اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
یا ایها الذین آمنوا اذکروا نعمة الله علیکم إذ جاءتكم جنود فأرسلنا علیهم ریحا وجنودا لم تروها وكان الله بما تعملون بصیرا
إذ جاؤوكم من فوقكم ومن أسفل منكم وإذ زاغت الأبصار وبلغت القلوب الحناجر وتظنون بالله الظنونا
هنالك ابتلي المؤمنون وزلزلوا زلزالا شدیدا
یا ایها الذین آمنوا یہاں سے اب غزوہ احزاب کا ذکر آ رہا ہے جس کی تفصیل کل میں نے بیان کر دی
یا ایها الذین آمنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اذکروا نعمة الله علیکم تم یاد کرو اللہ کی نعمت کو اپنے اوپر اللہ کے انعام کو اپنے اوپر یاد کرو اللہ کے فضل کو اپنے اوپر یاد کرو
إذ جاءتكم جنود جب آئے تمہارے اوپر بہت سے لشکر وہ سارے کفار عرب کے بہت سے قبیلے مل کر آئے تھے اس لیے اللہ نے کیا فرمایا إذ جاءتكم جنود جب تمہارے اوپر آگئے بہت سے لشکر فأرسلنا علیهم ریحا پس بھیجی ہم نے ان پر ایک آندھی وجنودا لم تروها اور ایسے لشکر لم تروها جنہیں تم نے نہیں دیکھا (یعنی فرشتے بھی نصرت کے لیے مسلمانوں کی نصرت کے لیے اللہ نے نازل فرمائے لیکن وہ کسی کو دکھائی نہیں دے رہے تو ان کا ذکر کیا اللہ نے)
وكان الله بما تعملون بصیرا میں نے بتایا یہ بما تعملون کا تعلق کس سے ہے بصیرا سے ہے اور یہ بما تعملون کو ذرا بصیرا سے مؤخر کریں پھر آپ کو ترجمہ واضح سمجھ میں آئے گا کس طرح وكان الله بصیرا بما تعمل اور اللہ دیکھنے والے تھے اللہ دیکھ رہے تھے جو کچھ تم کر رہے تھے
اللہ دیکھ رہے تھے جو کچھ تم کر رہے تھے یعنی خندق وغیرہ جو کھود رہے تھے اللہ وہ سب دیکھ رہے تھے
إذ جاؤوكم من فوقكم جب وہ آئے تم پر من فوقكم تمہارے اوپر سے ومن أسفل منكم اور تمہارے نیچے سے مدینے کی مشرقی جانب ذرا بلند تھی اور مغربی جانب ذرا نیچی تھی تو یہ دو جانبیں مراد ہیں اوپر کی جانب سے یعنی جو اوپر کا حصہ تھا مدینے کا اس جانب سے بھی دشمن اور جو نیچے والا حصہ تھا اس طرف سے بھی دشمن آیا
ایک طرف سے تو وہ لشکر آئے کٹھے اور دوسری طرف وہ بنی قریظہ والے تھے جنہوں نے بدعہدی کی تھی اور عین جنگ کی حالت میں معاہدہ توڑ دیا تھا
إذ جاؤوكم من فوقكم جب وہ آئے تم پر تمہارے اوپر سے ومن أسفل منكم اور تمہارے نیچے سے وإذ زاغت الأبصار اور جب ٹیڑھی ہوگئیں نظریں ٹیڑھی ہوگئیں نگاہیں زاغا کے معنی ہوتے ہیں مائل ہونا ایک طرف کو بھئی ایک طرف کو مائل ہونا تو یعنی دشمن سے یعنی تمام چیزوں سے ہٹ کر نظریں ایک ہی طرف مائل تھیں سب کی یعنی دشمن کی طرف اور چیزوں کی طرف نظر ہی نہیں تھی سب کی نظریں کس طرف مائل تھیں دشمن کی طرف بھئی تو یہ معنی بھئی زاغت الابصار کا کہ نگاہیں کیا تھیں آنکھیں مائل ہو رہی تھیں دشمن کی طرف یا بعضوں نے کہا زاغت الابصار کہ نگاہ کا ٹیڑھا ہونا یعنی سیدھی خوف اور دہشت کی وجہ سے ایسا وقت تھا کہ نظر کسی چیز پر گویا کہ جمتی نہیں تھی
نظر کسی چیز پر ہاں تو بس یہ خوف کا بتلانا اور دہشت کی وہ حالت بتلانا مقصد ہے کہ نظر کسی چیز پر جمتی نہیں تھی
خوف اور دہشت کی وجہ سے ایک طرف مائل ہو جاتی تھیں بھئی نظر تو انسان کیا کرتا ہے سیدھا دیکھتا ہے لیکن خوف کی وجہ سے نگاہ کسی چیز پر جمتی نہیں تھی تو چنانچہ بعضوں نے اس کا ترجمہ کیا کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں بھئی آنکھیں کیا ہوئیں خوف اور دہشت کی وہ حالت بیان ہو رہی ہے کہ ان کی نگاہیں کھلی کی کھلی رہ گئیں خوف اور دہشت کی وجہ سے وبلغت القلوب الحناجرا اور پہنچ گئے دل الحناجر حناجر جمع ہے حنجرة کی حنجرة اور حنجرة کہتے ہیں حلق کا جو سب سے نچلا حصہ ہے بھئی حلق کا حلق کا سب سے نچلا حصہ یہ جو ہے وہ اسے حنجرة کہتے ہیں اس کی جمع حناجر ہے تو ترجمہ کیا ہوا وبلغت القلوب الحناجرا اور پہنچ گئے تھے دل حلق تک بھئی خوف کی وجہ سے کیا کیفیت تھی کہ دل دل اچھل کر حلق تک پہنچ گئے تھے
بعضوں نے اس کا اور با محاورہ ترجمہ بڑا پیارا اردو میں کیا کہ کلیجے منہ کو آنے لگے تھے کلیجے منہ کو آنے لگے تھے وہ خوف کی کیفیت بیان ہو رہی ہے بھئی اندازہ لگائیے بھئی اللہ تعالی خوف ان کے بتلا رہے ہیں میں نے کل بھی ذکر کیا تھا کہ انسان اپنے منہ سے کہے کہ اتنی خوف کی حالت تھی کہ میرا دل اچھل کر حلق تک آگیا تھا اور کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا
تو بھی شبہ ہوگا اشکال ہوگا شاید یہ کچھ مبالغہ کر رہا ہو اتنا خوف ہو سکتا نہ ہو لیکن اللہ جو دلوں کی بات بھی جانتے ہیں وہ خالق ارض و سما فرما رہے ہیں اتنی خوف کا عالم تھا کہ ان مومنین کے دل حلق تک پہنچ گئے تھے کلیجے ان کے منہ کو آنے لگے تھے
وتظنون بالله الظنونا اور تم گمان کر رہے تھے اللہ کے بارے میں مختلف قسم کے گمان طرح طرح کے گمان وتظنون بالله الظنونا اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کر رہے تھے
یعنی منافقین جو تھے وہ باتیں کر رہے تھے کہ یہاں ہم قضائے حاجت کے لیے نہیں جاسکتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں ہمیں خیرا مدائن اور روم کے محلات اور صنعاء کے محلات وغیرہ ان کی فتح کی ہمیں خوشخبری سنا رہے ہیں یہاں ہم قضائے حاجت کے لیے نہیں جاسکتے خوف کی یہ حالت ہے
اور مختلف گمان کرتے تھے تو لوگ وتظنون بالله الظنونا اور تم لوگ گمان کر رہے تھے اللہ سے اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان ترجمہ سمجھ میں آئے گا بھئی إذ جاءوكم من فوقكم جب وہ آئے تمہارے اوپر سے جب وہ آئے تم پر تمہارے اوپر سے ومن أسفل منكم اور تمہارے نیچے سے وإذ زاغت الأبصار اور جب نگاہیں ٹیڑھی ہو رہی تھیں یا وإذ زاغت الابصار جب آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں وبلغت القلوب الحناجرا اور کلیجے منہ کو آنے لگے وتظنون بالله الظنونا اور تم گمان کرنے لگے اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان
الظنونا الظنونا کے آخر میں بھی الف لکھا ہوا ہے بھئی
الف لام نہ ہو تو پھر تو تنوین آتی ہے اور الف لکھا جاتا ہے ساتھ بھئی
समझ में आया بھئی جب تنوین نہ ہو تو اس وقت نکرہ ہو اسم اس وقت حالت نصبی میں اس کے ساتھ الف لکھا جاتا ہے ضربت ضربت ضربا اب سا دیکھو الف لکھا گیا ضربا کے لیکن الف لام ہو تو پھر الف نہیں آتا بھئی آخر میں لیکن یہاں پر الف لام الف لام بھی داخل ہے اور آخر میں الف بھی لکھا گیا ہے
وجہ یہ یاد رکھیے یہ قرآن جو ہے اس کا رسم الخط بھی توقیفی ہے بھئی من جانب اللہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو لکھنے والوں کو بتلاتے تھے کہ اس طرح لکھو اس طرح لکھو تو اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو عام رسم الخط سے ہٹ کر ہیں بھئی ہاں جیسے آپ دیکھ لیجیے الحمدللہ رب العالمین العالمین میں عین کے اوپر کھڑی زبر آپ کو ملے گی حالانکہ عام رسم الخط میں الف ہونا چاہیے الگ بھئی عالم عین الف لام ہونا چاہیے لیکن وہاں الف نہیں لکھا گیا بلکہ العالمین عین کے اوپر کھڑی زبر لکھی گئی بھئی اسی طرح جگہ جگہ آپ کو ملے گا بھئی کھڑی زبر ہوگی الف کے بجائے اور بھی بہت سی چیزیں ہیں رسم الخط میں قرآن کا اپنا مخصوص انداز ہے عربی عام رسم الخط میں اس طرح نہیں ہوتا انہی میں سے ایک یہ بھی ہے الظنونا کے آخر میں الف ہے بھئی
تو یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے جو قرآن کے نسخے بنوا کر مختلف شہروں میں بھجوائے
مختلف شہروں میں بھجوائے اس کے اندر الظنونا اسی طرح تھا بھئی اسی طرح لکھوایا انہوں نے اور اسی طرح لکھا تو یہ اسی طرح چلا آ رہا ہے
هنالك ابتلي المؤمنون وزلزلوا زلزالا شدیدا هنالك اس موقع پر ابتلي المؤمنون مبتلا کیے گئے مومن یعنی آزمائش کی گئی مومنین کی هنالك اس موقع پر ابتلي المؤمنون آزمائش کی گئی مومنین کی وزلزلوا زلزالا شدیدا اور ہلائے گئے خوب ہلائے جانا اور خوب ہلائے گئے خوب جھنجھوڑے گئے بھئی اتنی بڑی تکلیف آئی تھی کہ ان کے کہ انسان سوچ نہیں سکتا دشمن سامنے کھڑا ہے اور کئی گنا زیادہ ان کے پاس طاقت ہے لوگ بھی زیادہ اسلحہ بھی زیادہ ہر چیز پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں اور یہاں مسلمان بے سر و سامانی کی حالت میں شدید سردی اور خوف اور تو بڑی ہی تکلیف کا وہ موقع تھا تو اللہ فرما رہے ہیں هنالك ابتلي المؤمنون اس موقع پر مومنین کو کی آزمائش کی گئی وزلزلوا زلزالا شدیدا اور ان کو خوب جھنجھوڑا گیا خوب ان کو ہلایا گیا
وإذ یقول المنافقون والذین فی قلوبهم مرض ما وعدنا الله ورسوله إلا غرورا اور جس وقت یہ کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ فی قلوبهم مرض جن کے دلوں میں مرض تھا ما وعدنا الله ورسوله إلا غرورا کہ نہیں وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے مگر دھوکہ
مگر دھوکہ ہی اللہ اور رسول نے تو ہم سے صرف دھوکے اور فریب ہی کا وعدہ کیا اور کچھ نہیں
کل جو میں نے واقعہ سنایا تھا بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی جو ہیں میری امت کے ہاتھوں خیرا مدائن روم اور صنعاء وغیرہ ان تمام علاقے کیا ہیں ان کو میری امت فتح کرے گی تو یہ منافقین کیا کہہ رہے ہیں کہ نہیں وعدہ کیا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے مگر فریب کا ہی دھوکے ہی کا
समझ में आया دھوکے ہی کا وعدہ کیا ہم تو قضائے حاجت کے لیے بھی نہیں جاسکتے اور یہاں حیرہ اور مدائن اور روم کے محلات جو اس زمانے میں سپر طاقتیں تھیں ان کی فتح کی خوشخبری دی جا رہی ہے اور اس کا وعدہ کیا جا رہا ہے
وإذ قالت طائفة منهم يا أهل یثرب لا مقام لكم فارجعوا اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے
ان میں سے گروہ نے یعنی انہی منافقین میں سے اور جن کے دلوں میں مرض تھا وإذ قالت طائفة منهم اور جس وقت کہا ان میں سے ایک گروہ نے یا أهل یثرب اے یثرب والو
یثرب
اور اسی طرح یا یثرب
یہ مدینہ منورہ کا پرانا نام تھا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو پھر وہ مدینۃ النبی کے نام سے مشہور ہوگیا مدینۃ النبی نبی کا شہر بھئی نبی کا شہر
تو اس وقت یہ مدینۃ النبی کے نام سے مشہور ہوگیا پرانا نام یثرب تھا بعض کتابوں میں یثرب بھی آتا ہے بھئی
تو یہ نام تھا اور لیکن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو منع فرما دیا کہ اسے آئندہ کوئی یثرب نہ کہے
اسے کوئی بھی یثرب نہ کہے
کیونکہ یثرب کے اندر بھئی یاد رکھیے معنی آتے ہیں ملامت کرنے کے اور کسی کو عار دلانا بھئی کسی کو ملامت کرنا اور عار دلانا یہ اس کے معنی آتے ہیں تو اس لیے
ففرمایا تو و إذ قالت طائفۃ منھم اور جب ایک کہنے لگا ایک گروہ ان میں سے یا اھل یثرب اے یثرب والو لا مقام لکم تمہارے لیے جگہ نہیں ہے یعنی رہنے کی جگہ نہیں ہے ہاہنا یہاں پر بھئی ۔
لا مقام لکم ہاہنا تمہارے لیے یہاں رہنے کی جگہ نہیں ہے یعنی اب تمہیں یہاں نہیں رہنا چاہیے دشمن چڑھایا ہے یہاں سے نکل چلو ہمارے ساتھ یہ وہ بعض منافقین کہہ رہے تھے ۔
لا مقام لکم تمہارے لیے رہنے کی جگہ نہیں ہے یعنی یہ مدینہ اب تمہارے رہنے کی جگہ نہیں ہے فارجعوا پس لوٹ اؤ یعنی ہماری طرف لوٹ اؤ یہاں سے جہاں دشمن چڑھایا ہے یہاں بچنے کی اب کوئی صورت نہیں یہاں رہنے کی جگہ نہیں اب یہاں سے ہماری طرف لوٹ آؤ واپس گھروں کی طرف چلتے ہیں یا یہاں سے نکل جاتے ہیں دشمن سے تاکہ جان ہماری بچ جائے۔
تو لا مقام لکم ای لا مقام لکم ہاہنا تمہارے لیے یہاں رہنے کی جگہ نہیں ہے فارجعوا پس لوٹ اؤ و یستاذن فریق منھم اور اجازت طلب کر رہا تھا ایک گروہ ان میں سے بعض منافقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر رہے تھے تو کہتے ہیں و یستاذن فریق منھم النبی اور ایک فریق جو ہے وہ اجازت طلب کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یقولون وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ کہ بے شک ہمارے گھر جو ہیں وہ کھلے پڑے ہیں ۔
ہمارے گھر کیا ہیں؟ اے پیغمبر ہمیں اجازت دیجیے ہم گھروں کی طرف جائیں ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں کوئی حفاظت والا نہیں ہے تو یہ نہ کہیں وہاں پر کوئی چوری وغیرہ کر لے ہمارا مال وغیرہ لے جائے تو ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں ہمیں اجازت دیجیے گھر جانے کی ۔
تو یقولون وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ کہ بے شک ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں بعضوں نے ترجمہ کیا غیر محفوظ ہیں ایک ہی مراد ایک ہی ہے دونوں کی بھئی اور وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں و ما ہی بعورۃ یہ آگے اللہ فرما رہے ہیں واؤ حالیہ ہے واؤ حالیہ اس حال میں کہ ما ہی بعورۃ وہ گھر غیر محفوظ نہیں تھے حالانکہ وہ گھر غیر محفوظ نہیں تھے یا وہ گھر کھلے پڑے نہیں تھے یاد رکھنا و ما ہی بعورۃ یہ کیا ہے؟ اللہ تعالی کا قول ہے اللہ فرما رہے ہیں ان کی بات ان بیوتنا عورۃ تک مکمل ہوئی۔
یقولون وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ کہ بے یقینا ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں و ما ہی بعورۃ حالانکہ وہ کھلے نہیں پڑے تھے یا ان بیوتنا عورۃ یقیناً ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں و ما ہی بعورۃ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے یعنی ان کے اور خاندان والے افراد وہاں موجود تھے یہ تو کہہ رہے تھے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں کوئی حفاظت کرنے والا نہیں ہے ہمیں اجازت دیجیے اللہ کے پیغمبر ہم گھر چلے جائیں لیکن دراصل یہ جنگ سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے تھے بہانے تراش رہے تھے ان کے گھر غیر محفوظ نہیں تھے انہی کے خاندان کے اور لوگ وہاں پر حفاظت کے لیے موجود تھے ۔
ان یریدون الا فرارا ان نفی ہے نفی کے لیے آیا ہے ان یریدون نہیں وہ چاہتے تھے الا فرارا مگر بھاگنا وہ صرف بھاگنا ہی چاہتے تھے بھئی ان کا مقصد یہ تھا کہ یہاں سے بھاگ جائیں جو اس طرح کے بہانے طرح طرح کے بہانے بنا رہے تھے یہ منافقین بھئی ۔
اللہ آگے فرما رہے ہیں و لو دخلت علیھم اگر داخل ہوں ان کے گھروں پر علیھم ان پر ہیا ضمیر کس کو راجع ہے؟ بیوت کو راجع ہے دخلت کے اندر نائب فاعل کیا ہے؟ ہیا ضمیر ہے اور یہ فعل مجہول تو ضمیر جو ہے وہ راجع ہے بیوتنا بیوت کو بھئی ۔
