اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم.
وإنهم عندنا لمن المصطفين الأخيار.
واذكر إسماعيل واليسع وذا الكفل وكل من الأخيار.
هذا ذكر وإن للمتقين لحسن مآب.
وإنهم عندنا لمن المصطفين الأخيار.
وربي اوپر انبیاء کا ذکر آیا.
حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام.
ان کی طرف یہ ضمیر راجع ہے.
وإنهم عندنا اور بے شک وہ ہمارے نزدیک.
لمن المصطفين البتہ.
چنے ہوئے لوگوں میں سے تھے.
الأخيار.
تو سب سے بہترین بھئی۔ الأخيار جمع ہے خیر کی یا یہ جمع ہے خیر کی بھئی.
خیر آپ جانتے ہیں اس میں تفضیل ہے، اصل میں أخير تھا.
خیر اصل میں کیا تھا؟.
أخير بھئی.
پھر یا کا.
فتحہ نقل کر کے خ کو دے دیا گیا اور شروع سے الف ہمزہ کو یعنی ہمزہ کو حذف کر دیا گیا تو خیر رہ گیا بھئی.
تو یہ اس میں تفضیل ہے.
تو اسی کی جمع ہے الأخيار.
الأخيار.
تو یہ.
خیر کا کیا معنی؟.
سب سے بہتر، سب سے بہتر بھئی۔ یعنی بہترین.
اور بعضوں نے کہا یہ أخير جمع ہے خیر کی بھئی خیر.
خیر تو اس میں تفضیل ہے جب کہ خیر صفت مشبہ ہے.
اور.
فرق یہ بیان کیا بعض علماء نے.
کہ خیر جو ہے.
وہ.
خیر جو ہے.
وہ ظاہری اعتبار سے بہتر ہونا مراد ہوتا ہے.
اور خير.
یہ.
دینی اعتبار سے جو بہتر ہو بھئی دینی اعتبار سے تو وہ کہتے ہیں یہاں زیادہ مناسب ہے.
تو بہرحال دونوں قول ہیں آپ جس کو چاہیں اختیار کر لیں.
وإنهم عندنا لمن المصطفين الأخيار اور بے شک وہ ہمارے نزدیک البتہ ہو البتہ چنے ہوئے بہترین لوگوں میں سے تھے.
المصطفين.
یاد رکھیے یہ تثنیہ نہیں ہے کہیں آپ اس کو دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ یہ تثنیہ ہے.
یہ جمع ہے بھئی جمع مذکر سالم.
اور جمع مذکر سالم حالت نصبی اور جری میں کس کے ساتھ آتی ہے؟ یا کے ساتھ.
تو یہاں بھی دیکھیے من کی وجہ سے.
مصطفين یا آئی بھئی.
اور.
اصل میں.
یہ فا پر فتحہ اس سے شبہ میں پڑتا ہے انسان شاید یہ تثنیہ ہے نہیں بھئی آپ نحو میں پڑھ چکے ہیں.
کہ.
ایسا لفظ جس سے.
جمع مذکر سالم بنا رہے ہیں اور اس کے آخر میں الف مقصورہ ہو.
تو پھر اس صورت میں اس سے ماقبل کے فتحہ کو برقرار رکھتے ہیں.
اس کا مصطفين مفرد کیا تھا؟ مصطفی.
آخر میں الف مقصورہ ہے تو جمع اس کی جمع مذکر سالم کیسے کہیں گے؟.
مصطفا.
حالت رفعی میں مصطفون.
بھئی مصطفون نہیں کہا بلکہ کیا کہا کیا کہیں گے مصطفون کیوں؟.
تاکہ یہ فا کا فتحہ کس پر دلالت کرے؟.
وہ جو الف مقصورہ یہاں حذف ہوا ہے اس پر دلالت کرے بھئی.
تو حالت رفعی میں کہیں گے مصطفون اور حالت نصبی جری میں کہیں گے مصطفین.
تو یہ جمع ہے بھئی.
اور نیز اس سے بھی آپ کو پتہ لگنا چاہیے بھئی لمصطفین نون آخر میں مفتوح ہے.
تثنیہ رجلانی رجلینی تثنیہ کا نون تو مکسور ہوا کرتا ہے بھئی مسلمون مسلمین اس کا نون کیا ہوتا ہے؟ مفتوح ہوتا ہے.
وإنهم عندنا لمن المصطفين الأخيار اور بے شک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے بہترین لوگوں میں سے تھے وذكر إسماعيل واليسع وذا الكفل.
اور ذکر کیجیے آپ اسماعیل علیہ السلام کا اور یسع علیہ السلام کا اور ذوالکفل علیہ السلام کا.
اور ذکر کیجیے آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کا.
حضرت یسع علیہ السلام بھئی.
کہتے ہیں یہ.
خلیفہ تھے حضرت الیاس علیہ السلام کے بھئی جن کا پہلے ذکر گزر چکا.
اور ذوالکفل.
یہ.
بعض کہتے ہیں پیغمبر تھے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ولی تھے بھئی پیغمبر نہیں تھے.
تو ان کے احوال کی تفصیل نہیں ملتی صرف ان کا ذکر ایک دو جگہ آیا ہے قرآن کے اندر صرف ان کے نام ذکر ہوئے ہیں باقی احوال ذکر نہیں کیئے نہیں کیے گئے بھئی.
واذكر إسماعيل واليسع وذا الكفل اور ذکر کیجیے اسماعیل اور یسع اور ذوالکفل علیہم الصلاۃ والسلام کا وكل من الأخيار اور ہر ایک جو ہے ان میں سے.
بہترین لوگوں میں سے تھا ان میں سے ہر ایک بہترین لوگوں میں سے تھا.
بہترین لوگوں میں سے تھا کل ان پر تنوین آئی میں نے آپ کو بتایا ہے کل ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے جب بھی تنوین آئے.
تو یہ تنوین دراصل عوض ہوتی ہے مضاف الیہ سے ای كل واحد.
یا کلہم من الأخيار.
هذا ذكر.
یہ ذکر ہو چکا.
یہ ذکر ہوا.
