أعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم.
وشددنا ملكه وآتيناه الحكمة وفصل الخطاب. وهل أتاك نبؤ الخصم إذ تصور المحراب؟ إذ دخلوا على داود ففزع منهم قالوا لا تخف خصمان بغى بعضنا على بعض فاحكم بيننا بالحق ولا تشطط واهدنا إلى سواء الصراط.
وشددنا ملكه وآتيناه الحكمة وفصل الخطاب. وشددنا ملكه و مضبوط کیا ہم نے ملکہ ہو ان کی حکومت کو، ان کی سلطنت کو.
وشددنا ملكه اور مضبوط کیا ہم نے ان کی بادشاہی کو، وآتيناه الحكمة و عطا کی ہم نے ان کو الحكمة دانائی، وفصل الخطاب.
وفصل الخطاب. فصل الخطاب میں فصل مضاف ہے، الخطاب مضاف إليه. یہ اضافت ہے صفت کی موصوف کی طرف. یہ اضافت ہے صفت کی. عربی میں بعض اوقات صفت کو اٹھا کر موصوف پر مقدم کر دیا جاتا ہے. اور صفت تو موصوف پر ویسے مقدم نہیں ہو سکتی، تو اس کی پھر کیا کر دی جاتی ہے؟ اضافت کر دی جاتی ہے.
وفصل الخطاب. تو یہ دراصل گویا کس معنی میں ہے؟ الخطاب الفصل، الخطاب الفصل.
خطاب وہ کلام جو دوسرے کی طرف متوجه ہو کر کیا جائے، یعنی گفتگو بھئی، بات.
والفصل بمبانے مفصول کے ہے بھئی یا فاصل کے. فرق کرنے والا.
فیصلہ کرنے والا. یعنی تو یہ ترجمہ ہوا بھئی.
وآتيناه الحكمة و عطا کی ہم نے ان کو دانائی، وفصل الخطاب اور فیصلہ کن گفتگو. ہم نے انہیں دانائی اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی.
فیصلہ کن گفتگو.
بھئی بعض لوگوں کو اللہ نے بڑی مہارت نصیب فرمائی ہوتی ہے. وہ کسی بھی بات کو بڑے مختصر اور بڑے پیارے انداز میں بیان کر دیتے ہیں، بات خوب واضح ہو جاتی ہے اسی وقت بھئی.
تو اللہ فرما رہے ہیں ہم نے داؤد علیہ السلام کو فیصلہ کن گفتگو کا طریقہ نصیب فرمایا تھا، بڑے ہی مختصر اور پیارے لفظوں کے اندر، مختصر لفظوں کے اندر واضح بات کر کے مسئلہ حل کر دیا کرتے تھے بھئی. بات واضح کر دیا کرتے تھے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی.
وشددنا ملكه اور ہم نے مضبوط کیے یعنی استحقام بخشا بھئی. وشددنا ملكه اور ہم نے استحقام بخشا تھا ملكه ان کی حکومت کو، ان کی بادشاہی کو، وآتيناه الحكمة وفصل الخطاب اور ہم نے انہیں دانائی اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی تھی.
تو حکمت کا کیا معنی کیا میں نے؟ دانائی بھئی. بعض مفسرین فرماتے ہیں حکمت سے مراد نبوت ہے، ہم نے انہیں نبوت اور فیصلہ کن گفتگو نصیب فرمائی تھی. تو دونوں معنی درست ہیں بھئی، دونوں مفسرین حضرات بیان کرتے ہیں.
