آگے دیکھیے بھئی!
وَجُمْجُمَةٌ مِّثْلُ الْعَلَاةِ کَاَنَّمَا وَعَى الْمُلْتَقَى مِنْھَا اِلَى حَرْفِ مِبْرَدِ
وَخَدٌّ کَقِرْطَاسِ الشَّاَامِی وَمِشْفَرٌ کَسِبْتِ الْیَمَانِی قَدُّهُ لَمْ یُجَرَّدِ
وَعَیْنَانِ کَالْمَاْوِیَّتَیْنِ اسْتَکَنَّتَا بِکَهْفَیْ حِجَاجَیْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ
طرفۃ ابن العبد کا معلقہ چل رہا ہے اور آغاز کے اندر تشبیب تھی، جس میں اس نے اپنی عاشقہ کے حسن و جمال کو ذکر کیا، اپنی محبت کو ذکر کیا۔ اور اس کے بعد اب وہ اپنی اونٹنی کی تعریف کر رہا ہے اور اس کی مختلف صفات بیان کرتا چلا جا رہا ہے۔
آگے شاعر کہتا ہے: وَجُمْجُمَةٌ مِّثْلُ الْعَلَاةِ کَاَنَّمَا وَعَى الْمُلْتَقَى مِنْھَا اِلَى حَرْفِ مِبْرَدِ۔ جمجمہ کہتے ہیں کھوپڑی کو بھئی، سر کی جو ہڈی ہے بھئی کھوپڑی، اس کو جمجمۃ کہتے ہیں۔
تو جمجمہ کسے کہتے ہیں؟ کھوپڑی کو۔ مثل العلاۃ، علاۃ کہتے ہیں لوہار کے پاس ایک لوہے کا آلہ ہوتا ہے مضبوط، ٹھوس لوہے کا بڑا سا اور اس کے اوپر وہ لوہے کو کوٹتا ہے۔
اس کو کہتے ہیں علاۃ بھئی۔ عام عربی میں اس کو سندان کہتے ہیں س، ن، د، ا، ن، سندان بھئی، سندان۔ اور یہ لوہے کا بڑا مضبوط مضبوط ٹکڑا ہوتا ہے بڑا سا اور لوہار لوہے کو جس لوہے کو اس نے جس کی صورت بدلنی ہے، اس کو پہلے بھٹی میں خوب گرم کرتا ہے، لوہے کا وہ حصہ سرخ ہو جاتا ہے۔ پھر اس سرخ حصے کو اس سندان کے اوپر لاتا ہے اور بڑے سے ہتھوڑے سے اس کو کوٹتا ہے بھئی اور اس کی صورت بدلتا ہے جو صورت دینی ہو اس کو۔
نقشہ ذہن میں آ رہا ہے؟ کہ بڑا سا لوہے کا وہ ٹکڑا بنا ہوا ہوتا ہے اور لوہے کو خوب سرخ کر کے اس سندان کے اوپر وہ ہتھوڑے سے کوٹتا ہے۔ سندان کی صورت یوں سمجھ لیں جیسے یہ استری استری کرتے ہیں آپ بھئی، استری کا دیکھو نیچے والا حصہ ہموار ہے جو کپڑے کے اوپر لگتا ہے۔
اس استری کو ذرا آپ الٹا کر لیں، دیکھو اب وہ ہموار حصہ اوپر آ گیا۔ تو یہ جو سندان ہے اس کی شکل کچھ اس طرح ہوتی ہے، اگلا حصہ استری کی طرح کچھ گول سا ہوتا ہے، لیکن ہوتا استری تو چھوٹی سی ہے، وہ خوب بڑا اور خوب مضبوط لوہا ہوتا ہے، جس کے اوپر وہ ہتھوڑے سے کوٹتا ہے لوہے وغیرہ کے حصوں کو اور ان کو برابر کرتا ہے، ٹیڑھا کرتا ہے، جیسا موڑنا ہو جس طرف کو موڑنا ہو۔
تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سندان۔ اور لغت میں اس کا معنی اردو کے اندر اہرن لکھا ہے، اہرن۔ ا، ہ، ر، ن، اہرن۔ تو اردو میں اس کو اہرن کہتے ہوں گے۔
کأنما وعى الملتقى منها۔ وعى یعی فعل ہے بھئی۔ وعى یعی کا معنی ہے حفاظت کرنا، حفاظت کرنا، یاد کرنا اور اسی طرح اس کا معنی ہے جڑنا اور اکٹھا ہونا۔ یہاں یہ جڑنے اور اکٹھے ہونے کے معنی میں ہے۔ وعى یعی۔
الملتقى، ملتقى ملنے کی جگہ، اسم ظرف کا صیغہ ہے۔ ملنے کی جگہ، جڑنے کی جگہ۔ اور یہ یہاں پر فاعل ہے وعى کا۔ وعى الملتقى، ضرب زیدٌ، یہ زیدٌ کیا ہے ضرب کے لیے؟ فاعل، اسی طرح یہاں وعى الملتقى، یہ ملتقى وعى کے لیے فاعل ہے۔
إلى حرف مبرد، حرف کہتے ہیں کنارے کو۔ مبرد، مبرد کہتے ہیں ریتھی کو، ریتھی۔ یا اسی کو رندا بھی کہتے ہیں رندا۔ یہ اوزار ہوتا ہے لوہار وغیرہ کے پاس اور جس کے ذریعے وہ لوہے کو ہموار وغیرہ کرتا ہے، کوئی لوہے کا تھوڑا سا کنارہ وغیرہ نکلا ہوا ہے یا کچھ، تو ریتھی کے ذریعے اس کو ہموار کرتا ہے۔