یہ تو انبیاء کا ذکر تھا اب آگے مومنین کا ذکر شروع ہو رہا ہے بھئی.
عام مومنین.
تو اللہ فرما رہے ہیں هذا ذكر یہ ذکر ہو گیا (یعنی یہ انبیاء کا ذکر ہو گیا اب آگے مومنین کی بات آ رہی ہے).
وإن للمتقين لحسن مآب اور بے شک متقیوں کے لیے البتہ اچھا ٹھکانہ ہے مآب ٹھکانہ بھئی.
لوٹنے کی جگہ یعنی ٹھکانہ.
اور بے شک متقیوں کے لیے البتہ اچھا ٹھکانہ ہے.
جنات عدن مفتحة لهم الأبواب.
عدن کا معنی.
ہمیشہ رہنے کی.
جنات عدن ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں.
مومنین کے لیے.
اچھا ٹھکانہ ہے.
اور.
یہ جنات عدن یہ اسی سے بدل ہے بھئی بدل.
مومنین کے لیے اچھا ٹھکانہ ہے یعنی کہ.
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے لیے مفتحة لهم الأبواب.
اس حال میں کہ کھولے گئے ہیں.
ان کے لیے اس کے دروازے.
اس حال میں کہ اس کے ان کے لیے ان مومنین کے لیے اس کے دروازے.
خو کھولے گئے ہیں بھئی تو جنت کے دروازے.
معنا سمجھ میں آ گیا بھئی.
جنات عدن مفتحة لهم الأبواب ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں.
کہ.
کھول رکھے ہیں ان کے لیے ان کے دروازے (یعنی اللہ نے ان کے لیے ان کے دروازے کھول رکھے ہیں).
متقين فيها.
ترجمہ سمجھ بھی آ رہا ہے کہ مشکل ہے بھئی.
جن دوبارہ جنات عدن مفتحة لهم الأبواب ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں کہ کھولے گئے ہیں ان کے لیے ان کے دروازے.
متقيين فيها.
اس حال میں کہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اس میں.
يدعون فيها.
مانگیں گے اس میں.
بفاكهة كثيرة.
بکثرت پھل.
مانگیں گے اس میں.
کثرت سے پھل منگوائیں گے وشراب.
شراب.
بھئی.
پینے کی چیز کوئی ہو اسے عربی میں شراب کہتے ہیں مشروب بھئی مشروب.
تو اردو میں جسے ہم شراب کہتے ہیں اسے عربی میں خمر کہتے ہیں بھئی.
تو یہ شراب بمعنى مشروب کے ہے.
متقين فيها يدعون فيها بفاكهة كثيرة وشراب تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اس میں منگوائیں گے اس میں کثرت سے پھل اور مشروبات.
وعندهم قاصرات الطرف أطراب اور ان کے پاس ہوں گی قاصرات الطرف.
نیچی نگاہ والی.
أطراب هم عمر.
(یعنی.
ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر حوریں ہوں گی).
قاصرات الطرف کا معنی پہلے بیان ہو چکا بھئی قصر کا معنی بند کرنا بھئی.
قاصرات الطرف طرف نگاہ کو کہتے ہیں نظر کو.
نگاہ کو بند کرنے والی.
معنا یہ ہے کہ و انہوں نے اپنی نگاہیں.
باقی سب سے بند کر کر صرف کس کی طرف رکھی ہوں گی؟ اپنے خاوندوں کی طرف بھئی.
خاوندوں کی طرف.
اور.
یا.
وہ نگاہ کو بند کرنے والی ہوں گی اپنے خاوند کی.
یعنی اتنا ان کا حسن و جمال ہوگا کہ خاوند انہی کی طرف ہمیشہ متوجہ رہیں گے.
یا.
معنا ہے نگاہ کو بند کرنے یعنی جھکانے والی مراد ہے.
نگاہ جھکانے والی ہوں گی یعنی ان میں اتنی شرم و حیا ہوگی کہ ہمیشہ اپنی نظر نیچے رکھیں گی بھئی.
وعندهم قاصرات الطرف.
أطراب جمع ہے یاد رکھیے أطراب جمع ہے تریب کی.
تا را با.
را ساکن ہے بھئی أطراب جمع ہے.
ترب کی.
اور ترب ہم عمر کو کہتے ہیں بھئی ہم عمر.
اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر حوریں ہوں گی.
ہم عمر ہوں گی.
یا تو وہ حوریں آپس میں ہم عمر ہوں گی.
یا یہ معنا کہ وہ خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی بھئی.
وعندهم قاصرات الطرف أطراب اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر حوریں ہوں گی هذا ما توعدون ليوم الحساب.
یہ ہے وہ جس کا تو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ليوم الحساب یوم حساب میں.
یوم حساب کے لیے.
یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یوم حساب کے لیے یعنی.
کہ قیامت کے دن یہ چیزیں تمہیں ملیں گی اللہ فرما رہے ہیں.
إن هذا لرزقنا ما له من نفاد.
بے شک یہ ہمارا رزق ہے نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا.
نفادہ کے معنی ہوتے ہیں ختم ہونے کے.
إن هذا لرزقنا بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے ہماری روزی ہے ما له من نفاد نہیں ہوگا اس کے لیے ختم ہونے والا.
بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے ما له من نفاد جو ختم ہونے والا نہیں ہے.
هذا.
یہ مبتدا ہے خبر محذوف ہے.
اي للمؤمنين هذا للمؤمنين یہ کس کے لیے ہے؟.
مومنین کے لیے یہ سارا کچھ جو اب بیان ہوا یہ مومنین کے لیے ہے وإن للطاغين لشر مآب اب آگے.
کفار و مشرکین کا ذکر اور ان کے انجام کا ذکر ہو رہا ہے.
تو اللہ فرماتے ہیں هذا هذا للمؤمنين یہ تو مومنین کے لیے ہوا وإن للطاغين لشر مآب اور بے شک البتہ سرکشوں کے لیے لشر مآب برا ٹھکانہ ہے.
بے شک سرکشوں کے لیے برا ٹھکانہ ہے.
