اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم. فلا يستطيعون توصية ولا إلى أهلهم يرجعون. ونفخ في الصور فإذا هم من الأجداث إلى ربهم ينسلون. قالوا يا ويلنا من بعثنا من مرقدنا، هذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلُونَ.
فلا يستطيعون توصية؛ پس استطاعت نہ رکھیں گے یہ یہ لوگ توصیتًا، وصیت کرنے کی۔
پس یہ استطاعت نہ رکھیں گے وصیت کرنے کی، یعنی نہ تو یہ لوگ وصیت کر سکیں گے ولا إلى أهلهم يرجعون، اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔
بھئی، گزشتہ آیت میں ذکر ہوا کہ یہ لوگ ایک سخت چیخ ہی کا انتظار کر رہے ہیں، ایک سخت آواز ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ اس سے مراد نفخہ اولیٰ ہے بھئی، پہلی مرتبہ جو صور پھونکا جائے گا وہ نفخہ اولیٰ کہتے ہیں اس کو بھئی، نفخہ اولیٰ۔
نفخہ اولیٰ، تو اس وقت صور پھونکا جائے گا اور جو جس حالت میں ہوگا وہیں پر ختم ہو جائے گا۔
بائع اور مشتری کو تھان لپیٹنے کا موقع نہیں مل سکے گا، اونٹنی کا دودھ لانے والے کو دودھ پینے کا موقع نہیں مل سکے گا۔
روٹی کا لقمہ منہ میں رکھنے والے کو اسے کھانے کا موقع نہیں مل سکے گا۔
تو وہی ذکر ہو رہا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو فلا يستطيعون توصية، نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے ولا إلى أهلهم يرجعون، اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔
کسی کام کا پھر موقع ملے گا ہی نہیں بھئی، جو جہاں ہوگا وہیں پر ختم ہو جائے گا۔
فلا يستطيعون توصية ولا إلى أهلهم يرجعون، پس یہ نہ تو وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔ ونفخ في الصور، اور پھونکا جائے گا صور کے اندر، یہ نفخہ ثانیہ ہے بھئی۔ پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا، سب ختم ہو جائیں گے اور چالیس سال تک اسی طرح رہے گی رہیں گے، یعنی مرے ہوئے ہیں سب، ختم ہیں، چالیس سال کے بعد پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور پھر تمام لوگ زندہ ہو کر حشر میں، میدان حشر میں جمع ہوں گے اور پھر وہ حساب کتاب کا نظام شروع ہوگا۔
تو اس کا اب ذکر آ رہا ہے بھئی۔ پہلے نفخہ اولیٰ کا ذکر تھا، اب نفخہ ثانیہ کا ذکر ہے۔
جی تو اللہ فرما رہے ہیں ونفخ في الصور، اور پھونکا جائے گا صور میں، فإذا هم، پس اچانک یہ من الأجداث، أجداث جمع ہے جدث کی، جدث قبر کو کہتے ہیں، قبر کو بھئی۔ فإذا هم من الأجداث، پس اچانک یہ لوگ قبروں سے إلی ربهم، اپنے پروردگار کی طرف ينسلون، تیزی سے چل پڑیں گے۔
نسل ينسلو تیزی سے جانا بھئی۔
جدا ہونا، جدا ہونا، یعنی قبروں سے جدا ہو کر یہ اللہ کے دربار جلال و جمال میں حاضر ہو جائیں گے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ونفخ في الصور، اور پھونکا جائے گا صور کے اندر، فإذا هم من الأجدا، اذا کا کیا ترجمہ کیا؟ اذا مفاجاتیہ ہے، اچانک، اچانک، یعنی فوراً۔ معنی کیا کر لیں؟ فوراً۔ ونفخ في الصور، اور پھونکا جائے گا صور کے اندر، فإذا هم من الأجداث إلى ربهم ينسلون، تو فوراً ہی یہ لوگ اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف پھیل پڑیں گے، پروردگار کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔
اپنے پروردگار کی طرف چل پڑیں گے۔
معنی سمجھ میں آیا؟ ونفخ في الصور، اور پھونکا جائے گا صور میں، فإذا هم من الأجداث إلى ربهم ينسلون، تو فوراً ہی یہ لوگ قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ قالوا، کہیں گے یہ لوگ۔ قالوا، یہ لوگ کہیں گے۔ بھئی ہے بات تو مستقبل کی ہے اور لیکن تعبیر ماضی کے صیغوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کا وقوع نہایت نہایت یقینی ہے بھئی، اور جس طرح ماضی میں گزری ہوئی بات میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں، اسی طرح ان میں بھی کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں، اس لیے اس کو ماضی کے صیغوں سے تعبیر کیا گیا ہے بھئی۔
ونفخ في الصور، دیکھیے ماضی کا صیغہ بھئی۔ آگے آ رہا ہے قالو، وہ کہیں گے يا ويلنا، ویل کہتے ہیں ہلاکت کو بھئی، ہلاکت۔ ہلاکت۔ قالوا، وہ کہیں گے۔ یا یہ کفار بھئی، یا ويلنا، ہائے ہماری ہلاکت۔ ہائے ہماری ہلاکت۔
یا بعضوں نے یہ ترجمہ کیا، ہائے ہماری کمبختی۔
قالوا، وہ کہیں گے یا ويلنا، ہائے ہماری ہلاکت، من بعثنا، کس نے ہم کو اٹھایا من مرقدنا، مرقد رقود سے ہے بھئی، اس میں ظرف کا صیغہ ہے۔ رقود کہ کا معنی ہوتا ہے سونا، نیند کرنا بھئی، سونا۔ تو مرقد سونے کی جگہ، نیند کی جگہ، یعنی خوابگاہ بھئی، خوابگاہ۔ قالوا، وہ کہیں گے یا ويلنا، ہائے ہماری ہلاکت، من بعثنا من مرقدنا، کس نے ہم کو اٹھا دیا، بعث کا معنی اٹھانا، من بعثنا من مرقدنا، کس نے ہم کو اٹھا دیا ہماری خوابگاہ سے؟
हमारी سونے کی جگہ سے؟
ये वो कुफ्फार कहेंगे भई।
तो जवाब मिलेगा भई, हाज़ा, देखिए भई, मरकदना के बाद वो मीम दिया हुआ है, मैंने पहले भी बतलाया था, जहां पर ये आए वहां पर वक्फ़ ज़रूर करना है भई، ورنہ معنی میں خرابی کا اندیشہ ہے بھئی۔
معنی میں خرابی آ جائے گی بھئی۔ دیکھیے کنارے پر بھی لکھا ہے وقف لازم بھئی۔
समझ में आया भई؟ अगर ये साथ मिला दोगे, ये आगे तो जवाब दिया जा रहा है उनको, वो अलग बात है भई, वरना तो मरकदना मौसूफ बन जाएगा, हाज़ा क्या बन जाएगी؟ सिफ़त, کس نے ہم کو ہماری اس خوابگاہ سے اٹھایا؟ یہ تو اس طرح معنی بدل جایا کرتا ہے، لہٰذا جہاں خیال رکھیں جہاں بھی یہ میم آئے آیت کے درمیان میں، وہاں پر ضرور وقف کریں بھئی۔
ورنہ معنی کچھ کا کچھ ہو جائے گا۔
تو جواب ان کو انہوں نے کہا، وہ کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت، کس نے ہم کو ہماری خوابگاہ سے اٹھا دیا؟ हाज़ा، جواب ملے گا، हाज़ा ما وعد الرحمن، یہ ہے وہ جس کا وعدہ کیا تھا رحمان نے، یعنی اللہ نے، وصدق المرسلون، اور سچ کہا تھا بھیجے ہوؤں نے، یعنی پیغمبروں نے۔
تو جواب ان کو دیا جائے گا بھئی۔
یا تو فرشتے جواب میں کہیں گے یا مومنین ان کو جواب میں کہیں گے بھئی، हाज़ा ما وعد الرحمن، یہی ہے وہ جس کا وعدہ کیا تھا رحمان نے، یہی ہے وہ، हाज़ा मुبتدا اور ما موصولہ وعد الرحمن صلہ، خبر بھی معرف مبتدا हाज़ा بھی معرفہ، ما موصولہ جو خبر ہے وہ بھی معرفہ اور مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں تو وہ عموماً حصر کا فائدہ دیتے ہیں بھئی، کس چیز کا؟ حصر کا۔ یہی ہے وہ۔ हाज़ा ما وعد الرحمن، یہی ہے وہ جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا، وصدق المرسلون، اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
