور دوسروں کو ہم نے ہلاک کر دیا ثم دمرنا الاخرین پھر ہم نے تباہ کر دیا دوسروں کو و انکم لتمُرُّون علیہم مصبحین اور بیشک تم البتہ گزرتے ہو مربی کے اور کے گزرنے کے اور بیشک تم البتہ گزرتے ہو علیہم ان پر مصبحین اصبح یصبح کے معنی ہوتے ہیں صبح کے وقت میں داخل ہونا صبح کے وقت میں داخل ہونا و انکم لتمُرُّون علیہم اور بیشک یہ خطاب ہے مکہ والوں کو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا عبرت کا نشان بنا دیا گیا اور اللہ فرما رہے ہیں مکہ والوں سے کہ بے شک تم البتہ ان پر گزرتے ہو مصبحین اس حال میں کہ تم صبح کے وقت میں داخل ہوتے ہو و باللیل اور رات کے وقت (یعنی صبح اور رات کو تم ان پر گزرتے ہو) و انکم لتمُرُّون علیہم مصبحین و باللیل اور بیشک اے مکہ والو تم البتہ ان پر گزرتے ہو صبح کے وقت و باللیل اور رات کے وقت یہ مکہ والوں کے جو قافلے جاتے تھے شام کی طرف تو راستے میں ان کی وہ بستیاں آتی تھیں ان کے کھنڈرات اس وقت بھی باقی تھے جن کو وہ دیکھتے تھے بھئی تو اللہ فرما رہے ہیں اے مکہ والو و انکم لتمُرُّون علیہم مصبحین و باللیل بیشک تم البتہ گزرتے ہو ان پر صبح کے وقت و باللیل اور رات کے وقت افلا تعقلون کیا پس تم سمجھتے نہیں؟ تم تو ان پر گزرتے ہو تم تو ان تو ان کی تباہی و بربادی کا مشاہدہ ان کے کھنڈرات کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو کیا تم سمجھتے نہیں کیا تمہیں عقل نہیں آتی اس سے؟ افلا تعقلون پس کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ پس کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
91 approved lectures · 62 of 91