Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم آیہ، جنّتان عن یمین وشمال۔ کلوا من رزق ربکم واشکروا لہ، بلدۃ طیبۃ ورب غفور۔ فأعرضوا فأرسلنا علیہم سیل العرم وبدّلناہم بجنّتَیہم جنّتَین ذواتَی أکل خمط وأثل وشيء من سدر قلیل۔ ذلک جزایناہم بما کفروا، وہل نجازی إلا الکفور۔ لقد کان لسبا، البتہ تحقیق تھا قوم سبا کے لیے فی مسکنہم ان کے رہنے کی جگہ میں یعنی ان کے وطن میں آیہ نشانی۔ البتہ تحقیق تھی قوم سبا کے لیے ان کے رہنے کی جگہ میں نشانی۔ یعنی قوم سبا کے لیے ان کے رہنے کی جگہ میں نشانی تھی۔ جنّتان عن یمین وشمال، جنّتان دو باغ تھے، عن یمین وشمال، دائیں طرف اور بائیں طرف۔ دائیں طرف اور بائیں طرف دو باغ تھے۔ یعنی دو باغوں کی قطاریں تھیں، مراد یہ ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ باغوں کی قطاریں تھیں دائیں اور بائیں بھئی۔ کلوا من رزق ربکم، کھاؤ تم یعنی اے قوم، اے قوم سبا والو، کلوا من رزق ربکم، کھاؤ تم اپنے پروردگار کے رزق میں سے واشکروا لہ، اور شکر ادا کرو تم اس کا، بلدۃ طیبۃ ورب غفور، پاکیزہ شہر ہے، ورب غفور اور بخشنے والا رب ہے، بخشنے والا پروردگار ہے۔ بھئی اب یہ وہ قوم سبا کا ذکر آیا کہ جس کی وجہ سے ان کی وجہ سے یہ سورت کا نام بھی کیا ہے؟ سورہ سبا ہے کہ ان کا تذکرہ ہے اس میں قوم سبا بھئی۔ یہ اللہ فرما رہے ہیں کہ ان کے رہنے کی جگہ میں نشانی تھی دو باغ تھے، یعنی دو باغوں کی قطاریں تھیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ ان کو اللہ نے بڑی نعمتیں دی تھیں بھئی ان لوگوں کو۔ بڑی نعمتیں اور ان کے علاقے میں خوب کثرت سے پھل دار درخت تھے بھئی۔ بہت باغات تھے، بڑے پھلوں والے درخت تھے۔ اتنے پھل دار درخت تھے اتنے زیادہ اتنے زیادہ کہ کہتے ہیں اور پھر آگے ذکر آئے گا کہ قریب قریب بستیاں آباد تھیں۔ یہ یمن کے علاقے میں تھے اور یمن سے شام تک تجارتی قافلے آتے جاتے تھے اور راستے میں قریب قریب بستیاں تھیں اللہ فرماتے ہیں۔ یعنی اس ترتیب سے ہم نے بستیوں کو آباد فرمایا تھا اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جب سفر پر نکلتے تھے تو انہیں اپنے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں لے جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ جہاں پڑاؤ کا موقع آتا، وہاں دوسری بستی ہوتی تھی بھئی تو وہیں کھانے پینے کا انتظام ہو جاتا۔ باقی جگہوں پر تو بھئی جہاں بھی جب کوئی سفر کرتا تھا، پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کب بستی میں پہنچے گا، بستی کہاں ملے گی، وہ کھانے کا سامان بھی ساتھ لے کر جانا پڑتا، پینے کا بھی سامان ساتھ لے کر جانا پڑتا۔ لیکن ان پر ہمارے اتنے انعامات تھے، ہم نے ان کے سفر میں بھی اتنی سہولت رکھی تھی کہ ہر جہاں پر ان کے پڑاؤ کا وقت آتا یعنی ہر منزل کے بعد کوئی نہ کوئی بستی ہوتی تھی جہاں سے کھانے پینے کا ضرورت کی چیزوں کا بندوبست ہو جاتا تھا۔ اور باغات تھے بھئی، ہر طرف باغات ہی باغات، راستے کے دونوں طرف باغات تھے، دائیں طرف بھی اور بائیں طرف بھی اور اتنے پھل دار درخت تھے، پھلوں کی کثرت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ان کی قریب قریب بستیاں تھیں، راستے کے دونوں طرف، ہر چند میل کے فاصلے پر بستی آتی تھی۔ جو راستے کے ساتھ ہوتی، راستے سے دکھائی دیتی تھی۔ اور اگر ایک بستی سے دوسری بستی تک کوئی شخص سر پر خالی ٹوکرا رکھ کر چلتا تھا تو آدھے راستے تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا وہ ٹوکرا پھلوں سے بھر جاتا تھا، وہ جو درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے تھے بھئی، اتنے زیادہ کثرت سے پھل ہوتے۔ اتنے درخت تھے، اتنے پھل دار اور اتنے کثرت سے ان پر پھل لگے ہوتے کہ پھل خود بخود ٹوٹ کر بھئی درخت سے گرتے رہتے ہیں تو وہ اتنے کثرت سے تھے کہ وہ ابھی آدھے راستے تک وہ شخص نہیں پہنچا ہوتا تھا کہ اس کا ٹوکرا پھلوں سے بھر جاتا تھا، اتنی کثرت سے پھل۔ اور اتنی پاکیزہ فضا تھی ان کی، اتنی پاکیزہ اور خوشبودار کہ مورخین بھی لکھتے ہیں جو جو ان کے علاقوں میں گئے کہ اتنی خوشبودار جگہ کہ انسان وہاں جا کر حیران رہ جاتا تھا بھئی۔ کہ خوشبو ہی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوتی اور اتنی پاکیزہ فضا تھی ان بستیوں کی کہ مکھی، مچھر، کھٹمل، پسو، سانپ، بچھو وغیرہ یہ چیزیں وہاں زندہ ہی نہیں رہتی تھیں۔ یہ تھے ہی نہیں وہاں سرے سے بھئی، زندہ ہی نہیں رہتے تھے وہاں پر۔ آ کوئی یہاں تک کہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا شخص ان کے علاقے میں چلا جاتا کہ جس کے سر میں جوئیں ہیں تو وہ جوئیں بھی وہاں مر جاتی تھیں بھئی، زندہ ہی نہیں رہتی تھیں بھئی۔ تو اتنا انعامات تھے ان پر اللہ کے بھئی۔ اور انہوں نے بھئی جو علاقہ تھا یمن کا، ریتلا ہے ریگستان کی طرح کا وہاں کوئی باقاعدہ دریا وغیرہ نہیں۔ بارش ہوتی، پہاڑوں سے پانی آتا، لیکن وہ پانی پھر آگے صحرا کی طرف چلا جاتا اور ختم ہو جاتا بھئی۔ تو بارش کے موقع پر ہی آتا اور پھر ختم بھی ہو جاتا۔ ان لوگوں نے جگہ جگہ اپنے بند بنائے ہوئے تھے، پانی کو روک لیا کرتے تھے پہاڑوں میں ہی اور پھر ضرورت کے مطابق اسے استعمال کرتے رہتے تھے۔ ان کا ایک بند سب سے بڑا تھا بھئی، سب سے بڑا بند جو ان کے دارالحکومت مآرب کے پاس تھا، مآرب۔ اور تو وہ بند دو پہاڑوں کے درمیان انہوں نے بہت بڑی دیوار بنائی تھی بند بنایا تھا جو کہتے ہیں 150 فٹ اس کی لمبائی تھی 150 فٹ۔ اور اس دیوار کی چوڑائی 50 فٹ تھی بھئی۔ یعنی 50 فٹ موٹی دیوار تھی۔ بند بنایا تھا اور وہاں بہت پانی جو آتا تھا مرکزی جگہ تھی پانی بہت آتا بارش کے بعد تو وہ سارا اس بند میں رک جاتا، جو بارش کا سارا پانی جمع کرتے چلے جاتے اور پھر اطمینان سے اس کو سال بھر استعمال کرتے اور بیچ میں کبھی بارش ہو جاتی اور پانی آ جاتا اور پھر اس کا انہوں نے بہترین انتظام کیا ہوا تھا۔ ذرا اب سوچیں تو صحیح 50 فٹ موٹی دیوار، کتنی محنت انہوں نے کی ہوگی اور 150 فٹ لمبی ہے اور کتنی اونچی ہوگی؟ دو پہاڑوں کے درمیان بنائی، تو اس میں پھر انہوں نے دائیں بائیں دو دروازے بنائے ہوئے تھے جہاں سے وہ آب پاشی کے لیے انہوں نے پانی جاری کر دیتے تھے نہر نہریں بنائی تھیں۔ اس کے علاوہ اس میں اور بھی انہوں نے بہت سی کھڑکیاں وغیرہ بنائی تھیں اوپر نیچے ضرورت کے مطابق ان کو کھولتے تھے۔ پانی زیادہ ہوتا، اوپر والی کھڑکی کھول دیتے تھے۔ اور پھر جب پانی آہستہ آہستہ کم ہوتا، تو پھر اس سے نیچے والی کھول دیتے، اس سے پانی کم ہو جاتا، پانی کی سطح نیچے چلی جاتی تو اس سے نیچے والی کھڑکی کھول دیتے تو ایک بڑا بہترین انہوں نے انتظام کیا ہوا تھا پانی وغیرہ کا۔ لیکن یہ ناشکرے لوگ تھے۔ ناشکرے لوگ تھے۔ بجائے اس کے کہ اللہ کی ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتے، یہ ناشکری کرنے لگے۔ سفر میں ان کے لیے اتنی آسانی تھی۔ کہنے لگے کہ اے اللہ ہمارے سفر میں دوری فرما دے۔ یہ کیا ہم جب سفر پہ نکلتے ہیں اگلی منزل پہ پہنچ منزل جتنا سفر کرتے ہیں تو آگے دوسرا گاؤں ہوتا ہے۔ لوگوں سے ہم سنتے ہیں سفر میں بڑی تکلیف ہوتی ہے، کہیں کھانا نہیں ملتا، کہیں پینا پانی پانی نہیں ملتا تو اس طرح ہونا چاہیے ہمارا بھی اس طرح ہونا چاہیے، یہاں تو ذرا بھی تکلیف نہیں ہے، تکلیف آئے ذرا لطف آئے گا سفر کا تو اللہ فرماتے ہیں انہوں نے ناشکری کی۔ اور بھی انہوں نے نافرمانیاں کیں اور ناشکریاں کیں تو ہم نے ان پر سیلاب جو ہے یرحمك اللہ، وہ سیل بند جو انہوں نے بنایا تھا، وہ اس کا ٹوٹ گیا اور اس میں ان کے سارے وہ باغ جو ہیں وہ غرق ہو گئے بھئی۔ اور وہ بند بھی اس طرح ٹوٹا ہوا یہ کہ اس بند کے نچلے حصے میں کسی چوہے نے سوراخ کر دیا۔ تو اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی نکلنے لگا اور پھر پانی جب ایک دفعہ راستہ بن جائے تو آہستہ آہستہ وہ مٹی ساتھ چلتی نکلتی چلی جاتی ہے، وہ تو راستہ بڑا ہوتا گیا یہاں تک کہ بند ہی پھر پورا ٹوٹ گیا اور اور اتنے باغات ان کے انہوں نے اس نظام کے ذریعے جو آبپاشی کا بنایا ہوا تھا، سینکڑوں مربع میل کے علاقے کو انتہائی سرسبز بنا رکھا تھا اور بڑی اس کی اللہ نے پاکیزہ فضا رکھی تھی۔ تو یہ پانی جو تھا، پانی عذاب کا پانی تھا چونکہ اللہ کی طرف سے بطور عذاب کے تھا، تو اس لیے جہاں جہاں یہ پانی پہنچا وہ سارے باغات بالکل ختم ہو گئے اور پھر اس کے بعد بس کچھ خشک درخت رہ گئے، بیکار سے کچھ کیکر وغیرہ اور اس طرح کے کچھ بیری وغیرہ کے کچھ درخت رہ گئے، باقی سب درخت بالکل ختم ہو گئے۔ سمجھ میں آیا ورنہ عام سیلاب ہوتا تو کچھ علاقہ چلو خراب بھی ہو جاتا اور پھر دوبارہ درخت اگاتے، لیکن عذاب کا پانی تھا بھئی جہاں ایک دفعہ جہاں پہنچ گیا بس اس کے بعد وہ پھلوں والے درخت وہاں سے بالکل ختم ہو گئے، اور یہ لوگ بالکل تتر بتر ہو گئے، کوئی کچھ تو غرق ہو گئے ہوں گے اور باقی جو اکثر جو بچ گئے، وہ کوئی کس طرف چلا گیا، کسی ملک میں جا کر آباد ہوا، کوئی کسی ملک میں جا کر آباد ہوا، ہر طرف بکھر گئے، پھیل گئے۔ انہیں میں سے کوئی ایک شخص جو تھا وہ پھر مدینہ منورہ میں آ کر رہنے لگا اور اسی کی اولاد سے پھر یہ اوس اور خزرج جو انصار کے دو قبیلے تھے، یہ انہی کی نسل میں سے پھر تھے بھئی۔ جی واقعہ سارا سمجھ میں اگیا بھئی؟ جی تو یہی بیان ہو رہا ہے بھئی دیکھیے، لقد کان لسبا فی مسکنہم آيۃ، البتہ تحقیق تھی قوم سبا کے لیے ان کے رہنے کی جگہ میں نشانی۔ جنّتان عن یمین وشمال، دو باغ تھے دائیں طرف اور بائیں بائیں طرف، یعنی دو باغوں کی قطاریں تھیں دائیں اور بائیں، کلوا من رزق ربکم واشکروا لہ، کھاؤ تم اپنے پروردگار کے رزق میں سے اور اس کا شکر ادا کرو، بلدۃ طیبۃ ورب غفور، یہ پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا پروردگار ہے۔ یہ بلدۃ طیبۃ یہ بھی خبر ہے مبتدا محذوف ہے۔ ای ہذہ البلدۃ یہ جو تمہارا شہر ہے بلدۃ طیبۃ یہ پاکیزہ شہر ہے۔ ورب غفور اور اللہ تعالی بخشنے والے رب ہیں یعنی تمہارے وہ رب جو تمہیں رزق دیتے ہیں وہ بخشنے والے پر رب ہیں۔ فأعرضوا، پس انہوں نے اعراض کیا، انہوں نے منہ موڑا۔ فأرسلنا علیہم سیل العرم، پس بھیجا ہم نے ان پر سیل العرم۔ سخت سیلاب، سیل سیلاب اور عرم سخت، بھئی سخت، ناقابل برداشت۔ تو سیل العرم یاد رکھیے یہ اضافت ہے موصوف کی صفت کی طرف۔ سیل ہے موصوف اور العرم ہے اس کی صفت۔ تو یہ اصل میں اس کی صفت تھی، پھر عربی میں یوں کرتے ہیں کہ بعض اوقات موصوف پہلے ہے صفت بعد میں ہے، ہیں تو موصوف صفت لیکن پھر اس کو وصْفیت سے منقطع کر کے اس کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے موصوف کی صفت کی طرف بھئی۔ تو سیل موصوف تھا، لیکن پھر اس کی کیا کر دی گئی اپنی صفت کی طرف اضافت کر دی گئی بھئی۔ اور عرم کا کیا معنی کیا میں نے؟ سخت۔ تو السیل العرم یہ اصل میں یہ تھا بھئی۔ سخت سیلاب ہم نے ان پر بھیجا۔ اور بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ عرم یہاں سخت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ عرم جمع ہے عرمۃً کی، جیسے کلم جمع جمع ہے کس کی؟ کلمۃً کی تو عرم جو ہے یہ اس کا مفرد جو ہے وہ عرمۃً آتا ہے۔ یعنی اس میں جنس ہے اور اور یہ بند کو کہتے ہیں، وہ جو پانی روکنے کے لیے بند بنایا جاتا ہے جو ان لوگوں نے بھی بنایا تھا، اس بند کو کیا کہتے ہیں؟ عرم۔ تو معنی کیا ہوا؟ فأرسلنا علیہم سیل العرم بھیجا ہم نے ان پر بند کا سیلاب، اس بند کا سیلاب بھیجا، وہ ٹوٹ گیا اور اس کا پانی ان پر آیا۔ وبدّلناہم بجنّتَیہم اور ہم نے بدل دیا ان کے دو باغات کو وبدّلناہم بجنّتَیہم اور ہم نے بدل دیا ان کے دو باغات کو کس سے؟ جنّتَینی، دو ایسے باغات سے ذواتَی أکل خمطٍ، ذواتَی أکل خمطٍ۔ أکل کہتے ہیں پھل کو پھل۔ خمط، خمط کا معنی ہے کڑوے یہ بد مزہ تو بدل دیا ہم نے ان کے باغ دو باغوں کو کس سے بدلا جنتی جنتینی ذوات اکل خمسن کڑوے پھل والے دو باغوں سے ان کے باغوں کو بدل دیا کڑوے پھل والے دو باغوں سے ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے مال والا اور اسی سے مؤنث کے لیے ذات اور ذوات استعمال ہوتا ہے تو ذوات اکلن کیا معنی ہوا پھل والے اور خمسن صفت ہے اکل کی یعنی کڑوے پھل والے تو بدل دیا ہم نے ان کے دو باغوں کو کڑوے پھل والے باغ دو باغوں سے و اصلن اور جھاو کے درخت سے اصل یہ کوئی درخت ہے بھئی کوئی درخت جس کا نام لغت میں جھاو لکھتے ہیں بھئی بعضوں نے کہا یہ کیکر بھئی کیکر مراد ہے یہ تو کیکر مراد ہے یا اس جیسا کوئی اور درخت جس میں کوئی خاص پھل وغیرہ نہیں ہوتا کوئی خاص نفح نہیں ہے جس کا تو بدل دیا ہم نے ان کے دو باغوں کو دو ایسے باغوں سے جو کڑوے پھل والے تھے و اصلن اور جھاو کے درخت والے تھے یہ اصلن کا عطف ہے اکل پر ذواتی اصلن جھاو کے درخت والے یا کیکر کے درخت والے بھئی بعضوں نے کہا کیکر کے درخت بعضوں نے کہا اور بھئی یہ ہے بہرحال کوئی درخت کی قسم ہے بھئی جس میں کوئی خاص پھل وغیرہ بھی نہیں ہوتے اور بیری وغیرہ جیسا اس طرح کوئی معمولی سا کچھ پھل باز کہتے ہیں ہوتا ہے باز کہتے ہیں بالکل سرے سے پھل ہوتا ہی نہیں اس میں بھئی جھاو جیم دو آنکھوں والی حا اور الف اور پھر و اور اس پر ہمزہ جھاو و شئ من سدر قلیل و شئ من سدر اور کچھ من سدر سدر کہتے ہیں بیری کو اور کچھ بیری میں سے قلیل تھوڑی سی و شئ من سدر قلیل اور کچھ تھوڑی بیری بیری بھئی یہ چیزیں رہ گئیں اور باقی ہم نے ختم کردیا سارا کچھ ان کا سدر قلیل بھئی قلت کا فائدہ تو قلیل سے معلوم ہوا بیریاں تھیں بھئی کچھ لیکن وہ زیادہ تھیں یا تھوڑی تھیں؟ تھوڑی تھیں قلیل نے بتا دیا اور شئ تحقیر کے طور پر لایا گیا بس کچھ تھوڑی سی حقیر سی بھئی بیریاں تھیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ دوبارہ دیکھیے فاعرضو پس انہوں نے اعراض کیا انہوں نے منہ موڑا فارسلنا علیہم سیل العرم پس بھیجا ہم نے ان پر بند کا سیلاب وبدلناہم اور بدل دیا ہم نے انہیں بجنتیہم ان کے دو باغوں کو جنتینی دو ایسے باغوں سے ذوات اکل خمس و اصلن جو کڑوے پھلوں والے تھے اور جھاو والے تھے و شئ من سدر قلیل اور کچھ تھوڑے سے بیری میں سے ذالک جزیناہم یہ ہم نے بدلا دیا ان کو بما کفروبسبب ان کی ناشکری کے یا ببسبب ان کے کفر کے ذالک جزیناہم بما کفر یہ ہم نے بدلا دیا ببوجہ ان کے کفر کے وہل نجازی الا الکفور اور ہم بدلہ نہیں دیتے یعنی یہ والا بدلہ اس قسم کا بدلہ وہل نجازی جی حل یہاں نفی کے لیے آیا ہے بھئی نفی کے معنی میں وہل نجازی نجازی ہم بدلہ دیتے ہیں اور حل آیا کیا معنی؟ ہم بدلہ نہیں دیتے یعنی اس قسم کا بدلہ یہ جو اوپر ذکر ہوا وہل نجازی اور ہم اس قسم کا بدلہ نہیں دیتے الا الکفورا مگر ناشکروں کو بڑے ناشکروں کو ہم اس قسم کا بدلہ بڑے نا تو یہ اس کا بامحاورہ پھر کیسے کر لیں گے؟ اور نہیں دیتے ہم اس قسم کا بدلہ مگر بڑے ناشکروں کو یہ تو ہے لفظی ترجمہ بامحاورہ اس قسم کا بدلہ تو ہم بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں سمجھ میں آیا وہ نفی کو ختم کر دیں نفی اور استثناء ہے نا نفی اور استثناء حصر کے لیے آتا ہے کہ یہ معلوم کہ ہم نہیں دیتے اس قسم کا بدلہ مگر کس کو؟ بڑے ناشکروں کو تو جہاں بھی اس طرح آئے تو حصر کو ذکر کرنے کے لیے وہ نفی وغیرہ ختم کردیں اور کیا ترجمہ ہو جائے گا؟ اور ہم اس قسم کا بدلہ بڑے ناشکروں کو ہی دیتے ہیں یہ ہی جو ہے نا یہ حصر کے لیے آگیا بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں وجعلنا بینہم اور بنا دیا تھا ہم نے ان کے درمیان وبین القری التی بارکنا فیہا اور اس ان بستیوں کے درمیان قرا جمع ہے قریہ کی بھئی وبین القرا اور ان بستیوں کے درمیان التی بارکنا فیہا جن میں برکت رکھی تھی ہم نے وہ بستیاں کہ برکت رکھی تھی ان میں ہم نے مراد شام کا علاقہ ہے بھئی شام تو وہاں برکت رکھی تھی اللہ نے یعنی وہاں وہ بڑے باغات ہیں خوب پانی ہے خوب پھل ہیں ہر طرف سبزہ ہے نعمتیں ہیں اللہ تعالی کی بھئی تو کہتے ہیں وجعلنا بین یہ وہ ذکر آ رہا ہے وہ جو میں نے ذکر کیا تھا کہ وہ جو ہر منزل پر بستیاں تھیں ان کے سفر کے راستے میں وہی ذکر آ رہا ہے یہ لوگ جو یہ تھے یمن کے اندر اور سفر کرتے تھے کہاں کا؟ شام کا تجارت کے ارادہ سے شام کا سفر کرتے تھے تو اس سارے راستے میں جگہ جگہ بستیاں آباد تھیں راستوں کے اطراف میں وجعلنا بینہم اور بنا دیا تھا ہم نے ان کے درمیان وبین القری التی بارکنا فیہا اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی یعنی شام میں قرن کیا بنایا تھا ہم نے قرن ایسی بستیاں ظاھرتا جو ظاہر تھیں جو یعنی نظر آتی تھیں راستے کے میں دونوں طرف نظر آتی تھیں تو وقدرنا اور اندازہ کر رکھا تھا فیہا ان میں السیرا چلنے کا اور ہم نے اس میں چلنے کا ایک اندازہ کر رکھا تھا جیسے میں نے ابھی بتایا بھئی کہ اس اندازے سے تھی وہ کہ منزل ایک منزل کا جب سفر ہوتا تھا تو سامنے دوسری بستی کے آثار نظر آنے لگتے تھے اس اندازے یہ معنی ہے کہ ہم نے اندازہ کر رکھا تھا ان میں چلنے کا سیر و چلو تم لوگ یعنی اے اہل صبا تم چلو فیہا اس میں ان میں لیالیاں رات کے وقت و ایام اور دن کے وقت امنین اس حال میں کہ تم امن سے ہو یعنی ان میں چلو تم راتوں کو اور دنوں کو امن کے ساتھ ڈاکوؤں وغیرہ کسی چیز کا کوئی خطرہ ہی نہیں ہوتا تھا بھئی ڈاکوؤں کا تو خطرہ ہوتا جہاں بالکل اجاڑ بیابان دور دور تک کچھ بھی نہ ہو وہاں خطرہ ہوتا ہے یہاں تو ایک بستی سے نکلتے تھے تھوڑا ہی فاصلہ طے کرتے تھے دوسری بستی آ جاتی تھی تو کہتے ہیں اللہ فرماتے ہیں وجعلنا بینہم وبین القری التی بارکنا بارکنا فیہا اور بنا دیا تھا ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی یعنی شام کا علاقہ جو ہے قرن ان میں کیا بنا دی تھیں ایسی بستیاں ظاھرتا جو ظاہر تھیں یعنی نظر آتی تھیں راستے سے اطراف وقدرنا فیہا السیرا اور اندازہ کر رکھا تھا فیہا ان میں السیرا چلنے کا سیروا فیہا لیالیاں و ایام امنین چلو تم ان کے اندر راتوں میں اور دنوں میں امنین امن کے ساتھ فقالوا پس کہا انہوں نے ربنا اے ہمارے پروردگار باعد بین اسفارنا دوری کر دیجیے بین اسفارنا ہمارے سفروں میں کیا کہنے لگے؟ یہ سفر کا تو مزہ ہی نہیں آتا ایک منزل پہ پہنچو آگے دوسری بستی ہوتی ہے سفر تو ایسا ہو کہ بھوک لگے پیاس لگے کچھ کھانے کو نہ ملے کچھ پینے کو نہ ملے مشقت ہو تکلیف ہو تو یہ ناشکری تھی بھئی فقالوا پس کہ کہا انہوں نے ربنا اے ہمارے پروردگار باعد بین اسفارنا دوری ڈال دیجیے ہمارے سفروں میں و ظلموا انفسہم اور ظلم کیا انہوں نے اپنے نفسوں پر یعنی اس کے علاوہ اور بھی نافرمانیاں کیں و ظلموا انفسہم اور ظلم کیا انہوں نے اپنے نفسوں پر فجعلناہم احادیسا پس بنا دیا ہم نے ان کو کہانیاں احادیس ہم نے ان کو کیا بنا دیا کہانیاں بنا دیا ختم کر دیا تتر بتر ہو گئے کوئی کہاں چلا گیا کوئی کہاں چلا گیا کچھ بھی وہاں نہ رہا بس کہانیوں کی طرح ان کا ذکر ہی رہ گیا اور کچھ نہ رہا تو احادیس یہ حدیث کی جمع نہیں ہے یہاں پر یاد رکھنا احادیس یہاں یہ جو آیا یہ جمع ہے اححدثۃ کی اححدثۃ اور اححدثۃ کہتے ہیں کہانی کو افسانے کو حکایت کو فجعلناہم احادیسا پس ہم نے ان کو افسانے بنا دیا و و مزقناہم یہ پہلے بھی لفظ گزرا ہے کیا ترجمہ کیا بھئی؟ ریزہ ریزہ کرنا یہاں پر یوں کر لیں اس کا وہی ترجمہ اسی طرح کا ہوگا دیکھیے و مزقناہم اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کل مفرق بالکل ٹکڑے ٹکڑے کرنا ان کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے یعنی بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا یعنی یعنی ان کو متفرق کر دیا وہی معنی ٹکڑے ٹکڑے کوئی کدھر چلا گیا کوئی کدھر چلا گیا تو بامحاورہ یا پھر یوں ترجمہ کر لیں جیسے کہ بعض علماء نے ہمارے کیا ہے اور ہم نے ان کو بالکل تتر بتر کر دیا معنی وہی ہے ٹکڑے پہلے بھی کیا تھا تو پہلے تھا موقع محل کے مطابق وہاں کیا تھا مزقناہم کا معنی بالکل ریزہ ریزہ جب ہو جائیں مٹی میں ملیں گے تو وہاں مٹی میں ملیں ہیں تو وہاں اسی کے مطابق کر لیں ترجمہ بالکل ریزہ ریزہ کر دیا اور یہاں یہاں بھی وہی معنی لیکن ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کیونکہ یہاں مراد کیا ہے کہ ان کو متفرق کر دیا بھئی بالکل متفرق کوئی کدھر چلا گیا جس کا جس طرف کو رخ ہوا اس علاقے کا اس نے رخ کر لیا و مزقناہم کل مفرق اور ہم نے انہیں بالکل تتر بتر کر دیا ان فی ذالک لآیات لکل صبار شکور یقینا اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں لکل صبار ہر صبر کرنے والے شکور شکر گزار کے لیے اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ اور البتہ تحقیق صدق علیہم سچا کیا یا سچا پایا علیہم ان پر صبا والوں پر سچا پایا ان پر ابلیس ابلیس نے ظنہ اپنے گمان کو اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنے گمان کو سچا پایا بھئی ابلیس نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ نے سزا دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگا اے اللہ مجھے مہلت دے دیجیے تو اللہ نے مہلت دے دی اور اس نے اس وقت کہا کہ میں ان لوگوں کو گمراہ کروں گا ان لوگوں کو کیا کروں گا یہ انسانوں کو میں گمراہ کروں گا سوائے ان کے جو آپ کے نیک بندے ہوں گے وہ بچ جائیں گے باقی سب کو میں گمراہ کروں گا تو یہ اس نے اس وقت کہا تھا لیکن اس کا اس کو یقین نہیں تھا کہ میں ایسا کر بھی پاؤں گا یا نہیں البتہ اس کا گمان تھا کیا تھا گمان تھا اور یہ پھر اس کے راستے پر چلے تو ان کے بارے میں ابلیس نے اپنے گمان کو سچا پایا ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ اور البتہ تحقیق سچا پایا ان پر ابلیس نے اپنے گمان کو فاتبعوہ پس ان لوگوں نے اتباع کیا اس کا الا فریقا من المومنین مگر مومنین میں سے ایک گروہ نے مومنین کے ایک گروہ نے الا فریقا مگر ایک گروہ نے من المومنین یعنی کہ مومنین جو ایمان لانے والے تھے ایمان والے تھے وہ ایک گروہ جو تھا تو من المومنین یہ بیان ہے فریقا کا ایک گروہ یعنی کہ وہ کون سا گروہ تھا؟ مومنین کا گروہ تھا سمجھ میں آئی بات تو من تباعی اس کے لیے نہیں بعض من تباعی کے لیے ہو ترجمہ آپ یوں کریں اگر مگر ایک گروہ من المومنین مومنین میں سے تو اس کا مطلب ہے ایک گروہ مومنین میں سے وہ انہوں نے اتباع نہیں کیا شیطان کا باقی مومنین نے بھی کیا کیا؟ بھئی میں آپ سے کہتا ہوں میں نے درہموں میں سے اٹھا لیے کیا ترجمہ ہوگا سارے اٹھا لیے یا باز اٹھائے؟ ہاں یہ من فائدہ دے رہا ہے تباعی اس کا لیکن یہاں یہ تباعی کے لیے نہیں ہے ایک گروہ مومنین میں سے تو اگر یہ ترجمہ کریں گے تو یہ تو تباعی والا ترجمہ ہو گیا بلکہ کیا مراد ہے یہ یہ من تباعی کے لیے نہیں ہے من بیان کے لیے مگر ایک گروہ نے بھئی وہ کون سا گروہ تھا؟ بیان چاہیے بھئی سمجھ میں آئی بات تو وہ من المومنین کے لیے بیان آ گیا تو اس کا ترجمہ یعھم اللہ عموما یعنی کے ساتھ کرتے ہیں مگر ایک گروہ یعنی کہ مومنین نے یا دوسری طرح اگر آپ ملا کر کرنا چاہتے ہیں تو یوں کر لیں الا فریقا من المومنین مگر مومنین کے گروہ نے مگر مومنین کے ایک گروہ نے جی تو بہرحال آپ کو جو مناسب بہتر لگے آپ اس طرح ترجمہ کر لیجیے بہرحال مفہوم تو واضح ہو گیا یا نہیں بھئی؟ جی۔ فاتبعوه پس انہوں نے اتباع کیا ابلیس کا الا فریقا من المومنین مگر مومنین کے ایک گروہ نے وما کان لہ علیہم من سلطان وما کان لہ اور نہیں تھا اس ابلیس کے لیے علیہم علیہم ان قوم صبا والوں پر من سلطان کوئی غلبہ۔ کوئی زور۔ ابلیس کا کوئی ان پر غلبہ یا کوئی زور نہیں تھا۔ یعنی شیطان نے کوئی لاٹھی یا تلوار کے زور پر ان کو گناہ پر مجبور نہیں کیا تھا، وہ تو بس وسوسے ڈالتا تھا اور برے راستے کو مزین کر کے دکھاتا تھا بس۔ اس کا کوئی زور نہیں تھا ان لوگوں پر۔ صرف وہ کیا کرتا تھا؟ برائی کو صرف مزین کر کے دکھاتا تھا باقی یہ خود اپنی مرضی سے پھر اس راستے کو اختیار کرتے تھے۔ وما کان لہ علیہم من سلطان اور نہیں تھا اس ابلیس کا ان صبا والوں پر کوئی زور الا لتعلم مگر یہ کہ ہم جان لیں من یؤمن بالآخرة اس کو جو ایمان رکھتا ہے آخرت پر۔ من من یہ جو من من یہ ہے اصل میں من من۔ من من اور پھر نون کو میم کر کے میم میں ادغام کیا گیا تو کیا بن گیا؟ میم من۔ سمجھ میں آیا؟ وہ ضابطہ نون کو میم میں کیوں میم کر کے ادغام کیا گیا؟ کیونکہ ضابطہ ہے حروف یرملون سے پہلے اگر کیا آجائے؟ نون ساکنہ آجائے۔ یعنی یا، را، میم، لام، واو، نون۔ ان سے پہلے اگر نون ساکنہ ہے تو اس کو بھی انہی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں۔ تو یرملون میں سے ایک میم بھی ہے۔ من من من نون ساکنہ آیا۔ آگے کیا ہے؟ من کا میم۔ تو میم آیا نون ساکن کے بعد اور میم کس میں سے ہے؟ یرملون میں میم آتا ہے یا نہیں آتا؟ تو لہذا اس سے ماقبل نون ساکنہ آیا تو اس نون کو بھی میم کر کے میم میں ادغام کیا تو کیا بن گیا؟ میم من۔ اور یاد رکھیے من جیسے ابتدا کا معنی ادا کرتا ہے، من جیسے تبعیض کا معنی ادا کرتا ہے، من جیسے کبھی بیان کے لیے آتا ہے، اسی طرح من کبھی کبھار دو مختلف اور متضاد چیزوں میں کو الگ الگ اور ممتاز کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ دو متضاد چیزوں کو الگ الگ اور ممتاز کرنے کے لیے بھی آتا ہے جیسے واللہ یعلم المصلح من المفسد۔ واللہ یعلم المصلح من المفسد۔ اللہ جانتے ہیں مصلح کو من المفسد مفسد کے مقابلے میں۔ مفسد سے جدا۔ اللہ مصلح کو مفسد سے جدا اور الگ جانتے ہیں یعنی مصلح کو بھی جانتے ہیں اور مفسد کو بھی جانتے ہیں دونوں کو الگ الگ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح من آیا یہ ان میں یعنی جدا کرنے کا معنی ہوگا یا مقابلے میں یہ ترجمہ کر لیں آپ دیکھئے کس طرح۔ الا لتعلم مگر یہ کہ تاکہ ہم جان لیں من یؤمن بالآخرة وہ جو ایمان رکھتا ہے آخرت پر۔ میم من اس سے الگ کر کے ہوا منہاسھ فشک۔ ہوا من من ہوا منہاسھ فشک۔ جو کہ وہ منھا اس آخرت کے بارے میں فشک شک میں ہے۔ بھئی کچھ لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ اس آخرت کے بارے میں شک میں ہیں وہ یقین نہیں رکھتے۔ تو من ھوا منھا فشک وہ لوگ جو اس آخرت کے بارے میں شک میں ہیں۔ ترجمہ دیکھیے تاکہ ہم جان لیں من یؤمن بالآخرة وہ جو ایمان رکھتے ہیں آخرت پر۔ میم من اس شخص کے مقابلے میں یا ان کے مقابلے میں کہ ہوا منھا فشک کہ جو اس آخرت کے بارے میں شک میں ہیں۔ اور لنعلم تاکہ ہم جان لیں اس پر آپ کے ذہن میں شبہ آئے گا تو کیا اللہ پہلے نہیں جانتے تھے؟ بھئی اللہ تو ہر چیز کو ہمیشہ سے جانتے ہیں۔ تو یہ بات پہلے تفصیل سے گزر چکی ہے کہ پھر اس کا معنی پھر کیا کر لیں؟ لی ظاہر لینظہر ہو جائے گا تاکہ ہم ظاہر کر دیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو اللہ فرماتے ہیں وما کان لہ علیہم من سلطان اور نہیں تھا شیطان کا ان پر کوئی زور ان اہل صبا پر کوئی زور نہیں تھا وہ صرف وسوسے وغیرہ ڈالتا تھا اور یہ قدرت ہم اسے وسوسہ ڈالنے کی یہ قدرت اور یہ جو مہلت اسے دی تھی کس لیے دی تھی؟ صرف اسی لیے تاکہ ہم ظاہر کر دیں۔ تاکہ ہم ظاہر کر دیں اس کو جو ایمان رکھتا ہے آخرت پر اس کے مقابلے میں جو اس آخرت کے بارے میں شک میں ہے وربک علی کل شیء حفیظ اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ قل ادع الذین زعمتم من دون اللہ قل اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے۔ ادعو اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے یعنی کفار مکہ سے کہہ دیجیے۔ بھئی دیکھیے اس سے پہلے حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر آیا وہ اللہ کے شکر گزار بندے، پھر اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر آیا وہ بھی اللہ کے شکر گزار بندے، اس کے بعد قوم صبا کا ذکر آیا جو جو ناشکرے تھے اللہ کے احکامات کو ماننے والے نہیں تھے۔ تو اہل مکہ کے سامنے ان کا ذکر آ گیا کہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو جو ہمارے شکر گزار بندے ہوتے ہیں ہم ان پر اس طرح انعامات کرتے ہیں اور جو ہمارے ناشکرے ہوتے ہیں ہم ان کا اس طرح انجام کرتے ہیں۔ تو اے اہل مکہ تمہارے لیے ان میں عبرت ہے اگر تم کچھ عقل رکھتے ہو۔ چنانچہ یہ واقعات ان کے لیے ذکر کر دیے گئے اب پھر اللہ فرماتے ہیں قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے اہل مکہ سے ادعو الذین کہ اے اہل مکہ پکارو تم ان کو الذین زعمتم کہ جن کو تم گمان کرتے ہو یعنی معبود گمان کرتے ہو جن کو تم کیا گمان کرتے ہو؟ مفعول محذوف ہے بھئی زعمتم آلہۃ قل اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے ادعو الذین زعمتم کہ اے اہل مکہ پکارو تم ان کو جن کو تم معبود گمان کرتے ہو من دون اللہ اللہ کے علاوہ ان کو تم پکارو ذرا لا یملکون مثقال ذرۃ یہ جن کو تم کیا اللہ کے علاوہ معبود گمان کرتے ہو لا یملکون یہ مالک نہیں ہیں مثقال ذرۃ ایک ذرے کے برابر کے بھی۔ فی السماوات آسمانوں میں ولا فی الارض اور نہ زمین میں وما لہم اور نہ ہے ان کے لیے فیهما ان زمین اور آسمان میں من شرک کوئی شرکت۔ یہ جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود بنائے بیٹھے ہو اور ان کو پکارتے ہو یہ زمین اور آسمان میں ذرہ برابر چیز کے مالک بھی نہیں ہیں وما لہم فیهما من شرک اور نہ ان کی اس زمین اور آسمان میں کوئی شرکت ہے یعنی اللہ کے ساتھ یہ اس کے بنانے میں شریک بھی نہیں ہیں بھئی۔ اللہ کے ساتھ اس کے بنانے میں یہ معنی ہے وما لہم اور نہیں ہے ان کے لیے کن کے لیے؟ یہ جو ان کو جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں فیهما ان دونوں میں کن دونوں میں زمین اور آسمان اور نہیں ہے ان معبودوں کے لیے زمین اور آسمان میں من شرک کوئی شرکت۔ وما لہم منہم من ظہیر اور نہیں ہے لہو اللہ کس کے لیے؟ اللہ کے لیے۔ اور نہیں ہے اللہ کے لیے منہم ان میں سے جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے اور نہیں ہے اللہ کے لیے منہم ان میں سے من ظہیر کوئی مددگار۔ ان میں سے اللہ کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے۔ بھئی کفار مکہ یہ جو تھے یہ مشرکین یہ بتوں وغیرہ کی عبادت کرتے تھے اور اللہ کو تو وہ بھی مانتے تھے لیکن کہتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے کیا کریں گے؟ سفارش کریں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ بت جن کی تم اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو یہ زمین اور آسمان میں کسی ذرے کے برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ اس کے اندر ان کے بنانے میں ان کی وہ اللہ کے ساتھ شریک ہوئے ہیں اور نہ ہی اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار ہے بھئی کوئی ان میں سے اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے ولا تنفع الشفاعۃ اور شفاعت یعنی سفارش اور سفارش بھی نفع نہیں دے گی عندہ اللہ کے پاس اللہ کے نزدیک۔ یعنی کسی سفارش کرنے والے کی سفارش نفع نہیں دے گی اللہ کے نزدیک۔ الا مگر سوائے اس کے لمن اذن لہ اس شخص کے لیے اذن لہ جسے اللہ نے اجازت دی ہو بھئی۔ یعنی جسے اللہ اجازت دیں گے وہی سفارش کر سکے گا اور جس کے لیے اجازت دیں گے اسی کے لیے سفارش کر سکے گا۔ تو اللہ فرماتے ہیں ولا تنفع الشفاعۃ عندہ اور نفع نہیں دے گی سفارش عندہ ای عند اللہ اللہ کے نزدیک اللہ کے نزدیک سفارش نفع نہیں دے گی۔ یعنی کسی سفارش کرنے والے کی سفارش کسی دوسرے شخص کو نفع نہیں دے گی الا لمن مگر اس شخص کے لیے لمن سے کون مراد ہے؟ سفارش کرنے والا یا جس کی سفارش کی گئی کون مراد ہے؟ جس کے لیے سفارش کی گئی ہے لمن اس شخص کے لیے سفارش نفع دے گی اذن لہ جس کے لیے اللہ نے اجازت دی ہو بھئی جس کے لیے اجازت دی ہو سفارش کرنے کی پھر اس کے لیے دوسرے کی سفارش اسے نفع دے گی تو من سے کون مراد ہوا لمن کے اندر جو من آیا؟ جس کے لیے سفارش کی ہے بھئی۔ جی ولا تنفع الشفاعۃ عندہ اور نفع نہیں دے گی سفارش اللہ کے نزدیک الا لمن اذن لہ مگر اس شخص کے لیے اذن لہ کی اجازت دی ہو اس کے لیے سفارش کی۔ حتی اذا فزع عن قلوبہم یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہو جائے ان کے دلوں سے قالوا تو کہتے ہیں ماذا قال ربکم کیا فرمایا تمہارے پروردگار نے؟ قالوا الحق তো وہ کہتے ہیں حق فرما وھو العلی الکبیر اور وہ اللہ جو ہیں عالی شان ہیں سب سے بڑے ہیں۔ بھئی جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے তো کہتے ہیں اس طرح کی آواز آتی ہے جس طرح فرش پر ہموار پتھر کا فرش ہو اور اس پر لوہے کی زنجیر کو کھینچا جائے۔ تو جو آواز پیدا ہوتی ہے اس قسم کی آواز پیدا ہوتی ہے یہ بطور تشبیہ کے ہے تشبیہ کے طور پر سمجھانے کے لیے ذکر کیا گیا کہ اس طرح کی آواز آتی ہے جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے۔ آسمانوں پر فرشتے عرش کو جو تھامے ہوئے ہیں اور دوسرے فرشتے وہ جب اس آواز کو سنتے ہیں کہتے ہیں وہ تھر تھر کانپنے لگتے ہیں اور سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبردست گھبراہٹ ان پر طاری ہو جاتی ہے کہ معلوم نہیں اللہ کی طرف سے کیا حکم نازل ہونے لگا ہے۔ پھر جب ان سے گھبراہٹ کچھ دور ہو جاتی ہے کچھ ان کے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے تو پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اللہ نے کیا فرمایا؟ اللہ نے کیا حکم نازل کیا؟ تو وہ بتلاتے ہیں ان کو کہ فلاں حق بات اللہ نے فلاں حق حکم اللہ نے نازل کیا ہے بھئی۔ تو اوپر والے فرشتے جو ہیں وہ نیچے والوں کو بتاتے ہیں پھر وہ اپنے سے نیچے والوں کو بتاتے ہیں وہ اس سے اپنے سے نیچے والوں کو بتاتے ہیں اس طرح سب تک بات پہنچتی ہے کہ اللہ نے یہ حکم فرمایا ہے۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ تم نے ان کو معبود بنا رکھا ہے اللہ کے علاوہ حالانکہ یہ زمین اور آسمان میں ذرہ بھر کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ اس کے بنانے میں ان کی وہ اللہ کے ساتھ شریک ہوئے ہیں اور نہ یہ اللہ کی کسی چیز میں مددگار ہیں اور نہ اللہ کے پاس یہ سفارش کر سکتے ہیں اللہ کے ہاں تو بغیر اجازت کے کوئی سفارش نہیں کر سکتا اور سفارش کرنے والوں کا کیا پوچھتے ہو وہاں پر تو جو فرشتے ہیں جو اللہ کے مقربین ہیں ان کا بھی یہ حال ہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو وہ تھر تھر کانپنے لگتے ہیں اور خوف اور دہشت کی وجہ سے زمین پر سجدے میں گر پڑتے ہیں اور پھر جب ان کے اوسان بحال ہوتے ہیں پھر پوچھتے ہیں ایک دوسرے سے کہ اللہ نے کیا حکم نازل کیا؟ تو جب مقربین کا یہ حال ہے تو باقیوں کا کیا حال ہوگا تم خود ہی سوچ لو اور کس طرح تم ان بتوں کو جو ہے ان کی عبادت کرتے ہو اور اللہ کے ہاں ان کو اپنا سفارش کرنے والا تصور کرتے ہو۔ تو معنی سمجھ میں آگیا بھئی مقربین کا یہ حال ہوتا ہے تو باقیوں کا کیا حال ہوگا تو تم کیسے تو تصور کرتے ہو یہ بت پھر ہماری اللہ کے پاس سفارش کریں گے۔ حتا اب ترجمہ دیکھیے بھئی حتی اذا فزعا بھئی یاد رکھیے فزع کا معنی ہے ڈرانا کسی کو خوفزدہ کرنا لیکن اس کا صلہ جب عن آجائے تو اس کا معنی ہوتا ہے گھبراہٹ کے دور کرنا دور ہونا بھئی۔ حتی اذا فزع عن قلوبہم یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے عن قلوبہم ان کے دلوں سے قالوا تو وہ کہنے لگتے ہیں یعنی آپس میں ایک دوسرے کو فرشتے قالو وہ کہنے لگتے ہیں ماذا قال ربکم کیا کہا کیا فرمایا تمہارے پروردگار نے؟ قالو تو وہ کے جواب میں دوسرے کہتے ہیں الحق ای قال الحق اللہ نے حق فرمایا حق فرمایا یعنی فلاں حق بات اللہ نے فرمائی وھو العلی الکبیر اور اللہ جو ہیں عالی شان ہیں بہت بڑے ہیں۔ قالو وہ کہنے لگتے ہیں الحق یعنی اللہ نے حق فرمایا ای قال الحق قال الحق اللہ نے حق فرمایا وھو العلی الکبیر اور وہ عالی شان ہیں سب سے بڑے ہیں۔ چلیے بس یہ ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام
88 approved lectures · 38 of 88