Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 16 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 141
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی، أُمِرَّتْ يَدَاهَا فَتْلَ شَذْرٍ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ جَنُوحٌ دِفَاقٌ عَنْدَلٌ ثُمَّ أُفْرِعَتْ لَهَا كَتِفَاهَا فِي مُعَالًى مُصَعَّدِ كَأَنَّ عُلُوبَ النِّسْعِ فِي دَعَيَاتِهَا مَوَارِدُ مِنْ خَلْقَاءَ فِي ظَهْرِ قَرْدَدِ طرفۃ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے۔ وہ اپنی اونٹنی کی تعریف کر رہا ہے، اس کی مختلف صفات ذکر کر رہا ہے۔ آگے وہ ‏کہتا ہے:‏ أُمِرَّتْ يَدَاهَا فَتْلَ شَذْرٍ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ امر يمير امرار کا معنی ہے بل دینا بھئی، دھاگے وغیرہ یا رسی کو بل دینا، اس کو بٹنا، اس کو مضبوط بنانا۔ آپ جانتے ‏ہیں دھاگے کو بل زیادہ دیے جائیں گے، وہ مضبوط زیادہ ہوگا اور بل تھوڑے ہوں گے تو کم مضبوط ہوگا۔ تو امر کا کیا ‏معنی ہے؟ دھاگے وغیرہ کو بل دینا، اس کو مضبوط بنانا۔ یداہا، یہ اصل میں تثنیہ ہے یدانِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ اس کے جو دو ہاتھ ہیں، مراد کیا ہیں؟ اگلے دو پاؤں۔ ‏میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ حیوانات کے اندر اگلے دو پاؤں جو ہیں ان کو ید کہا جاتا ہے اور پچھلے پاؤں کو، پچھلے ‏دونوں پاؤں کو رجل بھئی۔ فتل شذرٍ، فتل یفتل فتلاً کا معنی بھی بل دینا اور بٹنا ہے بھئی، رسی کو، دھاگے کو بل دینا۔ شذرٌ، شذرٌ کہتے ہیں نہ ہموار ‏دھاگے کو بھئی، نہ ہموار دھاگا جو ہو۔ واجنحت، جنح یجنح کے معنی ہیں جھکنا اور مائل ہونا۔ جنح یجنح کا کیا معنی؟ جھکنا اور مائل ہونا ایک طرف کو۔ تو اسی ‏کو باب افعال میں لے گئے اجنح یجنح، اور باب افعال کیا کرتا ہے؟ لازم کو متعدی بنا دیتا ہے۔ تو اجنح کا معنی ہے ‏جھکانا۔ جنح کا معنی تھا جھکنا اور اجنح کا معنی ہے جھکانا۔ عضداہا، عضدا یہ بھی تثنیہ ہے بھئی، اصل میں تھا عضدانِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ اور عضد کہتے ہیں بازو ‏کو بھئی، بازو۔ یہ کندھے سے لے کر کہنی تک کا جو حصہ ہے ہاتھ کا، اس کو کہتے ہیں عضد بھئی، عضد، بازو۔ فی سقیفٍ مسندِ، سقیف اور سقفٌ کا ایک ہی معنی ہے، چھت کو کہتے ہیں بھئی، چھت۔ مسند، مسند، مسند کا معنی مضبوط ‏بھی اور اسی طرح اس کا معنی سہارا دیا گیا ہو جس کو۔ سند یسند تسنید کا معنی ہے سہارا دینا، تو مسند جس کو سہارا دیا ‏گیا ہو۔ تو دونوں معنی، سہارا جس کو دیا گیا ہو، ظاہر سی بات ہے وہ کیا ہوگی؟ مضبوط ہوگی، تو مضبوط اور سہارا دیا ‏ہوا۔ أُمِرَّتْ يَدَاهَا فَتْلَ شَذْرٍ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ أمرت يداها، بل دیا گیا ہے اس کے دونوں ہاتھوں کو، یعنی دونوں اگلے پاؤں کو بل دیا گیا ہے۔ فتل شذرٍ، جیسے کہ دھاگے ‏کو بل دیے جاتے ہیں۔ تو اس کے اگلے دونوں پاؤں جو ہیں ان کو بل دیے گئے ہیں جیسے کہ دھاگے کو بل دیے جاتے ‏ہیں۔ معنی یہ ہے جیسے دھاگے کو بل دیے جاتے ہیں اور مضبوط ہوتا ہے بل دینے سے مضبوط ہو جاتا ہے، اسی طرح اس ‏کے اگلے دونوں قدم بھی بڑے مضبوط ہیں، مضبوط ہیں۔ اور نیز، نیز دھاگے کو جب آپ بل دیتے ہیں تو اس میں سختی ‏اور اکڑاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری یہ جو اونٹنی ہے، اس کے جو دونوں پاؤں ہیں وہ بھی وہ بھی جب بیٹھتے ‏ہوئے، گزشتہ اشعار میں آیا تھا کہ اس کے پاؤں کیا ہیں؟ ان میں فاصلہ ہے، کیا ہے؟ فاصلہ ہے، جو جو کہ اس کی رفتار ‏کے اندر بھی معاون بنتا ہے اور ٹھوکر کھانے سے بھی وہ بچتی ہے۔ تو یہاں پر بھی یہی بیان کر رہا ہے کہ اس کے جو دونوں اگلے پاؤں ہیں وہ اس طرح ہیں جیسے دھاگے کو بل دیا جاتا ‏ہے، تو اس کے پاؤں کو بھی گویا بل دیا گیا ہے اور دھاگے کو جب بل دیا جائے اس میں اکڑاؤ پیدا ہوتا ہے، سختی پیدا ‏ہوتی ہے۔ تو اسی طرح، تو اسی طرح میری اونٹنی کے جو دو پاؤں ہیں وہ بھی بیٹھتے ہوئے اس کے سینے سے الگ ‏رہتے ہیں، جیسے ان میں بھی اکڑاؤ اور سختی ہو، بل دیا ہوا ہو اور بڑے مضبوط قدم ہیں اس کے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ ‏گیا؟ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ وأجنحت، اور مائل کیے گئے ہیں، جھکائے گئے ہیں، لها، اس اونٹنی کے لیے، عضداها، اس کے دونوں بازو۔ اس اونٹنی ‏کے دونوں بازوؤں کو کیا کیا گیا ہے؟ مائل کیا گیا ہے، جھکایا گیا ہے، کس چیز میں؟ في سقيفٍ مسندٍ، ایک مضبوط چھت ‏میں۔ اس اونٹنی کے اگلے دونوں قدموں کو جھکا کر کس میں لگایا گیا ہے؟ ایک ایک مضبوط چھت میں۔ گویا اس اونٹنی کی جو ‏کمر، پشت اور اس کا سینہ ہے، اس کو چھت کے ساتھ تشبیہ دے دی۔ دونوں قدم کس میں لگے ہوئے ہیں؟ اس کے سینے ‏کے اندر اگلا حصہ جو ہے، وہ کندھے جو ہیں وہ کمر اور سینے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، تو ان کو چھت کے ساتھ تشبیہ ‏دے دی۔ جیسے چھت کے اندر ستونوں کو جھکا کر چھت کو سہارا دیا جاتا ہے، اسی طرح ایک مضبوط چھت کو سہارا دیا ‏گیا ہے کس کے ذریعے؟ ان دو دو، ان دو اگلے قدموں کے ذریعے۔ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا، اور جھکائے گئے ہیں یعنی جھکا کر لگائے گئے ہیں، عضداها، اس اونٹنی کے دونوں بازو جو ہیں ‏یعنی اگلے پاؤں جو ہیں، فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ، ایک مضبوط چھت میں یا ایک سہارا دی ہوئی چھت میں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتا ہے:‏ أُمِرَّتْ يَدَاهَا فَتْلَ شَذْرٍ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ اس اونٹنی کے اگلے دونوں قدم جو ہیں ان کو بل دیے گئے ہیں جیسے دھاگے کو بل دیے جاتے ہیں اور جھکا کر لگائے ‏گئے ہیں اس کے دونوں بازو ایک مضبوط چھت میں یا ایک سہارا دی ہوئی چھت میں۔ جَنُوحٌ دِفَاقٌ عَنْدَلٌ ثُمَّ أُفْرِعَتْ لَهَا كَتِفَاهَا فِي مُعَالًى مُصَعَّدِ جنوحٌ، یہ پھر وہی جنح سے آ گیا، جنح یجنح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مائل ہونا، ایک طرف جھکنا۔ تو اسی سے جنوحٌ مبالغے ‏کا صیغہ ہے، خوب جھکنے والی ہے۔ خوب جھکنے والی ہے، کیا معنی خوب جھکنے والی ہے؟ اچھا، چلیں پہلے الفاظ کے معنی دیکھ لیں۔ خوب جھکنے والی ہے۔ دفاقٌ، دفق کا معنی ہے کودنا بھئی، تو دفاقٌ کودنے والی ‏ہے، اچھلنے والی ہے، اچھلنے والی ہے۔ عندَلٌ، عندل کا معنی ہے بڑے سر والی، جس کا سر بڑا ہے یعنی بڑے جسم والی ‏ہے۔ ثم أفرعت، أفرع يفرع کے معنی ہیں اونچا کرنا، اونچا کرنا، اوپر اٹھانا۔ لها کتفاها، کتف یہ بھی اصل میں تثنیہ ہے کتفانِ، ‏اس کے جو دو کندھے ہیں، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا کتفاها، اس کے دو کندھے جو ہیں۔ في معالاً، معالی کا معنی ‏ہے اوپر کیا ہوا، بلند کیا ہوا، اور مصعد کا معنی بھی اوپر کیا ہوا، بلند کیا ہوا ‏structure۔ تو یہ معالی، یہ صفت ہے موصوف محذوف ہے، أي في ظهرٍ معالاً مصعدِ، اس کی وہ پشت اور وہ کمر جس کو اونچا کیا ‏گیا ہے، جو بلند ہے۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں آ گئے؟ جَنُوحٌ دِفَاقٌ عَنْدَلٌ ثُمَّ أُفْرِعَتْ لَهَا كَتِفَاهَا فِي مُعَالًى مُصَعَّدِ جنوحٌ، کہ وہ میری وہ اونٹنی مائل ہونے والی ہے، جھکنے والی ہے۔ کیا معنی مائل ہونے والی ہے، جھکنے والی ہے؟ ‏معنی یہ ہے کہ بڑی طاقتور ہے اور یہ جب چلتی ہے تو مستی کے عالم میں کبھی ایک طرف جھکتی ہے، کبھی دوسری ‏طرف جھکتی ہے۔ کبھی ایک طرف جھکتی ہے، کبھی دوسری، اب آپ حیران ہوں گے کیا معنی ایک طرف جھکتی ہے، دوسری طرف ‏جھکتی ہے؟ بھئی، آپ نے کبھی پہلوان کو اکھاڑے میں اترتے ہوئے دیکھا ہے؟ جب پہلوان اکھاڑے میں اترتا ہے وہ ایک ‏چکر لگاتا ہے اپنی طاقت کا اور قوت کا اظہار کرتے ہوئے، آپ نے اس کو دیکھا ہوگا کہ وہ اچھلتے ہوئے ایک عجیب ‏جھومتے ہوئے اور طاقت کا اظہار کرتے ہوئے کبھی ایک کندھا تھوڑا ایک طرف جھکاتا ہے، کبھی دوسرا کندھا دوسری ‏طرف جھکاتا ہوا چل رہا ہوتا ہے مستی کے عالم میں۔ وہ صورت ذہن میں آ گئی؟ تو وہ جو پہلوان کی چال ہے وہ جو جھومتے ہوئے مستی کے عالم میں کندھے ہلاتے ہوئے ‏کبھی ایک طرف تھوڑا سا جھکتا ہوا، ہر قدم پہ کبھی ایک طرف جھکتا ہے دوسرے قدم پہ تھوڑا سا دوسری طرف جھکتا ‏ہے، خوب اپنے بازو وغیرہ ہلاتے ہوئے چلتا ہے۔ یہ ہے مستی کے عالم میں جھکتے ہوئے ‏चलना، صورت ذہن میں آ ‏گئی؟ تو یہ یہ بتلانا یہ چاہتا ہے میری اونٹنی بڑی طاقتور ہے اور یہ بھی جب چلتی ہے تو جھومتی ہوئی چلتی ہے طاقت ‏اور قوت اور نشاط کی وجہ سے، کبھی یوں معلوم ہوتا ہے ایک طرف تو تھوڑا سا جھک رہی ہے، کبھی دوسری طرف ‏کو جھک رہی ہے۔ صورت ذہن میں آ گئی؟ اور یہ اسی طرح ہے جیسے آپ طواف کے دوران رمل کرتے ہیں، رمل۔ آپ نے پڑھا ہوگا بھئی، ‏آپ نے پڑھا ہوگا فقہ کی کتابوں میں حج کا طریقہ جب ذکر ہوتا ہے، تو وہاں وہ ذکر ہوتا ہے کہ وہ طواف جس میں انسان ‏نے احرام باندھا ہوا ہو اور اس کے بعد سعی بھی ہو، وہ طواف جس میں کیا ہو؟ احرام باندھا ہوا ہو اور اس طواف کے بعد ‏سعی بھی ہو یعنی عمرے یا حج کا طواف ہے اور اس کے پہلے تین چکروں میں، اس طواف میں سات چکر ہوتے ہیں کل، ‏بیت اللہ کے سات چکر لگائے جائیں تو طواف مکمل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد طواف کے دو واجب رکعتیں پڑھی جاتی ‏ہیں بھئی۔ اور بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور عموماً لوگ جو وہ کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ دو رکعتیں جو ہیں مقامِ ابراہیم ‏کے پاس پڑھنا افضل ہے، تو سارے لوگ کوشش کرتے ہیں مقامِ ابراہیم کے پاس وہ جو ایک سنہری جالی بیت اللہ کے ‏پاس لگی ہوئی ہے اس کے دروازے کے قریب ہی تصویروں میں آپ دیکھیے آپ کو ایک سنہری جالی نظر آئے گی ‏چھوٹی سی اور اس کے اندر وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی ‏تھی، تو وہ ہے مقامِ ابراہیم بھئی۔ تو کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ طواف کی دو رکعتیں مقامِ ابراہیم کے پاس پڑھنا افضل ‏ہے، تو سارے لوگ وہاں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہاں بڑا ہجوم ہوتا ہے، بڑا رش ہوتا ہے، لوگ بڑی ‏تکلیف میں پڑھ جاتے ہیں۔ تو وہاں نہیں پڑھنی چاہیے الا یہ کہ رش ہے ہی نہیں، کوئی ہے کم لوگ ہیں بہت طواف کرنے والے، جگہ ہے پھر تو ‏انسان پڑھ لے ورنہ پھر کہیں بھی حرم کے اندر کسی بھی حصے میں وہ دو رکعتیں جو طواف کی واجب ہیں، ادا کر لینی ‏چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، یہ ویسے ایک بات ذہن میں آ گئی، میں نے کہا آپ کو بتلا دوں کبھی اللہ آپ سب کو بار بار وہاں ‏کی زیارت نصیب فرمائے، تو وہاں پر یہ ضروری نہیں کہ اب آپ وہاں جائیں اور مقامِ ابراہیم کے پاس وہ طواف کی دو ‏رکعتیں پڑھنے لگیں اور طواف کرنے والے بیچارے تکلیف میں، بہت تکلیف میں پڑھ جاتے ہیں بھئی، بڑا رش ہوتا ہے، ‏بڑا ہجوم ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ حج کے دنوں میں تو اتنا ہجوم ہو جاتا ہے، اتنا رش کہ اگر کوئی گر جائے تو اس کا زندہ بچنا مشکل ہو جاتا ہے ‏بھئی، جو گر جائے بلکہ جو گرتا ہے اس کے پیچھے اس کے اوپر کئی اور گر جاتے ہیں، تو کبھی اگر ایسا حادثہ ہو ‏جائے پھر اس کا بچنا مشکل ہوتا ہے بھئی، اتنا ہجوم ہوتا ہے۔ اچھا، میں بات کر رہا تھا رمل کی، تو یہ جو طواف ہے یہ عمرے یا حج وغیرہ کا جس میں احرام باندھا ہوا ہے، اس کے ‏پہلے تین چکروں میں رمل کرنا بھی مسنون ہے۔ رمل رمل وہ پہلوانوں کی طرح کندھے ہلاتے ہوئے، ہلکی رفتار سے ‏دوڑتے ہوئے، پہلوان کو دیکھا ہے اکھاڑے میں چکر لگاتا ہے، وہ ہلکی سی رفتار سے دوڑ رہا ہوتا ہے بھئی، اور خوب ‏کندھے ہلاتا ہوا اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہوا چل رہا ہوتا ہے۔ تو اسی طرح رمل کیا جاتا ہے بھئی۔ رمل کے اندر بھی ‏پہلے تین چکروں، رمل پہلے تین چکروں میں کرنا مسنون ہے اور اس میں بھی انسان اپنے کندھے ہلاتا ہوا، ہلکی رفتار ‏سے دوڑتا ہوا، خوب اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہوا چلتا ہے بھئی۔ یہ ہے رمل اور وجہ اس کی یہ تھی کہ مسلمان جب آئے تھے تو مکہ کے لوگوں نے مشہور کر دیا تھا آپس میں کہ مدینہ ‏کی آب و ہوا نے، یہاں سے جتنے ہمارے لوگ گئے ہیں مدینہ منورہ، وہ سارے کمزور ہو گئے ہیں۔ مدینہ کی آب و ہوا ‏نے ان کو کمزور کر دیا ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھئی، پہلے تین چکروں میں رمل کرو بھئی۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ ‏تعالیٰ علیہم اجمعین، احرام باندھے ہوئے ہیں سب نے اور وہ جب شروع کے تین چکر لگا رہے ہیں، خوب طاقت کا اظہار ‏کرتے ہوئے، پہلوانوں کی طرح کندھے ہلاتے ہوئے، ہلکی رفتار سے دوڑتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ‏بھئی۔ تو مشرکین پہ ہیبت طاری ہو گئی بھئی، انہوں نے کہا آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے، تم لوگ تو کہتے ‏تھے یہ کمزور ہو گئے ہیں، یہ تو پہلوانوں کی طرح بن گئے ہیں سارے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اس، یہ مسنون ‏ہے اس طرح کرنا بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے کہ جَنُوحٌ، میری اونٹنی بھی اسی طرح ہے، وہ بھی جب چلتی ہے، جھومتی ہوئی چلتی ہے، دِفَاقٌ اور اور ‏اچھلتی ہوئی، کودتی ہوئی، تھوڑی ہلکی رفتار سے دوڑتی ہوئی چلتی ہے طاقت اور نشاط کی وجہ سے بھئی۔ دِفَاقٌ، اچھلنے والی ہے۔ معنیٰ یہ ہے کہ خوب طاقت اور قوت کی وجہ سے یہ اچھلتی ہوئی چلتی ہے۔ بھئی دیکھو، ایک ‏ہے عام رفتار سے چلنا، اطمینان سے اونٹ چل رہا ہوگا اور ایک یہ ہے جب قوت زیادہ ہے اور اس کے اوپر ایک ادھ ‏سوار ہے اس کی تو اس کو پروا ہی نہیں، تو وہ چلنے کے بجائے تھوڑا سا دوڑ کی سی رفتار بن جائے گی۔ کس کی طرح ‏بن جائے گی؟ تھوڑی سی دوڑ کی سی رفتار بن جائے گی اور دوڑ کے اندر ظاہر سی بات ہے، ہر قدم پر وہ تھوڑا تھوڑا ‏اچھلتے ہوئے چلے گا یا نہیں حیوان؟ تو وہ کودنا مراد ہے، اچھلتے ہوئے چلتی ہے یعنی کودتے ہوئے چلتی ہے، اس کو ‏پروا بھی نہیں ہوتی اس کے اوپر وزن وغیرہ کچھ ہے کہ نہیں ہے بھئی۔ صورت ذہن میں آ گئی؟ تو جَنُوحٌ، جھومتی ہوئی چلتی ہے، دِفَاقٌ، اچھلتی ہے، عَنْدَلٌ، بڑے سر والی ہے یعنی اس کا جسم بڑا ہے، طاقتور اونٹنی ‏ہے، مضبوط ہڈیوں والی ہے۔ ثُمَّ أُفْرِعَتْ، پھر بلند کیے گئے ہیں، لَهَا، اس اونٹنی کے، کَتِفَاهَا، دو کندھے۔ اس کے دو کندھے ‏بلند کیے گئے ہیں، اونچے کیے گئے ہیں، کس چیز میں؟ فِی مُعَالًى مُصَعَّدِ، اَیْ فِی ظَهْرٍ مُعَالًى مُصَعَّدِ، اس کی اونچی کی ‏ہوئی کمر میں۔ اس کی بلند کمر، جس وہ کمر جو بلند کی گئی ہے، اونچی کی گئی ہے، اس کے اندر اس کے دو کندھے بلند ‏کر کے لگائے گئے ہیں۔ ثُمَّ أُفْرِعَتْ لَهَا کَتِفَاهَا، پھر بلند کر کے اس کے دو کندھے لگائے گئے ہیں، فِی مُعَالًى مُصَعَّدِ، اس کی اونچی کمر کے اندر۔ ‏معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ جَنُوحٌ دِفَاقٌ عَنْدَلٌ ثُمَّ أُفْرِعَتْ لَهَا کَتِفَاهَا فِی مُعَالًى مُصَعَّدِ، کہ وہ میری اونٹنی جو ہے، اَیْ هِیَ جَنُوحٌ، ‏خبر ہے مبتدا محذوف ہے۔ میری جو اونٹنی ہے، وہ خوب جھوم کر چلنے والی ہے، دِفَاقٌ، کود کر چلنے والی ہے، عَنْدَلٌ، ‏بڑے سر والی ہے، ثُمَّ أُفْرِعَتْ لَهَا کَتِفَاهَا، پھر بلند کیے گئے ہیں اس کے دونوں کندھے، فِی مُعَالًى مُصَعَّدِ، اس کمر کے اندر ‏جو بلند اور اونچی ہے، اس میں اس کے دونوں کندھے بلند کر کے لگائے گئے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ کَأَنَّ عُلُوبَ النَّسْعِ فِی دَأَیَاتِهَا مَوَارِدُ مِنْ خَلْقَاءَ فِی ظَهْرِ قَرْدَدِ، عُلُوبَ، جمع ہے عَلْبٌ کی اور عِلْبٌ کہتے ہیں نشان کو، نشان۔ ‏نَسْعٌ، نَسْعٌ، نَسْعٌ، نَسْعٌ کہتے ہیں چمڑے کے باریک لمبے ٹکڑے بھئی۔ باریک لمبے ٹکڑے اور بھئی اونٹ کے اوپر ‏کجاوہ وغیرہ رکھا جاتا ہے اور اس کجاوے کو بعض اوقات رسی یا چمڑے کے ٹکڑوں کے ساتھ پھر باندھا جاتا ہے تاکہ ‏یہ دائیں بائیں نہ گرے بھئی۔ تو وہ جو چمڑے کے جو پیٹی ہے یا جو تسمے ہیں چمڑے کے یا وہ جو رسی ہے، وہ ہے ‏نَسْعٌ، وہ کیا ہے؟ نَسْعٌ، وہ چمڑے کے تسمے اور اس کی پیٹی بھئی۔ اور ایک پیٹی نہیں ہوتی، ظاہر سی بات ہے کجاوہ بڑا ہے تو کم از کم تین چار پیٹیاں تو ہوں گی۔ تو وہ تین چار پیٹیوں کے ‏ساتھ اس کی کمر پر اس کجاوے کو باندھ دیا جاتا ہے۔ فِی دَأَیَاتِهَا، دَأَیَات، یہ جمع ہے دَأَیَةٌ کی اور یہ کہتے ہیں پسلیوں اور ‏سینے کی ہڈی کے جہاں آپس میں ملتی ہیں، جہاں پسلیاں اور سینے کی ہڈی کیا ہیں آپس میں؟ یعنی یہ جو پسلیاں سینے پر آ ‏کر ملتی ہیں بھئی ہڈی کے ساتھ، اس کو تو یہ جگہ کیا ہے؟ دَأْیٌ بھئی، دَأَیَةٌ۔ اور یہاں مراد پسلیاں ہیں، بلکہ پسلیاں بھی نہیں، پسلیوں کے اوپر جو ظاہری جلد ہے اس اونٹ کی، وہ مراد ہے، سینے کی ‏جو ظاہری، توجہ ہے؟ ویسے تو یہ ان ہڈیوں کا نام ہے لیکن مراد سینے کی ظاہری جلد ہے بھئی کیونکہ وہ پیٹیاں باندھی ‏جاتی ہیں آپ کو یہ بتلائیں گے کہ ان پیٹیوں کے نشانات پڑ جاتے ہیں اور نشانات کہاں پڑتے ہیں؟ ظاہر بات ہے ظاہری ‏جلد پر پڑتے ہیں۔ مَوَارِدُ مِنْ خَلْقَاءَ، مَوَارِدُ، جمع ہے مَوْرِدٌ کی، وارد ہونے کی جگہ اور یہ چشمے کو بھی کہتے ہیں، اسی طرح یہ راستے کو ‏بھی کہتے ہیں اور یہاں مراد ہے پانی کا راستہ، پانی کا راستہ یا پانی کی نالی کہہ لیں۔ بھئی پانی جہاں پر بھی پڑتا ہے، ‏مسلسل بہتا ہے تو ظاہر سی بات ہے سخت سے سخت پتھر بھی ہو، اس میں آہستہ آہستہ تھوڑا سا کچھ راستہ سا بنا لیتا ہے، ‏تو وہ ہے مَوَارِدُ بھئی، مَوْرِدٌ کی جمع بھئی، راستے۔ مِنْ خَلْقَاءَ، خَلْقَاءُ، یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، اَیْ مِنْ صَخْرَةٍ خَلْقَاءَ، صَخْرَةٌ کہتے ہیں چٹان کو اور خَلْقَاءُ کہتے ‏ہیں چکنا بھئی، چکنا، ہموار بھئی، ملائم۔ جیسے سخت پتھر کی چٹان ہو بھئی، وہ کیا ہوتی ہے؟ چکنی اور ہموار ہوتی ‏ہے، تو وہ ہے صَخْرَةٌ خَلْقَاءُ، چکنی اور ہموار چٹان۔ فِی ظَهْرِ قَرْدَدِ، ظَهْرٌ پشت کو کہتے ہیں اور قَرْدَدٌ، قَرْدَدٌ یہ آپ کے ‏حاشیے میں دیا ہوا ہے، وَالْقَرْدَدُ الْأَرْضُ الْغَلِیظَةُ الصُّلْبَةُ الَّتِی فِیهَا وَهَادٌ وَنَجَادٌ، وہ سخت، ٹھوس زمین جس کے اندر نشیب و ‏فراز ہو۔ سخت ٹھوس، سخت زمین ہے لیکن ہموار نہیں ہے، اس کے اندر نشیب و فراز ہیں بھئی، نشیب و فراز۔ کَأَنَّ عُلُوبَ النَّسْعِ فِی دَأَیَاتِهَا مَوَارِدُ مِنْ خَلْقَاءَ فِی ظَهْرِ قَرْدَدِ، گویا کہ عُلُوبَ النَّسْعِ، ان چمڑے کی پیٹیوں کے نشانات جو ہیں، ‏فِی دَأَیَاتِهَا، اس اونٹنی کے سینے پر یا اس کے بدن پر، مَوَارِدُ، وہ کس کی طرح ہیں؟ پانی کے راستوں کی طرح، پانی کی ‏نالیوں کی طرح ہیں۔ وہ نالیاں، مِنْ خَلْقَاءَ، یہ جار مجرور، مَوَارِدُ ہے نکرہ اور نکرہ کے بعد مِنْ خَلْقَاءَ جار مجرور آیا اور ‏میں نے بتایا تھا نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اَیْ مَوَارِدُ ثَابِتَةٌ مِنْ صَخْرَةٍ ‏خَلْقَاءَ، وہ وہ نالیاں جو کس میں ثابت ہیں؟ چکنی چٹان میں، ہموار، ہموار چٹان کے اندر جو ہیں وہ جو موجود ہیں، ثابت ‏ہیں، فِی ظَهْرِ قَرْدَدِ، کہاں پر؟ نشیب و فراز والی سخت زمین میں۔ نشیب و، دیکھو، ایک زمین ہے اور ہموار نہیں ہے نشیب و فراز والی اور اس کے اندر ایک سخت ٹھوس چٹان ہے اور ‏اس چٹان، وہ چٹان کچھ ایسی ہے کہ پانی وہاں سے گزرتا ہے بھئی۔ معلوم ہوتا ہے زمین میں کچھ دبی ہوئی ہے، پانی ‏گزرتا ہے تو ظاہر سی بات ہے جب پانی بار بار ہر بارش سے گزرتا رہے گا تو آہستہ، آہستہ، آہستہ وقت کے ساتھ اس ‏میں کچھ پانی کا تھوڑا سا راستہ بن جائے گا لیکن ہوگا بڑا معمولی سا کیونکہ وہ چٹان بڑی سخت ہے، ٹھوس ہے۔ تو یہ ‏بھی یہی بتلانا چاہتا ہے کہ میری اس اونٹنی پر جو نشانات ہیں پیٹیوں کے، وہ کچھ نشانات پڑ جاتے ہیں لیکن میری یہ ‏اونٹنی سخت ٹھوس زمین کی طرح ہے اس کا جسم اور اس کی کمر اور پیٹ وغیرہ جو ہے، سینہ، وہ سخت ٹھوس ہموار ‏چکنی چٹان کی طرح ہے جس پر ان پیٹیوں کے ہلکے معمولی سے نشانات پڑ جاتے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یعنی بڑی ‏مضبوط، طاقتور اونٹنی ہے۔ کَأَنَّ عُلُوبَ النَّسْعِ فِی دَأَیَاتِهَا مَوَارِدُ مِنْ خَلْقَاءَ فِی ظَهْرِ قَرْدَدِ، گویا کہ ان چمڑے کے تسموں کے نشانات جو ہیں، فِی دَأَیَاتِهَا، ‏میری اس اونٹنی کے ظاہری جلد پر، مَوَارِدُ، وہ جیسے پانی کے راستے ہوں، مِنْ صَخْرَةٍ خَلْقَاءَ، کس میں؟ ہموار چٹان کے ‏اندر، وہ ہموار چٹان، فِی ظَهْرِ قَرْدَدِ، جو کہاں پر ہو؟ سخت ٹھوس زمین کے اندر ہو بھئی، سخت ٹھوس زمین میں۔ معنیٰ ‏سمجھ میں آ گیا؟ تو مِنْ صَخْرَةٍ خَلْقَاءَ، یہ خَلْقَاءُ صفت ہے، موصوف محذوف ہے اور صَخْرَةٌ، صَخْرَةٌ کسے کہتے ہیں؟ چٹان کو اور مِنْ ‏صَخْرَةٍ، مِنْ جارا داخل ہے، وہ مجرور ہے تو خَلْقَاءُ یہ صفت بھی کیا ہے؟ مجرور۔ البتہ اس پر کسرہ نہیں آیا کیونکہ یہ ‏غیر منصرف ہے، اس کے آخر میں الف ممدودہ ہے اور آپ نے پڑھا ہے الف ممدودہ، تانیث والا جو الف ممدودہ ہے، الف ‏تانیث جو ہے، وہ دو سببوں کے قائم مقام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آپ نے پڑھا ہے کہ یہ جو تانیث والا الف ہوتا ‏ہے، یہ دو سببوں کے قائم مقام۔ اور یہ کتنی قسم پر ہے؟ یہ الف تانیث، دو۔ ایک الف مقصورہ، ایک الف ممدودہ۔ الف ‏مقصورہ عام الف کو کہتے ہیں، عام الف کو۔ مثلاً میں نے کہا باب، یہ باب کے درمیان میں الف کیا ہے؟ عام الف ہے یا الف مقصورہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ‏ہاں، تانیث میں آخر میں آتا ہے۔ اور پھر ایک الف ممدودہ ہے۔ اور ان کو علماء کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ دو سببوں کے قائم ‏مقام۔ بھئی الف جب آئے، الف کو تو اعراب ظاہر ہی نہیں ہوتا، پھر اس کو غیر منصرف کہنے کا کیا معنیٰ؟ تو بھئی دیکھو، یہ ‏الف دو قسم پر ہیں، ایک الف مقصورہ ہے، ایک الف ممدودہ اور الف ممدودہ وہ الف جس کے بعد ہمزہ آئے جیسے خَلْقَاءُ، ‏الف کے بعد کیا آ رہا ہے؟ ہمزہ آ رہا ہے، تو یہاں پر تو اعراب ظاہر ہوگا اور ہم نے عربوں سے سنا ہے جب بھی اسی ‏طرح الف ممدودہ آئے تانیث والا تو اس کو غیر منصرف پڑھتے ہیں، کیا پڑھتے ہیں؟ جب اس کو غیر منصرف پڑھتے ‏ہیں تو دوسرا جو تانیث والا الف ہے جہاں اعراب ظاہر نہیں ہوتا، اس کو بھی علماء نے کیا قرار دے دیا؟ غیر منصرف کہ ‏یہ بھی اسی کی جنس سے ہے، جب ایک غیر منصرف ہے تو ظاہر سی بات ہے دوسرا بھی کیا ہوگا؟ غیر منصرف، ‏اگرچہ وہاں پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔ اچھا جی، آگے دیکھیے بھئی۔ تَلَاقَى وَأَحْیَانًا تَبِینُ کَأَنَّهَا بَنَائِقُ غُرٌّ فِی قَمِیصٍ مُقَدَّدِ، بَنَائِقُ غُرٌّ بھئی، یہ آپ کی بعض کتابوں میں غُرٍّ ہے، یہ کتابت کی غلطی ‏ہے بھئی، یہ صفت ہے بَنَائِقُ کی اور بَنَائِقُ مرفوع تو غُرٌّ بھی مرفوع، البتہ بَنَائِقُ یہ جمع منتہی الجموع کا وزن ہے تو لہٰذا ‏اس پر کسرہ اور تنوین نہیں آتی، تو اس پر تنوین نہیں ہے اور غُرٌّ پر تنوین آئے گی۔ تَلَاقَى، تَلَاقَى کا معنیٰ ہے ملنا، ملنا یعنی جڑنا۔ وَأَحْیَانًا، أَحْیَانٌ جمع ہے حِینٌ کی، وقت کو کہتے ہیں۔ تَبِینُ، بَانَ یَبِینُ کا معنیٰ ‏ہے ظاہر ہونا یا جدا ہونا۔ كأنها بنائق. بنائق جمع ہے بنیقۃ کی، بنیقۃ۔ اور بنیقہ کہتے ہیں، بنیقہ بھئی یہ جو کرتا وغیرہ ہو۔ کرتا آپ دیکھتے ہیں اوپر سے کچھ تنگ ہوتا ہے سینے کے پاس اور ‏نیچے کھلا ہوتا ہے۔ تو نچلے حصے کو کھلا کرنے کے لیے وہ اطراف میں کپڑا ڈالتے ہیں، کپڑا لگاتے ہیں جو اوپر سے ‏تنگ ہوتا ہے اور نیچے کھلا، غور کیا ہے؟ بعض تو کرتے بالکل ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، بعضوں میں وہ اطراف میں ایک ‏کپڑے کا ٹکڑا لگاتے ہیں بھئی اوپر سے نیچے تک اور جو اوپر تنگ ہوتا ہے اور نیچے سے کھلا، تو اس کی وجہ سے ‏وہ نچلا حصہ نیچے گھیرا اس کا بڑا ہو جاتا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ جی؟ کیا کہتے ہیں؟ صورت بھی ذہن میں ‏آئی کہ نہیں آئی؟ ہاں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کپڑے کے ٹکڑے کا نام کیا ہے وہ جو اطراف میں ڈالتے ہیں؟ ہاں؟ تریز ‏کہتے ہیں؟ ہاں بہرحال، تو وہ تریز کہہ لیں جبکہ اردو شروحات وغیرہ والوں نے کلی لکھا ہے، کلی۔ وہ جو کرتے کی جو ‏کلی ہے جو اوپر کرتے کو نچلے حصے کو کھلا کرنے کے لیے اس میں اطراف میں کپڑا لگایا جاتا ہے اوپر سے تنگ ‏ہوتا ہے اور نیچے کھلا ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تریز کہہ لیں یا کلی کہہ لیں، بہرحال آپ سمجھ گئے۔ اچھا، غر۔ غر یہ جمع ہے اگر کی، اگر کہتے ہیں سفید کو۔ بنائق غر، سفید تریزیں یا سفید کلیاں۔ فی قمیص مقدد، مقدد کہتے ‏ہیں جس کو لمبائی کے رخ میں پھاڑا گیا ہو، جس چیز کو لمبائی کے رخ میں پھاڑا گیا ہو اس کو مقدد کہتے ہیں۔ قدد یقدد ‏کے معنی ہوتے ہیں لمبائی میں پھاڑنا کسی چیز کو۔ تو قمیص مقدد، لمبائی کے اندر جس کو پھاڑا گیا ہے یا لمبائی میں اس ‏میں چاک لگائے گئے ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تلاقى وأحيانا تبين كأنها بنائق غر في قمیص مقدد، تلاقى وہ آپس میں ملتے ہیں۔ ضمیر راجع ہے پیچھے جو موارد آیا تھا، ‏أي تلاقى الموارد، وہ موارد آپس میں وہ جو پانی کے راستے ہیں، وہ جو جسم پر نشانات ملے بنے ہوئے ہیں، نالیاں سی ‏بنی ہوئی ہیں، تلاقى کبھی آپس میں مل جاتے ہیں۔ بھئی ظاہر سی بات ہے اونٹنی چل رہی ہے تو وہ چلتے ہوئے کھال کبھی ‏کھینچی جائے گی اور کبھی ڈھیلی ہوگی، تو جب کھینچتے ہوئے، کھینچنے سے وہ نالیاں کھل سی جاتی ہیں اور پھر جب ‏وہ کھال ڈھیلی پڑتی ہے تو پھر وہ آپس میں مل جاتی ہیں، بند سی ہو جاتی ہیں۔ تو اس کو ذکر کر رہا ہے کہ تلاقى وأحيانا ‏تبين، کبھی تو وہ نالیاں، وہ راستے جو ہیں پانی کے وہ مل جاتے ہیں وأحيانا تبين اور کبھی جدا ہو جاتے ہیں۔ صورت ذہن ‏میں آ رہی ہے؟ تو وہ کبھی کھل جاتے، مل جاتے ہیں اور کبھی کھل جاتے ہیں۔ كأنها گویا کہ وہ بنائق غر، سفید تریزیں ‏ہیں یا سفید کلیاں ہیں فی قمیص مقدد، ایسی قمیص میں جس میں لمبائی کے اندر چاک لگائے گئے ہیں، جس کو لمبائی میں ‏پھاڑا گیا ہے۔ تو جیسے چلتے ہوئے جب وہ قمیصیں، یہ قدیم زمانے میں اور انداز کی ہوں گی، تو وہ لمبی قمیص ہو اور اطراف میں وہ ‏تریزیں یا کلیاں ہوں کھلی ہوئی خوب قمیص، تو ظاہر سی بات ہے وہ کبھی وہ جو تریزیں ہیں کبھی کچھ کھل جائیں گی ‏اور کبھی بند ہو جائیں گی۔ اسی طرح یہ اونٹنی کے جسم پر جو نشانات ہیں ان تسموں کے، وہ بھی چلتے ہوئے کبھی کھل ‏جاتے ہیں اور کبھی بند ہو جاتے ہیں۔ تلاقى وأحيانا تبين، تو وہ مل جاتے ہیں اور کبھی کبھار وہ کھل جاتے ہیں، جدا ہو ‏جاتے ہیں۔ گویا کہ وہ بنائق غر، سفید کلیاں ہیں، سفید تریزیں ہیں فی قمیص مقدد، ایک ایسی قمیص میں جس میں لمبائی ‏کے اندر چاک لگائے ہیں، چاک لگائے گئے ہیں، یعنی لمبائی کے رخ اس کو پھاڑا گیا ہے۔ وأتلع نہاز إذا صعدت به كسكان بوسي بدجلة مصعد، وأتلع، أتلع کہتے ہیں لمبی گردن بھئی، لمبی گردن۔ نہاز، نہز ینہز ‏نہوض کے معنی ہوتے ہیں اٹھنا، نہاز کا معنی خوب اٹھنے والی اور یاد رکھو، یہ أتلع صفت ہے موصوف محذوف ہے، ‏أي و عنق أتلع۔ اس کی گردن کیا ہے بڑی؟ لمبی ہے۔ أي ولها عنق أتلع، تو أتلع کا معنی لمبی گردن بھئی، لمبی گردن۔ اور یہ ‏صفت ہے کس کی؟ عنق کی، وعنق أتلع، اس کی گردن کیا ہے؟ لمبی ہے۔ نہاز اور وہ گردن کیسی ہے؟ خوب اٹھنے والی ‏ہے، بار بار اٹھنے والی ہے۔ إذا صعدت به، جب وہ اس کو اوپر کر لے، جب وہ اونٹنی اس گردن کو کیا کر لے؟ اوپر کر ‏لے۔ كسكان بوسي، سكان کہتے ہیں کشتی کا پچھلا حصہ، کشتی کا پچھلا حصہ جس کو پتوار کہتے ہیں بھئی، وہ کشتی ‏موڑنے کے لیے پیچھے ایک لکڑی سی لگی ہوتی ہے، اونچی ہوتی ہے اور پانی میں ایک حصہ اس کا ہوتا ہے اور کشتی ‏کو جس رخ پر موڑنا ہو، اس رخ پر اس کو تھوڑا سا موڑ دیا جاتا ہے۔ کشتی کے پچھلے حصے پر لگی ہوتی ہے اور ‏ویسے اونچی ہوتی ہے اور پانی کے اندر ایک حصہ گیا ہوتا ہے، تو کشتی کو موڑنے کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ‏ہے۔ جی، اس کو اردو میں پتوار کہتے ہیں پتوار۔ عربی میں سكان اور بوسي، بوسي یہ کشتیوں کی کوئی خاص قسم ہے اس ‏کو بوسی کہتے ہیں بھئی۔ کشتیاں کئی قسم کی ہیں نا، بعض بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں اوپر کپڑا لگا ہوتا ہے، بعض ویسے اور قسم کی کشتیاں ہوتی ‏ہیں، تو یہ کوئی کشتیوں کی قسم ہے اس کا نام ہے بوسی۔ بدجلة، دجلہ یہ بڑے دریا کا نام ہے عراق کے بھئی اور یہ غیر ‏منصرف ہے اسی لیے با جارہ داخل ہے لیکن اس پر کسرہ نہیں آیا۔ تو دو سبب اس میں کیا ہیں؟ ایک تانیث ہے اور ایک ‏علمی علم ہے بھئی، نام ہے دریا کا۔ مصعد، اسعد يسعد اس کا ایک معنی ہے اونچا کرنا، لیکن یہاں اونچا کرنا نہیں بلکہ ‏مصعد کا معنی ہے چلنے والی۔ کشتی جب دریا میں چلنے لگے تو اس کے لیے بھی لفظ بولتے ہیں اسعد، أسعدت السفينة في ‏النهر، کشتی کیا ہے؟ دریا میں چل رہی ہے۔ وأتلع نہاز إذا صعدت به كسكان بوسي بدجلة مصعد، وأتلع أي ولها عنق أتلع، اور اس اونٹنی کے لمبی گردن ہے۔ بھئی اونٹ ‏کی عجیب خصوصیات ہیں، کسی حیوان میں ایسی خصوصیات نہیں بھئی۔ ایک بڑی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ اونٹ کو ‏بٹھا کر اس پر سامان لادا جاتا ہے اور باقی حیوانات کو کھڑے کھڑے ان پر سامان لادا جاتا ہے۔ کسی اور حیوان پر اگر ‏آپ گھوڑے وغیرہ پر خوب سامان لاد دیں بٹھا کر تو وہ کھڑا ہی نہیں ہو سکتا بھئی۔ لہٰذا ان کو کھڑے ہونے کی حالت میں ‏ان کے اوپر جو بھی سامان اور وزن رکھنا ہے رکھتے ہیں۔ جبکہ اونٹ، اونٹ کو اللہ نے ایسا بنایا ہے کہ اس کو بٹھا کر ‏اس کے اوپر جتنا وزن بھی رکھتے ہیں، یہ اس کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور یہ درست اس کی اس لمبی گردن کا کمال ‏ہے۔ یہ اس لمبی گردن کے زور سے اور جھٹکے سے ایک دم کھڑا ہو جاتا ہے اس سامان کو لے کر، جبکہ گھوڑے ‏وغیرہ کی گردن اتنی لمبی نہیں، ان پر اگر اپ ان کو بٹھائیں سامان خوب لاد دیں اب وہ اٹھ ہی نہیں سکے گا بھئی۔ تو یہ اونٹ کی صفات ہیں۔ پھر یہ کئی کئی دن تک پانی کے بغیر گزارا کرتا ہے، عرب لوگ اس کو 10، 10، 12، 12 ‏دن کے بعد پانی پلایا کرتے تھے بھئی۔ یہ پانی اپنے جسم کے اندر خوب پانی پی لیتا ہے ذخیرہ کر لیتا ہے اور اسی پانی ‏کو پھر استعمال کرتا رہتا ہے۔ پھر اس کا کمال یہ ہے ریت کے اندر یہ بہترین سفر کرتا ہے، ریت کی تو نرم ہوتی ہے ‏پاؤں اس میں دھنستے ہیں بھئی، تو گھوڑے وغیرہ خچر کے لیے اس میں سفر کرنا بڑا مشکل ہے، ہر ہر قدم دھنستا ہے ‏ان کو کئی گنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔ جبکہ اونٹ کے قدم اگر آپ نے دیکھے ہوں خوب چوڑے چوڑے ہوتے ہیں بھئی، ‏وہ تو ریت کے اندر دھنستے نہیں ہیں، تو یہ بڑے آرام سے ریت پر سفر کرتا ہے بھئی، ریت پر سفر کرتا ہے۔ اور اس کی ایک عجیب خصوصیت علماء نے لکھی ہے کتابوں میں، کہتے ہیں کہ ایک ستارہ ہے نام ہے سہیل، سہیل ‏ستارہ آسمان پر یہ سال کے کچھ ماہ دکھائی دیتا ہے اور جس وقت اب یہ ستارہ دکھائی دیتا ہے تو اونٹ ان کی طرف رخ ‏ہی نہیں کرتا، ان کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔ اگر سہیل ستارے پر غلطی سے بھی اس کی نظر پڑ جائے تو پھر یہ شدید ‏بیمار ہو جاتا ہے بھئی یا مر جاتا ہے۔ تو اس کی عجیب صفات ہیں بھئی۔ تو دیکھئے شاعر کیا کہتا ہے؟ وأتلع أي ولها عنق أتلع اس کی لمبی گردن ہے، نہاز اور وہ گردن کو خوب اٹھانے والی ہے، ‏کب؟ إذا صعدت به جب وہ اس کو اٹھا لے، سیدھا کر لے۔ بھئی ظاہر سی بات ہے اونٹنی یا اونٹ بیٹھا ہوا ہے پھر جب وہ ‏کھڑا ہوا اپنی گردن اس نے سیدھی کر لی تو اب اس کی گردن خوب لمبی نمایاں معلوم ہوگی اور وہ گردن بار بار اٹھانے ‏والی ہے، یعنی چلتے ہوئے۔ ظاہر سی بات ہے حیوان چل رہا ہے تو وہ گردن بھی کچھ تھوڑی تھوڑی ہلتی رہتی ہے اس ‏کے ساتھ، تو وہ مراد ہے کہ وہ بار بار کیا کرتی ہے اپنی گردن کو اٹھانے والی ہے۔ گردن کو اٹھاتی ہے إذا صعدت به ‏جب اس کو کیا کر لے؟ اونچا کر لے، یعنی سیدھا کر لے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ چلتے ہوئے گردن کو جب سیدھا کر لے تو ‏پھر چلتے ہوئے اس گردن کو ہلاتی ہے، تھوڑا تھوڑا ہلاتی رہتی ہے، اس کو نہاز، گردن کو اٹھانے والی ہے بار بار۔ ‏معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وأتلع نہاز إذا صعدت به، اور وہ لمبی گردن والی ہے، گردن کو بار بار اونچا کرنے والی ہے، اٹھانے والی ہے إذا صعدت ‏به جب وہ اس گردن کو سیدھا کر لے، اونچا کر لے كسكان بوسي جیسے کہ کشتی کا وہ پتوار کہہ لیں یا وہ کشتی کا وہ ‏پچھلا حصہ، بعض ہاں اردو والوں نے بعضوں نے اس کا نام دنبالہ لکھا ہے، کیا لکھا ہے؟ وہ کشتی کا پچھلا حصہ جس ‏کے جس کو موڑتے ہیں۔ كسكان بوسي جیسے کہ کشتی کا دنبالہ ہوتا ہے وہ کشتی بدجلة جو کہاں پر ہو؟ دریاۓ دجلہ میں ‏ہو، مصعد اور چل رہی ہو، جیسے کہ کشتی دریاۓ دجلہ میں چل رہی ہو، جیسے اس کشتی کا جیسے اس کشتی کا دنبالہ ‏ہوتا ہے، اس طرح اس کی گردن معلوم ہوتی ہے بھئی۔ جیسے کشتی کا وہ پچھلا حصہ بلند ہوتا ہے، اونچا ہوتا ہے، اسی ‏طرح میری اس اونٹنی کی گردن بھی اونچی اور بلند معلوم ہوتی ہے بھئی۔ جی، معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس بھئی هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
62 approved lectures · 49 of 62