وهل أتاك نبؤ الخصم؟ اور کیا آئی ہے آپ کے پاس؟ نبأ کہتے ہیں خبر کو. نبأ خبر. خصم کہتے ہیں جھگڑنے والا، یعنی یہ عام جھگڑنے والا مراد نہیں، لڑنے والا یعنی جو مقدمے میں فریق مخالف ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خصم کہتے ہیں. تو یعنی اہل مقدمہ. اہل مقدمہ. وهل أتاك نبؤ الخصم؟ اور کیا آپ کے پاس پہنچی ہے اہل مقدمہ کی خبر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ فرما رہے ہیں. وهل أتاك نبؤ الخصم اور کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی ہے؟ کیا آپ کے پاس اہل مقدمہ کی خبر پہنچی ہے؟
إذ تصور المحراب. تصور سور سے ہے بھئی، سور البلد. سور البلد کس کو کہتے ہیں؟ شہر کے گرد جو حفاظتی دیوار، حفاظتی فصیل بنائی جاتی ہے، اس کو سور البلد کہتے ہیں. تو سور وہ دیوار بھئی. اور اسی سے تصور آیا بھئی. اور محراب جو ہے، محراب اونچا کمرہ بھئی، اونچا کمرہ. یعنی بالا خانہ. یہاں مراد حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت گاہ ہے بھئی. تو اونچا کمرہ جو عبادت، اونچا کمرہ اسے بھی محراب کہتے ہیں، جو عبادت کے لیے کمرہ ہو اسے بھی کیا کہتے ہیں؟ محراب. تو مراد کیا ہے یہاں عبادت گاہ کا بھئی.
إذ تصور المحراب. جب. تصور کس سے ہے؟ سور سے، سور کسے کہتے ہیں؟ دیوار کو. تو تصور کا معنی دیوار پر چڑھنا بھئی، دیوار پر چڑھنا. تصور ہے، تصور کے معنی. إذ تصور المحرابا جب وہ دیوار پر چڑھ کر ان کی عبادت گاہ میں آئے، جب وہ دیوار پر چڑھ کر ان کی عبادت گاہ میں آئے.
وهل أتاك نبؤ الخصم اے پیغمبر کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی ہے، إذ تصور المحراب جب وہ دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں داخل ہوئے. إذ دخلوا على داود جب وہ داخل ہوئے حضرت داؤد علیہ السلام پر. ففزع منهم تو پھر آ تو آپ گھبرا گئے ان سے. آپ ان سے بھئی حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے بڑی حکومت، مضبوط حکومت نصیب فرمائی تھی جیسے کہ ابھی ذکر ہوا وشددنا ملكه اور ہم نے ان کی حکومت کو استحقام بخشا تھا. تو حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے حکومت نصیب فرمائی تھی، مضبوط حکومت. آپ نے اپنے شب و روز کو تین شب و روز کو تقسیم کر رکھا تھا. ایک دن آپ دربار کے لیے آپ کا وقت مختص تھا، جس میں دربار لگاتے اور اس میں عام لوگ آ کر اپنے مقدمات وغیرہ پیش کرتے اور آپ ان کے فیصلے فرماتے بھئی. اور ایک دن آپ نے اللہ کی عبادت کے لیے مختص کر رکھا تھا، جس میں سب کام چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت فرماتے تھے. اور ایک دن اپنے گھر والوں کے لیے مختص تھا کہ ایک دن پھر ان کے ساتھ گزارتے تھے بھئی.
تو ایک دن ان میں سے آپ نے مختص کیا ہوا تھا اللہ تعالی کی عبادت کے لیے، اور اس وہ دن آپ اللہ کی عبادت میں گزارتے، اپنے عبادت گاہ کے اندر. اور اس وقت کسی کو اجازت نہیں تھی کہ آپ کی عبادت میں مخل ہو اور اندر آئے بھئی. مخل ہو.
تو یہ دو فرشتے اللہ تعالی نے بھیجے بھئی، انسانی شکل میں آئے، حضرت داؤد علیہ السلام اس وقت عبادت میں مصروف تھے. تو جب وہ آئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس، ففزع منهم تو وہ ان سے گھبرا گئے بھئی. گھبرا گئے. کہ یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے بھئی؟ یہ تو میری عبادت کا وقت ہے، یہ پہرے داروں نے کس طرح ان کو اندر آنے دیا، کس طرح ان سے یہ نکل کر اندر آ گئے، ان کو تو اجازت نہیں تھی، کسی کو بھی اندر آنے کو اجازت نہیں تھی. اور اگر یہ دیوار کے اوپر سے آئے ہیں، تو کس طرح اتنی اونچی اونچی دیواریں انہوں نے پھلانگیں، تو وہ ایک دم جو ہے وہ گھبرا گئے ان کو دیکھ کر کہ یہ کہاں سے آئے بھئی، کون لوگ ہیں؟
إذ دخلوا على داود جب وہ داخل ہوئے داؤد علیہ السلام پر، یعنی ان کے پاس آئے، ففزع منهم تو وہ گھبرا گئے حضرت داؤد علیہ السلام ان سے، قالوا لا تخف انہوں نے کہا لا تخف آپ نہ ڈریے، آپ گھبرائیے نہیں.
