Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الم۔ تلک ایت الکتاب الحکیم۔ ھدی ورحمۃ للمحسنین۔ الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ وهم بالاخرۃ هم یوقنون۔ آج ہم سورۂ لقمان شروع کریں گے بھئی۔ الم۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ میں نے پہلے بھی آپ کو بتلایا تھا، ان کو حروف مقطعات کیوں کہتے ہیں؟ کہ ان میں سے ہر ایک ایک حرف کو الگ الگ پڑھا جاتا ہے۔ الف، لام، میم، تینوں کو الگ الگ پڑھا گیا بھئی۔ اور ان کا معنی جو ہے، اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں بھئی۔ اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ بعض نے ذکر کیا کہ الف سے مراد ہے اللہ، لام سے مراد ہے جبریل علیہ السلام، اور میم سے مراد ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ یعنی کہ معنی یہ ہے کہ یہ جو قرآن ہے، اسے اللہ نے جبریل علیہ السلام کے واسطے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا بھئی۔ لیکن بہرحال یہ کوئی یقینی اور قطعی معنی نہیں ہے۔ یقینی اور قطعی معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ تلک ایت الکتاب الحکیم۔ یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی۔ یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی، یعنی وہ کتاب جو حکمت اور دانائی کی باتوں سے بھری ہوئی ہے، اس کی آیتیں ہیں یہ۔ ھدی ورحمۃ للمحسنین۔ ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے۔ یہ آیتیں کیا ہیں؟ ہدایت ہیں اور رحمت ہیں نیکی کرنے والوں کے لیے۔ ھدی ورحمۃ بھئی، یہ منصوب ہیں بھئی۔ یاد رکھیے یہ حال واقع ہو رہے ہیں بھئی، ایات سے بھئی۔ کس سے؟ ایات سے حال واقع ہو رہے ہیں۔ کہ یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی اس حال میں کہ یہ ہدایت اور رحمت ہیں نیکی کرنے والوں کے لیے۔ تو ھدی ورحمۃ منصوب ہیں، کیونکہ حال کیا ہوا کرتا ہے؟ حال منصوب ہوا کرتا ہے۔ الذین یقیمون الصلوۃ۔ الذین یاد رکھیے، یہ اسم موصول ہے، معرفہ ہے، اور موصول آگے اس کا صلہ آ رہا ہے۔ یہ موصول صلہ مل کر صفت ہیں المحسنین کی بھئی۔ المحسنین بھئی، وہ بھی معرفہ اور الذین یہ بھی معرفہ، تو یہ اس کے لیے کیا ہے؟ صفت۔ ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے، الذین یقیمون الصلوۃ، وہ جو قائم کرتے ہیں نماز کو، ویؤتون الزکوۃ، اور دیتے ہیں زکوۃ، وهم بالاخرۃ هم یوقنون، اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ وهم بالاخرۃ هم یوقنون، اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں بھئی۔ ان نیکی کرنے والوں کی صفات ذکر ہو رہی ہیں کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ جو وهم بالاخرۃ هم، یہ جو دوسرا هم آیا، یہ جو ضمیر آئی، یہ تاکید ہے پہلے هم کے لیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اس کے لیے تاکید ہے بھئی۔ اسی لفظ کا دوبارہ ذکر ہو تو اس کو اس لفظ کے لیے کیا کہتے ہیں؟ تاکید۔ مثلاً میں کہتا ہوں جاءنی زید زید، یہ زید ثانی اول کے لیے کیا ہے؟ تاکید ہے۔ تو هم جو ہے، یہ ہے مبتدا، پہلا هم۔ اور دوسرا هم اس کے لیے کیا ہے؟ تاکید بھئی۔ اور یہ یوقنون یہ خبر ہے بھئی۔ وہ یقین رکھتے ہیں۔ کس چیز پر یقین رکھتے ہیں؟ بالاخرۃ، آخرت پر۔ تو جار مجرور کا تعلق اس یوقنون سے ہے بھئی۔ کس سے تعلق ہے؟ یوقنون سے، وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اولئک علی ھدی من ربهم واولئک هم المفلحون۔ یہ لوگ جو ہیں علی ھدی، ہدایت پر ہیں، من ربهم، اپنے پروردگار کی طرف سے، واولئک هم المفلحون، اور یہ لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے، یا یوں کر لیں، یہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے۔ یہ هم درمیان میں کیا آیا؟ دیکھو اولئک مبتدا ہے، المفلحون خبر ہے، مبتدا کے ساتھ خبر بھی معرفہ آ گئی تو اس صورت میں درمیان میں کیا کرتے ہیں؟ بعض اوقات یہ فصل لے آتے ہیں۔ یہ ضمیر نہیں بلکہ فصل ہے، یہ صرف یہ بتلاتی ہے کہ یہ جو آگے آنے والا معرفہ لفظ ہے، یہ ماقبل کی صفت نہیں ہے بلکہ خبر ہے۔ تو یہ خبر اور صفت میں فرق کرنے کے لیے فصل لائی جاتی ہے۔ واولئک هم المفلحون، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔ ومن الناس من یشتری لهو الحدیث، اور لوگوں میں سے بعض جو ہیں، من وہ ہیں، یشتری کہ وہ خریدتے ہیں، لهو الحدیث، لهو کا معنی پہلے بھی یہ لفظ گزر چکا، میں نے بتلایا تھا لهو کہتے ہیں ہر وہ چیز جو غفلت میں ڈالنے والی ہو بھئی، یعنی تماشا بھئی، تماشا، کھیل تماشا۔ اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو خریدتے ہیں لهو الحدیث۔ حدیث، بات بھئی، بات۔ باتوں کا تماشا۔ لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو باتوں کا تماشا خریدتے ہیں، یا یوں کر لیں، کھیل تماشے کی باتیں خریدتے ہیں۔ تماشے کی، یہ تو میں نے لفظی ترجمہ کیا نا، لهو مضاف ہے، الحدیث مضاف الیہ ہے، اور اردو میں مضاف پہلے آتا ہے، مضاف الیہ کو پہلے مقدم کر دیتے ہیں، تو کیا ترجمہ ہوگا لهو الحدیث کا؟ باتوں کا کھیل، باتوں کا تماشا۔ ویسے مراد یہ، یعنی کھیل کی باتیں مراد ہیں بھئی۔ جی۔ ومن الناس، اور جو خریدتے ہیں لهو الحدیث، کھیل کی تماشے کی باتیں، لیضل عن سبیل اللہ، تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کے راستے سے، بغیر علم، بغیر جانے، بغیر کسی علم کے، بغیر سمجھے بھئی، بغیر سمجھے۔ اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو خریدتے ہیں کھیل کی باتیں تاکہ گمراہ کریں اللہ کے راستے سے بغیر علم، بغیر سمجھے، بغیر سمجھے اور بغیر سمجھے جانے۔ بھاِئی، مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک شخص تھا جس کا نام نضر بن حارث تھا، نضر ضاد کے ساتھ ہے بھئی، نضر ابن حارث، حارث کے آخر میں ثا ہے ثا۔ کہ مکہ میں ایک سردار تھا، سردار جس کا نام نضر بن حارث تھا، اور تجارت کرنے والا شخص تھا، یہ دوسرے ممالک کی طرف سفر کرتا اور حیرہ وغیرہ عراق کی طرف اور وہاں سے پھر یہ ان لوگوں کے قصے وغیرہ اور قصے کہانیوں کی کتابیں خرید کر لاتا تھا بھئی۔ اور نیز اس کے پاس لونڈیاں تھیں، ایک لونڈی تھی بڑی عمدہ گانے والی بھئی۔ چنانچہ جب اسے علم ہوتا کہ کوئی شخص مسلمان ہو رہا ہے اور تو وہ اس کے پاس اپنے اس باندی کو لے جاتا اور کہتا کہ اس کو خوب کھلا، پلا اور اس کو گانا سناؤ بھئی۔ اور پھر اسی طرح ان لوگوں کے ان لوگوں کو وہاں وہ ایران والوں کے بادشاہوں کے اور روم والے بادشاہوں کے وہ قصے کہانیوں کی کتابیں خرید لاتا، وہ قصے کہانیاں بھی سناتا اور پھر کہتا بھئی کہ محمد تمہیں محمد تمہیں عاد و ثمود کے قصے سناتے ہیں، میں تمہیں یہ بادشاہوں کے قصے سناتا ہوں، یہ رستم و اسفندیار اور ایران اور روم کے بادشاہوں کے قصے سناتا ہوں۔ اور وہ تمہیں نماز روزے اور وغیرہ کی طرف بلاتے ہیں اور میں تمہیں ان چیزوں کی طرف اور میری چیزیں ان سے بہت بہتر ہیں بھئی۔ تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگوں میں سے بعض وہ ہیں من یشتری لهو الحدیث جو خریدتے ہیں کھیل کی باتیں خریدتے ہیں، لیضل عن سبیل اللہ تاکہ کیا کریں لوگوں کو؟ گمراہ کریں عن سبیل اللہ اللہ کے راستے سے بغیر علم بغیر بغیر سمجھے بوجھے بھئی، بغیر سمجھے بوجھے۔ سمجھ میں آیا؟ تو لهو الحدیث سے ہر وہ چیز کھیل کی باتیں، تماشے کی باتیں، اس سے ہر وہ چیز مراد ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی ہو۔ اس میں ہر وہ چیز داخل ہے بھئی جو اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی ہو، چاہے وہ فضول قصہ گوئی ہے، ہنسی مذاق کی باتیں ہیں، گانا بجانا وغیرہ سب اس کے اندر آ گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سب اس کے اندر آ گئے بھئی۔ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ قرآن میں ٹی وی کا ذکر نہیں ہے۔ تو کہنے لگے کیوں نہیں ٹی وی کا ذکر؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ومن الناس من یشتری لهو الحدیث اور وہ لوگ جو بعض لوگ جو خریدتے ہیں باتوں کے کھیل خریدتے ہیں، یہ ٹی وی بھی اسی کے اندر داخل ہے، اس کے اندر بھی جو کچھ آپ دیکھتے ہیں ڈرامے وغیرہ، فلمیں وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ لهو الحدیث کے اندر داخل ہیں، یہ کھیل تماشے کی باتیں جو اللہ کی یاد سے غافل کر دینے والی چیزیں ہیں بھئی، غافل کر دینے والی۔ تو کہتے ہیں ومن الناس من یشتری لهو الحدیث اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو خریدتے ہیں باتوں کے کھیل کی باتیں، لیضل عن سبیل اللہ تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کے راستے سے، بغیر علم بغیر بغیر جانے، ویتخذھا ھزوا، ویتخذ، اس کا عطف ہے یضل پر، لیضل، تو یہ بھی اسی لام کے تحت آیا، ای لیتخذھا، اور تاکہ پکڑ لیں، ھا ضمیر راجع ہے یا تو ایات کو یا سبیل اللہ کو بھئی۔ ایات کی طرف راجع ہو تو ھا ضمیر واضح وہ جمع ہے اور جمع کی طرف واحد مونث کی ضمیر لوٹائی جاتی ہے۔ اور سبیل اللہ کی طرف بھی راجع کر سکتے ہیں، سبیل اللہ کی طرف تو سبیل کا لفظ جو ہے عربی میں مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور مونث بھی استعمال ہوتا ہے بھئی، دونوں طرح، تو اس لیے اس کی طرف مونث کی ضمیر لوٹائی گئی۔ اور جی، اور سبیل اللہ سے یاد رکھیے مراد اللہ کا دین ہے بھئی، اللہ کا اللہ کا راستہ یا اللہ کا دین بھئی۔ تو تاکہ گمراہ کریں بغیر سمجھے بوجھے، ویتخذھا، اور تاکہ پکڑ لیں اس اللہ کے دین کو ھزوا، مذاق بھئی۔ کیا بنا لیں اس کو؟ مذاق بنا لیں، یعنی ہنسی کی چیز بنا لیں۔ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ بعض لوگ کیا کرتے ہیں؟ لهو الحدیث کو خریدتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کریں اور تاکہ اس دین کو ہنسی کی چیز بنا دیں، اس کا اس کی ہنسی اڑائیں، ہنسی مذاق اڑائیں۔ تو ویتخذھا ھزوا تاکہ اس اللہ کے دین کو کو ہنسی بنائیں، یعنی اس کا مذاق اڑائیں، تاکہ اللہ کے اس دین کا مذاق اڑائیں، اولئک لهم عذاب مهین، انہی کے لیے ہے اہانت والا عذاب، یعنی ذلت والا عذاب۔ انہی لوگوں کے لیے کیا ہے؟ ذلت والا عذاب ہے بھئی۔ تو کیا اللہ تعالی نے ذکر فرمایا؟ ویتخذھا ھزوا تاکہ اس دین کا کیا کریں؟ ہنسی اور مذاق اڑائیں، یعنی اس کی تذلیل و تحقیر کریں، تو لہذا ان کے لیے جو عذاب بھی ہے وہ اہانت والا ہے، اسی کے مطابق بھئی، جس میں ان کی کیا ہو؟ ذلت ہوگی، اہانت ہوگی۔ تو اولئک لهم عذاب مهین، انہی لوگوں کے لیے ہے ذلت والا عذاب۔ واذا تتلی علیه ایاتنا، اور جب تلاوت کی جاتی ہیں علیہ اس پر ایاتنا ہماری آیتیں۔ یعنی یہ جو بھی یہ لهو الحدیث خریدنے والا ہے، جب اس پر تلاوت کی جاتی ہیں ہماری آیتیں، ولا، تو یہ پشت پھیر دیتا ہے، مستکبرا، یہ حال ہے ولا کے اندر جو ھو ضمیر ہے۔ اس حال میں کہ یہ تکبر کرنے والا ہوتا ہے۔ مستکبر کسے کہتے ہیں؟ تکبر کرنے والا۔ تو وہ پشت پھیرتا ہے اس حال میں کہ تکبر کرنے والا ہوتا ہے، یہ تو لفظی ترجمہ میں نے بتایا۔ تو با محاورہ یوں ہوگا، واذا تتلی علیه ایاتنا اور جب اس پر تلاوت کی جاتی ہیں ہماری آیتیں ولا مستکبرا تو یہ تکبر کرتے ہوئے پشت پھیر لیتا ہے، کان لم یسمعها، گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں ان آیتوں کو۔ ھا ضمیر کس کو راجع؟ ایات کو بھئی۔ گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں ان کو، کان فی اذنیه وقرا، گویا کہ اس کے دونوں کانوں کے اندر بوجھ ہو۔ دونوں کانوں میں بوجھ۔ وقر کہتے ہیں کانوں میں بوجھ ہونا بھئی، یعنی ان کا بہرا ہونا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کانوں میں بوجھ ہونا یعنی ان کا بہرا ہونا۔ کان فی اذنیه وقرا، گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہو۔ یا یوں کر لیں ترجمہ، کان فی اذنیه وقرا، گویا کہ اس کے دونوں کان بہرے ہوں۔ فبشره بعذاب الیم، پس اے پیغمبر! آپ خوشخبری دے دیجیے اس کو دردناک عذاب کی۔ بطور استہزاء کے بھئی، عذاب کی خوشخبری، عذاب کی خبر دینے کو خوشخبری نہیں کہا جاتا، لیکن بطور استہزاء کے اللہ فرما رہے ہیں کہ اس کو کیا کریں؟ عذاب کی خوشخبری دے دیجیے۔ تو کہتے ہیں جب اس پر تلاوت کی جاتی ہیں ہماری آیتیں۔ تکبر کرتے ہوئے پشت پھیر لیتا ہے، گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں۔ یعنی سنی ان سنی کر دیتا ہے، یوں بن جاتا ہے جیسے میں نے تو سنا ہی نہیں ہے کچھ کہ آپ نے کچھ کہا، یا کوئی۔ تو گویا کہ اس کے کانوں میں، گویا کہ اس کے دونوں کان بہرے ہوں۔ پس اس کو خوشخبری دے دیجیے دردناک عذاب کی۔ ان الذين امنوا، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، وعملوا الصالحات، اور نیک عمل کرتے رہے، لهم جنات النعيم، ان کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں۔ ان کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں۔ خالدين فيها، ہمیشہ اس کے اندر رہیں گے، وعد الله حقا، اللہ کا وعدہ ہو چکا سچا۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہو چکا ہے بھئی۔ وعد اللہ یہ مفعول مطلق ہے مولانا، مفعول مطلق ہے بھئی۔ اسی طرح حقاً یہ بھی مفعول مطلق ہے، کس سے؟ یہ ماقبل میں جو جملہ آیا، جو آیا ان الذين امنوا وعملوا الصالحات لهم جنات النعيم، ان کے لیے کیا ہیں؟ نعمتوں والی جنتیں ہیں، تو یہ اللہ کا وعدہ ہے بھئی، تو یہ اسی سے مفعول مطلق ہے بھئی۔ وعد الله حقا، اللہ کا وعدہ، اللہ کا وعدہ ہو چکا سچا، یعنی یہ اللہ کا سچا وعدہ ہو چکا ہے، وهو العزيز الحكيم، اور وہ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں۔ خلق السماوات بغير عمد ترونها، پیدا کیا اللہ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے، عمد جمع ہے عماد کی اور عماد ستون کو کہتے ہیں۔ خلق السماوات، پیدا کیا اس نے، ہوا ضمیر کس کو راجع؟ اللہ تعالیٰ کو۔ اس اللہ نے پیدا کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے، ترونها۔ ہا ضمیر راجع ہے یہ عمد کو بھئی، ستونوں کو، کہ تم ان کو دیکھتے ہو۔ کہ تم ان کو بھئی یہ صفت ہے عمد کی، عمد نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد ترونها فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کی صفت بنا کرتا ہے بھئی، کیا بنتا ہے؟ صفت، جملہ بن کر صفت بنے گا۔ اور پھر ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں تو ترجمہ ہو جائے گا۔ ایسے ستون، عمد ترونها، ایسے ستون جنہیں تم دیکھتے ہو ان کے بغیر۔ ایسے ستون جنہیں تم دیکھتے ہو اس کے بغیر۔ دیکھیے خلق السماوات بغير عمد ترونها، اللہ نے پیدا کیا آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کو جنہیں تم دیکھتے ہو، یعنی جو تمہیں دکھائی دیتے ہوں۔ کیا آسمانوں کے ستون آپ کو دکھائی دیتے ہیں بھئی کوئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو بغیر ایسے ستون جو دکھائی دیتے ہیں، ان کے بغیر اللہ نے آسمانوں کو پیدا کیا بھئی۔ تو ہو سکتا ہے دونوں معنی اس کے ہو سکتے ہیں۔ ایک معنی تو یہ کہ سرے سے کوئی ستون ہے ہی نہیں۔ آسمانوں کو اللہ نے بغیر ستونوں کے پیدا کیا ہے، یہ معنی بھی صحیح۔ اور ہو سکتا ہے معنی یہ، یہ معنی بھی صحیح کہ ستون تو ہوں لیکن ہمیں دکھائی نہ دیتے ہوں بھئی، بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ خلق السماوات بغير عمد ترونها، پیدا کیا اللہ نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو، وألقى في الأرض رواسي، اور ڈال دیے، رکھ دیے، اور رکھ دیے زمین میں رواسی، پہاڑ بھئی۔ زمین میں کیا رکھ دیے؟ پہاڑ رکھ دیے، رواسی، غیر منصرف ہے مولانا، غیر منصرف، اسی لیے اس پر تنوین نہیں آئی بھئی۔ تنوین نہیں آئی، جمع منتہی الجمع کا صیغہ ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ اور یہ جمع ہے راسی کی، راسی۔ راسی کہتے ہیں وہ چیز جو جمی ہوئی ہو، گڑی ہوئی ہو، یعنی جسے گاڑا گیا ہے بھئی، سمجھ میں آ گئی بات؟ تو پہاڑ جو ہیں ان کو بھی اللہ نے زمین میں گاڑ رکھا ہے۔ تو پہاڑ ہیں، رواسی سے کیا مراد ہیں؟ پہاڑ مراد ہیں۔ اور راسیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز جو گاڑی گئی ہو بھئی، گاڑی گئی ہو، جمائی گئی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ اور آج سائنس نے آکر 1400 سال بعد آج آکر سائنس نے یہ پتہ چلایا کہ یہ جو پہاڑ ہیں، جس طرح زمین کے اوپر اونچائی تک یہ نوک ان کی بنتی چلی جاتی ہے، تقریباً اس کے قریب قریب اسی طرح یہ زمین کے اندر بھی گئے ہوتے ہیں بھئی، جس سے پہلے یہ بات پتہ نہیں تھی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ آگے کسی جگہ تفصیل سے میں ذکر کروں گا بھئی، جہاں تفصیلی آیت اس بارے میں آ جائے گی۔ اچھا بھئی، وألقى في الأرض رواسي، اور رکھ دیے زمین کے اندر پہاڑ، أن تميد بكم، مَادَ يَمِيدُ کے معنی ہوتے ہیں ہلنے کے۔ أن تميد بكم، أي أن لا تميد بكم بھئی، یہاں لا مقدر ہے بھئی۔ مَادَ يَمِيدُ کے معنی ہوتے ہیں ہلنے کے بھئی، ہلنے کے، ڈگمگانا بھئی، ڈانوا ڈول ہونا۔ اور رکھ، اور رکھ دیے زمین کے اندر پہاڑ أن لا تميد بكم کہ کہیں تمہارے، تمہیں لے کر ہلنے نہ لگیں، تمہارے ساتھ وہ ہلنے نہ لگیں بھئی۔ تمہارے ساتھ وہ ڈانوا ڈول نہ ہونے لگیں بھئی۔ تو اس آیت کے اندر بھئی، آج سائنس کیا کہتی ہے؟ کہ یہ زمین جو ہے حرکت کر رہی ہے اور اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔ جس طرح پنکھا گھومتا ہے بھئی اپنے محور پر گول چکر لگا رہا ہے اپنی جگہ پر، اسی طرح زمین جو ہے یہ بھی اپنے محور پر گھوم رہی ہے اور اسی سے یہ دن رات بنتے ہیں بھئی، سورج کے سامنے جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اس پر روشنی پڑتی ہے، پھر گھومتے گھومتے جب دوسری طرف چلا جاتا ہے وہ حصہ، تو اسی پر رات ہو جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک طرف آپ ایک ٹارچ رکھیں اور اس کے سامنے ایک گیند کو رکھیں، تو دیکھو جس سائیڈ پر گیند کے روشنی پڑ رہی ہے وہ روشن ہے اور دوسری جانب کیا ہے؟ دوسری جانب روشنی نہیں ہے، تو یہ اب اس گیند کو آپ ٹارچ کے سامنے اپنی جگہ پر گھمائیں، تو دیکھیں گے کہ پہلے ایک حصہ روشنی میں تھا، جب گھمائیں گے تو وہ حصہ اندھیرے کی طرف آ جائے گا اور اندھیرے والا روشنی کی طرف۔ تو اسی طرح زمین بھی اپنی جگہ یعنی محور پر جس طرح گھوم رہی ہے، یہ دو تین حرکتیں ہیں زمین کی، ایک حرکت یہ والی ہے کہ اپنے محور پر گھوم رہی ہے، تو جو حصہ اس کا سورج کے سامنے آتا ہے اس میں روشنی ہوتی ہے، اسے ہم دن کہتے ہیں، اور جو دوسری طرف چلا جاتا ہے وہاں اندھیرا ہوتا ہے، اسے ہم رات کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ جب گھوم، کوئی چیز گھوم رہی ہو اس کے اندر اگر ذرا بھی توازن نہ رہے تو وہ کانپنا شروع کر دیتی ہے۔ جیسے پنکھا اپنی جگہ پر گھوم رہا ہے، لیکن اگر ایک پر تھوڑا سا بھی ٹیڑھا ہو جائے تو پورا پنکھا کانپنا شروع کر دیتا ہے بھئی۔ اسی طرح زمین کے بھی اسی طرح اپنے محور پر گھوم رہی ہے اور اس کے اندر اس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑ لگا دیے، چنانچہ آج سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے، اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ہر وقت تھرتھراتی رہتی، کانپتی رہتی گھومتے ہوئے، اور پھر ہر وقت زلزلے اور طوفان ہر جگہ برپا ہوتے اور اس پر زندگی گزارنا بڑا ہی مشکل ہو جاتا بھئی، ممکن ہی شاید نہ رہتا۔ تو جس کی یہ وہی بات جس کا قرآن نے آج سے 1400 سال پہلے اعلان کر دیا، سمجھ میں آیا؟ قرآن کے عجائبات، لا تنقضی عجائبه، اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے، جوں جوں سائنس ترقی کرتی جائے گی، قرآن کی نئے نئے نکات اور نئی نئی باتیں سامنے آتی چلی جائیں گی۔ کتنے واضح لفظوں میں اللہ فرما رہے ہیں، اللہ نے رکھ دیے زمین کے اندر پہاڑ، أن تميد بكم، کہ کہیں تمہیں لے کر ہلنے نہ لگیں، کانپنے نہ لگیں، ڈگمگانے نہ لگیں۔ سائنسدانوں نے یہ بات آج آکر تحقیقات سے، آج ان کو پتہ لگا ہے کہ یہ زمین پر اگر پہاڑ نہ ہوتے، تو اس پر ہر وقت یہ لرزتی رہتی، کانپتی رہتی، تو وہ بات جو اللہ نے 1400 سال پہلے بتلائی تھی، آج آکر سائنس نے اس کی تصدیق کر دی کہ واقعی اسی طرح ہے، معلوم ہوا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے، اس کے باوجود وہ تسلیم نہیں کرتے اس بات کو بھئی۔ کتنی واضح نشانی ہے بھئی، 1400 سال پہلے کی ایک بات آپ ان کو دکھائیں کہ یہ دیکھو، آج جو تم نے بات کی ہے وہ قرآن نے 1400 سال پہلے ہمیں بتلا دی تھی، لیکن وہ پھر بھی تسلیم نہیں کرتے بھئی۔ اور نیز اس آیت میں زمین کی محوری گردش کی طرف کتنے واضح لفظوں میں اشارہ ہے کہ زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے اور پہاڑوں کے گاڑنے سے اس کی حرکت میں توازن ہے اور اعتدال ہے بھئی، لرزہ نہیں ہے اس کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ لرزہ، یہ گھوم رہی ہے، لیکن اگر پہاڑ نہ ہوتے تو اس میں زلزلے ہوتے، تو واضح طور پر محوری حرکت کی طرف اشارہ ہو گیا بھئی۔ وألقى في الأرض رواسي، اور رکھ دیے زمین کے اندر پہاڑ، أن تميد بكم، کہ تمہیں لے کر ہلنے نہ لگیں، تمہیں لے کر ڈگمگانے نہ لگیں، وبث فيها، بث کے معنی پھیلانے کے ہیں بھئی، بث کے معنی پھیلانے کے۔ وبث فيها، اور پھیلا دیے فيها، أي في الأرض، ہا ضمیر کس کو راجع؟ ارض کو، اور پھیلا دیے زمین کے اندر من كل دابة، ہر قسم کے جانور، دابہ ہر وہ زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو دابہ کہتے ہیں بھئی، اور پھیلا دیے زمین کے اندر ہر قسم کے جاندار، وأنزلنا من السماء ماء، اور نازل کیا، اتارا ہم نے آسمان سے پانی کو۔ دیکھیے یہ پھر التفات آیا بھئی، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا التفات کسے کہتے ہیں؟ کہ بات کرنے کے جو تین طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف، کی طرف جانا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ التفات کہلاتا ہے۔ پہلے ذکر تھا خلق، اور ہوا ضمیر راجع تھی اللہ کی طرف بھئی، تو اللہ نے پیدا کیا بھئی، اللہ نے پیدا کیا، غائب کی صورت میں ذکر ہو رہا تھا، اور اب اللہ فرما رہے ہیں وأنزلنا، ہم نے نازل کیا، اب تکلم کے انداز میں کلام ہو رہا ہے بھئی۔ پہلے غیبت کا انداز تھا اور اب تکلم والا۔ وأنزلنا من السماء ماء، اور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی بھئی۔ آسمان میں نے بتایا عربی میں ہر اوپر والی چیز کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ السماء کہتے ہیں، تو اس کا یہ ترجمہ بھی کر لیں تو بالکل صحیح ہے، اور نازل کیا ہم نے اوپر سے پانی بھئی، نازل کیا ہم نے اوپر سے پانی، فأنبتنا فيها، میں نے یہ بھی آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ قرآن میں اللہ جگہ جگہ بار بار ذکر فرماتے ہیں یہ بارش کا بھئی، جگہ جگہ ذکر ہوتا ہے۔ اور بتلایا تھا کہ اس میں اللہ کی کتنی قدرتیں پوشیدہ ہیں، اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اللہ بار بار اس کا ذکر فرما رہے ہیں، اور میں نے بتلایا تھا سائنسدان اتنی ترقی کرنے کے باوجود جبکہ اور سیاروں پر پہنچ چکے ہیں، کمپیوٹر بن چکے، ایٹم بم بن چکے، جہاز بن چکے، میزائل بن چکے، لیکن انسان ابھی تک بارش کی پوری حقیقت صحیح طرح نہیں جان سکا، نظریات تو ہیں یوں ہوتا ہوگا، یوں ہوتا ہوگا، لیکن ایک پکی بات ابھی تک ان کے علم میں نہیں آئی کہ یہ کس طرح ہوتا ہے، یہ بخارات کس طرح اٹھتے ہیں سمندر سے، بادل بنتے ہیں اور پھر کس طرح ان سے بارش برستی ہے بھئی۔ وأنزلنا من السماء ماء، اور نازل کیا ہم نے اوپر سے پانی، فأنبتنا فيها، پس اگا دیے ہم نے فيها اس زمین کے اندر، ہا ضمیر زمین کو راجع، من كل زوج كريم، ہر قسم کی عمدہ چیزیں۔ زوج یہاں قسم کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ قسم، زوج ویسے جوڑے کو کہتے ہیں لیکن یہاں قسم کے معنی میں ہے، کریم عمدہ بھئی، پس اگا دیے زمین کے اندر ہم نے ہر قسم کی، ہر قسم کی عمدہ چیزیں۔ یا زوج کو اگر زوج کے معنی جوڑے کے معنی میں بھی لے لیں، تو اب سائنس جوں جوں ترقی کر رہی ہے، علم ہوتا چلا جا رہا ہے کہ پودوں کے اندر بھی نر اور مادہ ہوتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ بہت سے پودے اس طرح کے سائنسدان اب تک دریافت کر چکے، نر پودا الگ ہوتا ہے، مادہ، مادہ الگ، پھر اس نر کے پھولوں میں سے وہ جو، جو ذرات ہوتے ہیں ہوا وغیرہ اور حشرات کے ذریعے وہ مادہ کے پھولوں پر جب پہنچتے ہیں تو پھر اس سے ان کے بیج وغیرہ یا پھول وغیرہ وہ چیزیں بنتی ہیں بھئی۔ هذا خلق الله، یہ اللہ کا پیدا کرنا ہے، یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ یعنی اے پیغمبر! اب ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ کیا ہیں؟ یہ هذا خلق الله، یہ جو پیچھے ذکر ہو گئیں ساری چیزیں، هذا خلق الله، یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں، فأروني، پس تم دکھاؤ مجھے، ماذا خلق الذين من دونه، کیا چیز پیدا کی ہے انہوں نے جو علاوہ ہیں اللہ کے؟ جن کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے اللہ کے علاوہ جو تم نے اپنے معبود بنا رکھے ہیں، انہوں نے کیا چیزیں پیدا کی ہیں؟ یہ تو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں، ہر قسم کے عمدہ اور مختلف قسم کے درخت، پودے وغیرہ اگائے ہیں، مختلف قسم کے جاندار زمین میں پھیلا رکھے ہیں، یہ سب اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں، پس تم دکھاؤ مجھے ان، یہ جو اللہ کے علاوہ جو ہیں جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں، انہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ هذا خلق الله، یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خلق بمعنی مخلوق کے، جسے پیدا کیا گیا ہو۔ هذا خلق الله، یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں، فأروني، پس دکھاؤ تم مجھے، ماذا خلق الذين من دونه، کیا چیز پیدا کی ہے انہوں نے جو علاوہ ہیں اللہ کے؟ ہا ضمیر اللہ کو راجع۔ بل الظالمون في ضلال مبين، بلکہ ظالم جو ہیں فی ضلال مبین، واضح گمراہی میں ہیں، بلکہ ظالم کیا ہیں؟ ظلم کرنے والے یعنی شرک کرنے والے واضح گمراہی کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔ کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی؟
88 approved lectures · 20 of 88