جهنم.
یہ بدل ہے مآب سے وہ برا ٹھکانہ کیا ہے؟.
جہنم ہے.
يصلونها.
داخل ہوں گے اس کے اندر وہ فبئس المهاد.
پس وہ بڑا برا.
مہاد کہتے ہیں بستر کو بھئی.
جس پر انسان سوتا ہے آرام کرتا ہے اس کو مہاد کہا جاتا ہے.
فبئس المهاد پس بڑا ہی برا.
بستر ہے یا یوں کہیں بڑا ہی بڑی ہی بری آرام کی جگہ ہے.
اور مخصوص بالذم محذوف ہے.
أي هيا بھئی.
بئس المهاد هيا.
بڑا ہی براٹھ کا بڑی ہی بری آرام کی جگہ ہے وہ.
یعنی جہنم بھئی یہ ضمیر کس کو راجع؟ جہنم کو یا جہنم ہی نکال لیں فبئس المهاد جہنم.
بڑا ہی.
بڑی ہی بری آرام کی جگہ ہے جہنم.
هذا فليذوقوه حميم وغساق.
هذا مبتدا ہے اور حميم وغساق یہ اس کی خبر ہے بھئی.
هذا درمیان میں فليذوقوه آيا بھئی.
تو هذا حميم وغساق حميم تو پہلے بھی ذکر ہو چکا کھولتا ہوا پانی ابلتا ہوا پانی بھئی خوب گرم پانی.
وغساق بھئی.
غساق.
بعضوں نے کہا.
یہ جہنمیوں کی پیپ ہے بھئی.
غساق کیا ہے؟ جہنمیوں کی پیپ.
اور بعض علماء مفسرین فرماتے ہیں.
کہ غساق.
جہنم میں.
بہنے والے ایک.
چشمے کا نام ہے.
جس کا پانی انتہائی ٹھنڈا ہوگا حد درجے کا.
تو جیسے.
انتہا درجے کی حرارت آگ کے اندر اسی طرح بعض جگہ انتہا درجے کی ٹھنڈ تو مختلف قسم کے عذاب ہیں وہاں پر بھئی.
تو ان کو یہ پینے کے لیے دیا جائے گا.
یا ہو سکتا ہے اسی چشمے کے اندر بھئی وہ جہنمیوں کی پیپ ملی ہوئی ہو بھئی.
هذا حميم وغساق یہ.
کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے فليذوقوه.
پس چاہیے کہ
چقیں اس کو پس چاہیے کہ وہ فلیذوقوہ پس چاہیے کہ وہ چقیں اس کو واخر من شکلہ ازواج اور دوسرے بھی من شکلہ اسی کی شکل کے ازواج
اسی ازواج بمانی انواع کے ہے اقسام کے ہے بھئی۔
اور بھی دوسرے بھی اسی شکل کے قسم قسم کے یعنی عذاب ہوں گے۔
اور بھی اسی شکل کے قسم قسم کے یعنی عذاب ہوں گے بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
دوبارہ دیکھیے ہٰذا فلیذوقوہ حمیم وغساق یہ گرم پانی اور پیپ ہے پس چاہیے کہ اس کو پئیں واخر من شکلہ ازواج اور دوسرے عذاب بھی اسی شکل کے طرح طرح کے ہوں گے۔
ہٰذا فوج مقتم معکم۔
یہ ایک فوج ہے یہ ایک جماعت ہے بڑی مقتم معکم اقتحم یقتحم کے معنی ہوتے ہیں داخل ہونا گھسنا بھئی۔
بھئی جہنمیوں کو جہنم میں ڈالنے کے لیے جہنم کے کنارے پر جمع کیا جائے گا تو پہلے بڑے بڑے جو سردار ہیں ان کو اکٹھا کر لیا جائے گا پھر اس کے بعد جو ان کے پیروکار تھے ان کے راستے پر چلنے والے تھے وہ ان کے بعد آئیں گے تو یہ سردار کہیں گے بھئی یہ سارے وہاں بیٹھے ہیں وہ بھی آ گئے اندر داخل ہو رہے ہیں ان کے ساتھ بھئی جہنم کے کنارے پر یہ گفتگو ہوگی جو آگے اللہ ذکر فرما رہے ہیں۔
وہ آئیں گے تو یہ سردار کہیں گے لو بھئی ایک اور جماعت اندر گھسی آ رہی ہے بھئی۔
جیسے انسان کسی پہ طنز نہیں کرتا بھئی تو وہ سردار بیٹھے ہوں گے دوسرے آئیں گے تو یہ کہیں گے لو بھئی یہ بھی آ گئے انہوں نے بھی یہیں آ کر مرنا تھا بھئی۔
دیکھیے بھئی ہٰذا فوج مقتم معکم یہ ایک بڑی جماعت ہے مقتم معکم گھسنے والی ہے تمہارے ساتھ۔
یہ ایک بڑی جماعت ہے جو تمہارے ساتھ گھسنے والی ہے یعنی جہنم میں۔
لا مرحبا بھہم
اللہ کرے ان کو کہیں جگہ نہ ملے۔
لا مرحبا بھہم اللہ کرے ان کو کہیں جگہ نہ ملے۔
بھئی دیکھیے عربی میں مہمان آتا مہمان آتا ہے تو کیا کہتے ہیں مرحبا اسے کہتے ہیں مرحبا خوش آمدید خوش آمدید۔
اور مرحبا یاد رکھیے یہ رحب سے ہے را حا اور با رحب رحب کہتے ہیں کشادہ کو وسیع بھئی کشادہ۔
یعنی آئیے بھئی خوش آمدید آپ کے لیے یہاں بڑی کشادہ جگہ ہے آئیے بھئی۔
آپ کشادہ جگہ پر آئے ہیں بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی تو مہمان کو مرحبا کہا جاتا ہے۔
تو یہ ان کو کیا کہیں گے یہ لا مرحبا بھہم بھئی یہ بددعا ہے کہ یعنی اللہ کرے ان کو کشادہ جگہ یعنی ان کو جگہ نہ ملے۔
ان کے لیے کشادگی نہ ہو کشادہ جگہ نہ ہو یعنی ان کو جگہ نہ ملے۔
تو بہرحال یہ بددعا ہے بس اتنا یاد رکھیے یہ تو لفظی ترجمے کے اعتبار سے میں نے کہا کہ ان کو خدا کرے ان کو جگہ نہ ملے بعضوں نے ترجمہ اس پر کیا ان پر اللہ کی مار ہو اور بعضوں نے کہا ان پر اللہ کی پھٹکار ہو بس بددعا کا کلمہ ہے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
لا مرحبا بھہم ان کو جگہ اللہ کرے ان کو جگہ نہ ملے کہیں انہم صال النار بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں۔