قالو يا ويلنا من بعثنا من مرقدنا، وہ کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت، کس نے ہم کو اٹھا دیا ہماری خوابگاہ سے؟ تو جواب دیا جائے گا हाज़ा ما وعد الرحمن، یہی ہے وہ جس کا وعدہ کیا تھا رحمان نے وصدق المرسلون، اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے۔
معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے، और वो इस आयत, वो عذاب قبر کے منکر ہیں بھئی۔ عذاب قبر کا وہ انکار کرتے تھے۔
اور یہ آیت بھی دلیل کے طور پر وہ ذکر کرتے ہیں کہ دیکھیے کفار کیا کہہ رہے ہیں، کس نے ہم کو اٹھایا ہماری خوابگاہ سے؟ کس سے؟ خوابگاہ سے، یعنی سونے کی جگہ سے کس نے ہمیں اٹھایا؟ معلوم ہوا عذاب قبر نہیں ہے بھئی۔
سونے کی جگہ کہہ رہے ہیں، نیند کی جگہ بھئی۔
معلوم ہوا عذاب قبر نہیں۔ عذاب ہو تو پھر نیند کہاں ہو آتی ہے بھئی۔
تو یہ ان کے سونے کی جگہ وہ اپنے ذکر کر رہے ہیں، اپنی قبروں کو سونے کی جگہ قرار دے رہے ہیں، معلوم ہوا کہ عذاب قبر نہیں ہے بھئی۔ عذاب قبر نہیں ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟
تو جواب دیتے ہیں ہمارے علماء، کہ یہ جو نفخہ اولیٰ اور نفخہ ثانیہ کے درمیان جو چالیس سال کا عرصہ ہے، اس دوران عذاب قبر بھی ختم ہو جائے گا۔
اس سے پہلے تو عذاب قبر قیامت نفخہ اولیٰ تک تو رہے گا، لیکن پھر نفخہ اولیٰ کے بعد عذاب قبر بھی یہ چالیس سال کے لیے اٹھا لیا جائے گا۔ تو اس وجہ سے وہ کہیں گے کس نے ہم کو ہماری خوابگاہ سے اٹھایا؟ اس دوران تو وہ اسی طرح ہوں گے جیسے انسان سو جاتا ہے، اور اٹھیں گے تو جیسے نیند سے بیدار ہوتا ہے اور عذاب تو پہلے تھا ہی نہیں تو اسی لیے وہ کہیں گے کہ کس نے ہم کو ہماری خوابگاہ سے اٹھایا۔
اور بعض علماء کہتے ہیں، کہ آخرت کے ہولناک منظر اور عذاب کو دیکھیں گے، تو قبر کے عذاب کو اس کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں سمجھیں گے، اسی لیے اس کو سونے کے ساتھ تعبیر کر رہے ہیں بھئی، کہ پہلے تو ہم گویا آرام ہی میں تھے، اب عذاب کو دیکھیں گے تو پہلے والے عذاب کو یہ کچھ بھی نہیں سمجھیں گے اس کے سامنے، تو اسی لیے کہیں گے کس نے ہم کو ہماری خوابگاہ سے اٹھایا بھئی؟ پہلے تو گویا ہم آرام ہی میں تھے، اب عذاب سامنے آ رہا ہے بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
إن كانت إلا صيحة واحدة فإذا هم جميع لدينا محضرون، إن كانت، ہیا ضمیر راجع ہے نفخہ کو، نفخہ کو۔ پیچھے ذکر آیا نا ونفخ في الصور، تو اس سے نفخہ سمجھ میں آ گیا تو یہ نفخہ ہی کو راجع، إن كانت، نہیں ہوگا وہ نفخہ، یعنی نفخہ ثانیہ، إلا صيحة واحدة، مگر ایک چیخ ہی، وہ نفخہ تو بس ایک چیخ ہی ہوگا، ایک سخت آواز ہی ہوگا۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ إن كانت إلا صيحة واحدة، نہیں ہوگا وہ نفخہ مگر ایک سخت آواز ہی، رواں ترجمہ کیسے کریں گے بامحاورہ؟ ہاں وہ وہ نفخہ تو ایک سخت آواز ہی ہوگا فإذا هم جميع لدينا محضرون، پس پھر وہ اذا مفاجاتیہ، پس اچانک وہ جميع، پہلے بھی گزر چکا بمقصد مجموع ان کے فإذا هم پس اچانک وہ جو ہیں مجموعون، جمع کیے جائیں گے لدينا محضرون، ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔ جمع کیے جائیں گے یعنی سب کے سب۔
