Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ. اچھا بھئی اس آیت کے دو ترجمے ہوں گے بھئی۔ دو ترجمے۔ ایک صورت میں یہ جو ربا آیا، اس کے معنی ہوں گے سود بھئی۔ سود کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ ربا کہتے ہیں۔ اور دوسرا ترجمہ ربا کا ہوگا عطیہ کے عطیہ، ہدیہ بھئی، تحفہ۔ ربا آپ جانتے ہیں، سود بھئی۔ کسی کو اس شرط پر قرض دینا کہ واپسی میں وہ زائد چیز، زائد رقم، زائد چیز واپس کرے گا، یہ ربا کہلاتا ہے بھئی۔ مثلاً کوئی شخص کسی سے قرض مانگتا ہے، وہ اسے کہتا ہے بھئی، میں آپ کو ایک لاکھ روپیہ قرض دے دوں گا لیکن شرط یہ ہے کہ جب واپس کرو گے تو ایک لاکھ دس ہزار مجھے دو گے۔ تو بھئی ایک لاکھ تو ایک لاکھ کے بدلے ہو گیا اور یہ جو دس ہزار مانگ رہا ہے، یہ زائد ہے مولانا، کیا ہے؟ زائد چیز مانگ رہا ہے اس سے، تو اسے ربا کہتے ہیں بھئی۔ ربا، سمجھ میں آیا؟ ربا کے معنی ہیں زیادتی کے، زیادتی کے۔ تو یہ وہ جو زیادتی ہے، یہ ربا ہے، سود ہے مولانا، اور بہت بڑا گناہ ہے، بہت بڑا گناہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اتنا بڑا گناہ ہے کہ جس کے بارے میں اللہ نے سود خور کے سے اللہ نے اعلانِ جنگ فرمایا کہ جو سود لینے والا ہے اس سے میں اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ بہت بڑا گناہ ہے بھئی۔ اور یہ معاشرے کے اندر بہت زیادہ بگاڑ پیدا کرتا ہے، پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے، ختم کر دیتا ہے بھئی۔ تو اس لیے شریعت نے اس کو اس کو منع، اس سے منع فرمایا بھئی۔ تو پہلا ترجمہ ربا کے سود کے معنی میں کر لیں بھئی۔ "وَمَا آتَيْتُمْ" اور وہ جو تم دیتے ہو "مِنْ رِبًا" سود میں سے، یہ بیان ہے "مَا" کا۔ وہ جو تم دو یا جو تم دیتے ہو یعنی کہ سود۔ تو یہ "مَا" سے کیا مراد ہے؟ یہ اسی کا بیان "مِنْ رِبًا" آ رہا ہے یعنی کہ سود۔ تو وہ جو تم دیتے ہو، کیا؟ کیا دیتے ہو؟ "مِنْ" کے ذریعے بیان کر دیا یعنی کہ سود، یعنی جو سود تم دیتے ہو۔ "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا" اور وہ جو تم سود دیتے ہو "لِيَرْبُوَا" تاکہ بڑھ جائے۔ "لِيَرْبُوَا" تاکہ وہ بڑھ جائے "فِي أَمْوَالِ النَّاسِ" لوگوں کے مال میں۔ بھئی سود کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ تاکہ مال کیا ہو جائے؟ زیادہ ہو جائے بھئی، لاکھ دیا ہے تو تاکہ بدلے میں مثلاً کتنا ملتا ہے؟ ایک لاکھ دس، تو یہ زیادتی مقصود ہوتی ہے۔ وہ جو تم سود دیتے ہو "لِيَرْبُوَا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ" تاکہ وہ بڑھ جائے لوگوں کے مالوں میں "فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ" پس وہ بڑھتا نہیں اللہ کے نزدیک۔ اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اس میں کوئی خیر اور برکت نہیں رکھی اللہ نے۔ "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ" اور وہ جو تم دو زکوۃ میں سے "تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ" چاہتے ہو تم اللہ کی رضا "فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ" پس وہی لوگ دگنا کرنے والے ہیں۔ اضعف یضعف کے معنی ہیں دگنا کرنا کسی چیز کو بھئی۔ پس وہی لوگ دگنا، اور وہ جو تم زکوۃ دیتے، دو، دیتے ہو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے، تو یہی لوگ دگنا کرنے والے ہیں یعنی اپنے ثواب کو دگنا کرنے والے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ زکوۃ جو ہے، یہ ہے اللہ کے نزدیک بڑھنے والی، اس میں اللہ کی بہت خیر و برکت رکھ دیتے ہیں بھئی۔ سود کے ذریعے بظاہر مال بڑھتا ہے، زکوۃ کے ذریعے بظاہر مال کم ہوتا ہے، لیکن سود کے اندر اللہ نے کوئی برکت اور خیر نہیں رکھی، جبکہ زکوۃ جو ہے اس کا اللہ نے باقاعدہ حکم دیا ہے۔ تو لہذا زکوۃ کے اندر بے انتہا خیر و برکت ہے، بظاہر مال کم ہوا، لیکن تم لوگ نہیں جانتے اس کے اندر تمہارے مال میں بے انتہا اس کی وجہ سے خیر و برکت آ جاتی ہے۔ اور سود کے ذریعے بظاہر مال بڑھ گیا، لیکن تم نہیں جانتے اس کی وجہ سے مال کے اندر بے انتہا بے برکتی آ جاتی ہے اور جس طرح آتا ہے، اسی طرح یہ ہاتھ سے نکل بھی جاتا ہے بھئی۔ کبھی کسی بیماری کی وجہ سے نکل جاتا ہے، کسی تکلیف کی وجہ سے، تو اس میں کوئی خیر و برکت نہیں بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوبارہ دیکھ لیں، "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا" اور جو تم سود دیتے ہو "لِيَرْبُوَا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ" تاکہ وہ بڑھ جائے لوگوں کے مال میں، لوگوں کے مال میں بڑھ جائے، آپ نے دیے پیسے تاکہ وہ بڑھ کر مثلاً واپس آئیں۔ تاکہ وہ بڑھ جائے لوگوں کے مال میں "فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ" تو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے نزدیک "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ" اور وہ جو تم زکوۃ دیتے ہو "تُرِيدُونَ" تم، کہ تم چاہتے ہو "وَجْهَ اللَّهِ" اللہ کا چہرہ یعنی اللہ کی رضا مراد ہے۔ اللہ کی رضا چاہتے ہو "فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ" تو یہی لوگ ہیں دگنا کرنے والے بھئی۔ دیکھو یہاں پھر فصل آ گئی، "أُولَٰئِكَ" مبتدا اور "الْمُضْعِفُونَ" اس کی خبر، مبتدا کے ساتھ ساتھ خبر بھی معرفہ آ گئی تو درمیان میں فصل آ گئی بھئی، "هُمْ"، فصل ہے۔ تو یہی لوگ دگنا کرنے والے ہیں یعنی کس چیز کو دگنا کرنے والے ہیں؟ اپنے ثواب کو۔ دوسرا معنی بھئی، دوسرا معنی ربا کے وہ ہدیہ یا وہ تحفہ یا وہ عطیہ جو انسان دوسرے کو دیتا ہے اور مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ تاکہ بعد میں یہ مجھے بدلے میں زیادہ دے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کسی کو جو تحفہ اور ہدیہ دیتا ہے اس نیت کے ساتھ کہ یہ مجھے بدلے میں زیادہ دے گا بھئی، جیسے عموماً شادیوں وغیرہ میں ہوتا ہے بھئی، وہ سلامی وغیرہ جو دی جاتی ہے، باقاعدہ اس کو لوگ لکھتے ہیں، تو تو وہ اس نیت سے اکثر دیتے ہیں کہ یہ بدلے میں ہمیں دے گا اتنے ہی یا پھر زیادہ دے گا ہمیں بھئی۔ تو جہاں مقصد ہو زیادتی کا، تو یہ ناپسندیدہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ کسی کو کوئی چیز دیتا ہے اس نیت کے ساتھ کہ یہ بدلے میں مجھے زیادہ چیز دے گا، تو یہ ناپسندیدہ ہے بھئی، بہرحال جائز تو ہے لیکن ناپسندیدہ ہے بھئی۔ "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا" اور وہ جو تم عطیہ دیتے ہو، تو ربا کے معنی اب عطیہ کے کر لیں۔ اس کو ربا کس لیے کہہ دیا گیا؟ کیونکہ اس کے ذریعے بھی مقصود زیادتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ربا کے معنی زیادتی کے ہوتے ہیں۔ "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا" اور جو تم عطیے میں سے دو "لِيَرْبُوَا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ" تاکہ وہ بڑھ جائے لوگوں کے مالوں میں "فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ" پس وہ نہیں بڑھتا اللہ کے نزدیک "وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ" اور وہ جو تم زکوۃ میں سے دو "تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ" کہ تم چاہتے ہو اللہ کی رضا "فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ" تو یہی لوگ ہیں دگنا کرنے والے۔ یعنی اپنے ثواب کو۔ دونوں ترجمے سمجھ میں آ گئے؟ تو بعض مفسرین نے ایک ترجمہ کیا، بعض نے دوسرا کیا بھئی۔ اچھا دیکھیے بھئی، یہاں ایک اور نقطہ آپ کو بتلائیں۔ التفات بھئی، التفات۔ التفات، دونوں جگہ تا ہے، دو نقطوں والی بھئی، التفات۔ التفات بھئی بلاغت کی اصطلاح ہے، علمِ بلاغت، اور علمِ بلاغت کے اندر بھئی دیکھیے کلام کرنے کے تین طریقے ہیں۔ یا تو متکلم اپنے بارے میں بات کرتا ہے کہ مثلاً آج میں نے سبق پڑھا، آج میں فلاں جگہ گیا، آج میری فلاں سے ملاقات ہوئی، یہ جو اپنے بارے میں بات کر رہا ہے، اس کو کہتے ہیں تکلم، کیا کہتے ہیں؟ تکلم، یہ۔ اور ایک ہے مخاطب کے بارے میں بات کرتا ہے۔ مخاطب کے بارے میں کہ آپ یوں کر لیں، آپ یوں کر لیں یا آپ نے یہ کام کیا فلاں، تو اس میں دیکھو مخاطب سے صیغے استعمال ہو رہے ہیں بھئی۔ ایک صورت تو کیا تھی؟ متکلم اپنے بارے میں، صرف اپنے صیغے استعمال کرتا ہے، دوسری صورت کیا ہے؟ مخاطب، اور تیسری صورت ہے کسی غائب کے بارے میں۔ مثلاً زید آج آیا تھا، زید مجھ سے ملا، تو زید کے بارے میں بات چل رہی ہے اور تو یہ کیا ہے؟ غائب ہے بھئی۔ تو کلام کے تین طریقے ہو گئے، ایک تکلم، ایک خطاب اور ایک غیبت بھئی۔ کتنے طریقے؟ تکلم، خطاب اور غیبت۔ اور تو قرآن کا یہ طریقہ ہے، بعض اوقات خطاب کی بات چل رہی ہوتی ہے، مخاطب کی بات کرتے کرتے اچانک غائب کے صیغے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں التفات، ایک طریقے سے دوسرے طریقے کو، اس طریقے کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کر لینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ التفات۔ کبھی غائب کے صیغے چل رہے ہوں گے، اچانک مخاطب کے صیغے استعمال ہونا شروع ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی، اس کو کیا کہتے ہیں بلاغت کی اصطلاح میں؟ التفات کہتے ہیں، اس سے کلام میں بڑا حسن پیدا ہو جاتا ہے اور ایک نئے انداز کا ایک دم کلام، بھئی آپ سے بات کرتے کرتے مخاطب کے صیغے استعمال ہو رہے ہیں، ایک دم غائب کے صیغے آئے تو نئے انداز کا کلام آیا اور ہر نئی چیز میں لذت محسوس ہوتی ہے، تو کلام میں لذت آ جاتی ہے بھئی، کلام خوشگوار اور سننے کا لطف اس کا بے انتہا بڑھ جاتا ہے۔ تو دیکھیے "وَمَا آتَيْتُمْ"، پہلے مخاطب کے صیغے استعمال ہو رہے ہیں، جو تم دو زکوۃ میں سے، "تُرِيدُونَ"، تم چاہتے ہو، کون سے صیغے ہیں؟ مخاطب والے۔ تو آگے تو یہی ہونا چاہیے تھا کہ تم جو زکوۃ دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے، تو تم دگنا کرنے والے ہو۔ لیکن آگے کیا آیا؟ "فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ"، وہ لوگ کیا ہیں؟ دگنا کرنے والے ہیں۔ تو دیکھو خطاب سے التفات ہوا کس کی طرف؟ غیبت کی طرف بھئی، تو اس سے کلام کا حسن بہت بڑھ جاتا ہے بھئی۔ تو "فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ"، تو یہی لوگ ہیں دگنا کرنے والے، یعنی کس چیز کو دگنا کرنے والے ہیں؟ اپنے ثواب کو۔ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ "اللَّهُ الَّذِي" اللہ وہ ہے کہ "خَلَقَكُمْ" جس نے تمہیں پیدا کیا "ثُمَّ رَزَقَكُمْ" پھر تمہیں روزی دی، پھر تمہیں رزق دیا "ثُمَّ يُمِيتُكُمْ" پھر تمہیں موت دیتے ہیں "ثُمَّ يُحْيِيكُمْ" پھر تمہیں زندہ کریں گے۔ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَٰلِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ۚ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اللہ وہ ہیں جنہوں نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں روزی دی اور تمہیں موت دیتے ہیں اور پھر تمہیں زندہ کریں گے۔ "هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ" کیا ہیں تمہارے شریکوں میں سے "مَنْ يَفْعَلُ" جو یہ کر سکے "مِنْ ذَٰلِكُمْ" اس میں سے "مِنْ شَيْءٍ" کوئی چیز؟ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان چیزوں میں سے کوئی چیز کر سکے، کوئی ایک چیز بھی کر سکے، کسی کو پیدا کر سکے یا روزی دے سکے یا اسے موت دے سکے یا اسے پھر زندگی دے سکے بھئی؟ تو اللہ فرما رہے ہیں "هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ"، اے مشرکین! "هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ" کیا ہے تمہارے شریکوں میں سے "مَنْ" کوئی "يَفْعَلُ" جو کر سکے "مِنْ ذَٰلِكُمْ" اس میں سے جو ہم نے اوپر بیان کیا۔ "ذَٰلِكُمْ" کے ساتھ یہ "كُمْ" کیا ہے؟ جی؟ بھئی یہ وہی میں نے آپ کو بتایا تھا، "ذَٰلِكَ" اسمِ اشارہ ہے اور اس کے ساتھ یہ جو "ك" ہوتا ہے اسے حرفِ خطاب کہتے ہیں، یہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ مخاطب ایک ہے جس سے بات کی جا رہی ہے۔ اگر "ذَٰلِكُمَا" ہو تو صرف یہ بتلاتا ہے کہ جن سے بات کی جا رہی ہے وہ دو ہیں اور یہاں "ذَٰلِكُمْ" آیا معلوم ہوا جن سے خطاب کیا جا رہا ہے اور بات کی جا رہی ہے وہ جمع ہیں۔ تو یہ صرف یہ پتا لگتا ہے باقی اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا بھئی۔ تو "مِنْ ذَٰلِكُمْ" بمقامی اسی "ذَٰلِكَ" کی طرح وہی معنی ہوگا۔ "مِنْ ذَٰلِكُمْ" اس میں سے "مِنْ شَيْءٍ" کوئی چیز۔ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ. پاک ہے وہ ذات "وَتَعَالَىٰ" اور بلند ہے "عَمَّا يُشْرِكُونَ" اس سے جس سے وہ شریک کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات پاک ہے اور بلند ہے اس سے جسے وہ اللہ کے ساتھ شریک سبحانه وتعالى عما يشركون، پاک ہے وہ ذات وتعالىٰ اور بلند ہے عما يشركون اس چیز سے جسے وہ شریک کرتے ہیں۔ ظهر الفساد في البر والبحر، ظاہر ہو گیا فساد یعنی پھیل گیا۔ پھیل گیا فساد في البر والبحر خشکی میں اور سمندروں میں، بما، بوجہ اس کے، بسب ب اس کے، كسبت أيدي الناس، جو کمایا لوگوں کے ہاتھوں نے۔ ظهر الفساد في البر والبحر، پھیل گیا فساد خشکی میں اور سمندروں میں، بما كسبت أيدي الناس، بسب ب اس کے جو کمایا أيدي الناس لوگوں کے ہاتھوں نے۔ أيدي یہ فاعل ہے كسبت کے لیے، کمایا، کس نے کمایا؟ أيدي الناس لوگوں کے ہاتھوں نے یعنی لوگوں کے اپنے عملوں کے ذریعہ کے سبب سے۔ تو فساد پھیل گیا خشکی میں اور سمندروں میں بسب ب اس کے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، یعنی لوگوں کے اپنے عمل کی وجہ سے، اپنے ہاتھوں سے کمایا یعنی ان کے اپنے عمل کی وجہ سے۔ لوگوں کے عمل کی وجہ سے پھیل گیا فساد خشکی میں اور سمندروں میں، ليذيقهم، تاکہ چکھائے ان کو، تاکہ اللہ ان کو چکھائے، بعض الذي عملوا، بعض وہ جو انہوں نے عمل کیے۔ ان کا یعنی ان کا بدلہ ان کو چکھائے، لعلهم يرجعون، شاید کہ وہ رجوع کر لیں، تاکہ وہ رجوع کر لیں۔ تاکہ اللہ ان کو چکھا دے بعض الذي عملوا، بعض وہ جو عمل کرتے ہیں بھئی، بعض انہوں نے جو عمل کیے، جو کام کیے اس کا بدلہ اللہ ان کو چکھا دیں لعلهم يرجعون تاکہ وہ کیا کر لیں؟ رجوع کر لیں۔ تو بعض جو عمل کیے ہیں ان کا بدلہ اللہ یہ دنیا میں چکھا دیتے ہیں، یہ دنیا میں جو تکلیفیں آتی ہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟ لوگوں کے اپنے، اپنے عمل ہیں، اپنے گناہ ہیں، تو اس میں سے بعض کا بدلہ تاکہ اللہ ان کو یہی پر چکھا دے، پورا نہیں، سارے، ساروں کا بدلہ نہیں، سب کا بدلہ تو قیامت میں اللہ تعالیٰ دیں گے بھئی، تو بعض کا بدلہ کیا ہے؟ دنیا میں بھی تکالیف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے بھئی۔ مفسرین لکھتے ہیں بھئی کہ پہلے یہ سمندروں کا پانی بھی میٹھا تھا بھئی۔ سمندروں کا پانی میٹھا تھا اور اور ہر چیز کے اندر بے انتہا برکت تھی، پھر اس کے بعد جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا، پہلا گناہ ہوا اس زمین پر تو پھر اس کے بعد یہ فساد ظاہر ہونا شروع ہوا، اس سے پہلے سمندروں کا پانی میٹھا تھا، ہر درخت پر پھل لگا کرتے تھے، ہر درخت پر پھل ہی پھل، اور پھر جب یہ گناہ ہوا تو سمندروں کا پانی نمکین ہو گیا، سخت نمکین، اور درختوں پر کانٹے نمودار ہو گئے، تو انسان جو گناہ کرتا ہے اس کے اثرات ان تمام چیزوں پر پڑتے ہیں، اگرچہ بظاہر اسے دکھائی نہ دیں بھئی، دکھائی نہ دیں۔ اور یہ گندم کے دانے بڑے موٹے بڑے بڑے گندم کے دانے ہوتے تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بڑے، اور یہ گناہ کی وجہ سے چھوٹے سے چھوٹے ہوتے چلے گئے، تو ہاں، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے پھر امن و امان ہوگا، پھر اللہ کی وحدانیت ہر طرف پھیل جائے گی بھئی، ہر ایک اقرار کرے گا، اسلام لے آئے گا، کفار سارے ختم ہو جائیں گے دنیا سے، صرف مومنین ہی رہ جائیں گے، ہر طرف عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا، پھر اس وقت روایات میں آتا ہے ایک بکری اتنا دودھ دے گی کہ پورے گھرانے کو پورے کو، آپ تو تین چار کپ، پانچ کپ سے زیادہ نہیں دیتی، پھر ایک ہی بکری کا دودھ پورے گھرانے کو کافی ہو جائے گا، اور ایک گائے کا دودھ وہ تو کتنے ہی خاندانوں کو کافی ہو جائے گا ایک ایک، اور اسی طرح ہر چیز میں بے انتہا برکت ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جو اللہ کے راستے پر چلا جائے تو اس کی برکتیں خود لوگ مشاہدہ کر لیں، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھئی، انہوں نے اپنے زمانے کے اندر عدل و انصاف کو قائم کیا، اور انتہا درجے کا عدل و انصاف، نہ اپنے کسی رشتہ دار کو دیکھا، نہ اپنے کسی عزیز کو دیکھا، نہ کسی اپنے دوست کو دیکھا، نہ اپنی ذات کو دیکھا، بس ہر چیز میں انصاف ہونا چاہیے، عدل ہونا چاہیے، اور چنانچہ اسی عدل و انصاف کا یہ نتیجہ تھا کہ کئی واقعات کتابوں میں آتے ہیں کہ اس زمانے کے اندر بھیڑیا جو ہے وہ بکریوں پر حملہ آور ہی نہیں ہوتا تھا بھئی، بھیڑ اور بکریاں اکٹھے رہتے تھے، یہ صرف بطور محاورے کے نہیں، حقیقتاً لوگ دیکھتے تھے کہ بھیڑیا کسی کو تکلیف نہیں دیتا بھئی۔ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک جگہ پر ایک شخص تھا بھئی، وہ بڑا سخی آدمی تھا اور جتنے مہمان وغیرہ آتے بکریاں ذبح ہو رہی ہیں ان کے لیے کھانے تیار ہو رہے ہیں، بڑی سخاوت تھی، ایک دن ایک بھیڑیے نے حملہ کیا اور اس کی بکری کو چیر پھاڑ کر کھا گیا، اس شخص نے یہ منظر دیکھا، اسے یہ اطلاع ملی، وہ جو مالک تھا وہ روئے لگ پڑا۔ سارے لوگ حیران ہوئے کہنے لگے بھئی کہ عجیب بات ہے، آپ تو مہمانوں کے لیے دھڑا دھڑ بکریاں ذبح کرتے ہیں، آپ کو تو پروا ہی نہیں سخاوت کا یہ حال ہے، پھر ایک بکری کو بھیڑیے نے کھا لیا تو آپ رونے لگ پڑے؟ تو فرمانے لگے کہ نہیں، پہلے بھیڑیے بکری کو نہیں کھاتے تھے، آج حملہ کیا ہے اور اس کو چیر پھاڑ کر کھا گئے ہیں، معلوم ہوا وہ نیک شخص جس کی وجہ سے یہ کیفیت تھی اور جس کے عدل و انصاف کی وجہ سے یہ حال تھا، معلوم ہوتا ہے اس کا انتقال ہو چکا ہے، جبھی اس طرح کا واقعہ ہوا ورنہ کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوتا تھا، تو میں اس شخص کے انتقال پر میں رو رہا ہوں کہ کتنے عظیم شخص دنیا سے ہمارا خلیفہ چلا گیا۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ نوٹ کر لی، اس پرانے زمانے میں تو کوئی اسباب تھے نہیں، سفر، خبر جب قافلہ یا کوئی شخص جاتا ہے ایک شہر سے دوسرے شہر تو پھر اطلاع پہنچتی تھی، کہتے ہیں ہم نے جا کر پھر خلیفہ کے شہر گئے، پتا لگا انتقال واقعی ان کا انتقال ہو چکا ہے اور ٹھیک اسی دن انتقال ہوا تھا جس دن وہ بھیڑیے نے بکری پر حملہ کیا بھئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کو ان پر جب اس مجوسی غلام نے نماز کے اندر حملہ کیا اور زخمی کر دیا تو کئی زخم لگے ان کے، پیٹ کے اندر بڑا گہرا زخم لگا یہاں تک کہ جو کچھ کھاتے تھے وہ پیٹ کے راستے باہر نکل آتا بھئی۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ ایک یہودی طبیب تھا اس کو اس کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہمارے خلیفہ زخمی ہو گئے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیے، آپ ہمارے ساتھ چلیے۔ اس نے کہا کہ ہاں میں ذرا تیار ہو جاؤں اور گھر سے سواری وغیرہ اور چیزیں یا کپڑے لوں اپنے، مدینہ کے قریب ہی رہتا تھا، تو حضرت علی نے کہا نہیں نہیں وقت نہیں ہے، رات کے وقت پہنچے تھے، رات تو بس اسے گھر بھی جانے کی اجازت نہیں، فوراً ہم میرے ساتھ چلو ہمارے خلیفہ بہت شدید زخمی ہیں فوراً چل کے ان کا علاج کرو، وہ جو کچھ کھاتے ہیں ان کے پیٹ کو اس ظالم نے پھاڑ دیا ہے تو وہ پیٹ سے نکل آتا ہے۔ چنانچہ یہودی کو اسی طرح لیا اور چل پڑے، جب مدینہ کے قریب پہنچے تو کہتے ہیں دیکھا ایک کھیت کے اندر کچھ بکریاں چر رہی ہیں، کچھ بکریاں چر رہی ہیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یہودی سے افسوس، انا لله پڑھی اور یہودی سے کہا جاؤ بھئی تم چلے جاؤ ضرورت نہیں ہے تمہاری۔ یہودی کہنے لگا عجیب بات ہے، مجھے آپ نے گھر بھی نہیں جانے دیا، کپڑے وغیرہ ٹھیک طرح پہن لوں اور پھر سواری لے لوں، ضرورت کی چیزیں لے لوں اور پھر آپ کے ساتھ چلوں، مجھے اس کا بھی موقع نہیں دیا اور اب جب مدینہ کے پاس پہنچ گئے ہیں، شہر میں داخل ہونے لگے ہیں تو اب آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ واپس چلے جاؤ؟ کہتے ہیں یہ جو بکریاں ہیں میں ان کو حضرت علی نے، حضرت علی فرمانے لگے یہ جو بکریاں ہیں یہ بھی میں جانتا ہوں کس کی ہیں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کھیت کس کا ہے، بکریاں کسی اور کی ہیں اور کسی اور کے کھیت میں چر رہی ہیں، معلوم ہوا ہمارے خلیفہ کا انتقال ہو چکا ہے، ان کی زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ کسی دوسرے کی بکریاں کسی دوسرے کے کھیت میں چر لیں بھئی۔ تو یہ وہ عدل و انصاف ہے بھئی، عدل و انصاف بھئی۔ تو صحابہ عجیب لوگ تھے مولانا، اس زمین نے ان جیسے لوگ نہ پہلے دیکھے اور نہ اس کے بعد دیکھ سکے گی، عجیب بھئی، پیغمبر سے محبت، عشق انتہا درجے کا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا انجام صحابہ کے ساتھ فرمائے بھئی، ہمیں ہم سب کو یقیناً ہم صحابہ سے بے انتہا محبت ہے بھئی۔ جی تو دیکھیے بھئی، ظهر الفساد في البر والبحر، ظاہر ہو، پھیل گیا فساد خشکی میں اور سمندروں میں، بما كسبت أيدي الناس، بسب ب اس کے جو کمایا لوگوں کے ہاتھوں نے، ليذيقهم بعض الذي عملوا، تاکہ اللہ ان کو چکھا دے بعض وہ جو انہوں نے عمل کیے ہیں، لعلهم يرجعون، تاکہ وہ رجوع کر لیں۔ قل سيروا في الأرض، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، سيروا في الأرض، کہ اے لوگو! تم چلو پھرو في الأرض، اے پیغمبر! قل آپ فرما دیجیے، سيروا، مشرکین مکہ سے، سيروا، چلو پھرو تم في الأرض، زمین کے اندر، فانظروا كيف كان عاقبة الذين من قبل، پس دیکھو تم لوگ کیسا تھا ان انجام ان لوگوں کا جو تم سے پہلے تھے، اے مشرکین! زمین میں چل پھر کر ذرا دیکھو تو سہی ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو تم سے پہلے تھے، كان أكثرهم مشركين، ان میں سے اکثر مشرک کرنے والے تھے، اکثر ان میں سے کیا تھے؟ شرک کرنے والے تھے تو ان پر شرک کی وجہ سے عذاب آیا اور بعض پر اور گناہوں کی وجہ سے۔ فأقم وجهك للدين القيم، پس اے پیغمبر! آپ سیدھا رکھیے وجهك، اپنے رخ کو للدين القيم، سیدھے دین کے لیے، اس سیدھے دین کی طرف اپنے رخ کو سیدھا رکھیے، من قبل أن يأتي يوم، قبل اس کے کہ آ جائے يوم ایسا دن، لا مرد له من الله، کہ نہ ہو اس کا لوٹنا، لا مرد له، کہ اس دن کا لوٹنا نہ ہو من الله، اللہ کی طرف سے، یعنی اللہ کی طرف سے وہ لا مرد له من الله، اس دن کا لوٹنا نہ ہو اللہ کی طرف سے، کوئی اور تو اس دن کو ٹال نہیں سکتا اور اللہ بھی اس دن کو نہیں ٹالیں گے یعنی قیامت کا دن مراد ہے۔ فأقم وجهك للدين القيم، پس اے پیغمبر! آپ سیدھا رکھیے وجهك اپنے رخ کو للدين القيم اس سیدھے دین کی طرف، من قبل قبل اس کے کہ أن يأتي يوم آ جائے وہ دن، لا مرد له من الله کہ نہیں ہے اس کا لوٹ جانا اس دن کا من الله اللہ کی طرف سے، اس دن کا پھر جانا نہیں ہے اللہ کی طرف سے، يومئذ يصدعون، اس روز لوگ جو ہیں وہ جدا جدا ہوں گے، لوگ کیا ہوں گے؟ جدا جدا ہوں گے، یعنی مومن الگ ہوں گے اور کافر الگ ہوں گے بھئی، يصدعون، یہ اصل میں تھا يتصدعون، يتصدعون بھئی، پھر تا کو بھی صاد کر کے صاد میں ادغام کیا گیا تو يصدعون ہوا، تو يومئذ يصدعون، تو اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے، گروہ گروہ ہوں گے۔ من كفر فعليه كفره، جس شخص نے کفر کیا فعليه كفره تو اسی پر اس کا کفر ہے، یعنی اسی پر اس کا کفر یعنی اس کے کفر کا بدلہ اسی کو ملے گا اسی کو، تو من كفر فعليه كفره، جس شخص نے کفر کیا فعليه كفره تو اسی پر اس کا کفر ہے، تو کفر بول کر جزائے کفر مراد ہے بھئی، کفر سے کیا مراد ہے؟ جزائے کفر، تو اسی کے لیے جزائے کفر ہے، یا اس سے پہلے وبال کا لفظ مضاف محذوف نکال لیں، من كفر فعليه وبال كفره، جس نے کفر کیا تو اسی پر اس کے کفر کا وبال ہے، ومن عمل صالحا، اور جس نے نیک عمل کیا، فلأنفسهم يمهدون، تو وہ اپنے ہی لیے يمهدون سنوارتے ہیں بھئی، مھد یمھد کے معنی ہوتے ہیں بستر کو بچھانا، اس کو برابر کرنا اور درست کرنا، تو مراد کیا ہے؟ یعنی جنت کو اپنے لیے تیار کرتے ہیں، پس وہ اپنے نفسوں ہی کے لیے تیار کرتے ہیں، اپنے نفسوں ہی کے لیے سنوارتے ہیں یعنی جنت کو بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ من كفر فعليه كفره، جس نے کفر کیا تو اسی پر اس کے کفر کا وبال ہے، ومن عمل صالحا، اور جس نے اچھا عمل کیا تو وہ اپنے ہی نفسوں کے لیے سنوارتے ہیں، اپنے ہی نفسوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
88 approved lectures · 17 of 88