دخلت کی ہیا ضمیر بیوت کو راجع کریں بھئی اور اگر ان کے گھروں میں کوئی داخل ہو علیھم ان پر اگر ان کے گھروں میں کوئی داخل ہو ان پر من اقطارھا شہر کے اطراف سے اقطار اطراف کے معنوں میں ہے کناروں سے و لو دخلت علیھم من من اقطارھا اور اگر ان کے گھروں میں داخل ہو علیھم ان لوگوں پر من اقطارھا اس مدینہ کے کناروں سے تو دخلت کی ضمیر ہم نے راجع کی بیوت کی طرف بھئی اگر ان کے گھروں میں کوئی داخل ہو یا یہ ضمیر راجع کریں مدینہ ہی کو بھئی کس کو راجع کر لیں؟ مدینہ و لو دخلت علیھم اور اگر مدینہ میں داخل ہو علیھم ان لوگوں پر من اقطارھا اس مدینہ کے کناروں سے ۔
ثم سئلوا الفتنۃ پھر ان سے سوال کیا جائے فتنے کا پھر ان لوگوں سے کیا کوئی مدینہ کے کناروں سے کوئی لوگ داخل ہوں اور پھر ان لوگوں سے یہ جو بہانے تراش رہے ہیں اور بھاگنا چاہتے میدان جنگ سے پھر ان سے وہ کیا کرے؟ فتنہ کا سوال کرے یعنی ان سے فتنہ مانگیں لا اتوھا تو یہ البتہ وہ دے دیں آتا یؤتی کے معنوں میں ہے عطا کرنا دے دینا اور ہا ضمیر راجع ہے فتنہ کو لا اتوھا تو یہ کیا کریں؟ فتنہ عطا کر دیں اگر مدینہ میں داخل ہوں ان لوگوں پر مدینہ کے کناروں سے کوئی ثم سئلوا الفتنۃ پھر ان لوگوں سے فتنے کا سوال کیا جائے لا اتوھا تو یہ کیا کریں؟ فتنہ دے دیں اگر ان سے فتنہ مانگا جائے تو یہ فورا فتنہ دے دیں یعنی اس کو قبول کر لیں بھئی فورا فتنے میں شریک ہو جائیں وہ کہیں کہ آؤ مسلمانوں کے ساتھ لڑتے ہیں جنگ کرتے ہیں مدینہ میں فتنہ برپا کرتے ہیں تو یہ فورا اس کو منظور کر لیں اس میں شریک ہو جائیں ۔
و ما تلبثوا بھا اور نہ ٹھہریں بھہا اس فتنے سے اس فتنے سے نہ ٹھہریں یعنی نہ رکیں الا یسیرا مگر تھوڑا سا یسیرا تھوڑا سا تو اللہ فرما رہے ہیں بھئی اگر یہ لوگ جو ہیں یہ بہانے بنا کر یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں اور اگر کوئی ان کے گھروں مدینے کے اطراف سے داخل ہو ان کے گھروں پر اور پھر ان سے کہے فتنے وغیرہ کی درخواست کرے کہ آؤ کیا کرتے ہیں مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہیں فتنہ مدینہ کے اندر برپا کرتے ہیں تو فورا اس کو یہ منظور کر لیں گے اور پھر تھوڑی دیر بھی نہیں رکیں گے یعنی فورا ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے تھوڑی دیر رکیں گے بھئی تھوڑی دیر کیا معنی رکیں گے؟ یعنی جتنی دیر میں کہتے ہیں اپنا اسلحہ گھروں سے اٹھا لیں فورا کہیں گے ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے اور فورا لپک کر جائیں گے اور اپنا اسلحہ نکال کر اس فتنے میں شریک ہو جائیں یہ ہیں ہی شر پسند لوگ بھئی ۔
بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہ معنی ہے کہ یہ ذرا بھی نہیں رکیں گے یعنی فورا کسی بات پر لبیک کہیں گے اور فتنے کے لیے تیار ہو جائیں گے پیغمبر کی بات جب پیغمبر کا حکم آ رہا ہے تو اس سے بہانے بنا کر یہ بھاگنا چاہتے ہیں اور اگر کوئی فتنے والا آ جائے ان سے فتنے کی درخواست کرے تو فورا اس کے ساتھ تیار ہو جائیں فتنہ برپا کرنے کے لیے یہ ہیں ہی شر پسند قسم کے لوگ ۔
و لو دخلت علیھم اور اگر داخل ہوں ان کے گھروں میں علیھم ان پر من اقطارھا اس مدینہ کے کناروں سے یعنی کوئی لوگ داخل ہوں ثم سئلوا الفتنۃ پھر ان سے سوال کیا جائے فتنے کا لا اتوھا تو یہ اس کو منظور کر لیں و ما تلبثوا بھا الا یسیرا اور نہ ٹھہریں اس سے مگر تھوڑا سا ہی ۔
و لقد کانوا عاھد اللہ من قبل لا یولون الادبار اور تحقیق وہ عہد کر چکے تھے اللہ تعالی سے من قبل اس سے پہلے لا یولون الادبارا کہ وہ نہیں پھیریں گے اور لا یولی کے معنی ہیں پشت پھیرنا ادبار پشت کو کہتے ہیں بھئی جمع اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کر چکے تھے لا یولون الادبارا کہ وہ پشت نہیں پھیریں گے ترجمہ سمجھ میں آگیا اچھی طرح لا یولون نہیں پھیریں گے الادبارا پشتوں کو غزوہ احد کے موقع پر جب اس وقت بھی انہوں نے بے وفائی کی تھی اس وقت پھر بعد میں انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ آج کے بعد پھر دوبارہ اس طرح نہیں کریں گے جنگ سے پشت جنگ سے پشت نہیں پھیریں گے لیکن اب پھر وقت آیا تو یہ پھر جان بچانا چاہتے ہیں اور بھاگنا چاہتے ہیں اور تحقیق وہ اس سے پہلے اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ وہ پشت نہیں پھیریں گے و کان عاھد اللہ مسؤلا اور اللہ کا عہد جو ہے مسؤلا وہ پوچھا جائے گا اس کے بارے میں اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ان سے جو اللہ سے انہوں نے عہد کیا بھئی قل لن ينفعكم الفرار إن فررتم من الموت أو القتل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے لن ينفعكم الفرار کہ ہرگز نفع نہیں دے گا تمہیں بھاگنا إن فررتم اگر تم بھاگ جاؤ من الموت أو القتل موت سے یا قتل سے اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان سے کہ تمہیں ہرگز بھاگنا نفع نہیں دے گا اگر تم موت یا قتل سے بھاگتے ہو۔
و اذا لا تمتعون الا قلیلا اور پھر تم نفع نہیں دیے جاؤ گے مگر تھوڑا سا ہی یعنی تمہیں نفع نہیں دے گا بھاگنا اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگنا چاہتے ہو بھئی ہر شخص کا وقت مقرر ہے مقررہ وقت پر موت آنی ہے تو تم اگر بھاگ بھی اگر موت کا وقت لکھا ہے تو موت تو ہر جگہ آ جائے گی تمہارا یہ بھاگنا اگر تم موت سے بھاگتے ہو تمہیں ہرگز نفع نہیں دے گا اور اگر بالفرض نفع کچھ دے بھی دے تو پھر بھی تھوڑا سا ہی نفع اٹھاؤ گے بھئی اس دنیا کے اندر اور معمولی سا ہی نفع پھر موت ہی آنی ہے بلاآخر ۔
قل لن ينفعكو لن ينفعكم الفرار تمہیں ہرگز نفع نہیں دے گا بھاگنا إن فررتم من الموت أو القتل اگر تم بھاگے موت سے یا قتل سے و اذا لا تمتعون الا قلیلا اور پھر تم نفع نہیں دیے جاؤ گے مگر تھوڑا سا ہی قل من ذا الذي يعصمكم من اللہ إن أرادا بكم سوءا أو أرادا بكم رحمۃ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے من ذا الذي يعصمكم کون ہے وہ جو تمہیں بچائے گا من اللہ اللہ سے إن أرادا بكم سوءا اگر اللہ ارادہ کریں تمہارے ساتھ برائی کا یعنی تکلیف دینے کا اگر اللہ تمہیں تکلیف دینے کا ارادہ کریں تو کون تمہیں بچائے گا اللہ سے او أرادا بكم رحمۃ یا اگر یا اللہ ارادہ کریں تمہارے ساتھ رحمت کا یعنی کون روک سکتا ہے اللہ کی رحمت کو اگر اللہ تمہارے پر رحمت کا ارادہ کریں تو اللہ اگر شر تکلیف کا ارادہ کریں تمہیں تو بھی تمہیں کوئی بچانے والا نہیں اور اللہ کسی کے ساتھ اگر خیر کا بھی ارادہ کریں تو اس خیر کو بھی کوئی روکنے والا نہیں ہے قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے من ذا الذي يعصمكم من اللہ کون ہے وہ جو تمہیں بچائے گا من اللہ اللہ سے إن أرادا بكم سوءا اگر اللہ ارادہ کریں تمہارے ساتھ سوءا برائی کا او أرادا بكم رحمۃ یا ارادہ کریں اللہ تمہارے ساتھ رحمت کا و لا یجدون لھم من دون اللہ ولیا و لا نصیرا اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے من دون اللہ اللہ کے علاوہ ولیا و لا نصیرا نہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار و لا یجدون لھم اور وہ نہیں پائیں گے لھم اپنے لیے بھئی و لا یجدون لھم اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے من دون اللہ ولیا و لا نصیرا اللہ کے علاوہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار قد يعلم اللہ المعوقین منکم تحقیق اللہ جانتے ہیں تم میں سے معوقین کو یعنی روکنے والے عوقہ کے معنی ہوتے ہیں روکنا یعنی جو تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں منع کرتے ہیں یعنی وہ منافقین مراد ہیں قد يعلم اللہ المعوقین منکم تحقیق اللہ تعالی جانتے ہیں المعوقین منکم جو روکنے والے ہیں تم میں سے والقائلین اور وہ جو کہنے والے ہیں لخوانھم اپنے بھائیوں سے ھلم الینا تم ہماری طرف آ جاؤ ھلم اس میں فعل ہے بمقسد آ جاؤ تحقیق اللہ جانتے ہیں وہ جو تم میں سے روکنے والے ہیں ان کو والقائلین اور وہ جو کہنے والے ہیں لخوانھم اپنے بھائیوں سے بھائیوں سے یعنی اپنے وطنی بھائیوں سے یا اپنے نسبی بھائیوں سے جو اپنے بھائیوں سے کہنے والے ہیں ھلم الینا ہماری طرف آ جاؤ و لا یاتون الباس الا قلیلا اور نہیں آتے جنگ کے میں مگر تھوڑا سا ہی جنگ میں یہ منافقین کیا ہیں بظاہر مسلمان ہیں لیکن درپر دلوں کے اندر ان کے کفر ہے تو یہ جنگ کے اندر نہیں آتے الا قلیلا مگر تھوڑا سا آتے ہیں دکھاوے کے لیے آتے ہیں کم از کم انہوں نے بظاہر تو کلمہ پڑھ رکھا ہے تو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں صرف یہ دکھلانے کے لیے آتے ہیں وہ لڑنا ان کو
و إذ قالت طائفۃ منھم اور جب ایک کہنے لگا ایک گروہ ان میں سے یا اھل یثرب اے یثرب والو لا مقام لکم تمہارے لیے جگہ نہیں ہے یعنی رہنے کی جگہ نہیں ہے ہاہنا یہاں پر بھئی ۔
لا مقام لکم ہاہنا تمہارے لیے یہاں رہنے کی جگہ نہیں ہے یعنی اب تمہیں یہاں نہیں رہنا چاہیے دشمن چڑھایا ہے یہاں سے نکل چلو ہمارے ساتھ یہ وہ بعض منافقین کہہ رہے تھے ۔
لا مقام لکم تمہارے لیے رہنے کی جگہ نہیں ہے یعنی یہ مدینہ اب تمہارے رہنے کی جگہ نہیں ہے فارجعوا پس لوٹ اؤ یعنی ہماری طرف لوٹ اؤ یہاں سے جہاں دشمن چڑھایا ہے یہاں بچنے کی اب کوئی صورت نہیں یہاں رہنے کی جگہ نہیں اب یہاں سے ہماری طرف لوٹ آؤ واپس گھروں کی طرف چلتے ہیں یا یہاں سے نکل جاتے ہیں دشمن سے تاکہ جان ہماری بچ جائے۔
تو لا مقام لکم ای لا مقام لکم ہاہنا تمہارے لیے یہاں رہنے کی جگہ نہیں ہے فارجعوا پس لوٹ اؤ و یستاذن فریق منھم اور اجازت طلب کر رہا تھا ایک گروہ ان میں سے بعض منافقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر رہے تھے تو کہتے ہیں و یستاذن فریق منھم النبی اور ایک فریق جو ہے وہ اجازت طلب کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یقولون وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ کہ بے شک ہمارے گھر جو ہیں وہ کھلے پڑے ہیں ۔
ہمارے گھر کیا ہیں؟ اے پیغمبر ہمیں اجازت دیجیے ہم گھروں کی طرف جائیں ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں کوئی حفاظت والا نہیں ہے تو یہ نہ کہیں وہاں پر کوئی چوری وغیرہ کر لے ہمارا مال وغیرہ لے جائے تو ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں ہمیں اجازت دیجیے گھر جانے کی ۔
تو یقولون وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ کہ بے شک ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں بعضوں نے ترجمہ کیا غیر محفوظ ہیں ایک ہی مراد ایک ہی ہے دونوں کی بھئی اور وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں و ما ہی بعورۃ یہ آگے اللہ فرما رہے ہیں واؤ حالیہ ہے واؤ حالیہ اس حال میں کہ ما ہی بعورۃ وہ گھر غیر محفوظ نہیں تھے حالانکہ وہ گھر غیر محفوظ نہیں تھے یا وہ گھر کھلے پڑے نہیں تھے یاد رکھنا و ما ہی بعورۃ یہ کیا ہے؟ اللہ تعالی کا قول ہے اللہ فرما رہے ہیں ان کی بات ان بیوتنا عورۃ تک مکمل ہوئی۔
یقولون وہ کہہ رہے تھے ان بیوتنا عورۃ کہ بے یقینا ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں و ما ہی بعورۃ حالانکہ وہ کھلے نہیں پڑے تھے یا ان بیوتنا عورۃ یقیناً ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں و ما ہی بعورۃ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے یعنی ان کے اور خاندان والے افراد وہاں موجود تھے یہ تو کہہ رہے تھے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں کوئی حفاظت کرنے والا نہیں ہے ہمیں اجازت دیجیے اللہ کے پیغمبر ہم گھر چلے جائیں لیکن دراصل یہ جنگ سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے تھے بہانے تراش رہے تھے ان کے گھر غیر محفوظ نہیں تھے انہی کے خاندان کے اور لوگ وہاں پر حفاظت کے لیے موجود تھے ۔
ان یریدون الا فرارا ان نفی ہے نفی کے لیے آیا ہے ان یریدون نہیں وہ چاہتے تھے الا فرارا مگر بھاگنا وہ صرف بھاگنا ہی چاہتے تھے بھئی ان کا مقصد یہ تھا کہ یہاں سے بھاگ جائیں جو اس طرح کے بہانے طرح طرح کے بہانے بنا رہے تھے یہ منافقین بھئی ۔
اللہ آگے فرما رہے ہیں و لو دخلت علیھم اگر دخل ہوں ان کے گھروں پر علیھم ان پر ہیا ضمیر کس کو راجع ہے؟ بیوت کو راجع ہے دخلت کے اندر نائب فاعل کیا ہے؟ ہیا ضمیر ہے اور یہ فعل مجہول تو ضمیر جو ہے وہ راجع ہے بیوتنا بیوت کو بھئی ۔
دخلت کی ہیا ضمیر بیوت کو راجع کریں بھئی اور اگر ان کے گھروں میں کوئی داخل ہو علیھم ان پر اگر ان کے گھروں میں کوئی داخل ہو ان پر من اقطارھا شہر کے اطراف سے اقطار اطراف کے معنوں میں ہے کناروں سے و لو دخلت علیھم من من اقطارھا اور اگر ان کے گھروں میں داخل ہو علیھم ان لوگوں پر من اقطارھا اس مدینہ کے کناروں سے تو دخلت کی ضمیر ہم نے راجع کی بیوت کی طرف بھئی اگر ان کے گھروں میں کوئی داخل ہو یا یہ ضمیر راجع کریں مدینہ ہی کو بھئی کس کو راجع کر لیں؟ مدینہ و لو دخلت علیھم اور اگر مدینہ میں داخل ہو علیھم ان لوگوں پر من اقطارھا اس مدینہ کے کناروں سے ۔
ثم سئلوا الفتنۃ پھر ان سے سوال کیا جائے فتنے کا پھر ان لوگوں سے کیا کوئی مدینہ کے کناروں سے کوئی لوگ داخل ہوں اور پھر ان لوگوں سے یہ جو بہانے تراش رہے ہیں اور بھاگنا چاہتے میدان جنگ سے پھر ان سے وہ کیا کرے؟ فتنہ کا سوال کرے یعنی ان سے فتنہ مانگیں لا اتوھا تو یہ البتہ وہ دے دیں آتا یؤتی کے معنی ہیں عطا کرنا دے دینا اور ہا ضمیر راجع ہے فتنہ کو لا اتوھا تو یہ کیا کریں؟ فتنہ عطا کر دیں اگر مدینہ میں داخل ہوں ان لوگوں پر مدینہ کے کناروں سے کوئی ثم سئلوا الفتنۃ پھر ان لوگوں سے فتنے کا سوال کیا جائے لا اتوھا تو یہ کیا کریں؟ فتنہ دے دیں اگر ان سے فتنہ مانگا جائے تو یہ فورا فتنہ دے دیں یعنی اس کو قبول کر لیں بھئی فورا فتنے میں شریک ہو جائیں وہ کہیں کہ آؤ مسلمانوں کے ساتھ لڑتے ہیں جنگ کرتے ہیں مدینہ میں فتنہ برپا کرتے ہیں تو یہ فورا اس کو منظور کر لیں اس میں شریک ہو جائیں ۔
و ما تلبثوا بھا اور نہ ٹھہریں بھہا اس فتنے سے اس فتنے سے نہ ٹھہریں یعنی نہ رکیں الا یسیرا مگر تھوڑا سا یسیرا تھوڑا سا تو اللہ فرما رہے ہیں بھئی اگر یہ لوگ جو ہیں یہ بہانے بنا کر یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں اور اگر کوئی ان کے گھروں مدینے کے اطراف سے داخل ہو ان کے گھروں پر اور پھر ان سے کہے فتنے وغیرہ کی درخواست کرے کہ آؤ کیا کرتے ہیں مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہیں فتنہ مدینہ کے اندر برپا کرتے ہیں تو فورا اس کو یہ منظور کر لیں گے اور پھر تھوڑی دیر بھی نہیں رکیں گے یعنی فورا ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے تھوڑی دیر رکیں گے بھئی تھوڑی دیر کیا معنی رکیں گے؟ یعنی جتنی دیر میں کہتے ہیں اپنا اسلحہ گھروں سے اٹھا لیں فورا کہیں گے ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے اور فورا لپک کر جائیں گے اور اپنا اسلحہ نکال کر اس فتنے میں شریک ہو جائیں یہ ہیں ہی شر پسند لوگ بھئی ۔
بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہ معنی ہے کہ یہ ذرا بھی نہیں رکیں گے یعنی فورا کسی بات پر لبیک کہیں گے اور فتنے کے لیے تیار ہو جائیں گے پیغمبر کی بات جب پیغمبر کا حکم آ رہا ہے تو اس سے بہانے بنا کر یہ بھاگنا چاہتے ہیں اور اگر کوئی فتنے والا آ جائے ان سے فتنے کی درخواست کرے تو فورا اس کے ساتھ تیار ہو جائیں فتنہ برپا کرنے کے لیے یہ ہیں ہی شر پسند قسم کے لوگ ۔
و لو دخلت علیھم اور اگر داخل ہوں ان کے گھروں میں علیھم ان پر من اقطارھا اس مدینہ کے کناروں سے یعنی کوئی لوگ داخل ہوں ثم سئلوا الفتنۃ پھر ان سے سوال کیا جائے فتنے کا لا اتوھا تو یہ اس کو منظور کر لیں و ما تلبثوا بھا الا یسیرا اور نہ ٹھہریں اس سے مگر تھوڑا سا ہی ۔
و لقد کانوا عاھد اللہ من قبل لا یولون الادبار اور تحقیق وہ عہد کر چکے تھے اللہ تعالی سے من قبل اس سے پہلے لا یولون الادبارا کہ وہ نہیں پھیریں گے اور لا یولی کے معنی ہیں پشت پھیرنا ادبار پشت کو کہتے ہیں بھئی جمع اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کر چکے تھے لا یولون الادبارا کہ وہ پشت نہیں پھیریں گے ترجمہ سمجھ میں آگیا اچھی طرح لا یولون نہیں پھیریں گے الادبارا پشتوں کو غزوہ احد کے موقع پر جب اس وقت بھی انہوں نے بے وفائی کی تھی اس وقت پھر بعد میں انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ آج کے بعد پھر دوبارہ اس طرح نہیں کریں گے جنگ سے پشت جنگ سے پشت نہیں پھیریں گے لیکن اب پھر وقتایا تو یہ پھر جان بچانا چاہتے ہیں اور بھاگنا چاہتے ہیں اور تحقیق وہ اس سے پہلے اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ وہ پشت نہیں پھیریں گے و کان عاھد اللہ مسؤلا اور اللہ کا عہد جو ہے مسؤلا وہ پوچھا جائے گا اس کے بارے میں اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ان سے جو اللہ سے انہوں نے عہد کیا بھئی قل لن ينفعكم الفرار إن فررتم من الموت أو القتل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے لن ينفعكم الفرار کہ ہرگز نفع نہیں دے گا تمہیں بھاگنا إن فررتم اگر تم بھاگ جاؤ من الموت أو القتل موت سے یا قتل سے اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان سے کہ تمہیں ہرگز بھاگنا نفع نہیں دے گا اگر تم موت یا قتل سے بھاگتے ہو۔
و اذا لا تمتعون الا قلیلا اور پھر تم نفع نہیں دیے جاؤ گے مگر تھوڑا سا ہی یعنی تمہیں نفع نہیں دے گا بھاگنا اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگنا چاہتے ہو بھئی ہر شخص کا وقت مقرر ہے مقررہ وقت پر موت آنی ہے تو تم اگر بھاگ بھی اگر موت کا وقت لکھا ہے تو موت تو ہر جگہ آ جائے گی تمہارا یہ بھاگنا اگر تم موت سے بھاگتے ہو تمہیں ہرگز نفع نہیں دے گا اور اگر بالفرض نفع کچھ دے بھی دے تو پھر بھی تھوڑا سا ہی نفع اٹھاؤ گے بھئی اس دنیا کے اندر اور معمولی سا ہی نفع پھر موت ہی آنی ہے بلاآخر ۔
قل لن ينفعكو لن ينفعكم الفرار تمہیں ہرگز نفع نہیں دے گا بھاگنا إن فررتم من الموت أو القتل اگر تم بھاگے موت سے یا قتل سے و اذا لا تمتعون الا قلیلا اور پھر تم نفع نہیں دیے جاؤ گے مگر تھوڑا سا ہی قل من ذا الذي يعصمكم من اللہ إن أرادا بكم سوءا أو أرادا بكم رحمۃ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے من ذا الذي يعصمكم کون ہے وہ جو تمہیں بچائے گا من اللہ اللہ سے إن أرادا بكم سوءا اگر اللہ ارادہ کریں تمہارے ساتھ برائی کا یعنی تکلیف دینے کا اگر اللہ تمہیں تکلیف دینے کا ارادہ کریں تو کون تمہیں بچائے گا اللہ سے او أرادا بكم رحمۃ یا اگر یا اللہ ارادہ کریں تمہارے ساتھ رحمت کا یعنی کون روک سکتا ہے اللہ کی رحمت کو اگر اللہ تمہارے پر رحمت کا ارادہ کریں تو اللہ اگر شر تکلیف کا ارادہ کریں تمہیں تو بھی تمہیں کوئی بچانے والا نہیں اور اللہ کسی کے ساتھ اگر خیر کا بھی ارادہ کریں تو اس خیر کو بھی کوئی روکنے والا نہیں ہے ۔
قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے من ذا الذي يعصمكم من اللہ کون ہے وہ جو تمہیں بچائے گا من اللہ اللہ سے إن أرادا بكم سوءا اگر اللہ ارادہ کریں تمہارے ساتھ سوءا برائی کا او أرادا بكم رحمۃ یا ارادہ کریں اللہ تمہارے ساتھ رحمت کا و لا یجدون لھم من دون اللہ ولیا و لا نصیرا اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے من دون اللہ اللہ کے علاوہ ولیا و لا نصیرا نہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار ۔
و لا یجدون لھم اور وہ نہیں پائیں گے لھم اپنے لیے بھئی و لا یجدون لھم اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے من دون اللہ ولیا و لا نصیرا اللہ کے علاوہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار قد يعلم اللہ المعوقین منکم تحقیق اللہ جانتے ہیں تم میں سے معوقین کو یعنی روکنے والے عوقہ کے معنی ہوتے ہیں روکنا یعنی جو تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں منع کرتے ہیں یعنی وہ منافقین مراد ہیں ۔
قد يعلم اللہ المعوقین منکم تحقیق اللہ تعالی جانتے ہیں المعوقین منکم جو روکنے والے ہیں تم میں سے والقائلین اور وہ جو کہنے والے ہیں لخوانھم اپنے بھائیوں سے ھلم الینا تم ہماری طرف آ جاؤ ھلم اس میں فعل ہے بمقسد آ جاؤ تحقیق اللہ جانتے ہیں وہ جو تم میں سے روکنے والے ہیں ان کو والقائلین اور وہ جو کہنے والے ہیں لخوانھم اپنے بھائیوں سے بھائیوں سے یعنی اپنے وطنی بھائیوں سے یا اپنے نسبی بھائیوں سے جو اپنے بھائیوں سے کہنے والے ہیں ھلم الینا ہماری طرف آ جاؤ و لا یاتون الباس الا قلیلا اور نہیں آتے جنگ کے میں مگر تھوڑا سا ہی جنگ میں یہ منافقین کیا ہیں بظاہر مسلمان ہیں لیکن درپر دلوں کے اندر ان کے کفر ہے تو یہ جنگ کے اندر نہیں آتے الا قلیلا مگر تھوڑا سا آتے ہیں دکھاوے کے لیے آتے ہیں کم از کم انہوں نے بظاہر تو کلمہ پڑھ رکھا ہے تو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں صرف یہ دکھلانے کے لیے آتے ہیں وہ لڑنا ان کا مقصد نہیں ہوتا ۔
و لا یاتون الباس باس کہتے ہیں بھئی شدت کو اور جنگ کو تو جنگ میں بھی چونکہ شدت ہوتی ہے مشکل ہوتی ہے اس لیے اس کو باس کہا جاتا ہے و لا یاتون الباس الا قلیلا اور نہیں آتے وہ جنگ میں مگر تھوڑا سا ہی یعنی تھوڑی دیر کے لیے ہی اشحۃ علیکم ۔
اشحۃ جمع ہے شحیح کی شحیح اور شحیح کہتے ہیں ایسے شخص کو جو مال کے جمع کرنے میں تو بڑا حریص ہو اور اس کے خرچ کرنے میں بڑا ہی بخیل ہو بھئی ۔
سمجھ میں آئی بات دونوں معنی ادا کر رہا ہے حریص والا معنی بھی ہے اس میں بخل والا معنی بھی ہے جو مال کے جمع کرنے میں بڑا ہی حریص ہو اور اس کے خرچ کرنے میں بڑا ہی بخیل ہو ۔
اشحۃ علیکم بخیل ہیں وہ تم پر الا قلیلا اشحۃ علیکم یہ حال ہے بھئی لا یاتون کی واؤ ضمیر سے وہ نہیں آتے جنگ میں مگر تھوڑا سا ہی اس حال میں کہ اشحۃ علیکم وہ بخیل ہیں تم لوگوں پر اے مومنو وہ تم لوگوں پر کیا ہیں؟ بخیل ہیں یعنی تم پر مال کے خرچ کرنے میں یا تمہاری مدد کرنے میں وہ بڑے بخیل ہیں کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح کچھ بھی نہ کرنا پڑے ۔
اشحۃ علیکم بخیل ہیں تمہارے اوپر فاذ جاء الخوف پس جس وقت خوف آ جائے یعنی خوف پیش آ جائے فاذ جاء الخوف جس وقت کوئی خوف پیش آ جائے رایتم تو اے پیغمبر آپ ان کو دیکھیں گے ینظرون الیک کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اے پیغمبر آپ انہیں کس حال میں دیکھیں گے؟ کہ آپ ان کو دیکھیں گے ینظرون الیک کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں تدور اعینھم دار یدور کے معنی ہوتے ہیں گھومنا چکر کھانا تدور اعینھم ان کی آنکھیں گھومتی ہیں یعنی چکرائی جاتی ہیں تدور اعینھم ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں کلذی یغشی علیھم من الموتی جیسے کہ وہ شخص یغشی علیہ کہ جس پر بے ہوشی طاری ہو من الموتی موت کی وجہ سے اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر یہ منافقین تم لوگوں پر بخل کرتے ہیں تمہاری پر آپ لوگوں پر مال خرچ کرنے میں بھی اور آپ لوگوں کی مدد کرنے میں بھی اور جس وقت کوئی خوف پیش آ جائے تو آپ وہ آپ کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور ان کی آنکھیں خوف کی وجہ سے چکرائی جاتی ہیں اس اس شخص کی طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو جیسے اس کی آنکھیں ہوتی ہیں اسی طرح ان کی آنکھیں آپ کو دکھائی دیں گی چکرائی ہوئی کچھ جسے سجھائی نہ دے رہا ہو بھئی کچھ سمجھ میں نہ آ رہا ہو ۔
تو یہ تدور حال ہے ینظرون کی واؤ ضمیر سے بھئی جمع مذکر غائب کی جو ضمیر ہے فإذا جاء الخوف پس جس وقت کوئی خوف آ جائے رایتم ينظرون الیک تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف دیکھنے لگتے ہیں تدور اعینھم اس حال میں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں کلذی یغشی علیھم من الموتی اس شخص کی طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو گئی ہو جس پر تو جس وقت کوئی خوف آئے تو اے پیغمبر آپ دیکھیں گے کہ یہ آپ کی طرح دیکھنے لگتے ہیں اس طور پر کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کہ وہ شخص ہو کہ غشی طاری ہو اس پر موت سے فإذا جاء الخوف جس وقت کوئی خوف پیش آ جائے رایتم ينظرون الیک آپ دیکھتے ہیں آپ دیکھیں گے ان کو کہ وہ دیکھتے ہیں آپ کی طرف تدور اعینھم چکرائی جاتی ہیں ان کی آنکھیں کلذی یغشی علیھم من الموتی جیسے کہ وہ شخص کہ جس پر غشی طاری ہو موت سے فإذا ذھب الخوف پس جس وقت چلا جائے خوف سلقوکم بالسنت حداد سلقہ کے معنی ہوتے ہیں تکلیف دینا بھئی تکلیف دینا اسی طرح طعنہ دینا بھئی طعنہ دینے میں بھی دوسرے کو کیا کی جاتی ہے؟ تکلیف دی جاتی ہے فلکوکم تو تمہیں تکلیف دیتے ہیں بالسنت حداد تیز زبانوں کے ساتھ حداد جمع ہے حدید کی حدید کہتے ہیں عربی میں سیف حدید تیز دھار والی تلوار جو ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ سیف حدید تیز کاٹنے والی تیز دھار والی ۔
تو یہاں پر بھی ان کو اسی طرح ان کی زبانیں بھی ان تلواروں کی طرح جو ہے مسلمانوں کو کیا کرتی ہیں؟ تکلیف دیتی ہیں ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں طعنے دیتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ تھے لڑائی میں ہر جگہ ہر چیز کے اندر مال غنیمت کے وقت خوب بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں اور طعنے دیتے ہیں دوسروں کو بھئی ۔
فإذا ذھب الخوف جب جس وقت خوف چلا جاتا ہے سلقوکم بالسنت حداد تو تکلیف دیتے ہیں تمہیں تیز زبانوں کے ساتھ یا یہ ترجمہ یوں کر لیں سلقوکم بالسنت حداد طعنے دینے لگتے ہیں تم لوگوں کو تیز زبانوں کے ساتھ اشحۃ علی الخیر اس حال میں کہ یہ کہ حریص ہیں اس حال میں کہ حریص ہیں علی الخیر خیر پر میں نے بتایا تھا اشحۃ کے مندر اس کے اندر بخل والا معنی بھی ہے اور حرص لالچی کا معنی بھی اس میں آیا تو اشحۃ علی الخیر حریص ہیں خیر پر یعنی اس میں خیر کے معاملے میں بڑے لالچی ہیں یعنی خیر مال غنیمت وغیرہ مال وغیرہ آئے تو اس میں بڑے حریص حرص کرتے ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ مل جائے اشحۃ علی الخیر حریص ہیں خیر پر اولئک لم یؤمنوا یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے (یعنی صرف ظاہری زبان سے انہوں نے کلمہ پڑھ رکھا ہے درحقیقت یہ ایمان نہیں لائے دل سے) اولئک لم یؤمنوا یہ لوگ ایمان نہیں لائے فاحبط اللہ اعمالھم پس اللہ نے اکارت کر دیے بیکار کر دیے ان کے اعمال اللہ نے ان کے سارے اعمال بیکار کر دیے بھئی بیکار کر دیے ۔
کیونکہ نیک عمل ایمان کے ساتھ ہو تو نفع دے گا بھئی ایمان کے بغیر صرف نیک عمل ہو تو وہ اللہ کے عذاب کو نہیں ٹالے گا ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کی مثال یوں سمجھ لیں جیسے نیک عمل کی مثال یوں سمجھیں جیسے صفر ہوتا ہے صفر حساب میں صفر جتنے بھی آپ لکھ دیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ہاں ان کے ساتھ جب ایک آ جائے یعنی ایمان آ جائے تو پھر اس کی صفر بڑھتے چلے جائیں گے تو وہ اس کا عدد بھی بڑھتا چلا جائے گا سو ہوگا ایک صفر اور ڈال دیں گے وہ ایک ساتھ ہے تو وہی ہزار بن جائے گا ایک صفر اور ڈال دیں گے تو وہ لاکھ بن جائے گا تو ایک جب ساتھ ہوگا یعنی ایمان ساتھ ہوگا تو پھر ان نیک کاموں کا بھی فائدہ ہوگا آخرت کے اندر و کان ذلک علی اللہ یسیرا اور یہ بات اللہ پر اسان ہے یعنی یہ اعمال کو بیکار کر دینا ان کو ضائع ردی کر دینا یہ اللہ پر اسان ہے اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے ۔
بس موقع محل کے مناسبت مناسب جو ترجمہ ہو جیسے کان اللہ علیما اللہ جاننے والے ہیں یہ کان دائمہ ہے یہ ماضی کا معنی نہیں یہ معنی نہیں کریں گے اللہ جاننے والا تھا بلکہ اللہ جاننے والا ہے بھئی تو یہ کانا دائمہ ہے اور اسی طرح یہاں پر بھی موقع کے مطابق بھئی آپ اپنی زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں سمجھ میں آئی بات تو اس طرح ترجمہ کریں کہ دوسرے کو سمجھ میں آئے بات تو ویسے بھی ماضی بمضارع کے اور مضارع بمضارع کے استعمال ہوتے رہتے ہیں بھئی ۔
اور نکتہ میں نے بتایایا تھا کہ بعض اوقات ایک بات مستقبل کی ہوتی ہے قرآن اسے ماضی کے ساتھ تعبیر کرتا ہے کیونکہ اس کا وقوع یقینی ہے اس میں کس جیسے ماضی جو گزری ہوئی بات ہے وہ پکی اور یقینی ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہوتا تو اسی طرح ان باتوں کا چونکہ وقوع یقینی ہوتا ہے تو القرآن اسے کس انداز میں تعبیر کر دیتا ہے؟ ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کرتا ہے بھئی ۔
و کان ذلک علی اللہ یسیرا اور یہ اللہ پر اسان ہے یعنی یہ آ یہاں اعمال کو بیکار کر دینا ان کو ضائع ردی کر دینا یہ اللہ پر اسان اسان ہے يحسبون الاحزاب لم یذھبوا یہ گمان کر رہے ہیں کہ گروہ جو ہیں وہ ابھی تک نہیں گئے یہ منافقین کیا سمجھتے ہیں؟ بھئی اللہ کی مدد آ گئی وہ آندھی ائی اور فرشتوں کے لشکر اترے آندھی کی وجہ سے ان کا سارا سامان الٹ پلٹ گیا آگ بجھ گئی برتن الٹ گئے خیمے اکھڑ گئے جانور بدک گئے کوئی صورت اب انہیں کھانا پکانے اور کھانے کی کوئی صورت نہیں آرام کی کوئی صورت نہیں شدید سردی اور ریت اور سنگریزے اڑ اڑ کر انہیں لگ رہے ہیں اور پھر فرشتوں کے جو لشکر ہیں کبھی ایک طرف سے اللہ اکبر کی آواز آتی ہے کبھی دوسری طرف سے اللہ اکبر کی آواز آتی ہے تو اتنے خوفزدہ وہ ہو گئے اور پھر اتنے گھبرا گئے کہ فورا وہاں سے خیمے وغیرہ سامان اٹھائے اور راتوں رات نکل گئے صبح تک میدان صاف ہو چکا تھا تو وہ چلے گئے اور یہ منافقین کہتے ہیں يحسبون یہ گمان کرتے ہیں الاحزاب کس کے بارے میں؟ گروہوں کے بارے میں یہ وہ جو گروہ ائے تھے ان کے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں لم یذھبوا وہ گئے نہیں بھئی ان کا خیال ہے یہ شاید کوئی جنگی چال انہوں نے کی ہے یہاں سے اٹھ کر تھوڑا پیچھے گئے ہیں اور پھر کسی وقت حملہ وغیرہ کریں گے تو ان کے ابھی تک یقین ہی نہیں آ رہا خوف کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ دشمن جا چکا ہے لیکن انہیں نہیں یقین آ رہا کہ دشمن جا چکا ہے يحسبون الاحزاب لم یذھبوا یہ گمان کرتے ہیں گروہوں کے بارے میں کہ وہ نہیں گئے و إن یات الاحزاب يودو لو انھم بادون فی الاعراب و إن یات و إن یات الاحزاب اور اگر وہ گروہ آ جائیں بالفرض فرض کر لیں اگر وہ گروہ آ جائیں تو یہ پسند کریں و دو کے معنی محبت کرنا پسند کرنا اگر بالفرض وہ گروہ آ جائیں تو یہ لوگ پسند کریں یہ منافقین لو انھم بادونا کہ کاش یہ جنگل میں رہنے والے ہوتے بادیہ جنگل کو کہتے ہیں البادیہ یہ جنگل میں جو رہنے والا ہو بھئی البادیہ کی جمع ائی بادونا اور اگر بالفرض وہ گروہ آ جائیں یا بدو یہ پسند کریں لو انھم بادونا کاش کہ یہ جنگل میں رہنے والے ہوتے فی الاعراب دیہاتیوں میں اعراب کسے کہتے ہیں؟ دیہاتیوں کو کہ کاش یہ جنگل میں رہنے والے ہوتے فی الاعراب دیہاتیوں میں يسئلون عن انبا ئكم پوچھا کرتے تمہاری خبریں پوچھا کرتے تمہاری خبریں یعنی یہ اگر بالفرض لشکر آ جائیں وہ گروہ آ جائیں تو یہ پسند کریں کہ کاش ہم یہاں مدینہ میں نہ رہتے جنگلوں میں کہیں دیہاتیوں کے پاس ہم رہتے دیہاتوں میں اور پھر گزرنے والوں سے خبریں پوچھا کرتے کہ انہوں نے حملہ کیا تھا کیا بنا اس حملے کا کیا کیا انہوں نے مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیا کہ نہیں کیا تو اس طرح کے مدینہ سے یعنی باہر رہتے بس خبریں ہی پوچھا کرتے خود ان پر یہ تکلیف نہ آئی ہوتی ترجمہ سمجھ میں آ گیا و إن يات الاحزاب اور اگر آ جائیں وہ گروہ بالفرض یا بدو تو یہ پسند کریں لو انھم بادونا فی الاعراب کیا کہ کاش یہ جو ہیں دہا جنگلوں میں رہنے والے ہوتے فی الاعراب دیہاتیوں میں يسئلون عن انبا ئكم پوچھا کرتے تمہاری خبروں کے بارے میں یعنی گزرنے والوں سے کیا کرتے خبریں پوچھا کرتے اور خود محفوظ جگہ پر دور ہوتے و لو کانوا فیکم اور اگر ہو تم بالفرض تمہارے درمیان ہوتے ما قاتلو تو لڑائی نہ کرتے الا قلیلا مگر تھوڑی سی ہی اللہ فرما رہے ہیں بالفرض اگر وہ لشکر آ جائیں وہ گروہ ا جائیں تو ان کی تمنا یہی ہے کہ کاش ہم یہاں نہ ہوتے جنگلوں میں رہتے اور اگر تمہارے بیچ بھی ہوتے یعنی وہ لشکر اگئے اور وہ تمہارے بیچ ہوتے تو بھی یہ زیادہ لڑائی نہ کرتے بس تھوڑی سی لڑائی کرتے اور وہ تھوڑی لڑائی بھی صرف دکھاوے کے لیے ہوتی کیونکہ بظاہر تو انہوں نے کلمہ پڑھ رکھا ہے و لو کانوا فیکم اور اگر ہوتے تمہارے بیچ تو ما قاتلو تو لڑائی نہ کرتے الا قلیلا مگر تھوڑی سی ہی لقد کان لكم في رسول اللہ اسوۃ
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ عمودہ نمونہ اسوہ کہتے ہیں وہ چیز جس کی پیروی کی جائے جو پیروی جس کی پیروی کی جائے جو پیروی کے لائق ہو بھئی ۔
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تحقیق ہے تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک عمدہ نمونہ یعنی ان کی ذات میں اے مومنوں تمہارے لیے ایک عمدہ نمونہ ہے ان کی پیروی کرو ہر چیز میں ۔
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تحقیق ہے تمہارے لیے اے مومنوں فی رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اسوۃ حسنۃ ایک عمدہ نمونہ لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر و ذکر اللہ کثیرا لمن کان اس شخص کے لیے یرجو اللہ والیوم الآخر جو امید کرتا ہے اللہ کی اور قیامت کے دن کی جو امید کرتا ہے کہ اللہ کی اور قیامت کے دن کی یعنی ان کے ثواب کی امید کرتا ہے و ذکر اللہ کثیرا اور یاد کرتا ہے اللہ کو کثرت سے تو رجاء یرجو کے کیا معنی میں نے کیے؟ امید کرنا امید کرنا یہ ہیں اس کے معنی امید کرتا ہے اور اس صورت میں پھر ثواب مضاف محذوف نکال لیں گے اللہ کی اور قیامت کے دن کی امید کرتا ہے یعنی ان کے ثواب کی امید کرتا ہے سمجھ میں آیا کیونکہ قیامت کے دن اس وہ تو یقینی ہے بھئی اور امید تو اس چیز کی ہوتی ہے جس میں شک ہو بھئی تو لہذا یہاں ثواب مضاف محذوف نکال لیں کہ ثواب کی امید ہے یہ نیک عمل کرتے ہیں تو یقین امید ہے کہ اللہ اس کے بدلے میں ہمیں کیا دیں گے؟ ثواب دیں گے ہمارے عمل ضائع نہیں فرمائیں گے ۔
و رجاء کے ایک اور معنی بھی میں نے آپ کو بتلائے تھے بھئی ڈرنے کے خوف کرنے کے تو اگر وہ معنی یہاں کر لیں تو پھر اور زیادہ بہترین ترجمہ ہو جائے گا پھر مضاف نکالنے کی ضرورت بھی نہیں۔
لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہے اللہ سے اور قیامت کے دن سے و ذکر اللہ کثیرا اور ذکر کرتا ہے اللہ کا بہت زیادہ ۔
و لما رأى المؤمنون الأحزاب اور جس وقت دیکھا مومنوں نے گروہوں کو یعنی جب لشکر آ گئے تھے تو اس وقت قالوا تو انہوں نے کہا ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ یہ وہ ہے جس کا وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے و صدق اللہ ورسولہ اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے و ما زادہم اور نہیں بڑھایا انہیں نہیں بڑھایا انہیں یعنی زیادہ کے اندر ہوا ضمیر ہے اور وہ راجع ہے کس کی طرف؟ یہ جو انہوں نے مشاہدہ کیا کس کا لشکروں کے آنے کا مشاہدہ کیا بھئی ۔
تو اس مشاہدے نے نہیں بڑھایا مومنین کو الا ایمان و تسلیما مگر باعتبار ایمان کے اور باعتبار فرمانبرداری کے ان کا ایمان اور بھی بڑھ گیا مومنین کا اور ان کی فرمانبرداری اور بھی بڑھ گئی بھئی ۔
و لما رأى المؤمنون الأحزاب اور جب دیکھا مومنین نے گروہوں کو قالوا تو کہا انہوں نے ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ یہ ہے وہ جس کا وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے و صدق اللہ ورسولہ اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا و ما زادھم الا ایمانا و تسلیما اور نہیں بڑھایا اس مشاہدے نے ان کو مگر باعتبار ایمان اور فرمانبرداری کے یعنی اس مشاہدے نے تو اس گروہوں کے دیکھنے نے تو ان کے صرف ایمان اور فرمانبرداری ہی کو بڑھایا بھئی ۔
تو اس مشاہدے نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری کو اور بڑھا دیا ۔
یہ لشکروں کے دیکھنے نے ان کے جو اصل مومنین ہیں جو حقیقتا واقعی ایمان لانے والے ہیں اور سچے ہیں تو یہ لشکروں کے آنے سے اور ان لشکروں کے دیکھنے سے ان کے ایمان اور فرمانبرداری اور بڑھ گئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ ہے وہ جس کا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ۔
یہ ہے تو یہ آیت میں کیا آیا بھئی؟ یہ ہے وہ جس کا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا تھا وعدہ فرمایا تھا ۔
یہ سورۃ بقرہ نکالیں بھئی سورۃ بقرہ کا یہ چھبیسواں رکوع نکالیں بھئی ۔
آیت نمبر 214 ۔
جی نکال لی ہے بھئی آیت نمبر 214 ۔
تو یہ جو آیا بھئی کہ و لما رأى المؤمنون الأحزاب اور جب مومنین نے گروہوں کو دیکھا قالوا تو کہنے لگے ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ یہ وہ ہے جس کا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا تھا اس میں مفسرین حضرات لکھتے ہیں اشارہ ہے اس سورہ بقرہ کے رکوع نمبر 26 میں جو آیت ہے آیت نمبر 214 ام حسبتم أن تدخلوا الجنة اس آیت کی طرف اشارہ ہے بھئی کہ یہ جو ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا تھا مومنین کہنے لگے یہ ہم سے اللہ نے سچ فرمایا تھا اس آیت کی طرف اشارہ ہے یہ جو ہم سے اللہ نے وعدہ کیا تھا اللہ نے اور اس کے رسول نے کیا وعدہ دیکھیے بھئی ام حسبتم أن تدخلوا الجنة کیا تم لوگوں کا یہ گمان ہے اے مومنوں کیا تمہارا یہ گمان ہے أن تدخلوا الجنة کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے و لما يأتكم مثل الذين خلوا من قبلكم مثل کہتے ہیں حال اور وصف کو بھئی نہیں آئے تم پر حالات ان لوگوں کے خلوا من قبلكم جو تم سے پہلے گزر چکے ۔
یعنی اے مومنوں کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تم پر نہیں آئے حالات ان لوگوں کے جو تم سے پہلے گزر چکے مسهم البأساء والضراء چھوا ان کو بأساء تنگی نے والضراء اور تکلیف نے یعنی ان پر تنگی اور تکلیفیں آئیں و زلزلوا اور وہ ہلائے گئے حتّی يقول الرسول یہاں تک کہ کہنے لگے رسول والذين آمنوا معه اور وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ان کے ساتھ متی نصر الله کب اللہ کی مدد آئے گی متی نصر الله کب ہوگی اللہ کی مدد الا إن نصر الله قریب آگاہ رہو یقینا اللہ کی مدد قریب ہے تو مفسرین کیا لکھتے ہیں کہ اس کے ذریعے اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ نے پہلے ہی سے بتلا دیا کہ اے مومنوں تم یہ نہ سمجھنا کہ تم جنت ایمان لے آئے اب جنت میں آرام سے چلے جاؤ گے بلکہ جیسے حالات پہلے لوگوں پر آئے تھے ان پر سختیاں تکلیفیں اور مصائب آئے تھے اسی طرح تم لوگوں پر بھی ایسی تکالیف آئیں گی اور پھر ان تکلیفوں کے اندر جو ثابت قدم رہے گا وہ کیا ہوگا؟ جنت میں جنت میں اللہ اسے داخل فرمائیں گے تو اس آیت کی طرف اشارہ ہے بھئی ۔
ما وعدنا اللہ ورسولہ کے ذریعے اس آیت کی طرف اشارہ ہے بھئی ۔
اور بعضوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنین کو پہلے ہی سے بتلا دیا تھا کہ نو دس راتوں کے بعد جو ہیں وہ لشکر تم پر چڑھ آئیں گے ۔
تو وہ پہلے سے خبر دی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ ہے کہ ہمیں جیسے اللہ اور اس کے رسول نے پہلے خبر دی تھی واقعی اسی طرح ہوا ۔
نویں یا دسویں رات کے بعد وہ کفار کے لشکر پہنچ گئے بھئی ۔
جی معنی سمجھ میں آگیا آیت کا بھئی؟ و لما رأى المؤمنون الأحزاب اور جب دیکھا مومنین نے گروہوں کو قالوا تو کہا انہوں نے ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ یہ ہے وہ جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے و صدق اللہ ورسولہ سچ فرمایا اللہ نے اور اس کے رسول نے و ما زادھم الا ایمانا و تسلیما اور نہیں بڑھایا اس دیکھنے نے ان کو مگر ایمان اور فرمانبرداری کے اعتبار سے یعنی ان کا ایمان اور فرمانبرداری اور بڑھ گئی ۔
من المؤمنین رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه مومنین میں سے بعض وہ لوگ ہیں صدقوا انہوں نے سچ کر دکھایا ما اس چیز کو عاهدوا اللہ عليه جس کا عہد کیا تھا انہوں نے اللہ سے جس چیز پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا ۔
فمنهم من قضى نحبه پس ان میں سے بعض جو ہیں وہ ہیں قضاء پو کے پورا کر دیا انہوں نے نحبه اپنی منت کو اپنی نظر اور منت جو تھی اس کو پورا کر دیا بھئی منت جانتے ہو یا نہیں بھئی کوئی منت مان لے کسی کام کی کہ میں اس طرح کروں گا ضرور اگر تو فمنهم من قضى نحبه پس ان میں سے بعضے وہ ہیں قضاء نحبه جو پوری کر چکے اپنی منت و منهم من ينتظر اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں و ما بدلوا تبدیلا اور انہوں نے ذرا بھی نہیں بدلا انہوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی بھئی اس پر پورا پورا عمل کیا ۔
بڑے روایات میں آتا ہے حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ یہ چچا تھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے تو بھتیجے کا نام انس بن مالک اور چچا کا نام انس بن نضر ضاد کے ساتھ ہے بھئی نضر تو حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ یہ کسی وجہ سے غزوہ بدر کے اندر شریک نہ ہو سکے جس کا ان کو بے انتہا افسوس اور غم تھا اور انہوں نے اللہ سے منت مانی کہ اے اللہ میں یہ پہلی لڑائی تھی مسلمانوں کی کفار کے ساتھ میں اس سے محروم رہ گیا اے اللہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں اگر آئندہ کبھی اس طرح کا موقع پیش آیا کفار سے ہماری لڑائی ہوئی تو پھر اس وقت پیغمبر علیہ السلام کی مدد میں اور دشمنوں سے لڑائی کے اندر اپنی پوری کوشش خرچ کر دوں گا ۔
چنانچہ بعد میں ایک سال دو کے بعد غزوہ احد جب پیش آیا اور غزوہ احد کے اندر مشرکین ائے ان کے ساتھ لڑائی ہوئی اور اسی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ بھی پھیلائی انہوں نے تو اور اس میں مسلمانوں کو تکلیف بھی بہت زیادہ ہوئی بہت مسلمان شہید ہوئے ۔
تو اس جنگ کے اندر پھر جب یہ جنگ آئی تو حضرت نضر حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ وہ جنگ کے لیے جا رہے ہیں میدان جنگ کے اندر حضرت سعد بن معاذ جو سردار ہیں قبیلہ اوس کے بھئی جن کا ذکر آپ نے کل پڑھا کہ جو زخمی ہو گئے تھے بھئی زخمی ہو گئے تھے ۔
تو حضرت سعد بن معاذ فرماتے ہیں کہ جنگ کے اندر میری ملاقات ہوئی نضر بن حارث سے میں نے پوچھا کدھر کو جا رہے ہو کہنے لگے کہ واللہ مجھے احد پہاڑ کی طرف سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے اور پھر یہ افواہ بھی سنی انہوں نے سعد بن معاذ نے یا کسی نے بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں تو فرمانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کے بعد اس زندگی میں کیا مزہ رہ گیا یہ فرمایا اور دشمن کی طرف چلے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے بھئی کہتے ہیں اتنی شجاعت سے لڑے اتنی شجاعت سے لڑے کہ حضرت سعد بن معاذ فرماتے ہیں کہ انہوں نے وہ کچھ کر دکھایا جو مجھ سے نہ ہو سکا اور لڑتے لڑتے پھر یہ شہید ہو گئے شہادت کے بعد کہتے ہیں جب ان کی جسم جسم مبارک ملا تو کہتے ہیں ان کے جسم پر تلوار تیر اور نیزوں وغیرہ کے اسی سے زیادہ زخم تھے بھئی اسی سے زیادہ زخم ۔
معمولی زخم نہیں تھے وہاں نا حتی کہ کہتے ہیں کوئی پہچان ہی نہیں رہا تھا تھا یہ کون ہے چہرے دشمن نے ان کا ان کا مُصلہ کر دیا تھا مُصلہ کہتے ہیں شکل وغیرہ بگاڑ دینا آنکھیں ناک کان ہونٹ وغیرہ کاٹ دینا پہچان ہی نہیں جا رہے تھے کہ یہ ہیں کون ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا کہ یہ میرے بھئی ہیں انس بن نضر بھئی ۔
تو صحابہ عجیب لوگ تھے نہ اس زمین نے اس سے پہلے ایسے لوگ دیکھے اور نہ قیامت تک دیکھ سکے گی یہ وہ خاص لوگ تھے جنہیں اللہ نے ازل میں چن رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے تو انگلیوں کی پوروں سے پہچانا کہ یہ بھئی ہے میرے تو
یہ مراد ہیں بھئی مومنین میں سے بعض وہ لوگ ہیں صدقو ما عاهد اللہ علیہ کہ انہوں نے سچا کر دکھایا وہ جو انہوں نے اللہ سے عہد کر رکھا تھا عہد کو اللہ کیا فرما رہے ہیں انہوں نے پورا کر دیا اسی طرح حضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ وہ بھی کہتے ہیں شہید ہو گئے انہوں نے بھی اپنا عہد کو پورا کر دکھایا اور اس حال میں کہتے ہیں ان کو جب دفنانے دفنا رہے تھے تو اتنا کپڑا بھی نہیں مل رہا تھا کہ جس سے ان کو پورے بدن کو ڈھانپ لیا جائے صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ائے کہ یا رسول اللہ ایک ہی کپڑا ہے اور اس سے اگر ہم ان کے سر کو ڈھانپتے ہیں تو پاؤں کھلے رہ جاتے ہیں اور پاؤں کو ڈھانپتے ہیں تو سر کھلا رہ جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر کو ڈھانپ دو اور پاؤں پر وہ گھاس وغیرہ محسوس تھی وہ اس کے ان کے پاؤں پر ڈال دو۔
تو اللہ فرما رہے ہیں من المومنین رجال صدقو ما عاهد اللہ علیہ مومنین میں سے بعض لوگ وہ ہیں صدقو کہ انہوں نے سچ کر دکھایا ما اس چیز کو عاهد اللہ علیہ جس پر اللہ سے انہوں نے عہد کیا تھا فمنهم من قضا نحبه پس ان میں سے بعض وہ ہیں جو پورا کر چکے اپنی منت کو ومنهم من ينتظر اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں یعنی شہادت وغیرہ کا انتظار کر رہے ہیں ان میں سے بعض جو بعض ہیں یعنی ابھی تک اپنی منت پر اسی طرح قائم ہیں اور شہادت یا موت کا انتظار کر رہے ہیں وما بدلوا تبدیل اور انہوں نے ذرا سا بھی نہیں بدلا بھئی اپنی عہد جو کیا تھا اس میں ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں کی کہ بعد میں اس عہد سے پیچھے ہٹ گئے ہوں اسی طرح قائم ہیں پوری طرح۔
تو قضا نحبه کا کیا معنی ہوا منت پوری کرنا نحب منت کو کہتے ہیں اسی طرح نحب جو ہے اس کے معنی موت کے بھی آتے ہیں بھئی فمنهم من قضا نحبه پس مومنین میں سے بعض وہ ہیں قضا نحبه جو پوری کر چکے اپنی موت یعنی جن پر موت آ چکی یعنی جنہوں نے شہادت کو پا لیا ہے جنہوں نے تو ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے موت کو پا لیا ہے ومنهم من ينتظر اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو شہادت کا انتظار کر رہے ہیں بھئی ابھی موت نہیں آئی وہ موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی تو اس سے مراد حضرت انس ابن نضر رضی اللہ تعالی عنہ اسی طرح حضرت مصعب ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور اسی طرح حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ جیسے مومنین مراد ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کیا اور اللہ کے رسول کی اور دین کی نصرت میں اپنی جانیں دے دیں بھئی۔
اور اسی طرح حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ بھئی وہ بھی شہید ہوئے اس دن اور اسی طرح حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ حضرت طلحہ ابن عبید اللہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ احد کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی کفار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ پر تشریف لے گئے کفار وہاں پہنچے اور حملہ کیا تیر وغیرہ اور پتھر وغیرہ برسائے انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے والوں میں سے تھے یہ اپنے ہاتھ پر پتھروں اور تیروں کو روک رہے تھے بھئی یہاں تک کہ ان کا ہاتھ اتنا زخمی ہو گیا کہ پھر شل ہو گیا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ تیر وغیرہ ہاتھ سے روکتے تھے تو ہاتھ اتنا زخمی ہو گیا کہ پھر شل ہو گیا کہ ہلانے کے قابل ہی نہ رہا۔ وہ بھی اس میں داخل وہ بھی مراد ہیں چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی خود حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا تو صحابہ نے دیہاتی سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو یہ من قضا نحبه یہ کون مراد ہیں اس سے کہ جنہوں نے اپنی منت کو پورا کر لیا ہے جنہوں نے اپنی موت کو پا لیا ہے کون مراد ہے صحابہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات کی اجازت نہیں تھی اور کچھ ویسے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ایک طبعی رعب اللہ تعالی نے عظیم رعب عطا فرمایا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی وجہ سے بھی انہیں ہمت نہیں ہوتی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات پوچھنے کی بہت ہی کوئی ضروری ہوتی تو ہمت کر لیتے ورنہ ہمت نہیں ہوتی تھی تو اب یہ بات ان کے دل میں تھی کہ یہ قضا نحبه سے کون مراد ہیں بعض صحابہ نے تو ایک دیہاتی آیا تو اس سے کوئی اس طرح دیہاتی آ جاتا تو اس کو کہتے بھئی پوچھو ذرا وہ تو نیا آدمی ہوتا تو وہ پھر پوچھ لیتا بعض کو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو من قضا نحبه سے کون لوگ مراد ہیں تو وہ دیہاتی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں تھوڑی دیر بعد میں مسجد کے دروازے میں آیا مسجد کے دروازے سے ظاہر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا بھئی بھئی وہ کون تھا جو من قضا نحبه کے بارے میں پوچھ رہا تھا اور پھر کہتے ہیں میری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا اور کہا یہ ہے ان میں سے جس نے کیا ہے اپنی منت کو پورا کر لیا ہے میری طرف حضرت طلحہ ابن عبید اللہ کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا میں نے بتایا جن کا ایک ہاتھ بھی غزوہ احد میں شل ہو گیا تھا اسی طرح اور روایات بھی آتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی جس شخص کی خواہش ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو زمین پر چلتا پھرتا دیکھے جو اپنی منت پوری کر چکا ہے تو وہ طلحہ کو دیکھ لے یوں کہو جو زندہ شہید کو دیکھنا چاہتا ہے جو جنت کا حقدار بن چکا ہے تو وہ اس طلحہ کو دیکھ لے۔
تو اس آیت سے کون کون مراد ہوئے؟ حضرت انس ابن نضر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت مصعب ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ جیسے صحابہ مراد ہیں اس سے۔
جی تو یہ دیکھیے بھئی من المومنین رجال صدقو مومنین میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں صدقو ما عاهد اللہ علیہ کہ انہوں نے سچ کر دکھایا وہ جو عہد کیا تھا انہوں نے اللہ سے جس پر فمنهم من قضا نحبه پس ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنی منت پوری کر چکے ہیں یا فمنهم من قضا نحبه بعض ان میں سے ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنی موت کو پا لیا ہے یعنی شہادت کو پا لیا ہے ومنهم من ينتظر اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں وما بدلوا تبدیل اور انہوں نے ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں کی یعنی جو عہد کیا تھا اس میں ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں کی لِیَجۡزِیَ اللہُ الصّٰدِقِیۡنَ بِصِدۡقِہِمۡ تاکہ بدلہ دے اللہ تعالی سچوں کو بصدقہم ان کے سچ کی وجہ سے ویعذب المنافقین ان شاء او یتوب علیہم اور عذاب دے منافقین کو ان شاء اگر چاہے او یتوب علیہم یا انہیں توبہ کی توفیق دے دے یتوب علیہم ان پر رجوع کر لے مراد کیا ہے ان کے یعنی ان کی تو انہیں توبہ کی توفیق دے دے لِیَجۡزِیَ اللہُ الصّٰدِقِیۡنَ بِصِدۡقِہِمۡ تاکہ بدلہ دے دے اللہ سچوں کو بصدقہم ان کے سچ کی وجہ سے ویعذب المنافقین اور عذاب دے منافقین کو ان شاء اگر چاہے او یتوب علیہم یا انہیں ان پر رجوع کرے یعنی انہیں کیا ترجمہ کیا میں نے توبہ کی توفیق دے دے ان اللہ کان غفورا رحیما یقینا اللہ بڑے مغفرت کرنے والے بڑے بہت رحم کرنے والے ہیں ورد اللہ الذین کفروا بغیضہم اور ورد اللہ اور اللہ نے لوٹا دیا الذین کفروا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا تھا بغیضہم ان کے غصے کے ساتھ بھئی وہ لشکر حملہ آور ہوئے تھے بڑے غصے میں آئے تھے کہ ہم مسلمانوں کو نست و نابود کر دیں گے لیکن اللہ نے ان کو اسی طرح غصے میں بھرا ہوا ہی واپس بھاگنے پر مجبور کر دیا ورد اللہ الذین کفروا اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا تھا بغیضہم ان کے غضب کے ساتھ یعنی ان کے غضب کے ساتھ ہی انہیں لوٹا دیا غضب میں بھرے ہوئے ہی انہیں واپس لوٹا دیا لم ینالو خیرا نہیں پائی انہوں نے کوئی خیر کوئی بھلائی انہوں نے نہیں پائی نال ینالو کے معنی پا لینا خیر لم ینالو خیرا انہوں نے کوئی بھلائی نہیں پائی یعنی نہ تو انہیں فتح حاصل ہوئی نہ کچھ مال ہاتھ آیا کوئی خیر نہیں پائی لم ینالو خیرا انہوں نے کوئی خیر نہیں پائی وکف اللہ المومنین القتال اور اللہ کافی ہو گئے مومنین کے لیے لڑائی سے اللہ اللہ کافی ہو گئے مومنین کے لیے القتال لڑائی سے یعنی لڑنے کی نوبت ہی نہیں آئی اللہ نے لڑائی کے بغیر ہی کیا کر دی اللہ ہی کافی ہو گئے مومنین کے لیے اور دشمن کو واپس جانے پر مجبور فرما دیا وکف اللہ المومنین القتال اور اللہ کافی ہو گئے مومنین کے لیے لڑائی سے وكان اللہ قویا عزیزا اور اللہ تعالی بڑی قوت والے زبردست ہیں وانزل الذین ظاہروہم من اہل الكتاب من صیاصیہم وقذف فی قلوبہم الرعب فریقا تقتلونو وتاسرون فریقا یہ بھئی اب وہ بنو قریظہ کی بات آ گئی وہ جو مدینہ منورہ کے اندر یہودی رہتے تھے اور جنہوں نے پھر عین جنگ کے اندر غداری کی اور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالا اور پھر مسلمانوں کا خوف کئی گنا بڑھ گیا کہ باہر تو تھا ہی دشمن اب گھر کے اندر بھی دشمن موجود ہے اور وہ کسی وقت بھی حملہ آور ہو سکتا ہے اور مسلمان تو مدینہ سے باہر خندق کھودی ہوئی تھی باہر نکلے ہوئے تھے اور وہیں دن رات پڑے ہیں اور تکلیف کے عالم میں اور گھر کافی فاصلے پر شہر کے اندر تو ادھر بھی دشمن بن گئے اب وہ ان کا الگ خوف ہو گیا کہ کہیں پیچھے ہم بچوں اور عورتوں کو چھوڑ کر آئے ہیں کہیں وہ ان پر حملہ نہ کر دیں بلکہ میں نے بتلایا ایک مرتبہ ان کا حملہ کرنے کا ارادہ بھی بنا لیکن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی اور آپ نے سینکڑوں مسلمانوں کو مدینہ کی حفاظت کے لیے بھیجا بھئی کہ عورتوں اور بچوں کی اور گھروں کی حفاظت کریں۔
تو یہ بنو قریظہ جنہوں نے عین انتہائی نازک موقع پر آ کر بدعہدی کی تھی اور بدترین بدعہدی کی تھی تو چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے دشمن جا چکا ہے صحابہ اپنے اپنے گھروں کو آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر تشریف لائے آپ نے اپنا اسلحہ وغیرہ اتارا حضرت زینب بنت جحش جو ہیں آپ کا سر مبارک دھونے لگیں ایک طرف کا سر دھو دیا تھا دوسری طرف کا ابھی دھونے لگی ہیں تو اسی دوران اچانک کہتے ہیں باہر سے سلام کی آواز آئی کسی نے اونچی آواز سے سلام کیا وہ فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسی سلام کی آواز سنی ایک دم اچھل پڑے اور بڑی تیز تیز رفتاری سے فوراً دروازے سے باہر نکلے بعض روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی ذکر آتا ہے کہ ان کے گھر میں تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا شاید وہ بھی وہیں پر ہوں یا حضرت زینب بنت جحش ان کے گھر آ گئی ہوں حضرت عائشہ کے گھر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی تیزی سے نکلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دروازے کی اوٹ سے دیکھا مسجد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ گھر کے دروازے مسجد نبوی میں ہی کھلتا تھا تو دیکھا کہ جہاں پر وہ جنازے وغیرہ رکھے جاتے تھے وہاں پر ایک شخص کھڑا ہے اونچے قد والا۔
جی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے۔ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا ہاں اسلحہ تو میں نے اتار دیا۔ فرمانے لگے اللہ آپ کو معاف فرمائے ہم نے تو فرشتوں نے تو جب سے اسلحہ پہنا ہے اس جنگ کے موقع پر ابھی تک اسلحہ ہم نے نہیں اتارا اور ہم دشمن کو بڑی دور تک بھگا کر آئے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کو بھاگتے رہے، رعب ڈالتے رہے، ڈراتے رہے فلاں مقام پر پہنچا کر اب ہم واپس آئے ہیں اور ابھی تک کسی نے فرشتوں میں سے کسی نے اسلحہ نہیں اتارا اور اللہ تعالی کا حکم ہے فوراً بنو قریظہ کے پاس پہنچو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس جلدی سے گھر تشریف لائے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی
کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ شخص کون تھا فرمانے لگے کیا تم نے دیکھا انہیں میں نے کہا ہاں فرمانے لگے کس سے ان کی شکل مل رہی تھی میں نے کہا دحیۃ کلبی سے ان کی شکل مل رہی تھی۔
حضرت دحیۃ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ بھئی صحابہ کے اندر ایک صحابی اور بے انتہا حسین و جمیل تھے اتنے حسین و جمیل تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ میری امت کے یوسف ہیں بھئی۔ اور اتنا حسن و جمال اللہ نے ان کو دیا تھا کہ وہ اپنا چہرہ ڈھانپ کر چلا کرتے تھے کہ کسی کو کسی کو حسن کی وجہ سے کچھ ہو نہ جائے یا کسی کی نظر وغیرہ نہ لگ جائے بھئی اتنا حسن تھا اللہ نے ان کو دیا تھا۔
اور کہتے ہیں اتنا لمبا اونچا قد اور حسن و جمال اتنا لمبا قد تھا کہتے ہیں گھوڑے پر بیٹھتے تھے دونوں قدم زمین پر لگتے تھے ان کے بعض کہتے ہیں۔ اور جبریل امین جب بھی آیا کرتے تھے تو عموما حضرت دحیۃ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی شکل میں آیا کرتے تھے بھئی عموما۔ تو حضور نے پوچھا حضرت عائشہ سے کہ کس کی صورت میں تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا دحیۃ کلبی دحیۃ کلبی معلوم ہوئے مجھے۔ حضور نے فرمایا وہ جبرئیل تھے اور کہہ رہے تھے کہ بنو قریظہ کی طرف چلو۔
جبرئیل امین جو ہیں یہ فرما کر چل پڑے کہتے ہیں یہ فرما کر چل پڑے اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ بعد میں روایت جب کرتے تو فرماتے ابھی تک جبرئیل امین اور فرشتوں کے چلنے سے اور وہاں گلیوں میں سے گزرتے ہوئے جو گرد و غبار اڑ رہا تھا وہ ابھی تک میری نگاہوں میں ہے بھئی۔ فرشتے جا رہے تھے گرد و غبار اڑاتے ہوئے حضرت جبرئیل امین جیسے میں نے بتایا حضرت دحیۃ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی صورت میں تھے اور خچر پر سفید رنگ کے خچر پر سوار تھے۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا پیغام دینے والا ایک منادی بھجوا دیا کہ صحابہ میں اعلان کروا دو کہ جو شخص سننے والا ہے اور فرمانبرداری کرنے والا ہے وہ فورا گھروں سے نکلیں اور بنو قریظہ کے پاس پہنچیں اور عصر کی نماز وہیں جا کر پڑھیں عصر کی نماز اس سے پہلے نہ پڑھیں۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ وغیرہ پہنی خود پہنا سر پر لوہے کا اور نیزے وغیرہ اور جو ڈھال وغیرہ ہے وہ چیزیں سب اٹھائیں اور گھوڑے پر سوار ہو کر چل پڑے۔
ابہ میں اعلان کروا دیا گیا بھئی صحابہ اتنی شدید جنگ کے بعد کئی دن پہلے سے خندق کھود رہے ہیں تکلیف کے اندر پھر دشمن نے بھی اس 25 25 دن اس کے لگ بھگ جو ہے دشمن اور شدید تکلیف اب گھر پہنچے ہی ہیں ابھی چند منٹ ہی نہیں ہوئے ہیں ابھی پہنچے ہیں لیکن ادھر جیسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ملتا ہے پھر سارے نکل کھڑے ہوئے بھئی اور حضور کا پیغام یہ ملا تھا کہ عصر بنو قریظہ ہی میں پڑھنی ہے اس سے پہلے نہیں پڑھنی۔
تو وہ چل پڑے یہاں یہ بھی لکھا ہے علماء نے کہ راستے میں عصر کا وقت آ گیا وہ مدینہ کے قریب ہوگا لیکن کچھ فاصلہ ہوگا تھوڑا سا تو عصر کا وقت آ گیا تو بعض صحابہ نے کہا عصر کا وقت ہو گیا عصر کی نماز پڑھ لیں دوسروں نے کہا نہیں بھئی کیا تم نے پیغمبر کا حکم نہیں سنا کہ بنو قریظہ سے پہلے عصر کا کی نماز نہیں پڑھنی۔
انہوں نے کہا پیغمبر علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ فورا نکلو فورا نکلو یعنی ذرا برابر بھی تاخیر نہ کرو فورا چلو وہاں تو یہ مقصد تھا چنانچہ بعض نے وہیں پھر عصر کی نماز راستے میں پڑھ لی اور بعضوں نے کہا نہیں پیغمبر کا حکم تھا وہاں جا کر پڑھنی ہے چنانچہ وہ پھر مغرب کے بعد جا کر وہاں پہنچے تو پھر اس وقت انہوں نے عصر کی نماز بعد میں قضا کی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی کو بھی اس بات کی جب اطلاع ہوئی تو اپ نے کسی کے رد نہیں فرمایا جنہوں نے راستے میں پڑھ لی تھی ان پر بھی رد نہیں فرمایا اور جنہوں نے وہاں پر جا کر پڑھی تھی ان پر بھی رد نہیں فرمایا بھئی۔
معلوم ہوا مجتہد سے اجتہاد میں غلطی ہو بھی جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے بھئی یہ اجتہاد ہی تھا نا ہر ایک نے کوشش کی ہر ایک نے اپنے اعتبار سے پیغمبر کے کلام کا معنی کیا بعضوں نے کہا پیغمبر کی مراد یہ تھی بعضوں نے کہا پیغمبر کی مراد یہ تھی لیکن حضور نے کسی کو تنبیہ نہیں فرمائی معلوم ہوا مجتہد سے اجتہاد کے اندر خطا بھی ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ مقصد تو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہی ہوتا ہے صحابہ کے دونوں گروہوں کا مقصد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری ہی تھا بھئی۔
چنانچہ سارے مسلمان پہنچ گئے وہاں پر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان کے قلعے کو گھیر لیا وہ قلعہ بند ہو کر قلعے کے اندر بیٹھ گئے دروازے بند کر لیے اگلے دن پھر مسلمان بھی تیر انداز تیر اندازی کرتے رہے اور پتھر وغیرہ مارتے رہے وہ بھی اوپر سے پتھر برسا رہے ہیں اور تیر اندازی کر رہے ہیں۔
تو ان کا یہ محاصرہ جو ہے تقریبا 20 25 دن تک ان کے قلعے کا یہ محاصرہ رکھا مسلمانوں نے انہوں نے شروع میں ایک شخص کو بھیجا جب تنگ آ گئے محاصرے سے ایک شخص کو بھیجا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنا چاہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنے دو اجازت ہے ان کا وہ شخص آیا اس نے کہا کہ آپ ہمیں اجازت دیں جس طرح بنو نظیر قبیلے کو آپ نے ان کا مال و اسباب لے جانے کی اجازت دی تھی ہم بھی یوں کرتے ہیں اسلحہ یہیں چھوڑ جائیں گے مال و اسباب لے جاتے ہیں اور بیوی بچوں کو بھی لے جاتے ہیں تو ہمیں یہاں سے جانے دیں ہم اس علاقے ہی کو چھوڑ جاتے ہیں سارے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا کہ نہیں یہ نہیں ہو سکتا پھر انہوں نے کہا اچھا چلو مال و اسباب کو ہم نے کیا کرنا ہے مال و اسباب کو بھی یہیں ہم چھوڑ جاتے ہیں صرف بیوی بچوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی انکار کر دیا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا چنانچہ وہ مایوس ہو کر چلا گیا اور اپنی قوم والوں کو جا کر اطلاع دی کہ اس اس طرح بات ہوئی میری پیغمبر سے اور انہوں نے کوئی بات بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ان کا جو سردار تھا بھئی بنو قریظہ والوں کا کعب بن اسد بھئی کعب بن اسد اور جیسا میں نے بتلایا تھا اپ کو کہ اس کعب بن اسد کے پاس وہ حیی ابن اخطب حیی ابن اخطب بھئی وہ قبیلہ نہیں تھا بنو نظیر اس کا سردار جو قریش بنو غطفان اور وغیرہ باقی سارے قبیلوں میں وہ گھومتے پھرے اور جو اس سب کو تیار کر کے لائے تھے۔
جو سب کو تیار کر کے لائے تھے وہ ان کا سردار حیی ابن اخطب تھا اور یہ حیی ابن اخطب جو ہے یہ کعب بن اسد کے پاس آیا تھا اور میں نے بتلایا تھا کہ دروازہ وغیرہ کھٹکھٹایا تھا اور کعب بن اسد نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا کہ نہیں بھئی ہمارا ان سے معاہدہ ہے ہم ان سے معاہدہ نہیں توڑ سکتے لیکن بالاخر کسی طرح یہ دروازہ کھلوانے میں کامیاب ہو گیا اور اندر پہنچا اور پھر ان سب کو معاہدہ توڑنے پر بالاخر اس نے تیار کر ہی لیا بھئی۔ تو یہ حیی ابن اخطب تھا اور اس نے کہا تھا کہ بھئی تم لوگ کسی قسم کی فکرم نہ کرو اگر یہ لوگ چلے بھی گئے تو میں تمہارے پاس آ کر رہوں گا میں تمہارے ہر دکھ درد میں تمہارا ساتھ دوں گا تم اس کی فکر نہ کرو چنانچہ جب جب کفار بھاگ گئے چلے گئے تو حیی ابن اخطب اپنے وعدے کے مطابق آ گیا اور بنو قریظہ کے قلعے میں مقیم ہو گیا ان کے ساتھ کہ میں نے وعدہ کیا تھا میں تمہیں چھوڑ کر کسی صورت میں نہیں جاؤں گا میری زندگی موت تمہارے ساتھ ہے۔
تو یہ کون تھا حیی ابن اخطب اور یہ جو ان کا سردار تھا بنو قریظہ کا اس کا نام کعب بن اسد تھا۔
چنانچہ جب ان کو ان کا وہ آدمی مایوس ہو کر چلا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی بھی شرط تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو کعب بن اسد نے سارے قبیلے والوں کو سارے لوگوں کو قلعے کے اندر جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کی اور کہنے لگا کہ اے بنو قریظہ والو میں تمہارے سامنے تین صورتیں رکھتا ہوں ان میں سے جس صورت کو چاہو تم اختیار کر لو۔ پہلی صورت یہ ہے کہ تم سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ یہی ایک صورت یہ ایک صورت ہے جان بچانے کی تم جانتے ہو تم سب جو عجیب ان کی باتیں سنتا ہے انسان حیران ہوتا ہے تعصب کیسی چیز ہے بھئی کیسی چیز ہے انسان کو کس طرح ہلاکت میں ڈال دیتی ہے ان کو کہنے لگا تم سب جانتے ہو کہ یہ اللہ کے برحق پیغمبر ہیں تورات کے اندر ان کی جو جو نشانیاں تم نے پڑھی تھیں اور وہ سب نشانیاں تم نے ان کے اندر دیکھ لی ہیں اور صرف ہم اس وجہ سے ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے کہ ان کے یہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں عرب میں سے ہیں صرف اتنی ضد تھی ان کی کہ یہ بنی اسرائیل میں سے نہیں آئے پیغمبر کس میں سے آئے ہیں عرب میں سے آئے ہیں بھئی۔
میں نے بتایا تھا کہ حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے بھئی حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تو باقی تمام پیغمبر حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ائے تو کہتے ہیں ہمیں صرف اس تعصب کی وجہ سے ہم ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے انہیں تسلیم نہیں کر رہے تھے کیونکہ یہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں عرب میں سے ہیں اور تم نے بڑی ان کی علامتیں دیکھ لیں اور تمہیں فلاں بزرگ نے ان کا کوئی بزرگ گزرا ابن حوا ابن جواس یا جواس نام کا کوئی بزرگ ہوگا ان کا وہ گزرا تھا بہت بڑا کہتے ہیں تمہیں یاد ہے اس نے کیا کہا تھا اس نے کہا تھا کہ اس طرح اللہ کا پیغمبر ایک پیغمبر اس زمین میں انے والا ہے اس نے نشانیاں بتلائی تھیں یہ یہ نشانیاں ہیں اور یاد رکھو وہ پیغمبر آ جائے تو اس کا ساتھ دینا کسی کے دھوکے میں نہ آ جانا ہر حال میں اور اس او پیغمبر اس پیغمبر سے اگر تمہاری ملاقات ہو تو اس کو میرا سلام بھی کہنا اور کہنا کہ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اسے تسلیم کرتا ہوں۔
تو یہ ان کے ایک بڑے بزرگ کہہ کر گزرے تھے بھئی لیکن یہ لوگ پھر عجیب تعصب دیکھو کیسی چیز ہے تو تم جانتے ہو یہ پیغمبر برحق ہیں ان پر ایمان لے آؤ لوگ کہنے لگے نہیں نہیں تورات کو ہم کبھی نہیں چھوڑ سکتے تورات کو چھوڑ دیں ہم تورات کے بغیر زندگی گزاریں دوسری شریعت کو مان لیں یہ ہم سے نہیں ہو سکتا تو مایوس ہو گئے تو کہنے لگے اچھا چلو دوسری صورت تمہیں بتاتا ہوں یوں کرو سب اپنے اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دو اپنے اپنے بیوی بچوں کو جب قتل کر دو گے پھر اس کے بعد اب پیچھے کسی کی فکر نہیں ہوگی پھر خوب ڈٹ کر حملہ کرو مسلمانوں پر اگر جیت گئے تو اچھی طرح ہے اور اگر ہار بھی گئے مار بھی گئے تو کم از کم یہ فکر تو نہیں ہوگی کہ ہمارے پیچھے بیوی بچے ہیں مسلمان ان کو غلام اور باندیاں بنا لیں گے۔
انہوں نے کہا بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے ان بیچاروں بیوی بچوں کا کیا قصور ہے ہم انہیں قتل کریں اور پھر بیوی بچوں کو مارنے کے بعد زندگی میں کیا لذت باقی رہ جائے گی یہ ماننے سے بھی انکار کر دیا کہنے لگے اچھا پھر یوں کرو پھر تیسری صورت یہ ہے کہ آج ہفتے کی رات ہے اور مسلمانوں کو پتہ ہے کہ یہودی ہفتے کی رات اور دن کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں بھئی یاد رکھو شریعت میں رات پہلے آتی ہے دن بعد میں اتا ہے بھئی۔
تو جب جمعہ جمعہ کا دن گزر گیا جیسے ہی سورج ڈوبا بس یہ ہفتے کی رات شروع ہو گئی تو کہنے لگا یہ ہفتے کی رات ہے اور مسلمانوں کو پتہ ہے کہ یہودی ہفتے کے دن کا بڑا احترام کرتے ہیں کسی صورت میں ہفتے کے دن اور رات کے اندر جنگ نہیں کرتے تو شاید مسلمان غفلت میں ہوں اس وقت ابھی چل کر حملہ کر دیتے ہیں سارے تیار ہو جاؤ شاید اس غفلت کا فائدہ ہو جائے اور ہم جیت جائیں ورنہ جیت جائیں۔
تو کہیں وہ لوگ کہنے لگے نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ہفتے کے دن کی ہم جنگ کریں یہ بدعت پہلے بھی ہمارے بڑوں میں سے بعض نے کی تھی اور جانتے ہو تم کہ اللہ تعالی نے ان کی صورتیں مسخ کر دی تھیں ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گیا تھا ہم کسی طرح ہفتے کے دن جنگ نہیں کر سکتے کوئی صورت نہیں ہے تو کعب بن اسد اتنا غصے میں آیا کہ کہنے لگا کہ تم لوگ جب سے پیدا ہوئے ہو کبھی ایک دن کے لیے بھی عقلمند نہیں بنے تم لوگ کوئی صورت مانتے ہی نہیں ہو بھئی اور واقعی دیکھو انسان حیران ہوتا ہے بھئی انسان حیران ہوتا ہے۔
تعصب صرف تعصب خالص تعصب تھا ان کے اندر جو ابھی تک اسی طرح یہودیوں کے اندر موجود ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا ہر مذہب والے اسلام قبول کرتے چلے جا رہے ہیں یہودی بہت کم کوئی مسلمان ہوتے ہیں یہ نہیں کہ وہ جانتے نہیں ہیں بس تعصب ہوتا ہے تو چنانچہ تینوں صورتیں ماننے سے انہوں نے انکار کر دیا ایک اسی طرح ایک دن انہوں نے پھر پیغام بھجوایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ آپ حضرت ابو لبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیجیے ہم ان سے اپنے اس مسئلے کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔
حضرت ابو لبابہ جو ہیں اور ان کے خاندان والوں کے اسلام سے پہلے کے ان ان قبائل والوں سے تعلقات وغیرہ تھے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لے گئے ان کے پاس۔
تو کہتے ہیں حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ پہنچے تو سارے ان کے مرد ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے ادھر وہ عورتیں اور بچے جو تھے انہوں نے ان کو دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا سارے دھاڑے مار مار کر رو رہے ہیں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ان پر ترس آ گیا بھئی ایک تو پہلے سے تعلق بھی تھا پھر اور
بچے رو رہے ہیں، چیخ و پکار کر رہے ہیں، ترس آ گیا ان پر تو ان لوگوں نے پوچھا کہ ابو لبابہ آپ کی کیا کیا مشورہ ہے کیا محمد کے کہنے پر ہم قلعے سے اتر آئیں، قلعہ کھول دیں، نیچے اتر آئیں؟ تو ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہاں۔
زبان سے تو ہاں کہا لیکن ساتھ ہی ہاتھ کے ذریعے گردن کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ ذبح کر دیں گے تم سب کو، قتل کریں گے، چھوڑیں گے۔
نہیں حضرت ابو لبابہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ اشارہ کر تو دیا لیکن اسی لمحے فورا ہی پھر مجھے خیال آیا کہ یہ میں نے کیا کیا؟ اللہ سے اور اللہ کے رسول سے میں نے بدعہدی کر دی، ان کی بات کو ان کے سامنے ظاہر کر دیا۔
اتنے پریشان ہو گئے، اتنے غمزدہ ہو گئے کہ وہاں سے نکلے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے بجائے سیدھے مدینہ منورہ تشریف لے آئے، مسجد نبوی کے اندر ایک ستون کے ساتھ اپنے آپ کو بندوا دیا کہ جب تک اللہ تعالی میری توبہ قبول نہیں فرمائیں گے یا اللہ اس وقت تک میں اپنے آپ کو نہیں کھولوں گا۔
मुझे अब अल्लाह के रसूल ही आकर इस जगह से खोलेंगे, मैं खुद नहीं खोलूंगा अपने आपको।
چنانچہ لکھا ہے علماء نے کہ بعض نے کچھ کم لکھا، بعض نے 20، 25 دن تک لکھا کہ یہ بندھے رہے اس ستون کے ساتھ بھی۔
نماز کے وقت اور اسی طرح قضاء حاجت کے لیے ان کی بیٹی یا بیوی آتی اور وہ ان کو کھول دیتی اور پھر جیسے وضو کر کے نماز پڑھ لیتے اور یا پھر قضاء حاجت سے فارغ ہو کر آتے پھر اسی طرح ان کو باندھ دیا جاتا تھا۔
یہ خود فرماتے ہیں کہ اتنے دن گزر گئے اتنی تکلیف میں میں پڑ گیا کہ میری سماعت نے گویا کام کرنا چھوڑ دیا مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا پھر سوچیں تو صحیح 25 دن تک ایک آدمی ستون سے بندھا ہوا ہو اس کا کیا حال ہوگا۔
جب تک کہ اللہ کہتے ہیں توبہ قبول نہیں کریں گے اس وقت تک میں یہیں بندھا رہوں گا۔
کہتے ہیں اس سے پہلے میں نے کچھ دن پہلے میں نے ایک خواب بھی دیکھا تھا کہ خواب میں دیکھا میں کیچڑ کے اندر لت پت ہوں، کیچڑ میں پھنسا ہوں اور اتنی سخت بدبو ہے اس کیچڑ کی کہ میرا دماغ پھٹا جا رہا ہے لیکن چھوٹنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔
پھر ایک میں نے ایک ندی دیکھی صاف و شفاف پانی کی اور پھر اس میں میں نہایا اور صاف و شفاف ہو گیا۔
کہتے ہیں پھر میں نے یہ خواب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو سنایا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق خوابوں کی تعبیر کے بہت بڑے ماہر تھے تو ان کو سنایا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے معلوم ہوتا ہے تم پر کوئی غم والی بات آئے گی، غم میں مبتلا ہوگے پھر اللہ تعالی اس غم کو ختم فرما دیں گے اور آسانی والا معاملہ فرمائیں گے۔
تو کہتے ہیں کہ مجھے اس خواب کی وجہ سے بھی یقین تھا کہ ضرور اللہ میری توبہ قبول فرمائیں گے۔
تو چنانچہ بندھے رہے اور پھر بعد میں اللہ تعالی نے 20-25 دن کے بعد ان کی توبہ قبول کرنے کا اعلان کیا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آ کر آزاد کیا۔
تو چنانچہ پھر بھئی یہود بالآخر مجبور ہوگئے 20-25 دن تک بند رہے، نہ باہر نکل سکتے ہیں، نہ کچھ آخر تنگ آ کر انہوں نے پھر تو پھر وہ وہ لوگ نیچے اتر آئے انہوں نے قلعہ کھول دیا ان سب کو پکڑ لیا گیا بھئی۔
تو جب پکڑ لیا گیا تو قبیلہ اوس والے بھئی انصار میں میں نے بتایا دو قبیلے تھے بڑے بھئی، دو اوس اور خزرج۔
اوس کے سردار تھے حضرت سعد بن معاذ اور خزرج کے سردار تھے حضرت سعد بن عبادہ۔
دونوں کے نام سعد ہیں تو بھول جاتا ہے انسان سعد بن عبادہ تھے کس کے سردار اور کس کے سردار سعد بن معاذ تھے۔
تو یاد رکھو ایک جانب زا ہے تو ایک جانب زال ہے، معاذ میں کیا آتی ہے؟ معاذ میں زال تو بس اس کے ساتھ زا نہیں لانی، زا کس میں ہے؟ خزرج میں۔
تو سعد بن معاذ اس کے کس کے سردار تھے؟ اوس کے کیونکہ اوس میں زا نہیں ہے۔
اور دوسری طرف سعد بن عبادہ وہ کس کے سردار تھے؟ خزرج کے تو بس اتنا یاد رکھو ایک طرف ذال کو رکھنا ہے ایک طرف زا کو رکھنا ہے، دونوں کو اکٹھا نہیں کرنا۔
یاد رہے گا کہ نہیں بھئی، سمجھ میں آگئی بات؟ تو جب ان کو پکڑ لیا گیا بنو قریظہ والوں کو کہتے ہیں ان میں بعض روایتوں میں آتا ہے چھ، سات سو مرد تھے اور باقی عورتیں، بچے تھے، بعض میں آتا ہے کہ مردوں کی تعداد آٹھ نو سو تک بعض روایتوں میں آئی ہے، باقی عورتیں اور بچے تھے۔
تو عورتیں، بچے ملا کر دو ہزار تک تو ان کو جب پکڑ لیا گیا تو قبیلہ اوس والے جو تھے ان کے ساتھ یہ بنو قریظہ والوں کے تعلقات تھے اسلام سے پہلے کے۔
ان کے آپس میں تعلقات تھے۔
تو یہ سارے اوس والے آ رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارشیں کر رہے ہیں، یا رسول اللہ ان کو چھوڑ دیں، ان کے ساتھ اچھا معاملہ فرمائیں۔
ان کے ساتھ ہمارا تعلق تھا اسلام سے پہلے۔
بڑی سفارشیں کر رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔
جب ان کا اصرار حد سے بڑھ گیا، سفارشیں حد سے بڑھ گئیں، ہر ایک آ کر ان میں سے کہہ رہا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس سے بہتر بات تم لوگوں کو نہ بتلاؤں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ کیا تم ہی میں سے ایک آدمی کو اس کے فیصلے کا اختیار نہ دے دیا جائے؟ انہوں نے کہا یہ تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی؟ فرمایا تو پھر اس کا فیصلہ سعد بن معاذ کریں گے۔
اور بعض روایتوں میں یہ آتا ہے کہ بنو قریظہ والوں نے خود پرانے تعلقات کی وجہ سے کہا تھا اس شرط پر نیچے اترے تھے کہ ہمارا فیصلہ کون کریں گے؟ سعد بن معاذ کریں گے بھئی۔
تو انہوں نے اوس کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذکر فرمایا انہوں نے کہا اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی؟ چنانچہ حضرت سعد بن معاذ جیسا میں نے کل ذکر کیا وہ زخمی ہو گئے تھے، جنگ کے اندر گئے تھے، زرہ چھوٹی تھی تو اس جہاں پر زرہ نہیں تھی، اس جگہ پر آ کر کوئی تیر وغیرہ لگا اور خون کی ایک بڑی رگ کٹ گئی، بڑا خون نکلا۔
اور بڑے مضبوط جسم والے اور اونچے قد والے تھے حضرت سعد بن معاذ بھئی۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خیمہ مسجد نبوی کے اندر ہی لگوا دیا تھا تاکہ عیادت میں اور خبر وغیرہ معلوم کرنے میں آسانی ہو۔
وہیں پر حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ خیمے کے اندر تھے، زخمی حالت میں علاج ہو رہا تھا۔
اور ایک عورت تھی جو عورت رفیدہ نام کی، وہ جو قیدیوں وغیرہ جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہوتا تھا، وہ ان کی خبر گیری اور تیمار داری کرتی تھی اور خدمت کرتی تھی ثواب کی نیت سے۔
تو وہاں پر وہ حضرت رفیدہ جو ہیں وہ ان کی خدمت کیا کرتی اور یہ بیمار پڑے ہوئے ہیں، شدید زخمی ہیں۔
اب تو اللہ تعالی نے آسانیاں فرما دیں بھئی کتنا ہی زخم لگاؤ کیسا ہی کچھ ہو، اس کا فورا علاج کر لیتے ہیں، کتنی آسانی ہے اس زمانے میں نہ کوئی علاج کی کوئی ایسی صورت، نہ کچھ جو زخمی ہوا تو چھوڑا، تھوڑا بہت جو علاج وہ جانتے تھے، چھوٹی موٹی اپنی استعمال کی چیزوں سے اسی کے ذریعے کوشش کرتے تھے علاج کا۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا لوگوں کو کہ سعد بن معاذ کو لے کر آؤ۔
وہ آئے حضرت سعد بن معاذ کے پاس اور ایک گدھا یا خچر تھا اس کو تیار کیا، یہ زخمی حالت تھے، اس کے اوپر ان کو لے کر چلے۔
راستے میں لوگ جو ہیں قبیلہ اوس والے وغیرہ سفارشیں کرتے جا رہے ہیں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو کہ آپ دیکھیے، ان کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں، ہمارے تعلق والے لوگ ہیں، آپ ان کے بارے میں اچھا فیصلہ کیجیے گا، دیکھیے فلاں نے فلاں کے بارے میں کیسا اچھا فیصلہ کیا تھا اور اس طرح اس طرح بڑی سفارشیں کر رہے ہیں۔
حضرت سعد بن معاذ خاموش ہیں، کوئی جواب نہیں دے رہے۔
آخر جب بہت زیادہ اصرار بڑھتا چلا گیا لوگوں کا تو فرمانے لگے اب وقت آگیا ہے کہ اللہ کے معاملے میں سعد کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرے۔
لوگ اسی وقت سمجھ گئے کہ بس اب بنو قریظہ کی خیر نہیں۔
چنانچه بعض نے تو جا کر قبیلہ اوس باقی لوگوں وغیرہ کو بھی بتایا کہ اب ان کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ اسی حالت میں گدھے پر سوار کیا ہوا ہے، زخمی حالت میں ان کو لے کر حاضر ہوئے۔
وہاں پر ایک عارضی مسجد انہوں نے بنا لی تھی، 20-25 دن تک محاصرہ چونکہ تھا تو بنو قریظہ کے پاس ایک عارضی سی مسجد بنا لی گئی تھی تو وہیں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔
جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی سواری پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا قوموا الی سیدکم، اپنے سردار کی طرف اٹھو یعنی ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
تو صحابہ کھڑے ہو گئے ان کے استقبال کے لیے اور وہ آئے، تشریف لے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کریں۔
تو حضرت سعد بن معاذ نے اپنی قوم والوں کی طرف پوچھا کہ بھئی کیا میں جو بھی فیصلہ کروں ان کے بارے میں تم سب اس کو قبول کر لو گے؟ کیا تم اللہ کے ساتھ عہد کرتے ہوئے یہ بات تسلیم کرتے ہو کہ میں جو بھی فیصلہ کروں اس کو اس طرح نافذ کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا ہاں، ہاں کیوں نہیں، ہم اس کو ضرور مان لیں گے۔
پھر جب ان کی طرف سے بات ہو گئی تو پھر دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اس جانب والے جو ہیں کیا ان پر بھی میرا فیصلہ نافذ ہوگا؟ اشارہ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لیکن رخ نہیں ان کی طرف، بس اشارہ ہلکا سا کیا، رخ ادب کی وجہ سے رخ دوسری طرف ہی رکھا۔
کیا ان پر بھی میرا فیصلہ نافذ ہوگا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں نافذ ہوگا۔
تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، میں ان بنو قریظہ والوں کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جتنے بالغ مرد ہیں، ان سب کو قتل کر دیا جائے، ان کے جو نابالغ اولاد اور عورتیں ہیں، ان کو غلام اور باندیاں بنا لیا جائے اور ان کا جتنا مال و اسباب ہے، وہ مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ان کے جتنے گھر ہیں، وہ انصار و مہاجرین کو دے دیے جائیں۔
بعض روایتوں میں آتا ہے کہ گھر گھروں کے بارے میں کہا کہ وہ صرف مہاجرین کو دے دیے جائیں، بھئی، مہاجرین کو تو ان کے قوم والوں نے کہا کیوں بھئی، ہمارا حصہ نہیں ہے، سارے مہاجرین کو کیسے آپ دے رہے ہیں ان کے گھر؟ تو کہا تم لوگوں کے اپنے گھر یہاں موجود ہیں، زمینیں ہیں، مہاجرین مکے سے آئے ہیں، ان کے پاس گھر وغیرہ نہیں تو یہ گھر ان کے لیے ہیں۔
جب یہ فیصلہ فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذ نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر فیصلہ کیا تھا۔
چنانچہ ان کے مردوں کو باندھ کر الگ مدینہ منورہ میں لے آئے اور انہیں ایک مکان کے اندر قید کر دیا گیا۔
اور اگلے دن مدینہ منورہ کے بازار کے اندر ایک گڑھا کھودنے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔
وہ گڑھا ان کے لیے کھودا جانے لگا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں، پھر جب گڑھا کھود لیا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کے لیے مقرر فرمایا۔
چنانچہ یہودیوں کو پکڑ پکڑ کر گروہ در گروہ تھوڑے تھوڑے آدمی لائے جاتے تھے اور اس گڑھے کے اندر ان کی گردنیں اتار دی جاتی تھیں، بھئی، قتل کر دیا جاتا تھا۔
تو اسی طرح سب کو قتل کر دیا گیا، بھئی۔
अच्छा, یہودیوں کو ادھر قتل کیا جا رہا تھا، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ، یہ صحابی رسول ہیں اور یہ جو قیدی بنو قریظہ والے پکڑ کر لائے گئے تھے، ان میں ایک شخص تھا زبیر بن باپا، یہ قبیلہ قریظہ کا تھا۔
بڑا بوڑھا شخص تھا تو اسلام سے پہلے کی لڑائیوں کے اندر ایک موقع پر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ قید ہو گئے، دشمن نے پکڑ لیا تھا اور زبیر بن باپا نے اس وقت یہ وہ پکڑنے والوں میں سے تھے، ان کے پاس پہنچے، انہوں نے صرف ان کے بال کاٹ کر چھوڑ دیا، نہ غلام بنایا، نہ ان کو قتل کیا تو یہ بہت بڑا احسان تھا ان کے اوپر۔
زبیر بن باپا یہ بھی قیدیوں میں سے تھے۔
حضرت ثابت بن قیس زبیر بن باپا کے پاس آئے کہ مجھے پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں پہچانتا میں تمہیں؟ کہا کہ تم نے میرے ساتھ احسان کیا تھا تو میں بھی تمہارے ساتھ احسان کروں گا۔
تو زبیر بن باپا کہتے ہیں ہاں معزز لوگ بھلائی کا بدلہ بھلائی ہی دیا کرتے ہیں۔
چنانچہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے کہ یا رسول اللہ! انہوں نے میرے ساتھ احسان حضرت ثابت بن قیس، بھئی اور فرمانے لگے کہ اے اللہ کے پیغمبر! یہ زبیر بن باپا نے میرے ساتھ زمانہ جاہلیت کے اندر ایک بڑا احسان کیا تھا اور میں چاہتا ہوں ان کے احسان کا بدلہ دے دوں، لہذا ان کو میرے حوالے کر دیجیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ بھئی، وہ تمہیں ہم تمہیں بخش دیے گئے۔
چنانچہ وہاں سے واپس آئے اور زبیر بن باپا سے کہا کہ تمہاری جان بچ گئی، تمہیں
صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف فرما دیا ہے۔
تو زبیر ابن باپا کہنے لگا کہ بوڑھا شخص ہو اور اس کے بیوی بچے بھی نہ ہوں تو وہ ایسی زندگی جی کر کیا کرے گا؟
حضرت ثابت ابن قیس رضی اللہ تعالی عنہ پھر گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔
یا رسول اللہ! ان کے بیوی اور بچوں کو بھی مجھے ہبہ کر دیجیے۔
حضور نے فرمایا وہ بھی تمہیں ہبہ کر دیے۔
پھر واپس آئے اور اس سے کہا کہ تمہارے بیوی بچوں کو بھی حضور نے معاف کر دیا اور مجھے ہبہ کر دیا اور وہ میں تمہیں دیتا ہوں، تمہیں ہبہ کرتا ہوں۔
زبیر ابن باپا نے کہا کہ بوڑھا شخص ہو، بیوی بچے ہوں لیکن مال و اسباب نہ ہو تو کس طرح زندگی گزارے گا؟
پھر حضرت ثابت ابن قیس رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے یا رسول اللہ! ان کے مال و اسباب بھی مجھے دے دیجیے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وہ بھی تمہیں بخش دیے، سوائے اسلحے وغیرہ کے وہ روک لیا گیا باقی سارا مال ان کو۔
پھر واپس آئے اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مال و اسباب بھی مجھے دے دیا ہے اور وہ میں تمہیں دیتا ہوں۔
اب دیکھو بیوی بچے بھی آ گئے، اس کی بھی جان بخشی گئی اور مال بھی اس کو سارا اس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایک طرف سب کو قتل کیا جا رہا ہے اور اس کی زندگی لیکن آگے سنیے، انسان حیران رہتا ہے کہ تعصب انسان سے کیا کچھ کروا دیتا ہے۔
بجائے اس کے اب یہ بھی یہودی تھا، اس کو بھی سب کچھ پتہ تھا یہ پیغمبر ہیں لیکن ایمان نہیں لانے والا، بھئی! پوچھنے لگا: اچھا بھئی! وہ جو ایک آدمی تھا وہ جو ایک شخص تھا جو آئینے کی طرح خوبصورت تھا اور پورے قبیلے کا چہرہ اس میں دکھائی دیتا تھا، یعنی کہ کعب بن اسد اس کا کیا ہوا؟
حضرت ثابت ابن قیس رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے ان کو تو قتل کر دیا گیا۔
کہتا ہے: اچھا! وہ ایک اور شخص تھا، سردار تھا، بھئی! شہریوں کا بھی سردار تھا، صحرا نشینوں کا بھی سردار تھا جو لڑائی کے موقع پر لوگوں کو سواریوں پر سوار کیا کرتا تھا اور قحط کے موقع میں لوگوں کو کھانے کھلایا کرتا تھا، اس کا کیا ہوا؟ یعنی کہ حیئے بن اخطب کے بارے میں پوچھا۔
تو کہے تو کہا: اس کو بھی قتل کر دیا گیا، بھئی!