لدینا محضرون، ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔
جی، تو اذا کا کیا ترجمہ کیا؟ اچانک اور پھر بامحاورہ ترجمہ کس طرح کر لیں گے؟ فوراً، فوراً، یا یکایک بھئی۔ إن كانت إلا صيحة واحدة، وہ نفخہ تو ایک سخت آواز ہی ہوگا فإذا هم جميع لدينا محضرون، پس فوراً ہی وہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کیے جا کر دیے جائیں گے۔
پس فوراً ہی وہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ایک لفظ پہ نظر رکھو، فإذا هم جميع لدينا محضرون، پس فوراً ہی وہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے۔
فالیوم لا تظلم نفس شيئا ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون، فالیوم، الیوم عربی میں الیوم، یوم کا معنی دن اور الیوم کا معنی آج، آج، آج تو اس کا ترجمہ آج کے ساتھ کر لیں۔ آج۔ یا الف لام آیا یوم پر بھئی۔ آج کے ساتھ ترجمہ نہ کریں پھر دوسرا ترجمہ الیوم الف لام آیا اور الف لام کے لیے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو یہاں ایک معین دن کی طرف اشارہ ہو رہا ہے تو پھر ترجمہ کیا کریں گے؟ اس دن اس دن بھئی۔
دیکھیے پہلے آج کے ساتھ ترجمہ کرتے ہیں۔
فالیوم لا تظلم نفس شيئا، پس آج کے دن ظلم نہیں کیا جائے گا کسی نفس پر شيئًا کچھ بھی ولا تجزون، اور تم کو تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے إلا ما كنتم تعملون، مگر اس کا جو تم کیا کرتے تھے۔
مگر اس وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے۔
یعنی جو تم عمل کرتے تھے اسی کا بدلہ دیا جائے گا تمہیں۔
فاليوم لا تظلم نفس شيئا ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون، پس آج کے دن کسی نفس پر کوئی ظلم نہیں ہوگا اور تم کو صرف جو تم عمل کرتے تھے اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔
پس آج کے دن کسی نفس پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ شیئًا کا کیا ترجمہ کیا میں نے؟ کچھ بھی۔
روما با محاورہ کیا کر لیں؟ کوئی کوئی۔
فاليوم لا تظلم نفس شيئا، پس آج کے دن ظلم نہیں کیا جائے گا کسی نفس پر کوئی یعنی اس اب کوئی کو اٹھا کر ظلم کے پاس لے جائیں، پس آج کے دن کسی نفس پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا یعنی کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
پس آج کے دن کسی نفس پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون، اور تم کو تمہارے عملوں ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔
لا اور الا اس کی ختم کیا بھئی بامحاورہ ویسے تو ترجمہ کیا ہے ولا تجزون اور تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے إلا ما كنتم تعملون، مگر وہ جو تم عمل کرتے تھے۔
اور بامحاورہ کس طرح؟ ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون، ہاں اور تم تمہیں تمہارے عملوں ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔
فاليوم لا تظلم نفس شيئا ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون، پس آج کے دن کسی نفس پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں تمہارے عملوں ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔
یہ اللہ اعلان فرمائیں گے اس دن بھئی بروز قیامت بھئی۔
کہ آج کسی نفس پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، آج انصاف کا دن ہے، آج جس نے جو جو عمل کیا ہے اسی کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے گا۔
جی یہ تو پہلا ترجمہ الیوم کا ہم نے کیا معنی کیا؟ آج کے دن دوسرا معنی کیا کریں گے؟ اس دن فالیوم، پس اس دن لا تظلم نفس شيئا، ظلم نہیں کیا جائے گا کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا کسی نفس پر ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون، اور تم کو تو تمہارے عملوں ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔
إن أصحاب الجنة اليوم في شغل فاكهون، یقیناً جنت والے جو ہیں یعنی جنتی، یقیناً جنت والے الیوم کا یہاں بھی اسی طرح آج کے ساتھ ترجمہ کر لیں یا اس دن۔
يقيناً جنت جنت والے اس دن في شغل، شغل کہتے ہیں بھئی مشغلے کو، مشغولیت کو۔
يقيناً جنت والے اس دن في شغل، مشغلے میں ہوں گے، مشغولیت میں ہوں گے۔
فاكهون، خوش ہوں گے لذتوں میں ہوں گے۔
فاكهون کا کیا معنی؟ خوش ہوں گے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی مگن ہوں گے، بامحاورہ کیا ترجمہ کر لیں؟ جی مگن ہوں یا اسی طرح خوش ہی کر لیں آپ جیسے آپ کو بہتر لگے۔
يقيناً جنت والے اس دن في شغل فاكهون، مشغلے میں مگن ہوں گے یعنی اپنے اپنے مشغلے میں، جس کو جو چیز پسند ہوگی اسی میں مگن ہوگا بھئی۔
اسی میں مگن ہوگا۔
کوئی مختلف قسم کے پھل وغیرہ جو پسند ہوں گے وہ کھانے میں مشغول ہوگا۔
کوئی اپنی بیگمات اور حوروں کے ساتھ مشغول ہوگا۔
کوئی حوروں سے گانا سننے میں مشغول ہوگا، جنت میں بھی گانا ہوگا لیکن یہ اس طرح نہیں یہ بیہودہ گانے جو آپ گانے کا ویسے لفظ استعمال ہو رہا ہے، ہاں وہاں اچھے اشعار ہوں گے اللہ کی حمد و ثناء والے اور حوریں سنائیں گی بھئی اور سننے والا سنے گا بھئی اور ان کی کیسی آواز ہوگی اور اس ان اشعار کے پڑھنے میں کیا لذت ہوگی، اسے بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔
اور پھر حضرت داؤد علیہ السلام جن کو اللہ نے بڑی ہی حسین و جمیل آواز دی تھی اور آج تک مشہور ہے کسی کی بڑی اچھی آواز ہو تو کہتے ہیں لحن داؤدی بھئی، لحن داؤدی۔
اور وہ پھر اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے اور اتنی اتنی لذت ہوگی، اتنی دلکش اور پیاری آواز ہوگی کہ جنتی سارے جو ہیں اس میں مگن ہو جائیں گے اس کے سننے میں بھئی، اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے، اسی طرح حوریں جو ہیں وہ ترنم کے ساتھ اللہ کی حمد و ثناء والے اشعار پڑھیں گی اور جنتی سنیں گے بھئی۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ إن أصحاب الجنة اليوم في شغل فاكهون، یقیناً جنت والے اس دن مشغلوں میں، مشغلے میں مگن ہوں گے یعنی اپنے اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے۔
