Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 140
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! آگے سبق دیکھیے:‏ وَمَا الْحَرْبُ إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ وَذُقْتُمُ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ مَتَى تَبْعَثُوهَا تَبْعَثُوهَا ذَمِيمَةً وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا فَتَضْرَمِ فَتَعْرُكْكُمْ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا وَتَلْقَحْ كِشَافاً ثُمَّ تُنْتَجْ فَتُتْئِمِ زہیر ابن ابی سلمیٰ کا معلقہ ہم پڑھ رہے ہیں اور میں نے بتلایا کہ بہت سے علماء کی یہ رائے ہے کہ یہ عربی زبان کا ‏سب سے بڑا شاعر ہے بھئی۔ تو گزشتہ سبق کے اندر زہیر ابن ابی سلمیٰ تعریف کر رہا تھا دو سرداروں کی، جنہوں نے قبیلہ عبس و ذبیان کے درمیان ‏ہونے والی جنگ کو ختم کروایا اور سارے اونٹوں کی جو دیت بنتی تھی وہ اپنے سر لے لی۔ تو ان کی تعریف کی اور پھر ‏اس کے بعد جنگ کی ہولناکی سے ان قبیلے والوں کو ڈرا رہا ہے کہ اے قبیلے والو! اور اے حلیفو! ان کے اتحادیو! تم نے ‏صلح کی ہے، تم نے کامل قسمیں یعنی پکی قسمیں اٹھائی ہیں، دیکھو اب غدر نہ کرنا۔ غدر نہ کرنا۔ قبیلہ ہے، بڑا قبیلہ ہے، ‏ہو سکتا ہے بھئی بعض اوقات بعض لوگ کیا کرتے ہیں بظاہر تو صلح کر لیتے ہیں لیکن دل کے اندر کینہ، غضب اور ‏غصے کو چھپا کر رکھتے ہیں اور پھر جب موقع ملتا ہے تو دوسرے کو زبردست نقصان پہنچا دیتے ہیں بھئی۔ تو ان کو جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کی طرف متوجہ کروا رہا ہے کہ دیکھو تم نے صلح کی ہے، اب غدر نہ ‏کرنا ورنہ پھر جنگ شروع ہوگی اور جنگ کی ہولناکیاں اور تباہیاں وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو جسے لفظوں ‏میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تو آگے کہتا ہے:‏ وَمَا الْحَرْبُ إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ وَذُقْتُمُ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ حرب جنگ کو کہتے ہیں۔ علمتم و ذقتم، علم یعلم کے معنی جاننا، ذاق یذوق کے معنی چکھنا، چکھنا۔ اور یہاں مراد تجربہ ‏ہے بھئی کہ تمہیں تم نے جنگ کو چکھ لیا ہے یعنی اس کا تجربہ اچھی طرح کر لیا ہے۔ اور وذقتمو یہاں پر پھر بھئی میم ‏پر ضمہ پڑھیں گے اور اشباع کریں گے، کھینچیں گے اس کو، ورنہ اس کے بغیر شعر کا وزن صحیح نہیں رہتا۔ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ رجم یرجم ترجیم کا معنی ہوتا ہے گمان اور اندازے سے کوئی بات کرنا۔ یعنی بات کا علم نہ ہو، اندازے سے کوئی بات کر ‏دینا، اس کو کہتے ہیں ترجیم بھئی۔ اور حدیث مرجم، وہ بات جو اندازے سے کی گئی ہو، جو اندازے سے کہی گئی ہو ‏اسے کہتے ہیں حدیث مرجم۔ وَمَا الْحَرْبُ إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ وَذُقْتُمُ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ وَمَا الْحَرْبُ اور نہیں ہے جنگ إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ مگر وہ جس کو تم جان چکے ہو وَذُقْتُمْ اور جس کو تم چکھ چکے ہو۔ جنگ تو ‏وہی چیز ہے جس کو تم نے جان بھی لیا اور چکھ بھی لیا یعنی اس کا اچھی طرح تجربہ کر لیا۔ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ ‏الْمُرَجَّمِ یہ ما بھی نفی کے لیے ہے مشابہ بلیسٰ، اور ھو جو ہے یہ ضمیر راجع ہے علمتم سے جو مصدر مفہوم ہوا۔ جیسے ‏قرآن میں آتا ہے: اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۔ یہ ھو ضمیر کس کو راجع؟ اعدلوا کے ضمن میں جو عدل آ گیا، فعل کے ضمن ‏میں کیا آ گیا؟ عدل آ گیا۔ تو یہاں بھی فعل کے ضمن میں مصدر آ گیا۔ وَمَا هُوَ اور نہیں ہے وہ، کیا چیز؟ علمکم تمہارا جان لینا۔ علمتم سے کیا پتہ چلا؟ تمہارا جان لینا۔ نہیں ہے تمہارا جان لینا ‏عَنْهَا یعنی عن الحرب کس کے بارے میں؟ جنگ کے بارے میں۔ ہاں، جنگ کے بارے میں جو تم نے جان لیا ہے وہ نہیں ‏ہے بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ کوئی اندازوں سے کہی ہوئی بات۔ جنگ کے بارے میں جو کچھ تم نے جانا، جو تم نے چکھ لیا، جس کا تمہیں تجربہ ہو گیا، وہ کوئی اندازوں سے کی ہوئی ‏بات نہیں ہے، تم نے خود اپنی آنکھوں سے ہر چیز کو دیکھ لیا، مشاہدہ کر لیا، جنگ کی تباہ کاریاں اور ہولناکیاں تم نے ‏خود اپنی نگاہوں سے دیکھ لیں، تمہارا پورا پورا قبیلہ ختم ہو گیا، کتنی خوفناک چیز ہے جنگ! لہٰذا اب دیکھو غدر نہ کرنا ‏بھئی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ وَمَا الْحَرْبُ إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ وَذُقْتُمُ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ اور نہیں ہے جنگ مگر وہ جس کو تم جان چکے ہو اور جس کا تم نے تجربہ کر لیا، وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَجَّمِ اور نہیں ‏ہے تمہارا جان لینا عَنْهَا اس جنگ کے بارے میں، اور جنگ کے بارے میں جو کچھ تم نے جانا ہے وہ تمہارا جاننا جو ‏ہے وہ کوئی اندازوں سے کی ہوئی بات نہیں ہے کہ جس کا تمہیں پتہ نہ ہو اور اندازوں سے کوئی بات کی جائے بلکہ ‏تمہیں تو پورا اس کا تجربہ ہو چکا ہے، اچھی طرح تم نے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے، معنی سمجھ میں آ گیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیں: اور نہیں ہے جنگ مگر وہ جس کو تم جان چکے ہو اور جس کا تم نے تجربہ کر لیا ہے اور جنگ ‏کے بارے میں جو تم کو جو کچھ تم نے جانا ہے وہ کوئی اندازوں اور گمان سے کی ہوئی بات نہیں ہے۔ مَتَى تَبْعَثُوهَا تَبْعَثُوهَا ذَمِيمَةً وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا فَتَضْرَمِ متیٰ، جب بھئی جب، اور یہ شرط کے لیے ہے یہاں۔ تبعثوھا، بعث یبعث کے معنی ہوتے ہیں بیدار کرنا، بیدار کرنا۔ بعث ‏بعد الموت آپ پڑھتے ہیں بھئی، موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا یعنی بیدار کیا جائے گا۔ اور یہ تبعثوھا جو پہلا آیا یہ ہے شرط: مَتَى تَبْعَثُوهَا، یہ ہے شرط۔ اور اگلا جو تبعثوھا آ رہا ہے یہ ہے جزا۔ اور یہ متیٰ ‏جزم دیتا ہے بھئی شرط کو بھی اور جزا۔ تو اصل میں تھا تبعثون، آخر سے جزم کی وجہ سے نون گر گیا۔ اور شرط بھی ‏مجزوم اور جزا بھی مجزوم۔ تو بعث کا کیا معنی؟ بیدار کرنا، اٹھانا۔ ذمیمۃً، ذمیمہ کہتے ہیں مذموم کو بھئی، مذموم جو ہو، قابلِ مذمت ہو۔ وتضر، ضری ‏یضری کا معنی ہے کسی چیز پر ایک چیز کا دلیر ہونا۔ کیا ہونا؟ دلیر ہونا۔ اور آگے اسی سے ہے، ضریتموھا باب تفعیل ‏میں، اب اس کا معنی ہے دوسرے کو دلیر بنانا۔ تضر کا کیا معنی؟ ضری یضری باب سمع سے ہے، خود دلیر ہونا۔ اور ‏ضری یضری معنی دوسرے کو دلیر بنانا۔ جیسے جلس کا معنی خود بیٹھنا اور باب افعال میں لے جائیں اجلس کا معنی ‏دوسرے کو بٹھانا۔ تو یہاں پر بھی بات تو اسی طرح باب تفعیل میں بھی تعدیہ کے لیے لے جاتے ہیں، تو ضری یضری کا ‏معنی خود دلیر ہونا، اور ضری یضری باب تفعیل میں لے جائیں تو دوسرے کو دلیر بنانا۔ اور خاص طور پر یہ جو باب تفعیل میں آیا دوسرے کو دلیر بنانا، کسی کام پر ابھارنا، یہ خاص طور پر زیادہ تر وہ کتے ‏کے لیے استعمال ہوتا ہے جو شکار وغیرہ کے لیے جب جائے تو اب جیسے ہی شکار نظر آتا ہے، مالک ایک خاص آواز ‏نکال کے ایک دم کتے کو چھوڑتا ہے بھئی۔ وہ دیکھو کتے کو شکار پر کیا کر رہا ہے؟ ابھار رہا ہے، دلیر بنا رہا ہے! ‏اور کتا وہ آواز سنتے ہی پھر فوراً شکار کی طرف لپکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو وہ ہے ضری یضری ‏تضریہ بھئی۔ فتضرم، ضرم یضرم کا معنی ہے آگ بھڑکنا، ضرم یضرم کا معنی آگ بھڑکنا، آگ کا شعلے مارنا۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں آ گئے؟ مَتَى تَبْعَثُوهَا تَبْعَثُوهَا ذَمِيمَةً وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا فَتَضْرَمِ مَتَى تَبْعَثُوهَا، جب تم اس جنگ کو بیدار کرو گے، تَبْعَثُوهَا تو تم اس کو بیدار کرو گے ذَمِيمَةً اس حال میں کہ وہ قابلِ مذمت ‏ہے بھئی، وہ جنگ کیا ہے؟ قابلِ مذمت ہے۔ مَتَى تَبْعَثُوهَا تَبْعَثُوهَا ذَمِيمَةً، جب تم اس جنگ کو بیدار کرو گے، تو تم اس کو بیدار کرو گے اس حال میں کہ وہ مذموم ہو ‏گی۔ وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا اور وہ جنگ جو ہے دلیر ہو جائے گی إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا جب اس کو تم دلیر بناؤ گے، فَتَضْرَمِ تو اس ‏کی آگ بھڑکنے لگے گی، اس کے شعلے بھڑکنے لگیں گے۔ وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا، اور جب تم اس کو دلیر کرو گے، إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا جب تم اس کو دلیر کرو گے تو تَضْرَ وہ دلیر ہو ‏گی، یعنی یوں کہو: جب تم اس کو بھڑکاؤ گے تو وہ بھڑکے گی فَتَضْرَمِ تو پھر اس کی وہ جو آگ ہے وہ شعلے مارنے ‏لگے گی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ اور وَتَضْرَ، یہ بھی مجزوم ہے، اس کا عطف بھی اس جزا پر ہے اور جزا مجزوم تھی، تو یہ تضر بھی کیا ہے؟ مجزوم ‏ہے۔ ضری یضرا، آخر میں الف تھا اور آپ نے پڑھا ہے کہ ناقص افعال جو ہیں جن کے آخر میں الف، واؤ یا یا ہو تو ‏مجزوم ہونے کی حالت میں وہ واؤ، الف اور یا آخر سے گر جاتے ہیں، تو یہاں سے بھی الف گرا ہے۔ اسی طرح فَتَضْرَمِ، ‏اس کا بھی عطف اسی پر ہے اس لیے یہ بھی مجزوم ہے، اور حرکت دی گئی میم کو ضرورت کی بنا پر، اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ ‏حُرِّكَ بِالْكَسْرِ اسی لیے کسرہ کی حرکت دی گئی۔ اور یہ افعال سارے آگے جو آ رہے ہیں دیکھو:‏ فَتَعْرُكْكُمْ وَتَلْقَحْ ثُمَّ تُنْتَجْ فَتُتْئِمِ فَتُنْتِجْ ثُمَّ تُرْضِعْ فَتَفْطِمِ یہ سارے مجزوم ہیں، ان سب کا عطف وہ تبعثوھا وہ جو جزا تھی اس پر ہے۔ اور جزا تھی مجزوم، تو معطوف کا وہی ‏حکم ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ معطوف علیہ کا، تو یہ سب بھی مجزوم ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ مَتَى تَبْعَثُوهَا تَبْعَثُوهَا ذَمِيمَةً وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا فَتَضْرَمِ جب تم اس جنگ کو بیدار کرو گے تو وہ بیدار ہو گی اس حال میں کہ وہ قابلِ مذمت ہو گی یعنی تم مذمت والا کام کرو گے، ‏وَتَضْرَ إِذَا ضَرَّيْتُمُوهَا فَتَضْرَمِ اور وہ آگ جو ہے وہ بھڑکنے لگے گی جب تم اس کو بھڑکاؤ گے، فَتَضْرَمِ تو اس کی آگ جو ‏ہے وہ شعلے مارنے لگے گی۔ فَتَعْرُكْكُمْ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا وَتَلْقَحْ كِشَافاً ثُمَّ تُنْتَجْ فَتُتْئِمِ فَتَعْرُكْكُمْ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا تو یہ آپ کی کتابوں میں فتعرکُ، پہلے کاف پر ضمہ ہو گا، اس کو جزم کے ساتھ، سکون کے ساتھ بدل دیں، یہ مجزوم ہے ‏اور یہ اور آگے آنے والے افعال ان کا عطف ہے جزا پر بھئی، جزا جو پیچھے آئی تھی تبعثوھا، یہ جو دوسرا تبعثوھا آیا ‏یہ ہے جزا اور یہ مجزوم ہے تو اس پر جس کا عطف ہو گا وہ بھی مجزوم۔ فَتَعْرُكْكُمْ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا عرک یعرک کے معنی ہیں پیسنا بھئی۔ پیسنا۔ پیسنا۔ جیسے چکی میں دانے وغیرہ پیسے جاتے ہیں۔ عَرَّتِ الرَّحَى، یہ مفعول ‏مطلق ہے۔ یہ مَرَحَى چکی کو کہتے ہیں بھئی، چکی کا پیسنا۔ بِثِفَالِهَا، ثِفَال جو ہے یاد رکھیے، یہ جب دانے وغیرہ پیستے ہیں چکی میں تو یہ اس کے نیچے کپڑا یا چمڑا بچھایا جاتا ہے ‏تاکہ جو دانے پستے جا رہے ہیں وہ ان کا آٹا وغیرہ وہ اس کپڑے پر یا اس چمڑے پر جمع ہوتا ہے، اس پر گرتا ہے۔ اس ‏کو ثِفَال کہتے ہیں، ثِفَال۔ اور یہ عام ویسے نہیں بچھایا جاتا، یہ خاص طور پر جب دانے وغیرہ پیسنے ہوں تب بچھایا جاتا ‏ہے بھئی چکی کے نیچے۔ بِثِفَالِهَا میں یہ با جو ہے، یہ با بمعنی مَعَ کے ہے اَیْ مَعَ ثِفَالِهَا، مَعَ ثِفَالِهَا۔ عَرَّتِ الرَّحَى مَعَ ثِفَالِهَا۔ وَتَلْقَحْ، لَقَحَ يَلْقَحُ کے معنی ہیں اونٹنی کا حاملہ ہونا، اونٹنی کا حاملہ ہونا۔ اور كِشَافًا، كِشَافًا، تَلْقَحِ كِشَافٍ کہتے ہیں کہ اونٹنی ایک مرتبہ بچوں کو جنم دینے کے بعد پھر دوبارہ اسی سال حاملہ ہو ‏جائے، فوراً ہی کیا ہو جائے حاملہ ہو جائے۔ تو اس کو کہتے ہیں تَلْقَحِ كِشَافٍ بھئی۔ اور یہ پسندیدہ نہیں کیونکہ ابھی بچوں کو اس نے جنم دیا ہے اور اب کم از کم ایک سال وقفہ ہونا چاہیے تاکہ وہ بچوں کو ‏دودھ پلائے اور اس کی جو کمزوری ہے وہ کمزوری دور ہو جائے۔ تو اب دوبارہ جب حاملہ ہو گی تو کمزور ہے، اب جو ‏بچوں کو پھر جنم دے گی تو وہ بچے بڑے ہی کمزور ہوں گے۔ تو یہ پسندیدہ نہیں کہ بچوں کو جنم دیتے ہی پھر اس کو کیا ‏کروا لیا جائے حاملہ کروا لیا جائے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو یہ ہے تَلْقَحِ كِشَافٍ بھئی۔ تو كِشَاف کا معنی سمجھ میں آیا کہ اونٹنی ایک مرتبہ بچوں کو جنم دینے کے بعد پھر کیا کروا لیا جائے؟ حاملہ۔ اچھا! تو تَلْقَحِ كِشَافٍ کا کیا معنی ہوا؟ کہ ایک سال کے بعد بچوں کو جنم دیتے اونٹنی کا دوبارہ اگلے سال میں پھر حاملہ ہو ‏جانا۔ اور جبکہ علامہ زوزنی جو ہیں وہ فرماتے ہیں اسی یہ جو مکتبۃ البشرىٰ کی کتاب ہے اس کے نیچے جو حاشیہ شرح ہے ‏یہ علامہ زوزنی کی ہے۔ انہوں نے اس کو ذکر کیا ہے بھیڑ وغیرہ کے لیے۔ یعنی بھیڑ وغیرہ جو ہے وہ چھ ماہ میں بچے ‏کو اس نے جنم دے دیا تو اب اس میں پسندیدہ یہ ہے کہ چھ ماہ کا وقفہ ہو تاکہ وہ بچوں کو دودھ پلا لے پھر اس کے بعد ان ‏بھیڑ بکریوں کو حاملہ کروایا جائے۔ لیکن ایک دفعہ بچوں کو جنم دیتے ہی پھر فوراً ان کا حاملہ کروا لینا یہ کیا ہے تَلْقَحِ ‏كِشَافٍ۔ تو اس صورت میں معنی ہو جائے گا سال میں دو مرتبہ حاملہ ہونا۔ اونٹنی ایک سال میں بچے کو جنم دیتی ہے تو ‏اس کے لیے بہتر کیا تھا؟ کہ ایک ایک سال کا وقفہ ہو لیکن تَلْقَحِ كِشَافٍ کی صورت میں معنی کیا بن جائے گا کہ اونٹنی کا ‏مسلسل اگلے سال میں دوبارہ حاملہ ہو جانا۔ یعنی دو سال میں دو مرتبہ حاملہ ہونا، اور بھیڑ بکری ہو تو ایک سال میں ایک ‏سال میں دو مرتبہ حاملہ ہونا۔ ثُمَّ تُنْتَجْ، یہ مجہول ہے بھئی تُنْتَجْ۔ اور ایک ہے نُتِجَ يُنْتَجُ اور ایک ہے أَنْتَجَ يُنْتِجُ۔ نُتِجَ يُنْتَجُ مجہول استعمال ہوتا ہے یوں کہ ‏حیوان سے بچہ جنوانا یعنی کوئی اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی انسان وہاں موجود ہو۔ حیوان بچے کو جنم دے رہا ہے، ‏کوئی خیال رکھنے والا گھر والوں میں سے وہاں پر موجود ہو اس کا خیال رکھنے والا، تو اس کے لیے کہتے ہیں اس کے ‏لیے مجہول مجرد سے استعمال کرتے ہیں بھئی نُتِجَ يُنْتَجُ نِتَاجًا بھئی۔ اور أَنْتَجَ بابِ افعال استعمال کرتے ہیں جب اس کے پاس کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو۔ أَنْتَجَتِ النَّاقَةُ، اونٹنی نے خود ہی ‏بچے کو جنم دیا یعنی کوئی اس کا خیال رکھنے والا اس کے پاس نہیں تھا۔ تو بہرحال یہاں دونوں بچہ جننے کے معنی میں ‏ہے۔ فَتُتْئِمِ، فَتُتْئِمِ، أَتْأَمَ يُتْئِمُ کے معنی ہیں جڑواں بچوں کو جنم دینا۔ أَتْأَمَ يُتْئِمُ جڑواں بچوں کو جنم دینا۔ جڑواں بچوں کو کیا کہتے ‏ہیں؟ تَوْأَمَيْنِ بھئی، تَوْأَمَيْنِ۔ اور دو ہیں نا اس لیے تثنیہ ہے تَوْأَمَيْنِ، تو ان میں سے ہر ایک جڑواں بچوں میں سے ہر ایک ‏کو کیا کہیں گے؟ تَوْأَمٌ، تَوْأَمٌ۔ فَتَعْرُكْكُمُ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا وَتَلْقَحْ كِشَافًا ثُمَّ تُنْتَجْ فَتُتْئِمِ۔ فَتَعْرُكْكُمُ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا، پس یہ جنگ جو ہے تم کو پیس ڈالے گی ‏عَرْكَ الرَّحَى کس کی طرح؟ چکی کے پیسنے کی طرح، بِثِفَالِهَا ساتھ اپنے اس چمڑے اور کپڑے کے۔ اور خاص طور پر اس کپڑے اور چمڑے کو ساتھ ذکر کیا کیونکہ وہ عام حالت میں چکی کے ساتھ بچھایا ہی نہیں جاتا، وہ ‏اسی وقت بچھایا جاتا ہے جب مقصد کیا ہو؟ دانوں کو پیسنا ہو۔ تو وہ جنگ جو ہے بھڑک اٹھے گی فَتَعْرُكْكُمُ عَرْكَ الرَّحَى پس وہ تم کو چکی کے پیسنے کی طرح پیس کر رکھ دے گی ‏بِثِفَالِهَا ساتھ اپنے چمڑے کے، یوں ترجمہ کرو: تو وہ تمہیں پیس ڈالے گی جیسے کہ چکی پیستی ہے بِثِفَالِهَا ساتھ اپنے ‏چمڑے کے۔ وَتَلْقَحْ كِشَافًا اور یہ جنگ جو ہے، یہ حاملہ ہو گی كِشَافًا مسلسل بھئی۔ مسلسل دوسرے سال میں پھر کیا ہو جائے گی؟ حاملہ ہو جائے گی۔ یا وہ بھیڑ بکریوں کے اعتبار سے ترجمہ کریں وَتَلْقَحْ ‏كِشَافًا اور یہ سال میں دوسری مرتبہ حاملہ ہو جائے گی۔ ثُمَّ تُنْتَجْ پھر یہ بچوں کو جنم دے گی، فَتُتْئِمِ تو کس طرح کے بچے ‏پیدا کرے گی؟ جڑواں بچے پیدا کرے گی۔ جنگ کی ہولناکی بیان کر رہا ہے، لوگوں کو غدر سے روک رہا ہے کہ دیکھو ‏اگر کسی نے دل میں کینہ چھپایا ہے، کوئی شرارت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو شرارت نہ کرنا بھئی۔ جنگ کا تم تجربہ ‏کر چکے ہو کتنی ہولناک چیز ہے جس کے اندر عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں، بچے یتیم ہو جاتے ہیں، خاندان اجڑ جاتے ہیں ‏اور بڑی مشکلات اور تکالیف آتی ہیں تو دیکھو جنگ کو نہ بھڑکانا، شرارت نہ کرنا، جنگ بہت خوفناک چیز ہے۔ وہ ‏تمہیں اسی طرح پیس ڈالے گی جس طرح چکی جو ہے اپنے چمڑے کے اوپر چیزوں کو پیس کر باہر پھینک دیتی ہے اور ‏پھر یہ جنگ کی ہولناکی اور اس سے پھیلنے والے شر مسلسل بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں جیسے ایک بچے کو جنم دیتے ‏ہی یعنی ایک شر کو پیدا کرتے ہی جنگ پھر حاملہ ہو کر دوسرے شر کو جنم دے گی اور وہ شر بھی ایسا نہیں ہو گا کہ ‏ایک ہی شر بلکہ جڑواں بچوں کو جنم دے گی، تو دو چیزوں کے لیے جنگ کی ہولناکی بیان کی۔ ایک تو یہ کہ سال میں ‏کتنی دفعہ حاملہ ہو گی؟ دو مرتبہ بھئی، دو شر پیدا کرے گی اور وہ شر بھی کس طرح کے ہوں گے؟ جڑواں ہوں گے۔ بس صرف ہولناکی بیان کرنا چاہتا ہے، بیان یہ معنی نہیں کہ سال میں جنگ دو شر پیدا کرے گی، نہیں! معنی یہ جنگ ‏سے شر پھیلتے ہی چلے جائیں گے، بڑھتے ہی چلے جائیں گے، ایک کے بعد ایک شر پیدا ہو گا اور ہر شر دوسرے شر ‏سے بڑھ کر ہولناک ہو گا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ فَتَعْرُكْكُمُ عَرْكَ الرَّحَى بِثِفَالِهَا وَتَلْقَحْ كِشَافًا ثُمَّ تُنْتَجْ فَتُتْئِمِ، پس وہ جنگ تمہیں پیس کر رکھ دے گی اسی طرح جیسے کہ چکی ‏پیستی ہے اپنے چمڑے کے ساتھ۔ وَتَلْقَحْ كِشَافًا ثُمَّ تُنْتَجْ فَتُتْئِمِ، اور یہ سال میں دو مرتبہ حاملہ ہو گی۔ ثُمَّ تُنْتَجْ پھر یہ بچے ‏جنے گی فَتُتْئِمِ تو جڑواں بچے جنے گی، جڑواں بچوں کو جنم دے گی۔ یا یوں معنی کر لیں اونٹنی کے اعتبار سے اگر وہ جنہوں نے اس کا ترجمہ کیا کیا تَلْقَحْ كِشَافٍ کا کیا معنی؟ اونٹنی کا اگلے ‏سال میں دوبارہ حاملہ ہونا۔ اور تو یہ ایک سال کے بعد اگلے سال میں دوبارہ پھر حاملہ ہو گی یعنی بغیر وقفے کے، اس ‏کے جنگ کے شر میں کوئی کمی نہیں آئے گی، ایک شر کے بعد ساتھ ہی دوسرا شر آ جائے گا بھئی۔ ثُمَّ تُنْتَجْ پھر یہ جنم ‏دے گی تو فَتُتْئِمِ کس طرح کے بچوں کو جنم دے گی؟ جڑواں بچوں کو یعنی شر بڑھتا ہی چلا جائے گا، رکے گا نہیں۔ فَتُنْتِجْ لَكُمْ غِلْمَانَ أَشْأَمَ كُلُّهُمْ كَأَحْمَرِ عَادٍ ثُمَّ تُرْضِعْ فَتَفْطِمِ۔ فَتُنْتِجْ لَكُمْ، أَنْتَجَ يُنْتِجُ میں نے ابھی معنی بیان کر دیا۔ بچوں کو جنم دینا۔ غِلْمَان، غِلْمَان جمع ہے غُلَام کی اور غلام جیسے عام غلام کو کہتے ہیں اور اسی طرح لڑکے کو بھی کہتے ہیں بھئی ‏لڑکے کو، یہاں لڑکے کے معنی میں ہے یہ، جمع ہے غلام کی۔ أَشْأَمَ، أَشْأَمَ یہ اسم تفصیل کا صیغہ ہے، اسم تفصیل أَشْأَمَ۔ لیکن شارحین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ أَشْأَمَ یہاں شُؤْمٌ مصدر کے معنی میں ہے یعنی اسم تفصیل نہیں ہے بلکہ یہ دراصل ‏کیا ہے؟ مصدر ہے، تو صیغہ کون سا؟ اسم تفصیل والا لیکن استعمال کس معنی میں کر لیا؟ مصدر کے معنی میں، تو یہ ‏أَشْأَمَ بمعنی شُؤْمٌ کے ہے بھئی، منحوس ہونا، نحوسات کے معنی میں ہے۔ اور اسی وجہ سے حالانکہ اسم تفصیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں: یا الف لام کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ یا مِنْ کے ‏ساتھ، تو یہاں نہ تو الف لام ہے، نہ اضافت ہے اور کہتے ہیں مِنْ کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اسم تفصیل اپنے معنی ‏میں ہے ہی نہیں، یہ تو کس معنی میں ہے؟ مصدر کے معنی میں ہے۔ اور یاد رکھیے غِلْمَانَ أَشْأَمَ، بعض شارحین نے لکھا ‏کہ یہ غِلْمَان یہاں غیر منصرِف ہے۔ کیا ہے؟ غیر منصرِف ہے اور أَشْأَم اس کی صفت ہے۔ توجہ ہے؟ بعض شارحین نے ‏کیا لکھا؟ یہ غِلْمَان غیر منصرِف ہے اور أَشْأَم اس کی صفت ہے۔ بھئی غیر منصرِف یہ کیسے؟ دو سبب کون سے؟ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ ضرورتِ شعری کی بنا پر اس کو غیر ‏منصرِف پڑھا گیا، اس میں دو سبب نہیں ہیں لیکن اگر اس کو منصرِف پڑھیں تو تنوین آتی ہے اور تنوین کی وجہ سے ‏شعر کا وزن صحیح نہیں رہتا لہٰذا یہ ہے تو اصل میں منصرِف لیکن اس کو کیا پڑھ دیا گیا اس شعر میں؟ غیر منصرِف ‏پڑھ دیا گیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں بھئی، درست نہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شعر کے اندر بہت سی ایسی چیزیں جائز ہوتی ہیں ‏جو عام کلام میں جائز نہیں اور اس کو کہتے ہیں ضرورتِ شعری، کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ شعر کے اپنے اوزان ہوتے ہیں، ‏ایک حرف بھی اگر اپنی جگہ سے ادھر ادھر ہو جائے تو سارے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے اور وہ شعر شعر رہتا ہی ‏نہیں ہے اور جو اس کا ذوق رکھتے ہیں وہ فوراً پہچان لیں گے بھئی کہ یہ تو شعر کا وزن ہی نہیں ہے، یہ کیسا شعر ہے!‏ تو ضرورتِ شعری کی بنا پر اشعار میں بہت سے ایسے امور کا ارتکاب جائز ہے جن کا عام کلام میں ارتکاب جائز نہیں، ‏ان میں سے ایک چیز ہے کہ غیر منصرِف کو کیا پڑھ دیا جائے؟ منصرِف۔ کیا کر دیا جائے؟ تھا تو لفظ غیر منصرِف، ‏لفظ تو غیر منصرِف ہیں، دو اسباب موجود ہیں لیکن اس کو کیا پڑھ دیا گیا؟ منصرِف۔ کیونکہ منصرِف پڑھیں گے تو تنوین آ جائے گی اور تنوین کس کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا، ایک حرف بڑھ جائے گا، شعر ‏کا وزن ٹھیک ہو جائے گا اور اگر وہ حرفِ ساکن بیچ میں نہیں آتا تو شعر کا وزن خراب رہتا ہے۔ اور اس کی مثالیں ‏پیچھے بھی گزر چکی ہیں بھئی، جیسے مشہور شعر ہے: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا، أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا، حضرت امامِ اعظم ابو ‏حنیفہ رحمہ اللہ نعمان ان کا نام ہے بھئی۔ اور یہاں ان کا نام ہے تو علمیت بھی ہے الف نون بھی ہے بھئی۔ نعمان تو غیر ‏منصرف ہے لیکن ضرورت شعری کی بنا پر اس کو کیا پڑھا گیا؟ منصرف۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ضرورت کی بنا پر شے کو اصل کی طرف لوٹانا تو ٹھیک ہے، خلاف الاصل لے جانا ٹھیک ‏نہیں ہے۔ ضابطہ کیا ہے؟ ضرورت کی بنا پر کسی شے کو اس کی اصل کی طرف لوٹانا تو ٹھیک ہے، خلاف الاصل کی طرف ‏لے جانا ٹھیک نہیں۔ اور اپ مجھے بتائیے، اسم کے اندر اصل منصرف ہونا ہے یا غیر منصرف ہونا؟ منصرف ہونا۔ اسم ‏میں اصل کیا ہے؟ منصرف ہونا۔ غیر منصرف ہونا خلاف الاصل ہے۔ اسی لیے تو اس کے لیے پھر اپ دو سبب تلاش ‏کرتے ہیں، دو سبب ہوں گے تو غیر منصرف ہے، دو سبب نہیں تو غیر منصرف نہیں، منصرف ہونے کے لیے اپ کو ‏علت نہیں تلاش کرتے لیکن غیر منصرف ہونے کے لیے علت اور دو سبب چاہیے بھئی کیونکہ وہ غیر منصرف ہونا یہ ‏خلاف الاصل ہے۔ تو ضرورت شعری کی بنا پر چیز کو اصل کی طرف لوٹانا تو صحیح، یعنی غیر منصرف کو لوٹا دیا کس کی طرف؟ ‏منصرف، کیونکہ منصرف ہونا کیا ہے؟ اصل ہے۔ تو خلاف الاصل کو کس کی طرف لے گئے؟ اصل کی طرف واپس ‏لے گئے، یہ تو جائز ہے شعر کے اندر، لیکن منصرف کو نکال کر کدھر چلے گئے؟ غیر انصراف کی طرف، یہ درست ‏نہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ غلمان، اصل میں تو کیا ہے؟ منصرف، لیکن ضرورت شعری کی بنا پر اس کو کیا پڑھ دیا گیا؟ غیر ‏منصرف، یہ درست نہیں، یہ غیر منصرف نہیں ہے، یہ منصرف ہی ہے، منصرف ہی ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ اور یہ منصوب ہے، کیونکہ یہ مفعول بن رہا ہے ف تنتج لكم۔ جنگ پیدا کرے گی، کیا پیدا کرے گی؟ ‏غلمانا، لڑکے۔ معنی سمجھ میں ا رہا ہے؟ پھر اس پر سوال پیدا ہوتا ہے اگر یہ منصرف ہے تو اس پر تنوین کیوں نہیں آئی؟ تو وجہ یہ کہ یہ مضاف ہے اشام کی ‏طرف اور مضاف پر تنوین نہیں اتی بھئی، تنوین نہیں اتی۔ اور اشام یہ مضاف الیہ ہے، مضاف الیہ ہے اور یہ مجرور ہے لیکن یہ غیر منصرف ہے اور غیر منصرف کا کسرہ آتا ‏ہی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں آتا ہے بھئی فتحہ۔ کیونکہ ایک وزن فعل ہے اور ایک وصَفیت ہے بھئی، ‏وصف ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو یہ غلمان مضاف ہے اشام کی طرف اور جیسا کہ علامہ ابن الانباری رحمہ اللہ نے اپنی شرح میں ‏لکھا ہے جو کہ یہ یہ سبع معلقات کی قدیم ترین شروحات میں سے ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں اگیا؟ كأحمر عاد احمرِ عاد، یاد رکھو یہ عاد سے یہاں قوم ثمود مراد ہے۔ ایک قوم عاد ہے، ایک قوم ثمود۔ قوم عاد پہلے گزری اور یہ ‏حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے۔ اور ان کے تقریباً سو سال بعد یہ قوم ثمود کا زمانہ ہے اور قوم ثمود یہ حضرت صالح ‏علیہ السلام کی قوم تھی اور اسی میں ان قوم والوں کے مطالبے پر حضرت صالح علیہ السلام کی دعا سے پہاڑ سے اونٹنی ‏نکلی۔ تو وہ پہاڑ سے اونٹنی نکلی اور حضرت صالح علیہ السلام نے ان کو ان کا جو جس طرح کا معجزہ وہ مانگ رہے تھے ‏وہ ان کو دکھلا دیا لیکن وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ تو حضرت صالح علیہ السلام فرمانے لگے کہ تم دیکھو ایمان تو نہیں ‏لائے ہو، لیکن دیکھو خبردار اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچانا۔ پھر وہ اونٹنی بہت بڑی تھی، بڑے ڈیل ڈول والی تھی، وہ جس چراگاہ کا رخ کرتی تھی باقیوں کے مویشی وغیرہ وہاں ‏سے ڈر کر بھاگ جاتے تھے بھئی۔ اور پھر وہ کنویں پر پانی پینے آتی تو سارا پانی پی جاتی بھئی کنویں کا۔ چنانچہ باری ‏مقرر کر دی گئی، ایک دن وہ اونٹنی پانی پیے گی اور ایک دن ان کے حیوانات وغیرہ پانی پییں گے۔ تو وہ قوم والے کہنے لگے اس اونٹنی تو ہمیں اس اونٹنی نے تو ہمیں تکلیف میں ڈال دیا۔ چنانچہ انہوں نے مشورہ کیا اور ‏ان میں سے ایک شخص جو تھا اس کا نام تھا قدار ابن سالف بھئی، اس بدبخت نے جا کر اس اونٹنی کو کیا کر دیا؟ قتل کر ‏دیا بھئی۔ تو قدار ابن سالف اس کا نام تھا اور احمر اس کا لقب تھا، تو یہ كأحمر عاد جو شعر کے اندر آیا تو احمرِ عاد سے وہ شخص ‏مراد ہے جس نے اونٹنی کو قتل کیا۔ تو احمرِ عاد سے قوم ثمود کا وہ شخص مراد ہے جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دیا تھا۔ شارحین ‏نے اس مقام پر کلام کیا ہے اور کہا ہے امام اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ سے غلطی ہو ‏گئی۔ یہ احمر جو ہے یہ تو قوم ثمود میں گزرا ہے، وہ اونٹنی جو تھی وہ قوم ثمود کے لیے بھیجی گئی تھی، قوم عاد کے ‏لیے نہیں۔ تو یہاں شاعر سے کیا ہو گئی؟ غلطی ہو گئی۔ جبکہ بعض شارحین پھر جواب دیتے ہیں کہتے ہیں نہیں، غلطی نہیں ہوئی، یہ بات چونکہ سب لوگوں کو معلوم تھی کہ وہ ‏اونٹنی کس کی طرف بھیجی گئی ہے؟ قوم ثمود کی طرف اور احمر کس قوم کا آدمی تھا؟ قوم ثمود کا، چونکہ یہ بات سب ‏کو معلوم تھی، لیکن اس قوم ثمود کو ذکر کرنے کے بجائے شاعر نے عاد کہہ دیا وسعت سے کام لیتے ہوئے۔ وسعت سے کام لیتے ہوئے اس لیے کیونکہ وزن شعری کے اندر ثمود لفظ لانے کی گنجائش نہیں تھی، اگر قوم ثمود کا لفظ ‏یہاں لایا جاتا تو پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا۔ اس لیے شاعر نے وسعت سے کام لیتے ہوئے اشارہ تو قوم ثمود ہی ‏کی طرف کیا لیکن لفظ کیا استعمال کر لیا؟ عاد کا، اور چونکہ یہ بات سب کو معلوم تھی اور وہ دونوں قوموں کا زمانہ بھی ‏بڑا قریب قریب کا ہے، میں نے بتلایا صرف سو سال کا فرق ان دونوں کے درمیان اور ان کے اخلاق و کردار بھی ایک ‏جیسے تھے، اس لیے بولا تو عاد لیکن مراد کیا ہے؟ ثمود ہے۔ جبکہ امام مبرد رحمہ اللہ نے عجیب جواب دیا، وہ فرماتے ہیں نہیں، یہ شاعر سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، یہ عربی زبان ‏کا فصیح و بلیغ شاعر ہے، یہ قوم ثمود کو قوم عاد کہہ رہا ہے، معلوم ہوا قوم ثمود کو بھی قوم عاد کہتے ہیں۔ قوم ثمود کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اور دلیل ان کی یہی شعر ہے کہ كأحمر عاد کہ عربی زبان کے شاعری کا بے تاج بادشاہ ‏وہ قوم ثمود کے لیے لفظ عاد بول رہا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قوم ثمود کے لیے کیا لفظ بولا جاتا ہے؟ عاد کا لفظ ‏بھی بولا جاتا ہے۔ اور پھر قرآن سے بھی دلیل ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں عاد دراصل دو ہیں بھئی، قرآن میں عادِ اولیٰ کا ‏ذکر آیا ہے کہ نہیں؟ قرآن میں عادِ اولیٰ، معلوم ہوا جو حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد تھی وہ عادِ اولیٰ ہے اور یہ جو ‏ثمود ان کے بعد آئی حضرت صالح علیہ السلام کی قوم، اس کو بھی قوم عاد کہتے ہیں لیکن یہ عادِ ثانیہ ہے یا عادِ اخیرہ ‏ہے یا عادِ آخرہ ہے، دوسری عاد ہے۔ معنی سمجھ میں اگیا؟ تو یہ عاد اس کا بھی نام ہے۔ تو دلیل میں وہ یہی شعر ذکر ‏کرتے ہیں۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ تو میں اسی لیے کہہ رہا تھا کہ یہ اشعار بہترین زبردست یاد کریں بھئی، یہ اس میں ایک ایک ‏شعر کے اندر جو بات ذکر کی گئی ہے وہ ایک دلیل کی طرح مضبوط چیز ہے، اس کو اپ کہیں پر بھی پیش کر سکتے ‏ہیں بطور دلیل کے بھئی۔ اچھا، ارضع یرضع کے معنی دودھ پلانا، ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔ فطم یفطم کے معنی ہیں بچے کا دودھ چھڑانا۔ تو شاعر کہتا ہے فتنتج لكم غلمانا اشاما، پھر یہ جنگ تمہارے لیے جنم دے گی غلمانا اشاما، ای غلمانا شؤم، نحوسات کے ‏لڑکوں کو۔ یہ جنگ تمہارے لیے نحوسات کے لڑکے پیدا کرے گی، كلهم كأحمر عاد، وہ سارے کے سارے قوم ثمود کے ‏احمر جیسے ادمی کی طرح ہوں گے۔ یعنی وہ کتنا منحوس تھا کہ اس کی وجہ سے اس نے اونٹنی کو قتل کیا اور پھر ‏پوری اس قوم کو تباہ کر دیا گیا بھئی، تو وہ جنگ تمہارے لیے جنم دے گی غلمانا اشام، نحوسات کے ایسے لڑکوں کو کہ ‏ان میں سے ہر ایک جو ہے كأحمر عاد، وہ قوم ثمود کے احمر جیسے شخص کی طرح کا ہو گا، ثم ترضع، پھر جنگ جو ‏ہے ان کو دودھ پلائے گی ان لڑکوں کو، فتفطم، پھر ان کا دودھ چھڑائے گی۔ پھر یہ جنگ ان کو دودھ بھی پلائے گی اور ان کو دودھ بھی چھڑائے گی، یعنی یہ جنگ نحوسات اور شر اس سے پیدا ہوں ‏گے اور پھر وہ شر کوئی چھوٹے موٹے شر نہیں ہوں گے بلکہ جنگ ان کی پوری تربیت کرے گی اور ان کو بھی اسی ‏طرح منحوس بنا کر پھر ان کو چھوڑے گی بھئی، معنی سمجھ میں اگیا؟ ان کو بھی انہی کی طرح منحوس بنا دے گی۔ معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ فتنتج لكم غلمانا اشاما كلهم كأحمر عاد ثم ترضع فتفطم، پس وہ جنگ تمہارے لیے پیدا کرے گی ‏نحوسات کے لڑکوں کو کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ قوم عاد کے احمر جیسے شخص کی طرح کا ہو گا، ثم ترضع، ‏پھر وہ جنگ ان کو دودھ پلائے گی، فتفطم، پھر دودھ چھڑائے گی، یعنی کامل تربیت کرے گی اور ان کو بھی دوسروں کی ‏طرح منحوس بنا دے گی بھئی۔ معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ تو ان اشعار میں بس وہ جنگ کی ہولناکیاں بیان کر رہا ہے، اس کی تباہ کاریاں ذکر کر رہا ہے ‏اور لوگوں کو منع کر رہا ہے دیکھو صلح ہو گئی، معاہدے ہو گئے، قسمیں کھا لیں، دیتیں ادا کر دی گئیں، اب تم میں سے ‏کوئی شر نہ پھیلائے، یہ نہ ہو کسی ایک کے شر پھیلانے کی وجہ سے پھر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں اور پھر وہی ‏تباہ کاریاں اور ہولناکیاں ہر طرف پھیل جائیں اور پھر یہ کسی کے بس میں نہیں رہتا، جنگ کی ہولناکیاں بڑھتی چلی ‏جاتی ہیں اور ہر روز نئے سے نیا شر اس سے پیدا ہوتا ہے اور اس شر کی ہولناکی پہلے سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور وہ ‏شر پھیلتا ہی چلا جاتا ہے اور قبیلے کے قبیلے اس کے اندر ملیا میٹ ہو جاتے ہیں، ختم ہو جاتے ہیں، دیکھو غدر نہ کرنا، ‏معاہدہ کر لیا ہے اب اس معاہدے پر قائم رہنا بھئی۔ معنی سمجھ میں اگیا؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ ‏الکلام۔
62 approved lectures · 34 of 62