اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فاستفتہم اہم اشد خلقا ام من خلقنا انا خلقناھم من طین لازب بل عجبت ویستھزئون واذا ذکروا لا یذکرون
فاستفتہم پس ان سے پوچھیے پس اے پیغمبر ان سے پوچھیے اہم اشد خلقا کیا یہ زیادہ سخت ہیں بہ اعتبار پیدا کرنے کے ام من خلقنا یا وہ جن کو ہم نے پیدا کیا
فاستفتہم پس آپ ان سے پوچھیے اہم اشد خلقا ام من خلقنا کہ کیا یہ زیادہ سخت ہیں بہ اعتبار پیدا کرنے کے یا وہ جن کو ہم نے پیدا کیا
بھئی یہ کفار مشرکین مکہ وغیرہ یہ دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جب بالکل ریزہ ریزہ ہو گیا مٹی ہو گیا تو پھر وہ کیسے اس کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے بھئی جب اس کا سارا جسم گل گیا مٹی ہو گیا حتی کہ اس کی ہڈیوں کی یہ حالت ہو گئی کہ ہڈیوں کو بھی ہاتھ لگایا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں تو اس کو کیسے زندہ کیا جائے گا دوبارہ
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر آپ ان سے ذرا پوچھیے کہ یہ زیادہ سخت ہیں بہ اعتبار پیدا کرنے کے یعنی کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا جن چیزوں کو اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں
جن کا پیچھے ذکر گزر چکا بھئی آسمان پیدا کیے اللہ نے زمینیں پیدا کیں اللہ تعالی نے ستارے پیدا کیے بھئی کتنے بڑے بڑے دیو ہیکل ستارے ہیں جن کے سامنے زمین ایک ذرے کی مانند ہے بھئی ایک ذرے اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں زمین سے لاکھوں گناہ ایک ایک ستارہ بڑا ہے بھئی لاکھوں گناہ
اور فرشتے پیدا کیے وغیرہ تو کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے یا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے یہ تو ان کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تو ہمارے لیے کیا مشکل ہے ان کو دوبارہ پیدا کرنا
یہ کس بنا پر کہتے ہیں کہ ان کا یہ دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے معنی سمجھ میں آگیا
فاستفتہم اہم اشد خلقا ام من خلقنا پس آپ ان سے پوچھیے کیا یہ زیادہ سخت ہیں بہ اعتبار پیدا کرنے کے یا جو وہ جن کو ہم نے پیدا کیا من خلقنا من آتا ہے ذو العقول کے لیے ذو العقول تین ہیں بھئی انسان جنات اور فرشتے
اور باقی چیزیں جو مخلوقات ہیں وہ سب وہ غیر ذو العقول ہیں اور اس کے لیے لفظ ما استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں تغلیب ہے بھئی یعنی من کے لفظ کو سب پر بول دیا گیا بھئی یعنی ذو العقول کو غیر ذو العقول پر غلبہ دے دیا گیا مراد سب ہیں سب اس کے اندر داخل ہیں جیسے بھئی
پہلے بھی مثال گزر چکی ایک سورج ہے اور ایک چاند لیکن دونوں کو کیا کہہ دیتے ہیں قمرین کہہ دیتے ہیں تو گویا قمر کے لفظ کو قمر کو غلبہ دے دیا گیا سورج پر اور ایک اس کو بھی کیا قرار دے دیا گیا قمر ہی قرار دے دیا گیا اور قمرین کہہ دیتے ہیں حالانکہ قمر تو ایک ہے دوسرا تو سورج ہے لیکن یہاں بھی کیا کیا گیا غلبہ دیا گیا