جی، ہاں جمع کا صیغہ آیا بھئی، کئی، کئی معلوم ہوا کئی افراد تھے بھئی. ہاں، دو ان میں سے کیا تھے، جھگڑنے والے تھے، اور بھی کوئی ساتھ ہوں گے. إذ جب وہ آئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس، ففزع منهم تو وہ ان سے گھبرا گئے، قالوا لا تخف وہ انہوں نے کہا آپ نہ گھبرائیے، خصمان بغى بعضنا على بعض.
وہی خصم ان کی تثنیہ آ گئی بھئی، خصمان. کہ ہم کیا ہیں، دو جھگڑنے والے ہیں، ایسے جھگڑنے والے، بغى بعضنا کہ بغا زیادتی کی ہے بعضنا على بعض ہم میں سے بعض نے بعض پر.
کیا ترجمہ کریں گے بامحاورہ بھئی. ایک دوسرے پر، بھئی موقع کے مطابق کرو.
بغى بعضنا على بعضن. ایک نے دوسرے پر، ہم دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر، فاحکم بيننا بالحق پس آپ فیصلہ کیجیے ہمارے درمیان حق کے ساتھ، یعنی انصاف کے ساتھ، ولا تشطط.
أشط يشتط کے معنی ہوتے ہیں دور ہونے کے، دور ہونے کے. ولا تشطط اور آپ دور نہ ہوئیے. آپ دور نہ ہوں، یعنی انصاف سے. پیچھے حق کا ذکر آیا نا. آپ حق سے دور نہ ہوں، یعنی انصاف سے دور نہ ہوں، یعنی کہ آپ انصاف کیجیے۔ ولا تشطط کا مراد کیا ہوئی، کیا معنی ہوا؟ جی، آپ انصاف کیجیے.
یعنی ناانصافی نہ، نفی ہے تو نفی کے مطابق ترجمہ کر لیں، اور ناانصافی نہ کیجیے، یعنی حق سے دور نہ جائیے، یعنی ناانصافی نہ کیجیے. ولا تشطط اور ناانصافی نہ کیجیے، واهدنا إلى سواء الصراط اور رہنمائی کیجیے ہماری سیدھے راستے کی طرف. اور رہنمائی کیجیے ہماری سیدھے راستے کی طرف.
اب دوبارہ دیکھیے ترجمہ: إذ دخلوا على داود ففزع منهم قالوا لا تخف جب وہ داخل ہوئے حضرت داؤد علیہ السلام پر، تو وہ گھبرا گئے ان سے، قالوا لا تخف انہوں نے کہا آپ نہ گھبرائیے، خصمان بغى بعضنا على بعض ہم دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر، فاحکم بيننا بالحق پس آپ فیصلہ کیجیے ہمارے درمیان حق کے ساتھ، انصاف کے ساتھ، ولا تشطط اور نہ انصافی نہ کیجیے، واهدنا إلى سواء الصراط اور رہنمائی کیجیے ہماری ہماری سیدھے راستے کی طرف.
ان هذا اخي، بیشک یہ میرا بھئی ہے، له تسع وتسعون نعجة اس کے پاس تسع وتسعون نعجة، 99 بھیڑیں ہیں. اس کے پاس 99 بھیڑیں ہیں بھئی. نعجة بھیڑ کو کہتے ہیں بھئی. اور.
اس کا مذکر جو ہے، وہ کبشون آتا ہے، کبشون کے معنی دنبہ بھئی. اور نعجۃ کے معنی بھیڑ بھئی، بھیڑ.
