Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-050

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم قالوا ما انتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شيء ان انتم الا تکذبون قالوا ربنا یعلم انا الیکم لم مرسلون وما علینا الا البلاغ المبین بھئی گزشتہ سبق کے آخر میں بستی والوں کا قصہ جو ہے وہ شروع ہوا تھا کہ کس طرح ایک بستی تھی اور وہاں اللہ نے دو پیغمبروں کو بھیجا اور بستی والوں نے ان کو جھٹلایا تو اللہ نے ایک تیسرے پیغمبر کو بھیجا تو وہ واقعہ ذکر ہو رہا ہے بھئی اور میں نے بتلایا تھا کہ بعض مفسرین حضرات جو ہیں وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو دو بھیجے گئے تھے یہ پیغمبر نہیں تھے یہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری تھے اور پھر تیسرا جو بھیجا گیا وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کا حواری تھا اور یہ بستی جو تھی یہ انطاکیہ بستی تھی جبکہ دیگر بعض مفسرین وہ لکھتے ہیں کہ نہیں یہ انطاکیہ بستی نہیں تھی اور یہ جو بھیجے گئے تھے یہ حواری نہیں تھے حضرت عیسی علیہ السلام کے بلکہ یہ باقاعدہ پیغمبر تھے بھئی باقاعدہ پیغمبر اور پھر یہ کون سی بستی تھی اور کون سے پیغمبر تھے کہتے ہیں بھئی یہ اللہ نے ذکر نہیں فرمایا اس کا کہیں روایات میں تذکرہ نہیں ملتا کہ یہ کون تھے نہ بستی کے نام کا پتہ نہ جو پیغمبر بھیجے گئے تھے ان کے ناموں کا کچھ علم نہیں بھئی جی تو قالوا ما انتم الا بشر مثلنا تو کہا انہوں نے یعنی وہ بستی والوں نے کہا قالوا کہا انہوں نے ما انتم الا بشر مثلنا نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہماری طرح انسان ہی ہماری طرح تم نہیں ہو مگر ہماری طرح ہی آدمی یعنی ان کا کیا عقیدہ تھا جیسے اہل مکہ والوں کا عقیدہ تھا کہ پیغمبر جو ہے وہ انسان نہیں ہو سکتا بھئی تو ان کا بھی یہی خیال تھا وہ کہنے لگے ما انتم الا بشر مثلنا کہ نہیں ہو تم مگر ہماری ہی طرح بشر ہماری طرح ہی انسان جی یہ تو لفظی ترجمہ ہوا ما انتم نہیں ہو تم الا بشر مثلنا مگر ہماری طرح ہی انسان با محاورہ ترجمہ کیسے کریں گے ہاں تم تو ہماری طرح ہی ہماری طرح ہی انسان ہو ما انتم الا بشر مثلنا تم تو ہماری طرح ہی انسان ہی ہو وما انزل الرحمن من شيء اور نہیں نازل کیا رحمان نے من شيء کوئی بھی چیز یعنی اللہ نے کوئی بھی چیز نازل نہیں کی تم کہتے ہو کہ ہمیں اللہ نے بھیجا ہے اور اللہ نے ہم پر احکامات نازل کیے ہیں بھئی تم تو ہماری طرح انسان ہی ہو اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی ان انتم الا تکذبون نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے ان نافیہ ہے بھئی ان انتم نہیں ہو تم الا تکذبون مگر جھوٹ بولتے یعنی تم تو جھوٹ ہی بول رہے ہو یہ جو تم ہمارے پاس دعوت لے کر آئے ہو اور کہہ رہے ہو اللہ نے احکام نازل کیے ہیں تو یہ تم جھوٹ ہی بول رہے ہو اپنی طرف سے باتیں بنائی ہیں تم نے قالوا تو ان پیغمبروں نے کہا ربنا یعلم ہمارا پروردگار جانتا ہے انا الیکم لم مرسلون یقینا ہم تمہاری طرف البتہ بھیجے گئے ہیں ربنا یعلم ہمارا پروردگار جانتا ہے یاد رکھیے یہ قسم کے درجے میں ہے کس کے درجے میں ہے قسم کے درجے میں ہے قسم کی طرح ہے جی قالوا ربنا یعلم انا الیکم لم مرسلون کہنے لگے ہمارا پروردگار جانتا ہے انا الیکم لم مرسلون بے شک ہم تمہاری طرف البتہ بھیجے گئے ہیں بھئی دیکھیے پیچھے بھی آیا تھا فقالوا انا الیکم مرسلون پہلے کیا آیا تھا انا الیکم مرسلون اور اب کہہ رہے ہیں ربنا یعلم انا الیکم لم مرسلون بھئی یہاں ربنا یعلم کو بھی بڑھا دیا اور لم مرسلون پر لام کو بھی بڑھا دیا بھئی دیکھیے پہلے انہوں نے جھٹلایا انہوں نے کہا کہ تم پیغمبر نہیں ہو اور آپ بھی آپس میں جب بات چیت کرتے ہیں اور کسی کو ایک بات کا یقین نہ آ رہا ہو تو بات کے اندر تاکید پیدا کرتے ہیں بات میں کیا کرتے ہیں ہاں ایک ویسے عام بات ہوتی ہے ایک انکار کرنے والے کے سامنے بات ہوتی ہے اس کے سامنے تاکیدی کلام کیا جاتا ہے جس میں زور ہو حتی کہ زیادہ انکار کوئی کرے تو پھر آپ قسم اٹھا کر بتلاتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا قسم اٹھا کر تو خوب تاکید کلام میں پیدا کرتے ہیں تو یہاں بھی جب پہلے انہوں نے کہا انہوں نے بستی والوں نے پہلے بھی جھٹلایا تو اس وقت بھی انہوں نے تاکید والا کلام کیا انا الیکم مرسلون جملہ اسمیہ لے کر آئے ان لے کر آئے بھئی تاکید والا کلام کیا کہ بے شک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہے پھر اس کے بعد ان کا جب انکار اور بڑھ گیا تو انہوں نے بھی کلام میں اتنی ہی تاکید بڑھا دی کہ ربنا یعلم انا الیکم لم مرسلون قسم کی طرح ہے ربنا یعلم یعنی کہ گویا کہ قسم اٹھا کر کہا کہ بے شک ہم تمہاری طرف البتہ بھیجے گئے ہیں تو ربنا یعلم کو بھی پڑھا دیا اور مرسلون پر لام تاکید کو بھی پڑھا دیا خوب زور دار کلام کیا انہوں نے بھی جی تو کہنے لگے قالوا ربنا یعلم انا الیکم لم مرسلون کہنے لگے ہمارا پروردگار جانتا ہے بے شک ہم تمہاری طرف البتہ بھیجے گئے ہیں وما علینا الا البلاغ المبین اور نہیں ہے ہم پر الا البلاغ المبین مگر واضح طور پر پہنچا دینا نہیں ہے ہم پر مگر واضح طور پر پہنچا دینا یعنی ہمارے ذمے تو واضح طور پر اللہ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے بس باقی کوئی ایمان لاتا ہے یا ایمان نہیں لاتا یہ تو اس کی اپنی مرضی ہے ہماری ذمہ داری کیا ہے کہ اللہ کے پیغام کو واضح طور پر واضح طور پر تم تک پہنچا دیں وما علینا اور نہیں ہے ہم پر الا البلاغ المبین مگر واضح پہنچا دینا یہ تو لفظی ترجمہ ہوا با محاورہ کیا کریں گے اور ہم پر تو واضح طور پر پہنچا دینا ہی ہے ہم پر ہم پر تو واضح طور پر پہنچا دینا ہی ہے قالوا انا تطیرنا بکم وہ کہنے لگے وہ بستی والے قالوا وہ کہنے لگے انا بے شک ہم تطیرنا بکم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں وہ بستی والے پیغمبروں کو کیا کہنے لگے کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں بھئی تطیرنا یہ طیر سے ہے طیر طیر پرندوں کو کہتے ہیں بھئی طیر کسے کہتے ہیں پرندوں کو تو یہ عرب والے جو تھے یہ پرندوں کے ذریعے نیک فال اور بد فال مراد لیتے تھے اگر پرندہ بائیں طرف سے آ کر دائیں طرف کو نکل جائے تو اس شخص کسی شخص کے سامنے سے کوئی پرندہ گزرے اور کدھر سے آئے بائیں طرف سے آئے اور دائیں طرف چلا جائے تو پرندے کی دائیں جانب اس آدمی کی طرف ہوئی جب وہ سامنے سے گزرے گا بائیں سے دائیں کو تو پرندے کی کون سی جانب انسان کی طرف ہوگی دائیں طرف دائیں طرف تو اس کو وہ نیک فال سمجھتے تھے اسے نیک فال مراد لیتے تھے اچھا شگون لیتے تھے اس سے اور اگر پرندہ دائیں سے آ کر بائیں کی طرف کسی کے سامنے سے گزر جاتا تو پرندے کا بایاں حصہ اس شخص کی طرف ہوا تو اس سے وہ بد فالی مراد لیتے تھے نحوست مراد لیتے تھے کہ معلوم ہوا کوئی تکلیف آنے والی ہے بھئی میرے سامنے سے پرندہ اس طرح گزرا ہے یا بات کہتے ہیں کہ یہ پرندوں کو پکڑ کر اڑاتے کوئی کام کرنے سے پہلے کہ یہ کام اچھا ہے یا برا اگر پرندہ دائیں طرف کو اڑ جاتا تو کہتے ہاں بھئی یہ نیک فالی مراد لیتے معلوم ہوا یہ کام اچھا ہے بہتر ہے ہمارے لیے اور اگر پرندہ بائیں طرف کو اڑ جاتا تو پھر بد فالی مراد لیتے تھے معلوم ہو اس کام میں ہمارے لیے کوئی خیر نہیں ہے بھئی تو پھر چھوڑ دیتے صورت سمجھ میں آ گئی تو چونکہ وہ پرندوں کے ذریعے وہ نیک فالی اور بد فالی مراد لیتے تھے تو اسی پھر اسی سے اسی کو لفظ کو ہی بد فالی کے طور پر استعمال کرنے نیک فالی اور بد فالی کے لیے استعمال ہونے لگا یہی لفظ بھئی تطیر بھئی سمجھ میں آیا بھئی معنی تو یہ جی تو یہاں یہ بد فالی کے معنی میں ہے قالوا وہ بستی والے کہنے لگے انا تطیرنا بکم ہم تو تطیرنا ہم منحوس سمجھتے ہیں بکم تمہیں ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں یا یہ معنی کر لو انا تطیرنا بکم بے شک ہم بد فالی لیتے ہیں تم سے کیا کرتے ہیں بد فالی لیتے ہیں لیکن وہ پہلے والا ترجمہ ذرا بالکل واضح ہے سنتے ہی فورا جی قالوا انا تطیرنا بکم بے شک ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں لئن لم تنتهوا البتہ اگر تم باز نہ آئے اگر تم نے اپنی دعوت و تبلیغ کے کام سے باز نہ آئے لئن لم تنتهوا البتہ اگر تم باز نہ آئے لنرجمنکم تو البتہ ہم تمہیں ضرور سنگسار کر دیں گے رجم کسے کہتے ہیں؟ پتھر مار مار کر کسی کو ختم کرنا جی তো ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے یعنی رجم کر دیں گے لئن بستی والے کہہ رہے ہیں پیغمبروں سے لئن لم تنتهوا اگر تم باز نہ آئے لنرجمنکم تو البتہ ہم ضرور تمہیں سنگسار کر دیں گے ضرور تمہیں سنگسار کر دیں گے دیکھو لنرجمننا نون آ رہا ہے نون نون ثقیلہ اور لام تاکید بھی داخل ہے اس پر البتہ ہم تمہیں ضرور سنگسار کر دیں گے ولامسنکم اور البتہ ضرور پہنچے گا تمہیں البتہ ضرور پہنچے گا تمہیں منا ہماری طرف سے عذاب علیم دردناک عذاب بستی والے کہنے لگے اگر تم باز نہ آئے اپنی دعوت و تبلیغ کو نہ چھوڑا تو پھر ہم تمہیں رجم کر دیں گے اور تمہیں ہماری ہماری طرف سے سخت عذاب پہنچے گا ہم تمہیں سخت عذاب دیں گے اپنی اس دعوت و تبلیغ کو چھوڑ دو لئن لم تنتهوا لنرجمنکم ولامسنکم منا عذاب علیم جی وہ کہنے لگے بے شک ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو البتہ ہم تمہیں ضرور سنگسار کر دیں گے اور ضرور تمہیں ہماری طرف سے سخت عذاب پہنچے گا قالوا طائرکم معكم وہ پیغمبر کہنے لگے طائرکم معكم تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے طائرکم تمہاری نحوست معكم تمہارے ساتھ ہے انہوں نے پیغمبروں کو منحوس قرار دیا پیغمبروں نے جواب میں کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے یہ جو قحط وغیرہ آیا ہے بارش نہیں ہو رہی اس کا سبب تمہارے اپنے ساتھ ہے تم تم کہ تم توحید پر نہیں آتے کفر و شرک اور بت پرستی میں مبتلا ہو تو یہ چیزیں قحط وغیرہ ہی لائیں گی اور ان سے کیا خیر آ سکتی ہے بھئی تو یہ نحوست کے اسباب تمہارے ہی ساتھ جڑے ہوئے ہیں قالوا طائرکم معكم کہا ان پیغمبروں نے طائرکم معكم تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی ہے ان ذکرتم ہمزہ استفهام بھئی سوال کے لیے ان شرط کے لیے بھئی ان ذکرتم کیا تم کو نصیحت کی جائے کیا اگر تم کو نصیحت کی جائے کیا اگر تم کو نصیحت کی جائے آگے استفهام جس جو چیز پوچھی جا رہی ہے ہمزہ استفهام آیا وہ محذوف ہے بھئی وہ کیا ہے محذوف أإن ذكرتم تطيرون، کیا اگر تم کو نصیحت کی جائے تو تم نحوست مراد لیتے ہو اس سے، اسے نحوست سمجھتے ہو؟ معنی سمجھ میں آیا۔ أإن ذكرتم، کیا اگر تم کو نصیحت کی جائے، تطيرون، تو تم، تم اسے منحوس سمجھتے ہو۔ بل انتم قوم مسرفون، بلکہ تم ایک ایسی قوم ہو مسرفون، اسراف کہتے ہیں حد سے تجاوز کرنا، حد سے بڑھ جانا، حد سے نکل جانا۔ بل انتم قوم مسرفون، بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ بل انتم، حد سے نکل جانے والے لوگ ہو، حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ قالوا طائركم معكم، کہا ان پیغمبروں نے، طائركم معكم، تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، أإن ذكرتم، کیا اگر تم کو نصیحت کی جائے، بل انتم قوم مسرفون، بلکہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ وجاء من اقصى المدينة رجل يسعى، یہ وہ حبیب کا ذکر آگیا بھئی جو ایمان لے آیا تھا ان پیغمبروں پر اور بستی کے دور کے کنارے میں رہتا تھا اور پھر جب اسے خبر ملی کہ میری قوم والے پیغمبروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں، ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں، تو دوڑتا ہوا وہاں سے واپس آیا بھئی۔ وجاء اور آیا من اقصى المدينة، اقصى کہتے ہیں دور دراز کو بھئی۔ اقصى شے کہتے ہیں کسی شے کا دور کا حصہ۔ دور کا، اقصى المدينة، مدینہ شہر کو کہتے ہیں، اقصى المدينة، شہر کا دور کا حصہ بھئی، دور کا مقام، دور کا کنارہ۔ وجاء من اقصى المدينة، اور آیا شہر کے ایک دور کے مقام سے رجل، ایک شخص، يسعى، يسعى، يسعى کے معنی دوڑنے کے ہیں بھئی، دوڑنے کے۔ رجل يسعى، تو جا وجاء من اقصى المدينة رجل يسعى، اور آیا شہر کے دور کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا، قال، کہا اس نے، يا قوم، اصل میں تھا یا قومی، یا، متکلم کی جو مضاف الیہ تھی اس کو حذف کر لیا گیا، میم کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ قال، اس نے کہا، یا قومی، اے میری قوم، اتبعوا المرسلين، پیروی کرو تم پیغمبروں کی، راہ پر چلو تم پیغمبروں کی، اتبعوا من لا يسألكم أجرا، پیروی کرو تم من ان کی لا يسألكم أجرا جو سوال نہیں کرتے، مانگتے نہیں تم سے أجرا، کوئی اجر، کوئی معاوضہ، جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، دعوت اور تبلیغ کا کوئی معاوضہ تو نہیں مانگ رہے تم سے۔ اتبعوا من لا يسألكم أجرا، پیروی کرو ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی معاوضہ، وهم مهتدون، اور وہ ہدایت پر ہیں، اس حال میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ وجاء من اقصى المدينة رجل يسعى، اور آیا شہر کے دور کے مقام سے ایک شخص دوڑتا ہوا، قال یا قوم اتبعوا المرسلين، کہا اس نے اے میری قوم، تم پیغمبروں کی راہ پر چلو، اتبعوا من لا يسألكم أجرا وهم مهتدون، تم پیروی کرو ان کی جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ ہدایت پر ہیں۔ وما لي لا أعبد الذي فطرني، وما لي، اور مجھے کیا ہوا؟ اور مجھے کیا ہوا؟ لا أعبد، کہ میں عبادت نہ کروں، الذي، اس ذات کی، فطرني، جس نے مجھے پیدا کیا۔ واليه ترجعون، اور اسی کی طرف ترجعون تم لوٹائے جاؤ گے۔ وما لي لا أعبد الذي فطرني واليه ترجعون، اور مجھے کیا ہوا کہ میں عبادت نہ کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ بھئی دیکھیے، وہ کیا کہہ رہا ہے؟ کہ مجھے کیا ہوا میں عبادت نہ کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا۔ یہ اب قوم والوں کو نصیحت کر رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو پہلے متکلم کا صیغہ لایا، وما لی، متکلم، لا أعبد، متکلم بھئی واحد، اور آخر میں آیا واليه ترجعون، تم کیا ہو اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ تو یہ دراصل قوم والوں ہی کو نصیحت کر رہا ہے، لیکن بہترین طریقے سے ذکر اپنا کر رہا ہے اور مراد وہ ہیں بھئی۔ کہنا یہ چاہتا ہے کہ تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے جس ذات جس نے تمہیں پیدا کیا اس کی عبادت نہیں کرتے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ لیکن اس طرح کہے گا تو وہ تو چڑھ جائیں گے بھئی وہ تو ضد میں آ جائیں گے بات ہی نہیں مانیں گے، اس لیے ذکر کس کا کر دیا؟ اپنا ذکر کر دیا شروع میں، کہ مجھے کیا ہوا میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا، واليه ترجعون، اور آخر میں پھر انہی کو ذکر کر دیا کہ اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ان کو مزید ڈرانے کے لیے بھئی، کہ یہ زندگی جب ختم ہوگی اس کے بعد پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہاں ایک ایک عمل کا جواب دینا پڑے گا۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے بھئی۔ وما لي لا أعبد الذي فطرني واليه ترجعون، اور مجھے کیا ہوا کہ میں عبادت نہ کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا واليه ترجعون، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ أتخذ من دونه آلهة؟ کیا میں پکڑوں؟ کیا میں بناؤں؟ من دونه، أي من دون الله، اس اللہ کے علاوہ، آلهة، اور معبود۔ کیا میں اللہ کے علاوہ اور معبود بنا لوں؟ آلهة جمع ہے الہ کی۔ کیا؟ أتخذ کا کیا معنی؟ پکڑنا، بنانا۔ أتخذ من دونه آلهة؟ کیا میں اللہ کے علاوہ اور معبود بنا لوں؟ إن يردن الرحمن بضر، إن يردن، بھئی یہاں بھی یا حذف ہوئی ہے متکلم کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ وہ نون وقایہ ہے یہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ إن يردن الرحمن بضر، اگر ارادہ کرے میرے ساتھ رحمان یعنی اللہ، بضر، کسی تکلیف کا۔ اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف دینے کا ارادہ کر لیں، لا تغنی عني، تو میرے تو بے پرواہ نہ، کام نہ آئے میری طرف سے، یعنی میرے کچھ کام نہ آئے، شفاعتهم، ان کی سفارش، اور معاب- اگر میں اللہ کے علاوہ اور معبود بنا لوں اور اللہ مجھے کوئی تکلیف دینے کا ارادہ کر لیں، تو ان دوسرے اور معبودوں کی سفارش میرے کام نہ آئے شیئاً، کچھ بھی۔ شيئاً، کچھ بھی۔ لا تغنی عني، میرے کچھ کام نہ آئے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو أغنی یغنی کا معنی ہوتا ہے کفایت کرنا، لا تغنی عني، میری طرف سے کفایت نہ کر سکے، شفاعتهم، کیا چیز کفایت نہ کر سکے؟ ان کی سفارش، یہ فاعل ہے بھئی شفاعتهم لا تغنی کے لیے۔ شيئاً، کچھ بھی۔ تو لا تغنی عني، کچھ بھی کفایت نہ کر سکے میری طرف سے ان کی سفارش۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟ کچھ بھی میری طرف سے کفایت نہ کر سکے، تو یہ۔ جی اور آسان اردو میں، میرے کچھ بھی کام نہ آئے ان کی سفارش۔ إن يردن الرحمن بضر، اگر ارادہ کرے میرے ساتھ رحمان کسی تکلیف کا، یعنی اللہ اگر مجھے کوئی تکلیف دینے کا ارادہ کر لیں تو لا تغنی عني شفاعتهم شیئا، تو کچھ کام نہ آئے میرے ان کی سفارش کچھ بھی، ان کی سفارش کام نہ آئے میرے کچھ بھی، ولاینقذون، اور، ولاینقذونی، بھئی یہاں بھی یا حذف ہوئی ہے، یہ نون بتلا رہا ہے، نون کا کسرہ بتلا رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے بتلایا کہ بعض جگہ اس طرح یا متکلم کی ہوتی ہے، اس کو حذف کر لیا جاتا ہے اور ماقبل کے حرف کا کسرہ اس پر دلالت کرتا ہے بھئی، تو یہ عربی میں اس طرح استعمال کرتے ہیں بھئی۔ ولاینقذون، انقذ ینقذ کے معنی ہوتا ہے چھڑانے کے بھئی، چھڑانے کے، ولاینقذون، اور مجھے چھڑا بھی نہ سکیں۔ اور مجھے چھڑا بھی نہ سکیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ یہ مجھے چھڑا سکیں۔ أتخذ من دونه آلهة إن يردن الرحمن بضر لا تغنی عني شفاعتهم شیئا، تو کچھ کام نہ آئے میرے ان کی سفارش، کچھ بھی، ان کی سفارش کام نہ آئے میرے کچھ بھی، ولاینقذون، اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں۔ إني إذا لفي ضلال مبين، إني، بے شک میں، اذا، تب تو، لفی ضلال مبين، البتہ واضح گمراہی میں ہوں گا۔ اگر میں ایسا کر لوں، اگر اللہ کے علاوہ میں اور معبود بنا لوں، تب تو میں واضح گمراہی میں ہوں گا۔ إني، بے شک میں، اذا، تب تو، لفی ضلال مبین، البتہ واضح گمراہی میں ہوں گا۔ یعنی کا، اگر میں کیا کر لوں؟ اللہ کے علاوہ اور معبود بنا لوں۔ دیکھو یہ سارے ان کو نصیحت کر رہا ہے اور ذکر اپنا کرتا جا رہا ہے بھئی۔ إني إذا لفي ضلال مبين، تب تو، تب تو یقیناً میں البتہ واضح گمراہی میں ہوں گا۔ إني آمنت بربكم، آمنت بربكم فاسمعون، إني، بے شک میں، آمنت بربكم، ایمان لے آیا تمہارے پروردگار پر، فاسمعون، فاسمعوني، یہاں بھی آخر میں یا حذف ہوئی ہے متکلم کی بھئی، فاسمعون، پس تم سن لو مجھے، یعنی میری بات سن لو۔ پس تم میری بات سن لو۔ إني آمنت بربكم فاسمعون، پس یقیناً میں، یقیناً، یقیناً میں ایمان لے آیا بربكم تمہارے پروردگار پر، فاسمعون، پس تم میری بات سن لو۔ بھئی یہ جب اس نے ان کو نصیحتیں شروع کیں، تو انہوں نے اس کو بھی ڈرایا، دھمکایا ہوگا، اور پھر اس کے بھی قتل اسی بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ تو جب انہوں نے اس کے قتل کرنے کا ارادہ کیا، تو یہ ان کی طرف، انہوں نے پوچھا اچھا لگتا ہے تو بھی ایمان لے آیا ہے ان پیغمبروں پر؟ تو جواب میں کہنے لگا إني آمنت بربكم، بے شک میں تمہارے پروردگار (یعنی جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے، ان بستی والوں کو کہہ رہا ہے) کہ بے شک میں تمہارے حقیقی پروردگار جو ہے، اس پر ایمان لے آیا ہوں، فاسمعونی، پس تم بھی سن لو۔ میری بات سن لو، یعنی میری نصیحت سن لو کہ تم بھی کیا کرو اس پر ایمان لے آؤ۔ تو معلوم ہوا إني آمنت بربكم فاسمعون، یہ بھی کلام وہ کس سے کر رہا ہے؟ حبیب نجار کس سے کر رہا ہے؟ بستی والوں ہی سے کر رہا ہے۔ جی، انہوں نے پوچھا کیا تو ایمان لے آیا ہے؟ کہنے لگا إني آمنت بربكم، بے شک میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں، یعنی وہ جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ فاسمعونی، پس تم میری بات سن لو، یعنی کیا سن لو؟ میری نصیحت سن لو، جو میں تمہیں نصیحت کر رہا ہوں تم بھی کیا کرو ایمان لے آؤ۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ یہ تو ایک معنی۔ تو یہ کلام یا تو حبیب حبیب نے بستی والوں کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا، یا یہ کلام حبیب نجار نے اپنی شہادت کے وقت پیغمبروں کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا، پیغمبروں کو کہہ رہا ہے، إني آمنت بربكم، بے شک میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا۔ اپنے میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا۔ یعنی ایمان تو وہ پہلے ہی لایا ہوا تھا، البتہ جب اسے اپنی موت نظر آئی تو اب ان پیغمبروں کو بھی اپنے ایمان پر گواہ بنا رہا ہے بھئی۔ فاسمعونی، پس تم میری اس بات کو سن لو، یہ جو میں ایمان لے آیا ہوں، اس کو تم سن لو، فاسمعونی، تم میری یہ بات سن لو، یعنی میری اس ایمان پر تم گواہ رہنا اے پیغمبروں، میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا، یہ جب اس کو قتل کرنے لگے، اس وقت کہا بھئی۔ دونوں معنی سمجھ میں آگئے۔ إني آمنت بربكم فاسمعون، بے شک میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا فاسمعون تو پس تم میری بات سن لو۔ قيل ادخل الجنة، اللہ، دیکھیے معنی نا۔ کہتے ہیں شہید ہوتے ہی اللہ کی طرف سے حکم ہوا۔ جاؤ بھئی جنت میں چلے جاؤ، جیسے اور شہداء جنت میں جاتے ہیں یہ بھی شہید ہوا اور اللہ نے فوراً جنت میں داخل فرما دیا۔ قیل کہا گیا ادخل الجنة تو داخل ہو جا جنت میں۔ تو اسے جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوا، جنت میں وہ داخل ہو گیا۔ یہ شہادت کے بعد بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی، اس کو جب جنت میں داخل کر دیا گیا، اس نے اپنا عز، عزت، اپنی عزت اور اپنے اکرام کو دیکھا بھئی کہ میری کتنی عزت کی گئی، میرا کتنا اکرام کیا گیا، میرے مرتے ہی مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔ قال تو کہنے لگا یا لیت قومی یعلمون اے کاش کہ میری قوم بھی جانتی۔ یا لیت، اے کاش قومی، میری قوم یعلمون، جانتی۔ بھئی اپنی قوم کا اتنا خیر خواہ تھا، اتنی دیکھو کوشش کر رہا تھا کہ وہ لوگ بھی سیدھے راستے پر آ جائیں، تو جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی ات، اس کے دل میں تڑپ موجود ہے کہ کاش میری قوم والوں کو بھی پتہ لگ جائے کہ دیکھو جو ایمان لے آتا ہے اللہ اس کا کیسے اکرام فرماتے ہیں، کیسے اسے جنت میں داخل کر دیتے ہیں اور کاش انہیں بھی یہ پتہ چل جائے۔ قال یا لیت قومی یعلمون، کہا، کہا اس نے اے کاش کہ میری قوم بھی جانتی۔ بما غفر لی ربی وجعلنی من المکرمین۔ کہ بھئی دیکھیے یا تو یہ باء سببیہ ہے۔ باء کیا ہے؟ کیا معنی ہوگا؟ کاش کہ میری قوم جانتی۔ بسَبَب جس چیز کے غفر لی مغفرت کر دی میری ربی میرے پروردگار نے وجعلنی اور بنا دیا مجھے من المکرمین، اکرام کیے ہوؤں میں سے، عزت کیے ہوؤں میں سے۔ کاش کہ میری قوم جانتی اس چیز کو جس کے سبب سے اللہ نے میری مغفرت کر دی اور مجھے عزت والوں میں سے بنا دیا۔ یعنی کاش میری قوم کو بھی پتہ ہوتا اس چیز کا جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے میری مغفرت فرما دی، یعنی ایمان بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کاش ان کو بھی پتہ چلتا کہ یہ ایمان کتنی قیمتی چیز ہے تو وہ بھی اس راستے پر آ جاتے۔ یا یہ باء سببیہ نہیں۔ یہ مفعول پر داخل ہے اور عربی میں کہتے ہیں۔ عربی میں علمت الشیء میں نے اس چیز کو جان لیا، یوں بھی کہتے ہیں اور علمت بالشیء یوں بھی کہتے ہیں اس کا بھی یہی معنی ہوتا ہے میں نے اس چیز کو جان لیا۔ تو باء کے ساتھ بھی علمت کہتے ہیں اور باء کے بغیر بھی کہتے ہیں۔ تو اگر یہ معنی کیا جائے اور اکثر ہمارے علماء نے یہی ترجمہ کیا ہے، ترجموں میں آپ دیکھیں گے بھئی۔ کاش کہ میری قوم جانتی بما غفر لی ربی کہ وہ جو کہ مغفرت کر دی ہے میرے پروردگار نے اور داخل کر دیا ہے مجھے عزت والوں کے اور بنا دیا ہے مجھے عزت والوں میں سے۔ کاش کہ میری قوم جانتی کہ اللہ نے میری مغفرت کر دی ہے۔ کاش میری قوم کو اس بات کا پتہ چل جاتا کہ اللہ نے میری مغفرت کر دی ہے۔ پہلے تو کیا معنی تھا؟ اس سبب کو جان لیتی جس کی وجہ سے اللہ نے، ہاں۔ اور دوسرا معنی کیا؟ کہ اللہ نے میری مغفرت کر دی، کاش میری قوم کو بھی پتہ چل جائے کہ اللہ نے میری مغفرت کر دی ہے۔ قال یا لیت قومی یعلمون تو کہا اس نے کا اے کاش کہ میری قوم بھی جان لیتی کہ اللہ نے میری کہ میرے پروردگار نے میری مغفرت کر دی ہے اور بنا دیا ہے مجھے عزت والوں میں سے۔ وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین۔ جی اب آگے اللہ فرما رہے ہیں۔ وما انزلنا علی قومہ اور ہم نے نازل نہیں کیا اس کی قوم پر۔ ہ ضمیر اسی حبیب نجار کو، حبیب نجار کو راجع ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں وما انزلنا علی قومہ اور ہم نے نہیں نازل کیا اس کی قوم پر من بعدہ اس کے بعد، اس حبیب نجار کے بعد یعنی اس کی شہادت کے بعد ہم نے نہیں نازل کیا اس کی قوم پر من جند، جند کہتے ہیں لشکر کو۔ کوئی لشکر من السماء آسمان سے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے اس حبیب نجار کی شہادت کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں نازل کیا۔ وما کنا منزلین اور نہ ہی ہم نازل کیا کرتے ہیں۔ کسی قوم کو جب ہم تباہ کرنے کا ارادہ کریں تو اللہ فرما رہے ہیں ہم کوئی لشکر نہیں نازل کیا کرتے بھئی۔ کہ کوئی لشکر نہیں نازل کیا کرتے۔ ایک ہی فرشتہ ان کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جیسے اس قوم پر آگے ذکر بھی آئے گا کہ حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے ایک زوردار چیخ ماری اور ان سب کے کلیجے پھٹ گئے وہیں گرے سب مر گئے بھئی، سب کے سب وہیں ہلاک ہوئے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ہمیں لشکر اتارنا، ہم لشکر نہیں، ہم نے ان کی قوم پر کوئی لشکر نہیں نازل کیا اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت ہے، ہم قوموں کو تباہ کرنے کے لیے ہمیں لشکر بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وما انزلنا علی قومہ اور نہیں نازل کیا ہم نے اس کی قوم پر من بعدہ اس کے بعد یعنی اس کی موت کے بعد من جند من السماء کوئی لشکر آسمان سے وما کنا منزلین اور نہ ہم نازل کیا کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا ترجمہ؟ وما کنا منزلین اور نہ ہم نازل کیا کرتے ہیں۔ یا یہ ترجمہ بازوں نے کیا۔ وما کنا منزلین اور نہ ہمیں نازل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نازل نہیں کیا کرتے، یعنی ہمیں نازل کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ وما کنا منزلین اور ہم نازل نہیں کیا کرتے۔ ان کانت الا صیحة واحدۃ۔ ان نفی کے لیے ہے۔ ان کانت کانت کے اندر ہیا ضمیر راجع ہے عقوبت کو، سزا، عقوبت۔ ان کانت نہیں تھی وہ سزا الا صیحة واحدۃ، مگر ایک چیخ۔ صیحۃ کس کو کہتے ہیں؟ چیخ کو۔ کہ نہیں تھی ان کی سزا مگر ایک چیخ ہی۔ فاذاہم خامدون۔ اذا مفاجاتیہ تو وہ جس کا معنی اچانک کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پس اچانک وہ جو تھے خامدون بجھے ہوئے تھے۔ بھئی آگ جل رہی ہو اس پر پانی ڈالا جائے تو وہ بجھ جاتی ہے۔ تو اسی طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے چیخ ماری تو یہ سب وہاں فوراً ہی، فوراً ہی اسی لمحے گرے سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ تو اس کو ذکر کیا گیا بجھنے کے ساتھ۔ معلوم ہوا زندگی جو ہے وہ شعلے کی مانند ہے اور موت جو ہے اس شعلے کے بجھنے کی طرح ہے بھئی۔ ان کانت الا صیحة واحدۃ نہیں تھی مگر ایک چیخ ہی فاذاہم خامدون، پس فوراً ہی وہ بجھ کر رہ گئے، یہ با محاورہ ترجمہ بھئی۔ اذا کا کیا معنی تھا؟ اچانک یعنی فوراً فوراً۔ ہم خامدون وہ بجھ کر رہ گئے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خمود کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بجھنا۔ ان کانت الا صیحة واحدۃ نہیں تھی مگر ایک چیخ ہی فاذاہم خامدون تو فوراً ہی وہ بجھ کر رہ گئے۔ یا حسرة علی العباد افسوس ہے بندوں پر حسرت، افسوس بھئی۔ کوئی چیز گذشتہ کسی بات پر جو غم ہو اس کو حسرت کہا جاتا ہے۔ گذشتہ کسی بات پر جو غم ہو اس کو کیا اس سے کیا کہا جاتا ہے عربی میں حسرت۔ اللہ فرما رہے ہیں یا حسرتا علی العباد افسوس ہے بندوں پر۔ ما یاتیہم من رسول ما نفی کے لیے، نہیں آتا ان کے پاس من رسول کوئی پیغمبر الا کانوا بہ یستهزئون۔ استہزاء کا معنی مذاق کرنا، مذاق اڑانا۔ الا کانوا بہ یستهزئون مگر وہ لوگ اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یا حسرتا علی العباد افسوس ہے بندوں پر ما یاتیہم من رسول نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر الا کانوا بہ یستهزئون مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں، اس سے وہ استہزاء کرتے ہیں۔ یہ تو تھا لفظی ترجمہ، ما نہیں کہ اور الا کے ساتھ بھئی۔ با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ ما یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستهزئون کہ لوگوں کے پاس جو بھی پیغمبر آتا ہے تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں۔ وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ الم یراو کیا دیکھا نہیں انہوں نے کم أہلکنا کتنے ہم نے ہلاک کیے کم کثرت بیان کرنے کے لیے بھئی یہاں۔ کم کس کے لیے ہے؟ کثرت بیان کرنے کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ استہفام کے لیے نہیں ہے بھئی۔ الم یراو کیا انہوں نے دیکھا نہیں کم أہلکنا کتنے ہی زیادہ ہم نے ہلاک کیے قبلہم ان سے پہلے من القرون قرون جمع ہے قرن کی۔ قرن ایک زمانے والے لوگ بھئی، ایک زمانے والے، یعنی امت مراد ہے کیا مراد ہے؟ ایک زمانے والے، ایک امت بھئی۔ الم یراو اللہ فرما رہے ہیں کیا دیکھا نہیں انہوں نے؟ کنہوں نے؟ یہ مکہ والوں نے۔ الم یراو بھئی پیچھے آیا تھا نا واضرب لہم اے پیغمبر بیان کیجیے ان مکہ والوں کے لیے ایک مثال، یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اب آگے پھر اللہ فرما رہے ہیں الم یراو کیا ان مکہ والوں نے دیکھا نہیں کم أہلکنا قبلہم من القرون کتنے ہی زیادہ ہم نے ہلاک کی ان سے پہلے امتیں انھم إلیہم لا یرجعون وہ إلیہ وہ جو ہیں وہ جو جن کو ہم نے ہلاک کیا إلیہم ان مکہ والوں کی طرف لا یرجعون لوٹ کر نہیں آتے۔ لوٹ کر اللہ فرما رہے ہیں کیا ان مکہ والوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کی ہیں اور جن کو ہلاک کر دیا وہ پھر ان کی طرف دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے بھئی، ختم کر دیا ہم نے ان سب کو۔ وہ ان کی طرف دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے، ہم نے ان سب کو کیا کر دیا؟ ختم کر دیا، کیا اس سے ان کو عبرت نہیں ہوتی؟ الم یراو کیا ان مکہ والوں نے دیکھا نہیں کتنے ہی کہ کتنے زیادہ ہم نے ہلاک کیے ان سے پہلے امتیں انھم إلیہم لا یرجعون، وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔ وإن کل لما جمیع لدینا محضرون ان، ان نفی کے لیے ہے۔ کل، کل پر جو یہ تنوین ہے یہ عوض ہے مضاف الیہ سے بھئی۔ ای کل الخلائق تمام مخلوقات بھئی۔ اور نہیں ہے تمام مخلوقات معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ کل میں تنوین عوض ہے کس سے؟ مضاف الیہ خلائق سے۔ إن کل الخلائق نہیں ہے تمام مخلوقات لما، لما بمعنی الا کے ہے۔ لما کس معنی میں؟ الا نہیں ہے تمام مخلوقات مگر جمیع، جمیع بمعنی مجموع کا ہے مجموع کے ہے بھئی۔ مجموع جمیع فاعل بمعنی مفعول کے ہے۔ تو کیا، کیا ہوا؟ کس طرح ہوا؟ عبارت کیا ہوئی؟ وإن کل الخلائق الا مجموعون لدینا محضرون سمجھ میں آیا بھئی؟ وإن کل الخلائق الا مجموعون لدینا محضرون۔ تو مجموع تو دیکھیے کل الخلائق یہ ہے مبتدا اور مجموعون لدینا یہ کیا ہے؟ خبر۔ اور محضرون یہ ہے خبر ثانی۔ اور نہیں ہے تمام مخلوقات مگر مجموعون لدینا جمع کیے جائیں گے ہمارے سامنے۔ نہیں ہے تمام مخلوقات مگر جمع کی جائیں گی ہمارے سامنے، محضرون حاضر کیے جائیں گے۔ معنی سمجھ میں آگیا سب کو؟ وإن کل لما جمیع لدینا محضرون اور نہیں ہے تمام مخلوقات مگر وہ جمع کیے جائیں گے ہمارے سامنے یعنی ہمارے پاس محضرون حاضر کیے جائیں گے۔ یہ تو لفظی ترجمہ، با محاورہ کیا ترجمہ ہوا ہوگا؟ تمام مخلوق، تمام مخلوقات کو ہمارے سامنے جمع ہی کیا جائے گا، حاضر کیا جائے گا۔ حاضر ہی کیا جائے گا۔ تمام مخلوقات کو، ہاں، تو یہاں تمام مخلوقات کو ہمارے سامنے جمع کیا جائے گا، حاضر کیا جائے گا۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
88 approved lectures · 50 of 88