تو ایک ہی لفظ ان دونوں پر بول دیا گیا تو یہاں بھی اسی طرح کچھ تو ذو العقول ہیں کچھ غیر ذو العقول ہیں ذو العقول کے لیے من آتا ہے غیر ذو العقول کے لیے ما آتا ہے لیکن یہاں ذو العقول کو غلبہ دے دیا گیا اور ان کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا تھا وہی ان سب پر بول دیا گیا تو اس میں ذو العقول بھی داخل اور غیر ذو العقول بھی داخل
انا خلقناھم من طین لازب یقینا ہم نے پیدا کیا ان کو من طین لازب طین کہتے ہیں گارے کو بھئی پانی اور مٹی کو ملا کر جو مصالحہ بنایا جاتا ہے اسے گارہ کہتے ہیں بھئی تو گارے سے لازب کا معنی چپکنے والی بھئی چمٹنے والی لیس دار بھئی
اللہ کیا فرما رہے ہیں انا خلقناھم من طین لازب یقینا ہم نے ان کو پیدا کیا چپکنے والی مٹی سے چپکنے والے گارے سے انسان کو کس سے پیدا کیا گیا ہے چپکنے والے گارے سے بھئی
حضرت آدم علیہ السلام کو کس سے بنایا گیا زمین سے مٹی لائی گئی پانی ملا کر خمیر بنایا گیا اور پھر اس سے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا گیا اور اس میں اللہ نے پھر روح پھونک دی تو انسان بن گیا بھئی
اس طرح انسان کی پیدائش کی ابتدا ہوئی بھئی
معنی سمجھ میں آگیا بھئی انا خلقناھم من تو تین لازب کا کیا معنی چپکنے والی مٹی بھئی چپکنے والا گارہ بھئی
انا خلقناھم من طین لازب یقینا ہم نے پیدا کیا ان کو چپکنے والے گارے سے بل عجبت ویسخرون بلکہ آپ تعجب کرتے ہیں ویسخرون اور یہ مذاق اڑاتے ہیں یہ ہنسی اڑاتے ہیں
بل عجبت بلکہ اے پیغمبر آپ تو تعجب کرتے ہیں ان کفار کی حالت پر بھئی ان کفار کی حالت پر آپ تعجب کرتے ہیں کہ یہ لوگ کس قدر سرکشی کر رہے ہیں اللہ کی بات کو مانتے ہی نہیں توحید کی طرف آتے ہی نہیں شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں کتنا ان میں کتنے ان میں سرکشی ہے کتنے ان کے اندر تعصب ہے کتنا ان کے اندر تکبر ہے تو آپ تو ان پر
یارحمک اللہ تو آپ تو ان پر تعجب کرتے ہیں ویسخرون اور یہ کیا کرتے ہیں ہنسی اڑاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں ان کے سامنے جو بھی آیتیں ذکر کی جائیں جو یا جو بھی معجزہ وغیرہ بھی دیکھتے ہیں جو آیتیں بھی سنتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں ان کا
بل عجبت ویسخرون بلکہ آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ مذاق اڑاتے ہیں واذا ذکروا لا یذکرون اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے لا یذکرون تو نصیحت قبول نہیں کرتے
واذا ذکروا لا یذکرون اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے لا یذکرون تو نصیحت قبول نہیں کرتے واذا راو آیة یستسخرون واذا راو آیة یستسخرون اور جب یہ دیکھتے ہیں کوئی نشانی یستسخرون تو ہنسی اڑاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں
تو یسخرون اور یستسخرون کا ایک معنی ہے بھئی ہنسی اڑانا
ہنسی اڑانا یا
کثرت الفاظ کثرت حروف دلالت کرتے ہیں کثرت معنی پر تو یسخرون کے حروف کم ہیں تو اس کا معنی بے شک آپ چاہیں تو یہ کر لیں مذاق اڑاتے ہیں اور یستسخرون اس کے حروف زیادہ ہیں تو اس کا معنی یوں کر لیں کہ خوب مذاق اڑاتے ہیں
خوب مذاق اڑاتے ہیں واذا راو آیة یستسخرون اور جب یہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں خوب مذاق اڑاتے ہیں
نشانی بھئی یعنی کوئی کوئی معجزہ وغیرہ دیکھ لیں تو بجائے اس کے کہ حق کی طرف آ جائیں یہ اس کا اور زیادہ مذاق اڑانے لگتے ہیں