رندا بھی کہتے ہیں۔ کوئی صورت ذہن میں آئی؟ جانتے ہیں آپ؟ جیسے یہ جو پیچ کس دیکھا ہے آپ نے؟ پیچ کس کا ایک ہینڈل ہے اور آگے باریک سا لوہے کا حصہ ہے۔ لیکن یہ جو رندا اور ریتھی ہے، اس میں اسی طرح ہینڈل اور دستہ ہوتا ہے اور اس سے آگے جو لوہے کا حصہ ہے وہ کوئی تقریباً ایک انچ یا پونا انچ چوڑا ہوتا ہے اور ایک فٹ تقریباً لمبا ہوتا ہے اور خوب کھردرا ہوتا ہے۔
صورت ذہن میں آ گئی؟ خوب کھردرا ہوتا ہے۔ تو لوہے کا اگر کوئی حصہ ٹیڑھا میڑھا یا کچھ ہو، تو اس پر وہ اس رندے کو پھیرتا ہے اور لوہے کے ذرات اس سے علیحدہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ہموار اور برابر ہو جاتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: وَجُمْجُمَةٌ مِّثْلُ الْعَلَاةِ کَاَنَّمَا وَعَى الْمُلْتَقَى مِنْھَا اِلَى حَرْفِ مِبْرَدِ۔ أي ولها جمجمةٌ، یہ جمجمہ کا عطف کر لیں اتلعُ پر۔ اور اتلعُ مبتدا ہے، خبر محذوف ہے، أي ولها عنقٌ اتلعُ۔
تو یہاں اسی پر عطف کر لیں یا اس کے لیے لها الگ نکال لیں، أي ولها جمجمةٌ اور میری اونٹنی کی ایسی کھوپڑی ہے۔ مثل العلاةِ جو کس کی طرح ہے؟ اہرن کی طرح ہے۔ کس کی طرح ہے؟ میں نے بتلایا اہرن کی صورت یہ استری کو ذرا الٹا کر لیں۔ الٹا کر لیں، تو اہرن میں بھی اگلا حصہ کچھ استری نما آگے گولائی کی طرح نوک دار بنا ہوتا ہے بھئی۔
نوک دار بنا ہوتا ہے۔ تو دیکھو، یہ وہ اس اونٹنی اور حیوان کے سر جیسی مشابہت ہو گئی، اس جیسی صورت بن گئی۔ استری کو دیکھ لینا، استری میں اگلا حصہ آگے کو نکلا ہوا نوک دار ہے کہ نہیں ہے؟ تو اونٹنی کا سر بھی اسی طرح ہے، سر گردن کی ہڈی پر ہے اور آگے آگے حصہ لمبا نکلا ہوا، منہ وغیرہ کا، تو وہی اہرن اور سندان جیسی صورت بن گئی، ان جیسی صورت بن گئی بھئی۔
تو کہتا ہے: وَجُمْجُمَةٌ مِّثْلُ الْعَلَاةِ، میری اونٹنی جو ہے اس کی ایسی کھوپڑی ہے، مثل العلاةِ جیسے کہ اہرن ہوتا ہے، جیسے سندان ہوتا ہے۔ كأنما گویا کہ وعى الملتقى منها کہ جڑ گیا ہے اس کے جڑنے کی جگہ یعنی اس کا جوڑ، اس کا جوڑ جو ہے وہ مل گیا ہے، جڑ گیا ہے إلى حرف مبردِ ریتھی کے کنارے کے ساتھ۔
اس کھوپڑی کا جوڑ کس کے ساتھ مل گیا ہے؟ ریتھی کے کنارے کے ساتھ۔
اب اس سے شاعر کی مراد کیا ہے؟ کہنا کیا چاہتا ہے؟ بھئی یہ تو تبھی اصل بات سمجھ میں آئے گی اگر اونٹ کی کھوپڑی جو ہے، جو ہڈی ہے اس کا مشاہدہ کیا ہو کسی نے، پھر ہی بات سمجھ میں آئے گی کہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے۔ لیکن ان کے ہاں عام بات تھی، وہ چونکہ اونٹ ہی ان کا سب سے بڑا خزانہ تھے، اونٹوں ہی کو وہ ذبح کرتے تھے، انہی کو کھاتے تھے، تو ان کو پوری طرح پتہ تھا ان کے سر کی ہڈی کس طرح کی ہوتی ہے۔
اب یا تو مراد یہ ہے کہ جو اونٹ کی لمبی گردن ہے، اس کو ریتھی کہا، کیا کہا؟ ریتھی کہا۔ اور ریتھی میں جیسے دندانے ہوتے ہیں، تو اونٹ کی گردن میں بھی مہرے ہیں اونچے نیچے، مہرے ہیں، تو اس کو ریتھی کہا اور اس گردن کے کنارے پر کھوپڑی لگی ہوئی ہے۔ تو دیکھو، إلى حرف مبردِ ریتھی کے کنارے پر کیا ہے؟ اس سر کی کھوپڑی کا جوڑ ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا تو شاعر یہ کہنا چاہتا ہے یا شاعر کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کھوپڑی کے، بھئی کھوپڑی کی ہڈی بھی ایک نہیں ہوتی، اس میں جوڑ ہوتے ہیں۔ مثلاً اپنی انسانی کھوپڑی دیکھ لیں، ایک سر اوپر والا حصہ جس میں دماغ ہے، ایک نیچے یہ جبڑے والا حصہ۔ یہ جبڑے والا حصہ دیکھو، آپ کھاتے ہیں چیزیں چباتے ہیں، یہ حرکت کرتا ہے، تو یہ اس میں ان میں جوڑ ہے، یہ الگ ہڈی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اسی طرح کھوپڑی میں اور جوڑ بھی ہوں گے، تو اونٹ کی ہڈی اونٹ کے اندر ایک نیچے والا جبڑا ہے، یہ الگ ہے اور یقیناً اس کے اوپر دانت ہوتے ہیں، جس کے ذریعے وہ گھاس وغیرہ کھاتا ہے۔
اور وہ دانت آپس میں جڑے ہوئے ہیں، لگے ہوئے ہیں نچلے جبڑے میں بھی اور اوپر والے جبڑے میں بھی۔ تو یہ دانت ہموار ہوں گے یا نا ہموار بھئی، جس کے ذریعے وہ گھاس وغیرہ بھی کھائے گا؟ ظاہر سی بات ہے ہموار تو نہیں، کچھ تو اونچے نیچے دانت ہوتے ہیں، جبھی وہ چیز کو کاٹے گا اس کے ذریعے، تو یہ دانت جو ہیں کس کی طرح ہو گئے؟ ریتھی کی طرح ہو گئے، کس کی طرح؟ ریتھی کی طرح۔ تو یہ اس کی کھوپڑی اوپر جو دماغ والا حصہ ہے، وہ اس نیچے والے جبڑے کے ساتھ جو ریتھی کی طرح ہے، اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
یا ہو سکتا ہے کوئی اور جوڑ ہو کھوپڑی کے اندر جو ریتھی کی طرح خوب اونچا نیچا اور نا ہموار ہو، اس کے ساتھ وہ کھوپڑی جڑی ہوئی ہو۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ میں نے بتلایا جس نے مشاہدہ کیا ہو اونٹ کی کھوپڑی کی ہڈی کا، وہی اس کو سمجھ سکتا ہے۔
کہتے ہیں: وَجُمْجُمَةٌ مِّثْلُ الْعَلَاةِ کَاَنَّمَا وَعَى الْمُلْتَقَى مِنْھَا اِلَى حَرْفِ مِبْرَدِ۔ بھئی جمجمةٌ نکرہ آیا، مثل العلاةِ یہ اس کی صفت اول ہے۔ اور كأنما وعى الملتقى منها إلى حرف مبردِ یہ سارا جملہ، یہ صفت ثانی ہے جمجمةٌ کی۔ نکرہ کے بعد جملہ آیا نہ اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ أي ولها جمجمةٌ اور میری اونٹنی کی ایسی کھوپڑی ہے، مثل العلاةِ جیسے کہ اہرن ہوتا ہے، گویا کہ اس کا جوڑ جو ہے وہ ملا ہوا ہے، جڑا ہوا ہے إلى حرف مبردِ ریتھی کے کنارے کے ساتھ۔
یہ جو جمجمہ کو تشبیہ دی اہرن کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ اہرن کے ساتھ، یہ کھوپڑی کی ہڈی کے مضبوط اور سخت ہونے کی طرف اشارہ کیا کہ میری اونٹنی کی جو ہڈیاں ہیں وہ بڑی ہی مضبوط ہیں، اہرن کی طرح مضبوط اور طاقتور ہیں، یعنی خوب طاقت والی اونٹنی ہے اور مضبوط ہڈیوں والی اونٹنی ہے اور خوب سفر کرنے والی اور خوب بوجھ اٹھانے والی ہے۔
وَخَدٌّ کَقِرْطَاسِ الشَّاَامِی وَمِشْفَرٌ کَسِبْتِ الْیَمَانِی قَدُّهُ لَمْ یُجَرَّدِ
خد، خد رخسار کو کہتے ہیں، رخسار، گال بھئی، گال۔ كقرطاس الشامي، قرطاس کہتے ہیں کاغذ کو بھئی، کاغذ۔
شآمی، شآمی شام والا، جیسے لاہوری لاہور والا۔ تو شآمی یہ الف کے ہمزہ ہے بھئی، ہمزہ، شآمی۔
یہ دونوں طرح بولا جاتا ہے، شام کا کوئی ہو تو کہتے ہیں شامیٌّ، یائے مشدد بھی کبھی جوڑتے ہیں آخر میں۔ اور کبھی اسی طرح الف پر مدہ پڑھا جاتا ہے اور آخر میں یا ملا دی جاتی ہے، شآمی، یہ یائے مشدد نہیں ہے۔
ومشفرٌ، مشفر کہتے ہیں اونٹ کے ہونٹ کو بھئی۔ انسان کے ہونٹ کو عربی میں شفۃٌ کہتے ہیں، شفۃٌ اور اونٹ کے ہونٹ کو مشفرٌ۔
کسِبت الیمانی، دیکھو یہ بھی شآمی کی طرح آ گیا۔ شآمی شام والا، یمانی یمن والا، یہاں یا مشدد نہیں ہے۔ اچھا، سبتٌ، سبتٌ کہتے ہیں گائے کا چمڑا جس کو دباغت دے کر یعنی تیار کر کے نرم کر لیا جائے، جیسے آج کل آپ چمڑے کی، لیدر کی جیکٹیں دیکھتے ہیں بھئی، دیکھو یہ گائے کا چمڑا ہے جس کو خوب نرم کر لیا جاتا ہے، بالکل کپڑے کی طرح بنا لیا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں سبتٌ، گائے کا دباغت دیا ہوا، تیار کیا ہوا نرم چمڑا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سبتٌ۔
کسبت الیمانی، جیسے کہ یمنی گائے کا نرم چمڑا ہو۔ قدُّه، قدّ یقدُّ کے معنی ہیں لمبائی میں کسی چیز کو پھاڑنا، لمبائی میں چاک لگانا۔ کل گزشتہ سبق میں بھی آیا تھا: بَنَائِقُ غُرٌّ فِي قَمِيصٍ مُقَدَّدِ۔ قدَّدَ یقدِّدُ اور قدَّ یقدُّ کا ایک ہی معنی ہے، لمبائی میں کسی چیز کو پھاڑنا، اس میں چاک لگانا۔
لم یجرَّدِ، جرَّدَ یجرِّدُ کا معنی ہے بالوں سے خالی ہونا، بالوں سے صاف ہونا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو گنجے کو بھی مجرد کہتے ہیں، جس کے سر پر بال نہیں ہیں، بال صاف ہو گئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجرد۔
جبکہ بعض روایات میں یہاں جیم کے بجائے حاء آئی ہے: لم یحرَّد، لم یحرَّد۔ حرَّدَ یحرِّدُ تحرید کا معنی ہے ٹیڑھا کرنا، کسی چیز کو ٹیڑھا کرنا، تو لم یحرَّد کا معنی ہوا جو ٹیڑھا نہیں کیا گیا۔
ٹیڑھا نہیں کیا گیا۔
تو شاعر کہتا ہے: وَخَدٌّ کَقِرْطَاسِ الشَّاَامِی وَمِشْفَرٌ کَسِبْتِ الْیَمَانِی قَدُّهُ لَمْ یُجَرَّدِ۔ أي ولها خدٌّ، اس کے لیے بھی لها نکال لیں یا اسی جمجمہ پر عطف کر لیں، ایک ہی لها ماقبل میں نکال لیں۔
ولها خدٌّ اور میری اونٹنی کا ایسا رخسار ہے كقرطاس الشامي جیسے کہ شامی کاغذ ہوتا ہے۔ شام کا کاغذ چونکہ مشہور تھا، عمدہ اور اعلیٰ ہوتا تھا، اس لیے شام کے کاغذ کو بالخصوص ذکر کیا۔
تو کہتا ہے وخَدٌّ اور میری اونٹنی کا رخسار ایسے ہے كقرطاس الشامي جیسے کہ شامی کاغذ ہوتا ہے، یعنی جیسے وہ کاغذ عمدہ اور ہموار ہوتا ہے، اسی طرح میری اونٹنی کے رخسار بھی کیا ہیں؟ نرم اور ہموار ہیں۔ یعنی ان پر چھوٹے بال ہیں اور رخسار پر لمبے بال اونٹنی کے پسندیدہ نہیں، چھوٹے بال پسندیدہ ہیں، تو اس کی طرف اشارہ ہے۔
ومشفرٌ، أي ولها مشفرٌ، اسی خدٌّ پر عطف ہے اور میری اس اونٹنی کے ہونٹ ہے کسبت الیمانی جو یمنی چمڑے کی طرح ہے، یمنی نرم چمڑے کی طرح ہے، جیسے یمنی چمڑا بڑا عمدہ اور اعلیٰ ہوتا ہے، اس لیے اس کو ذکر کیا، تو جیسے وہ نرم اور اعلیٰ اور عمدہ ہوتا ہے، اسی طرح میری اونٹنی کا جو ہونٹ ہے، وہ بھی بڑا نرم ہے۔
قَدُّهُ لَمْ يُجَرَّدِ۔ قدٌ میں نے بتلایا لمبائی میں کسی چیز کو پھاڑنا۔ اگر آپ نے اونٹ کے ہونٹوں پر غور کیا ہو، اس کا اوپر والا جو ہونٹ ہے، اس میں درمیان میں پھٹن ہوتی ہے، اوپر ناک کی طرف جاتی ہے۔ تو اوپر والے ہونٹ کے دو حصے ہو جاتے ہیں، ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ تو یہ جو پھٹن ہے اوپر کی طرف، یہ ہے قَدُّهُ۔ اس کی جو لمبائی کے رخ جو پھٹن ہے، لَمْ يُجَرَّدِ، وہ مجرد نہیں ہے، یعنی بغیر بالوں کے نہیں ہے، اس پر بھی بال ہیں۔ اس پر بھی بال ہیں۔ قَدُّهُ لَمْ يُجَرَّدِ۔
پھر دیکھیے کیا کہتا ہے؟ وَمِشْفَرٌ، اور اس کا ایسا ہونٹ ہے، كَسِبْتِ الْيَمَانِي، جیسے کہ یمنی کا وہ نرم چمڑا۔ قَدُّهُ لَمْ يُجَرَّدِ، جس کی تراش جو ہے وہ بغیر بالوں کے نہیں، یا جس کی تراش جو ہے وہ ٹیڑھی نہیں ہے، سیدھی ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ تراش اس کی ٹیڑھی نہیں ہے، اس سے اس اونٹنی کے جوان ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اس لیے کیونکہ اونٹنی اور اونٹ وغیرہ جوان ہوں تو اس وقت ان کے جو یہ اوپر کے ہونٹ کی تراش جو ہے یہ سیدھی رہتی ہے۔ ہاں جب وہ بوڑھے ہو جائیں اونٹ اور اونٹنی وغیرہ، عمر زیادہ ہو جائے تو اس میں کچھ ٹیڑھا پن تھوڑا سا آ جاتا ہے۔ تو یہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟ میری اونٹنی جوان ہے۔
معنی سمجھ میں آگیا اچھی طرح؟ کہتا ہے:
وَخَدٌّ كَقِرْطَاسِ الشَّآمِي وَمِشْفَرٌ كَسِبْتِ الْيَمَانِي قَدُّهُ لَمْ يُجَرَّدِ
میری اونٹنی جو ہے اس کا ایسا رخسار ہے جیسے کہ شامی کاغذ ہوتا ہے، اور اس کا ایسا ہونٹ ہے جیسے کہ یمنی نرم چمڑا ہوتا ہے، اور اس کے ہونٹ کی جو پھٹن ہے، وہ ٹیڑھی نہیں ہے، یا اس کے ہونٹ کی جو پھٹن ہے، وہ بالوں سے خالی نہیں ہے۔
بھئی دیکھیے یہ جو كَقِرْطَاسِ الشَّآمِي، یہ خیال رکھنا ہے، قرطاس ہے مضاف اور الشامي ہے مضاف الیہ۔ اور دراصل یہ الشامی اس کا موصوف محذوف ہے۔ یعنی عبارت اصل میں یوں ہے: كَقِرْطَاسِ الرَّجُلِ الشَّآمِي، جیسے کہ کسی شامی آدمی کا کاغذ ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ہے كَسِبْتِ الْيَمَانِي، سبت ہے مضاف اور اليماني ہے مضاف الیہ۔ اور درمیان میں موصوف محذوف ہے، یعنی یوں کہیں اصل مضاف الیہ بیچ میں محذوف ہے: كَسِبْتِ الرَّجُلِ الْيَمَانِي، جیسے کہ کسی یمنی آدمی کا دباغت دیا ہوا نرم چمڑا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
وَخَدٌّ كَقِرْطَاسِ الشَّآمِي وَمِشْفَرٌ كَسِبْتِ الْيَمَانِي قَدُّهُ لَمْ يُجَرَّدِ
اور میری اونٹنی کا ایسا رخسار ہے جیسے کہ کسی شامی آدمی کا کاغذ ہوتا ہے، وَمِشْفَرٌ اور اس کا ایسا ہونٹ ہے، كَسِبْتِ الْيَمَانِي جیسے کسی یمنی آدمی کا نرم چمڑا ہوتا ہے، قَدُّهُ لَمْ يُجَرَّدِ کہ اس ہونٹ کی جو لمبائی میں پھٹن ہے، لَمْ يُجَرَّدِ وہ بالوں سے خالی نہیں، یا لَمْ يُحَرَّدِ وہ ٹیڑھی نہیں ہے۔
تو ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ تو یہ بس خیال رکھنا ہے، قِرْطَاسِ الشَّآمِي أي قِرْطَاسِ الرَّجُلِ الشَّآمِي، اور كَسِبْتِ الْيَمَانِي أي سِبْتِ الرَّجُلِ الْيَمَانِي۔ تو رجل نکال لیں موصوف، یا التاجر نکال لیں، كَسِبْتِ التَّاجِرِ الْيَمَانِي جیسے کسی یمنی تاجر کا چمڑا ہوتا ہے، یا كَقِرْطَاسِ التَّاجِرِ الشَّآمِي جیسے کسی شامی تاجر کا کاغذ ہوتا ہے۔ اور میں نے بتلایا چونکہ شام کا کاغذ مشہور اور اعلیٰ ہوتا تھا، اس لیے اس کو ذکر کیا۔ اور یمن کا چمڑا مشہور تھا، تو اس لیے اس کو ذکر کیا۔
وَعَيْنَانِ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ اسْتَكَنَّتَا بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ
وَعَيْنَانِ، اس کی دو جو آنکھیں ہیں، أي وَلَهَا عَيْنَانِ۔ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ، مأوية کہتے ہیں آئینے کو، آئینہ، شیشہ جس میں آپ اپنی صورت دیکھتے ہیں۔ تو یہ تثنیہ ہے، كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ، اس کی دو آنکھیں کس کی طرح ہیں؟ دو آئینوں کی طرح ہیں۔ اسْتَكَنَّتَا، استکن کا معنی ہے چھپنا، پوشیدہ ہونا، لیکن یہاں یہ قرار پکڑنے کے معنی میں ہے۔ مثلاً زید کسی کمرے میں چھپ گیا، جب چھپ گیا، تو گویا اسی میں اس نے قرار پکڑ لیا، دونوں معنی قریب قریب ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں اسْتَكَنَّتَا بمعنی قرار پکڑنے کے ہے۔
بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، کہفے، کہف غار کو کہتے ہیں بھئی، قرآن میں آپ پڑھتے ہیں اصحابِ کہف کا واقعہ بھئی۔ تو کہف کسے کہتے ہیں؟ غار کو۔ اور یہ تثنیہ ہے یہاں پر، كَهْفَيْنِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، حجاج، حجاج کہتے ہیں یہ بھوؤں کی جو ہڈی ہے۔ بھئی یہ آنکھ کے اوپر اور ماتھے کے کنارے پر جو بال ہیں آپ کے، یہ بال، بھوئیں، یہ جو بھوئیں ہیں، ابروئیں ہیں، یہ ہڈی کے کنارے پر ہیں۔ اس ہڈی کو حجاج کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ حجاج۔ اور یہ بھی یہاں پر تثنیہ ہے، حِجَاجَيْنِ، دو ہڈیاں، اور نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔
صَخْرَةٍ، صخرہ چٹان کو کہتے ہیں، بڑا پتھر جو، چٹان بھئی۔ قَلْتِ مَوْرِدِ، قلت، قلت، قاف دو نقطوں والا، لام اور لمبی تا، قلت۔ قلت کہتے ہیں زمین میں یا پہاڑ میں یا چٹان میں کوئی گڈھا وغیرہ ہو، یا اسی طرح بدن میں کوئی گڈھا وغیرہ ہو اس کو قلت کہتے ہیں۔ مثلاً پہاڑ میں یا چٹان میں کوئی گڈھا ہے اور بارش وغیرہ میں اس میں پانی جمع ہو جاتا ہے، تو یہ گڈھا کیا ہے؟ یہ جو گہری جگہ ہے اس کو کیا کہیں گے؟ قلت۔ اور مورد، مورد سے، مورد کا معنی میں نے بتلایا تھا چشمے کو بھی کہتے ہیں، وارد ہونے کی جگہ، آنے کی جگہ، اسی طرح راستے کو بھی کہتے ہیں۔ شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں مورد سے مراد پانی ہے بھئی۔ مورد سے کیا مراد ہے یہاں پر؟ پانی۔ قَلْتِ مَوْرِدِ، پانی کا گڈھا۔ چٹان میں یا پہاڑ میں کوئی گڈھا ہے اور اس میں پانی جمع ہو گیا، تو وہ کیا ہے؟ قلتِ مورد، پانی کا گڈھا۔ اور یقیناً یہ پانی بڑا صاف و شفاف ہوگا۔ کیونکہ چٹان پر اگر ہے، چٹان سخت پتھر، اور اس میں مٹی وغیرہ کسی قسم کی آمیزش نہیں ہوگی، تو وہ پانی خوب صاف ستھرا ہوگا جو بارش کا پانی وہاں جمع ہوا المعنی۔
تو شاعر کہتا ہے:
وَعَيْنَانِ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ اسْتَكَنَّتَا بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ
أي وَلَهَا عَيْنَانِ، اور میری اونٹنی جو ہے اس کی دو ایسی آنکھیں ہیں، كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ جیسے کہ دو آئینے ہوتے ہیں۔ دو آئینے ہوتے ہیں۔ اسْتَكَنَّتَا، ان دو آنکھوں نے قرار پکڑا ہے، وہ دو آنکھیں جاگزیں ہیں، کہاں پر؟ بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ۔
حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، یاد رکھیے یہ جو حِجَاجَيْ کی اضافت ہو رہی ہے صَخْرَةٍ کی طرف، یہ خَاتَمُ فِضَّةٍ کی قبیل سے ہے۔ خَاتَمُ فِضَّةٍ، خَاتَمُ فِضَّةٍ کا کیا معنی؟ خَاتَمٌ مِنْ فِضَّةٍ۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، حِجَاجَيْنِ مِنْ صَخْرَةٍ۔ تو وہ دو ہڈیاں کس سے بنی ہیں؟ حِجَاجَيْنِ مِنْ صَخْرَةٍ، وہ دو ہڈیاں ابرو کی کس کے ہیں، کس سے بنی ہیں؟ چٹان سے بنی ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یعنی خوب سخت ہیں، مضبوط ہیں۔
تو کہتے ہیں: اسْتَكَنَّتَا، ان دو آنکھوں نے قرار پکڑا ہے، بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، چٹان کی دو ابرو کی ہڈیوں کے دو غاروں میں۔ چٹان کی دو ابرو کی دو غاروں میں۔ بھئی چٹان میں گڈھا ہے، اور اس گڈھے کے کنارے کے ظاہر سی بات ہے چٹان کے تو بڑے سخت اور مضبوط ہوں گے۔ تو یہ جو دو آنکھیں ہیں، انہوں نے اس چٹان کے جو کنارے کی مضبوط کنارے ہیں، اس کا جو گڈھا ہے، اس کا جو غار ہے، اس کے اندر ان دو آنکھوں نے قرار پکڑا ہے۔ یعنی شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میری جو اونٹنی کی آنکھیں ہیں، جس ہڈی کے اندر انہوں نے قرار پکڑا ہوا ہے، وہ چٹان، مضبوط چٹان کے دو غاروں کی طرح ہیں۔ کس کی طرح ہیں؟ مضبوط چٹان کے دو غاروں کی طرح ہیں جس میں یہ دو آنکھیں لگی ہوئی ہیں۔
اور قَلْتِ مَوْرِدِ، کیا معنی؟ پانی کا گڈھا۔ یہ یا تو صفت ہے صخرۃ کی، یا یہ بدل ہے اس سے۔ قَلْتِ مَوْرِدِ، یہ بدل ہے صخرۃ سے۔ وہ چٹان یعنی کہ پانی کا گڈھا۔ ترجمہ کیسے کریں گے بدل اور مبدل منہ کا؟ "یعنی" کے ساتھ۔ صَخْرَةٍ، چٹان، أي قَلْتِ مَوْرِدِ یعنی کہ پانی کا گڈھا۔ وہ چٹان، کیا ہے؟ پانی کا گڈھا۔ یا صفت بنا لو، ایسی چٹان، قَلْتِ مَوْرِدِ، جو کیا ہے؟ پانی کا گڈھا ہے بھئی۔
اب پھر ترجمہ سنیں:
وَعَيْنَانِ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ اسْتَكَنَّتَا بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ
اور میری جو اونٹنی ہے اس کی دو ایسی آنکھیں ہیں كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ جیسے کہ دو آئینے ہوتے ہیں، آئینوں کے ساتھ اور اس گڈھے کے اندر پانی کے ساتھ آنکھوں کو تشبیہ دی۔ میری اونٹنی کی دونوں آنکھیں کس طرح ہیں جیسے، جیسے دو آئینے ہوتے ہیں خوب چمک دمک اور سفیدی، خوب چمک دمک اور صاف ہونے کے اندر، اور اس کی آنکھیں کس کی طرح ہیں؟ اس چٹان کے گڈھے میں جو پانی ہوتا ہے، جیسے وہ خوب صاف ستھرا اور چمکدار ہوتا ہے، اسی طرح اس کی آنکھیں بھی خوب چمکدار اور صاف ہیں۔