له تسع وتسعون نعجة اس کے پاس 99 بھیڑیں ہیں.
تو مذکر کو کیا کہتے ہیں، کبشون دنبہ بھئی، دنبہ جسے اردو میں کہتے ہیں. اور تو یہ بھیڑیں ترجمہ کر لیں یا اور مفسرین جیسے ذکر کرتے ہیں، اسی دنبے کی مؤنث دنبی، دنبیاں بھئی، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں یا 99 بھیڑیں ہیں، جو آپ کو اچھا لگے اس طرح کر لیں ترجمہ.
اس کے پاس 99 بھیڑیں ہیں، ولی نعجة واحدة اور میری ایک ہی دنبی ہے، میرے پاس ایک ہی بھیڑ ہے.
فقال اكفلنيها، پس اس نے کہا ہے. یہ جس کے پاس 99 بھیڑیں ہیں، اس نے مجھے کہا ہے، اكفلنيها.
اکفل کہ تو حوالے کر دے، نی میرے، ها اس ایک بھیڑ کو بھی. کس نے کہا ہے، اس ایک بھیڑ کو بھی میرے حوالے کر دے، وعزني اور غالب آتا ہے مجھ پر فی الخطاب گفتگو میں.
اس کے پاس 99 بھیڑیں ہیں، میرے پاس ایک بھیڑ ہے اور یہ کہتا ہے کہ وہ ایک بھیڑ بھی میرے حوالے کر دے، وعزني في الخطاب اور غالب آتا ہے مجھ پر گفتگو میں، یعنی بات چیت میں بھی تیز ہے، لوگوں کے سامنے بات کرتا ہے تو لوگ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں بھئی وہ ایک بھیڑ کو کیا کرو اس کے حوالے کر دو. وعزني في الخطاب اور غالب آتا ہے مجھ پر گفتگو میں.
قال لقد ظلمك بسؤال نعجتك إلى نعاجه. حضرت داؤد علیہ السلام فرمانے لگے: لقد ظلمك تحقيق اس نے ظلم کیا ہے تج پر بسؤال نعجتك إلى نعاجه تیری بھیڑ کا سوال کرتے ہوئے اپنی بھیڑوں کی طرف. اپنی بھیڑوں کی طرف تیری بھیڑ کا، کو طلب کا مطالبہ کر کے اس نے کیا کیا ہے؟ ظلم کیا ہے تج پر.
بھئی نعاج، نعجۃ مفرد ہے اور نعاج اس کی جمع ہے بھئی.
قال لقد ظلمك بسؤال نعجتك إلى نعاجه حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ تحقیق اس نے ظلم کیا ہے تجھ سے، تجھ پر بسؤال نعجتك إلى نعاجه تیری بھیڑ کا مطالبہ کر کے اپنی، اپنی بھیڑوں کی طرف، تیری بھیڑ کا مطالبہ کر کے.
یا یوں کہیں: اپنی بھیڑوں کے ساتھ ملانے کے لیے تیری بھیڑ کا مطالبہ کرکے، اس نے ظلم کیا ہے.
وان كثيرا من الخلطاء ليبغي بعضهم على بعض. اور بیشک بہت سے خلطاء جو ہیں، خلطاء جمع ہے خلیط کی. خلیط کہتے ہیں شریک کو بھئی، شریک.
بیشک بہت سے شریک جو ہیں، ليبغي البتہ وہ زیادتی کرتے ہیں بعضهم على بعض ایک دوسرے پر، إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات اور اچھے عمل کیے.
وہ زیادتی نہیں کرتے، اکثر لوگ شریک کیا کرتے ہیں؟ زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے.
وظن داوود أنما فتناه فاستغفر ربه وخر راكعا وأناب.
فتناه، ہم نے آزمایا ہے ان کو، ہم نے ان کو آزمایا ہے.