وقالوا اور یہ کہتے ہیں ان ھذا الا سحر مبین نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو
کہ یہ نہیں ہے مگر کھلا جادو
یہ قرآن کے کی تاثیر جب دیکھتے ہیں یہ دلوں کی کایا کس طرح پلٹ دیتا ہے تو وہ اس کو کھلا جادو کہتے ہیں کہ یہ کھلا جادو ہے
یہ ہی جو نشانیاں دیکھتے ہیں تو اس کو کیا کہتے ہیں کھلا جادو کہتے ہیں
وقالوا ان ھا ان فی کے لیے ان ھذا نہیں ہے یہ الا سحر مبین مگر کھلا جادو واضح جادو
یہ تو نفی اور اثبات کے الا کے ساتھ ہم نے ترجمہ کیا بھئی بامحاورہ کیا ترجمہ کریں گے
ہاں وہ اور وقالوا اور یہ کہتے ہیں یہ تو کھلا جادو ہی ہے اذا متنا کیا جب ہم مر جائیں گے وکنّا ترابا اور ہم مٹی ہو جائیں گے تراب مٹی بھئی وکنّا ترابا اور ہم مٹی ہو جائیں گے وعظاما اور ہڈیاں ہو جائیں گے عظام جمع ہے عظم کی ہڈی کو ہڈی کو کہتے ہیں عظم بھئی
اذا متنا وکنّا ترابا وعظاما کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے انا لمبعوثون کیا واقعی ہم
پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے
بعث کا معنی دوبارہ زندہ کر کرنا بھئی
تو موت کے بعد جو دوبارہ زندگی ملے گی اس کو کیا کہا جاتا ہے بعث کہا جاتا ہے بھئی دوبارہ زندہ کرنا دوبارہ اٹھانا
انا لمبعوثون
کیا اور ان کس لیے آتا ہے ان یقین کا فائدہ دیتا ہے بھئی کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے انا کیا واقعی ہم دوبارہ الا مبعوثون البتہ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے
اذا متنا وکنّا ترابا وعظاما انا لمبعوثون کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے کیا واقعی ہم البتہ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے واباؤنا الاولون اور کیا ہمارے
پہلے باپ دادا بھی
اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی ان کو بھی زندہ کیا جائے گا ان کو تو مرے ہوئے عرصہ گزر گیا ان کے تو جسم بھی ختم ہو گئے ان کی تو ہڈیاں بھی ختم ہو گئیں کیا ان کو بھی پھر زندہ کیا جائے گا
معنی سمجھ میں آگیا بھئی اباؤنا الاولون اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا کو
یعنی پچھلے باپ دادا کو جو گزر چکے
انا لمبعوثون کیا واقع البتہ ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اباؤنا الاولون اور کیا ہمارے پچھلے باپ دادا بھی قل نعم آپ فرما دیجیے ہاں
کہ تم بھی زندہ کیے جاؤ گے اور تمہارے باپ دادا بھی دوبارہ زندہ کیے جائیں گے وانتم داخِرون اور تم ذلیل ہو گے
دخرایڈخر کے معنی ذلیل ہونا بھئی
وانتم جی قل نعم آپ فرما دیجیے ہاں وانتم داخِرون اور تم ذلیل ہو گے یعنی اس وقت تم ذلت کی حالت میں ہوگے دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور ذلت کی حالت میں ہوگے
فانما ھي زجرۃ واحدة فاذا ھم ینظرون
فانما
انما حصر کے لیے آتا ہے ہیہ ہیہ ضمیر راجع ہے بعثت کو بھئی بعثت
بعث یبعث بعثا وبعثتا بھئی دو مصدر آتے ہیں بعثا بھی اور بعثتا بھی بھئی گول تا کے ساتھ بعثتا تو پیچھے ابھی بعثت کا ذکر ہوا تھا بھئی لمبعوثون فعل آگیا تو فعل کے ضمن میں کون آ جاتا ہے مصدر بھی آ جاتا ہے بھئی مصدر پر بھی وہ دلالت کرتا ہے
فانما ھي زجرۃ واحدة زجرہ کہتے ہیں ڈانٹ کو بھئی
تو فانما ھي زجرۃ واحدة وہ بعثت جو ہے وہ ایک وہ تو ایک ڈانٹ ہی ہے
وہ اٹھانا تو کیا ہے وہ اٹھانا تو ایک ڈانٹ ہی ہے
یعنی ایک ڈانٹ ہوگی اور بس اٹھ جائیں گے سارے بھئی مراد ہے صور میں دوسری مرتبہ پھونکا جانا بھئی نفخہ ثانیہ مراد ہے
نفخہ اولی پر تو سب مر جائیں گے اور نفخہ ثانیہ پر سب دوبارہ زندہ ہو جائیں گے تو اللہ فرما رہے ہیں فانما ھي زجرۃ واحدة
وہ دوبارہ زندہ کرنا وہ تو ایک ڈانٹ ہی ہے
یعنی کیا مراد ہے ڈانٹ نفخہ ثانیہ مراد ہے کہ بس وہ نفخہ ثانیہ ہوگا اور ساتھ ہی سب اٹھ جائیں گے فاذا ھم ینظرون پس اچانک یہ ینظرون دیکھنے لگیں گے
پس اچانک یہ دیکھنے لگیں گے
یعنی فورا یہ فورا اذا مفاجاتیہ ہے نا اس کا معنی پھر کس سے کر لیں گے فورا
فاذا ھم ینظرون پس فورا یہ دیکھنے لگیں گے یعنی سارا کچھ ان کو دکھائی دینے لگے گا جس طرح زندہ انسان دیکھتے ہیں وہ تمام ہولناک مناظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے ان کو دکھائی دے رہے ہوں گے
فانما ھي زجرۃ واحدة فاذا ھم ینظرون وہ اٹھانا تو ایک ہاں جی ایک ڈانٹ یعنی ایک جھڑک ہی ہے وہ اٹھانا تو کیا ہے وہ اٹھانا تو ایک جھڑک ہی ہے پس فورا یہ دیکھنے لگیں گے وقالوا اور کہیں گے یا ویلنا ہائے ہماری ہلاکت ھذا یوم الدین یہ تو وہی بدلے کا دن ہے دین جزا بھئی بدلہ
وقالوا یا ویلنا ھذا یوم الدین اور وہ کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت یہ تو وہی بدلے کا دن ہے یہ تو وہی جزا کا دن ہے
ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون تو یہ ان کو جواب دیا جائے گا فرشتے کہیں گے یا مومنین کہیں گے ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون
یہ وہی فیصلے کا دن ہے الذی کنتم بہ تکذبون جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
یوم الفصل فیصلے کا دن
الذی یہ صفت ہے یوم الفصل کی بھئی
ھذا یوم الفصل یہ وہی فیصلے کا دن ہے الذی کنتم بہ تکذبون جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
یہ ان کو جواب دیا جائے گا کہ ہاں یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کی تم جھٹلاتے تھے جسے تم مانتے ہی نہیں تھے احشروا الذین ظلموا وازواجھم وما كانوا یعبدون اور پھر اللہ کی طرف سے حکم ہوگا احشروا الذین فرشتوں کو حکم دیا جائے گا
حشر یحشر کے معنی ہوتے ہیں جمع کرنے کے احشروا تم جمع کرو الذین ان لوگوں کو ظلموا جنہوں نے ظلم کیا وازواجھم
ای اشباحھم
ازواج یہاں کس معنی میں ہے اشباح ان جیسوں کو ان کے جو مثل ہیں
احشروا الذین ظلموا جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا وازواجھم اور ان جیسوں کو وما كانوا یعبدون اور وہ ان کو جن کی یہ عبادت کرتے تھے یعنی یہ
عابدین کو بھی جمع کرو اور معبودوں کو بھی جمع کرو سب کو اکٹھا کر کے لے آؤ
تو ازواج کا کیا معنی کیا ان جیسے بھئی جو ان کے مثل ہیں
یا ازواج کا چاہے وہی معنی کر لیں وہ بھی بعض مفسرین نے بیان کیا لیکن اکثر یہی معنی بیان کرتے ہیں کہ ان جیسے بھئی اس
کے جو لوگ ہیں، ایک قسم کے مجرموں کو سب کو اکٹھا کیا جائے گا شرک کرنے والوں کو شرک کرنے والوں کے ساتھ، زنا کرنے والوں کو زنا کرنے والوں کے ساتھ، شراب پینے والوں کو شراب پینے والوں کے ساتھ وغیرہ بھئی.
