Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم قل من يرزقكم من السموات والأرض قل الله وإنا أو إياكم لعلى هدى أو في ضلال مبين قل لا تسألون عما أجرمنا ولا نسأل عما تعملون قل يجمع بيننا ربنا ثم يفتح بيننا بالحق وهو الفتاح العليم قل من يرزقكم قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے من يرزقكم من السموات والأرض کون تمہیں رزق دیتا ہے آسمانوں سے اور زمین سے؟ कौन तुम्हें यानी इन कुफ्फार से मुशरिकिन मक्का से जरा पूछिए इनसे कहिए तुम्हें आसमान से और जमीन से रिज़्क कौन देता है؟ आसमान से यानी बारिश बरसती है और उसकी वजह से फिर फल, फसलें वगैरह पैदा होती हैं। قل اے پیغمبر فرما دیجیے من يرزقكم من السموات والأرض کون تمہیں رزق دیتا ہے آسمانوں سے اور زمین سے؟ قل اللہ! اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے اللہ یعنی اللہ رزق دیتے ہیں۔ کیونکہ اس بات کا یقینی یہی جواب ہے، وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ آپ کہہ دیجیے اللہ یعنی اللہ رزق دیتے ہیں آسمانوں سے اور زمین سے۔ وإنَّا اور بے شک ہم أو إياكم یا تم لعلى هدى البتہ ہدایت پر ہیں أو في ضلال مبين یا گمراہی میں مبین، واضحة واضح گمراہی میں یعنی بے شک ہم یا تم جو ہیں البتہ واضحة البتہ ہدایت پر ہیں یا واضح گمراہی میں۔ یہ دعوت دینے کا طریقہ بتلایا۔ اگر کسی شخص کو آپ توحید کی دعوت دیں اور اس کو سیدھا سیدھا کہہ دیں کہ بھئی تم تو گمراہی پر ہو، پھر تو وہ ضد میں آ جائے گا، بات ہی مانے گا نہیں۔ تو حکمت کے ساتھ اس طرح دعوت دو کہ بھئی ہم توحید پر ہیں، تم شرک پر ہو اور دونوں راستے تو ٹھیک نہیں ہو سکتے، یقینی بات ہے ایک ہم دونوں میں سے ہدایت پر ہے اور ایک کس پر ہے؟ واضح گمراہی پر ہے اور اب تم اس میں خود غور کر لو، تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون گمراہی تو اس طرح جب کہو گے، وہ غور کریں گے تو خود ہی ان پر بات واضح ہو جائے گی۔ وإنَّا اور بے شک ہم أو إياكم یا تم لعلى هدى البتہ ہدایت پر ہیں أو في ضلال مبين یا واضح گمراہی میں ہیں۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے لا تسألون عما أجرمنا لا تسألون تم نہیں پوچھے جاؤ گے عما اس چیز کے بارے میں أجرمنا جو ہم نے جرم کیے، جو ہم نے گناہ کیے ولا نسأل اور نہ ہم پوچھے جائیں گے عما اس چیز کے بارے میں تعملون جو تم عمل کرتے ہو۔ یعنی تم ہم اگر کوئی جرم کرتے ہیں، ہم گناہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے سر ہوگا، تم سے اس کے بارے میں پوچھ نہیں ہوگی۔ اور اور تم کوئی عمل کرتے ہو، گناہ کرتے ہو تو ہم سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔ یہ وہی دعوت کا انداز بیان ہو رہا ہے، اس طرح ان کو دعوت دیجیے۔ قل لا تسألون آپ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے لا تسألون عما أجرمنا تم سے سوال نہیں کیا جائے گا عما أجرمنا اس چیز کے بارے میں جو ہم جرم کریں جو ہم نے جرم کیا ولا نسأل عما تعملون اور ہم سے نہیں پوچھا جائے گا اس چیز کے بارے میں جو تم عمل کرتے ہو۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے يجمع بيننا ربنا جمع کرے گا ہمارے بیچ ہمارا پروردگار، یعنی ہم سب کو جمع کرے گا پروردگار قیامت کے دن۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے يجمع بيننا ربنا کہ ہم سب کو جمع کرے گا ہمارا پروردگار ثم يفتح بيننا پھر فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان بالحق حق کے ساتھ درست طریقے سے، درست صحیح صحیح فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان۔ ثم يفتح بيننا بالحق پھر فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک وهو الفتاح العليم اور وہ فیصلہ کرنے والا ہے، جاننے والا ہے۔ وهو الفتاح العليم اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا، جاننے والا ہے۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے أروني الذين أروني تم لوگ مجھے دکھلاؤ۔ آرا یوری کا کیا معنی؟ دکھلانا۔ أروني تم لوگ مجھے دکھاؤ الذین وہ جو کہ الحق تم جو تم نے ملائے ہیں بهی اس اللہ کے ساتھ شرکاء شریک بنا کر۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے أروني الذين الحقتم به شرکاء کہ تم لوگ مجھے دکھاؤ تو وہ جن کو تم نے ملا ہے اللہ کے ساتھ شریک بنا کر۔ كلَّا ہرگز نہیں، یعنی اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ قل أروني الذين الحقتم به اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ان مشرکین سے أروني الذين تم دکھاؤ تو مجھے وہ جن کو تم ملاتے ہو اللہ کے ساتھ شریک بنا کر تم مجھے ذرا دکھلاؤ تو سہی وہ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔ كلَّا ہرگز نہیں، یعنی اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، تم مجھے ذرا دکھلاؤ تو سہی جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو انہوں نے کیا کیا ہے؟ کس بنا پر تم انہیں اللہ کا شریک بناتے ہو؟ كلَّا ہرگز نہیں، بل هو الله العزيز الحكيم بلکہ وہ اللہ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں۔ یعنی ان کا کوئی شریک نہیں۔ وما أرسلناکا اور نہیں بھیجا اے پیغمبر ہم نے آپ کو الا كافَّة للناس مگر تمام لوگوں کے لیے۔ وما أرسلناكا اور اے پیغمبر ہم نے آپ کو نہیں بھیجا الا كافَّة للناس مگر تمام لوگوں کے لیے یعنی ہم نے آپ کو تمام لوگوں ہی کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ كافَّة حال ہے، حال۔ للناس بھئی یہ ناس سے یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ اور اس کے معنے ہیں تمام کے تمام، سب۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یعنی ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر للناس لوگوں کے لیے اس حال میں كافَّة کہ سب کے سب بھئی۔ بشيرًا ونذيرا اس حال میں کہ آپ خوشخبری دینے والے ہیں ونذیرا اور ڈرانے والے ہیں۔ ولكن أكثر الناس لا يعلمون لیکن اکثر لوگ وہ نہیں جانتے۔ ولكن أكثر الناس لا يعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ويقولون اور یہ کہتے ہیں، یہ مشرکین مکہ۔ ويقولون اور اور وہ لوگ کہتے ہیں متى هذا الوعد کب ہوگا یہ وعدہ؟ یعنی اس کا وقت کب آئے گا؟ متى هذا الوعد کب ہوگا یہ وعدہ إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو؟ یعنی مشرکین مکہ بطور مذاق کے مسلمانوں کو کہتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں کہ تم یہ جو ہمیں ڈراتے رہتے ہو تو قیامت کا دن قائم ہوگا اور یا اللہ کی طرف سے پکڑ آئے گی اور مومنوں کو انعام ملے گا اور کفر کرنے والوں کو سزا ملے گی، ہمیں بتاؤ تو سہی یہ وعدہ کب ہوگا؟ کب آئے گا یہ دن بطور مذاق کہتی ہے، بھئی مذاق اڑاتے تھے۔ ويقولون اور وہ کہتے ہیں متى هذا الوعد کب ہوگا یہ وعدہ إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو۔ قل لكم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے لكم ميقات يوم تمہارے لیے میعاد۔ یہ مصدر ہے بھئی بمشابہ وعدہ کے۔ لكم ميقات يوم تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے۔ يوم نکرہ ہے بھئی۔ نکرہ۔ اور نکرہ کے بعد فعل آئے، میں نے آپ کو بتلایا تھا عموماً اس کے لیے کیا بنے گا صفت؟ ہمیشہ تو نہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے، آپ موقع محل کے مطابق دیکھ ترجمہ کر کے دیکھ لیا کیجیے کہاں مناسب بنتا ہے۔ جی تو لا تستاخرون یہ صفت بنے گی۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے لكم ميقات يوم تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے، دیکھو یوم موصوف ہے تو اس سے پہلے ایسا کا لفظ لے آئیں، تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے لا تستاخرون کہ تم مؤخر نہیں کیے جاؤ گے عنہ اس دن سے ساعةً ایک گھڑی ولا تستقدمون اور نہ اس سے آگے کیے جاؤ گے۔ یعنی ایک گھڑی تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے کہ اس سے ایک گھڑی بھی تم لوگ مؤخر نہیں کیا جاؤ گے اور نہ اس سے آگے کیے جاؤ گے۔ نہ آگے کیے جاؤ گے۔ یعنی عین جو اس کا وقت مقرر ہے، اسی وقت وہ آئے گا، اس سے نہ پہلے ہو سکتا ہے اور نہ اس کے بعد ذرا بھر ایک گھڑی بھی آگے پیچھے وہ نہیں ہو سکتا، وہ وقت جو متعین ہے اس وقت پر آ کر رہے گا، پھر تمہیں کسی قسم کی مہلت نہیں ملے گی۔ تو سوال انہوں نے پوچھا تھا کہ کب ہوگا یہ وعدے کا دن؟ کب ہوگا؟ لیکن جواب یہ نہیں بتلایا گیا کہ کب آئے گا، بلکہ بتلایا گیا بھئی وہ دن مقرر ہے، اس نے آنا ہے، وہ گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوگا، تو یہ پوچھنے کے بجائے کب ہوگا، اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے، نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کرنا چاہیے، شرک کو چھوڑ دینا چاہیے۔ قل لكم ميقات يوم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے لا تستاخرون عنہ ساعة نہ تو تم مؤخر کیے جاؤ گے اس دن سے گھڑی ولا تستقدمون اور نہ اس سے آگے کیے جاؤ گے۔ نہ تو تم مؤخر ہوگے اس دن سے ایک گھڑی ولا تستقدمون اور نہ آگے ہوگے تم اس دن سے۔ پہلے ہو جائے، تستقدمون یعنی اپنے وقت سے پہلے ہی ہو جائے، آگے ہو جائے، ایسا بھی نہیں اور پیچھے ہو جائے ایسا بھی نہیں ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تستقدمون کا کیا معنی؟ آگے یعنی پہلے ہی وقت سے پہلے ہی ہو جائے۔ وقال الذين كفر لن يؤمن بهذا القرآن وقال الذين كفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لن نؤمن بهذا القرآن ہرگز ہم ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر ولا بالذي اور نہ اس پر بين يديه جو اس کے سامنے ہے، یعنی جو اس سے پہلے ہے، یعنی اس سے پہلے کی جو کتابیں ہیں تورات، انجیل وغیرہ ان پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے، سب کے اندر ایک ہی بات کا ذکر ہے کہ آخرت آئے گی اور حساب کتاب دینا پڑے گا اور پھر زندہ کیے جائیں گے، ایک شخص جب مٹی ہو جائے، پھر کیسے زندہ کیا جا سکتا ہے؟ تو نہ ہم اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلے کی جو کتابیں ہیں، ان پر۔ وقال الذين كفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لن نؤمن بهذا القرآن ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر ولا بالذي بين يديه اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے۔ ولو ترى إذ الظالمون موقوفون عند ربهم ولو ترى اور اگر آپ دیکھیں ولو ترى اگر اے پیغمبر اگر آپ دیکھیں إذ الظالمون جس وقت کہ ظالم (یعنی شرک کرنے والے) موقوفون عند ربهم کھڑے کیے جائیں گے عند ربهم اپنے پروردگار کے پاس۔ اور تو ولو ترى اگر آپ دیکھیں جزا محذف ہے تو البتہ آپ بڑا ہی ہولناک منظر دیکھیں۔ اگر آپ وہ منظر دیکھ لیں جس وقت یہ ظلم شرک کرنے والے اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے تو بڑا ہی وہ ہولناک منظر ہوگا۔ يرجع بعضهم إلى بعض القول بعضہم إلى بعض القول بعض کی طرف باتوں کو، قول کو۔ بعضهم إلى بعضٍ جی ان میں سے بعض بعض کی طرف، میں نے بتلایا تھا اس کا بامحاورہ ترجمہ کیا کریں گے؟ ایک دوسرے کی طرف۔ يرجع لوٹائیں گے ان میں سے وہ لوٹائیں گے وہ ایک دوسرے کی طرف بات کو۔ ایک دوسرے پر جیسے بھئی جرم کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر بات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو وہ لوٹائیں گے ایک دوسرے پر بات کو، یعنی ایک دوسرے پر جرم ڈالیں گے کہ یہ اس کا قصور ہے یا اس کا قصور ہے بھئی۔ يقول الذين استضعفوا کہیں گے وہ لوگ جو ضعیف سمجھے جاتے تھے، جو کمزور سمجھے جاتے تھے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دنیا میں دو طرح کے لوگ آپ دیکھتے ہیں، کچھ بڑے ہیں تکبر کرنے والے، سردار ہیں اور باقی لوگ ان کے پیچھے ہوتے ہیں، ان کے راستے پر چلتے ہیں۔ تو تو کہیں گے وہ لوگ اسضعفو جو کمزور سمجھے جاتے ہیں للذین ان لوگوں سے استكبروا جو تکبر کرتے ہیں تو کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے ہیں ان لوگوں سے جو تکبر کرتے ہیں یعنی بڑوں سے لولا انتم لکنا مومنین اگر تم نہ ہوتے البتہ ہم ایمان والے ہوتے، ایمان لانے والے ہوتے۔ تو دیکھو ایک دوسرے پر بات ڈال رہے ہیں، کمزور کس پر ڈال رہے ہیں؟ سرداروں پر اپنے بڑوں پر کہ وہ تو کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے لولا انتم لکنا مومنین اگر تم نہ ہوتے تو البتہ ہم ایمان والے ہوتے۔ قال الذين استكبروا جواب میں وہ کہیں گے، بڑے کہیں گے۔ قال الذين استكبروا کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے تکبر کیا للذین استضعفوا ان لوگوں سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے۔ أنحن صدَدناكم عن الهدى क्या हमने صدَدناكم हमने तुम्हें रोका था عن الهدى ہدایت سے؟ صَدَّ يصدّ کے معنی روکنا۔ أنحن صدَدناكم عن الهدى کیا ہم نے روکا تھا تمہیں عن الهدى ہدایت سے بعد إذ جاءكم بعد اس کے جب وہ آ گئی تمہارے پاس؟ یعنی جب ہدایت تمہارے پاس پہنچ گئی تھی، دعوت پیغمبر کی اور توحید کی تمہیں پہنچ گئی تھی تو کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ کوئی زبردستی کی تھی ہم نے تمہارے اوپر؟ بل كنتم مجرمين بلکہ تم ہی مجرم ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو کہیں گے وہ جنہوں نے تکبر کیا ان لوگوں سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے أنحن صدَدناكم عن الهدى کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آ گئی تھی، جب تمہارے پاس پہنچ گئی تھی بل كنتم مجرمين بلکہ تم ہی مجرم ہو۔ وقال الذين استضعفوا للذين استكبروا اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے بل مكر الليل والنهار بلکہ رات اور دن کا مکر۔ بلکہ رات اور دن کا مکر۔ یعنی یہ جو تم رات دن مکر کرتے رہتے تھے اور ہمارے ساتھ ہمیں ملا کر تدبیریں وغیرہ کرتے تھے تو تمہارے مکر و فریب نے ہمیں کیا کیا؟ دھوکے میں ڈالے رکھا اور ہم ایمان نہیں لائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بڑے کیا کرتے؟ جلسے منعقد کرتے، ساروں کو اپنے ساتھ ملا کر کہ بھئی کیا کیا جائے اس شخص کو کیسے منعقد کیا جائے، یہ دعوت جو پھیلا رہا ہے، جو بھئی کو بھئی سے جدا کر دیتی ہے، جو بیٹے کو والد سے جدا کر دیتی ہے، ایک مرتبہ جو توحید کو قبول کر لیتا ہے پھر اس کے چاہے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں، وہ اس کو نہیں چھوڑتا۔ تو اس کو کیسے روکا جائے؟ تو آپس میں وہ جو ان کی میٹنگیں ہوتی تھیں، دن رات جو مکر و فریب کرتے تھے، یعنی جو مل بیٹھ کر تدبیریں لڑاتے تھے۔ دن اور رات کا مکر مکر یاد رکھیے ایک مکر اردو میں آپ استعمال کرتے ہیں، وہ ایک جسے آپ اچھا نہیں سمجھتے بھئی، مکر و فریب بھئی اور بری تدبیر وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لیکن عربی میں مکر کے معنی تدبیر کرنے کے ہیں بھئی، تدبیر کرنے کے ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اردو میں اور معنی میں مکر استعمال ہوتا ہے، عربی میں اس کا صرف کیا معنی ہے؟ تدبیر کرنا کسی کام کی۔ واللہ خیر الماکرین، اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں۔ دیکھا یہاں تو اس میں وہ اردو والا معنی کا نہ سمجھنا یہاں پر بھئی۔ بل مکر لیل والنہار بلکہ دن اور رات کی تدبیریں، دن اور رات کا تدبیر یعنی دن اور رات میں جو تم تدبیریں کرتے تھے، یہ مومنین کے خلاف ہمارے ساتھ، جی تو کہیں گے وہ لوگ جو کمزور تھے ان لوگوں سے جو تکبر کرنے والے تھے، بل مکر لیل والنہار بلکہ رات اور دن کا مکر کرنا یعنی تمہارا رات اور دن کو مکر کرنا إذ تأمروننا جب تم تم ہمیں حکم دیتے تھے أن نکفر باللہ کہ ہم کفر کریں اللہ کے ساتھ، یا انکار کریں اللہ کا۔ أن نکفر باللہ جب تم ہمیں حکم إذ تأمروننا جب تم تم ہمیں حکم دیتے تھے أن نکفر باللہ کہ ہم کفر کریں اللہ کے ساتھ ونجعل لہ اندادا اور بنائیں اس کے شریک جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک بنائیں۔ انداد جمع ہے ندّ کی، اور ندّ۔ ندّ بھئی یاد رکھیے ندّ کا معنی ہوتا ہے مثل، مشابہ، ہم پلہ، ہم سر بھئی۔ تو ندّ کا کیا معنی؟ مشابہ اور مثل بھئی۔ ونجعل نجعل لہ اندادا اور یہ کہ بنائیں ہم اس اللہ کا اللہ کے مثل بھئی، اللہ کے مشابہ یعنی اللہ کے مشابہ قرار دیں بھئی۔ اور چیزوں کو کیا کریں یہ بتوں وغیرہ کو اللہ کے مشابہ قرار دیں، یعنی تو مشابہ یعنی شریک بنائیں۔ مراد کیا ہے؟ شریک تو ترجمہ پھر یوں کر لیں ونجعل لہ اندادا اور جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا انکار کریں، اللہ کے ساتھ کفر کریں ونجعل لہ اندادا اور اس کے شریک بنائیں بھئی۔ اس کے مثل بنائیں یعنی کہ اس کے شریک بنائیں۔ جب تم تم ہمیں حکم دیتے تھے أن نکفر باللہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں ونجعل لہ اندادا اور بنائیں اس کے شریک وأسر الندامۃ، أسر کے معنی چھپانے کے۔ وأسر الندامۃ اور وہ چھپائیں گے شرمندگی کو ندامت کو، وہ چھپائیں گے لما رأوا العذاب جب وہ دیکھیں گے عذاب کو۔ اب جب انہیں یقین ہو گیا اب تو ہمیں ہر حال میں سزا ہونی ہی ہے اور آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں گے کہ اب ہمیں عذاب دیا جانے والا ہے تو دل میں تو وہ جانتے ہی ہوں گے کہ ہم مجرم ہیں تو کیا کریں گے اپنی ندامت اور شرمندگی کو چھپائیں گے کہ ایک دوسرے کو پتہ نہ چلے۔ تو آپس میں ایک دوسرے سے شرمندگی کو چھپائیں گے۔ وأسر الندامۃ اور وہ چھپائیں گے شرمندگی کو لما رأوا العذاب جب دیکھ لیں گے عذاب کو۔ وجعلنا الأغلال في أعناق الذين كفروا اور کر دیں گے ہم، اغلال جمع ہے۔ أغلال جمع ہے غلّ کی بھئی۔ اور یہ بیڑیاں یا وہ جو گلے میں طوق ڈالا جاتا ہے لوہے کا، مجرموں وغیرہ کے بھئی۔ وجعلنا الأغلال اور ہم، تو جعلنا ہم کر دیں گے یعنی ہم ڈال دیں گے، وجعلنا الأغلال اور ہم ڈال دیں گے طوق في أعناق الذين كفروا ان لوگوں کی گردنوں میں جنہوں نے کفر کیا۔ وجعلنا الأغلال في أعناق الذين كفروا اور ہم طوق ڈال دیں گے ان لوگوں کی ان کی گردانوں میں جنہوں نے کفر کیا هل یجزاونا ہل یہاں نفی کے معنی میں ہے ای ما یجزاونا۔ وہ بدلہ نہیں دیے جائیں گے الا ما کانوا يعملون مگر وہ جو عمل کیا کرتے تھے، یعنی ان کو یہ جو بدلہ دیا جائے گا اس قسم کا، یہ ان کے عمل کی وجہ ہی سے ہے۔ هل یجزاونا ہل نفی، نفی کے معنی میں ہے یہاں پر بھئی، سوال کے لیے نہیں ہے، نفی کے لیے ہے۔ ہل یجزاونا ای ما یجزاونا، وہ نہیں بدلہ دیے گئے وہ بدلہ نہیں دیے جائیں گے الا مگر ما کانوا يعملون وہ جو عمل کیا کرتے تھے، یعنی ان کو جو اس طرح کا بدلہ ملے گا، وہ ان کے عمل کی وجہ سے ہی ملے گا، کسی اور وجہ سے ویسے ہی نہیں ملے گا ان کو یہ بدلہ۔ هل یجزاونا وہ بدلہ نہیں دیے جائیں گے مگر وہ جو عمل کیا کرتے تھے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وما أرسلنا في قرية من نذیر اور نہیں بھیجا فی قرية کسی بستی میں من نذیر اور ہم نے نہیں بھیجا فی قرية کسی بستی میں من نذیر کوئی ڈرانے والا، یعنی ہم کسی، یعنی پیغمبر، اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا الا قال مترفها مگر یہ کہ کہا مترفها ان کے خوشحال لوگوں نے۔ مترفون خوشحال لوگ بھئی، آسودہ حال، مالدار بھئی جو عیش و عشرت میں زندگی گزارنے والے ہیں۔ وما أرسلنا اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر اس کے خوشحال لوگوں نے کہا انا یقینا ہم بما أرسلتم به اس چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو کافرون اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اس کا ہم انکار کرنے والے ہیں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے طور پر کہ اے پیغمبر آپ آزردہ خاطر نہ ہوں، ان کی باتوں پر غمزدہ نہ ہوں، ہم نے جب بھی کسی پیغمبر کو کسی قوم میں بھیجا تو اس کے جو بڑے تھے اور مالدار لوگ تھے انہوں نے ہمیشہ ہمیشہ ان پیغمبروں کا انکار ہی کیا، تو اگر یہ لوگ آپ کا انکار کرتے ہیں تو اس پر غمزدہ نہ ہوں، یہ اسی طرح ہمیشہ ہوتا آیا ہے تمام پیغمبروں کے ساتھ۔ وما أرسلنا في قرية من نذیر اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا الا قال مترفها مگر کہا اس بستی کے خوشحال لوگوں نے۔ ہاں ضمیر قریہ کو راجع ہے۔ انا بما أرسلتم به کافرون یقینا ہم انکار کرنے والے ہیں اس چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ انا یقینا ہم بما أرسلتم به بھئی یہ بما جار مجرور ہے، یہ کسی سے متعلق ہوتا ہے، یہ کس سے متعلق ہوگا؟ کافرون سے تو اس کو ذرا کافرون سے مؤخر کریں، پھر ترجمہ صحیح آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ انا یقینا ہم کافرون انکار کرنے والے ہیں کس چیز کا؟ بما اس چیز کا أرسلتہم به جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ وہ پیغمبروں کو کہتے تھے نا وہ جو مشرکین وغیرہ پیغمبروں کو کہتے تھے کہ ہم جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو یعنی دین حق سے اس کو ہم جھٹلاتے ہیں، اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ وقالوا اور وہ کہتے، اور انہوں نے کہا نحن أكثر أموالا وأولادا ہم زیادہ ہیں بہ اعتبار مال کے اور بہ اعتبار اولاد کے وما نحن بمعذبین اور نہیں ہیں ہم بمعذبین عذاب دیے ہوئے، یعنی ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا وما نحن بمعذبین ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ تو وہ جو خوشحال تھے، مالدار تھے، وہ کہتے تھے کہ بھئی اس دنیا کے اندر جیسے ہمیں بہت چیزیں دی گئی ہیں، مال بھی کثرت سے دیا گیا ہے، اولاد بھی کثرت سے دی گئی ہے، تو اول تو آخرت آئے گی ہی نہیں اور اگر آئی بھی تو جیسے یہاں اللہ نے ہمیں یہ چیزیں کثرت سے دی ہیں، وہاں بھی اللہ ہمیں کثرت سے دیں گے۔ معلوم ہوا ہم کو ہمارے ساتھ اللہ کی محبت ہے جبھی تو ہمیں یہ چیزیں زیادہ دیں اللہ نے، تو آخرت میں بھی اسی طرح ہوگا۔ سمجھ میں آئے اور آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اسی طرح تمام پیغمبروں پر جو ایمان لانے والے ہوتے ہیں، ابتدا میں وہ سارے غریب غربا ہی ہوتے ہیں، فقراء ہی ہوتے ہیں۔ تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے کہتے بھئی، بلکہ یہ تو عام وہ کسی بھی بستی میں کہ ان کے خوشحال لوگوں نے پیغمبر کو جہاں بھی بھیجا اس کے خوشحال وہ یہ کہتے تھے کہ ہم انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے تھے کہ ہم زیادہ ہیں مال اور اولاد تو آپ کے ساتھ تو کچھ غریب غربا ہیں، فقراء ہیں۔ وقالوا نحن أكثر أموالا وأولادا کہ ہم زیادہ ہیں بہ اعتبار مالوں کے اور بہ اعتبار اولاد کے وما نحن بمعذبین اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان ربی يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر کہ یقینا میرا پروردگار جو ہے وہ کشادہ کرتا ہے رزق کو لمن يشاء جس کے لیے وہ چاہتا ہے ويقدر اور تنگ کرتا ہے، یعنی اندازے سے دیتا ہے۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان ربی يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر کہ یقینا میرا پروردگار جو ہے وہ رزق کو کشادہ کرتا ہے لمن يشاء جس کے لیے وہ چاہتا ہے ويقدر اور تنگ کرتا ہے ولکن أكثر الناس لا يعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ تعالی جس کے لیے رزق کو چاہتے ہیں، تنگ کر دیتے ہیں اور جس کے لیے چاہتے ہیں، رزق کو وسیع کر دیتے ہیں، اس میں اللہ کی کیا کیا حکمتیں ہیں یہ اللہ ہی جانتے ہیں، لیکن رزق وغیرہ کی وسعت یہ اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ وہ اللہ کے اللہ کے قریبی لوگ ہیں۔ وما أموالكم ولا أولادكم اور نہیں ہیں تمہارے مال اور نہ تمہاری اولادیں بالتی وہ جو کہ تقربکم جو تمہیں قریب کرے عندینا ہمارے نزدیک زلفا۔ زلفا یہ مصدر ہے بھئی، مصدر۔ بمعنے قربہ کے بھئی، مفعول مطلق ہے بھئی، ضربت ضربا۔ ضربت ضربا، تو یہ زلفا بمعنے قربہ کے ہے اور تو قربہ پھر بمعنے تقریبا کے ہے بھئی، بمعنے۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ مفعول مطلق کا اسی باب سے ہونا ضروری نہیں تو قرب يقرّب تقریب، یہ تو باب تفعیل ہے، باب تفعیل۔ باب تفعیل، تو اس کا مصدر ضروری نہیں باب تفعیل ہی سے آئے، یعنی ثلاثی مزید فی سے، بلکہ ثلاثی مجرد سے بھی آ سکتا ہے۔ تو یہ زلفا بمعنے قربہ کے ہے اور یہ مفعول مطلق ہے تقربکم کے لیے۔ أي تقربکم عندنا تقريبا۔ وما أموالكم ولا أولادكم ما حرف نفی ہے، اولادکم کا عطف ہے اموالکم پر بھئی۔ تو یہ ہے مبتندا بھئی، اور بالتی یہ ہے خبر بھئی۔ اور یہ جو با ہے جارہ یہ زائد ہے بھئی، زائد۔ جیسے لیسا کی خبر پر کبھی کبھار با جارہ زائدہ آ جاتا ہے، مثلاً کیا مثال بنائیں؟ ليس ليس زيد بحجر بھئی۔ ليس زيد بحجر، تو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں ليس زيد حجرا۔ ليس اپنی خبر کو کیا دیتا ہے؟ نصب دیتا ہے، لیکن کبھی کبھار کیا لے آتے ہیں اس پر با جارہ زائدہ لے آتے ہیں، تو ليس زيد بحجر کہتے ہیں۔ لینے یہاں پھر یہ با جارہ زائدہ ہے تو کہیں گے حجر جو ہے مجرور ہے لفظاً لیکن منسوب ہے محلاً کہ یہ ليس کی خبر ہے۔ اسی طرح یہاں بھی یہ ما جو ہے مشابہ بالیس ہے، تو اس کی خبر پر بھی یہ با جارہ زائدہ ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آگਈ بھئی؟ یہ التي تقربکم عندنا زلفا یہ خبر ہے بھئی۔ وما أموالكم ولا أولادكم اور نہیں ہیں تمہارے مال اور نہ تمہاری اولادیں بالتی وہ چیزیں کہ تقربکم عندنا زلفا جو تمہیں قریب کرے ہمارے الا من آمن وعمل صالحا مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ تو یہ مال اور اولاد جو ہیں یہ تمہیں ہمارے قریب کرنے والی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ کیا چیز میں ہمارے قریب کرنے والی ہے؟ ایمان اور عمل صالح جو ہے وہ ہمارے قریب کرنے والی چیزیں ہیں۔ وما أموالكم ولا أولادكم اور نہ تمہارے مال اور نہ تمہاری اور نہ تو تمہارے مال ولا اولادکم اور نہ تمہاری اولادیں بالتی وہ چیزیں ہیں کہ تقربکم عندنا زلفا جو تمہیں ہمارے قریب کر دے یہ مال اور اولاد کی کثرت یہ وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ہمارے قریب کر دے الا من آمن وعمل صالحا مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ ترجمہ آگیا سمجھ میں بھئی؟ فأولئك لهم جزاء الضعف پس وہ لوگ جو ہیں ان کے لیے جزاء الضعف دوگنا بدلہ ہوگا یا کئی گناہ کر لیں۔ ضعف کا معنی ہوتا ہے دو چند، دو چند۔ یعنی ایک چیز دوسری سے کئی گناہ ہو، چاہے دگنی ہو، تین گناہ ہو، چار گناہ ہو، پانچ گناہ ہو سب اس میں آ جاتے ہیں۔ تو اردو میں اس کا کوئی ایسا مترادف لفظ نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ترجمہ پھر اس کا کئی گناہ کے ساتھ کر لیں تو دگنے کا دگنا ترجمہ بھی اگر کریں تو یہ معنی نہیں کہ ایک نیکی کی ہے تو دو کا ثواب ملے گا۔ دگنے کا تو یہ معنی ہے نا، ہاں تو لہذا اس کا ترجمہ پھر کئی گناہ کے ساتھ کر لیں تو یا دو چند کے ساتھ، دو چند۔ مفہوم سمجھ میں آ رہا ہے سب کو؟ تو آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، کوئی شخص نیکی کرتا ہے تو اس کو کم از کم اس کا دس گناہ اجر دیا جاتا ہے اور اگر اخلاص ہو تو پھر سات سو گناہ تک بڑھا دیا جاتا ہے بھئی، جتنا اخلاص ہوگا اسی کے بقدر۔ اور اگر اس سے بھی زیادہ اللہ چاہیں تو اس سے بھی بڑھا دیتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں بھئی۔ تو اللہ کے کتنے انعام ہیں، کتنا احسان ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ ایک گناہ نہیں ہے، بلکہ کم از کم دس گناہ ہے اور اخلاص زیادہ ہو تو سات سو گناہ تک اور اللہ چاہیں تو اس سے بھی زیادہ بڑھا دیں۔ اس سے بھی زیادہ۔ نیکی کا انسان صرف ارادہ ہی کر لے تو صرف ارادے پر ہی ایک ثواب اس کو مل جاتا ہے بھئی۔ اللہ کے فضل کا اندازہ لگائیے۔ نیکی ابھی آپ نے کی نہیں، صرف نیت کر لی کہ میں یہ نیک کام کروں گا، پھر کریں یا نہ کریں وہ تو بعد کی بات ہے، بس نیت کرتے جب آپ نے ارادہ بنا لیا، تو بس اسی پر آپ کو ایک اجر اسی وقت مل جائے گا اور کر لیں تو پھر کم از کم دس گناہ ہے۔ اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ 700 تک تو ہے، اور اس سے بھی زیادہ اللہ چاہیں تو بڑھا دیں۔ فالئک لھم جزاء‌الضعف یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے جزاء‌الضعف دو چند بدلا ہے، یا کئی گناہ بدلا ہے، بما عملو، بوجہ اس کے جو انھوں نے عمل کیا۔ وھم فی الغرفات آمنون اور یہ لوگ جو ہیں بالا خانوں کے اندر آمنون اطمینان سے ہوں گے، امن کے ساتھ ہوں گے۔ یہ مومنین بھئی۔ دعا کرو اللہ ہم سب کو بغیر حساب کتاب کے جنت الفردوس نصیب فرمائے بھئی۔ دعا کرنی ہی ہے تو صرف جنت کی نہیں، آدمی جنت الفردوس کی دعا کرے بھئی۔ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے بھئی، بڑی رحب وسیع ہے۔ فالئک لھم جزاء‌الضعف ان لوگوں کے لیے دو چند بدلا ہے، یا کئی گناہ بدلا ہے، بوجہ اس کے جو انھوں نے عمل کیے وھم فی الغرفات آمنون اور یہ لوگ بالا خانوں میں چین سے ہوں گے۔ یا اطمینان سے ہوں گے۔ یا امن سے ہوں گے، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ والذین یسعوون فی آیاتنا اور وہ لوگ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں معاجزین اس حال میں کہ وہ عاجز کرنے والے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے عاجز کرنے میں کوشش کرتے ہیں، کہ ہماری آیتوں کو ہرا دیں اپنے قول اور فعل کے ذریعے۔ اولئک فی العذاب محضرون یہ لوگ عذاب کے اندر حاضر کیے جائیں گے۔ والذین یسعوون فی آیاتنا معاجزین اور وہ لوگ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں کو آیتوں کے ہرانے میں، آیتوں کے عاجز کرنے میں اولئک فی العذاب محضرون یہ لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔ قل ان ربی یبسوط الرزق لمن یشاء من عبادہ و یقدر لہ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے یقیناً میرا پروردگار رز کشادہ کرتا ہے رزق کو لمن یشاء جس کے لیے وہ چاہتا ہے من عبادہ اپنے بندوں میں سے و یقدر لہ اور تنگ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔ لھو ای لمن یشاء ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ لمن یشاء کو بھئی، من کو راجع ہے۔ قل ان ربی اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان ربی یقیناً میرا پروردگار یبسوط الرزق کشادہ کرتا ہے رزق کو لمن یشاء جس کے لیے وہ چاہتا ہے من عبادہ اپنے بندوں میں سے و یقدر لہ اور تنگ کرتا ہے لھو ای لمن یشاء جس کے لیے وہ چاہتا ہے تو اس کے لیے تنگ کرتا ہے۔ وما انفقتم من شین اور جو کچھ تم خرچ کرو کسی چیز میں سے وما اور جو کچھ انفقتم اے مومنو تم خرچ کرو من شین کسی چیز میں سے، یعنی جو بھی تم خرچ کرو یعنی اللہ کے راستے میں جو کچھ تم خرچ کرو گے فھو یخلفہ تو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے۔ اللہ اس کا بدل دیتے ہیں۔ وما انفقتم من شین اور وہ جو تم خرچ کرو کسی چیز میں سے فھو یخلفہ تو اللہ اس کا فھو تو وہ اللہ یخلفہ اس کا بدل دیتے ہیں، اس کا خلف دیتے ہیں۔ خلیفہ کہتے ہیں قائم مقام کو بھئی، قائم مقام کو۔ تو اس کا خلف یا اس کا خلیفہ یعنی اس کا قائم مقام اس کا بدل دے دیتے ہیں۔ فھو یخلفہ تو وہ اس کا خلف دیتے ہیں، اس کا بدلہ دیتے ہیں، اس کا بدل دیتے ہیں وھو خیر الرازقین اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ ویوم یحشرہم جمیعا اور جس دن کے وہ جمع کرے گا ان سب کو ویوم یحشرہم یحشرہم جمیعا اور جس دن کے وہ جمع کرے گا ان سب کو ثم یقول پھر وہ کہے گا۔ بھئی یہ مشرکین جو ہیں یہ فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے، بتوں وغیرہ فرشتوں کی، یہ اللہ کی کہتے تھے یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ خود تو ان کو بیٹے پسند تھے اور اب اللہ کے لیے کیا ثابت کرتے تھے؟ بیٹیاں بھئی۔ خود تو بیٹی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے۔ اتنے ظالم لوگ تھے تو کہ بیٹی کو اتنا عار سمجھا جاتا، اتنے عیب کی چیز سمجھا جاتا کہ اسے بہت سے ان میں سے جو تھے وہ زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے۔ جی تو جس دن کہ اللہ ان سب کو جمع کرے گا، یعنی وہ عبادت کرنے والوں کو بھی اور ان کے معبودوں کو بھی جمع کرے گا۔ کہ ہاں بتاؤ بھئی! تم نے انہیں کہا تھا ہماری عبادت کرو؟ ہر ایک سے سوال ہوگا اور ہر ایک انکار کرے گا کہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں ہم نے نہیں کہا ان کو کہ یہ ہماری عبادت کریں۔ ویوم یحشرہم جمیعا اور جس دن کے اللہ جمع کرے گا ان سب کو ثم یقول للملائکۃ پھر وہ کہے گا فرشتوں سے آھولاءِ ایاکم کانوا یعبدون کیا یہ لوگ جو ہیں تمہاری عبادت کیا کرتے تھے؟ فرشتوں سے سوال ہو گیا کیا یہ لوگ تمہارے عبادت کیا کرتے تھے؟ قالو وہ فرشتے کہیں گے سبحانک اے اللہ! آپ پاک ہیں۔ یعنی ہر قسم کے شرک سے آپ کی ذات پاک ہے، آپ کا کوئی شریک ہر قسم کے شریک سے آپ کی ذات پاک ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔ قالو فرشتے کہیں گے سبحانک اے اللہ! پاک ہیں یعنی آپ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ انت ولینا آپ ہمارے آپ ہی ہمارے ولی ہیں، یعنی ہمارا آپ ہی سے تعلق ہے۔ انت ولینا آپ ہی ہمارے ولی ہیں، آپ ہی سے ہمارا تعلق ہے من دونھم ان کے علاوہ یعنی آپ ہی سے ہمارا تعلق ہے نہ کہ ان سے، اے اللہ! آپ جانتے ہیں۔ بل کانوا یعبدون الجن بلکہ یہ لوگ جو ہیں جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ یعنی کہ بھئی یہ جنات اور شیاطین ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے اور جنات کی ایسے جنات کی طرح عبادت وہ نہیں کرتے تھے، لیکن چونکہ ان کے کہنے پر چلتے تھے۔ جنات ان کے دل میں یہ وسوسے ڈالتے اس چیز کی عبادت کرو یا اس چیز کی عبادت کرو اور وہ پھر اسی راستے پر چل پڑتے، تو ان کا کہنا ماننا گویا کہ انہی کی عبادت کرنا ہوا۔ بل کانوا یعبدون الجن بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، یعنی جن و شیاطین بھئی۔ اکثرھم بھم مومنون ان میں سے اکثر انہی پر ایمان رکھتے تھے۔ اب ان میں سے اکثر و اکثرھم بھم مومنین ان میں سے اکثر انہی کو مانتے تھے، انہی پر ایمان رکھتے تھے۔ فالیوم لا یملك بعضکم لبعض نفعا پس آج کے دن لا یملك بعضکم لبعض نفعا مالک نہیں ہوگا بعضکم لبعض تم میں سے بعض بعض کے لیے مالک نہیں ہوں گے کس چیز کے نفعا ولا ضررا نہ نفع کے اور نہ کسی نفع کے اور نہ کسی ضرر، کسی نقصان کے۔ سمجھ میں آیا؟ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ تو اللہ فرمائیں گے کہ آج کے دن تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے کسی نفع یا نقصان کا مالک نہیں ہے، یعنی وہ معبود جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور وہ جو عبادت کرنے والے تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم میں سے کوئی کسی کو نفع یا نقصان دینے کا مالک نہیں ہے، وہ تو عبادت کرتے تھے نا تاکہ یہ کیا کریں گے اللہ کے پاس ہماری سفارش کریں گے، اللہ کو تو وہ بھی مانتے تھے کفار مشرکین مکہ بھی مانتے تھے، پہلے یہ بات ہو چکی ہے لیکن فرشتوں وغیرہ اور ان چیزوں کی عبادت کس لیے کرتے تھے؟ تاکہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کریں گے۔ تو اللہ فرمائیں گے آج کے دن تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے۔ یعنی یہ جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ تمہیں کسی قسم کا کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ فالیوم پس آج کے دن لا یملك بعضکم لبعض مالک نہیں ہے مالک نہیں ہو تم ایک دوسرے کے نفعا ولا ضررا نہ کسی نفع کے اور نہ کسی نقصان کے۔ پس آج کے دن تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے کسی نفع یا کسی نقصان کا مالک نہیں ہے۔ ونقول للذین ظلموا اور کہیں گے ہم للذین ظلموا ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم کیا۔ ذوقوا عذاب النار چکو تم آگ کا عذاب الذی کنتم بھا تکذبون جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ ونقول للذین ظلموا اور کہیں گے ہم ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم کیا ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بھا تکذبون آگ کے اس عذاب کو، اس آگ کے عذاب کو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ الذی صفت ہے النار کی۔ وہ آگ الذی کنتم بھا تکذبون جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے، اس آگ کے عذاب کو چکھو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بھا تکذبون چکھو تم آ اس آگ کے عذاب کو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ و اذا تتلی علیہم آیاتنا بینات اور جب تلاوت کی جاتی، جب تلاوت کی جاتی ہیں علیہم ان پر آیاتنا بینات ہماری آیتیں واضح اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیتیں قالو تو وہ کہتے ہیں ما ھذا نہیں ہے یہ، پیغمبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ما ھذا کہ نہیں ہے یہ الا رجل مگر ایک شخص رجل نکرہ اس کے بعد فعل آیا بھئی، یہ اس کی صفت بنے گا۔ پورا جملہ فعلیہ ہو کر رجل کے لیے صفت۔ وہ کہتے ہیں ما ھذا نہیں ہے یہ الا رجل مگر ایک شخص، ایک ایسا آدمی یرید ان یصدکم جو چاہتا ہے کہ تمہیں روک دے عما اس چیز سے کان یعبدو آباکم کہ جس کی عبادت کرتے تھے تمہارے آباؤ اجداد۔ وہ کیا کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں؟ کہ یہ آدمی تو تمہیں اس چیز سے روکنا چاہتا ہے جس کے تمہارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے؟ عبادت کرتے تھے یہ تمہیں اس سے روک کر دوسرے راستے پر لگانا چاہتا ہے۔ تو قالو وہ کہتے ما ھذا الا رجل نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمہیں اس سے جس کی تمہارے آباؤ اجداد عبادت کیا کرتے تھے۔ وقالوا اور کہا اور کہتے جی۔ اور کہتے ہیں ما ھذا نہیں ہے یہ، یعنی قرآن کے بارے میں، نہیں ہے یہ الا افک مفترا مگر افق جھوٹ بھئی، مفترا گھڑا ہوا، ما ھذا کہ یہ قرآن نہیں ہے الا افک مفترا مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ قرآن کے بارے میں کیا کہتے؟ یہ تو ایک گھڑا ہوا جھوٹ ہے اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ وقال الذین کفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا للحق حق کے بارے میں، لما ج حق یعنی دین حق کے بارے میں لما جاءھم جب وہ اس کے ان کے پاس آیا ان ھذا نہیں ہے یہ الا سحر مبین مگر واضح جادو۔ اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، یعنی دین حق کے بارے میں جب وہ ان کے پاس آیا کہ نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو۔ کھلا جادو ہے۔ یا حق سے مراد قرآن، کہ حق کے بارے میں، قرآن کے بارے میں کیا کہا جب ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ اس اعتبار سے کہ یہ جادوئی اثر رکھتا ہے بھئی۔ حیرت انگیز تاثیر تھی قرآن کی بھئی، قرآن کی، پیغمبر کی زبان سے جب قرآن سنتے تھے اور جب دلوں میں اتر جاتا تھا تو پھر نہ اپنے بھئی کی پرواہ ہوتی تھی، نہ اپنے والدین کی پرواہ ہوتی تھی، نہ اور رشتہ داروں کی، تو وہ اس کو اس لیے جادو کہتے تھے۔ وقال الذین کفروا للحق اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا حق کے بارے میں لما جاءھم جب وہ ان کے پاس آیا ان ھذا الا سحر مبین نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو۔ وما آتینھم من من کتب یدرسونھا اور نہیں دی ہم نے ان کو من کتب کتابوں میں سے، یعنی کوئی کتاب اور ہم نے نہیں دی ان کو کتاب کوئی کتاب یدرسونھا جسے وہ پڑھتے ہوں۔ یہ شرک کے راستے پر چل رہے ہیں، ہم نے ان کو کوئی ایسی کتاب نہیں دی جسے یہ پڑھتے ہوں اور اس میں لکھا ہو کہ یہ شرک کرو اس طرح، یہ اپنی طرف سے انہوں نے شرک وغیرہ کی جو باتیں ہیں، ان مشرکین نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں۔ وما آتینھم من کتب اور نہیں دی ہم نے ان کو کتابوں میں سے کوئی یدرسونھا جسے وہ پڑھتے ہوں وما ارسلنا الیہم قبلکا قبلکا اے پیغمبر آپ سے پہلے من نذیر کوئی ڈرانے والا نہ تو ان لوگوں کو ہم نے کوئی ایسی کتاب دی ہے جسے وہ پڑھتے ہوں اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا، یعنی کوئی پیغمبر بھیجا ہے کہ جو ان کو یہ کہتا ہو کہ یہ شرک کے راستے پر چلو، اللہ کے شریک بناؤ یہ سب اپنی طرف سے گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور جب حق بات آتی ہے تو اس کو یہ جادو کہتے ہیں۔ و کذب الذین من قبلھم اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، جو ان سے پہلے قومیں گزریں اور جن میں ہم نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں تو انھوں نے بھی اسی طرح جھٹلایا تھا ان پیغمبروں کو۔ و کذب الذین اور جھٹلایا ان لوگوں نے من قبلھم جو ان سے پہلے تھے وما بلغوا معشار ما آتینھم اور نہیں پہنچے یہ لوگ معشار معشار بمعنا کا معنی ہے عشر، دسواں حصہ وما بلغوا معشار ما آتینھم اور یہ جو مشرکین مکہ ہیں، یہ نہیں پہنچے وہ جو ہم نے ان کو دیا تھا اس کے دسویں حصے کو بھی۔ یہ مشرکین مکہ ان کو بھی ہم نے مال و دولت، قوت وغیرہ دی ہے، لیکن پچھلے لوگوں کو ہم نے جو قوت اور ان کو مال و دولت دیا تھا اور ان کو ان کو اولاد وغیرہ دی تھی، یہ لوگ ان لوگوں کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے، یعنی ان کو تو ہم نے بڑی کثرت سے چیزیں دی تھیں۔ فکذبوا رسلی تو انھوں نے جھٹلایا میرے پیغمبروں کو فکیف کان نکیر پس کیسا تھا میرا انکار کرنا۔ ای نکیری یہ یہاں یا محذوف ہے، مضاف الیہ ہے بھئی۔ اور اس پر را کا کسرہ دلالت کر رہا ہے بھئی۔ پس کیسا تھا ان پر میرا انکار کرنا، یعنی ان کا جو ہم نے عذاب دیا کیسے ہم نے ان کو عذاب دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ مشرکین مکہ اپ کو جھٹلاتے ہیں، میری کتاب کو جھٹلاتے ہیں، اس سے پہلے جو آئے تھے انہوں نے بھی ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا اور وہ ان کو تو ہم نے بہت کچھ دیا تھا، یہ تو ان کے دسویں حصے کو نہیں پہنچے تو ان پر ہم نے زبردست عذاب نازل کیا اور ان کا نام و نشان مٹا دیا تو یہ مشرکین مکہ کیا چیز ہیں؟ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے و کذب الذین من قبلھم اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے واما بلغوا اور نہیں پہنچے بلغوا کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ یہ مشرکین مکہ کو اور نہیں پہنچے یہ مشرکین مکہ معشار ما آتینھم اس کے دسویں حصے کو بھی جو ہم نے ان کو دیا تھا، یہ آتینھم کی ھم ضمیر کس کو راجع ہے؟ وہ جو پہلے گزرے تھے۔ فکذبوا رسلی تو انہوں نے جھٹلایا میرے پیغمبروں کو فکیف کان نکیر پس کیسی تھی کیسا تھا میرا عذاب ان پر۔ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
88 approved lectures · 39 of 88