کہا: اچھا! اور بھی ایک چند سرداروں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا ان سب کو قتل کر دیا گیا۔
کہنے لگا: اچھا! وہ ہماری مجلسیں لگایا کرتی تھیں، بڑے لوگ اس میں شریک ہوتے تھے اور ان کا کیا ہوا؟
کہا: وہ مجلسوں والے بھی سارے قتل کر دیے گئے۔
تو کہنے لگے: پھر تیرے ساتھ جو میں نے بھلا کی تھی وہ زمانہ جاہلیت کے اندر اور تجھے میں نے چھوڑ دیا تھا، آزاد کیا تھا تجھے میں اسی بھلائی کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے تو جلد سے جلد مجھے بھی قتل کر دے، اپنے ساتھیوں تک پہنچا دے، ان کے بغیر زندگی گزارنے کا کوئی مزہ نہیں ہے۔
ہاں میرے بعد میرے بیوی بچوں کا خیال رکھنا۔
اصرار کیا بڑا کہ بس اب میں ایک لمحہ بھی زندہ نہیں رہنا چاہتا، فورا میں اپنے ساتھیوں سے ملنا چاہتا ہوں، تم مجھے بھی ان تک پہنچا دو، چنانچہ اس کو بھی قتل کر دیا گیا۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی یہ بات پہنچی کہ وہ کہہ رہا تھا میں اپنے ساتھیوں سے ملنا چاہتا ہوں۔
فرمانے لگے: ہاں جہنم میں اب ہمیشہ اپنے ساتھیوں سے ہی ملتا رہے گا۔
عورتوں کے اندر کہتے ہیں کسی کو قتل نہیں کیا گیا سوائے ایک عورت، بھئی! بنانہ نام تھا اس کا بنانہ۔
اس عورت نے جب مسلمانوں نے قلعے کا محاصرہ کیا ہوا تھا، اس نے اوپر سے چکی کا وہ بڑا گول پتھر جو ہے وہ اوپر سے گرایا تھا اور ایک صحابی تھے حضرت خلاد بن سوید رضی اللہ تعالی عنہ، خلاد بن سوید دال ہے آخر میں۔
خلاد بن سوید رضی اللہ تعالی عنہ ان کو وہ پتھر لگا اور وہ اسی وقت وہ شہید ہو گئے۔
تو اس ایک عورت کو اس دن قتل کیا گیا، بھئی! اس ایک عورت کو۔
اور یہ عورت جو ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ یہ عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی ادھر یہودیوں کی گردنیں اڑائی جا رہی ہیں اور یہ عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور بہت ہی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔
اتنی ہنس کر اور اتنی خوشی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، آگے روایت سے اندازہ ہوتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کو پتہ نہیں تھا ابھی کہ اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں بڑے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی اور بڑی ہی خوش تھی اور باتیں کر رہی تھی کہہ رہی تھی کہ وہ بنو قریظہ والے کے سرداروں کو قتل کیا جا رہا ہے اس وقت اس کو بھی پتہ تھا۔
تو پھر کہتے ہیں تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اچانک اونچی آواز گونجی کہ وہ فلاں عورت کدھر ہے؟ اس کا نام لیا گیا کہ فلاں عورت کدھر ہے؟ اس نے کہا میں ادھر بیٹھی ہوں اور نکل کر چلی، میں نے کہا: بھئی! تمہارا کیا تعلق ہے اس مسئلے سے؟ تمہیں کیوں بلا رہے ہیں؟ تو کہنے لگی: بس میں نے کام کیا ہے اور اس وجہ سے چنانچہ ان کو لے گئے اور خلاد بن سوید رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل کے بدلے میں ان کو بھی پھر قتل کر دیا گیا، بھئی! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بعد میں ہمیشہ حیرت کا اظہار کرتی تھیں کہ ایک عورت جسے علم بھی ہے اسے ابھی قتل کر دیا جائے گا اور پھر وہ اس طرح ہنس ہنس کے اور اتنی خوش طبعی کے ساتھ بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھی، اس پر حیرت کا اظہار کیا کرتی تھیں۔
تو اس طرح جو ہے اس غزوے کے اندر پھر بغیر لڑائی کے اللہ نے مسلمانوں کو بہت کثرت سے مال ملا، بھئی! سینکڑوں تلواریں، نیزے وغیرہ۔
مسلمان بیچارے تو بستر و سامانی کی حالت میں کچھ ہوتا ہی نہیں تھا تو کہتے ہیں 1500 کے 1500 تلواریں ملیں، اسی طرح دو تین ہزار نے، اسی طرح زریں ملیں بہت ساری اور ڈھالیں بہت زیادہ 1500 اور بہت مال و اسباب مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
اور یہ مالِ فئے تھا، بھئی! کیا ہے؟ مالِ فئے۔
مالِ فئے، ایک ہے مالِ غنیمت، مالِ غنیمت وہ ہے جو لڑائی کے بعد ہاتھ آتا ہے جس میں لڑائی ہوتی ہے، اس میں کوئی لڑائی وغیرہ نہیں ہوئی تو ویسے دور دور سے تو تیر اندازی کرتے رہے لیکن جنگ وغیرہ کی نوبت نہیں آئی تو بغیر جنگ کے جو مال ملے اسے مالِ فئے کہتے ہیں، بھئی!
تو پھر اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھر تقسیم کیا، خمس وغیرہ نکالا، صحابہ میں تقسیم کیا۔
تو اس طرح اس بنو قریظہ والوں کا خاتمہ ہوا، سب مرد ان کے قتل کر دیے گئے جو بھی بالغ تھے، سب کو قتل کر دیا گیا جو بھی بالغ تھے۔
ادھر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ جب فیصلہ فرما چکے اور تمام بنو قریظہ والوں کو قتل کر دیا گیا انہوں نے پہلے دعا کیا کی تھی؟ اے اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کے معاملے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں۔
تو چنانچہ خود ہی فیصلہ فرما دیا اور تمام یہودیوں کو قتل کر دیا گیا تو ادھر ان کا وہ زخم پھر کھل گیا، پھر اس میں سے خون جاری ہو گیا، رکتا ہی نہیں تھا، حتٰی کہ اسی سے ان کی شہادت ہو گئی۔
شہادت ہو گئی۔
شہادت کے بعد جب ان کا جنازہ جنازہ اٹھا تو جنازہ بڑا ہلکا پھلکا تھا، یاد رکھو مومن کا جنازہ بڑا وزنی ہوتا ہے ایمان کی وجہ سے، بھئی! بہت وزن ہوتا ہے اس کا۔
تو جب ان کا جنازہ اٹھا تو بڑا ہلکا پھلکا، بھئی! وزن ہے ہی نہیں کچھ تو منافقین پھر باتیں کرنے لگے کہ یہ دیکھو انہوں نے غلط فیصلہ کیا تھا بنو قریظہ کے ساتھ ان کے تعلق بھی تھے تعلق بھی تھا اور پھر بھی انہوں نے اس طرح کا غلط فیصلہ کیا، اس وجہ سے اب ان کا یہ جنازہ ہلکا پھلکا ہے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: نہیں! ان کا جنازہ اس وجہ سے ہلکا ہے کہ آسمان سے اللہ تعالی نے فرشتے بھیجے ہیں جو ان کے جنازے میں شریک ہیں اور وہ جنازے کو اٹھائے ہوئے ہیں اس لیے تمہیں ہلکا لگ رہا ہے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے جنازے میں شرکت کے لیے 70 ہزار فرشتے نازل ہوئے تھے۔
اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال پر عرش الہی لرزنے لگا تھا، حدیث میں آتا ہے۔
مراد یہ ہے یعنی کہ یا تو غم کی وجہ سے لرزنے لگا ان کے انتقال پر یا خوشی کی وجہ سے کہ ان کی روح کے استقبال اور خوشی کی وجہ سے کہ ان کی روح آ رہی ہے تو اس خوشی میں لرزنے لگا، بھئی! تو یہ بہت بڑے جلیل القدر صحابی تھے، بہت بڑے۔۔
ایک مرتبہ کہتے ہیں مدینہ منورہ میں بہت ایک اعلیٰ قسم کا کپڑا آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سارے صحابہ اس کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں، اتنا نرم کپڑا تو ہم نے کبھی آج تک دیکھا ہی نہیں۔
کوئی بہت ہی خاص قسم کا کپڑا کپڑا ہوگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کپڑے کی نرمی سے تعجب کر رہے ہو، جنت میں سعد کے رومال اس سے زیادہ نرم ہیں۔
تو ان کا یہ قران میں اللہ ذکر فرما رہے ہیں، بھئی! یہ تھا پورا تفصیلی واقعہ، اب قران یہ دیکھیے۔
وأنزل الذين ظاهروهم اور اتارا ان لوگوں کو ظاہروہم جنہوں نے ان کو فار کی مدد کی تھی، اتارا ان لوگوں کو، بھئی! یہ بنو قریظہ والے ان کو اللہ نے ان کے قلعوں سے یعنی نیچے اتارا۔
وأنزل الذين ظاهروهم ظہر کے معنے مدد کرنے کے ہیں، ظاہروہم اتارا ان لوگوں کو کہ مدد کی تھی انہوں نے، انہوں نے کن کی مدد کی تھی؟ قریش مکہ والے وہ جو لشکر والے آئے تھے، ان کی انہوں نے مدد کی تھی۔
وأنزل الذين ظاهروهم اور اتارا ان لوگوں کو، اتارا یعنی بنو قریظہ والوں کو، کس چیز سے اتارا؟ قلعوں سے، ہاں آگے ذکر بھی آ رہا ہے، وأنزل الذين ظاهروهم اور اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے مدد کی تھی ان، ان گروہ والوں کی، ان کی جنہوں نے مدد کی تھی انہیں اللہ نے اتارا من أہل الكتاب اہل کتاب میں سے، اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اللہ نے نیچے اتارا قلعوں سے۔
وہ بنو قریظہ والے اہل کتاب تھے نا، یہودی تھے۔
وأنزل الذين ظاهروهم من أہل الكتاب اور اللہ نے اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے مدد کی تھی ان مشرکین کی من أہل الكتاب اہل کتاب میں سے، ان کو اتارا، کہاں سے اتارا؟ من صياصيهم ان کے قلعوں سے۔
بنو قریظہ والے مجبور ہو کر اتر آئے، بھئی! تو ان کے قلعوں سے اللہ نے ان کو اتارا۔
صياصى یہ جمع ہے صياصيةٌ کی، بھئی! صواد ہیں دونوں جگہ۔
صياصى صياصى جو ہے وہ قلعے کو کہتے ہیں، محفوظ مکان کو کہتے ہیں۔
اور اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے ان کی مدد کی تھی اہل کتاب میں سے من صياصيهم ان کے قلعوں سے وقذف فى قلوبهم الرعب اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب اور اللہ نے ڈال دیا ان کے دلوں میں، وقذف وقذف اور ڈال دیا فی قلوبھم الرعب ان، ا، اہ، اہل کتاب کے دلوں میں رو، ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔
فريقاً تقتلون وتأسرون فريقاً فريقاً تقتلون ایک گروہ کو تم لوگ اے مسلمانوں! تم ایک گروہ کو قتل کر رہے تھے وتأسرون فريقاً اور قید کر رہے تھے ایک گروہ کو۔
یعنی اے مسلمانوں! تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کر رہے تھے، یعنی بالغ مردوں کو قتل کر رہے تھے اور عورتوں اور بچوں کو کیا کر رہے تھے؟ قید کر رہے تھے۔
فريقاً تقتلون ایک گروہ کو تم قتل کر رہے تھے وتأسرون فريقاً اور ایک گروہ کو تم قید کر رہے تھے۔
وأورثكم أرضهم اور تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں کا۔
تمہیں وارث بنا دیا؟ یعنی مالک بنا دیا۔
وأورثكم أرضهم اور مالک بنا دیا تمہیں أرضهم ان کی زمینوں کا ودیارہم اور ان کے گھروں کا، دیار جمع ہے دار کی۔
وديارہم اور ان کے گھروں کا واموالهم اور ان کے مالوں کا وأرضاً لم تطئوها اور ایسی زمین کا کہ تم نے اس پر قدم نہیں رکھے۔
مالک بنا دیا تمہیں ان کے زمینوں کا بھی، ان کے گھروں کا بھی اور ان کے مالوں کا بھی اور مالک بنا دیا تمہیں ایسی زمین کا بھی جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھے۔
لم تطئوها جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھے یعنی جسے تم نے روندا نہیں یعنی قدم نہیں رکھے، تو وطي يطئى کے معنے ہوتے ہیں روندنا، قدم رکھنا۔
اور ایسی زمین کا بھی تمہیں مالک بنایا کہ تم نے اس پر ابھی قدم نہیں رکھا، مراد اس سے خیبر کی زمین ہے جو اس کے دو سال بعد فتح ہوئی، اللہ نے ابھی سے ہی خبر دے دی اس کی۔
بعض کہتے ہیں کہ مکہ کی زمین مراد ہے جس کو بعد میں مومنین نے پھر فتح کر لیا، بھئی! شروع میں تو مسلمان وہاں سے ہجرت کر کے چلے گئے تھے، مشرکین کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر لیکن پھر بعد میں اسی مکہ کو مومنین نے فتح کر لیا۔
اور بعضوں نے کہا کہ اس سے قیامت تک جتنی زمینیں مومنین فتح کریں گے سب اس کے اندر داخل ہیں کہ مالک بنا دیا اللہ نے تمہیں ایسی زمین کا جن پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھے تو تمام وہ زمینیں اس میں آ گئیں جو جن پر ابھی تک مومنین نے قدم نہیں رکھے اور فتح نہیں کیا ان کو اور پھر اس کو فتح کر لیں گے۔
تمہیں اس زمین کا بھی مالک بنا دیا ابھی سے اللہ نے خوشخبری دے دی مومنین کو۔
وأرضاً لم تطئوها اور مالک بنا دیا ایسی زمین کا لم تطئوها کہ تم نے ابھی اس پر قدم نہیں رکھا وکان اللہ على كل شيء قديرا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں۔
اللہ! اللہ ہر چیز پر قادر ہیں۔
بس بھئی! هذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