یا ازواج کا وہی معنی کر لیں بھئی ان کی بیویوں کو جنہوں نے ظلم کیا ان کو اور ان کی بیویوں کو جمع کرو یعنی وہ مشرک بیویاں مراد ہیں ان کی بھئی.
احشروا الذین ظلموا وازواجهم وما كانوا يعبدون جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کی اور ان جیسوں کو اور وہ ان کو جن کی عبادت کیا کرتے تھے من دون اللہ اللہ کے علاوہ یعنی اللہ کو چھوڑ کر اور وہ جن کی عبادت کرتے تھے من دون اللہ اللہ کو چھوڑ کر ان تمام معبودوں کو جمع کرو جن کے جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے.
فاھد وھم پس تم ان کو راستہ دکھاؤ فرشتوں کو حکم ہوگا راستہ دکھاؤ الی صراط الجحیم جحیم جہنم بھئی الی صراط الجحیم جہنم کے راستے کی طرف.
فاھد وھم الی صراط الجحیم ھدا یھدی ھدا یھدی کے کیا معنی؟ راستہ دکھانا راستہ دکھانا ھدا یھدی فاھد وھم پس ان کو راستہ دکھاؤ الی صراط الجحیم جہنم کا راستہ فاھد وھم الی صراط الجحیم پس ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کی اور ان جیسوں کو اور وہ جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پس ان کو راستہ دکھاؤ جہنم کا وقفوھم اور ان کو ٹھہراؤ ذرا اور ان کو روکو ان کو ٹھہراؤ وا الگ ہے وا عطف کے لیے ہے اور قفوھم یہ امر ہے امر بھئی وقفا یقفو سے قف امر اتا ہے قف تو یہ جمع کا صیغہ ہے قف قفا قفو وقفوھم اور ان کو ٹھہراؤ انھم مسئولون یقیناً ان سے پوچھا جائے گا ان سے سوال کیا جائے گا تو اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ فرشت اللہ فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان لوگوں کو اور ان کے معبودوں کو جمع کرو جن کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے پھر ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ اور ٹھہراؤ ذرا یہ ان کو ان سے پوچھا جائے گا ان سے پوچھا جائے گا مسئولون سوال کیے گئے جن سے کیا گیا ہو؟ سوال یعنی ان سے پوچھا جائے گا انھم مسئولون یقیناً یہ یہ ان سے پوچھا جائے گا ما لكم لا تناصرون نصر ینصرو کے معنی ہوتے ہیں مدد کرنا اور تناصر یہ باب تفاعل ہے باب تفاعل تو اصل میں تھا یہ تناصرونا تناصرونا اور آپ نے پڑھا ہے کہ باب تفاعل وغیرہ کے شروع میں جس باپ کے شروع میں دو تا مفتوح اکٹھی ہو جائیں دو تا آ جائیں مضارع کے صیغے میں اور دونوں تا کیا ہوں؟ مفتوح ہوں یعنی ان پر زبر ہو تو پھر ایک تا کو حذف کرنا جائز ہے بھئی تو اصل میں یہ کیا تھا تناصرونا ایک تا کو حذف کر لیا گیا تو نصر کے معنی ہوتے ہیں مدد کرنے کے اور یہ باب تفاعل ہے اور باب تفاعل جو ہے وہ جان اس میں جانبیں سے فعل ہوتا ہے تو تناصر کا کیا معنی؟ ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اور دوسرا پہلے کی مدد کرتا ہے یہ ہے معنی تناصر کے یعنی باہم ایک دوسرے کی مدد کرنا باہم ایک دوسرے کی مدد کرنا تو اللہ فرمائیں گے ٹھہراؤ ان کو ان سے پوچھا جائے گا اور پھر انہیں کہا جائے گا ما لكم تمہیں کیا ہوا لا تناصرونا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے؟ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے؟ ما لكم لا تناصرونا کیا ہوا تمہیں لا تناصرونا ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے بل ھم الیوم مستسلمون بلکہ وہ اس روز مستسلمون فرماں بردار ہوں گے استسلم کے معنی فرماں برداری کرنا بھئی بل ھم الیوم بلکہ وہ اس بل ھم الیوم بلکہ وہ اس روز فرماں بردار ہوں گے سر جھکائے ہوئے ہوں گے یا الیوم کا وہی معنی کر لیں آج کا بھئی پہلے تو میں نے کیا معنی الیوم کا کیا؟ اس روز اور چاہیں تو آج کر لیں بل ھم الیوم مستسلمون بلکہ یہ آج فرماں بردار ہیں بلکہ یہ آج فرماں بردار ہیں واقبل بعضهم علی بعض یتساءلون اقبل کے معنی متوجہ ہونا رخ کرنا ایک طرف یتساءلون تساءل بی بی وہی باب تفاعل آ گیا ایک دوسرے سے کیا کریں گے؟ سوال کریں گے یعنی سوال و جواب کریں گے واقبل بعضهم علی بعض اور متوجہ ہوں گے ان میں سے بعض بعض پر کیا بامحاورہ ترجمہ کریں گے؟ ایک شاباش اور متوجہ ہوں گے ایک دوسرے کی طرف یتساءلون باہم سوال جواب کریں گے باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے اقبل کا کیا معنی؟ متوجہ ہونا رخ کرنا اس کی کسی کے واقبل بعضهم علی بعض یتساءلون اور متوجہ ہوں گے ایک دوسرے کی طرف یتساءلون سوال جواب پوچھیں گے سوال جواب کریں گے ایک دوسرے سے سوال جواب کریں گے قالوا یہ اب وہ جو کچھ کفار میں مشرکین میں کچھ جو کمزور ہوتے ہیں تابع اور کچھ جو سردار ہیں متبوع بھئی تو جن کا اتباع کیا جاتا ہے جن کی بات پھر مانی جاتی ہے تو جو تابع اور جو کمزور ہوں گے وہ بڑوں سے یہ بات کہیں گے جس کا آگے ذکر آ رہا ہے قالوا وہ کہیں گے انکم كنتم تأتوننا یقیناً تم كنتم تأتوننا تم آتے تھے ہمارے پاس عن الیَمین دائیں طرف سے قالوا وہ کمزور کہیں گے انکم كنتم تأتوننا عن الیمین کہ بے شک تم ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے کیا معنی بھئی دائیں طرف سے آنا؟ بھئی دائیں ہاتھ میں جیسے قوت زیادہ ہوتی ہے طاقت زیادہ ہوتی ہے تو مراد یہ ہے دائیں طرف سے آنا یعنی بڑے زور سے بڑھ چڑھ کر تم آتے تھے ہمارے پاس ہمیں مرعوب کرتے ہوئے آتے تھے معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ قالوا انکم كنتم تأتوننا عن الیمین وہ کہیں گے بے شک تم ہمارے پاس دائیں طرف دائیں طرف سے آتے تھے جی یہ ترجمہ یا دوسرا ترجمہ کر لیں کہ میں نے جو مرادی معنی بتلا دیا کیا مراد ہے؟ قوت کے ساتھ زور کے ساتھ انکم كنتم تأتوننا عن الیمین بے شک تم ہمارے پاس بڑے زور سے آتے تھے بڑھ چڑھ کر آتے تھے بلکہ اور بعضوں نے کہا یمین اس یمین ہی کے معنی میں قسم کو بھی یمین کہتے ہیں بھئی ہمارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے تھے قسمیں کھاتے ہوئے قالوا بل لم تكونوا مومنین وہ بڑے جواب میں کہیں گے متبوع کہیں گے قالوا وہ کہیں گے بل لم تكونوا مومنین بلکہ تم ایمان لانے والے نہیں تھے ہمیں اپنے شرک کا ذمہ دار نہ ٹھہراؤ تم خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے تم خود ہی ایمان نہیں لانا چاہتے تھے ہم نے تمہیں کب زبردستی تو نہیں روکا تھا ہم نے معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ قالوا بل لم تكونوا مومنین وہ متبوع کہیں گے بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہیں تھے وما كان لنا عليكم من سلطان سلطان کہتے ہیں بھئی غلبے کو غلبے کو وما كان لنا اور نہیں تھا ہمارے لیے علیکم تم پر من سلطان کوئی غلبہ ہمارا تم پر کوئی غلبہ تو نہیں تھا یا یہ ترجمہ کر لیں وما كان لنا عليكم من سلطان اور نہیں تھا ہمارا تم پر کوئی زور ہمارا تم پر کوئی زور تو نہیں تھا ہم تو صرف تمہیں زیادہ سے زیادہ کہہ دیتے تھے زبردستی تو ہم نہیں کرتے تھے باقی تو تم خود ہی اس راستے کو پسند کرتے تھے خود ہی اس پر چلتے تھے وما كان لنا عليكم من سلطان اور نہیں تھا ہمارا تم پر کوئی زور بل كنتم قوما طاغین بلکہ تم سرکشی کرنے والے لوگ تھے سرکش لوگ تھے قوم قوم عربی میں مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں تین سے لے کر دس تک کے لیے دس تک کے لیے تو یہاں عام معنی بس مردوں کے معنی جماعت کے معنی تو اردو میں لوگ کے ساتھ اس کا ترجمہ کریں بھئی بل كنتم قوما طاغین بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے بلکہ تم خود ہی سرکشی کرنے والے لوگ تھے فحق علينا قول ربنا پس ثابت ہو گیا ہم پر ہمارے پروردگار کا قول بھئی تابعین نے کیا کہا تھا کہ تم ہمارے پاس بڑے زوروں سے بڑھ چڑھ کر آتے تھے تم نے ہمیں گمراہ کیا بڑے کہیں گے نہیں نہیں تم خود ایمان نہیں لانا چاہتے تھے تم خود ایمان لانے والے نہیں تھے ہمارا تم پر کوئی زور تھوڑا تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے پس فحق علينا قول ربنا پس ثابت ہو گئی ہمارے اوپر ہمارے پروردگار کی بات کون سی بات بھئی؟ لاملأن لاملأن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین تو وہ بات ہمارے پروردگار کی ہم پر ثابت ہو گئی انا لذائقون یقیناً ہم ہم البتہ چکنے والے ہیں مفعول محذوف ہے کس چیز کو چکنے والے ہیں؟ العذاب عذاب کو بے شک ہم البتہ عذاب کو چکنے والے ہیں یہ تو لفظی ترجمہ ہوا بامحاورہ کیسے کر لیں؟ بے شک ہمیں البتہ عذاب کو چکنا ہے ہم پر ہمارے پروردگار کی بات ثابت ہو گئی ہے ہمیں عذاب کو چکنا ہے فاغويناكم پس ہم نے تمہیں گمراہ کیا بڑے کہیں گے اغوا یغوی کے کیا معنی؟ گمراہ کرنا فاغويناكم پس ہم نے تم کو گمراہ کیا انا كنا غاوین یقیناً ہم گمراہ تھے ہم خود بھی گمراہ تھے ہم نے تمہیں گمراہ کیا اور ہم خود بھی کیا تھے؟ جیسے ہم خود گمراہ تھے اسی طرح ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا بھئی فاغويناكم انا كنا غاوين پس ہم نے تمہیں گمراہ کیا انا كنا غاوین ہم خود بھی گمراہ تھے فانهم يومئذ في العذاب مشتركون پس یقیناً وہ اس اس دن عذاب کے اندر شریک ہوں گے پس یقیناً وہ سب اس دن عذاب کے اندر شریک ہوں گے (یعنی تابع بھی اور متبوع بھی سب کو عذاب دیا جائے گا) فانهم يومئذ في العذاب مشتركون پس یقیناً وہ اس روز عذاب کے اندر شریک ہوں گے انا كذلك نفعل بالمجرمین یقیناً ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں بالمجرمین مجرموں کے ساتھ یقیناً ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں انا