لَهُ أَيْمَلَا ظَبْيٍ وَسَاقَا نَعَامَةٍ وَإِرْخَاءُ سِرْحَانٍ وَتَقْرِيبُ تَتْفُلِ
ظَلِيعٍ إِذَا اسْتَدْبَرْتَهُ سَدَّ فَرْجَهُ بِذَافٍ فُوَيقَ الأَرْضِ لَيْسَ بِأَعْزَلِ
كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ إِذَا انْتَحَى مَدَاكَ عَرُوسٍ أَوْ صَلايَةَ حَنْظَلِ
امرؤالقیس اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے۔
تو آگے کہتا ہے: لَهُ أَيْمَلَا ظَبْيٍ وَسَاقَا نَعَامَةٍ وَإِرْخَاءُ سِرْحَانٍ وَتَقْرِيبُ تَتْفُلِ
أَيْمَلَا، یہ ایطل تثنیہ ہے بھئی، تثنیہ۔ ایطلانِ، نونِ اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو ایطل اور اِطل، اِطل، یہ کوکھ کو کہتے ہیں، کوکھ بھئی۔ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، یہ پیٹ کے دونوں جانب کا نرم حصہ بھئی، اوپر پسلیاں ہیں اور نیچے بھی ہڈی، درمیان میں یہ جو نرم حصہ ہے، اس کو کوکھ کہتے ہیں۔ اور عربی میں اس کو ایطل اور اِطل بھئی۔
ظَبْيٌ، ظبی ہرن کو کہتے ہیں بھئی۔ سَاقَا نَعَامَةٍ، ساق پنڈلی بھئی، ساقانِ، یہ نون اضافت سے گر گیا، یہ تثنیہ ہے۔
نعامہ، نعامہ شتر مرغ کو کہتے ہیں بھئی، شتر مرغ۔
اور جمع اس کی نعامات، نعام اور نعائم آتی ہے۔ إِرْخَاءُ سِرْحَانٍ، إِرْخَاء دوڑنے کو کہتے ہیں، دوڑنا بھئی۔
اور دوڑ دو قسم کی بھئی، ایک گھوڑا جب پوری رفتار سے دوڑ رہا ہو، وہ دونوں اگلے پاؤں اکٹھے ہی اٹھاتا ہے بھئی۔ اس کے لیے لفظ آگے آ رہا ہے تقریب، وہ جو دوڑ ہے نا جس میں دونوں اگلے پاؤں اکٹھے اٹھاتا ہے حیوان، اس کو تقریب کہتے ہیں بھئی، تقریب۔ اسی شعر میں آگے آ رہا ہے۔
اور ارخاء وہ دوڑ جس کے اندر دونوں قدم الگ الگ بھئی اور الگ الگ ہلکی رفتار سے جو دوڑتا ہے، اور اگلا قدم جہاں اٹھاتا ہے، عین تقریباً اسی جگہ پر پچھلا قدم وہ پھر رکھتا ہے حیوان بھئی، تو اس کو ارخاء کہتے ہیں، ارخاء۔ وہ ہلکی رفتار سے دوڑ بھئی۔
سِرْحَانٍ، سرحان بھیڑیے کو کہتے ہیں بھئی، بھیڑیا۔
تقریب میں نے ابھی ذکر کر دیا، وہ تیز رفتار سے دوڑنا جس میں دونوں قدم جانور اکٹھے اٹھاتا ہے۔
اور تَتْفُلِ، تتفل لومڑی کے بچے کو کہتے ہیں، تتفل۔
تو کہتا ہے امرؤالقیس: لَهُ أَيْمَلَا ظَبْيٍ وَسَاقَا نَعَامَةٍ وَإِرْخَاءُ سِرْحَانٍ وَتَقْرِيبُ تَتْفُلِ۔ لَهُ أَيْمَلَا ظَبْيٍ، کہ میرے گھوڑے کی جو دونوں کوکھیں ہیں، ایطلا ظبی، ہرن کی کوکھوں کی طرح ہیں، یعنی یوں کہیں پیٹ کہہ لیں، کیا کہہ لیں؟ پیٹ۔ اس کا جو پیٹ ہے وہ ہرن کے پیٹ کی طرح ہے۔ ہرن کا پیٹ دونوں، یہ دونوں جانب سے اگر دیکھا جائے، ہرن کا پیٹ تھوڑا سا اندر کو ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پیٹ کا پھولا ہونا یا بڑا ہونا یہ عیب شمار ہوتا ہے گھوڑے کے اندر، تو گھوڑے کی تعریف کی کہ اس کا پیٹ کیا ہے؟ پتلا ہے اور وہ دبلا ہے بھئی۔
لَهُ أَيْمَلَا ظَبْيٍ، اس کے لیے اس کے ہرن کی طرح کی کوکھیں ہیں، وَسَاقَا نَعَامَةٍ، اور شتر مرغ کی پنڈلیاں ہیں، دونوں پنڈلیاں کس کی طرح ہیں؟ شتر مرغ کی طرح۔ تو گھوڑے کی پنڈلیوں کو تشبیہ دے رہا ہے شتر مرغ کی پنڈلیوں کے ساتھ، سیدھا ہونے میں، اور مضبوط ہونے میں، اور چھوٹا ہونے میں۔
سیدھی، مضبوط، اور چھوٹی ہوں۔ گھوڑے میں کہتے ہیں پسندیدہ یہ ہے کہ اس کی پنڈلی چھوٹی ہو، زیادہ لمبی نہ ہو، اور باقی پاؤں کا حصہ لمبا ہو لیکن پنڈلی نسبت کیا ہو؟ چھوٹی ہو، اس سے دوڑنے میں آسانی، بہتر دوڑتا ہے اس سے۔
اچھا، تو بس یہ تو جو ان چیزوں کے ماہر ہوں گے، کچھ تھوڑا بہت معمولی سا ہی فرق ہوتا ہو گا، تو وہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں بھئی۔ تو اس کے لیے شتر مرغ کی پنڈلیاں ہیں، وَإِرْخَاءُ سِرْحَانٍ، اور بھیڑیے کی طرح اس کا ہلکا دوڑنا ہے۔
بھیڑیے کے، یہ جو، یہ جو ہلکی رفتار سے دوڑنا ہے، یہ سب سے بہترین اس میں کہتے ہیں بھیڑیے کی دوڑ ہے، تو اس کے ساتھ تشبیہ دی کہ یہ جب ہلکی رفتار سے دوڑتا ہے تو اس کی دوڑ کس کی طرح ہوتی ہے؟ بھیڑیے کی طرح، وَتَقْرِيبُ تَتْفُلِ، اور جب یہ تیز رفتار سے دوڑتا ہے تو ایسے دوڑتا ہے جیسے لومڑی کا بچہ ہوتا ہے، یعنی بتلانا یہ چاہتا ہے کہ گھوڑے کے دوڑنے کے مختلف انداز ہیں۔
لَهُ أَيْمَلَا ظَبْيٍ وَسَاقَا نَعَامَةٍ وَإِرْخَاءُ سِرْحَانٍ وَتَقْرِيبُ تَتْفُلِ، اس گھوڑے کی جو ہے وہ دونوں پہلو جو ہیں وہ ہرن کی طرح ہیں، وَسَاقَا نَعَامَةٍ، اور اس کے جو ہے شتر مرغ کی دو، دو پنڈلیوں کی طرح ہیں اس کی پنڈلیاں ہیں، وَإِرْخَاءُ سِرْحَانٍ، اور بھیڑیے کی طرح اس کی ہلکی دوڑ ہے، وَتَقْرِيبُ تَتْفُلِ، اور لومڑی کے بچے کی طرح اس کی تیز رفتار ہے، تیز، تیز دوڑ ہے۔
تو ایک ہی شعر میں دیکھو چار تشبیہات دیں بھئی، چار تشبیہات۔
ظَلِيعٍ إِذَا اسْتَدْبَرْتَهُ سَدَّ فَرْجَهُ بِذَافٍ فُوَيقَ الأَرْضِ لَيْسَ بِأَعْزَلِ
ضلِیع بھئی، ضلیع کہتے ہیں بھاری سینے اور مضبوط پہلوؤں والا جو جانور ہو۔ جانور کا سینہ اور پسلیاں مضبوط ہوں بھئی، بھاری سینہ ہو۔ تو اس کو ضلیع، ضلیع کہتے ہیں، ضلیع۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک حدیث میں بھی آتا ہے، وہ فرماتے ہیں اگر کوئی اونٹ خریدنا چاہے تو ضلیع دیکھے بھئی، ضلیع بھئی، جو بھاری سینے والا، مضبوط ہو۔
اچھا جی، إِذَا اسْتَدْبَرْتَهُ، استدبار بھئی، استدبار کا ایک معنی ہے پشت کرنا، پشت کرنا۔ آپ نے فقہ کے اندر پڑھا ہو گا کہ قضائے حاجت کے وقت نہ استقبالِ قبلہ ہونا چاہیے اور نہ استدبارِ قبلہ ہونا چاہیے۔
تو یہ استدبار کا معنی ہے پشت کرنا، اور استدبار کا ایک معنی ہے پیچھے کی طرف سے دیکھنا بھئی، پیچھے کی طرف سے دیکھنا۔ جیسے حیوان وغیرہ کو خریدتے ہیں، تو عموماً اس کے پچھلے حصے کو دیکھتے ہیں، اگر وہ حصہ مضبوط ہے، گوشت سے پور ہے، معلوم ہوا حیوان خوب صحت مند ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ پیچھے سے دیکھنا اس کو کہتے ہیں استدبار، استدبار۔
سدَ یسدُّ کا معنی بند کر دینا، روک دینا۔ فَرْجَهُ، فرجٌ کہتے ہیں کشادگی کو، کشادگی۔
تو گھوڑے کی اگلی دو جو ٹانگیں ہیں، ان کے درمیان جو فاصلہ ہے، جو کشادگی ہے، اس کو بھی فرج کہتے ہیں، اسی طرح اس کی پچھلی دو ٹانگوں کے درمیان جو کشادگی ہے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ فرج کہتے ہیں۔ بِذَافٍ، ضفا یضفو ضفواً کا معنی ہے زیادہ ہونا۔ ضفا یضفو ضفواً، زیادہ ہونا، کثیر ہونا۔
تو ضافی، ضافی اسی سے ہے، کثرت والا، اور یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، بِذَنَبٍ ضَافٍ، ذنب دم کو کہتے ہیں بھئی، دم کو، تو یعنی خوب کثیر بالوں والی دم ہے۔ فُوَيقَ الأَرْضِ، فویق یہ تصغیر ہے فوق کی، فوق کا کیا معنی؟ اوپر، تو فویق کا معنی؟ تھوڑا سا اوپر، تھوڑا سا اوپر۔
فُوَيقَ الأَرْضِ، بھئی یاد رکھیے، گھوڑے میں چھوٹی دم ہو، یہ بھی عیب، اور حد سے زیادہ لمبی دم ہے کہ زمین پر بال گھسٹ رہے ہیں، وہ بھی ناپسندیدہ، البتہ لمبی دم ہو، کثیر بالوں والی ہو اور زمین کے قریب تک ہو لیکن زمین پر نہ لگ رہی ہو بھئی، یہ دم پسندیدہ ہے۔ تو اسی لیے کہا: بِذَافٍ فُوَيقَ الأَرْضِ، کثیر بالوں والی دم ہے، زمین سے تھوڑی سی اونچی۔
لَيْسَ بِأَعْزَلِ، اعزل کہتے ہیں وہ حیوان جو عادتاً اپنی دم کو ایک طرف ٹیڑھا کر کے رکھتے ہیں، بعض حیوانات کی عادت ہوتی ہے، وہ اپنی دم کو ٹیڑھا رکھتے ہیں ایک طرف، اور یہ بھی گھوڑوں کے اندر عیب شمار ہوتا ہے، گھوڑوں کے اندر، تو کہا: لَيْسَ بِأَعْزَلِ، وہ اعزل نہیں ہے، ٹیڑھی دم والا نہیں ہے۔
ظَلِيعٍ إِذَا اسْتَدْبَرْتَهُ سَدَّ فَرْجَهُ بِذَافٍ فُوَيقَ الأَرْضِ لَيْسَ بِأَعْزَلِ
کہ میرا وہ گھوڑا جو ہے، وہ بھاری سینے اور مضبوط پسلیوں والا ہے، إِذَا اسْتَدْبَرْتَهُ، جب تو اس کو پیچھے سے دیکھے گا، سَدَّ فَرْجَهُ، تو وہ پور کر دیتا ہے۔ إِذَا اسْتَدْبَرْتَهُ، جب تو اس کو پیچھے سے دیکھے گا، سَدَّ فَرْجَهُ بِذَافٍ، تو وہ پور کر دیتا ہے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان کی کشادگی کو بِذَافٍ، ایک ایسی کثیر بالوں والی دم کے ساتھ، فُوَيقَ الأَرْضِ، جو زمین سے تھوڑی سی اونچی ہے، لَيْسَ بِأَعْزَلِ، اور وہ گھوڑا اعزل بھی نہیں ہے، ٹیڑھی دم والا بھی نہیں ہے۔
كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ إِذَا انْتَحَى مَدَاكَ عَرُوسٍ أَوْ صَلايَةَ حَنْظَلِ
كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ، بعض کتابوں میں یہاں دوسرا مصرع ہو گا بھئی۔
بعض میں: كَأَنَّ سَرَاتَهُ لَدَى البَيْتِ قَائِمًا، یہ ہے، ہو گا بعض کتابوں میں بھئی۔ تو بعض اشعار میں جو یہ روایت آئی ہے، بعض میں یہ مصرع ہے: كَأَنَّ سَرَاتَهُ لَدَى البَيْتِ قَائِمًا، پہلا مصرع، اور بعضوں میں یہ جو لکھا ہوا ہے: كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ إِذَا انْتَحَى۔
اچھا، متن، متن آپ جانتے ہیں کمر کو کہتے ہیں، متنینِ، دو کمریں۔ بھئی کمر تو ایک ہی ہوتی ہے، مراد یہ ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کے ایک، ایک طرف کے حصے کو ایک کمر قرار دے دیا، اور دوسری طرف کے حصے کو دوسری کمر قرار دے دیا۔
إِذَا انْتَحَى، انتحى کا کیا معنی؟ کہیں آیا ہے؟ جی، کہاں؟ كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ إِذَا انْتَحَى مَدَاكَ عَرُوسٍ أَوْ صَلايَةَ حَنْظَلِ
فَأَخْرَجْتُهَا تَمْشِي تَجُرُّ وَرَاءَنَا "کیا تھا؟" عَلَى أَثَرَيْنَا ذَيْلَ مِرْطٍ مُرَحَّلِ "آگے؟" فَلَمَّا أَجَزْنَا سَاحَةَ الحَيِّ "وانْتَحَى بِنَا بَطْنُ خَبْتٍ ذِي حِقَافٍ عَقَنْقَلِ وانتحى کیا معنی تھا؟" اعتماد کرنا، اعتماد کرنا لیکن یہاں اس کا معنی ہے، سامنے آنا یا کھڑے ہونا۔
سامنے آنا، اسی طرح اس کے ایک معنی آتے ہیں کھڑا ہونا، دونوں یہاں جو بھی اپ کو مناسب لگے، مداک بھئی مداک۔ دَكَّ يَدُكُّ دَكًّا کا معنی ہوتا ہے پیسنا بھئی عربی میں، دَكَّ يَدُكُّ دَكًّا پیسنا، کوٹنا۔
تو مداک بھئی، اس میں ظرف کا صیغہ ہے۔ پیسنے کی جگہ، بھئی قدیم زمانے میں اج بھی دیہات میں اپ دیکھتے ہوں گے، چیزوں کو پیسنے کے لیے وہ پتھر کی سل ہوتی ہے ہموار سی بھئی اور اس کے اوپر وہ لوگ مصالحہ، مصالحہ وغیرہ اور اس طرح کی چیزیں پیستے ہیں بھئی، اس کو کہتے ہیں مداک بھئی وہ پیسنے کی چیز، آلہ، پیسنے کی جگہ جی۔
تو مداک عروس اور عروس کہتے ہیں دلہن کو، دلہن کو، مداک عروس، او صلایة حنظل، صلایا یہ بھی اسی کا نام ہے بھئی، وہ پتھر کی سل جس پر چیزوں کو پیسا جاتا ہے اس کا ایک نام صلایة بھی ہے، صلایۃ۔
حنظل بھئی، حنظل کسے کہتے ہیں؟ حنظل یعنی حنظل بھئی، کہاں گزرا ہے؟ کأنی غداة التحلل لدى سمرات الحي ناقف حنظل، اچھا۔ كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ إِذَا انْتَحَى مَدَاكَ عَرُوسٍ أَوْ صَلاَيَةَ حَنْظَلِ۔
گویا کہ علی المتنین منہ اس گھوڑے کی دو کمروں پر، دو کمر، کمر تو ایک ہے بہرحال میں نے بتلا دیے دونوں جانب کو ریڑھ کی ہڈی کے دونوں جانب کو ایک ایک کمر قرار دے دیا تو بہرحال وہی ترجمہ کرنا ہے کمر والا، كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ گویا کہ اس گھوڑے کی کمر پر مداک عروس یہ کانّ کا اسم ہے۔
علَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ یہ کیا ہے؟ کانّ کی خبر ہے، یاد رکھیے جو جار مجرور ہوتے ہیں نا جار مجرور، یہ اول تو کسی سے جڑ جائیں گے اور یاد رکھیے یہ جب آئیں تو یہ خبر تو بن سکتے ہیں، مبتدا کبھی نہیں بن سکتے۔ اگر یہ شروع میں بھی آ جائیں، سمجھ جائیں یہ کیا ہے، خبرِ مقدم ہو سکتے ہیں مبتدا نہیں ہو سکتے۔
اسی طرح اگر یہ انّ، انّ، کانّ وغیرہ کے بعد آ جائیں، تو بھی یہ ان کی خبر ہوں گے، ان کا اسم نہیں ہوں گے۔ لہذا اسم پھر آگے آئے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں انّ فی الدارِ رجلاً، دیکھا یہ فی الدار کیا ہے انّ کی؟ خبرِ مقدم، اور رجلاً یہ کیا ہے اسمِ، لہذا آپ سے کوئی پوچھے یہ رجلاً کیوں منصوب پڑھا؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ انّ کا اسمِ مؤخر ہے۔
تو یہاں بھی اسی طرح کانّ کے بعد جار مجرور آیا، یہ اس کی خبرِ مقدم ہے اور آگے مداک عروس یہ کیا ہے اس کا اسمِ مؤخر بھئی۔ گویا کہ اس گھوڑے کی کمر پر مداک عروس دلہن کی وہ خوشبو وغیرہ پیسنے والی سل ہے، اسی پر عرب خوشبو وغیرہ بھی پیستے مختلف قسم کی، قدیم زمانے میں جو ہوتی تھی۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جیسے مہندی ہے بھئی، مہندی بھی تو رنگ بھی اور خوشبو بھی ہوتی ہے یا نہیں اس کی؟ تو اس کو بھی پیسا جاتا ہے۔ تو اس طرح کی کوئی خوشبوئیں وغیرہ ہوں گی جو پیستے ہوں گے ان سلوں پر۔ تو جیسے دلہن کی وہ سل ہوتی ہے، اس کی طرح ہیں اس گھوڑے کی کمر پر گویا کہ دلہن کی خوشبو پیسنے والی سل ہے۔
تو گھوڑے کی، یاد رکھیے گھوڑے کی کمر پسندیدہ ہے جب وہ گوشت سے پر ہو اور ہموار ہو۔ اگر گھوڑا کمزور سا ہے، دبلا پتلا ہے تو اس کی ریڑھ کی ہڈی نکلی ہوئی ہو گی اور یہ سخت ناپسندیدہ ہے بھئی، یہ تو سواری میں بڑی تکلیف ہو گی بلکہ اس کی کمر، آپ زین وغیرہ بھی رکھیں گے وہ تو زخمی ہو جائے گی۔ تو جتنی ہموار ہو اتنی پسندیدہ ہے۔
تو اسی لیے کہا گویا کہ اس کی کمر پر کیا ہے؟ دلہن کی خوشبو پیسنے والی سل ہے او صلایة حنظل، یا حنظل کو پیسنے والی سل ہے۔ حنظل کو، وہ سل جس پر حنظل کو توڑ کر، کوٹ کر اس کے بیج نکالے جاتے ہیں یا وہ سل جس پر حنظل کے بیجوں کو پیسا جاتا ہے۔ میں نے بتلایا تھا حنظل یہ بڑا کڑوا پھل ہے اور ویسے تو حیوانات بھی اس کو نہیں کھاتے، تو اس سے دوائیاں وغیرہ شاید بناتے ہوں کہیں کسی جگہ کام آتا ہو۔
كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ، اچھا، تو اس کی کمر پر دلہن کی خوشبو پیسنے والی سل ہے یا حنظل پیسنے والی سل ہے، کب؟ اذ انتحی، جب وہ کھڑا ہو، جب وہ کھڑا ہو تو آپ کو یوں معلوم ہو گا کہ اس کی کمر پر دلہن کی خوشبو پیسنے والی سل پڑی ہے یعنی اس کی طرح ہموار ہے۔ اور دلہن کی کہا، دلہن کی کیونکہ ظاہر سی بات ہے وہ سل نئی ہو گی اور چمکدار ہو گی۔ تو اسی طرح یہ گھوڑا بھی میرا نوجوان ہے اور اس کی کمر بھی بڑی چمکدار ہے بھئی۔
تو جب گو-، تو گویا کہ اس کی کمر پر جس وقت یہ سامنے آئے، میں نے بتایا نا دو معنی ہیں انتحی کا، سامنے آنا اور کھڑے ہونا، جب وہ سامنے ہو، سامنے آئے یا وہ جب کھڑا ہو تو گویا اس کی کمر پر دلہن کی خوشبو پیسنے والی سل ہے یا حنظل پیسنے والی سل ہے۔
كَأَنَّ دِمَاءَ الهَادِيَاتِ بِنَحْرِهِ عُصَارَةُ حِنَّاءٍ بِشَيْبٍ مُرَجَّلِ، دماء جمع ہے دم کی، دم کی، دم خون کو کہتے ہیں بھئی۔ اور ہادیات جمع ہے ہادیۃ کی اور ہادیۃ رہنمائی کرنے والی، دیکھا ہدی یہدی سے ہے نا، ہادی کس کو کہتے ہیں؟ رہنمائی کرنے والا، جو آگے ہوتا ہے، جو آگے ہوتا ہے اور قوم اس کے پیچھے، اس کو ہادی کہتے ہیں۔
اسی طرح حیوانات کے گلے کے اندر، ان کے ریوڑ میں جو گائے وغیرہ آگے ہوں ان کو ہادیات کہتے ہیں۔ کیا ہیں؟ ہادیات۔ جیسے ہادی آگے ہوتا ہے، قوم کی رہنمائی کرتا ہے، اسی طرح یہ آگے والی گائے بھی گویا ہادیات ہیں، یہ جس طرف کو دوڑ لگاتی ہیں، سارا ریوڑ ان کے پیچھے ادھر ہی کو چلتا بھاگتا جاتا ہے بھئی۔ تو وہ ہادیات ہیں۔
بنحرہ، نحر کہتے ہیں یہ سینے کا اوپر والا حصہ، آپ جانتے ہیں اونٹ کو نحر کرتے ہیں بھئی، یہ آپ اپنے اگر گردن پر دیکھیں، یہ ایک بڑا نرم حصہ ہے بھئی، گڑھا سا پڑا ہوا ہے بالکل گردن کے نیچے، سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو یہ یہاں پر وہ اونٹ کا یہ حصہ، یہاں پر نیزہ مارا جاتا ہے اس سے اس کا سارا خون نکل جاتا ہے اور تو یہ مراد یہاں سینے کا اگلا حصہ ہے، اوپر والا حصہ ہے۔
عصارہ، عصارہ کہتے ہیں عرق اور نچوڑ کو بھئی، کسی چیز کو نچوڑا، جو عرق نکلا، نچوڑ نکلا، اس کو عصارہ کہتے ہیں۔ حنّاء بھئی حنّاء، حنّاء نون مشدد ہے بھئی، یہ مہندی کو کہتے ہیں، مہندی۔ اردو میں تو حنا ہے نا نون کی تخفیف کے ساتھ استعمال ہوتا ہے لیکن عربی میں نون کی تخفیف کے ساتھ نہیں ہے یاد رکھنا، نون مشدد ہے بھئی حنّاء مہندی کو کہتے ہیں۔