قالوا بل انتم وہ آنے والے کہیں گے بھئی اب انہوں نے کیا کہا لو بھئی یہ بھی یہیں آ کر انہوں نے بھی یہیں آنا تھا یہ بھی آ گئے ان کو جگہ نہ ملے برا کلمہ کہیں گے یہ بھی جہنم میں داخل ہونے والے تو وہ آنے والے جواب میں کہیں گے قالوا بل انتم لا مرحبا بکم۔
وہ کہیں گے بلکہ تمہیں تم جو ہے تمہیں کہیں جگہ نہ ملے تمہیں کہیں جگہ نہ ملے یعنی تم پر اللہ کی مار ہو۔
انتم قد قدمتموہ لنا یہ اب وہ جو کمزور تھے جو پیروکار تھے اب وہ سرداروں کو کہہ رہے ہیں انتم قد قدمتموہ لنا تم نے آگے کیا اس کو ہمارے۔
یہ جہنم تم ہمارے سامنے لے کر آئے سزا اور یہ انجام تمہاری وجہ سے ہمارے سامنے آیا ہے تم نے تم اس کو ہمارے سامنے لائے ہو اگر ہم تمہارے کہنے پر نہ چلتے تو ہمارا یہ انجام نہ ہوتا۔
انتم قد قدمتموہ لنا تم نے قدمتمو آگے کیا ہٰذا میز اس کو لنا ہمارے تم نے اس کو ہمارے آگے کیا تم اس کو ہمارے آگے لائے معنی سمجھ میں آیا انتم قد قدمتموہ لنا تم ہمارے سامنے یہ لائے ہو فبئس القرار پس بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے بڑی ہی بری رہنے کی جگہ ہے یعنی کہ جہنم بھئی۔
قالوا وہ کمزور اب کہیں گے قالوا وہ کہیں گے ربنا اے ہمارے پروردگار من قدم لنا ہٰذا جو ہمارے آگے لایا اس کو فزدہ عذابا ضِعفا من النار آگ میں سے۔
اے اللہ یہ جو سردار ہیں ان کی وجہ سے ہمارے ساتھ یہ حالت پیش آگئی آپ ان کو دوگنا عذاب دیجیے۔
قالوا ربنا من قدم لنا ہٰذا فزدہ عذابا ضِعفا فی النار وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار جو ہمارے سامنے لایا اس کو پس اس کے عذاب کو بڑھ دیجیے دوگنا آگ میں سے۔
وقالوا اور وہ کہیں گے ما لنا لا نرا رجالا کنا نعدہم من الاشرار
وقالوا اور وہ کہیں گے اب وہ آپس میں باتیں کریں گے بھئی وقالوا وہ کہیں گے ما لنا ہمیں کیا ہو گیا لا نرا رجالا ہم نہیں دیکھتے کچھ لوگوں کو کنا نعدہم کہ ہم ان کو شمار کرتے تھے من الاشرار شریروں میں سے۔
مومنین کے بارے میں اب بات کر رہے ہیں کہ بھئی دنیا میں کچھ لوگوں کو ہم بڑا ہی شریر سمجھتے تھے بڑا ہی فتنہ پھیلانے والا سمجھتے تھے کیا بات ہے ہمیں آج وہ جہنم میں اپنے آس پاس یحرحمک اللہ ہمیں ان میں سے آج کوئی اپنے آس پاس جہنم میں دکھائی نہیں دے رہا کیا وجہ ہے اس کی کیوں نہیں نظر آ رہے وہ لوگ ہمیں یہاں پر یہ جہنم میں باتیں کر رہے ہوں گے مومنین کے بارے میں بھئی۔
وقالوا اور وہ کہیں گے ما لنا کیا ہو گیا ہمیں لا نرا رجالا کہ ہم نہیں دیکھتے کچھ ایسے لوگوں کو کنا نعدہم من الاشار کہ ہم ان کو شریروں میں سے شمار کرتے تھے۔
وقالوا ما لنا لا نرا رجالا کنا نعدہم من الاشرار اور وہ کہیں گے ہمیں کیا ہو گیا کہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہے کچھ ایسے لوگ جن کو ہم شمار کرتے تھے شریروں میں سے۔
اتخذناہم سخريا ام زاغت عنہم الابصار
اتخذناہم یہ اصل میں ہے اتخذناہم
ماضی کا صیغہ اور ہمزہ وصلی تھا شروع میں اور اس کے ساتھ پھر ہمزہ استفہام آگیا اتخذناہم پھر ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی تو اس کو گرا دیا گیا کیا رہ گیا اتخذناہم۔
اتخذناہم سخريا سخری سخری کہتے ہیں ہنسی کی چیز بھئی مذاق ہنسی کو ہنسی کو مذاق۔
اتخذناہم سخريا کیا ہم نے ان کو ان کو مذاق بنا رکھا تھا ہنسی بنا رکھا تھا ام زاغت عنہم الابصار یا
یا پھسل گئی ہیں ان سے نظریں یا ان سے زاغہ کے معنی مائل ہونا بھئی خوف اور دہشت کی وجہ سے نظر کا کسی چیز پر نہ جمنا یہ کیا ہے
زاغہ کا معنی بھئی۔
زاغہ کے کیا معنی ہیں؟ خوف اور دہشت کی وجہ سے نظر کا کسی چیز پر نہ جمنا۔
اتخذناہم سخريا کیا ہم نے ان کو ہنسی بنا رکھا تھا ام زاغت عنہم الابصار یا پھسل گئی ہیں ان سے نظریں یا چوک گئی ہیں ان سے نظریں یعنی نظر ان سے نظر ان پر جمی نہیں ان سے ادھر ادھر مائل ہو گئی ہے یعنی ہیں تو وہ بھی یہیں کہیں وہ بھی شریر تھے لیکن ان پر نظر جمی نہیں ہماری نظر نہیں آئے۔
یا اتخذناہم سخريا یا ہم نے ان کو ویسے ہی مذاق بنا رکھا تھا وہ حق پر تھے۔
خود ہی آپس میں باتیں کر رہے ہیں اتخذناہم سخريا کیا ہم نے ان کو ہنسی بنا رکھا تھی یعنی ویسے ہی ہم نے ہنسی خود بنا رکھی تھی وہ حق پر تھے ام زاغت عنہم الابصار یا وہ واقعی شریروں میں سے تھے اور یہیں کہیں ہیں لیکن ہماری نظر ان پر نہیں جمی بھئی نگاہ میں وہ نہیں آئے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
اتخذناہم سخريا ام زاغت عنہم الابصار کیا ہم نے ان کو بنا رکھا تھا ہنسی یا ان سے چک گئی ہیں نگاہیں ان ذلك لحق خصام اہل النار اللہ فرما رہے ہیں بے شک یہ البتہ حق ہے
بے شک یہ البتہ حق ہے خصام اہل النار