فغفرنا له ذلك، پس تو ہم نے معاف کر دیا ان کو وہ، وہ بات ان کو، پس ہم نے وہ بات انہوں نے مغفرت طلب وہ سمجھ گئے کہ اللہ نے مجھے، میری مجھے آزمائش کی ہے، مجھے جانچا ہے، تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کی، معافی چاہی، اور سجدے میں گر پڑے اور اللہ کی طرف رجوع کیا، تو اللہ فرماتے ہیں فغفرنا له ذلك، ہم نے بھی ان کو وہ بات معاف کر دی.
فغفرنا له ذلك، پس ہم نے ان کو وہ بات معاف کر دی.
وإن له عندنا لزلفى وحسن مآب، وپھر ان کے لیے عندنا ہمارے پاس لزل۔ زلفی یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ یہ مصدر ہے اور کس معنی میں ہے، قرب کے معنی میں ہے، قرب کے معنی میں.
بیشک ان کے لیے ہمارے پاس البتہ قرب ہے، وحسن مآب اور اچھا ٹھکانہ ہے، مآب ٹھکانہ بھئی، لوٹنے کی جگہ یعنی ٹھکانہ.
بیشک ان کے لیے ہمارے پاس قرب ہے یعنی خاص قرب ہے، خاص مرتبہ ہے بھئی.
بیشک ان کا ہمارے نزدیک مرتبہ ہے، وحسن مآب اور اچھا ٹھکانہ ہے، ان کے لیے ہمارے پاس خاص قرب ہے یعنی خاص مرتبہ ہے، اور اچھا ٹھکانہ ہے.
بھئی یہاں پر یہ واقعہ آیا کہ وہ چند فرشتے آئے تھے انسانی شکل میں حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس، اور پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے درمیان جھگڑا ایک مقدمہ ہے، ایک کے پاس 99 بھیڑیں ہیں، دوسرے کے پاس ایک بھیڑ ہے، اور یہ 99 بھیڑوں والا کہتا ہے کہ وہ ایک بھی میرے حوالے کر دو اور بات چیت میں بھی مجھے دباتا ہے، مجھ پر غالب آ جاتا ہے، لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں. تو حضرت داؤد علیہ السلام فرمانے لگے کہ اس نے ظلم کیا ہے، تیری ایک بھیڑ کو اپنی بھیڑوں کی طرف ملانے کے لیے جو مطالبہ اس نے کیا ہے، اس نے تجھ پر ظلم کیا ہے بھئی، ظلم کیا ہے.
اور آگے اللہ فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے ان کو آزمایا ہے، تو انہوں نے اپنے پروردگار سے یعنی ہم سے معافی چاہی اور ہم نے ان کو وہ بات معاف کر دی.
اب وہ کیا بات تھی اس بارے میں تفاسیر میں کئی واقعات ذکر ہوتے ہیں بھئی.
تو کئی واقعات، کئی واقعات اس کے بارے میں ذکر کیے جاتے ہیں کہ کیا لغزش ہوئی تھی حضرت داؤد علیہ السلام سے کہ جب فرشتے آئے اور اس طرح واقعہ پیش آیا، پھر وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالی مجھے، میری مجھے آزمایا گیا ہے اور میری غلطی پر مجھے تنبیہ کی گئی ہے بھئی.
سب سے راجح اور بہترین تفسیر یہ ہے کہ، تو سب سے راجح تفسیر یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے ہر چیز کا ایک بہترین نظم و ضبط بنا رکھا تھا، اللہ کی عبادت کا بھی ایسا عجیب نظم فرمایا تھا کہ 24 گھنٹے میں ایک گھڑی بھی ان کا گھرانہ عبادت کے بغیر نہیں رہتا تھا بھئی. اوقات تقسیم کر رکھے تھے اپنے گھر والوں کے درمیان، کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی عبادت میں مصروف رہتا تھا بھئی، کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک اس نے عبادت میں مصروف رہنا ہے، پھر فلاں سے فلاں وقت تک اس نے عبادت میں، تو اس طرح کوئی بھی وقت عبادت سے خالی نہیں ہوتا تھا.
تو ایک دن فرمانے لگے کہ اے اللہ! میں نے میں، ہمارے گھرانے میں، میں نے ایسا انتظام فرمایا ہے کہ ہمارے گھرانے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی اللہ کی، آپ کی عبادت میں مصروف رہتا ہے.
تو اللہ تعالی کو حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ بات پسند نہ آئی کہ بھئی یہ سب تو ہماری توفیق کی وجہ سے ہے، ہماری توفیق کی وجہ سے ہے، آپ کا اس میں کوئی کمال نہیں، ہم نے آپ کو اس بات کی توفیق دے رکھی ہے، تو چنانچہ آپ عبادت میں مصروف تھے، آپ کی عبادت کا وقت تھا، اور اس وقت کسی کو اجازت نہیں تھی آنے کی، آپ وہ سارا وقت ہر طرف سے اپنی توجہ ختم کرکے صرف خالق کی طرف متوجه رہتے تھے اور اس کی عبادت میں مصروف رہتے تھے، اور اس وقت وہ فرشتے آ گئے عبادت کے وقت میں، اور اس طریقے سے آئے اچانک کہ آپ ایکدم گھبرا گئے اور عبادت کی طرف آپ کی توجہ نہ رہی بھئی.
تو دیکھو، عبادت کی طرف توجہ نہ رہی، عبادت سے غافل ہو گئے تو دیکھو ایسا وقت آگیا جس میں کوئی بھی عبادت میں مصروف نہیں تھا بھئی.
تو حضرت داؤد علیہ السلام فورا تھے جب یہ فرشتے کہتے ہیں، بعض روایات میں تو یہ بھی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ اس نے ظلم کیا ہے کہ تمہاری بھیڑ کو بھی اس نے طلب کر لیا اپنی بھیڑوں کے ساتھ ملانے کے لیے، جیسے ہی یہ فرمایا تو فرشتے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے، اس آدمی نے تو اپنے ہی خلاف فیصلہ کر دیا، اور یہ کہتے ہوئے آسمان کی طرف اڑ کے چلے گئے بھئی. تو فورا سمجھ گئے بھئی، کہ مجھے معلوم ہوا میری غلطی پر مجھے تنبیہ کی گئی ہے بھئی.
بات سمجھ میں آئی بھئی؟
جی، تو یہ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے، تو بہرحال میں نے بتلایا سب سے راجح تفسیر ظاہر یہی ہے، جو ہر قسم کے خدشات سے پاک ہے، کہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ ہر وقت گھر میں کوئی نہ کوئی عبادت میں مصروف رہتا ہے، اللہ کو یہ بات پسند نہ آئی، اور اسی دن اسی دن یہ واقعہ پھر پیش آ گیا کہ فرشتے آئے اور آپ کی توجہ اسی دن عبادت سے ہٹ گئی بھئی.
تو اللہ نے بتلانا یہ تھا کہ یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے بھئی، کہ ہم ایسے ہم نے اسباب بنا دیے کہ آپ یہ کہ رکاوٹ نہیں آتی کسی قسم کی.
تو حضرت داؤد علیہ السلام فورا سمجھ گئے اور سجدے میں گر پڑے اور اللہ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی، اور اللہ فرماتے ہیں ہم نے بھی انہیں وہ بات معاف کر دی، یقینا وہ ہمارے بڑے صالح بندوں میں سے تھے، ان کا ہمارے نزدیک خاص مقام ہے اور اچھا ٹھکانہ ہے ان کا ہمارے پاس.
یہ تو تھی راجح تفسیر بھئی. راجح تفسیر.
یہ بھی ایک اور دو اور تفسیریں ہیں، جو اس طرح کے خدشات سے پاک ہیں بھئی.
میں اپنے والد صاحب کی تحریر میں نے ایک جگہ پر دیکھی، ایک تفسیر کے کنارے پر ہی انہوں نے لکھا ہوا تھا، والد محترم نے کہ
میرے نزدیک جو ان کو آزمایا گیا تھا وہ یہ کہ
آپ کو اس میں مقدمے کا سننا اور فیصلہ کرنے کا طریقہ سکھایا گیا بھئی، طریقہ سکھایا گیا.
وہ فرشتے آپ کو طریقہ سکھانے کے لیے آئے تھے کہ فیصلہ ویسے ہی نہیں کرنا، اس طرح فیصلہ کرنا ہے.
کس طرح؟ کہ وہ آئے تھے مقدمہ لے کر، اور آپ نے صرف ایک ہی کی بات سن کر فورا فیصلہ کر دیا کہ یہ دوسرے نے تو ظلم کیا ہے بھئی، دوسرے کی بھی تو بات سننی چاہیے، وہ کیا کہتا ہے؟ تو دوسرے کی بات سن کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا، آپ نے ایک ہی کی بات سن کر دوسرے کو کیا قرار دے دیا؟ ظالم قرار دے دیا بھئی.
یہ بھی بڑی اچھی تفسیر ہے بھئی.
یا یہ کہ جو آپ نے ایک دن اپنے عبادت کے لیے اور ایک دن اپنے گھر والوں کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے، ان میں اور کوئی آدمی آپ کے پاس نہیں آ سکتا،
کوئی نہیں آپ کے پاس آ سکتا، تو
اس پر آپ کو تنبیہ کرنے کے لیے آئے تھے کہ بھئی آپ بادشاہ ہیں، لوگ مقدمات لے کر آئیں گے، تو اس طرح دو دن تک لوگوں سے کٹے رہنا یہ مناسب نہیں ہے، مقدمہ تو وہ بیچارے کسی بھی وقت کوئی بات پیش آ سکتی ہے، تو وہ آپ کے پاس آ ہی نہیں سکتے، وہ دن ممانعت کے ہوں گے تو وہ کیا کریں گے؟
تو اس پر ان کو تنبیہ کی گئی بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو گویا تین تفسیریں ہو گئیں راجح بھئی، پہلی کیا؟ کہ آپ نے کہا تھا کہ اے اللہ! ہر وقت ہمارے گھرانے میں کوئی نہ کوئی عبادت میں مصروف رہتا ہے،
یا دوسرا یہ کہ وہ فرشتے آپ کو فیصلے کا طریقہ سکھانے آئے تھے کہ جب تک دوسرے کی بات نہ سن لیں اس سے پہلے چاہے کوئی کتنا ہی مظلوم کیوں نہ دکھائی دے، جب اس وقت تک کوئی فیصلہ نہ فرمائیں، اور تیسرا یہ کہ
تیسرا کیا معنی بیان کیا؟ ہاں، کہ یہ جو دن آپ نے مخصوص کر رکھا ہے، لوگوں کو آپ سے اپنے آپ سے روک دیا ہے دو دن تک، تو یہ اس طرح نہیں، آپ کے پاس حکومت ہے، بادشاہ ہیں، لوگوں کو آپ کے پاس ہر وقت آنے کی اجازت ہونی چاہیے، مقدمہ اور جھگڑا تو کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے، تو آپ فورا تاکہ حل کریں، جی۔ یہ تین تفسیریں بھئی راجح ہو گئیں.
اب بعض تفاسیر ایک اور بھی،
بعض تفسیریں تو بالکل بھئی بیان کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں.
مفسرین نے بھی ان کو ذکر کیا ہے، لیکن رد کے طور پر، کہ یہ خرافات بھی لوگوں نے کہی ہیں بھئی، ایک ناپسندیدہ اور مردود جو
بائبل میں ذکر ہے بھئی.
دیکھو بائبل وغیرہ کو لوگوں نے کیسا بدلا، انسان حیران ہوتا ہے بھئی، اور بدلنے والے کتنے ظالم لوگ تھے بھئی، ذرا بھی شرم اور حیا نہ کی، بائبل میں ذکر ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی، ا
کے پڑوسی جو تھا ایک بڑا سپہ سالار تھا، اور اس کی بیوی بڑی خوبصورت تھی، وہ محاذ پر گیا ہوا تھا، حضرت داؤد علیہ السلام کی نظر ان کی بیوی پر پڑی تو وہ بڑی حسین و جمیل تھی، تو ان کو بڑی پسند آئی، اور العياذ بالله آپ نے اس سے زنا کیا بھئی.
تو یہ تو بائبل کے دیکھو کیسے خرافات وہاں پر ذکر ہیں بھئی. زنا تو ایک شریف آدمی بھی اس سے دور رہتا ہے، چہ جائیکہ پیغمبر جیسا اعلی انسان، جسے انسانوں میں سے ایک چُن کر اللہ کا پیغام دینے کے لیے ا، پسند کر لیا گیا ہو بھئی.
تو یہ تو بالکل ہی خرافات ہیں.
ایک اور تفسیر ہے، جو،
بعض مفسر ہمارے مفسرین بھی ذکر کرتے ہیں، اور اس کو، اس میں یہ ہے، وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ
حضرت داؤد علیہ السلام کا جو سپہ سالار تھا، اوریا یا اوریا اس کا نام تھا، اور وہ جنگ پر گیا ہوا تھا،
اور ادھر، ا آپ نے اس کی بیوی کو دیکھا، وہ بڑی خوبصورت بھی تھی اور ذہین بھی تھی، اور ہاں، اس زمانے میں یہ رواج عام تھا، اس کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا، کسی کو دوسرے کی بیوی پسند آ جاتی، وہ اس کو کہتا بھئی اپنی بیوی کو طلاق دے دو، میں اس سے کیا کرنا چاہتا ہوں؟ نکاح کرنا چاہتا ہوں.
یہ عام رواج تھی، کوئی اس کو برا سمجھتا ہی نہیں تھا بھئی.
تو حضرت داؤد علیہ السلام نے بھی ان سے کہا آپ کی ستر یا اسی یا نوے یا بعض میں آتا ہے کہ سو بیویاں تھیں، سو،
اور اس کی ایک ہی بیوی، اور اس کو کہا اس کو چھوڑ دو، طلاق دے دو، تو میں اس سے کیا کرنا چاہتا ہوں؟ نکاح کرنا چاہتا ہوں، تو اس زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی عیب والی بات بھی نہیں تھی، اور کوئی غلط بات بھی نہیں تھی، اس زمانے کے اعتبار سے، کیونکہ خاوند کی مرضی ہے وہ چھوڑے یا نہ چھوڑے،
زبردستی تو نہیں، بہرحال کہا، لیکن بہرحال پیغمبر کی شان کے لائق چونکہ نہیں تھی، اس لیے ان پر، ان کو تنبیہ کی گئی بھئی اس پر، کہ فرشتے آئے کہ دیکھو اس کے پاس ایک بھیڑ ہے اور میرے اس کے دوسرے کے پاس 99 ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ ایک بھی کیا کرو میرے حوالے کر دو.
تو یہ واقعہ بھی تفاسیر میں ذکر کیا جاتا ہے، اگرچہ
یہ واقعہ، یہ اس میں کوئی ایسی خرابی نہیں، لیکن جو میں نے پہلی تفسیریں ذکر کر دیں، وہ زیادہ بہتر ہیں، کہ جس میں کسی قسم کا خدشہ دل میں آتا ہی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی، تو وہ بہتر ہیں بھئی.
تو یہ ایک تفسیر جو ہے کہ
آپ نے ذکر کیا کہ،
کیا ذکر کیا؟ کہ ہر وقت ہمارے گھرانے میں کوئی نہ کوئی عبادت میں مصروف رہتا ہے، یہ مفسرین ذکر کرتے ہیں، اور دو اور راجح تفسیریں بھی ذکر کر دیں، جو حضرت والد صاحب، حضرت مولانا محمد موسی روحانی بازی رحمہ اللہ تعالی نے،
کی تحریر مجھے بعض تفاسیر کے حاشیہ پر ان کی یہ عبارت ملی، تو اس کو بھی میں نے ذکر کر دیا بھئی.
تو تین تفسیریں، راجح تفسیریں میں نے ذکر کر دیں بھئی.
فغفرنا له ذلك، پس تو ہم نے معاف کر دی ان کو وہ بات، وإن له عندنا لزلفى وحسن مآب، اور بیشک ان کا ہمارے نزدیک مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانہ ہے، ان کا ہمارے پاس.
چلیے بس، هذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام.