Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-022

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 157
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَعَنَّ لَنَا سِرْبٌ كَأَنَّ نِعَاجَهُ عَذَارَى دَوَارٍ فِي مُلاَءٍ مُذَيَّلِ فَأَدْبَرْنَ كَالْجِزْعِ الْمُفَصَّلِ بَيْنَهُ بِجِيدٍ مُعَمٍّ فِي الْعَشِيرَةِ مُخْوَلِ فَأَلْحَقَنَا بِالْهَادِيَاتِ وَدُونَهُ جَوَاهِرُهَا فِي صُرَّةٍ لَمْ تُزَيَّلِ امرؤ القیس اپنے گھوڑے کی صفات ذکر کر رہا ہے کہ وہ بڑا ہی تیز رفتار ہے، اور اتنا زوُراور گھوڑا ہے کہ کوئی عام ‏آدمی اسے قابو نہیں کر سکتا۔ وہ اسی طرح تیز رفتار ہے جیسے بچے کی پھرکی ہوتی ہے، اور وہ دبلے جسم والا ہے، ہرن کی طرح اس کا پیٹ اندر ‏کو ہے، اور شتر مرغ کی طرح اس کی سیدھی پنڈلیاں ہیں، اور وہ کبھی لومڑی کے مثل تیز رفتار سے دوڑتا ہے اور ‏کبھی بھیڑیے کے مثل آہستہ رفتار سے دوڑتا ہے، یعنی اس کے دوڑنے کے مختلف انداز ہیں۔ اور وہ بڑے بھاری سینے والا ہے، مضبوط پسلیوں والا ہے، اور اگر آپ اس کو پیچھے سے دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ ‏اس کی دم جو ہے وہ خوب بالوں سے بھری ہوئی ہے اور زمین کے قریب تک پہنچی ہوئی ہے، اور نیز وہ دم کو ٹیڑھا ‏کر کے بھی نہیں رکھتا، یعنی اس میں اور کوئی عیب نہیں ہے۔ اور نیز اس کی کمر گوشت سے پر اور ایسی ہموار ہے جیسے کہ دلہن کی خوشبو پیسنے والی سل ہو یا جیسے حنظل کے ‏بیج پیسنے والی سل ہو، اور اس گھوڑے کے سینے پر جنگلی گائے کا خون اسی طرح چمک رہا ہے جس طرح کہ کنگھی کیے ہوئے سفید بالوں ‏میں مہندی کا عرق چمکتا ہے۔ آگے کہتا ہے: فَعَنَّ لَنَا سِرْبٌ كَأَنَّ نِعَاجَهُ عَذَارَى دَوَارٍ فِي مُلاَءٍ مُذَيَّلِ عَنَّ، عَنَّ يَعِنُّ کے معنی ہوتے ہیں: سامنے آنا، ظاہر ہونا، دکھائی دینا۔ عَنَّ يَعِنُّ۔ سِرْبٌ، سِرْبٌ یہ ہرن یا اسی طرح جنگلی گائے یا گھوڑے وغیرہ، ان کے گلے کو کہتے ہیں، ریوڑ کو بھئی، ان کا گلہ اور ‏ریوڑ جو ہو، یا اسی طرح عورتوں کی جماعت ہو اس کو بھی سِرْبٌ کہتے ہیں۔ اور یہاں مراد سِرْبٌ سے ہے جنگلی گائے ‏جو ہیں ان کا ریوڑ مراد ہے۔ كَأَنَّ نِعَاجَهُ، نِعَاجٌ جمع ہے نَعْجَةٌ کی بھئی، نَعْجَةٌ۔ اور نَعْجَةٌ بھیڑ کو بھی کہتے ہیں اور جنگلی گائے کو بھی، اور اسی طرح ‏پہاڑی بکرے وغیرہ جو ہیں ان کو بھی کہتے ہیں، لیکن یہاں اس سے مراد جنگلی گائے ہے بھئی، جنگلی گائے۔ عَذَارَى جمع ہے عَذْرَاءُ کی، جی یہ کہاں لفظ آیا؟ فظل العذارى يرتمين بلحمها وشحم كهداب الدقس المفتل۔ دَوَارٍ، دَوَارٌ دور سے ہے بھئی، دور کا معنی ہے چکر بھئی، چکر لگانا۔ چکر لگانا، اور دَوَارٌ وہ پتھر جس کے گرد لوگ ‏چکر لگاتے طواف کرتے۔ بھئی جاہلیت کا زمانہ تھا، بت پرستی کا زمانہ تھا، تو عرب لوگ بعض اوقات ویسے تو بیت ‏اللہ کا طواف کرتے، بعض لوگ بتوں کا بھی طواف کرتے، تو جب کبھی سفر میں ہوتے تھے، بیت اللہ سے دور ہیں یا اس ‏بت سے اپنے دور ہیں، تو کوئی ایک پتھر جو ہوتا اس کو نصب کر لیتے اور پھر اس کے گرد چکر لگاتے، اس کو کہتے ‏ہیں دَوَارٌ بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ جس کے گرد دور لگاتے، چکر طواف کرتے، چکر لگاتے اس کو دَوَارٌ کہا جاتا۔ مُلاَءٍ بھئی، مُلاَءٌ جمع ہے مُلاَءَةٌ کی، اور مُلاَءَةٌ کہتے ہیں بڑی چادر بھئی، عورتیں جس کو اوڑھیں یا اسی طرح جو بستر ‏وغیرہ پر چادر بچھائی جائے، اس کو مُلاَءَةٌ کہتے ہیں، مُلاَءَةٌ۔ مُذَيَّلِ، مُذَيَّلِ یہ لفظ کہیں گزرا ہے بھئی؟ جی؟ ذیل سے، ذیل گزرا ہے، کہاں گزرا ہے؟ خرجت بها أمشي تجر ذيولنا على ‏أثرينا ذيل۔ ذیل دامن کو کہتے ہیں، دامن۔ تو مُذَيَّلِ باب تفعيل میں مبالغے کے لیے لے گئے بھئی، ذیل دامن، مُذَيَّلِ وہ چادر یا ‏کپڑا جس کا دامن بڑا ہو، یعنی بڑی چادر، تو مُلاَءٍ مُذَيَّلِ بڑی لمبی چوڑی چادر بھئی۔ فَعَنَّ لَنَا سِرْبٌ كَأَنَّ نِعَاجَهُ عَذَارَى دَوَارٍ فِي مُلاَءٍ مُذَيَّلِ، تو ظاہر ہوا ہمارے لیے ایک ریوڑ، یعنی جنگلی گائے کا ریوڑ، ‏كَأَنَّ نِعَاجَهُ، گویا کہ اس کی جو جنگلی گائے ہیں، میں نے بتایا نِعَاجٌ جمع ہے نَعْجَةٌ کی، یہ بھیڑ وغیرہ کو بھی کہتے ہیں، ‏جنگلی بکرے بھی اور اسی طرح جنگلی گائے بھی، لیکن یہاں مراد جنگلی گائے ہے بھئی، تو ہمارے لیے جنگلی گائے کا ‏ایک ریوڑ ظاہر ہوا، كَأَنَّ نِعَاجَهُ، گویا کہ اس کی جو جنگلی گائے تھیں، عَذَارَى دَوَارٍ، وہ دَوَارٌ کی کے گرد چکر لگانے ‏والی کنواری لڑکیاں تھیں، یعنی ان کی طرح حسین و جمیل تھیں، دَوَارٌ کے گرد چکر لگانے والی کنواری لڑکیاں فِي مُلاَءٍ ‏مُذَيَّلِ ایک بڑی لمبی چادر کے اندر۔ کس چیز میں بڑی لمبی، جیسے دَوَارٌ کے گرد، پتھر کے گرد چکر لگانے والی نے ایک بڑی لمبی چادر اوڑھی ہوئی ہو۔ ‏توجہ ہے؟ دَوَارٌ کے گرد پتھر کے گرد چکر لگانے والی نے بڑی لمبی چوڑی چادر اوڑھی ہوئی ہو، تو جیسے، تو یہ ‏جنگلی گائے بھی ان کی طرح معلوم ہو رہی تھیں، ان لڑکیوں کی طرح۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارے لیے ظاہر ہوا جنگلی گائے کا ایک ریوڑ، گویا کہ اس کی جنگلی گائے ایسی ہی تھیں جیسے کہ ایک بڑی لمبی ‏چادر کے اندر دَوَارٌ کے گرد چکر لگانے والیاں ہوں۔ اچھا تو تشبیہ دی بھئی، کنواری لڑکیوں کے ساتھ سفید رنگ ہونے میں، خوبصورت ہونے میں کہ یہ جنگلی گائے بھی ان ‏کی طرح خوبصورت لگ رہی تھیں۔ اور کہا کہ پھر بالخصوص کنواری کا ذکر کیا، کنواری کا ذکر کیا کہ جیسے ان کی چال حسین و خوشنما ہوتی ہے اسی ‏طرح ان جنگلی گائے کی چال بھی کیا تھی بڑی حسین اور خوشنما، اور جیسے انہوں نے کوئی بڑی لمبی چوڑی چادر ‏اوڑھی ہوئی ہو اسی طرح ان جنگلی گائے کی جو گردن وغیرہ پر بال تھے، وہ بھی ان پر اسی طرح حسین اور خوشنما ‏معلوم ہو رہے تھے جیسے انہوں نے بھی ان کی طرح کوئی چادر اوڑھی ہوئی ہو۔ تشبیہ سمجھ میں آ گئی؟ فَعَنَّ لَنَا سِرْبٌ كَأَنَّ نِعَاجَهُ عَذَارَى دَوَارٍ فِي مُلاَءٍ مُذَيَّلِ، تو ظاہر ہوا ہمارے لیے ایک ریوڑ، گویا کہ اس کی جنگلی گائے ‏جو ہیں دَوَارٌ پتھر کے گرد چکر لگانے والی ایسی کنواری لڑکیاں ہیں جو مُلاَءٍ مُذَيَّلِ میں ہیں، جنہوں نے لمبی چادر، جنہوں ‏نے بڑی چادر اوڑھی ہوئی ہے۔ فَأَدْبَرْنَ كَالْجِزْعِ الْمُفَصَّلِ بَيْنَهُ بِجِيدٍ مُعَمٍّ فِي الْعَشِيرَةِ مُخْوَلِ أَدْبَرَنَ، أَدْبَرَ يُدْبِرُ إِدْبَارٌ کا معنی ہے پشت پھیرنا، پلٹنا۔ كَالْجِزْعِ، جِزْعٌ کہتے ہیں مہرے کو بھئی، گھونگا، مہرہ۔ بھئی آپ نے دیکھا ہو گا، یہ عام بازاروں وغیرہ میں یہاں بھی ‏مل جاتا ہے، وہ گھونگا وہ اس کا خول سا ہوتا ہے بھئی، ایک تکون سی شکل ہوتی ہے، مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ جو یہ ‏دریاؤں یا سمندروں کے کنارے سے لاتے ہیں بھئی، اس کے اندر سیپی، ہاں سیپی کہتے ہوں گے حالانکہ وہ سیپی نہیں ‏اس کا نام، وہ گھونگا یا مہرہ کہتے ہیں اس کو، سمجھ میں آیا؟ تو آپ لوگ اس کو سیپی کہتے ہیں، تو سیپی کی اور شکل ‏ہوتی ہے جس کے اندر موتی بنتا ہے، وہ اور شکل کی ہوتی ہے۔ تو بہرحال بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، وہ ‏گھونگا بھئی، وہ مہرہ بھئی۔ اور جِزْعٌ خاص طور پر یہاں یمنی مہرہ مراد ہے، یمنی، یمنی مہرہ۔ تو اس کو کہتے ہیں جِزْعٌ۔ یمنی مہرہ جو ہے یاد ‏رکھیے وہ کہتے ہیں اس رنگ کا ہوتا ہے کہ درمیان سفید ہوتا ہے اور دونوں کنارے اس کے سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔ ‏تو یہ جنگلی گائے بھی اسی طرح ہوتی ہیں کہ ان کا جو رخسار وغیرہ ہیں وہ بھی کالے رنگ کے، اور پاؤں میں پنڈلی، ‏پاؤں میں گھٹنے سے نیچے والا حصہ یہ بھی کالے رنگ کا ہوتا ہے اور باقی رنگ سفید ہوتا ہے عموماً ان کا۔ تو یہ بھی ‏اسی کی طرح ہیں بھئی، اسی کی طرح ہیں۔ تشبیہ سمجھ میں آ رہی ہے؟ یمنی مہرہ بھئی۔ الْمُفَصَّلِ، مفصل کا کیا معنی؟ جی؟ جدا کیے ہوئے، کہاں یہ لفظ آیا؟ إذا ما الثريا في السماء تعرضت تعرض أثنَاء الوشاح ‏المفصل، تو مفصل جدا جن کے درمیان فصل ہو، تو یہاں جن میں یمنی مہروں کے درمیان فصل ہو، یعنی ہر دو مہروں ‏کے درمیان کوئی اور موتی وغیرہ یا کوئی اور چیزیں لگی ہوں، تو یہ مفصل ہوا۔ جِيدٌ، جِيدٌ کا معنی گردن بھئی، یہ لفظ کہاں آیا تھا؟ وجيد كجيد الريم، جی۔ مُعَمٍّ، مُعَمٌّ، أَعَمَّ يُعِمُّ إِعْمَامًا فهو مُعِمٌّ، و جی، وَأُعِمَّ يُعَمُّ إِعْمَامًا فذاك مُعَمٌّ، اس میں فاعل آئے گا مُعِمٌّ اور اس میں مفعول آئے گا ‏مُعَمٌّ۔ تو چاہے مُعِمٌّ کہہ لیں یا مُعَمٌّ، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، جس کا معنی ہے کثیر معظم چچوں والا ہونا۔ کثیر معظم ‏چچوں والا ہونا۔ بھئی وہ بچہ جس کے بہت سے چچا ہوں، کئی چچا ہوں دیکھو، کئی چچا ہوں۔ اور سارے معظم ہیں بھئی، تو کہیں گے یہ ‏بچہ معَمٌّ ہے یا معِمٌّ ہے، دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ کثیر معظم چچوں والا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ فی العشیرۃ، عشیرۃ کہتے ہیں قوم اور خاندان کو۔ مخول، مخول خال سے ہے، خال کہتے ہیں ماموں کو۔ تو مخول، وہ اسی ‏طرح اخول یفعل اخول، تو مخول وہ بچہ جو کثیر اور معظم ماموؤں والا ہو۔ معظم اور کثیر ماموؤں والا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ جی دیکھیے بھئی:‏ فَأَدْبَرْنَ كَالْجِزْعِ الْمُفَصَّلِ بَيْنَهُ بِجِيدِ مُعَمٍّ فِي الْعَشِيرَةِ مُخْوَلِ فأدبرنا، تو انہوں نے، وہ پلٹ گئیں۔ وہ گائے نظر آئیں اور میں نے گھوڑا ان کے پیچھے دوڑایا، وہ ہمیں دیکھتے ہی پلٹ ‏گئیں۔ ظاہر سی بات ہے، اپ شکار کھیل رہے ہیں، شکار جیسے ہی اپ کو دیکھے گا تو پلٹ کر بھاگے گا یا نہیں بھاگے ‏گا؟ بھاگے گا۔ تو فأدبرنا، تو انہوں نے بھی رخ پھیر لیا، پلٹ گئیں، مڑ کر بھاگیں۔ کالجذع المفصل، جیسے کہ یمنی مہرا ہوتا ہے، مہرے ہوتے ہیں، المفصل کہ جن کے درمیان فصل کیا گیا ہو۔ جیسے یمنی ‏مہروں کے درمیان کیا کیا گیا ہو؟ یعنی یہ گائے جو تھیں، یمنی مہروں کی طرح خوبصورت تھیں اور ان کے منہ اور ‏پاؤں کالے تھے، باقی سفید تھیں اور مفصل تھیں، جیسے یمنی مہروں کے درمیان فصل ہوتا ہے۔ یہ بھی جب پلٹ کر ایک ‏دم بھاگیں تو سب ایک دوسرے سے کیا تھیں؟ الگ الگ معلوم ہو رہی تھیں، جیسے کیا ہوتا ہے؟ یمنی مہروں کے درمیان ‏فصل ہوتا ہے۔ کالجذع المفصل بینہ۔ اور یہ جذع مفصل کہاں پر ہو؟ بجید معم، ای بجید صبی معم، موصوف محذوف ہے۔ بھئی یہ یمنی ‏مہرا، یہ پہنایا جاتا ہے گلے میں، لیکن کس کو پہنایا جاتا ہے؟ بچوں کو پہنایا جاتا ہے۔ تو یہاں موصوف محذوف ہے، ‏صبی معم ہے صبی معم۔ بجید صبی معم، ایک کثیر معظم چچوں والے بچے کی گردن میں۔ یہ گھونگا، یہ یمنی مہرا، مفصل یمنی مہرا ہو، کہاں پر؟ بجید معم، کہاں پر ہو؟ معظم چچوں والے بچے کی گردن میں۔ فی ‏العشیرۃ، اچھا، اور نیز وہ بچہ کیسا ہو؟ مخول، کثیر معظم ماموؤں والا بھی ہو، فی العشیرۃ، خاندان میں، قوم میں۔ قوم میں سے وہ بچہ جو ہے، کثیر چچوں والا بھی ہے اور کثیر ماموؤں والا۔ بھئی یہ بچوں کے گلے میں یہ گھونگے ‏وغیرہ مہرے لٹکا دیتے تھے مختلف، کوئی نیک شگون وغیرہ کے طور پر، یا کہتے تھے اس سے حفاظت ہوگی وغیرہ، ‏جیسے اج کل بھی لوگ توہمات کرتے ہیں مختلف قسم کے، تو یہ لٹکا دیتے تھے یا خوبصورتی کے لیے لٹکا دیتے تھے ‏کہ خوبصورت لگے گا۔ اور تو جیسے اس کی گردن میں، اس بچے کی گردن میں یہ یمنی مہرا جس کے درمیان فصل کیا گیا ہو، جیسے یہ لٹکا ہوا ‏خوش نما معلوم ہوتا ہے، اسی طرح یہ جنگلی گائے بھی جب واپس پلٹیں تو ایک دوسرے سے جدا تھیں، بکھر گئیں، تو ‏یمنی مہر، جدا کیے ہوئے یمنی مہروں کی طرح خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں۔ اور پھر یہ بچہ جو ہے، خاندان کے اندر یہ بچہ جو ہے اس کے ماموں بھی کثیر ہیں اور اس کے چچا بھی، اور ظاہر سی ‏بات ہے ایک عام بچہ ہے اس کی گردن میں یمنی مہرا وغیرہ یا اور چیزیں ہیں اور ایک وہ بچہ ہے جس کے ماموں بھی ‏زیادہ، چچا بھی زیادہ، یقیناً اس کی پرورش بڑے ناز و نعم کے ساتھ ہوگی، سارے اس کے بڑے بڑے رشتے دار، ماموں ‏بھی خیال رکھنے والے، چچا بھی خیال رکھنے والے، تو یقیناً اس کے گلے کے اندر جو مہرا وغیرہ اور چیزیں لٹکی ہوں ‏گی وہ بڑی اعلیٰ اور زبردست قسم کے ہوں گے، عام بچوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ یہ ہے تشبیہ کا ‏مقصد بھئی۔ تو یقیناً اس بچے کی گردن میں جو ہار اور مہرے ہوں گے وہ عام بچوں کی بنسبت اعلیٰ قسم کے ہوں گے، معلوم ہوا وہ ‏بڑے معظم خاندان والا ہے، کیونکہ چچا کس جانب؟ باپ کی جانب، ماموں کس جانب؟ ماں کی جانب، یعنی ماں کی طرف ‏سے بھی خاندان بڑا معظم، باپ کی طرف سے بھی خاندان بڑا معظم ہے، تو یقیناً اس بچے کی گردن میں جو ہار اور جو ‏مہرے ہوں گے وہ عام بچوں جیسے نہیں ہوں گے، بڑے ہی اعلیٰ قسم کے اور بڑے ہی قیمتی اور خوبصورت اور حسین ‏و جمیل ہوں گے۔ تو اس کے ساتھ تشبیہ دی کہ وہ گائے اس طرح مڑ کر بھاگیں اور وہ یمنی مہروں کی طرح معلوم ہو رہی تھیں حسین و ‏جمیل، اور عام یمنی مہرا نہیں، وہ یمنی مہرے جو کس کی گردن میں ہوں؟ ایسے بچے کی گردن میں جو خاندان میں معظم ‏چچوں اور معظم ماموؤں والا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ فأدبرنا، تو ان گایوں نے پشت پھیر لی، کالجذع المفصل بینہ، جیسے کہ وہ یمنی مہرا کہ جس کے بیچ فصل کیا گیا ہو، وہ ‏یمنی مہرا بجید معم مخول، کس کی گردن میں ہو؟ کثیر چچوں، کثیر ماموؤں کے والے بچے کی گردن میں ہو، فی العشیرۃ، ‏کس میں؟ خاندان، یعنی خاندان میں وہ بچہ جو کثیر چچوں اور کثیر ماموؤں والا ہے، اس کی گردن میں جیسے کہ وہ یمنی ‏مہرا ہو، اس کی طرح یہ لگ رہی تھیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ فَأَلْحَقَنَا بِالْهَادِيَاتِ وَدُونَهُ جَوَاحِرُهَا فِي صَرَّةٍ لَمْ تُزَيَّلِ ألحقنا، ألحق یلحق کا معنی ہے ملا دینا، جوڑ دینا۔ اس کو ألحَقَنا، قاف پر فتحہ پڑھنا، قاف کو ساکن نہیں۔ اگر قاف کو اپ نے ‏ساکن پڑھا، ألحَقْنا، تو صیغہ ہی بدل جائے گا۔ ألحَقَنا، ألحق، واحد مذکر غائب کا صیغہ، اور نا مفعول ہے۔ ألحق، ملا دیا کس ‏کو؟ نا، ہمیں، ہمیں ملا دیا۔ ألحقنا، اور اگر اپ قاف کو ساکن پڑھیں، ألحقنا، تو پھر تو یہ جمع متکلم کا صیغہ بن جائے گا، ‏ألحقنا، ہم نے ملا دیا۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ تو یہ قاف پر فتحہ پڑھنا ہے، فالحقنا۔ بالہادیات، ہادیات کا لفظ پہلے گزر چکا، ہادیۃ کی جمع ہے اور ہادیات کہتے ہیں وہ گائے وغیرہ جو ریوڑ کے آگے آگے ‏ہوں بھئی، اور ان کو ہادیات کہتے ہیں کیونکہ سارا ریوڑ ان کے پیچھے ہے، وہ جدھر کا رخ کرتی ہیں سارا ریوڑ ان کے ‏پیچھے ادھر ہی کو چل پڑتا ہے، تو وہ بھی رہنمائی کرنے والی ہوئیں، ہادی کسے کہتے ہیں؟ رہنمائی کرنے والا۔ ودونہ، اور ان کے علاوہ جو ہیں، جو اِحرہا، جواحر جمع ہے جاحرۃ کی، جواحر جمع ہے جاحرۃ کی، بھئی فاعلۃ کی جمع ‏آتی ہے فواعل، جیسے ضاربۃ کی جمع ضوارب، تو فاعلۃ کی جمع آتی ہے فواعل، تو جواحر جمع ہے جاحرۃ کی، اور ‏جاحرۃ مؤنث ہے جاحر کی، اور جاحر کہتے ہیں پیچھے رہ جانے والا، جحر یجحر جحراً، پیچھے رہ جانے والا۔ تو جواحر، پیچھے رہ جانے والیاں، جواحرہا، اس ریوڑ میں سے، اس گلے میں سے یا ان جنگلی گایوں میں سے پیچھے ‏رہ جانے والیاں، یا یوں کہیں، ان ہادیات سے جو پیچھے رہ جانے والیاں۔ فی صرۃ، صرۃ کہتے ہیں جماعت کو بھئی، جماعت کو، اسی طرح ریوڑ کو بھی کہتے ہیں، ریوڑ اور گلہ۔ لم تزیل، زیّل یزیّل تزییل کا معنی ہے جدا ہونا، الگ ہونا، جدا ہو جانا، الگ ہو جانا۔ فألحقنا بالہادیات ودونہ جواحرہا فی صرۃ لم تزیل فألحقنا، تو اس گھوڑے نے ہمیں ملا دیا۔ بالہادیات، کس کے ساتھ؟ ریوڑ کے آگے دوڑنے والی جنگلی گایوں کے ساتھ، ‏یعنی یہ گھوڑا اتنا برق رفتار ہے کہ لمحوں میں اس نے ہمیں کہاں تک پہنچا دیا؟ وہ پلٹ کر بھاگیں، لیکن اس گھوڑے نے ‏لمحوں میں ہمیں کہاں پہنچا دیا؟ آگے دوڑنے والی جنگلی گایوں تک، ریوڑ کے جو آگے دوڑ رہی تھیں، ان تک پہنچا دیا، ‏ودونہ جواحرہا، اور ان کے پیچھے جو تھیں، پیچھے رہ جانے والیاں تھیں۔ ایک ریوڑ کے آگے والی ہیں نا، باقی کون ہیں؟ پیچھے رہ جانے والیاں۔ تو اس نے ہمیں ہادیات تک پہنچا دیا اور باقی ‏کہاں تھیں؟ پیچھے رہ جانے والیاں تھیں فی صرۃ، ایک ایسی جماعت میں لم تزیل، جو ابھی جدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ لم تزیل ‏صفت ہے صرۃ، صرۃ نکرہ ہے نا، نکرہ کے بعد فعل ا جائے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، تو ایسی جماعت لم ‏تزیل، جو ابھی جدا نہیں ہوئی تھی.‏ بھئی دیکھیے، اپ شکار کر رہے ہیں، اپ کے پاس عمدہ گھوڑا ہے، یہ گھوڑا اپ کو لمحوں کے اندر کہاں پہنچاتا ہے؟ ‏آگے والیوں تک، تو کیا پیچھے والی ابھی ساتھ دوڑتی رہیں گی یا پیچھے والیاں مڑ جائیں گی؟ بھئی دیکھو بھئی دیکھو، اپ کہاں پہنچ گئے؟ آگے، تو ظاہر سی بات ہے پیچھے والیاں اپ کو دیکھ کر وہ تو پیچھے کو ‏پلٹ جائیں گی۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ اور دیر لگے گی یا فوراً ہی پلٹیں گی؟ ظاہر سی بات ہے انہوں نے دیکھا ہے ‏اپ یہاں پہنچ گئے تو وہ دوسری آگے والیوں کے ساتھ تو اپ دوڑ رہے ہیں، لیکن پیچھے والیاں تو پلٹ جائیں گی، دوسری ‏طرف کو رخ پھیر لیں گی۔ امرؤ القیس کہتا ہے: میرا یہ گھوڑا اتنا برق رفتار ہے کہ اس نے لمحوں میں ہمیں آگے والیوں تک پہنچا دیا، اور یہ اتنا ‏آناناً فاناً ہوا کہ پیچھے والیاں بھی ابھی تک ساتھ ہی تھیں، ان کو بھی ابھی مڑنے کا موقع نہیں ملا تھا ابھی۔ معنی سمجھ میں ‏ایا بھئی؟ فألحقنا بالہادیات، تو اس نے ہمیں ملا دیا بالہادیات، ریوڑ کے آگے والیوں کے ساتھ، ودونہ، اور اس کے پیچھے جو ہیں، ‏جواحرہا، پیچھے رہ جانے والیاں تھیں، لیکن فی صرۃ لم تزیل، وہ ایسی جماعت میں تھیں جو ابھی جدا نہیں ہوئی تھی بھئی۔ ‏چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 22 of 62