كذلك نفعل بالمجرمین یقیناً ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں انهم كانوا اذا قيل لهم بے یقیناً یہ لوگ كانوا اذا قيل لهم جب ان سے کہا جاتا تھا لا الہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جب ان سے یہ کہا جاتا تھا يستكبرون تو یہ تکبر کرتے تھے اکڑ دکھلاتے تھے انهم كانوا اذا قيل لهم لا الہ الا اللہ يستكبرون یقیناً یہ لوگ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے يستكبرون تو یہ اکڑ دکھاتے تھے ويقولون انا لتاركو آلهتنا لشاعر مجنون اور کہتے تھے انا کیا یقیناً ہم لطارکو آلہتنا لطارکونا آلہتنا لطارکونا آلہتنا نون اضافت کی وجہ سے گر گیا بھئی کس کی وجہ سے؟ اضافت کی وجہ سے انا لطاركو آلہتنا کیا یقیناً ہم کیا واقعی ہم البتہ چھوڑ چھوڑنے والے ہوں اپنے معبودوں کو لشاعر مجنون ایک دیوانے شاعر کی لیے ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے تھے؟ کہ شاعر ہے کوئی دیوانہ کہتا تھا کوئی کچھ بھئی تو کیا ہم ایک دیوانے شاعر کے لیے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟ کیسے سختی سے کفر پر ڈٹے ہوئے تھے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ويقولون انا لطاركو آلہتنا کیا واقعی ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں لشاعر مجنون ایک دیوانے شاعر کے لیے ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے بل جاء بالحق وصدق المرسلين اللہ آگے فرماتے ہیں بل جاء بالحق بلکہ یہ تو حق لے کر آئے ہیں یعنی دین حق لے کر آئے ہیں یہ پیغمبر تو یہ کوئی شاعر مجنون نہیں ہے بلکہ یہ تو دین حق لے کر آئے ہیں بل جاء بالحق بلکہ یہ دین حق لے کر آئے ہیں وصدق المرسلين اور تصدیق کرتے ہیں پیغمبروں کی پیغمبروں کی کیا کرتے ہیں؟ تصدیق کرتے ہیں بل جاء بالحق وصدق المرسلين بلکہ یہ دین حق لے کر آئے ہیں اور اور پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں انكم لذائقوا العذاب الالیم یقیناً تم البتہ چکنے والے ہو دردناک عذاب کو الیم دردناک بھئی یہاں بھی اسی طرح ذائقون العذاب پھر اضافت کی گئی اور نون کو کیا کیا گیا ہے اضافت کی وجہ سے نون گر جاتا ہے یقیناً تم عذاب کو دردناک عذاب کو چکنے والے ہو یعنی تم یقیناً تمہیں دردناک عذاب کو چکنا ہے وما تجزون الا ما كنتم تعملون اور تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے مگر وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے وما تجزون اور تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے الا ما كنتم تعملون مگر وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے یعنی تمہیں تو تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا تمہیں تو تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ما اور الا کے ساتھ کیا معنی کیا اور تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے مگر وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے اور با محاورہ کس طرح ہوگا؟ ہاں تمہیں تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام