Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-064

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 10 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ص، والقرآن ذي الذكر. بل الذين كفروا في عزة وشقاق. كم أهلكنا من قبلهم من قرن فنادوا ولا حين مناص. آج ہم سورہ ص شروع کریں گے۔ ص یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ والقرآن ذي الذكر واو قسمیہ جا رہا ہے بھئی۔ قسم ہے قرآن کی ذی الذکریٰ نصیحت والے۔ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی. ذو المال کا کیا معنی ہوتا ہے مال والا تو ذی الذکر کا کیا معنی ہوا نصیحت والا۔ قسم ہے قرآن کی قسم ہے نصیحت والے قرآن کی یا اور اس کا ترجمہ کر لیں بھئی۔ اور بہترین ترجمہ جو ہے بعض علماء نے کیا. قسم ہے نصیحت سے بھرے ہوئے قرآن کی۔ والقرآن ذی الذکریٰ قسم ہے نصیحت سے بھرے ہوئے قرآن کی. بھئی یہ ہے قسم اور قسم کے لیے جواب قسم چاہیے کس بات پر قسم اٹھائی جا رہی ہے؟ مثلاً آپ بھی کوئی قسم اٹھاتے ہیں کہ واللہ مثلاً واللہ زید کھڑا ہے تو واللہ تو ہو گئی قسم اور آگے جو آپ کہتے ہیں زید کھڑا ہے یہ کیا ہے جواب قسم۔ جس بات پر جس قسم اٹھائی جا رہی ہے وہ جواب قسم کہلاتا ہے وہ کیا ہے یہاں پر؟ تو یاد رکھیے بعض علماء فرماتے ہیں کہ جواب قسم یہاں پر محذوف ہے بھئی۔ جواب قسم یہاں پر محذوف ہے. اور وہ کیا تو مختلف علماء نے مختلف ذکر کیے ہیں تو جو سب سے آسان لفظ آپ یاد رکھ سکیں بعض علماء نے ذکر کیا کہ جواب قسم یہاں پر محذوف ہے اور وہ ہے ان هذا القرآن لمعجز. قسم ہے نصیحت سے بھرے ہوئے قرآن کی ان هذا القرآن لمعجز یقیناً یہ قرآن عاجز کر دینے والا ہے یعنی کوئی اس جیسا کلام بنا کر نہیں لا سکتا یہ عاجز کر دینے والا قرآن ہے عاجز کر دینے والا کلام ہے اللہ کا. معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ ہے جواب قسم جبکہ بعض علماء نے ذکر کیا کہ جواب قسم جو ہے جو آگے تین نمبر آیت آ رہی ہے کم أهلكنا من قبلهم من قرن یہ ہے جواب قسم بھئی یہ ہے جواب قسم بھئی. اور جب کہ بعض علماء نے کہا کہ جواب قسم آگے جو ہے یہ 14 نمبر آیت آ رہی ہے ان كل الا كذب الرسل یہ ہے جواب قسم جبکہ بعض علماء نے اس سے بھی آگے بعض آیات کو ذکر کیا کہ وہ ہیں جواب قسم بھئی. جی بات اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ بل الذين كفروا في عزة وشقاق عزت کا معنی ہے گھمنڈ کے غرور کے گھمنڈ غرور تکبر شقاق کہتے ہیں مخالفت کو بھئی اختلاف کو مخالفت اختلاف. بل الذين كفروا بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا یہ معنی کر لیں یا کفر کے معنی انکار کرنے کے بھی آتے ہیں بل الذين كفروا بلکہ وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا في عزة وشقاق في عزة وہ غرور میں ہیں تکبر میں ہیں وشقاق اور اختلاف میں ہیں یعنی اختلاف پر ہیں مخالفت پر ہیں. بل الذين كفروا في عزة وشقاق بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا في عزة وشقاق گھمنڈ میں ہیں مخالفت پر ہیں گھمنڈ اور مخالفت پر ہیں. یعنی اس قرآن کے اندر کوئی کمی نہیں ہے پیغمبر کی دعوت کے اندر کوئی کمی نہیں ہے لیکن وہ جو انکار کر رہے ہیں وہ جو کفر کر رہے ہیں صرف اور صرف اپنے حد سے بڑھے ہوئے تکبر کی وجہ سے اور حد سے بڑھ کر جو وہ مخالفت ضد ہے ان کے اندر اس کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں قرآن کے اندر یا پیغمبر کی دعوت کے اندر کسی قسم کی کمی نہیں ہے وہ صرف تعصب اور تکبر کی وجہ سے جو ہے وہ مخالفت کر رہے ہیں انکار کر رہے ہیں. بل الذين كفروا في عزة وشقاق بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا في عزة وشقاق وہ تکبر میں ہیں تکبر اور مخالفت میں ہیں. كم أهلكنا من قبلهم کم یاد رکھیے کبھی استفهام کے لیے آتا ہے سوال پوچھنے کے لیے اور کبھی یہ بطور خبر کے آتا ہے کثرت بتلانے کے لیے کیا بتلانے کے لیے؟ کثرت بتلانے کے لیے تو یہاں پر بھی یہ کم خبریہ ہے کثرت بتلانے کے لیے ہے اللہ فرما رہے ہیں کم أهلكنا کہ بہت سے ہم نے ہلاک کیے من قبلهم ان سے پہلے یہ مکہ والے غرور اور تکبر میں ہیں ان سے پہلے ہم نے بہت سی ہلاک کیں من قرن قرن ایک زمانے زمانے کو بھی کہتے ہیں اور ایک زمانے کے جو لوگ لوگ ہیں ان کو بھی کیا کہتے ہیں قرن کہتے ہیں یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے یعنی کہ امت کیا معنی کر لیں امت کم أهلكنا من قبلهم من قرن بہت سی ہلاک کر چکے ہیں ہم ان سے پہلے امتیں ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کر چکے ہیں فنادوا پس وہ آوازیں دینے لگے. ندا کے کیا معنی ہوتے ہیں آواز دینے کے بھئی فنادوا پس وہ آوازیں دینے لگے یا یہ معنی کر لیں چیخنے چلانے لگے بھئی جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ کیا کرنے لگے؟ آوازیں دینے لگے چیخنے چلانے لگے بھئی. ولا حين مناص اس کی اس کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ لاتا یاد رکھیے یہ لا مشابہ بلیس ہے۔ لا مشابہ بلیس اور یہ کیا کرتا ہے لیسا کی طرح اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور خبر کو نصب دیتا ہے. اور یہ جو تا ہے یہ اس کے ساتھ زائد ہے اس کی یہ آتا ہے نفی یعنی یوں کہیں اسی کے معنی میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے یہ تا کیا ہے اسی کے معنی میں اسی کے معنی میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے مبالغہ یا جیسے مبالغہ کے لیے ہے جیسے علامۃ کے اندر جو تا ہے وہ کس لیے آتی ہے؟ مبالغہ کے لیے آتی ہے. تو یہاں تا اس کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے مبالغہ پیدا کر رہا ہے اور اس کا معنی کیا ہے لاکا نفی لا کس کے لیے آتا ہے نفی کے لیے تو یعنی یہ اسی نفی میں تاکید پیدا کر رہا ہے مبالغہ پیدا کر رہا ہے. اور حين مناص یہ ہے اس کی خبر اور اس کا اسم محذوف ہے اور وہ ہے الحین یہی حين جو ہے جو آگے ذکر ہے اسی پر الف لام داخل کر کے اس کا اسم یاد رکھیں بھئی اسی پر الف لام ہے یعنی کس طرح ہوئے گویا کلام. ولا تل حين مناص لا تلحين حين مناص اور حين کہتے ہیں وقت کو بھئی وقت کو اور مناص کا معنی ہے چھٹکارا چھٹکارا. ولا حين مناص أي لا تلحين حين مناص لا تلحين اور نہیں تھا وہ وقت حين کا معنی وقت اور الحین کا معنی متعین وقت بھئی تو وہ وقت نہیں تھا وہ وقت حين مناص چھٹکارا کا وقت وہ وقت چھٹکارا کا نہیں تھا وہ وقت چھٹکارا معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہ جملہ دراصل حال واقع ہو رہا ہے نادوا کے اندر جو جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے. कौन सी है جمع مذکر غائب کی ضمیر نادوا کے اندر بھئی؟ یہ وہ ہے شاباش بھئی یہ وہ کیا ہے جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے بھئی. جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے فنادوا ولا حين مناص پس وہ چیخنے چلانے لگے اس حال میں کہ وہ وقت چھٹکارا کا نہیں تھا. پس وہ آواز پھر وہ یہ یوں کر لیں ترجمہ پھر کے ساتھ پھر وہ آوازیں دینے لگے اور اس حال میں کہ وہ وقت چھٹکارا کا نہیں تھا. یعنی وہ ان پر عذاب ہم نے ان کو ہلاک کیا ان پر عذاب آیا اور اس وقت وہ چیخنے چلانے لگے آوازیں دینے لگے لیکن وہ وقت چھٹکارا کا نہیں تھا بھئی چھٹکارا کا وقت تو گزر چکا تھا اور اس وقت وہ انہوں نے توبہ نہیں کی تھی رجوع نہیں کیا تھا اب کہاں چھٹکارا کا وقت تھا کہ ان کو چھٹکارا مل جاتا. معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا. كم أهلكنا من قبلهم من قرن فنادوا ولا حين مناص بہت سی ان سے پہلے ہم نے بہت سی امتیں ہلاک کیں پس وہ آوازیں دینے لگے وہ چیخنے چلانے لگے حالانکہ وہ وقت چھٹکارا کا نہیں تھا. وعجبوا اور انہوں نے تعجب کیا ان جاءهم منذر منہم اس بات پر کہ آیا اے ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا انہی میں سے. وعجبوا أن جاءهم منذر منهم اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا ہے اس پر انہوں نے تعجب وہ تعجب کیا. وقال الكافرون اور کہا انکار کرنے والوں نے یا یہ ترجمہ کفر کرنے والوں نے. وقال الكافرون اور کہا انکار کرنے والوں نے هذا ساحر كذاب یہ جادوگر ہے كذاب بڑا جھوٹا. یعنی یہ بڑا جھوٹا جادوگر ہے. وقال الكافرون هذا ساحر كذاب اور کہا انکار کرنے والوں نے یہ جھوٹا جادوگر ہے. أجعل الآلهة إلها واحدا کیا بنا دیا ہے اس نے ال آلہة تمام معبودوں کو إلها واحدا ایک ہی معبود کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا ہے؟ ہمارے تو اتنے معبود ہیں اور یہ کیا کہتا ہے کہ معبود ایک ہی ہے تو یہ سارے معبودوں کو ایک ہی معبود بنانا چاہتا ہے بھئی. إن هذا لشيء عجاب یقیناً یہ البتہ بڑی عجیب چیز ہے یہ بڑی عجیب بات ہے. إن هذا عجاب مبالغے کا صیغہ ہے عجیب کے اندر بھئی عجیب تو عجاب کا کیا معنی ہوا؟ بڑا عجیب. إن هذا لشيء عجاب یقیناً یہ بڑی عجیب بات ہے. وانطلق الملأ منهم انطلق کے معنی چلنے کے وانطلق الملأ منهم اور چلے سردار ان میں سے کچھ سردار ان میں سے چلے. ملاء کسے کہتے ہیں؟ سردار. وانطلق الملأ منهم اور چلے سردار ان میں سے انمشوا واصبروا علی آلهتكم یہ کہ چلو مشاہ یمشی کے معنی قدموں پر چلنا. انیم شو کہ چلو، واصبروا اور صبر کرو یعنی جمے رہو علی الہتکم اپنے معبودوں پر۔ بھئی ابوطالب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جب بیمار ہو گئے شدید تو اس وقت ابو جہل اور مکہ کے کچھ سردار ان کے پاس ائے اور ا کر کہنے لگے کہ آپ اپنے اس بھتیجے کو سمجھائیے، یہ ہمارے معبودوں کی مخالفت کرتا ہے، اسے سمجھائیے کہ یہ ہمارے معبودوں کی مخالفت نہ کرے ہم اسے پھر کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ تو آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو ابوطالب آپ سے کہنے لگے کہ آپ ان کے بتوں کی مخالفت چھوڑ دیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اے چچا جان میں ان سے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک کلمہ تسلیم کر لیں، میری ایک بات تسلیم کر لیں اگر اس بات کو تسلیم کر لیں گے تو یہ سارے عرب کے حکمران بن جائیں گے اور سارے عجم والے ان کے ان کو جزیہ دینے لگیں گے، ان کے تابع آ جائیں گے۔ میں صرف ایک بات ان سے کہتا ہوں، تو وہ مشرکین مکہ کہنے لگے کہ بھئی ہم تو آپ کی ایسی دس باتیں، آپ ایک بات کی کر رہے ہیں، ہم دس باتیں ماننے کے لیے تیار ہیں اگر اتنا عظیم نتیجہ اس کا نکلے گا، وہ کون سی بات ہے ہمیں بتاؤ؟ کہا لا الہ الا اللہ، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، توحید پر آ جاؤ۔ تو وہ بڑے ناراض ہوئے اور اٹھ کھڑے ہوئے ان کے سردار بھئی، اس کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں، وہ وہاں سے اٹھے اور چلے اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہنے لگے چلو بھئی اور اپنے بتوں پر قائم رہو اپنے معبودوں پر قائم رہو، یہ ہمیں یہ کہتا ہے کہ سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود کی عبادت کرو، یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی اتنے معبود ہیں سب کو چھوڑ دیا جائے اور ایک معبود کو اپنا لیا جائے؟ چلو یہاں سے اور اپنے معبودوں پر جمے رہو بھئی۔ یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلے اس کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں۔ وانطلق الملأ منهم اور چلے ان میں سے جو سردار تھے یہ کہتے ہوئے کہ انیم شو یہ کہ چلو واصبروا اور جمے رہو علی الہتکم اپنے معبودوں پر ان ھذا لشیء یراڈ۔ جی اس کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں بھئی ان ھذا لشیء یراڈ یقیناً یہ جو ہے یا تو یہ اپنے ھازا کے لیے اشارہ ہے کہ یہ اپنے معبودوں پر جمے رہنا اس کی طرف اشارہ ہے جو پیچھے ذکر کیا تھا، ان ھازا یہ جو معبودوں پر جمے رہنا ہے، انہی پر قائم رہنا ہے لشیء یراڈ یہ ایک ایسی چیز ہے یراڈ جو مراد ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے۔ یعنی یہی مراد ہے، یہی مطلب کی بات ہے، یہی یہ اپنے معبودوں پر جمے رہو یہی مطلب کی بات ہے بس ان کو چھوڑنا نہیں ہے کسی صورت میں بھی بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا ان ھذا لشیء یراڈ یقیناً یہی مطلب کی بات ہے، خلاصہ کلام کیا ہے؟ مطلب کی بات کیا ہے؟ کہ اپنے معبودوں پر جمے رہو بس ان کو چھوڑنا نہیں ہے کسی صورت میں بھی بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا سب کو؟ ان ھذا لشیء یراڈ یقیناً یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے جو جو مطلب کی ہے۔ یقیناً یہی مطلب کی بات ہے اپنے معبودوں پر جمے رہو یہی مطلب کی بات ہے بس ان کو نہیں چھوڑنا کسی طرح بھی یہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہے تھے وہ۔ یا یہ معنی ان ھذا لشیء یراڈ ہازا کے لیے اشارہ ہے اس چیز کی طرف جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دے رہے تھے یعنی توحید توحید، یعنی یہ جو توحید ہے لشیء یراڈ یہ ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کر لیا گیا ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے یعنی جس کا پیغمبر نے ارادہ کر لیا ہے اب وہ معلوم ہوتا ہے، وہ کسی صورت میں اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اس سے وہ کسی صورت میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں بھئی، تو یہ جو ہے جو توحید ہے ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کر لیا گیا ہے جس کا یعنی اب وہ اس کو چھوڑنے والے نہیں ہیں توحید ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کر لیا گیا ہے یعنی پکی ہو گئی اب یہ کسی صورت میں اس کو چھوڑنے والے نہیں ہیں تو تم بھی اپنے معبودوں پر جمے رہو ان کو چھوڑو نہ بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ یا تیسرا معنی یا کم از کم دو تو ضرور یاد رکھیں، پہلے جو دو میں نے یا تو ہازا کے لیے کس کی طرف اشارہ؟ اپنے معبودوں پر جمے رہنا یہ ہے مطلب کی بات بس ان پہ جمے رہو ان کو نہیں چھوڑنا، یا کیا معنی ہازا کے لیے اشارہ کس کی طرف؟ توحید کی طرف کہ ایسی توحید ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کر لیا گیا ہے یعنی پیغمبر نے جس کا ارادہ کر لیا ہے اب وہ کبھی بھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گے، تو تم البتہ اپنی بتوں پر کیا کرو؟ اپنے معبودوں پر جمے رہو بھئی۔ جمے رہو یا تیسرا معنی ان ھذا اب بھی توحید کی طرف اشارہ ہے یقیناً یہ جو توحید ہے لشیء یہ ایک ایسی چیز ہے یراڈ جو ان کی مراد ہے، جس کا ارادہ کیا گیا ہے یعنی جو اس پیغمبر کی مراد ہے یعنی اس میں یقیناً ان کی کوئی غرض ہے کیا ہے اس میں ان کی؟ یہ جو توحید ہے یقیناً یہ اس میں یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی غرض ہے، جس میں کوئی مطلب ہے یعنی اس میں پیغمبر کی کوئی غرض ہے کوئی مقصد ہے، معلوم ہوا وہ سارے ہم سب پر حکومت کرنا چاہتا ہے اس کے ذریعے، ہم سب کو اپنا تابع بنا کر اور سب لوگوں کو اپنا تابع بنا کر کیا کرنا چاہتا ہے ان پر حکومت کرنا چاہتا ہے بھئی۔ تینوں معنی سمجھ میں آگئے؟ تو تیسرا معنی کیا ہوا؟ ان ھذا لشیء یراڈ یقیناً یہ جو توحید ہے لشیء ایک ایسی چیز ہے یراڈ جس میں کوئی غرض ہے، جس میں کوئی مطلب ہے۔ ما سمعنا بہذا فی الملت الاخرۃ ما سمعنا ہم نے نہیں سنا بہذا یہ فی الملت الاخرۃ پچھلے مذہب میں۔ ملت دین کو کہتے ہیں بھئی۔ الآخرۃ پچھلا بھئی آخر والا۔ ما سمعنا بہذا فی الملت الاخرۃ ہم نے نہیں سنا یہ یعنی یہ بات ہم نے نہیں سنی فی الملت الاخرۃ پچھلے مذہب میں پچھلے دین میں۔ کیا مراد ہے پچھلا دین؟ یا تو پچھلے دین سے مراد ہے یعنی ہم نے اپنے آباؤ اجداد کے مذہب میں یہ بات نہیں سنی کہ معبود کئی نہیں ہیں بلکہ ایک ہے۔ یا مراد یہ ہے ملت آخرہ آخری ملت آخری مذہب جو ہے اور آخری مذہب کس کا ہے؟ آسمانی کتاب اس قرآن سے پہلے آخری کتاب کون سی تھی؟ انجیل تھی یعنی عیسائی مذہب ہے تو ان سے ان ان میں بھی ہم نے یہ توحید کی بات نہیں سنی کہ ایک معبود ہے، وہ بھی تثلیث کے قائل ہیں، تین خدا مانتے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ عیسائی بھئی عیسائیوں کے عقیدے سے تو آپ واقف ہوں گے وہ کس چیز کے قائل ہیں؟ تثلیث کے قائل ہیں، تین خدا مانتے ہیں، تین خدا بھئی۔ تو یہ کہہ رہے ہیں ما سمعنا بہذا فی الملت الاخرۃ نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلی پچھلے مذہب میں ان ھذا ان ھذا الا اختلاق۔ ان نفی کے لیے، ان ھذا نہیں ہے یہ الا اختلاق اختلاق یختلق کے معنے ہوتے ہیں اپنی طرف سے کوئی بات گھڑنا۔ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑنا۔ تو اپنی طرف سے کوئی بات بنانا۔ ان ھذا الا اختلاق نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات۔ بنائی ہوئی بات۔ یعنی من گھڑت، من گھڑت بھئی۔ نہیں ہے یہ مگر من گھڑت بات، تو با محاورہ کیا ترجمہ کر لیں گے؟ ان ہے اور الا ہے نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات، اب با محاورہ کیسے ان اور الا کو ختم کریں؟ ہاں یہ تو گھڑی ہوئی بات ہی ہے۔ أنزل علیہ الذکر من بیننا کیا نازل کیا گیا اسی پر ذکر کو من بیننا ہمارے بیچ؟ کیا ہمارے درمیان اسی پر ذکر کو نازل کیا گیا؟ ذکر سے مراد ہے یا تو اسی طرح معنی کر لیں ذکر نصیحت کو کہتے ہیں، کسے کہتے ہیں؟ یا ذکر سے مراد ہے یہاں قرآن بھئی۔ ذكر سے کیا مراد ہے؟ قرآن۔ أنزل علیہ الذکر من بیننا کیا اسی پر قرآن نازل کیا گیا ہمارے درمیان؟ ہم سب میں کیا ہم سب میں سے اسی پر قرآن کو نازل کیا گیا کہ اللہ تعالی کو اور کوئی مالدار اور بڑا آدمی نہیں ملا، اسی پر اللہ نے قرآن کو نازل کر دیا ہمارے درمیان میں؟ اس میں ایسی کون سی خوبصورتی ہے کہ اس پر اللہ نے قرآن کو نازل کیا بھئی؟ تو ساری تکبر والی باتیں تھیں ان کی بھئی۔ أنزل علیہ الذکر من بیننا کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر ذکر قرآن کو نازل کیا گیا، ہم سب کے درمیان اسی پر قرآن کو نازل کیا گیا، بل ھم فی شک من ذکری آگے اللہ فرماتے ہیں بل ھم فی شک من ذکری بلکہ یہ لوگ فی شک شک میں ہیں من ذکری میرے قرآن سے یا میرے ذکر سے یعنی وحی سے بھئی۔ بلکہ یہ لوگ شک میں ہیں من ذکری میرے میرے قرآن سے، یعنی میرے قرآن کے بل ھم فی شک من ذکری بلکہ یہ لوگ ذکر کا معنی پھر وحی کے بھی کر لیں یہاں وہ بھی صحیح ہے، ذکر کے بعض نے قرآن معنی کیا وہ بھی صحیح ہے، یا میری نصیحت کر لیں وہ معنی بھی صحیح ہے بھئی، جو آپ کو بہتر لگے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تینوں معنی مفسرین بیان کرتے ہیں، بل ھم فی شک من ذکری بلکہ وہ لوگ میری وحی کے بارے میں شک میں ہیں۔ بل لما یذوق العذاب بلکہ لما ابھی تک لما نفی اور نفی بھی حال تک یعنی زمانہ ماضی میں ایک چیز کی نفی کرتا ہے، لیکن اس طریقے پر کہ اس میں مستقبل میں اس کے ہونے کی امید ہوتی ہے۔ مستقبل میں اس کے ہونے کی امید ہوتی ہے، توقع ہوتی ہے۔ توقع ہوتی ہے۔ مثلا دیکھیے میں آپ سے کہتا ہوں لم یجئ زید۔ کیا معنی ہوگا؟ زید نہیں آیا۔ اور زید سے آنے کی نفی ہوئی کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں، زید نہیں آیا۔ اور اگر میں کہوں لما یجئ زید۔ تو اب جی؟ یہ بھی زمانہ ماضی میں نفی ہے، لیکن مستقبل میں امید ہے، تو کیا ترجمہ ہوگا؟ زید ابھی تک نہیں آیا، دیکھو! منا گئے یعنی معلوم ہو مستقبل میں اس کے آنے کا امکان ہے، توقع ہے، زید ابھی تک نہیں آیا۔ تو یہاں بھی اسی طرح بل لما یذوق عذاب بلکہ ابھی تک چکھا نہیں عذاب، ای عذاب بی بھئی باقی نیچے کسرہ ہے بھئی یہاں یا حذف ہوئی ہے۔ بلکہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا، بلکہ ابھی انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ عذاب بی تھا بھئی۔ یا کو حذف کر لیا گیا اور با کا کسرہ اس یا محذوفہ پر دلالت کر رہا ہے۔ بل لما یذوق عذاب بلکہ ابھی انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا۔ أأنزل علیہ الذکر من بیننا کیا ہم سب کے بیچ میں سے اسی پر قرآن کو نازل کیا گیا ہے؟ بل ھم فی شک من ذکری بلکہ یہ لوگ میری وحی کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بل لما یذوق عذاب بلکہ ابھی انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا۔ أم عندھم خزائن رحمت ربک العزیز الوہاب کیا ان کے پاس ہیں خزائن رحمت ربک آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے العزیز جو زبردست ہے، الوھاب جو بخشنے والا ہے، عطا کرنے والا ہے۔ جو عطا کرنے والا ہے، جو خوب عطا کرنے والا ہے بھئی مبالغے کا صیغہ ہے وہاب۔ أم عندھم خزائن رحمت ربک العزیز الوھاب کیا ان کے پاس ہیں آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے جو زبردست ہے، خوب بخشنے والا ہے، خوب عطا کرنے والا ہے۔ یعنی اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ کس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں؟ کہتے ہیں کیا ہمارے درمیان محمد ہی اللہ کو ملا تھا، اس پر قرآن کو نازل کیا؟ کیا کوئی اور بڑا سردار مالدار اللہ کو نظر نہیں آیا کہ اس پر اللہ نازل فرماتے؟ اللہ فرما رہے ہیں کیا اے محمد! کیا آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانوں کے یہ مالک ہیں جو یہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ جہاں یہ پسند کریں وہاں اللہ نبوت عطا فرمائے، جہاں پسند نہ کریں وہاں اللہ نبوت کو عطا نہ فرمائے بھئی؟ کیا یہ رحمت کے خزانوں کے مالک ہیں بھئی؟ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ یعنی یہ تو گویا یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سارے خزانوں کے مالک ہیں، جہاں یہ چاہیں گے وہاں نبوت ملنی چاہیے کسی بڑے کسی سردار کو جہاں یہ چاہتے ہیں اور کسی کو نہیں ملنی چاہیے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ أم عندھم خزائن رحمت ربک العزیز الوھاب اب دیکھیے یہ العزیز الوھاب یہ دونوں صفت ہیں ربک کی۔ تو اسی کے ساتھ ترجمے میں جوڑ دیں بے شک بھئی اور زیادہ بہتر ترجمہ ہو جائے گا بامحاورہ۔ أم عندھم خزائن رحمت ربک العزیز الوھاب کیا آپ کا وہ پروردگار جو زبردست ہے، خوب عطا کرنے والا ہے اس کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں؟ کیا آپ کا وہ پروردگار جو زبردست ہے، خوب عطا کرنے والا ہے اس کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں؟ أم لھم ملک السماوات والارض وما بینھما کیا ان کے لیے ہے ملک السماوات والارض بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی وما بینھما اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ أم لھم ملک السماوات والارض وما بینھما کیا ان کے لیے ہے بادشاہی آسمان اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، فلیرتقوا فی الاسباب پس چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں، ارتقا یرتقی کے معنی چڑھنے کے بھئی۔ فلیرتقوا پس چاہیے کہ یہ اوپر چڑھ جائیں فی الاسباب۔ اسباب بھئی۔ اسباب جمع ہے سبب کی۔ اور سبب کہتے ہیں رسی کو، رسی کو۔ پس چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں رسیوں میں۔ چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں رسیوں میں۔ یعنی یہ ہر چیز اگر ان کے اختیار میں ہے، زمین اور آسمان کی بادشاہی ان کے لیے ہے تو پھر یہ ذرا دکھائیں اپنی طاقت تو دکھائیں آسمانوں پر رسیاں ڈال کر کیا کریں؟ چڑھ جائیں بھئی، ان رسیوں میں یہ چڑھ جائیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے فلیرتقوا فی الاسباب، تو اسباب کا کیا معنی رسیاں؟ تو چنانچہ۔ یہ رسیاں ڈال کر یہ چڑھ جائیں، یہ معنی کر لیں بھئی۔ پس چاہیے کہ یہ رسیاں ڈال کر چڑھ لیں یا رسیاں تان کر چڑھ لیں۔ چنانچہ یہ بعض مفسر ہمارے علما نے کیا ترجمہ کیا اس کا؟ پس چاہیے کہ یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں یعنی رسیاں ڈال کر چڑھ جائے بھئی۔ اور بعضوں نے اسباب کا معنی بیان کیا بڑے مفسرین نے کہ اسباب سے مراد ہیں آسمانوں کے دروازے بھئی۔ اسباب سے کیا مراد ہیں؟ آسمانوں کے دروازے پس چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں آسمانوں کے دروازوں میں۔ اگر ان کے پاس زمین و آسمان کی بادشاہی ہے اور ان کے پاس اللہ آپ کی رحمت پروردگار کی رحمت کے تمام خزانوں کے یہ مالک ہیں تو پھر ذرا چڑھ کر آسمان پر چڑھ جائیں، چڑھ کر دکھائیں یہ بھئی۔ ذرا اپنی قوت دکھائیں بھئی، پتہ لگے ان کا۔ کہ یہ ہر چیز کو اپنے اختیار کے مطابق چاہتے ہیں، جس طرح ان کو پسند ہو۔ تو اسباب کے تین معنی میں نے بیان دو معنی بھئی، تیسرا معنی سیڑھیوں کے بھی کیا بعض مفسرین نے بھئی، فلیرتقوا فی الاسباب، پس چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں سیڑھیوں میں بھئی یعنی آسمان پہ سیڑھی لگا کر چڑھ جائیں۔ جند ما ھنالك جند ما ھنالك مھزوم من الاحزاب۔ بھئی یہ بھی اچھی طرح سمجھ لیں، جند، جند کہتے ہیں لشکر کو۔ اور یہ خبر ہے، مبتدا محذوف ہے۔ ھم جند، ھم کیا ہے یہاں پر؟ مبتدا محذوف ہے۔ یہ جو ہیں، لشکر ہیں۔ اور جند کے اندر جو تنوین ہے بھئی۔ تنوین کبھی تعظیم کے لیے آتی ہے، کبھی تقلیل اور تحقیر وغیرہ کے لیے، تو مختلف معانی کے لیے یہ تنوین کلام عرب میں استعمال ہوتی ہے۔ تو یہاں پر جو تنوین ہے، یہ تقلیل کے لیے ہے۔ تقلیل کے لیے، یعنی چھوٹا سا لشکر۔ جند کا کیا معنی ہوگا پھر؟ چھوٹا، تقلیل کے لیے ہے، قلت بتلانے کے لیے۔ اور یہ ما جو ہے، یہ زائد ہے۔ اور یہ اسی جند کی جو تقلیل ہے۔ اس میں تاکید پیدا کر رہا ہے بھئی۔ کیا پیدا کر رہا ہے؟ تاکید۔ یہ یوں کہو اس میں تقلیل پہلے سے تھی، یہ اسی تقلیل کو کیا کر رہا ہے؟ پکا کر رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کیا کر رہا ہے؟ اسی تقلیل کی تاکید ہے۔ اور آگے کیا ہے؟ ھنالک، ھنالک کے معنی ہیں وہاں بھئی، وہاں۔ یہ ظرف ہے بھئی، ظرف۔ اور یہ ظرف ہے محذوم کے لیے، محذوم کا معنی ہے شکست دیا ہوا، شکست خوردہ۔ شکست خوردہ، کہاں پر؟ ھنالک وہاں پر۔ وہاں پر۔ اور ھنالک کے لیے اشارہ ہے مکہ کی طرف۔ شکست خوردہ وہاں پر یعنی کہاں پر؟ مکہ میں۔ اور تو یہ ھنالک کے اندر عامل کون ہوا؟ محذوم، بھئی آپ پڑھ چکے ہیں نحو کے اندر، جیسے فعل عمل کرتا ہے اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے، اپنے مفعول کو نصب دیتا ہے، ظرف وغیرہ مفعول فیہ کو بھی کیا کرتا ہے؟ نصب دیتا ہے۔ اسی طرح یہ صفت کے صیغے جو ہیں اس میں فاعل، اس میں مفعول وغیرہ بھی اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ تو یہ محذوم اس میں مفعول آیا، اور یہ بھی اسی طرح عمل کرے گا بھئی، تو ھنالک اس کے لیے کیا بنا؟ ظرف، اس کو نصب دے رہا ہے۔ اور یہ صفت ہے جند کی، محذوم خود کیا ہے؟ صفت ہے کس کی؟ جند کی۔ تو اب سر جمع سنیے بھئی، تو کیا کلام کس طرح ہوا؟ ھوا جندما، یہ ایک چھوٹا سا لشکر ہے، یہ لوگ کیا ہیں؟ ایک چھوٹا سا مھزوم ھنالک۔ ھنالک کو ذرا موخر کریں بھئی معنی تاکہ آپ کو سمجھ میں آجائے، مھزوم ھنالک، شکست دیے گئے ہیں، شکست خوردہ ہیں۔ کہاں پر؟ وہاں پر یعنی مکہ میں۔ من الاحزاب گروہوں میں سے۔ حزب کسے کہتے ہیں؟ گروہ کو، جماعت کو۔ اچھا، اب بامحاورہ کس طرح ترجمہ کریں گے؟ جند ما ھنالک مھزوم من الاحزاب، یہ جو ہیں۔ یہ گروہوں میں سے، جماعتوں میں سے۔ ایک چھوٹا سا ایک چھوٹا سا ایسا لشکر ہے جو وہاں پر شکست دیے جائیں گے۔ جو وہاں پر شکست دیے، جو وہاں پر شکست خوردہ ہیں، شکست خوردہ ہوں گے یعنی بھئی، بھئی دراصل اس آیت میں اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف بھئی۔ فتح مکہ میں جب یہ ان لوگوں کو وہاں پر کیا ہوئی مکہ والوں کو؟ شکست ہوئی، اور پورا مکہ اللہ نے مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا، تو یہ اس کی طرف اشارہ ہے، پہلے ہی سے اس کی خوشخبری دے دی گئی۔ اور یہ جو لشکر ہیں یہ چھوٹے سے لشکر ہیں یہ مکہ والے جن کو وہاں پر پھر شکست ہوئی بھئی، تو جند ما ھنالک مھزوم من الاحزاب، یہ جو ہیں گرو جماعتوں میں سے ایک ایسا چھوٹا سا لشکر ہے جو وہاں پر شکست کھائیں گے۔ جو وہاں پر تو یہ جماعتوں میں سے ایک چھوٹا سا لشکر ہے جو وہاں پر شکست خوردہ ہوں گے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو پہلے سے ہی خبر دے دی گئی۔ تو یہ ایک چھوٹا سا لشکر ہے جو وہاں پر شکست خوردہ ہوں گے من الاحزاب جماعتوں میں سے۔ تو یہ جماعتوں میں سے ایک چھوٹا سا لشکر ہے جو وہاں پر شکست خوردہ ہوں گے۔ چلیے بس بھئی ھذا والمارام واللہ اعلم بحقیقت الکلام
88 approved lectures · 64 of 88