شیب، شیبٌ یاد رکھیے، شیب بڑھاپے کو بھی کہتے ہیں، بالوں کی سفیدی کو بھی کہتے ہیں، اور سفید بالوں کو بھی کہتے ہیں۔ بڑھاپا، بالوں کی سفیدی اور سفید، تو یہاں سفید بال ہیں مراد بھئی۔ مرجل، مرجل ترجیل سے ہے ترجیل، رجل یرجل ترجیل کا معنی ہے بالوں کو کنگھی کرنا، کنگھی کرنا۔
تو مرجل اسم مفعول ہے، کیا معنی ہوا؟ کنگھی کیے ہوئے۔ كَأَنَّ دِمَاءَ الهَادِيَاتِ بِنَحْرِهِ عُصَارَةُ حِنَّاءٍ بِشَيْبٍ مُرَجَّلِ۔ امرؤالقیس پہلے ذکر کر چکا کہ میں صبح سویرے نکلتا ہوں، کیا آیا تھا وہاں شعر کیا آیا تھا؟ وقد اغتدی والطیر فی وکناتها بمنجرد قید الأوابد ہیکلی، قید الأوابد میرا یہ گھوڑا کیسا ہے؟ یرحمک اللہ، میرا یہ گھوڑا کیسا ہے؟ میرا یہ گھوڑا کیسا ہے؟ قید الأوابد، جنگلی جانوروں کے لیے پاؤں کی بیڑی ہے یعنی ان کو قید کرنے والا ہے، جس کے پیچھے لگ جائے اتنی رفتار والا ہے کہ پھر وہ بچ نہیں سکتا۔
تو ذکر کر رہا ہے کہ ان جنگلی گایوں وغیرہ کا ہم شکار میں شکار کرتا ہوں اور یہ، یہ گھوڑا اتنا برق رفتار ہے کہ جس جب میں شکار کے لیے اس پر جنگلی گایوں کے پیچھے دوڑتا ہوں تو یہ مجھے لمحوں کے اندر ریوڑ کے پچھلی نہیں، اگلی گایوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ہادیات کہا، اگلی گایوں تک پہنچا دیتا ہے اور پھر ان گایوں کو میں نیزے مار کر گراتا ہوں، تو جب ان کو نیزے لگتے ہیں ان کا خون کچھ چھینٹے وغیرہ اس گھوڑے کے بھی سینے پر لگتے ہیں۔
تو وہ اس سینے پر لگا ہوا جو خون ہے اس گھوڑے کے، وہ اس طرح چمک رہا ہے جیسے کنگھی کیے ہوئے بالوں میں مہندی کا رنگ چمک رہا ہوتا ہے۔ دیکھو عجیب تشبیہ بھئی! شکار کر رہا ہے اور شکار بھی کس کو کر رہا ہے جو ریوڑ کے آگے دوڑنے والیاں ہیں، سب سے آگے ہیں ان کو بھئی۔ كَأَنَّ دِمَاءَ الهَادِيَاتِ بِنَحْرِهِ عُصَارَةُ حِنَّاءٍ بِشَيْبٍ مُرَجَّلِ۔
گویا کہ یہ ریوڑ کے آگے دوڑنے والی جنگلی گایوں کا خون جو ہے بنحرہ اس گھوڑے کے سینے پر، وہ یوں لگ رہا ہے جیسے کہ عصارة حناء بشيب مرجل، ترجمہ میں آخر سے کروں گا لفظی ترجمہ، وہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کنگھی کیے ہوئے سفید بالوں میں مہندی کا عرق ہو، جیسے کنگھی کیے ہوئے سفید بالوں میں مہندی کا عرق ہو، اس طرح چمک رہا ہوتا ہے۔
گویا کہ ریوڑ کے آگے دوڑنے والی جنگلی گایوں کا خون جو ہے بنحرہ اس گھوڑے کے سینے پر، عصارة حناء بشيب مرجل وہ اسی طرح ہوتا ہے جیسے کہ سفید کنگھی کیے ہوئے سفید بالوں پر مہندی کا عرق ہو۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی اچھی طرح؟