جہن اگ والے یا جہنمی جو ہیں ان کا آپس میں جھگڑنا خصام کہتے ہیں باہم جھگڑنا۔
اللہ فرما رہے ہیں یہ جو ہم نے بیان کیا اس طرح یہ جہنمی آپس میں کیا کریں گے جھگڑا کریں گے یہ حق بات ہے اسی طرح ہوگا۔
ان ذلك لحق خصام اہل النار بے شک یہ البتہ یہ بات البتہ حق ہے جہنمیوں کا جھگڑنا۔
قل انما انا منذر اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ میں تو خبردار کرنے والا ہی ہوں
منذر کا معنی ہے ڈرانے والا با محاورہ اور بہترین ترجمہ کیا اس کا خبردار کرنے والا۔
قل انما انا منذر اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ میں تو ڈرانے والا ہی ہوں میں تو خبردار کرنے والا ہی ہوں وما من الٰہ الا اللہ الواحد القہار اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے جو ایک ہے غالب ہے قہار جو غالب ہے۔
اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک مگر ایک اللہ جو غالب ہے رب السماوات والارض وما بینہما العزیز الغفار مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے زبردست ہے خوب بخشنے والا ہے۔
رب السماوات والارض مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا وما بینہما اور جو کچھ ان کے درمیان ہے العزیز الغفار زبردست ہے بہت بخشنے والا ہے۔
قل ہو النبا عظیم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے
نبا ان خبر کو کہتے ہیں بھئی۔
اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ہو النبا عظیم یہ بہت بڑی خبر ہے۔
بھئی کون سی خبر بڑی ہے ہو ضمیر کا مرجع کیا ہے؟
تو بعض علماء فرماتے ہیں یہ جو پیچھے توحید کا ذکر آیا وما من الٰہ الا اللہ یہ توحید جو ہے بہت بڑی خبر ہے۔
وانت انتم عنہ معرضون تم اس سے اعراض کرتے ہو تم اس سے منہ موڑتے ہو یعنی اس کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔
انتم عنہ معرضون تم اس سے منہ موڑتے ہو تم اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
تو ہو ضمیر کس کو راجع توحید کو جو کہاں سے مفہوم ہو رہی ہے وہاں من الٰہ الا اللہ۔
بعضوں نے کہا ہو ضمیر راجع ہے پیچھے جو یوم حساب کا ذکر آیا تھا یہ جو یوم حساب کے بارے میں تم کو بتایا گیا یہ بہت بڑی خبر ہے انتم عنہ معرضون تم اس سے اعراض کر رہے ہو منہ موڑ رہے ہو۔
ما کان لي من علم بالملأ الاعلی اذ یختصمون
ما کان لي نہیں ہے میرے لیے من علم کوئی علم یعنی مجھ مجھے کچھ علم نہیں ہے بالملأ الاعلی اوپر والی مجلس کا یعنی فرشتوں کی مجلس کا۔
اذ یختصمون جب وہ جھگڑتے ہیں یعنی جھگڑتے نہیں
یہاں یختصمہ کے یہاں معنی کریں سوال و جواب کرتے ہیں یعنی بحث کرتے ہیں باتیں کرتے ہیں آپس میں۔
اذ یختصمون جب وہ آپس میں جب وہ سوال و جواب کرتے ہیں۔
جب وہ سوال و جواب کرتے ہیں۔
بھئی اللہ کی طرف سے احکام نازل ہوتے ہیں تو پھر فرشتے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں بھئی کہ اللہ نے کیا حکم نازل کیا کیا فیصلہ فرمایا اللہ نے زمین کی بقا یا اس کی فنا کے بارے میں اور وہاں کے لوگوں کی فنا و بقا کے بارے میں یا ان کے بارے میں جو جو احکام نازل ہوتے ہیں تو اس کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے سے سوال و جواب جو کرتے ہیں وہ مراد ہے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
ما کان لي من علم بالملأ الاعلی اذ یختصمون نہیں ہے مجھے کوئی علم اوپر والی مجلس کا جب وہ آپس میں جب وہ سوال و جواب کرتے ہیں۔
تو اے پیغمبر آپ فرما دیجیے
کہ یہ بڑی عظیم خبر ہے اور تم اس سے منہ موڑ رہے ہو اور مجھے اوپر والی مجلس کا کوئی علم نہیں جب وہ ایک دوسرے سے سوال و جواب کرتے ہیں۔
اور میں تمہیں یہ سب باتیں بتلا رہا ہوں اوپر والے مجلس کا حال بھی سناتا ہوں کبھی تو وہ اسی وجہ سے کہ اللہ میری طرف وحی کے کرتے ہیں اللہ مجھے وحی کے ذریعے بتلاتے ہیں ورنہ مجھے کیا علم ان چیزوں کا مجھے خود ان چیزوں کا کوئی علم نہیں ہے اللہ وحی کے ذریعے کوئی اچھا کبھی کبھار مجھے بتلا دیتے ہیں تو وہ میں تم سے بیان کر دیتا ہوں۔
ما کان لي من علم بالملأ الاعلی اذ یختصمون مجھے کوئی علم نہیں ہے اوپر والی مجلس کا جب وہ آپس میں جب وہ آپس میں سوال و جواب کرتے ہیں
یا جب وہ سوال و جواب کرتے ہیں۔
ان یوحی الی الا انا الا انما انا نذیر مبین نہیں وحی کی جاتی ان فیہ ہے بھئی نفی کے لیے۔
ان یوحی الی نہیں وحی کی جاتی میری طرف الا مگر اس وجہ سے کہ انما انا نذیر مبین کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں۔