وَعَيْنَانِ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ، اور میری اونٹنی کی دو ایسی آنکھیں ہیں جو دو آئینوں کی طرح ہیں۔ جی، یہ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ یہ پہلی صفت ہے عينانِ کی، اور اسْتَكَنَّتَا آگے فعل پورا جملہ جو آ رہا ہے وہ صفتِ ثانی ہے عينانِ کی۔ تو میری دو، میری اونٹنی کی دو ایسی آنکھیں ہیں جیسے دو آئینے ہوتے ہیں جنہوں نے قرار پکڑا ہو بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ، چٹان، توجہ ہے؟ چٹان، یعنی کہ پانی کے دو گڈھے جو ہیں، ان کے دو ابرو کی ہڈیوں کے دو غاروں میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ پھر سنو: بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ، انہوں نے قرار پکڑا ہے، کہاں پر؟ بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، چٹان، یعنی پانی کے جو دو گڈھے ہیں، ایسی چٹان جس میں پانی کے دو گڈھے ہیں، اس کی ابرو کی دو ہڈیوں کے دو غاروں میں ان آنکھوں نے قرار پکڑا ہے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
تو گویا شاعر نے آنکھوں کو صاف ستھرا اور چمکدار ہونے میں آئینے اور پانی کے ساتھ تشبیہ دی، آئینہ اور وہ پانی جو چٹان کے گڈھے میں ہو اس کے ساتھ تشبیہ دی۔ اور اس آنکھ کی جو ہڈی ہے، ابرو کی جو ہڈی ہے، اس کو تشبیہ دی سخت چٹان کے ساتھ، سخت اور مضبوط ہونے کے اندر بھئی۔
اچھا، میں نے آپ کو بتلایا حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ کہ یہ اضافت جو ہے خَاتَمُ فِضَّةٍ کی قبیل سے ہے۔ خَاتَمُ فِضَّةٍ کا کیا معنی؟ خَاتَمٌ مِنْ فِضَّةٍ، یعنی چاندی سے بنی ہوئی انگوٹھی۔ تو یہاں بھی حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، یعنی وہ ابرو کی جو دو ہڈیاں ہیں وہ کس سے بنی ہوئی ہیں؟ چٹان سے بنی ہوئی ہیں، یعنی بڑے پتھر سے بنی ہوئی ہیں۔ صخرۃ کا معنی چٹان یا بڑا پتھر، تو بڑے پتھر سے بنی ہوئی ہیں۔ اور قَلْتِ مَوْرِدِ، میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ صفت ہے یا بدل ہے کس سے؟ صَخْرَةٍ سے۔ صَخْرَةٍ، ایسی چٹان، قَلْتِ مَوْرِدِ، جو پانی کا گڈھا ہے جس میں شگاف وغیرہ ہے اس میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ تو یہ صفت ہے، اور یا پھر اس کو بدل بنائیں۔ صَخْرَةٍ، چٹان ہے، پتھر ہے، قَلْتِ مَوْرِدِ، ایسا پتھر جو پانی کا گڈھا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ ذرا پھر ترجمہ دیکھ لیں ذرا اور بہتر انداز میں: وَعَيْنَانِ كَالْمَأْوِيَّتَيْنِ، اور میری جو اونٹنی ہے اس کی دو ایسی آنکھیں ہیں جیسے کہ دو آئینے ہوتے ہیں، اسْتَكَنَّتَا، ان دونوں آنکھوں نے قرار پکڑا ہے، یعنی موجود ہیں، کہاں پر؟ بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ قَلْتِ مَوْرِدِ، ایک پتھر، توجہ ہے؟ قلتِ مورد سے کیا بنا رہے ہیں؟ بدل۔ بدل کا ترجمہ کس سے کر لیں گے؟ "یعنی" کے ساتھ۔ صَخْرَةٍ، ایک پتھر، یعنی کہ پانی کے گڈھے کا جو پتھر ہے، اس سے بنے ہوئے دو ابرو کی ہڈیوں کے دو غاروں میں۔ وہ آنکھیں وہ انہوں نے قرار پکڑا ہوا ہے، یعنی موجود ہیں کہاں پر؟ ایک پتھر، یعنی کہ، بلکہ بدل کو ذرا چھوڑ دیں، پتھر کی بنی ہوئی ابرو کی دو ہڈیوں کے دو غاروں میں۔ بِكَهْفَيْ حِجَاجَيْ صَخْرَةٍ، پتھر کی بنی ہوئی دو ابرو کی ہڈیوں کے دو غاروں میں وہ آنکھیں موجود ہیں، پتھر یعنی کہ قَلْتِ مَوْرِدِ، یعنی کہ پانی کا، پانی کے گڈھے کا پتھر جو ہے، اس کے دو ابرو کی ہڈیوں کے دو غاروں میں وہ آنکھیں موجود ہیں، انہوں نے قرار پکڑا ہوا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