Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-062

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 136
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
لعمرك ما أمري علي بغمةٍ نهاري ولا ليلي علي بسرمدِ ويومٍ حبستُ النفس عند عراكِهِ حفاظاً على عوراتِهِ والتهددِ على موطنٍ يغشى الفتى عندهُ الردى متى تعترض فيه الفراضِعُ تُرعدِ طرفہ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے، اور گزشتہ سبق میں آیا تھا کہ طرفہ نے کہا کہ اے بھتیجی، اے معبد کی بیٹی! جب میں ‏مر جاؤں تو میری موت کی خبر اسی طریقے پر دینا جس کا میں اہل ہوں، جس کے میں لائق ہوں، اور خوب جزع و فزع ‏کرنا، اپنے گریبان کو پھاڑنا۔ میں نے بتلایا کہ عرب کے ہاں یہ طریقہ تھا کہ جتنا بڑا آدمی مرتا تھا، اتنا ہی اس کے ‏مرنے پر غم کا اظہار کیا جاتا اور باقاعدہ نوحہ کرنے والیاں، رونے والیاں بلائی جاتیں اور کئی کئی ماہ تک بلکہ سال ‏تک وہ اس پر غم کرتے تھے۔ تاکہ دنیا والوں کو پتہ چلے کہ کوئی عام شخص نہیں مرا، بہت بڑا آدمی مرا ہے اور اس پر ‏غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تو طرفہ نے بھی کہا کہ اے میری بھتیجی! میرے شایانِ شان مجھ پر غم کا اظہار کرنا اور مجھے کسی کم ہمت اور بے ‏فائدہ آدمی کی طرح نہ کرنا، بلکہ خوب جزع و فزع کرنا۔ اور میں بڑے ہمت والا ہوں، اور اگر میں کمزور ہوتا تو لوگ ‏مجھے نقصان دیتے اور تکلیف دیتے، لیکن میری جرات نے، میری سچائی نے، میرے حوصلے کی پختگی نے، جنگوں ‏میں میری پیش قدمی نے، اور میرے بلند و بالا حسب و نسب جو ہے، اس نے مجھ سے لوگوں کی تکالیف کو دور کر دیا ‏ہے۔ کسی کی جرات اور ہمت نہیں ہوتی کہ مجھے تکلیف دے۔ آگے کہتا ہے:‏ لعمرك ما أمري علي بغمةٍ نهاري ولا ليلي علي بسرمدِ لعمرك، أي لعمرك قسمي، یہ پہلے بھی کئی دفعہ گزر چکا ہے کہ میں تیری عمر کی قسم کھاتا ہوں۔ ما أمري علي بغمةٍ، غمة کہتے ہیں غم کو، دکھ کو، اور اسی طرح کوئی ایسا پیچیدہ اور مشکل معاملہ کہ جس میں انسان ‏پھنس جائے اور اس کے حل ہونے کی کوئی صورت اسے سمجھ میں نہ آرہی ہو، اس کو بھی غمہ کہتے ہیں۔ بات سمجھ ‏میں آرہی ہے؟ کوئی ایسا معاملہ، مشکل اور پیچیدہ معاملہ کہ جس میں انسان پھنس جائے اور اس کے حل کی کوئی ‏صورت اسے سمجھ میں نہ آرہی ہو، اس کو غمةٌ کہتے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں: إنه لفي غمة من أمره، وہ اپنے معاملے میں اس طرح الجھا ہوا ہے کہ اسے کوئی راستہ سمجھ میں ‏نہیں آرہا۔ آگے دیکھیے بھئی، نهاري، نهار دن کو کہتے ہیں، اور نهاري، میرا دن۔ ولا ليلي، لیل رات کو کہتے ہیں، ليلي، یہ یا متکلم ‏کی ہے، میری رات۔ سرمد، سرمد کا معنی ہے ابدی، ابدی، ہمیشہ رہنے والا، نہ ختم ہونے والا۔ شاعر کہتا ہے:‏ لعمرك ما أمري علي بغمةٍ نهاري ولا ليلي علي بسرمدِ کہ تیری عمر کی قسم! ما أمري علي بغمةٍ، میرا معاملہ میرے اوپر مبہم اور پیچیدہ نہیں ہے، نهاري، دن میں۔ دن میں کوئی ‏معاملہ میرے لیے مشکل اور پیچیدہ ہو اور میں اس میں الجھا ہوا ہوں اور اس کے حل کی کوئی صورت نظر نہ آرہی ہو، ‏ایسا نہیں ہے۔ میرا کوئی معاملہ دن کے وقت میرے اوپر مبہم اور پیچیدہ نہیں ہوتا، میرے دل میں جو ارادہ بنتا ہے، جو ‏عزم بنتا ہے، میں اس کو کر گزرتا ہوں، میں اس میں کبھی بھی پھنسا نہیں رہتا، سوچتا رہوں کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا، ‏نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ میں بلند ہمت والا آدمی ہوں، جب کسی معاملے میں پڑتا ہوں تو اس کو میں پوری طرح سرانجام دے ‏دیتا ہوں، میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو کہتا ہے:‏ لعمرك ما أمري علي بغمةٍ نهاري ولا ليلي علي بسرمدِ تیری عمر کی قسم! میرا معاملہ جو ہے، میرے اوپر دن کے وقت پیچیدہ اور مبہم نہیں ہوتا کہ جو حل ہونے میں ہی نہ ہو، ‏بلکہ میرا جس چیز کا ارادہ بنتا ہے، میں اسے کر گزرتا ہوں۔ ولا ليلي علي بسرمدِ، أي ليس ليلي علي بسرمدِ، اور نہ میری ‏رات جو ہے، میرے اوپر ابدی ہوتی ہے۔ مراد سرمد کا معنی تو ہے ابدی، ہمیشہ رہنے والا، لیکن یہاں معنی ہے دراز اور ‏طویل بھئی۔ میری رات میرے اوپر طویل نہیں ہوتی، طویل نہیں ہوتی۔ بھئی، پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں کہ خوشی کے لمحات بڑی جلدی گزرتے ہیں، لیکن انسان جب غم میں ڈوبا ہو، ‏پریشانیوں میں ڈوبا ہو، تو وقت گزرتا ہی نہیں، یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے، وقت ٹھہر گیا ہے۔ تو اسی طرح رات کے ‏وقت جب جو شخص غم میں ڈوبا ہوگا، پریشانی میں ڈوبا ہوگا، ایک تو اسے نیند نہیں آئے گی اور رات گزرنے میں ہی ‏نہیں آئے گی، یوں لگے گا جیسے رات بڑی طویل ہو گئی ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: ولا ليلي علي بسرمدِ، اور میری رات میرے اوپر دراز نہیں ہوتی، طویل نہیں ہوتی۔ یعنی میں غموں کے ‏اندر مبتلا ہوں، ایسا نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ کوئی غم آجائے تو میں اس کا صبر سے مقابلہ کرتا ہوں اور ہمت ‏سے کام لیتا ہوں، یہ نہیں کہ میں غم میں ڈوب جاؤں، پریشانی میں ڈوب جاؤں، نہیں، میں اس کا مردانہ وار مقابلہ کرتا ہوں ‏اور پرواہ بھی نہیں کرتا، میری رات میرے اوپر دراز نہیں ہوتی، یعنی غم میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے، میں ان کا ہمت ‏سے مقابلہ کرتا ہوں۔ تو کہتا ہے:‏ لعمرك ما أمري علي بغمةٍ نهاري ولا ليلي علي بسرمدِ تیری عمر کی قسم! میرا معاملہ جو ہے، میرے اوپر دن میں پیچیدہ اور مبہم نہیں ہوتا کہ جو حل ہونے میں ہی نہ ہو، بلکہ ‏میرا جس چیز کا ارادہ بنتا ہے، میں اسے کر گزرتا ہوں۔ ولا ليلي علي بسرمدِ، اور نہ میری رات جو ہے، میرے اوپر ‏طویل ہوتی ہے۔ ويومٍ حبستُ النفس عند عراكِهِ حفاظاً على عوراتِهِ والتهددِ ويومٍ، یہ واؤ بمعنی ربّ کے ہے، أي وربّ يومٍ، بہت سے دن۔ حبستُ النفس، حبس يحبس کے معنی ہیں روکنا، منع کرنا۔ نفس، جان بھئی۔ عراكِهِ، عراک کہتے ہیں لڑائی کو اور جنگ کو ‏بھئی، عراک، چھوٹے کاف کے ساتھ ہے، عراک۔ اور عراكِهِ، یہ ہا ضمیر راجع ہے یوم کو، أي عراكِ اليومِ، اس دن کی ‏لڑائی، اس دن کی جنگ۔ حفاظاً، حفاظاً یہ مصدر ہے بھئی، یہ مصدر ہے، آپ نے پڑھا ہے بھئی: قاتل يقاتل مقاتلة وقتالاً، باب مفاعلہ کے دو ‏مصدر آتے ہیں، دو مشہور ہیں، ایک مفاعلة اور ایک فعال، قتال، تو یہ بھی دیکھو حفاظ ہے، حفاظ، وہی وزن ہے۔ اور یہ ‏یہاں مفعول لہ واقع ہو رہا ہے بھئی۔ تو حفاظاً کا معنی ہے حفاظت، حفاظت کرنا، دفاع کرنا، اور یہ مفعول لہ واقع ہو رہا ہے۔ مفعول لہ آپ نے پڑھا، وہ مصدر ‏جو ماقبل فعل کی علت اور وجہ بیان کرتا ہے: ضربته تأديباً، دیکھو یہ تأديباً کیا ہے؟ مفعول لہ ہے، یہ ماقبل والے فعل ‏ضرب کی علت بیان کر رہا ہے کہ یہ ضرب کیوں لگائی، کیا مقصد تھا؟ ادب سکھانا، ادب سکھانا۔ على عوراتِهِ، عورات جمع ہے عورةٌ کی۔ اور عورت عربی میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں، بدن کا وہ حصہ جس کو ظاہر ‏کرنا عیب ہو، یا اسی طرح ہر وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عورةٌ، اور جمع ہے عورات ‏بھئی، عورات۔ والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اردو میں خاتون کو عورت کہتے ہیں، عورت کو عورت کہتے ہیں، کہتے ہیں یہ ‏بڑا پیارا نام ہے اور اسم با مسمیٰ ہے، معنی کے مطابق نام رکھا گیا، کیونکہ عورت کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز جس کا ظاہر ‏کرنا عیب ہو، تو عورت کا بھی ظاہر کرنا یعنی بے پردہ ہونا، اس کا باہر نکلنا، وہ کیا ہے؟ عیب ہے بھئی، عیب ہے۔ تو ‏عورت کو اردو میں اس لیے عورت کہتے ہیں بھئی۔ عوراتِهِ میں بھی ہا ضمیر راجع ہے یوم کو، اس دن کی عورت، عورات بھئی۔ اور عورات کا معنی کیا؟ بدن کا وہ حصہ ‏جس کا ظاہر کرنا عیب ہو، یا وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ چونکہ ناپسندیدہ چیز، کسے کہتے ہیں؟ تو جس کا ظاہر ‏کرنا عیب ہو، اس لیے شرمگاہ کو بھی عورت کہتے ہیں عربی میں، کیا کہتے ہیں؟ عورت، کیونکہ اس کا ظاہر کرنا بھی ‏عیب ہے بھئی۔ تو عورات کا معنی میں نے کیا کیا؟ بدن کا وہ حصہ جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ تو عوراتِهِ، اس دن کی عورات، تو عورات ‏کا معنی کر لیں یہاں ناپسندیدہ، اس دن کے ناپسندیدہ کام اور ناپسندیدہ چیزیں۔ ناپسندیدہ چیزیں، مراد ہیں شکست، شرمندگی ‏وغیرہ۔ جنگ ہوگی تو اس میں شکست کا خوف ہوگا یا نہیں؟ شکست اور شرمندگی کا خوف ہوگا، تو وہ ہے اس دن کی ‏عورات بھئی، جو ناپسندیدہ ہے، ناپسندیدہ ہے۔ تعدد کا معنی ہے دھمکی دینا، اور مراد ہے وہ جو دشمن، وہ جو دشمن مجھے دھمکیاں دیتے ہیں، وہ دھمکیاں مراد ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ ويومٍ حبستُ النفس عند عراكِهِ حفاظاً على عوراتِهِ والتهددِ أي وربّ يومٍ، کہ اور بہت سے دن کہ حبستُ النفس عند عراكِهِ، میں نے اپنے آپ کو روکا، اپنی جان کو، اپنی ذات کو روکا ‏عند عراكِهِ، أي عند عراكِهِ، اس دن کی لڑائی کے وقت، میں نے اپنے آپ کو روکا اس دن کی لڑائی کے، یعنی اس دن کی ‏لڑائی میں۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ دیکھو جنگ ایک خوفناک چیز ہے، خوفناک چیز ہے، جنگ خوفناک چیز ہے جس میں جانیں ‏چلی جاتی ہیں، شکست ہوتی ہے، لیکن اس خوفناک چیز ہونے کے باوجود میں نے اپنے آپ کو جنگوں میں روکا، کیونکہ ‏اگر میں جنگ میں شریک نہ ہوں گا تو لوگ کیا کہیں گے؟ یہ کیسا آدمی ہے؟ بزدل آدمی ہے، اور لوگ مذاق اڑائیں گے ‏اور شرمندگی کا باعث ہوگا، تو میں نے ان چیزوں سے کے دفاع کے لیے کیا کیا؟ جنگ میں اپنے آپ کو روکا، یعنی ‏مشکل کام پر اپنے آپ کو آمادہ کیا اور جنگ میں شرکت کی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ ويومٍ حبستُ النفس عند عراكِهِ حفاظاً على عوراتِهِ والتهددِ، اور بہت سے دن کہ میں نے روکا اپنے نفس کو عند عراكِهِ، اس ‏دن کی جنگ کے وقت، یعنی اس دن کی جنگ میں، لڑائی میں، حفاظاً على عوراتِهِ، دفاع کرنے کے لیے على عوراتِهِ، اس ‏دن کی ناپسندیدہ چیزوں پر والتهددِ، اور دھمکیاں دینے پر۔ اس دن کی ناپسندیدہ چیزوں پر اور دشمنوں کے دھمکیاں دینے ‏پر میں نے ان کا دفاع کرنے کے لیے اس دن کی لڑائی میں اپنے آپ کو روکا۔ یعنی دشمن بھی دھمکیاں دے رہے تھے کہ ‏ہم تمہیں قتل کر دیں گے، زندہ نہیں چھوڑیں گے، اور نیز شکست وغیرہ کا خوف تھا، تو ان ساروں کا دفاع کرنے کے ‏لیے یا یہ بتلانے کے لیے کہ میں، میں کوئی بزدل آدمی نہیں ہوں، کمزور آدمی نہیں ہوں جو شکست سے ڈر جاؤں گا یا ‏میں دشمن کی دھمکیوں سے ڈر جاؤں گا، نہیں، میں نے ہر چیز کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی، اپنی بہادری اور جرات ‏دکھانے کی ٹھان لی اور اس لڑائی میں اپنے آپ کو روکا، یعنی لڑائی میں شریک ہوا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ جبکہ بعض شارحین نے اس کا ترجمہ کیا کہ میں نے جنگ سے اپنے آپ کو روکا، بعضوں نے کیا کیا ترجمہ؟ پہلا ترجمہ کیا تھا؟ جنگ میں اپنے آپ کو روکا یعنی جنگ کی۔ اور دوسرا ترجمہ کیا ہے؟ جنگ سے اپنے آپ کو روکا ‏یعنی جنگ میں شرکت نہیں کی بھئی، تو بعضوں نے یہ ترجمہ کیا ہے۔ دیکھا، جیسے یہ علامہ زوزنی نے یہی ترجمہ کیا: وربّ يومٍ حبستُ نفسي عن القتالِ، میں نے اپنے آپ کو روکا کس سے؟ ‏جنگ سے روک لیا بھئی، دفاع کرنے، حفاظت کرنے کے لیے اس دن کی، اس دن کی ناپسندیدہ چیزوں پر اور دھمکیوں ‏پر۔ لیکن زیادہ پسندیدہ معنی پہلا ہے بھئی، جنگ سے رکنے کو بہادری نہیں عرب سمجھتے تھے بلکہ جنگ میں شرکت ‏کو بہادری اور جرات سمجھتے تھے کہ خوف تھا شکست کا بھی، شرمندگی کا بھی خوف تھا، دشمن کی بھی دھمکیاں تھیں ‏کہ ہم تم لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے، تو ان ساروں کا دفاع کرنے کے لیے اور بتلانے کے لیے نہیں کہ ہمیں ان میں ‏سے کسی چیز کا خوف نہیں ہے، ہم نے کس میں شرکت کر لی؟ جنگ میں شرکت کی اور ان کا مقابلہ کیا۔ آگے دیکھیے:‏ عَلَى مَوْطِنٍ يَخْشَى الْفَتَى عِنْدَهُ الرَّدَى ... مَتَى تَعْتَرِقْ فِيهِ الْفَرَائِصُ تُرْعَدِ موطن، موطن بمعنی موضع کے ہے، جگہ، جگہ، مکان۔ یخشى، خشية يخشى کا معنی ہے ڈرنا، خوفزدہ ہونا۔ الفتا، فتا کہتے ہیں جوان کو، جوان کو۔ اور یہاں جوان سے مراد ہے کامل جوان یا یوں کہیں بہادر جوان مراد ہے۔ الردى، ردى کہتے ہیں ہلاکت کو، ہلاک ہونا، ختم ہونا۔ متى تعترق فيه، اعترق يعترق کے معنی ہیں کسی چیز پر ہجوم کرنا، کسی چیز پر بھیڑ کرنا۔ اور اسی طرح باہم ٹکرانا، ‏باہم برسرِ پیکار ہونا، ایک دوسرے سے لڑنا، اس کے لیے بھی اعترق يعترق کہا جاتا ہے۔ فرائص، فرائص جمع ہے فریصة کی، اور فریصة کہتے ہیں یہ کندھے اور سینے کے درمیان پٹھے ہیں بھئی۔ کندھے اور ‏سینے کے درمیان کے پٹھے، اور کہتے ہیں کہ یہ جو ہیں، جب کسی شخص پر خوف طاری ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہ ‏کانپنے لگتے ہیں بھئی۔ بدن میں کا یہ حصہ، یہ پٹھے سب سے پہلے خوف کی حالت میں کانپنا شروع ہوتے ہیں بھئی، ‏اور پھر باقی بدن پر بھی لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ تو وہ جو پٹھے ہیں ان کو کہتے ہیں فریصہ، اور وہ دو ہیں بھئی، ‏فریصہ ایک جانب بھی اور دوسری جانب بھی فریصہ۔ تو اس کی جمع ہے فرائص۔ ترعد، ترعد عربی میں کسی پر لرزہ طاری ہو جائے تو کہتے ہیں رعد فلان۔ رعد فعلِ مجہول بولتے ہیں عموماً۔ معروف ‏بھی ہوتا ہے استعمال اور مجہول بھی۔ بسا اوقات عربی میں وہ افعال جو غیر اختیاری ہوں، ان کے لیے فعلِ مجہول ‏استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ افعال جو غیر اختیاری ہوں۔ مثلاً آپ پڑھتے ہیں: فغشي عليه، اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی، ‏پڑھتے ہیں نہ فقہ کی کتابوں میں کہ بے ہوشی کی صورت میں وضو رہے گا یا نہیں رہے گا، مسئلہ ذکر ہوتا ہے۔ تو وہاں ‏پر بھی دیکھو غشي فعلِ مجہول استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ بے ہوشی اختیاری نہیں ہے بلکہ غیر اختیاری ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ ترعد، اس کا معنی بھی لرزہ طاری ہونا، کسی پر کپکپی طاری ہونا، کسی کا کانپنا بھئی، اور یہ فعلِ ‏مجہول ہے ترعد بھئی، ترعد۔ یہ مجرد سے بھی ہو سکتا ہے، بابِ افعال سے بھی ہو سکتا ہے بھئی، دونوں سے یہ ‏استعمال ہوتا ہے۔ دونوں کا ایک ہی معنی ہے کانپنا بھئی، لرزنا۔ عَلَى مَوْطِنٍ يَخْشَى الْفَتَى عِنْدَهُ الرَّدَى ... مَتَى تَعْتَرِقْ فِيهِ الْفَرَائِصُ تُرْعَدِ على موطن، ایسے مقام پر، اس کا تعلق بھی اسی حبست سے ہے جو پچھلے شعر میں آیا تھا: اور بہت سے دن کہ میں نے ‏اپنے آپ کو روکا اس دن کی لڑائی میں، اس دن کی ناپسندیدہ چیزوں اور جو دشمن دھمکیاں دے رہے تھے ان کا دفاع ‏کرتے ہوئے، ان کا ان کا دفاع کرتے ہوئے، ان سے حفاظت کرتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو کس میں روکا؟ جنگ میں ‏روکا، یعنی میں نے جنگ کی۔ اور میں نے روکا اپنے آپ کو علی موطن، ایسے مقام پر یخشى الفتا کہ جہاں بہادر نوجوان ‏بھی ڈرتے ہیں عنده اس مقام پر الردى، کس سے؟ ہلاکت سے۔ بھئی جنگ ہے، جنگ کے اندر تو ظاہر سی بات ہے کہ ہلاکت کا خطرہ ہے، ہر طرف دشمن ہی دشمن ہے اور وہ کوئی ‏ویسے ہی آپ کے سامنے نہیں آئے، تلواریں ان کے ہاتھ میں ہیں اور نیزے ان کے ہاتھ میں ہیں اور جس کے زد میں آپ آ ‏گئے آپ زندہ نہیں رہیں گے۔ تو کتنا خوف کا عالم ہوگا! تو شاعر کہتا ہے کہ میں نے بسا اوقات اپنے نفس کو روکا جنگوں ‏میں ایسے مقامات پر جہاں بہادر نوجوان کو بھی اپنی ہلاکت کا خوف ہوتا تھا، اتنا خوفناک منظر ہوتا تھا اور اتنا خوفناک ‏مقام ہوتا تھا!‏ على موطن، ایسے مقام پر یخشى الفتا عنده الردى کہ جہاں پر بہادر نوجوان بھی ہلاکت سے ڈرتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے۔ متى ‏تعترق فيه الفرائص، جب اس میں ہجوم ہوتا ہے یا جب اس میں باہم ٹکراتے ہیں۔ اعترق يعترق کا کیا معنی؟ باہم ٹکرانا یا ‏بھیڑ کرنا، کسی جگہ پر ہجوم کرنا۔ متى تعترق فيه، جب اس میں باہم ٹکراتے ہیں یا جب اس میں ہجوم کرتے ہیں الفرائص، ‏فرائص کا کیا ترجمہ میں نے کیا؟ کندھے اور سینے کے درمیان کا پٹھا، لیکن مراد ہے یہاں کندھے، کندھے مراد ہیں۔ متى ‏تعترق فيه الفرائص، جب اس میں کندھے ٹکراتے ہیں۔ بھئی جہاں ہجوم ہوگا، ظاہر سی بات ہے کندھے سے کندھا ٹکرائے گا۔ جنگ کے اندر بھی بھئی ایک دوسرے کو قتل کر ‏رہے ہیں، لیکن کبھی ایک سے انسان ٹکرائے گا، کبھی دوسرے سے ٹکرائے گا۔ متى تعترق فيه الفرائص، جب اس کے ‏اندر کندھے باہم ٹکراتے ہیں ترعد، تو وہ کانپنے لگتے ہیں بھئی، ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ عَلَى مَوْطِنٍ يَخْشَى الْفَتَى عِنْدَهُ الرَّدَى ... مَتَى تَعْتَرِقْ فِيهِ الْفَرَائِصُ تُرْعَدِ ایسے مقام پر کہ جس میں نوجوان ہلاکت سے ڈرتا ہے، اس میں جب اس کے اندر کندھے باہم ٹکراتے ہیں یا ہجوم کرتے ‏ہیں ترعد، تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، وہ کانپنے لگتے ہیں۔ وَأَصْفَرَ مَضْبُوحٍ نَظَرْتُ حِوَارَهُ ... عَلَى النَّارِ وَاسْتَوْدَعْتُهُ كَفَّ مُجْمِدِ وأصفر، یہ واؤ بھی بمعنی ربّ کے ہے، أي ورب أصفر۔ اور اصفر کا معنی ہے زرد، وہ چیز جو زرد رنگ کی ہو۔ اور ‏اس اصفر سے مراد ہے جوئے کا تیر۔ کیا مراد ہے؟ جوئے کے تیر مراد ہیں بھئی۔ عرب کے ہاں جوؤا کھیلا جاتا تھا تیروں پر، کوئی خاص طریقہ ان کا ہوگا، وہ مختلف آٹھ، دس تیر ہوتے تھے اور ہر تیر ‏کا حصہ مقرر ہوتا تھا۔ تو وہ اونٹ وغیرہ ذبح کرتے اور اس کے گوشت کے حصے بنا لیے یا اس طرح اور بھی طریقے ‏ہوں گے، پھر وہ تیر جو ہیں ایک تھیلے کے اندر ڈال کر ان تیروں کو ہلایا جاتا تاکہ آپس میں وہ مل جائیں، اور پھر اس ‏میں سے تیر نکالے جاتے کہ یہ فلاں کا ہے، یہ فلاں کا ہے۔ اب کسی کے حصے میں ایسے تیر آتے جس کے حصے ‏زیادہ ہوتے، کسی کے حصے میں ایسے تیر آتے جس کے حصے تھوڑے ہوتے یا کوئی حصہ نہیں ہوتا، تو اس طریقے ‏سے کوئی خاص ان کا جوئے کا طریقہ تھا۔ تو وہ جو جوئے کے تیر تھے، وہ وہ جو جوئے کے تیر ہیں وہ مراد ہیں اصفر سے۔ تو یہ صفت ہے موصوف محذوف ‏نکال لیں، جوئے کے تیر کو عربی میں کہتے ہیں قدح، قاف دو نقطوں والا، دال اور حا، قدح۔ وأصفر أي ورب قدح أصفر۔ ‏ربّ ہے نہ، قدح کو کیا دے گا؟ جر۔ اور اصفر اس کی صفت ہے، اور یہ بھی مجرور ہے لیکن یہ غیر منصرف ہے، ایک ‏اس میں وصفیت ہے اور ایک وزنِ فعل ہے، تو غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے، ورنہ یہ مجرور ہے۔ مضبوح، ذبح يذبح کے معنی ہے کسی چیز کو آگ کا اثر دینا، اثر دینا۔ کوئی تیر وغیرہ یا کوئی وہ اس کو آگ کے قریب ‏کیا جاتا کہ آگ کا اس پر اثر ہو لیکن جلے نہ، جلے نہ۔ جیسے بھئی بدن پر دھوپ کا اثر ہوتا ہے، دھوپ کے اندر جلد سیاہ ‏ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آگ کے بھی جس چیز کو قریب کریں گے، اس پر آگ کا اثر ہوگا۔ تو جوئے کے تیر کو سخت ‏کرنے کے لیے اور اس کو سیاہی مائل زرد کرنے کے لیے آگ کے قریب کرتے تھے، لیکن جلاتے نہیں تھے، یہ اتنا ‏قریب نہیں کہ وہ جل جائے بھئی۔ تو اس کو کہتے تھے مضبوح بھئی۔ نظرت، نظر ينظر کا معنی ہے انتظار کرنا، یہاں اس کا کیا معنی ہے؟ انتظار کرنا۔ حواره، حواره، چند اشعار پہلے پچھلے سبق میں لفظ آیا تھا: فظل الإماء يمتللن حوارها، وہاں حوار لفظ آیا تھا بھئی، اور ‏حوار میں نے آپ کو بتلایا تھا اونٹنی کے بچے کو کہتے ہیں۔ جبکہ یہ لفظ ہے حوار، اور حوار کہتے ہیں گفتگو اور بات ‏چیت کو۔ آپس میں جو بات چیت کی جائے، مکالمہ کیا جائے، گفتگو کی جائے اسے حوار کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مصدر ہے ‏بابِ مفاعلہ کا، ابھی جو اوپر گزرا: حفاظاً، حواراً، دیکھیے وزن ایک ہی ہے۔ تو حاور يحاور محاورة وحواراً۔ على النار واستودعته، استودع کے معنی ہیں کسی کے پاس امانت رکھوانا۔ كف مجمد، كف ہتھیلی کو کہتے ہیں۔ مجمد، مجمد کہتے ہیں جوئے کے تیر گھمانے والے کو۔ جوئے کا تیر گھمانے والا بھئی، وہ تیر وغیرہ تھیلے میں ڈالے ‏جاتے اور پھر ایک شخص ان کو گھماتا تھا، تھیلے کو خوب اچھی طرح ہلاتا تھا تاکہ تیر آپس میں مل جائیں بھئی، مکس ‏ہو جائیں، اور پھر اس کے بعد اس میں سے تیر کو وہ نکالتا تھا ہر ایک کا۔ تو وہ جو جوئے کے تیر گھمانے والا شخص ‏ہے اس کو کیا کہتے؟ مجمد، مجمد۔ مجمد اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بخیل ہو بھئی، جو دونوں ہاتھوں سے چیزوں کو لیتا ہے اور اس کے ہاتھ ‏سے کسی کو خیر نہیں پہنچتی، یعنی خود سنبھال رہا ہے، دوسرے کے حوالے کچھ بھی نہیں کرتا۔ تو مجمد وہ تیر گھمانے ‏والا بھی کیا کرتا تھا؟ تیر وغیرہ لوگوں سے لیتا تھا، خود اپنی طرف سے کچھ نہیں دیتا تھا، تو اس کو بھی مجمد کہتے۔ ‏ویسے مجمد عربی زبان میں بخیل کو بھی کہتے ہیں، بخیل بھئی۔ عربی میں کہتے ہیں: جمدت فلان، جمدت کا معنی خشک ‏ہونا، جم جانا، جمد فلان، فلاں خشک ہو گیا، کیا معنی؟ یعنی بخیل ہو گیا، بخیل ہو گیا۔ یا جمدت یا یوں کہتے ہیں: جمدت ‏كف فلاني، فلاں کی ہتھیلی خشک ہو گئی ہے، یعنی بخیل ہو گیا ہے، کیونکہ سخاوت کا تعلق ہتھیلی سے ہے، آپ نے جب ‏بھی کسی کو کوئی چیز دینی ہے وہ کس کے ذریعے دیں گے؟ ہاتھ کے ذریعے، ہتھیلی کے ذریعے دیں گے۔ تو جب کوئی ‏بخیل ہو تو عربی میں کہتے ہیں جمدت كف فلاني، فلاں کی ہتھیلی خشک ہو گئی ہے، یعنی وہ بخیل ہو گیا ہے۔ تو یہاں پر بھی آیا: كف مجمد، وہ مجمد کی ہتھیلی۔ وَأَصْفَرَ مَضْبُوحٍ نَظَرْتُ حِوَارَهُ ... عَلَى النَّارِ وَاسْتَوْدَعْتُهُ كَفَّ مُجْمِدِ اور بہت سے جوئے کے ایسے زرد رنگ کے تیر مضبوح جن کو آگ کا اثر دیا گیا تھا، جن کو آگ کا رنگ دیا گیا تھا ‏نظرت حواره، میں نے انتظار کیا حواره ان کی گفتگو کا، ان کی بات چیت کا على النار آگ پر۔ بہت سے ایسے جوئے کے زرد تیر جن کو آگ پر آگ کا اثر دیا گیا تھا، آگ پر ان کے رنگ کو گہرا کیا گیا تھا، میں نے ‏ان کی گفتگو کا انتظار کیا على النار کس پر؟ آگ پر۔ کیا معنی؟ کہنا یہ چاہتا ہے: میں نے ان کی گفتگو کا انتظار کیا، مراد ‏یہ ہے میں نے ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ یا یوں کہیں: میں نے ان کے جواب کا انتظار کیا۔ ان جوئے کے تیروں کے بھئی دیکھو وہ تیر تھیلے میں ڈالے گئے ہیں، ان کو ہلایا جا رہا ہے، ابھی نکالا جائے گا۔ تو ‏میں ان کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں کہ میرے حصے، میرے حصے میں کامیابی آتی ہے یا ناکامی آتی ہے، میں جیتتا ‏ہوں یا میں ہارتا ہوں؟ تو یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ ان کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔ یہ معنی ہے۔ نظرت حواره، میں نے ‏ان کے جواب کا انتظار کیا کہ وہ کامیابی کے ساتھ جواب دیتے ہیں یا ناکامی کے ساتھ على النار کس پر؟ آگ پر، یعنی ہم ‏آگ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ عموماً عرب کے ہاں شدید سردیوں میں یہ آگ جلائی جاتی اور اور لوگ اکٹھے ہوتے، اس ‏کے گرد ہاتھ تاپتے جیسے عام جگہوں پر بھی ہوتا ہے، سردی کے اندر آگ جلائی جاتی ہے، اور پھر خاص طور پر ‏کوئی مہمان آیا ہوتا تو اس کے لیے اس طرح اونٹ وغیرہ ذبح کرتے اور پھر وہیں پر یہ جوئے وغیرہ، جوؤا بھی کھیلتے ‏اور آگ بھی تاپتے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آگ کے گرد ہاتھ بھی تاپتے اور جوؤا بھی کھیلتے اور وہاں اکٹھے ہوتے۔ تو کہتے ہیں: نظرت حواره على النار، میں نے ان کے جواب کا انتظار کیا یا یوں کہیں میں نے ان کی کامیابی اور ناکامی ‏کا انتظار کیا على النار آگ پر، یعنی ہم آگ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے واستودعته كف مجمد، اور میں نے ودیعت رکھا ان ‏تیروں کو، میں نے اس تیر کو ودیعت، یعنی اس تیر کو امانت، یہاں استودع کے معنی حوالے کرنا، حوالے کرنا واستودعته ‏كف مجمد، اور میں نے اس جوئے کے تیر گھمانے والے کی ہتھیلی کے حوالے کیا تیروں کو۔ کس کے حوالے کیا؟ جوئے کے تیر گھمانے والا جو ہے، اس شخص کی ہتھیلی کے حوالے ان تیروں کو کیا۔ بھئی وہ تیر ‏اس کے حوالے کیا، وہ ظاہر سی بات ہے ان کو گھمائے گا اور پھر اس کے بعد نتیجہ آئے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ وَأَصْفَرَ مَضْبُوحٍ نَظَرْتُ حِوَارَهُ عَلَى النَّارِ وَاسْتَوْدَعْتُهُ كَفَّ مُجْمِدِ۔ ای وہ رُبَّ قِدْحٍ أَصْفَرَ، اور ‏جوئے کے بہت سے ایسے تیر جو زرد رنگ کے تھے، مَضْبُوحٍ ان کو آگ کا اثر دیا گیا تھا، آگ پر ان کو، آگ کا رنگ ‏ان کو دیا گیا تھا، نَظَرْتُ حِوَارَهُ عَلَى النَّارِ میں نے ان کے جواب کا انتظار کیا عَلَى النَّارِ آگ پر، یعنی ہم آگ پر بیٹھے ہوئے ‏تھے، وَاسْتَوْدَعْتُهُ كَفَّ مُجْمِدِ اور میں نے اس کو بطورِ امانت کے دیا جوئے کے تیر گھمانے والے کی ہتھیلی میں، یعنی میں ‏نے اس کے حوالے کیے—بھئی یاد رکھیے، یہ طرفہ جو ہے یہاں پر اپنےジュوا کھیلنے کو بڑا، بڑے فخر سے بیان ‏کر رہا ہے۔ شریعت کے اندر تو جوئے کو سے منع کیا گیا ہے اور جووا کھیلنا حرام ہے، لیکن عرب جو ہیں وہ جوئے پر فخر کیا ‏کرتے تھے، فخر کیا کرتے تھے جو شخص جووا کھیلتا تھا۔ اس لیے کہ ان کا گمان یہ تھا کہ جووا تو جو سخی آدمی ہوگا ‏وہی کھیلے گا، جو بخیل آدمی ہے جسے ہارنے کا خوف ہے، مال ہاتھ سے جانے کا خوف ہے، وہ کبھی بھی جووا نہیں ‏کھیلے گا۔ تو جووا صرف کون کھیلتا ہے؟ سخی آدمی، جسے اپنے مال کی ذرہ بھر پروا بھی نہ ہو۔ چنانچہ اسی لیے وہ ‏بڑے فخر سے یہ اپنے جووا کھیلنے کو بیان کر رہا ہے کہ میں بڑا سخی آدمی ہوں، میں مال کی پروا بھی نہیں کرتا۔ آگے دیکھیے: أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ وَلَا أَرَى بَعِيدًا غَدًا مَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ غَدِ۔ أَعْدَادَ النُّفُوسِ، اعداد جمع ہے عِدّ کی بھئی، ‏عِدّ کی، اور عِدّ وہ ماءِ کثیر بھئی جس پر لوگ آتے ہوں۔ عِدّ کسے کہتے ہیں؟ کثیر پانی جس پر لوگ آتے ہیں، پانی لینے ‏کے لیے، پینے کے لیے، لے جانے کے لیے، اس کو کہتے ہیں عِدّ اور اس کی جمع ہے اعداد، اعداد۔ تو شاعر کہتا ہے: أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ، میں موت کو سمجھتا ہوں أَعْدَادَ النُّفُوسِ جانوں کا، نفسوں کا، وہ ماءِ کثیر جس ‏پر وارد ہوا جائے، جس پر آیا جائے۔ توجہ ہے؟ میں موت کو کس کی طرح سمجھتا ہوں؟ یا یوں کہیں، ماءِ کثیر، معنی کیا ‏ہے ماءِ کثیر، مراد یہاں لے لیں گھاٹ، گھاٹ، ترجمہ ذرا آسان ہو جائے گا، بہتر ہو جائے گا۔ أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ، میں ‏موت کو جانوں کا گھاٹ سمجھتا ہوں۔ موت کو جتنے جی ہیں، جتنی جانیں ہیں، جتنے لوگ ہیں، میں موت کو ان کا گھاٹ ‏سمجھتا ہوں۔ جیسے ہر شخص کو پانی پینے کے لیے گھاٹ پر ضرور آنا پڑتا ہے، اسی طرح ہر جان کو موت کا مزہ ‏چکھنا ہے، وہ موت کے گھاٹ پر ضرور آتی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے یعنی موت سے کوئی مفر نہیں، کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں۔ سارے نفسوں کو اس گھاٹ پر آنا ہے، ‏اس گھاٹ کا پانی پینا ہے۔ أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ، میں موت کو نفسوں کا گھاٹ سمجھتا ہوں، یعنی نفسوں کے ماءِ کثیر ‏سمجھتا ہوں جس پر ان کا وہ جو آپ، جس پر وہ آتے ہیں۔ وَلَا أَرَى بَعِيدًا، اور میں دور نہیں سمجھتا غَدًا، کل کو۔ میں کل ‏کے دن کو دور نہیں سمجھتا، کیونکہ کل نے تو آنا ہی ہے، تو کل کا دن دور نہیں ہے، دور نہیں ہے، کل کا دن آ جائے گا۔ ‏مَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ غَدِ، مَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ، کتنا قریب ہے آج کا دن مِنْ غَدِ کل سے! آج کا دن کل سے کتنا قریب ہے، کتنا قریب ‏ہے۔ کل سے کل ہی کا دن ہی نہیں، مراد آنے والا زمانہ مراد ہے، کہ آنے والا زمانہ جو ہے وہ آتا ہے، کل کا دن جو ہے وہ ‏آئے گا اور وہ کوئی دور نہیں ہے۔ معنی یہ ہے: مستقبل بڑا قریب ہے، جو چیز آنے والی ہے وہ آ ہی جائے گی کسی نہ ‏کسی، کسی وقت، چاہے کچھ تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے، لیکن بہرحال وہ آ جائے گی اور کل کا دن یوں سمجھو آنے والا ‏زمانہ بڑا قریب ہے۔ أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ وَلَا أَرَى بَعِيدًا غَدًا مَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ غَدِ، میں موت کو نفسوں جانوں کا جو ہے وہ ماءِ کثیر سمجھتا ‏ہوں جس پر وہ آتے ہیں۔ وَلَا أَرَى بَعِيدًا غَدًا، اور میں کل کو کوئی دور نہیں سمجھتا۔ یعنی کسی کی موت آ جا رہی ہے، کسی ‏کو اگر ڈھیل مل گئی، مہلت مل گئی، وہ کل مرے گا، یعنی آگے مستقبل میں مرے گا، تو مرنا تو ہے، مرنے سے تو کوئی ‏مفر نہیں ہے، اور کوئی تاخیر سے بھی مرے تو وہ تاخیر بھی کوئی تاخیر نہیں ہے، کیونکہ بڑی جلدی وہ وقت آ جائے گا ‏اور وہ شخص بھی دنیا سے چلا جائے گا۔ تو معنی یہ ہے: موت سے پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب ہر شخص نے ‏موت کا مزہ بھی چکھنا ہے، موت اس پر آنی بھی ہے اور موت مؤخر بھی ہو جائے لیکن بہرحال وہ دور نہیں ہے، وہ ‏قریب ہی ہے، تو موت سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بہادر انسان کو موت کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے بھئی۔ ‏موت سے ڈرتے رہے تو بھی بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ وَلَا أَرَى بَعِيدًا غَدًا، اور میں دیکھتا ہوں موت کو نفسوں کے لیے وہ ماءِ کثیر جس پر وہ وارد ‏ہوتے ہیں۔ وَلَا أَرَى بَعِيدًا غَدًا، اور میں کل کے دن کو کوئی دور نہیں سمجھتا۔ مَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ غَدِ، اور مَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ، آج ‏کا دن کتنا قریب ہے مِنْ غَدِ کل کے دن سے!‏ أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ، تو اعداد کا ترجمہ میں نے کیا کیا؟ وہ ماءِ کثیر جن پر وارد ہوا جائے۔ اور اسی طرح اعداد جو ‏ہے، یہ عدد کی بھی جمع ہے، تعداد، شمار اور گنتی کو کہتے ہیں۔ عدد کسے کہتے ہیں؟ عدد شمار اور گنتی کو۔ تو یہ معنی ‏بھی ہو سکتا ہے: أَرَى الْمَوْتَ أَعْدَادَ النُّفُوسِ، کہ میں موت جو ہے، اس کو نفسوں کے شمار سمجھتا ہوں، یعنی موتیں جو ہیں ‏وہ بھی نفسوں کے برابر ہیں، جتنے نفس اتنی موتیں، یہ نہیں ہو سکتا کوئی نفس اور کوئی جان موت سے بچ جائے بھئی، ‏ہر نفس پر کیا آئے گی؟ موت آئے گی بھئی۔ لیکن بہرحال پہلا ترجمہ زیادہ بہتر ہے اور علامہ زوزنی اور دیگر بعض شارحین نے بھی وہ ذکر کیا ہے۔ جبکہ اکثر، ‏اکثر، اکثر قدیم شارحین نے اس شعر کو ذکر ہی نہیں کیا۔ اور اگلے دو اشعار جو ہیں، سَتُبْدِي لَكَ الأَيَّامُ مَا كُنْتَ جَاهِلًا، یہ ‏والا شعر، وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ، اور یہ آخری دو اشعار ہیں، ان کے بارے میں بھی بعض علماء نے کلام کیا ہے، بعض کہتے ‏ہیں کہ یہ طرفہ کے اشعار ہیں، بعض کسی اور شاعر کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ اس کے اشعار ہیں۔ سَتُبْدِي لَكَ الأَيَّامُ مَا كُنْتَ جَاهِلًا وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ أَبْدَى یُبْدِی کا معنی ہے ظاہر کرنا، ظاہر کرنا، اور یہ سین ‏مستقبل کے لیے ہے۔ سَتُبْدِي، عنقریب ظاہر کریں گے۔ اخبار جمع ہے خبر کی، خبر کی۔ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ، زَوَّدَ يُزَوِّدُ تَزْوِيدٌ کا ‏معنی ہے کسی کو زادِ راہ دینا، کسی کو سفر کا توشہ دینا۔ قدیم زمانے میں جب کوئی شخص سفر پر نکلتا تھا تو کھانے ‏پینے کا سامان ساتھ لے کر چلتا تھا بھئی۔ ساتھ، آٹا وغیرہ وہ ساتھ لے کر چلتا ضرورت کے مطابق بھئی۔ تو زادِ راہ، ‏کسی کو زادِ راہ دینا یعنی اس کو راستہ، سفر میں کھانے پینے کا اور ضرورت کی جو چیزیں ہیں وہ اس کو دینا، اس کو ‏کہتے ہیں زادِ راہ بھئی، زادِ راہ جس کی مسافر کو ضرورت پڑتی ہے راستے میں۔ سَتُبْدِي لَكَ الأَيَّامُ مَا كُنْتَ جَاهِلًا وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ سَتُبْدِي لَكَ الأَيَّامُ، عنقریب ظاہر کرے گا تیرے لیے الأَيَّامُ دن، ‏یعنی زمانہ، یہ دن جو ہیں عنقریب تیرے لیے ظاہر کریں گے مَا اس چیز کو كُنْتَ جَاهِلًا جس سے تو جاہل ہے، یعنی جس ‏سے تو غافل ہے، بے خبر ہے، یہ زمانہ تیرے سامنے وہ چیزیں لے کر آئے گا جن سے تو غافل ہے، جن کا تجھے علم ‏نہیں۔ وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ، اور تیرے پاس لائے گا خبریں مَنْ وہ شخص لَمْ تُزَوِّدِ جس کو تو نے زادِ راہ نہیں دیا ہوگا۔ وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ، اور تیرے پاس وہ شخص خبریں لائے گا جس کو تو نے زادِ راہ نہیں دیا ہوگا۔ بھئی آج کل ‏تو، آج کل تو مختلف ذرائع سے، ٹی وی کے ذریعے اور موبائل وغیرہ کے ذریعے، اخبارات کے ذریعے، ریڈیو کے ‏ذریعے آپ تک خبریں پہنچتی ہیں، قدیم زمانے میں تو ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کوئی ویسے آنے والا بتاتا یا آپ کو کوئی ‏خاص خبر مطلوب ہوتی تھی، کسی بات کا پتہ کرنا مقصود ہوتا تھا، تو آپ کو باقاعدہ ایک مسافر کو، کسی شخص کو تیار ‏کر کے بھیجنا پڑتا تھا کہ جاؤ فلاں علاقے سے وہ پتہ کر کے آؤ، اور اس کو جب کسی کو بھیج رہے ہیں تو ظاہر سی ‏بات ہے آپ اس کے سفر کے سامان وغیرہ کا اور ضروریات کا بھی بندوبست کریں گے۔ تو شاعر یہی کہہ رہا ہے کہ ‏تمہارے پاس وہ شخص خبریں لائے گا جسے آپ نے زادِ راہ نہیں دیا ہوگا، یعنی آپ نے نہیں بھیجا ہوگا کہ جاؤ جا کر یہ ‏بات معلوم کر کے آؤ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ سَتُبْدِي لَكَ الأَيَّامُ مَا كُنْتَ جَاهِلًا وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ، کہ عنقریب زمانہ جو ہے تیرے لیے وہ چیزیں ظاہر کرے گا ‏جن سے تو غافل ہے، وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ اور تیرے پاس خبریں وہ شخص لائے گا جس کو تو نے زادِ راہ نہیں دیا ‏ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی تمہارے پاس کبھی ایک کی ہلاکت کی خبر آئے گی، کبھی دوسرے کی ہلاکت کی خبر آئے ‏گی، کبھی کوئی خوشی کی بات پہنچے گی، کبھی تباہی کی خبریں پہنچیں گی، کبھی آپ کا ایک عزیز دنیا سے جا رہا ہے، ‏کبھی دوسرا عزیز دنیا سے جا رہا ہے، کبھی دوست دنیا سے جا رہا ہے، کبھی آپ کے چاہنے والے ہیں، دشمن نے ان کو ‏قتل کر دیا، تو مختلف قسم کی ہولناک خبریں جو ہیں وہ آپ تک پہنچیں گی، اگرچہ آپ نے کسی کو وہ خبر لانے کے لیے ‏نہ بھیجا ہو، لیکن وہ زمانہ ایسے حوادثات، ایسے معاملات آپ کے سامنے لے کر آئے گا جن سے آپ غافل تھے، جو آپ ‏کے وہم و گمان میں نہیں تھیں، اور وہ شخص خبریں لے کر آئیں گے آپ کے پاس جن کو آپ نے تیار نہیں کیا تھا خبر ‏لانے کے لیے۔ آگے دیکھیے بھئی: وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تَبْتَعْ لَهُ بَتَاتًا وَلَمْ تَضْرِبْ لَهُ وَقْتَ مَوْعِدِ۔ مَنْ لَمْ تَبْتَعْ لَهُ، بَاعَ يَبِيعُ، میں نے پہلے بھی ‏ذکر کیا تھا، بَاعَ يَبِيعُ بَيْعًا، اس کا معنی بیچنے کے بھی ہیں اور خریدنے کے بھی ہیں، اور زیادہ تر یہ بیچنے کے معنی ‏میں استعمال ہوتا ہے۔ اور شَرَى يَشْرِي کے معنی خریدنے کے بھی ہیں اور بیچنے کے بھی ہیں، ہاں وہ زیادہ تر خریدنے ‏کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، خریدنے کے۔ تو یہاں پر یہ لَمْ تَبْتَعْ، بَاعَ يَبِيعُ یہاں پر یہ خریدنے کے معنی میں ہے، لَمْ تَبْتَعْ ‏لَهُ تو نے اس کے لیے نہیں خریدا بَتَاتًا، بتات کہتے ہیں زادِ راہ کو، سامانِ سفر کو، بتات بھئی بتات۔ وَلَمْ تَضْرِبْ لَهُ، ضَرَبَ يَضْرِبُ کے بہت سے معانی آتے ہیں، یہاں ضَرَبَ يَضْرِبُ کے معنی ہیں بیان کرنا، متعین کرنا۔ وَقْتَ ‏مَوْعِدِ، وعدے کا وقت۔ وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تَبْتَعْ لَهُ بَتَاتًا وَلَمْ تَضْرِبْ لَهُ وَقْتَ مَوْعِدِ، اور لائے گا تیرے پاس خبریں مَنْ وہ ‏شخص لَمْ تَبْتَعْ لَهُ بَتَاتًا جس کے لیے تو نے زادِ راہ نہیں خریدا، جس کے لیے تو نے سامانِ سفر نہیں خریدا، تیرے پاس وہ ‏شخص خبر لے کر آئے گا جس کے لیے تو نے سامانِ سفر نہیں خریدا، تم نے اسے کوئی زادِ راہ خرید کر نہیں دیا، وہ ‏تمہارے پاس خبر لائے گا، وَلَمْ تَضْرِبْ لَهُ وَقْتَ مَوْعِدِ اور آپ نے اس کے لیے کوئی وعدے کا وقت بیان نہیں کیا، یعنی ‏وعدے کا وقت مقرر نہیں کیا۔ بھئی آپ کسی کو خبر دینے کے لیے بھیجتے، کسی کو خبر دینے کے لیے بھیجتے تھے تو وقت متعین کرتے تھے کہ ‏فلاں دن تک تم نے مثلاً خبر کوشش کرنی ہے کہ فلاں دن کو خبر لے کر پہنچو، تو یہ دیکھا وہ وعدے کا وقت کہ فلاں ‏وقت تک تم نے کیا کرنا ہے؟ خبر لے کر پہنچنا ہے۔ تو آپ کے پاس کہتے ہیں ایسے لوگ خبریں لے کر آئیں گے جن کو ‏آپ نے زادِ راہ بھی نہیں دیا ہوگا اور جن سے کوئی وعدے کا وقت متعین بھی نہیں کیا ہوگا کہ فلاں وقت خبر لے کر آنا، ‏لیکن وہ آپ کے پاس مختلف قسم کی خبریں لے کر آئیں گے۔ وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تَبْتَعْ لَهُ بَتَاتًا وَلَمْ تَضْرِبْ لَهُ وَقْتَ مَوْعِدِ، اور تیرے پاس خبریں لے کر آئے گا وہ شخص کہ اس کے ‏لیے آپ نے سامانِ سفر خریدا نہیں۔ سامانِ سفر نہیں خریدا ہوگا وَلَمْ تَضْرِبْ لَهُ وَقْتَ مَوْعِدِ اور آپ نے اس کے لیے کوئی وعدے کا وقت بیان نہیں کیا ہوگا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ چلیے جی، الحمدللہ جی، یہ معلقہ ہو گیا۔ ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔ اچھا جی، یہ آپ کی مبارک جماعت ہے بھئی جو پورا ہو گیا یہ۔ ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔ اچھا چلیے بھئی، آپ سب کو مبارک ہو، یہ ہمارے تینوں معلقات پورے ہو گئے بھئی۔ جی، آئیے بھئی، اب دعا کر لیں ‏آخر میں۔ دعا کا طریقہ ہمیشہ یاد رکھیں بھئی، میں ہمیشہ طلباء کے سامنے ذکر کرتا ہوں، جب بھی دعا مانگیں تو شروع میں ‏چونکہ اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں تو شروع میں اللہ کی حمد و ثناء ہونی چاہیے، لہٰذا شروع میں الحمدللہ پڑھیں، اس کے ‏بعد چند مرتبہ درود شریف پڑھیں اور پھر دعا کے آخر میں آمین بھی ہو اور پھر چند مرتبہ درود شریف بھی ہو، اس سے ‏دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ آئیے ہم بھی اسی طریقے پر عمل کر لیتے ہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمین۔ اللهم صل على سيدنا مولانا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.‏ اے اللہ! ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! ‏ہمارے اس بیٹھنے کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس میں ہم سے بہت سی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، بے ادبیاں ہوئی ہوں گی، اے اللہ! ‏ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہر شر، فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ ‏اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! رحمت کے دروازے ہم سب کے لیے کھول دے۔ اے اللہ! ہم سب ‏کو اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ‏فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قبر کی تاریکی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! قبر کے عذاب سے ‏ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! قبر کی وحشت سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ‏قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! سب کو اے اللہ! تو زندگی میں خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! دنیا ‏میں بھی عزتیں نصیب فرما۔ اے اللہ! آخرت میں بھی عزتیں نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول ‏فرما۔ اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب ‏فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قیامت تک آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے ‏سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! حرام کے، حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! تمام عالم کے ‏مسلمانوں کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ہر جگہ پر مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے، اے اللہ! تکالیف میں مبتلا ہیں، ان ‏کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ ‏مسلمانوں کو دین کی طرف لوٹا دے، ان میں اتفاق و اتحاد اے اللہ! پیدا فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے اندر مسلمانوں کو جگہ جگہ بےدریغ قتل کیا جا رہا ہے، شام کے اندر، برما کے اندر، فلسطین میں، ‏کشمیر میں، اور اسی طرح چین کے اندر، اور ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، لیکن بالخصوص چین کے اندر، کہ ‏وہاں مسلمانوں پر ظلم بھی ہو رہا ہے اور ان کے شہر کے شہر اس وقت مسلمانوں کے شہر کے شہر اس وقت ویرانے کا ‏منظر پیش کر رہے ہیں، سب کو جیلوں میں انہوں نے ڈال دیا، اور پوری دنیا خاموش ہے، کوئی نام بھی نہیں لے رہا، ذکر ‏بھی نہیں کر رہا۔ اے اللہ! ان، ان تمام مسلمانوں کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کی اور ان کے بچوں کی ایمان کی ‏حفاظت فرما۔ اج چین کے اندر تو اتنا ظلم کیا جا رہا ہے کہ بچوں کو والدین سے چھین کر اپنے چینی، چینی خاندانوں کے ‏حوالے کر دیا، جیلوں میں بس ماں باپ سے الگ کر دیا، تاکہ بچوں کو یہ پتہ ہی نہ ہو، یہ یاد ہی نہ رہے کہ ہم مسلمان ‏تھے۔ اے اللہ! ان سب کے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر جگہ مسلمان کو ظلم، مسلمان پر ظلم کیا جا رہا ہے، ان کو پیسا ‏جا رہا ہے۔ اے اللہ! مسلمانوں کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی مدد و ‏نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو ان کے ‏مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دے۔ اے اللہ! اے اللہ! تمام عالم کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری اے اللہ! ہم، ہمارے بھی، اے اللہ! ہم سب کے ‏گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہمارے گناہ یقیناً بہت زیادہ، لیکن اے اللہ! آپ کی ‏رحمت تو بڑی وسیع ہے، آپ کی وسیع رحمت کا واسطہ، اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آپ نے خود ‏فرمایا ہے، کوئی کے شخص، کوئی، کہ کوئی شخص اگر اتنے گناہ بھی لے آئے کہ اس سے زمین اور آسمان پور ہو ‏جائیں، تو میں اس سے زیادہ رحمت لاؤں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔ اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کے گناہوں ‏کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس نشست و برخاست میں اسلام کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہمارے گھروں میں اور باہر اسلام ‏کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہمارے خاندانوں میں اور بچوں میں سب میں اسلام کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو ‏معاف فرما۔ اے اللہ! یقیناً کوئی شخص کسی گناہ سے آپ کی توفیق کے بغیر نہیں بچ سکتا، اے اللہ! ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق ‏نصیب فرما۔ اے اللہ! کوئی شخص گناہوں سے نہیں بچ سکتا آپ کی توفیق کے بغیر، ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق ‏نصیب فرما۔ اے اللہ! کوئی شخص کوئی نیکی آپ کی توفیق کے بغیر نہیں کر سکتا، اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کرنے کی ‏توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بزرگوں کے راستے پر، صحابہ کے راستے پر، ائمہ دین کے راستے پر چلنے کی توفیق ‏نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے ہر، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں ‏شامل فرما۔ اے اللہ! ہماری لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! جہنم ‏سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! آپ نے خود فرمایا، آپ کے نبی کا فرمان آپ ہی کا فرمان ہے کہ جب کوئی شخص جہنم سے تین مرتبہ پناہ مانگتا ‏ہے، تو جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو مجھ سے دور کر دے، اور اسی طرح اگر کوئی شخص تین مرتبہ یہ کہہ دے ‏کہ اے اللہ! مجھے جنت نصیب فرما، تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو میرے اندر لے آ۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری ‏حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس ‏نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات ‏حل فرما۔ اے اللہ! تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، آپ خود فرماتے ہیں: اگر تمام جن و انس جمع ہو جائیں اور مجھ سے دعائیں ‏مانگیں، اور میں ہر ایک کی منہ مانگی مراد پوری کر دوں، تو بھی میرے خزانوں کے اندر اتنی کمی نہیں آئے گی کہ ‏جتنی سمندر کے اندر سوئی ڈبو کر نکالی جائے، اس سے سمندر میں کیا کمی واقع ہوتی ہے۔ تو اے وہ عظیم خزانوں ‏والے! اے اللہ! ہماری تو یہ چھوٹی سی جماعت ہے، ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، ان کا ‏مستقبل خوشحال فرما۔ اے اللہ! ان کو علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! آگے آنے والے امتحانات میں بہترین اور کامیابی نصیب ‏فرما، بلکہ زندگی کے تمام امتحانات میں عظیم کامیابیاں نصیب فرما، اور اے اللہ! اس دنیاوی زندگی کی آزمائش میں بھی ‏عظیم کامیابی نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں دین کی خدمت کرنے والا بنا۔ اے اللہ! شرک و بدعات اور گمراہیوں سے ہماری ‏حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو شرک و بدعات اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمارے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے ہیں، ان کی قبروں کو منور فرما، ان کی لغزشات سے درگزر فرما، ان ‏کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! ان کی قبروں کو بھی منور فرما، ان کے ‏جو اہل و عیال باقی ہیں، ان کو خوشیاں نصیب فرما، وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! ان کی پریشانیاں دور فرما، ‏اور اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ! ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما، وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! ان ‏کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہماری اس، ہماری اس مملکت کی بھی حفاظت فرما، ہمارے اس وطن کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! یہاں پر بھی ‏اسلامی نظام قائم فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، ان میں سے ہر ایک ‏کو ایسی شمع بنا جس سے آگے تا قیامت لاکھوں شمعیں روشن ہوں۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اپنے اساتذہ کے لیے ‏اور والدین کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ ‏اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمیں ایمان والی قبر نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں ایمان والی قبر نصیب فرما۔ ‏اے اللہ! عافیتِ دارین نصیب فرما۔ بہت سے لوگ بھی دعاؤں کا کہتے رہتے ہیں، اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، اے اللہ! ان سب کی تمام ‏حاجتیں پوری فرما، اے اللہ! سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے ‏گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے اس، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ‏فرما۔ اب ایک دو منٹ تک دل میں جو حاجات ہوں، جو دعائیں ہوں، وہ مانگ لیں۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ تعالی صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ کچھ تکالیف ‏اور پریشانیاں ہیں، اللہ ان تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرمائے۔ اے اللہ! صحت اور عافیت اور تندرستی نصیب فرما۔ ‏میری والدہ بھی بیمار ہیں، ضعیف ہیں، ان کے لیے بھی دعاؤں کی درخواست ہے، اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب ‏فرما۔ اے اللہ! خوشی اور مسرت کے ساتھ ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم فرما، اور جتنے میرے تلامذہ ہیں، ‏جتنے طلباء ہیں، اے اللہ! ان کے بھی جو والدین زندہ ہیں یا ان میں سے کوئی زندہ ہے، اے اللہ! ان کو بھی صحت، عافیت ‏اور مسرت کے ساتھ طویل زندگی نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ ان کے کروڑہا درجات بلند فرمائے۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح ‏علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح قبولیت و مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح حسنِ ‏خاتمہ نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان کی طرح، ہمیں بھی ان کی طرح اتباعِ سنت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں ‏قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میں نے اگر آپ حضرات کو سال میں کسی سے کوئی سخت بات کہی ہو تو میں آپ سب سے معافی مانگتا ہوں، للہِ فی اللہِ ‏مجھے معاف کر دینا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ صلى الله تعالى على خير خلقه، محمد وعلى آله وصحبه اجمعين.‏ چلیے، الحمدللہ جی، آپ سب کو بھی مبارک ہو، اور...‏
62 approved lectures · 62 of 62
⏮ First ◀ Previous
Current dars-062