تو ایک تو یہ معنی نہیں کہ وحی میری طرف وحی نہیں کی جاتی مگر اس وجہ سے کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں واضح خبردار کرنے والا ہوں اس وجہ سے میری طرف وحی کی جاتی ہے اللہ نے مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔
یا ایک یہ معنی ان یوحی
الالا انما انا نذیر مبین، نہیں وحی کی جاتی میری طرح، مگر یہ کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں، واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ میری طرف تو صرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں۔
معنی فرق سمجھ میں آیا؟ میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے، مجھے بتلایا جاتا ہے کہ آپ ڈرانے والے ہیں، لوگوں کو دعوت دیں۔ یا یہ معنی میری طرف وحی نہیں کی جاتی، مگر اس وجہ سے کہ میں کیا ہوں؟ واضح ڈرانے والا ہوں۔
تو یہ تو ہوا نفی اور الا کے ساتھ ترجمہ، بامحاورہ کیسے ہوگا؟ میری طرف تو یہی وحی کی، میری طرف تو اسی وجہ سے وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں، یا دوسرے ترجمے کے مطابق، میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں۔
اذ قال ربك للملائكة إني خالق بشرا من طين، جس وقت فرمایا آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے، إني خالق بشرا، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں انسان کو من تین، مٹ گارے سے۔ اذ قال ربك للملائكة، جس وقت فرمایا آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے، إني خالق بشرا، بے شک میں ایک انسان کو پیدا کرنے والا ہوں من تین، گارے سے۔ فإذا سويته، پس جب میں اس کو برابر کردوں، یعنی اس کو پورا بنا لوں، جب میں اس کو پورا بنا لوں۔ فإذا سويته، پس جب میں اس کو پورا بنا لوں ونفخت فيه من روحي، اور پھونک دوں اس میں اپنی روح، فقعوا له ساجدين، تو گر جانا۔ وقيع يقع کے معنی گرنا۔ فقعوا له ساجدين، پس تم گر جانا اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے۔ تم سب اس کے لیے سجدہ میں گر جانا۔
اللہ فرشتوں سے فرما رہے ہیں کہ میں ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں گارے سے، جب میں اس کو بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا تم سب، تم سب اس کے لیے سجدہ کرنا۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی! اور روح ہی اللہ کی نے روح کی نسبت اپنی طرف کی بھئی، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ کسی چیز کی عظمت بتلانے کے لیے اللہ اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہیں، جیسے بیت اللہ بھئی۔ بیت اللہ تو یہ اس کی نسبت اللہ کی طرف ہے۔
تو عظمت کے طور پر، اسی طرح روح کی نسبت بھی اللہ نے اپنی طرف کی۔ نیز یہ بتلانے کے لیے کہ یہ روح جو ہے، یہ عام چیزوں کی طرح پانی یا مٹی وغیرہ ان چیزوں سے نہیں بنی، بلکہ یہ غیب سے ائی ہے، ہماری طرف سے بھئی۔
تو سوئی یسوی کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ برابر کرنے کے، مراد کیا ہے؟ بنا لوں جب میں۔ فإذا سويته، پس جب میں اس کو بنا چک، بنا لوں ونفخت فيه من روحي، اور پھونک دوں اس میں اپنی روح فقعوا له ساجدين، تو تو گر جانا اس کے لیے سجدے میں۔
فسجد الملائكة كلهم أجمعون، تو سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھا۔ فسجد الملائكة كلهم أجمعون، پس تمام فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا الا ابليس، سوائے ابلیس کے۔ اس نے سجدہ نہیں کیا۔ استكبر وكان من الكافرين، اس استكبر، تکبر کیا اس نے۔ غرور کیا، وكان من الكافرين، اور وہ تھا انکار کرنے والوں میں سے۔
بھئی وہ تھا ہی کس میں، وہ تھا کس میں سے تھا؟ انکار کرنے والوں میں سے تھا۔
کیا معنی انکار کرنے والوں میں سے تھا؟ یعنی اللہ کے علم میں، اللہ کے علم میں پہلے ہی سے یہ بات تھی کہ یہ کیا کرے گا آگے چل کر انکار کرے گا۔ تو یہ معنی وكان من الكافرين، وہ انکار کرنے والوں میں سے تھا یا کان بمعنی صار کے۔ کان بمعنی صار کے، کیا معنی ہوا؟ وہ ہو گیا انکار کرنے والوں میں سے بھئی۔
فرق سمجھ میں آگیا دونوں ترجموں میں بھئی۔
استكبر، اس نے تکبر کیا، وكان من الكافرين اور وہ ہو گیا انکار کرنے والوں میں سے۔ قال يا إبليس ما منعك أن تسجد لما خلقت بيدي، کہہا، کہا اللہ نے، یا إبليس، اے ابلیس، ما منعك، کس چیز نے تجھے روکا ان تسجد، کہ تو سجدہ کرے، لما اس چیز کے لیے خلق بیدی، جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔
يدي، تثنیہ ہے بھئی یدین، پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا اور یا متکلم کی اور اس کی یا میں ادغام ہوا بھئی، تثنیہ کی یا اور متکلم کی یا میں ادغام ہوا۔
قال يا إبليس ما منعك أن تسجد لما خلقت بيدي، کہا اللہ نے، اے ابلیس، کس چیز نے تجھے روکا کہ تو سجدہ کرے اس چیز کو جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا، یعنی اپنی قدرت سے۔
يد بول کر کیا مراد ہے؟ اللہ کی قدرت۔ تثنیہ کا ذکر ہوا بھئی، تثنیہ۔ چنانچہ اسی وجہ سے بعض مفسرین، بعض علماء اس بات کی طرف گئے کہ یہ کوئی خاص صفت ہے اللہ کی جس کا ہمیں علم نہیں ہے بھئی۔
کیونکہ یہاں تثنیہ آیا۔ اگر اگر قدرت مراد ہوتی وہ تو مفرد آنا چاہیے تھا، باقی جگہوں پر مفرد ہے، یہاں تثنیہ آیا۔ یہ تثنیہ بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا یہ قدرت سے کوئی الگ صفت ہے اللہ تعالی کی جس کا ہمیں پورا، جس کا ہمیں علم نہیں ہے بھئی۔
اور بيدي، تثنیہ آیا۔ تو بعضوں نے قدرت ہی معنی کی ہے کہ قدرت ہی مراد ہے بھئی، پھر تثنیہ آیا، تثنیہ آنے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے بنایا اس کا بدن جو تھا، وہ تو مٹی اور گارے سے بنایا گیا اور روح جو ہے، وہ غیب سے آئی، اللہ نے جیسے ذکر فرمایا، اپنی طرف نسبت کی تو دو چیزیں ہوگئیں۔ بدن کو جو بنایا، وہ اللہ نے ایک قدرت سے، اور روح کو جو پیدا کیا، وہ دوسری قدرت سے، اس لیے تثنیہ آیا بھئی۔
اے ابلیس! تجھے کس چیز نے منع کیا کہ تو سجدہ کرے اس چیز کے لیے، جس کو تو نے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ استكبر تا امكنت من العالين۔
استكبر تا، یہاں بھی ہمزہ وصل گر گیا بھئی، استكبر تا، ہمزہ استفہام آیا پھر تو ہمزہ وصل گر گیا اور ہمزہ، ہمزہ وصل گر گیا اور ہمزہ استفہام باقی ہے بھئی۔ استكبرتا، کیا تو نے تکبر کیا؟ امكنت من العالين؟ یا تو اونچے لوگوں میں سے ہے، اونچی ہستیوں میں سے ہے۔
استكبرتا، کیا تو نے تکبر کیا؟ امكنت من العالين؟ یا تو اونچی ہستیوں میں سے ہے، اونچے لوگوں میں سے ہے۔
اونچے درجے والوں میں سے ہے۔
یعنی استكبرتا، کیا تو نے تکبر کیا؟ یعنی ہے تو بڑا نہیں، ویسے تو نے کیا کیا؟ تکبر کیا۔ یا تو ہے ہی بڑوں میں سے۔ کس وجہ سے تو نے سجدہ نہیں کیا؟ کیا صرف تکبر کرنے کی وجہ سے یا تو ہے ہی بڑوں میں سے؟
استكبرتا امكنت من العالين، کیا تو نے تکبر کیا یا تو ہے ہی بڑوں میں سے؟ قال أنا خير منه، کہنے لگا، کہا اس نے، أنا خير منه، میں اس سے بہتر ہوں۔ خلقتني من نار وخلقته من طين، پیدا کیا ہے آپ نے مجھے آگ سے، وخلقته من طين، اور پیدا کیا ہے اس کو آپ نے گارے سے۔ مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا ہے، اور اس کو آپ نے مٹی سے، گارے سے پیدا کیا ہے۔
اگ کے اندر حرارت ہے، مٹی سرد ہے۔ آگ کے اندر جوش ہے، اور جبکہ مٹی خاموش ہے۔
समझ में आया भाई!
اگ اوپر کو جانے والی ہے، مٹی نیچے کو جانے والی ہے، تو میں اس سے بہتر ہوں۔ یہ دیکھیے، ابلیس ہے قیاس کر رہا ہے بھئی۔
قال أنا خير منه، کہا میں اس سے بہتر ہوں، خلقتني من نار وخلقته من طين، آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو گارے سے پیدا کیا ہے۔ قال فاخرج منها فإنك إنك رجيم،
قال، أي قال الله، اللہ نے فرمایا، فاخرج منها، پس تو نکل جا ان اس سے۔
یعنی ان آسمانوں سے، تو نکل جا۔
ان آسمانوں سے، تو نکل جا! فإنك رجيم، پس بیشک تو مردود ہے۔
قال فاخرج منها، ها ضمیر کس کو لوٹائی؟ آسمانوں کو یا فرشتوں کو راجع ہے، پس تو نکل جا ان فرشتوں میں سے، فإنك رجيم، بیشک تو مردود ہے۔ و إن عليك لعنتي إلى يوم الدين، اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے، میری پھٹکار ہے، إلى يوم الدين، بدلے کے دن تک، یعنی قیامت کے دن تک۔
قال ربي فانظرني إلى يوم يبعثون، کہا اے میرے پروردگار! ربی تھا یا حذف کی کر لیتی، کر لی جاتی ہے تخفیفاً بھئی۔
قال ربی، وہ ابلیس کہنے لگا، اے میرے پروردگار! فانظرني، پس آپ مجھے مہلت دے دیجیے۔ ہم ذرا انظر کے کیا معنی؟ مہلت دیں۔ فانظرني، پس آپ مجھے مہلت دے دیجیے إلى يوم يبعثون، اس دن تک جس دن مردوں کو زندہ کیا جائے گا۔
قال فإنك من المنظرين، پس کہا، فرمایا اللہ نے، بیشک تو من المنظرين مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے، یعنی تجھے مہلت دے دی گئی۔
قال فإنك من المنظرين، بیشک تو مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے۔
إلى يوم الوقت المعلوم۔
ایک معین وقت کے دن تک۔
إلى يوم الوقت المعلوم، ایک معین وقت کے دن تک۔