يا اپنے اپنے مشغلے میں خوش ہوں گے۔
جی الیوم کا کیا ترجمہ کیا؟ اس دن آپ آج کے ساتھ کر لیں، یقیناً جنت والے آج کے دن اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے، اپنے مشغلے میں خوش ہوں گے۔ هم وأزواجهم في ظلال على الأرائك متكئون، وہ جنتی و ازواجهم اور ان کی بیبیاں في ظلال، ظلال جمع ہے ظل کی بھئی، سائے کو کہتے ہیں، وہ اور ان کی بیبیاں في ظلال سായوں میں على الأرائك، آرائک جمع ہے اَریکۃ کی بھئی۔
اَریکۃ تخت بھئی، تخت بیٹھنے کے لیے جو جگہ بنی ہو، تخت وغیرہ، اس کو اریکہ کہتے ہیں عربی میں بھئی۔
اور عام بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں بھئی، اریکہ وہ تخت جس پر پردے بھی لٹکے ہوئے ہوں بھئی، جس پر کیا ہو اطراف میں پردے بھی لٹکے ہوں، پھر اس کو اریکہ کہا جاتا ہے اس تخت کو، پردوں کے بغیر والے کو اریکہ نہیں کہتے بھئی۔
جیسے بھئی وہ دلہن کے لیے وہ کمرہ سجایا جاتا ہے اور وہ کیا کہتے ہیں اسے، وہ جو مسہری بھئی، جس پر اطراف میں پردے لٹکے ہوتے ہیں بھئی، اطراف میں پردے لٹکے ہوتے ہیں۔
تو اس کو اریکہ کہیں گے بھئی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں هم وأزواجهم في ظلال على الأرائك متكئون، وہ اور ان کی بیبیاں سായوں میں مسہریوں پر متكئون، تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، تکا کا معنی تکیہ لگانا۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ هم وأزواجهم في ظلال على الأرائك متكئون، وہ اور ان کی بیبیاں سായوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ لهم فيها فاكهة ولهم ما يدعون، لهم فيھا ان کے لیے ان جنتیوں کے لیے فيھا اس جنت میں فاكهة، میوے ہوں گے، پھل ہوں گے۔
फल होंगे، فاكهة फल भाई۔ ولهم اور ان جنتیوں کے لیے ما وہ ہوگا يدعون، جو وہ مانگیں گے، ادعا کے معنے طلب کرنا، مانگنا۔
اور اسی طرح ادعا کے معنے تمنا کرنے کے بھی ہیں بھئی، ادعا کے کیا معنے ہیں؟ ایک معنی ہے طلب کرنا، مانگنا اور ایک معنی کیا ہے؟ تمنا کرنا، دونوں معنی آپ یہاں کر سکتے ہیں جو آپ کو مناسب لگے۔ ولهم ما يدعون، اور ان کے لیے وہ ہوگا جو وہ مانگیں گے، یعنی ان کو وہ ملے گا جو وہ مانگیں گے۔
ان کو وہ ملے گا جو وہ مانگیں گے۔
یہ دوسرا ترجمہ کیا؟ اور انہیں ان کے لیے وہ ہوگا یعنی انہیں وہ ملے گا جو وہ چاہیں گے۔
ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔
لهم فيها فاكهة، ان کے لیے جنتیوں کے لیے جنت میں میوے ہوں گے ولاھم ما يدعون، اور ان کے لیے جو کچھ وہ ہوگا جو کچھ وہ چاہیں گے۔ سلام قولا من رب الرحيم۔
سلام کہا جائے گا من رب الرحيم، نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے کی طرف سے۔
سلام قولا من رب الرحيم، سلام کہا جائے گا رب رحیم کی طرف سے ان جنتیوں کو۔
سلام قولا من رب الرحيم، سلام کہا جائے گا کن کو؟ ان جنتیوں کو من رب الرحيم، رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے۔
سلام مبتدا ہے علیکم خبر محذوف ہے بھئی۔
سلام علیکم۔ سلام تو کیا خبر کیا ہوئی؟ علیکم، یعنی السلام علیکم، یہ انہیں کہا جائے گا رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے۔
يا سلام مبتدا اور یہ قولا اس کی خبر ہے بھئی۔
قولاً کیا ہے اس کی خبر۔ اس پر آپ کہیں گے کہ یہ خبر خبر تو مرفوع ہوا کرتی ہے یہ منسوب کیسے؟ جواب یہ کہ یہاں یہ اصل میں تھا بقول۔ سلام بقول من رب الرحيم۔ سلام ہوگا بقول من رب الرحيم، رب رحیم کے قول کے ساتھ، رب رحیم کے قول کے ساتھ سلام ہوگا۔
یعنی اللہ ان پر سلام فرمائیں گے۔
تو یہ یہاں قولاً منسوب ہے لیکن اصل میں کیا تھا؟ بقول تو یہ بقول خبر ہے جار مجرور مل کر متعلق ہو جائیں گے جو سلام ثابت بھئی، ثابت سے متعلق ہو جائیں گے بھئی۔
تو وہ بھئی تو یہ بقول یہ خبر ہے۔
جیسے آپ کہتے ہیں بھئی زید فی الدار، زید مبتدا ہے اور فی الدار اس کی خبر ہے تو یہ جار مجرور خبر بنیں گے۔ تو یہ اصل میں تھا بقول بھئی، جار مجرور۔
پھر کیا کیا گیا؟ با کو حذف کر لیا گیا اور قول جو مجرور تھا اس کو نصب دے دیا گیا۔
با کو حذف کر لیا گیا اور قول کو کیا کر دیا؟ مجرور کو کیا کیا گیا؟ نصب، اس کو کہتے ہیں منصوب بنزع الخافض۔
منصوب بنزع الخافض۔
نزع کا معنی کھینچنا، دور کرنا۔ خافض، جر دینے والا۔
معنی اسی سے سمجھ میں آ رہا ہے بھئی، معنی خود ہی لفظوں پر غور کر لو منصوب بنزع الخافض، یہ کیا ہے؟ منصوب ہے، کس وجہ سے؟ نزل الخافض، جر دینے والے کو دور کرنے کی وجہ سے، وہ جو جر دے رہی تھی با، اس کو ہم نے کیا کر دیا؟ دور کر دیا، اس کو ختم کر دیا، تو اس کے جب اس کو ختم کرتے ہیں تو کیا کر دیتے ہیں؟ نصب دے دیتے ہیں بھئی، تو یہ منصوب بنزع الخافض ہے بھئی، معنی سب کو سمجھ میں آ گیا؟
سلام قولا من رب الرحيم، سلام کہا جائے گا رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے۔
روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالی خود سلام فرمائیں گے جنتیوں کو بھئی۔ اللہ خود سلام فرمائیں گے۔
احادیث احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جنتی اپنے اپنے مشغلوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالی تجلی فرمائیں گے۔
اور جنتی جو ہیں وہ اللہ تعالی کے دیدار میں مشغول ہو جائیں گے اور اتنی لذت ہوگی، اتنی لذت ہوگی اس خالقِ ارض و سما کی رویت میں اور دیدار کے اندر کہ سب کچھ بھول جائیں گے جنت کی ہر چیز کو بھلا بیٹھیں گے بھئی۔
ہر چیز کو بھلا بیٹھیں گے۔
اور پھر کچھ دیر کے بعد پھر اللہ ان سے پردہ فرما لیں گے بھئی۔
تو جنت کی نعمتیں ایسی نعمتیں ہیں کہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی دل پر بھی ان کا گزر نہیں ہوا، ہم جس چیز جو ہمارا تصور بھی ہے وہ ہماری یہ جو دیکھی ہوئی چیزیں ہیں ان سے باہر نہیں جاتا بھئی، ایک چیز ہماری دیکھی نہیں ہے پتہ ہی نہیں ہے۔
تو جو چیز ہم تصور بھی کر لیں جتنی بھی حد سے حد ہم تصور کر لیں بہرحال انہی کی طرح کی یہ انہی کے مقابلے کی کوئی چیز تصور کر سکتے ہیں بھئی، تو جنت کی نعمتوں کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی اور ان کی حقیقت کا علم سواۓ اللہ کے نہ کسی پیغمبر کو ہے، نہ ولی کو، نہ کسی اور کو بھئی، کسی کو ان کا علم نہیں بھئی۔
چلیے بس بھئی ہادا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الكلام۔