یعنی تجھے مہلت ہے ایک ایسے دن تک جس کا وقت معین ہے۔
پس بیشک، قال فإنك من المنظرين، پس بیشک تو مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے، إلى يوم الوقت المعلوم، ایک معلوم وقت کے دن تک، یعنی ایک معین وقت کے دن تک۔
کا، اور وہ کب تک؟
جی۔
نفخہ اولی تک۔ اس نے قیامت تک مہلت مانگی، اللہ نے نفخہ اولی تک کی مہلت دی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو سب ہلاک ہو جائیں گے جن میں شیطان بھی شامل ہے بھئی۔ تو بس اس وقت تک اس کے لیے مہلت ہے، اور اس کے بعد اس کی موت آ جائے گی، اور پھر قیامت کے دن تو پھر حساب کتاب شروع ہو جائے گا۔
قال فبعزتك لأغوينهم أجمعين، جب مہلت اسے مل گئی، اب اسے یہ تو پتہ تھا کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتے، مجھے مہلت مل چکی۔ اب اب دیکھیے، اس کی جرات دیکھیے! قال فبعزتك، کہا اس نے، قسم ہے آپ کی عزت کی، قسم، با قسمیہ جا رہا ہے بھئی۔ فبعزتك، تو پھر قسم ہے آپ کی عزت کی، لأغوينهم، البتہ میں، اغوا یغوی کے معنی ہیں گمراہ کرنا۔ لأغوينهم أجمعين، البتہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا، ان سب انسانوں کو میں کیا کروں گا؟
कहने लगा فبعزتك لأغوينهم أجمعين، پس آپ کی عزت کی قسم میں البتہ ان سب کو گمراہ کروں گا، إلا عبادك منهم المخلصين، مگر آپ کے وہ بندے ان میں سے جو چنے ہوئے ہیں۔ قال فالحق والحق أقول، تو اللہ نے فرما، فالحق، تو یہ بات حق ہے، والحق أقول،
والحق أقول، اور، قال فالحق، اللہ فرما، اللہ نے فرمایا فالحق، تو یہ بات حق ہے، یہ بات سچی ہے، والحق أقول، اور میں تو سچی بات ہی کرتا ہوں۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ یہ بات سچ ہے، اور میں تو سچی بات ہی کرتا ہوں۔ دیکھیے، الحق، یہ منصوب ہے، یہ مفعول ہے اقول کے لیے۔
اقولو کے لیے مفعول ہے، اور یہ مفعول مقدم کر دیا گیا تو تخصیص آگ گئی، بھئی اگر یہ مؤخر ہوتا اقول الحق، تو معنی ہوتا میں سچ کہتا ہوں۔ میں سچ کہتا ہوں، اور جب اس کو مقدم کر دیا گیا تو تخصیص آگئی، میں تو سچ ہی کہتا ہوں۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی!
قال فالحق اللہ فرما، فرمایا پس تو، تو یہ بات حق ہے، والحق أقول، اور میں تو سچ ہی کہ، یہ بات سچ ہے، قال فالحق، یہ، یہ بات سچ ہے والحق أقول، اور میں تو سچ ہی کہتا ہوں، لأملأن جهنم منك وممن تبعك منهم أجمعين، البتہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو، املآ کے معنی ہوتے ہیں بھرنے کے۔ لأملأن جهنم، میں البتہ ضرور بھروں گا جہنم کو، منك، تجھ سے، وممن تبعك منهم أجمعين، اور ان سے جنہوں نے تیری پیروی کی، ان میں سے سب، سے، ان سب کو، ان سب سے۔
میں ضرور جہنم کو بھر دوں گا تجھ سے اور وہ لوگ جنہوں نے تیری پیروی کی انسانوں میں سے أجمعين سب سے، ان سب سے۔
قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين، قل، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، ان کفار مشرکین سے کہہ دیجیے۔ ما أسألكم عليه من أجر، میں نہیں سوال کرتا، میں نہیں مانگتا اس پر من أجر، کوئی اجرت۔
کوئی اجر، کوئی بدلہ، کوئی معاوضہ میں تم سے نہیں مانگتا، یہ جو میں تمہیں دین حق کی دعوت دے رہا ہوں، اور تم اس سے منہ موڑ رہے ہو، میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا کہ تم اس سے منہ موڑ رہے ہو۔
قل ما أسألكم عليه من أجر، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، وما أنا من المتكلفين، اور میں نہیں ہوں بناوٹی لوگوں میں سے۔
متکلف، بناوٹ کرنے والا، یعنی بناوٹ کرنے والا۔
وما أنا من المتكلفين، اور میں بناوٹی لوگوں میں سے نہیں ہوں۔
یعنی یہ بناوٹی باتیں، چیزیں، میں اپنی طرف سے بیان نہیں کر رہا، میں بناوٹی لوگوں میں سے نہیں ہوں، میں حق باتیں تمہیں بتلا رہا ہوں، ابھی بھی وقت ہے موت سے پہلے اللہ کے بتلائے ہوئے راستے پر آ جاؤ۔
إن هو إلا ذكر للعللمين، نہیں ہے یہ، یعنی یہ قرآن، إن هو، نہیں ہے یہ، إلا ذكر للعللمين، مگر نصیحت جہان والوں کے لیے۔ ولتعلمن نبأه بعد حين، اور البتہ تم ضرور جان لو گے نبأه، اس کی خبر، بعد حين۔
حین، وقت کو کہتے ہیں۔ کچھ وقت کے بعد، کچھ مدت کے بعد۔ ولتعلم، یعنی ابھی تو تم انکار کر رہے ہو، کچھ مدت کے بعد تمہیں سب کچھ معلوم ہو جائے گا، جو کچھ اس نے خبر دی ہے، جو کچھ اس قرآن نے بتلایا وہ حق ہے۔ ولتعلمن نبأه بعد حين، اور البتہ تم ضرور جان لو گے اس کی خبر کو کچھ مدت کے بعد۔
چلیے بس بھئی! ھذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